Hud 11:61

Hud · from ayah 61

11:61

وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا ۘ— قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ ؕ— هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ ؕ— اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ ۟‌وَاِلٰى ثَمُوۡدَ اَخَاهُمۡ صٰلِحًا‌ۘ قَالَ يٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰهَ مَا لَـكُمۡ مِّنۡ اِلٰهٍ غَيۡرُهٗ‌ ؕ هُوَ اَنۡشَاَكُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ وَاسۡتَعۡمَرَكُمۡ فِيۡهَا فَاسۡتَغۡفِرُوۡهُ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَيۡهِ‌ ؕ اِنَّ رَبِّىۡ قَرِيۡبٌ مُّجِيۡبٌ

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Thamud [We sent] their brother Salih. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. He has produced you from the earth and settled you in it, so ask forgiveness of Him and then repent to Him. Indeed, my Lord is near and responsive."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:61

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالحؑ کو بھیجا اُس نے کہا "اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُ س کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے لہٰذا تم اس سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ، یقیناً میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) تو انہوں نے کہا کہ قوم! خدا ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بےشک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور قوم ﺛمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا، اس نے کہا کہ اے میری قوم تم اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا ہے اور اسی نے اس زمین میں تمہیں بسایا ہے، پس تم اس سے معافی طلب کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ بیشک میرا رب قریب اور دعاؤں کا قبول کرنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور قوم ثمود کے پسا ہم نے ان کے بھائی صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انہوں نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں تمہیں آباد کیا۔ لہذا اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ یقین رکھو کہ میرا رب (تم سے) قریب بھی ہے، دعائیں قبول کرنے والا بھی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ثمود کی طرف ان کے ہم قوم صا لح کو کہا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا اور اس میں تمہیں بسایا تو اس سے معافی چاہو پھر اس کی طرف رجوع لاؤ، بیشک میرا رب قریب ہے دعا سننے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (ہم نے قومِ) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح ؑ کو (بھیجا)۔ انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور اس میں تمہیں آباد فرمایا سو تم اس سے معافی مانگو پھر اس کے حضور توبہ کرو۔ بیشک میرا رب قریب ہے دعائیں قبول فرمانے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا) ، اس نے کہا اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس میں آباد کیا، سو اس سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آؤ، یقینا میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا : اے میری قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو جس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا۔ لہذا اسی سے بخشش مانگو اور اور اسی کی طرف رجوع کرو۔ بلاشبہ میرا پروردگار قریب ہے۔ (ہر ایک کی دعا) قبول کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا۔ اس نے دعوت دی اے میری قوم کے لوگوں اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، میرا رب قریب بھی ہے، قبول کرنے والا بھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اسی طرح ہم نے بھیجا قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو، سو انہوں نے بھی یہی کیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! تم بندگی کرو اللہ ہی کی، کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے پیدا فرمایا تم سب کو زمین سے اور تم کو بسایا اس میں، پس تم بخشش مانگو اس سے (اپنے کفر و شرک وغیرہ کی) اور لوٹ آؤ تم اس طرف (صدق دل سے ایمان لا کر) بیشک میرا رب بڑا قریب بھی ہے، اور قبول کرنے والا بھی،

— مولانا اسحاق مدنی

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (ہم نے بھیجا) وہ بولے اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی بھی تمہارا معبود نہیں۔ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس زمین میں آباد کردیا۔ سو تم اسی سے گناہ معاف کراؤ اور اسی سے گناہ معاف کراؤ اور اسی کی طرف توجہ کرو بیشک میرا پروردگار قریب ہے اور قبول کرنے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ثمود کی طرف (ہم نے بھیجا) ان کے بھائی صالح کو آپ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی بندگی کرو تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور اس میں تم کو آباد کیا تو اس سے اپنے گناہ بخشواؤ پھر اسی کی جناب میں رجوع کرو یقیناً میرا رب قریب ہے اور دعا کا قبول کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو انہوں نے کہا کہ قوم ! اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا، اور اس میں آباد کیا تو اس سے مغفرت مانگو اور اس سے توبہ کرو، بیشک میرا رب نزدیک بھی ہے اور دعا کا قبول کرنے والا بھی ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And to Thamud We sent their brother Sali'h. He said: 'My people! Serve Allah; you have no god other than Him. He brought you into being out of the earth, and has made you dwell in it. So ask Him to forgive you, and do turn towards Him in repentance. Indeed My Lord is near, responsive to prayers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And to (the people of) Thamud (We sent) their brother, SaliH. He said, :O my people, worship Allah. You have no god other than Him. He has created you from earth and made you settle therein. So, seek His forgiveness, then turn to Him in repentance. Surely, my Lord is near, responsive to the prayers.

