Explained with ayahs 57–60
ہود ؑ کا قوم کو جواب
حضرت ہود ؑ فرماتے ہیں کہ اپنا کام تو میں پورا کرچکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت حضرت ہود ؑ اور آپ کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
سورة هُوْد 65
اگرچہ ان کے پاس ایک ہی رسول آیا تھا، مگر جس چیز کی طرف اس نے دعوت دی تھی وہ وہی ایک دعوت تھی جو ہمیشہ ہر زمانے اور ہر قوم میں خدا کے رسول پیش کرتے رہے ہیں، اسی لیے ایک رسول کی بات نہ ماننے کو سارے رسولوں کی نافرمانی قرار دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔
صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
تفسیر آیات 59۔ 60:۔ وَتِلْكَ عَادٌ ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ وَاتَّبَعُوْٓا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْدٍ۔ وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ :۔
قریش کو تنبیہ : " تلک " کا اشارہ مخاطب یعنی قریش کو اس سرگزشت کی طرف توجہ دلانے کے لیے ہے کہ ان کے انجام سے سبق لو اور عبرت پکڑو یہ کسی دوسرے کی سرگزشت نہیں، تمہاری اپنی ہی سرزمین کا ماجرا ہے۔ جحدوا بایات ربہم، انہوں نے بھی تمہاری ہی طرح اپنے رب کی نشانیوں کا دیدہ و دانستہ، جیسا کہ دوسری جگہ تصریح ہے، انکار کیا۔…
Read the full tafseer →60۔ 1 لَعْنَہ کا مطلب اللہ کی رحمت سے دوری، امور خیر سے محرومی اور لوگوں کی طرف سے ملامت و بیزاری۔ دنیا میں یہ لعنت اس طرح کہ اہل ایمان میں ان کا ذکر ہمیشہ ملامت اور بیزاری کے انداز میں ہوگا اور قیامت میں اس طرح کہ وہاں علٰی رؤوس الشہاد ذلت اور رسوائی سے دو چار اور عذاب الٰہی میں مبتلا ہوں گے۔
60۔ 2 بُعْد کا یہ لفظ رحمت سے دوری اور لعنت اور ہلاکت کے معنی کے لئے ہے، جیسا کہ اس سے قبل بھی وضاحت کی جا چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
34: حکم سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا عذاب ہے۔ جیسا کہ سورة اعراف میں عرض کیا گیا، ان پر تیز آندھی اور ہوا کا طوفان بھیجا گیا تھا۔ یہ قد و قامت کے اعتبار سے غیر معمولی قوم تھی، لیکن اس عذاب کے نتیجے میں ان کی ساری قوت دھری رہ گئی اور پوری قوم تباہ ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →1 یعنی خدا کی لعنت (پھٹکار) دنیا میں ان کے پیچھے لگا دی گئی کہ جہاں جائیں ساتھ جائے اور قیامت تک جہاں ان کا ذکر ہو لعنت کے ساتھ ہو، بلکہ قیامت کے بعد بھی وہ ان کا پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لعنت کا طوق ہمیشہ ان کے گلے میں پڑا رہے گا۔
2 بعض مفسرین نے کہا کہ قیامت کے دن یوں پکارا جائے گا۔ ( اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ ) 11 ۔ ہود :60) (تنبیہ) " عاد ' کے ساتھ " قوم ہود " کا لفظ یا تو اس لیے بڑھایا کہ دونوں کا تصور سننے والے کے دماغ میں ساتھ ساتھ آئے۔ یعنی " ہود " کا کیا حال تھا، اور یہ اسی کی قوم تھی جس کا حشر یہ ہوا۔ اور ممکن ہے اس پر تنبیہ کرنا ہو کہ "…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
آیت 59 وَتِلْكَ عَادٌ ڐ جَحَدُوْا بِاٰيٰتِ رَبِّهِمْ وَعَصَوْا رُسُلَهٗ
یہاں پر ان تمام انبیاء کو بھی رسول کہا گیا ہے جو حضرت ہود سے پہلے اس قوم میں مبعوث ہوئے۔ اکثر اس طرح ہوتا رہا ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء کرام ان کے معلمین کی حیثیت سے آتے رہے اور پھر آخر میں ایک رسول آیا۔ اور جیسا کہ قبل ازیں بھی نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں بیان ہوچکا ہے کہ قرآن میں یہ دونوں الفاظ اگر الگ الگ آئیں تو ایک دوسرے کی جگہ پر آسکتے ہیں ‘ لیکن اگر یہ دونوں الفاظ اکٹھے ایک جگہ آئیں تو پھر ان میں سے ہر لفظ اپنے خاص معنی دیتا ہے۔