— Muhammad Taqi Usmani

And to (the people of) Thamud (We sent) their brother, SaliH. He said, :O my people, worship Allah. You have no god other than Him. He has created you from earth and made you settle therein. So, seek His forgiveness, then turn to Him in repentance. Surely, my Lord is near, responsive to the prayers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Thamud (people We sent) their brother Salih. He said: "O my people! Worship Allah: you have no other god but Him. He brought you forth from the earth and settled you therein, then ask forgiveness of Him and turn to Him in repentance. Certainly, my Lord is Near (to all by His knowledge), Responsive."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And unto (the tribe of) Thamud (We sent) their brother Salih. He said: O my people! Serve Allah, Ye have no other Allah save Him. He brought you forth from the earth and hath made you husband it. So ask forgiveness of Him and turn unto Him repentant. Lo! my Lord is Nigh, Responsive.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Thamud [We sent] their brother Salih. He said, "O my people, worship Allah; you have no deity other than Him. He has produced you from the earth and settled you in it, so ask forgiveness of Him and then repent to Him. Indeed, my Lord is near and responsive."

— Saheeh International

To Thamud We sent their brother Salih who told them, "My people, worship God; He is your only Lord. It is He who has created you from the earth and has settled you therein. Seek forgiveness from Him and turn to Him in repentance. My Lord is certainly close to everyone and He hears all prayers."

— Muhammad Sarwar

And to Samood (We sent) their brother Salih. He said: O my people! serve Allah, you have no god other than He; He brought you into being from the earth, and made you dwell in it, therefore ask forgiveness of Him, then turn to Him; surely my Lord is Nigh, Answering.

— Muhammad Habib Shakir

And unto Thamud We sent their brother Saleh. He said: O my people! worship Allah; there is no god for you but he. He hath caused you to spring out of the earth, and hath made you dwell therein. Wherefore ask forgiveness of Him, then repent toward Him; verily my Lord is Nigh, Responsive.

— Abdul Majid Daryabadi

To the Thamud People (We sent) Salih, one of their own brethren. He said: "O my people! Worship Allah: ye have no other god but Him. It is He Who hath produced you from the earth and settled you therein: then ask forgiveness of Him, and turn to Him (in repentance): for my Lord is (always) near, ready to answer."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

صالح ؑ اور ان کی قوم میں مکالمات حضرت صالح ؑ ثمودیوں کی طرف اللہ کے رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ قوم کو آپ نے اللہ کی عبادت کرنے کی اور اس کے سوا دوسروں کی عبادت سے باز آنے کی نصحیت کی۔ بتلایا کہ انسان کی ابتدائی پیدائش اللہ تعالیٰ نے مٹی سے شروع کی ہے۔ تم سب کے باپ باوا آدم ؑ اسی مٹی سے پیدا ہوئے تھے۔ اسی نے اپنے فضل سے تمہیں زمین پر بسایا ہے کہ تم اس میں گزران کر رہے ہو۔ تمہیں اللہ سے استغفار کرنا چاہیے۔ اس کی طرف جھکے رہنا چاہیے۔ وہ بہت ہی قریب ہے اور قبول فرمانے و الا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 66 سورة اعراف رکوع 10 کے حواشی پیش نظر رہیں۔ سورة هُوْد 67 یہ دلیل ہے اس دعوے کی جو پہلے فقرے میں کیا گیا تھا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی خدا اور کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ مشرکین خود بھی اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہی ہے۔ اسی مسلمہ حقیقت پر بنائے استدلال قائم کر کے حضرت صالح ؑ ان کو سمجھاتے ہیں کہ جب وہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کے بےجان مادوں کی ترکیب سے تم کو یہ انسانی وجود بخشا، اور وہ بھی اللہ ہی ہے جس نے زمین میں تم کو آباد کیا، تو پھر اللہ کے سوا خدائی اور کس کی ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے کو یہ حق کیسے حاصل ہوسکتا ہے کہ تم اس کی بندگی و پرستش کرو۔ سورة هُوْد 68 یعنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–61

اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔ صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ ۭ اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ۔ عاد کے بعد عرب کی قدیم اقوام میں ثمود نے اپنی تمدنی و تعمیری ترقیوں کے اعتبار سے بڑی شہر حاصل کی۔ اعراف 74 کے تحت ان کی تعمیری ترقیوں کا ذکر گزر چکا ہے۔ ان کی طرف اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کو رسول بنا کر بھیجا جو ان کے اپنے ہی بھائی بند تھے تاکہ قومی اجنبیت کسی وحشت و بیگانگی کا باعث نہ بنے۔ انہوں نے توحید کی دعوت کے ساتھ اپنی قوم کو اس حقیقت کی طرف بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

61۔ 1 وَ اِلَیٰ ثَمُوْدَ عطف ہے ما قبل پر۔ یعنی وَ اَرْسَلنَا اِلَیٰ ثُمُوْدَ ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ یہ قوم تبوک اور مدینہ کے درمیان مدائن (حجر) میں رہائش پذیر تھی اور یہ قوم عاد کے بعد ہوئی۔ حضرت صالح ؑ کو یہاں بھی ثمود کا بھائی کہا۔ جس سے مراد انہی کے خاندان اور قبیلے کا ایک فرد ہے۔ 61۔ 2 حضرت صالح ؑ نے بھی سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، جس طرح کہ انبیاء کا طریق رہا ہے۔ 61۔ 3 یعنی ابتدا میں تمہیں زمین سے پیدا کیا اس طرح کہ تمہارے باپ آدم ؑ کی تخلیق مٹی سے ہوئی اور تمام انسان صلب آدم ؑ سے پیدا ہوئے یوں گویا تمام انسانوں کی پیدائش زمین سے ہوئی۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم جو کچھ کھاتے ہو،…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

35: قوم ثمود اور اس کے واقعے کا مختصر تعارف اور تذکرہ سورة اعراف (7۔ 73) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لیکن ان لوگوں کے دل اس قدر مسخ ہوگئے تھے ، اس قدر بگڑ گئے تھے ، اور ان کی ماہیت اس قدر بدل گئی تھی کہ وہ اس کلام کے کمال و جمال کو سمجھنے سے عاجز تھے ، وہ اس کلام کی جلالت قدر اور بلند تصورات و نظریات کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہ کلام کس قدر نرم اور تشفی بخش ہے ، کس قدر صاف اور روشن ہے ، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ اس کو سن کر کس قدر نا موافق رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ، ذرا سنئے اور غور کیجئے :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 ان کا قصہ " اعراف " میں گزر چکا۔ 4 یعنی اول آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر زمین سے غذائیں پیدا کیں جن سے نطفہ وغیرہ بنتا ہے جو مادہ ہے آدمی کی پیدائش کا۔ 5 یعنی پیدا کر کے باقی رکھا۔ بقاء کا سامان کیا۔ زمین کے آباد کرنے کی ترکیبیں بتلائیں۔ تدابیر الہام فرمائیں، جب وہ ایسا منعم و محسن ہے تو چاہیے آدمی اسی کی طرف ایمان وطاعت کے ساتھ رجوع کرے اور کفر و شرک وغیرہ جو گناہ کرچکا ہے ان کی معافی چاہے، وہ ہم سے بالکل نزدیک ہے، ہر بات خود سنتا ہے اور جو توبہ اور استغفار صدق دل سے کیا جائے اسے سن کر قبول کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا قوم عاد میں سے جو لوگ بچے تھے وہ اپنے علاقے سے آگے وسطی علاقے کی طرف جا کر ”حجر“ میں آباد ہوئے اور ان لوگوں کی نسل میں سے ثمود نام کی ایک بڑی قوم ابھری۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب اس قوم کے اندر بھی وہی خرابیاں پیدا ہوگئیں اور وہ لوگ بھی جب بت پرستی اور شرک کی لعنت میں مبتلا ہوگئے تو ان کی اصلاح کے لیے حضرت صالح کو مبعوث کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

70 یعنی پہلے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا پھر تمہاری تمام تر ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کردیں اور اسی پر تمہاری آباد کاری کا بندوبست کیا۔ 71 یعنی یہ سب کام تو اللہ نے کیے ہیں بتاؤ کہ تمہارے معبودوں نے ان میں سے کون سا کام کیا ہے ؟ جو تم ان کی پرستش کرتے ہو اگر تم اللہ کے خالق و رازق ہونے کو تسلیم کرتے ہو تو پھر تمہیں اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اسی کی اطاعت کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کے لیے اسی سے معافی مانگو کیونکہ تم یہ مشرکانہ افعال کرتے رہے ہو۔ 72 اللہ گناہ گاروں کی بھی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہے :۔ دنیا دار اور جاہ طلب مذہب کے ٹھیکیداروں نے عام لوگوں کے ذہن میں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

90۔ ہر نبی کی تعلیم ہر دور میں اسی خالص توحید کی رہی ہے۔ (آیت) ” من الہ “۔ من جب نفی کے ساتھ آتا ہے تو نفی کو اور مؤکد ومکمل بنا دیتا ہے یعنی کوئی بھی نہیں۔ ثمود اور صالح پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے نیز ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ جس طرح قوم عاد عرب کے جنوبی مشرقی علاقہ یعنی اطراف یمن و عراق عرب میں آباد تھی، اسی طرح قوم ثمود کا تسلط عرب کے شمالی ومغربی علاقہ وادی القری میں تھا اور نبی ہود (علیہ السلام) کی طرح نبی صالح (علیہ السلام) کا مزار بھی آج تک موجود ہے وادی سیر میں۔ (آیت) ” اخاھم “۔ اخ سے مراد وطنی اور نسبی بھائی ہیں۔ 91۔ یعنی پیدا بھی اسی نے کیا اور زندہ وقائم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 61–68