Read the full tafseer →68 یعنی جب بھی ان کا ذکر ہوگا بھلے الفاظ میں نہیں ہوگا اور یہ لعنت قیامت کے دن بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑے گی۔
69 یعنی عاد اولیٰ تو اس طرح تباہ ہوئے پھر ان کے بعد قوم ثمود دنیا میں نامور ہوئی جسے عاد ثانیہ بھی کہا جاتا ہے اور جن کی طرف صالح (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا تھا آگے اسی قوم کا ذکر آرہا ہے اس سلسلہ میں سورة اعراف آیت نمبر 73 سے 79 تک کے حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔
Read the full tafseer →89۔ (دونوں جہانوں میں اللہ کی رحمت سے) (آیت) ” فی ھذہ الدنیا لعنۃ “۔ دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگ گئی یعنی ان پر ہلاکت کا عذاب نازل ہوا۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس دنیا کی مادی زندگی بھی ان پر طرح طرح کی مصیبتوں سے تنگ کردی گئی جیسا کہ آج بھی تمام نافرمان قوموں سے متعلق مشاہدہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” یوم القیمۃ “۔ آخرت میں لعنت سے مراد اسی عذاب دائمی میں گرفتار ہوجانا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃً ویوم القیۃ اور اس دنیا میں بھی ان کے پیچھے (انسانوں اور فرشتوں کی) لعنت ڈالی گئی اور قیامت کے دن بھی (لعنت پڑے گی) ۔
لعنت کا معنی (اس جگہ) ہے اللہ کی رحمت سے دور کردینا ‘ مردود بنا دینا۔ یعنی انسانوں اور فرشتوں کی طرف سے ان پر لعنت ہونے کی دعا پڑے گی۔
الا ان عادًا کفروا ربھم گوش ہوش سے سن لو کہ عاد والوں نے اپنے رب کا انکار کیا تھا ‘ یا رب کی نعمتوں کی ناشکری کی تھی۔
الا بعدًا لعادٍ قوم ھودٍ خوب سن لو ! دوری ہے (ا اللہ کی رحمت سے یا ہلاکت ہے) عاد کیلئے جو ہود کی قوم تھی۔
بغوی نے لکھا ہے : بعد کے دو معنی ہیں (1) دوری ‘ یعنی قرب کی ضد (2) ہلاکت۔ وکذا فی القاموس۔ جملہ…
Read the full tafseer →(60) اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے ساتھ رہی کہ آندھی کے ذریعے ہلاک کردیے گئے اور دوسری لعنت دوزخ ہے سن لو کہ قوم عاد نے اپنے رب کا انکار کیا اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوگئی۔
Read the full tafseer →وَاُتْبِعُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا لَعْنَةً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : لعنت کا معنی ناراض ہو کر دفع دور کردینا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت سے مراد آخرت میں عذاب اور دنیا میں اپنی رحمت اور توفیق سے محروم کردینا ہے اور انسان کی طرف سے لعنت کا مطلب اس کے لیے یہ بددعا کرنا ہے۔ (راغب) یعنی دنیا میں آنے والا ہر پیغمبر اور مومن ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کرتا رہے گا اور آخرت میں وہ سب کے سامنے رسوا اور مبتلائے عذاب ہوں گے۔
اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ۔۔ : ”اَلَآ“ کے ساتھ خبردار اس لیے کیا کہ کوئی یہ نہ کہے کہ ان بےچاروں پر زیادتی ہوئی۔ فرمایا، سن لو ! یہ لوگ تمام جرائم سے بڑے جرم رب تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[وَاُتْبِعُوْا : اور ان کے پیچھے لگا دیا گیا ] [فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا : اس دنیا میں ] [لَعْنَةً : ایک لعنت کو ] [وَّيَوْمَ الْقِيٰمَةِ : اور قیامت کے دن (بھی)] [اَلَآ : سن لو ] [ ان : بیشک ] [عَادًا : عاد نے ] [ كَفَرُوْا : ناشکری کی ] [رَبَّهُمْ : اپنے رب کی ] [اَلَا : سن لو ] [بُعْدًا : دوری ہے ] [لِعَادٍ : عاد کے لئے ] [ قَوْمِ هُوْدٍ : ھود کی قوم کے لئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