آیت نمبر 61 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے ثمود کے پاس ان کے خاندانی بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا، اس نے کہا اے میری قوم اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں اس نے تم کو پیدا کیا یعنی تمہاری تخلیق ابتداء مٹی سے کی تمہارے دادا آدم کو مٹی سے پیدا کرکے اور اسی نے تم کو زمین میں بسایا یعنی تم کو) زمین کا ( باشندہ بنایا تاکہ تم اس میں سکونت اختیار کرو پس تم اس سے معافی طلب کرو شرک سے اور پھر طاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو بیشک میرا رب اپنی مخلوق سے باعتبار علم کے قریب ہے اور جو اس سے سوال کرتا ہے اس کا قبول کرنے والا ہے ان لوگوں نے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والی ثمود اخاھم صلحًا قال یٰقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ اور ہم نے ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ صالح نے کہا : اے میری قوم ! اللہ کی پوجا کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ کیونکہ ھو انشأکم من الارض اسی نے تم کو زمین کے مادہ سے پیدا کیا۔ یعنی تم کو آدم (کی نسل) سے پیدا کیا اور آدم کو مٹی سے۔ واستعمر کم فیھا اور تم کو زمین میں آباد کیا۔ استعمرکا مادہ عمر ہے اور عمر سے یہ لفظ بنا ہے۔ ضحاک نے ترجمہ کیا ہے : تمہاری عمریں دراز کیں۔ 300 سے 1000 برس تک قوم ثمود والوں کی عمریں ہوتی تھیں۔ قوم عاد کی بھی یہی عمریں تھیں۔ استعمر کم فیھا کا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ نے تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(61) اور ہم نے قوم ثمود کی جانب ان کے نبی کو بھیجا، انہوں نے فرمایا اے قوم توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ، اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں جس پر ایمان لانے کے لیے تمہیں کہا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں آدم ؑ سے اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا اور تمہیں زمین میں آباد کیا اور تمہارے لیے اس نے سکونت کی جگہ بنائی، اسی کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور توبہ اور اخلاص کے ساتھ اسی کے سامنے جھک جاؤ، بیشک میرا رب قبولیت کے قریب ہے اور موحد کی توبہ کو قبول فرمانے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا : قوم ثمود مقام حجر (حاء کے کسرہ کے ساتھ) میں رہتے تھے۔ یہ جگہ حجاز اور شام کے درمیان وادی القریٰ تک پھیلی ہوئی ہے۔ آج کل یہ علاقہ مدینہ اور تبوک کے درمیان ہے، جہاں ابھی تک ان لوگوں کے پہاڑوں کے اندر تراش کر بنائے ہوئے مکانات، جن میں وہ رہتے تھے، موجود ہیں اور یہ علاقہ مدائن صالح کہلاتا ہے۔ صالح ؑ کا قبیلہ عرب قبیلہ تھا۔ رسول اللہ ﷺ تبوک (شام) کی طرف جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔ عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (وادی) حجر میں تھے تو فرمایا : (لاَ تَدْخُلُوْا عَلٰی ھٰؤُلاَءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِیْنَ أَصْحَابِ الْحِجْرِ إِلاَّ أَنْ تَکُوْنُوْا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 61 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ ثمود یعنی ہم نے ثمود کی طرف بھیجا۔ اخاھم یعنی نسب میں ان کا بھائی صٰلحًایحییٰ بن وثاب نے الیٰ ثمودے تنوین کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور حسن سے بھی اسی طرح روایت کیا گیا ہے اور تمام قراء نے پورے قرآن میں اس میں اختلاف کیا ہے پس انہوں نے کسی جگہ اس کو منصرف پڑھا ہے اور کسی جگہ غیر منصرف۔ ابو عبیدہ نے گمان کیا کہ اگر جماعت کی مخالفت نہ ہو تو مناسب صرف کو ترک کرنا ہے۔ کیونکہ اس میں ثابت غالب ہے۔ نحاس نے کہا : جو ابوعبید نے کہا۔ اللہ اس پر رحم کرے۔ کہ اس پر تانیث غالب ہے (یہ) کلام مردود ہے، کیونکہ ثمودا محلے کو بھی کہا جاتا ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 61–68

حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت : 1:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ھوانشاکم من الارض “ سے مراد ہے کہ اس نے تم کو پیدا کیا زمین میں سے۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو آباد کیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واستعمرکم فیھا “ یعنی اس میں تم کو خلیفہ بنایا۔ 4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فما تزیدوننی غیر تخسیر “ یعنی تم نہیں زیادہ ہوتے ہو مگر خسارے میں۔ 5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے عطا خراسانی (رح)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِلٰي ثَمُوْدَ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) ثمود کی طرف ] [اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [ صٰلِحًا : صالح (علیہ السلام) کو ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کی ] [مَا لَكُمْ : تمہارے لئے نہیں ہے ] [مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی الٰہ ] [غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] [هُوَ : اس نے ] [انشَاَكُمْ : اٹھایا تم کو ] [مِّنَ الْاَرْضِ : زمین میں سے ] [وَاسْتَعْمَرَكُمْ : اور بسایا تم کو ] [فِيْهَا : اس میں ] [فَاسْتَغْفِرُوْهُ : پس تم لوگ مغفرت مانگو اس سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [تُوْبُوْٓا : تم لوگ پلٹو ] [اِلَيْهِۭ: اس کی طرف ] [ان :…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 61–66

قوم ثمود کو حضرت صالح (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور قوم کا نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہونا سورة اعراف کے رکوع میں حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہاں مراجعت فرما لیں مختصر طریقے پر یہاں بھی لکھا جاتا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے یہ قوم عاد کے بعد تھی۔ سورة اعراف میں ہے کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا : (وَاذْکُرُوْا اِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاءَ مِنْ م بَعْدِ عَادٍ وَّبَوَّاَکُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنَ سُھُوْلِھَا قُصُوْرًا وَّتَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا فَاذْکُرُوْا اٰلَاء اللّٰہِ ولَا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–68

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

57: یہ تیسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ سے پیغام توحید قوم کے سامنے پیش کیا۔ ھُوَ اَنشَاَ کُمْ مِّنَ الْاَرْضِ الخ اللہ ہی نے تم کو مٹی سے پیدا کیا اور زمین میں تم کو آباد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے بنیادی انعامات کا ذکر کیا تاکہ قوم کے دلوں میں جذبہ تشکر و امتنان پیدا ہو اور وہ اللہ کی توحید کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 61–63

ربط آیات مسئلہ توحید کو سمجھانے اور اس پر ایمان لانے کے لئے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا اور پھر آپ کی قوم کی نافرمانی اور غرقابی کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد ہود (علیہ السلام) کی وعظ و نصیحت اور ان کی قوم کا ذکر بھی کیا۔ اللہ کے دونوں پیغمبروں کی تبلیغ کا موضوع ایک ہی تھا کہ اے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے صرف وہی لوگ بچے جو ایمان لا کر کشتی میں سوار ہوگئے اور ہود (علیہ السلام) کی قوم کے بھی صرف ایمان دار ہی بچے اور کافروں میں سے فرد واحد بھی زندہ نہ بچا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِلٰي ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا۝ 0ۘ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ۝ 0ۭ ہُوَاَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَكُمْ فِيْہَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْہِ۝ 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ قَرِيْبٌ مُّجِيْبٌ۝ 61 ثمد ثَمُود قيل : هو أعجمي، وقیل : هو عربيّ ، وترک صرفه لکونه اسم قبیلة، أو أرض، ومن صرفه جعله اسم حيّ أو أب، لأنه يذكر فعول من الثَّمَد، وهو الماء القلیل الذي لا مادّة له، ومنه قيل : فلان مَثْمُود، ثَمَدَتْهُ النساء أي : قطعن مادّة مائه لکثرة غشیانه لهنّ ، ( ث م د ) ثمود ( حضرت صالح کی قوم کا نام ) بعض اسے معرب بتاتے ہیں اور قوم کا علم ہونے کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

تفسیر : (3) اس کے بعد دوسرا واقعہ قوم عاد اور ان کے پیغمبر ہود (علیہ السلام) کا بیان فرماتا ہے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد عرب کے جنوبی حصہ ملک یمن میں گذرا ہے۔ اس قوم کی ثروت اور اس پر بدکاری اور بت پرستی حد سے گذر گئی تھی۔ بھلا یہ معزز اور جنٹلمین جو دنیا کی وجاہت اور ثروت کے بندے تھے کوئی غریب بیچارے خدا ترس لوگ تھوڑے ہی تھے کہ جو حضرت ہود (علیہ السلام) کی نصیحت مانتے ان کی حقانی باتوں پر ٹھٹھا اڑانا شروع کردیا کہ ایسے ملا نے یوں ہی باتیں بنایا کرتے ہیں۔ لو ان کے کہنے میں آویں تو دنیا چھوڑ بیٹھیں۔ دیوانہ ہے اس پر ہمارے معبودوں کی پھٹکار پڑگئی ہے۔ آخر پھر قہر الٰہی جوش میں آیا۔ سب…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

َواِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا م قَالَ یـٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط ھُوَ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْھَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ ط اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ۔ (سورۃ ہود : 61) (اور ہم نے بھیجا) قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی ( حضرت صالح (علیہ السلام) کو۔ ( حضرت صالح نے) کہا اے میری قوم ! عبادت کرو اللہ تعالیٰ کی جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس نے تمہیں زمین سے پیدا فرمایا اور پھر اس زمین میں تمہیں بسا دیا۔ پس اس سے مغفرت طلب کرو، پھر لوٹ جاؤ اس کی طرف۔ بیشک میرا رب قریب ہے اور ( التجائیں) قبول کرنے والا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : قوم ھود کے بعد قوم ثمود کو دنیا کی فراوانی عطا کی گئی۔ مگر انہوں نے بھی قوم عاد کا رویہ اختیار کیا۔ قوم ثمود دنیا کی ترقی میں یدطولیٰ رکھتی تھی۔ یہ قوم اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ انہوں نے پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے میں بڑے بڑے محلات بنا رکھے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ان کے بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو رسول منتخب فرمایا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی دعوت کا آغاز وہیں سے کیا جہاں سے حضرت نوح اور حضرت ھود ( علیہ السلام) نے کیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عبادت کا جامع مفہوم یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قوم ثمود اور صالح۔ : 61: وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاھُمْ صٰلِحًا قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُ وا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ھُوَاَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ (اور ثمو د کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو بھیجا انہوں نے کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا) نہیں پیدا کیا اس زمین سے مگر اسی نے اَنْشَاَ سے مراد آدم (علیہ السلام) کی مٹی سے تخلیق کی طرف اشارہ ہے۔ پھر آدم (علیہ السلام) کی نسل سے ان کو پیدا کیا۔ وَاسْتَعْمَرَ کُْمْ فِیْھَا (اور تمہیں زمین میں آباد کیا) یعنی زمین کو آباد کرنے والا بنایا۔ اور تمہارے ذریعہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

قوم ثمود کا تذکرہ 61۔ ” والی ثمود اخاھم صلحا “ ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے نسبی بھائی حضرت صالح (علیہ السلام) کو بھیجا یہاں دینی بھائی مراد نہیں ۔ قال یا قوم اعبدوا اللہ اللہ تعالیٰ کو وحدہ لا شریک جانو ۔” مالکم من الہ غیرہ ھو انشاکم “ تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ۔ ” من الارض “ کیونکہ سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کیے گئے ۔ ” واستعمر کم فیھا “ تم کو اس کا رہائشی بنایا۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ تمہاری عمر کو لمبا کیا یہاں تک کہ ان کی عمریں تین سو سال سے ہزار سال تک ہوتی تھیں اور اسی طرح قوم عاد کی عمریں لمبی تھیں اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” اعمر کم عمری “…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

61۔ ملک شام اور مدینہ کے مابین میں حجر نام کا جو ایک شہر ہے وہاں قوم صالح کے یہ لوگ رہتے تھے حضرت ہود کے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے درمیان میں سو برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی عمر دو سو اسی برس کی ہوئی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کو عاد اولیٰ اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کو عاد ثانی کہتے ہیں تین سو سے ہزار برس تک کی عمر کے لوگ اس قوم میں گزرے ہیں سورة اعراف میں ان کی قوم کا قصہ گزرچکا ہے۔ صحیح بخاری مسند امام احمد اور مستدرک حاکم وغیرہ کی روایتیں اوپر گزرچکی ہیں کہ تبوک کے جاتے وقت آنحضرت ﷺ اور صحابہ کا گزرجب اس ثمود کی اجڑی ہوئی بستی پر سے ہوا تو آپ نے صحابہ کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والی ثمود) ” اور ثمود کی طرف۔ “ یعنی ہم ثمود کی طرف مبعوث کیا۔ ثمود، عاد ثانیہ کے نام سے معروف ہیں جو وادی القریٰ اور الحجر کے علاقے میں آباد تھے۔ (اخاھم) ” ان کے بھائی۔ “ یعنی نسب میں ان کے بھائی (صلحاً ) ” صالح (علیہ السلام) کو “ جو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تھا جو ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتا تھا۔ (قال یقوم اعبدو اللہ) ” انہوں نے کہا، اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور دین کو اس کے لئے خالص کرو۔ (مالکم من الہ غیرہ) ” اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں “ نہ آسمان والوں میں سے اور نہ اہل زمین میں سے۔ (ھو انشاکم من الارض) ” اسی (اللہ تعالیٰ )…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 61–68

انسان کو زمین پر آباد کیا قول باری ہے ھو انشاکم من الارض واستعمرکم فیھا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین کی طرف نسبت کی اس لیے کہ ان سب کی اصل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق زمین کی مٹی سے ہوئی تھی اور بنی نوع انسان تمام کے تمام حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ۔ ایک قول کے مطابق اس کے معنی ہیں ۔ اس نے تمہیں زمین میں پیدا کیا۔ قول باری واستعمرکم فیھا کے معنی ہیں ۔ اللہ نے تمہیں ایسی چیزوں کے ساتھ زمین کو آباد کرنے کا حکم دیا جن کی تمہیں ضرورت تھی ۔ اس میں یہ دلالت موجود ہے کہ زمین کو زراعت کے لیے ، پودے اور درخت لگانے کے لیے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

139 ۔ حضرت صالح کی بعثت اور ان کی دعوت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو رسول بنا کر بھیجا۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ اے میری قوم کے لوگو۔ تم بندگی کرو صرف اللہ ہی کی کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سو اس سے عقیدہ توحید کی خاص اہمیت واضح ہوجاتی ہے کہ ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی کی دعوت دی۔ سو ہر پیغمبر کا اپنی قوم کے نام سب سے پہلا خطاب اور اولین پیغام اور سب سے اہم اور بنیادی پیغام یہی توحید خداوندی کا پیغام رہا۔ انہوں نے اپنی قوم کو اسی کی دعوت دی۔ سو اس سے عقیدہ توحید کی اہمیت و عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر پیغمبر نے سب سے پہلے اسی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 61–68

سیدنا صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود پر عذاب تشریح : قوم نوح، قوم ھود اور اب قوم ثمود کا ذکر بھی اسی سلسلے میں کیا جا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ امت مسلمہ کو عبرت دلائیں کہ نافرمان قوموں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ سورة الاعراف رکوع نمبر 10 میں ان کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہاں دوبارہ بیان کیا جا رہا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کے ہی فرد تھے اسی لیے ان کو ان کا بھائی کہا گیا ہے ان کی تعلیمات باقی پیغمبروں کی طرح توحید کی ہی تھیں۔ وہ بڑے صالح اور بہترین انسان تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کا معجزہ عطا کیا جو پہاڑ سے نمودار ہوئی، قوم نے نافرمانی کرتے ہوئے اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو ان پر اللہ کا عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–68

آیات 61 تا 68 اسرار و معارف اسی قانون فطرت اور ضابطہ الٰہیہ کی تائید حضرت صالح (علیہ السلام) کے واقعہ بھی ہوتی ہے جو مذکورہ قوم کی دوسری شاخ یعنی ثمود کی طرف مبعوث ہوئے اور وہ خود بھی اسی قوم کے ایک معززفرد تھے ان کی دعوت بھی وہی تھی جو سب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہوتی تھی اور جو خاتم الانبیاء ﷺ کی بھی تھی اور ہے کہ لوگو ! اللہ کی اور صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے علاوہ کوئی بھی عبادت کا مستحق نہیں ۔ عبادت کی اصل صرف یہ نہیں کہ اللہ کو سب سے بڑامان لیا اور بات ختم بلکہ عبادت کی اصل یہ ہے کہ ساری امیدیں اس ایک ذات سے وابستہ کردی جائیں اور اس کے علاوہ اسباب کو ان کی حیثیت کے مطابق اختیار…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یعنی اب تک جو کفرو شرک کرتے رہے ہو اس کی اپنے رب سے معافی مانگو۔ 2 ۔ یعنی تمام معبودوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آئو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:61) والی ثمود اخاھم صلحا۔ آیت 11:50 کی طرح اس کا عطف بھی ارسلنا نوحا الیٰ قومہ (11:25) پر ہے۔ ای وارسلنا الی ثمود اخاھم صلحا۔ اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی (یعنی ان میں سے) صالح کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ انشاکم۔ انشا ینشی انشاء (افعال) اس نے پیدا کیا۔ ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پیدا کیا۔ استعمرکم۔ اس نے تم کو آباد کیا۔ استعمر یستعمر استعمار (استفعال) سے ماضی واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ العمارۃ۔ خراب کی ضد ہے۔ عمر ارضہ یعمرھا عمارۃ۔ اس نے اپنی زمین آباد کی۔ قرآن مجید میں ہے وعمارۃ المسجد الحرام (9:19) اور مسجد محرم (یعنی خانہ کعبہ) کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 61–63

لغات القرآن آیت نمبر 61 تا 63 انشا (اس نے اٹھایا، اس نے پیدا کیا) استعمر (اس نے آباد کیا) استغفروا (معافی مانگو، توبہ کرو) تو بوا (تم پلٹو، تم لوٹو) مجیب (جواب دینے والا، قبول کرنے والا) مرجو (مرکز امید، بہت سی وابستہ امیدیں ہیں) اتنھنا (کیا تو ہمیں روکتا ہے، منع کرتا ہے) اباونا (ہمارے باپ دادا) تدعونا (تو ہمیں بلاتا ہے) مریب (ریب) شک میں ڈالنے والا بینۃ (کھلی نشانی) اتنی (اس نے مجھے دیا) من ینصرنی (میری کون مدد کرے گا) ماتریدون (تم اضافہ نہیں کر رہے ہو) غیر تخسیر (سوائے نقصان کے) تشریح :- آیت نمبر 61 تا 63 اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا اور بلاوجہ کسی قوم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

حضرت صالح (علیہ السلام) کا قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کے درمیان میں سو برس کا فاصلہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی عمر دو سو اسی برس کی ہوئی ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت کو '' عاد اولیٰ '' اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت کو '' عاد ثانی '' کہتے ہیں۔ تین سو سے ہزار برس تک کی عمر کے لوگ اس قوم میں گزرے ہیں۔ سورة اعراف میں ان کی قوم کا قصہ گزرچکا ہے۔ اس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ہم نے قوم ثمود کے پاس ان ہی کی قوم کے آدمی صالح کو پیغمبر بناکے بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ جس میں کمال کی سب صفتیں موجود ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 61–62

[31] قوم ثمود اور صالح (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 10 آیت 73 تا 79 صفحہ 350 تا 352 میں گزر چکا ہے۔ [32] یعنی زمین کے بےجان مادوں کی ترکیب سے تمہارا جسم بنایا۔ [33] یعنی میرا رب بندوں کی عرض و معروض صرف سنتا ہی نہیں بلکہ اپنا فیصلہ بھی صادر کرتا ہے۔ پھر تم یہ کیسی حماقت میں پڑے ہو کہ اس کے لئے واسطے، وسیلے اور سفارشی تلاش کرتے پھرتے ہو۔ یاد رہے کہ یہی مضمون سورة بقرہ آیت 186 صفحہ 54 میں بھی بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

خدا قریب ومجیب ہے ! : (ف 2) حضرت صالح (علیہ السلام) قوم ثمود کی جانب مبعوث ہوئے ثمود اس قوم کا نام ہے جو شام اور مدینہ کے درمیان مقام ہجر میں آباد تھی سابق دین حق کی طرح حضرت صالح (علیہ السلام) کا پیغام بھی یہی تھا کہ ایک خدا کی پوجا کرو ، اللہ کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ، اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی نے تمہیں اپنی زمین پر آباد کیا ہے ، اس سے گناہوں کی بخشش مانگو ، اسی کے آستانہ کرم پر جھکو ، وہ بہت قریب ہے ، سب کی سنتا اور قبول کرتا ہے اس کے دربار میں توسل کی ضرورت نہیں ، انابت و خلوص کافی سفارشیں ہیں ، وہ تمہارے حالات سے براہ راست باخبر اور آگاہ ہے ، اس لئے تم نیاز مندی کے ساتھ اس کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

61 اور ہم نے قبیلہ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا اور کوئی معبود نہیں ہے اور نہ کوئی دوسرا معبود ہونے کے قابل ہے اس نے تم کو زمین کی مٹی سے پیدا کیا ہے اور اس نے تم کو زمین میں آباد کیا لہٰذا تم اپنے گناہ اس سے بخشوائو اور جو شرک تم کر رہے ہو اس کی معافی طلب کرو اور آئندہ بھی ایمان لانے کے بعد عبادت اور نیک اعمال کے ساتھ اسی کی جانب متوجہ رہو بلاشبہ میرا پروردگار قریب اور نزدیک ہے اور توبہ کرنیوالے کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ یعنی شرک سے توبہ کرو اور عبادت کرتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 60–62

ف 2۔ چناچہ دنیا میں اس کا آخر عذاب ہلاک تھا۔ اور آخرت میں عذاب مخلد ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ثمود قوم کی طرف صالح (علیہ السلام) کو نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا اور انہوں نے توحید کا درس دیا 81 ؎ زیر نظر آیت سے صالح (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع ہوا اس سورة میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے تذکار میں سے یہ تیسرا تذکرہ ہے۔ ثمود قوم بھی عاد قوم کی دوسری شاخ تھی۔ ان کا مسکن حجاز اور شام کا درمیانی خطہ تھا۔ یہ لوگ ان لوگوں لوگوں نے کہا اے صالح ! پہلے تو تو ایک ایسا آدمی تھا کہ ہم سب کی امیدیں تجھ کی اولاد تھے جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے باعث بچ گئے تھے اور وہاں سے نقل مکانی کر کے اس علاقہ میں آباد ہوگئے تھے۔ یہاں آ کر وہ خوب پھیلے پھولے۔ ان کے آنے سے یہ خطہ لہلہاتے ہوئے کھیتوں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–61

After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah. Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

66. For further information see Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf, nn. 57-62, pp. 45-8. 67. This substantiates the fact that there is no god other than the One True God; and that He should be the sole object of worship and service. Now, even those who associated others with God in His divinity acknowledged that it is Allah alone Who created them. Using this obvious premise, Prophet Salih (peace be on him) sought to persuade people to affirm that God alone should be worshipped. He emphasized that it is God alone Who had made them into human beings out of the lifeless…

Read the full tafseer →