56:۔ انبیاء (علیہم السلام) کی پیروی کے بجائے انہوں نے اپنے سرکش اور معاند سرداروں کی پیروی کی جو انہیں شرک کی دعوت دیتے اور پیغمبروں کو جھٹلانے کی ترغیب دیتے تھے۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہدایت سے محروم رہے اور دنیا وآخرت میں ملعون و مقہور ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
ربط آیات
اس سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کے سامنے تقریر ، ان کی نصیحت وعظ ، تبلیغ اور اس ضمن میں کی جانے والی محنت اور کوشش کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ نے آپ کی قوم کی نافرمانی اور سرکشی کا ذکر بھی فرمایا۔ قوم ہود کا ذکر قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں آیا ہے۔ سورة احقاف میں آپ کا بیان ہے اور سورة اعراف میں زیادہ تفصیل ہے۔ وہاں پر کفر و شرک کی مختلف باتوں کا تذکرہ ہے ان لوگوں نے مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مختلف معبود بنا رکھے تھے۔ ہود علیہالسلام کی تبلیغ کے جواب میں قوم نے آپ کو بیوقوف کہا ، یہاں بھی گزر چکا ہے کہ وہ کہتے تھے ، اے ہود ! تمہارا دماغ خراب ہو یا ہے اور تم پر ہمارے معبودوں کی مار…
Read the full tafseer →وَاُتْبِعُوْا فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا لَعْنَۃً وَّيَوْمَ الْقِيٰمَۃِ 0ۭ اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّہُمْ 0ۭ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ہُوْدٍ 60ۧ
دنا
الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11]
دنا
( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
وَتِلْکَ عَادٌ قف لا جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَعَصَوْا رُسُلَہٗ وَاتَّبَعُوْ ٓا اَمْرَکُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ ۔ وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ط اَلَآ اِنَّ عَادًا کَفَرُوا رَبَّھُمْ ط اَلاَ بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ ھُوْدٍ ۔ (سورۃ ہود : 59۔ 60)
(اور یہ ہے قوم عادجنھوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر متکبر دشمن حق کے حکم کی پیروی کی۔ اور ان کے پیچھے لگا دی گئی اس دنیا میں لعنت، اور قیامت کے دن بھی۔ سنو ! عاد نے اپنے رب کا انکار کیا۔ سنو ! ہلاکت و بربادی ہے عاد کے لیے جو ہود کی قوم تھی۔ )
قومِ عاد کے بڑے بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
فہم القرآن
ربط کلام : قوم ھود کا انجام۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اس قوم کا انجام ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ان میں رسول بھیجا۔ جس نے انہیں فرمایا کہ ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ لیکن قوم کے سرداروں نے اس بات کا انکار کیا اور آخرت کو جھٹلایا۔ مال دار طبقے نے کہا یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے۔ جو تم کھاتے پیتے ہو یہ بھی وہی کچھ کھاتا پیتا ہے۔ سردار اپنے اپنے قبیلوں کو کہنے لگے کہ اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی پیروی کی تو یاد رکھو تم بڑا نقصان پاؤ گے۔ ھود تمہیں یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ تم مر کر بوسیدہ ہڈیوں اور مٹی میں تبدیل ہوجاؤ گے۔ پھر اللہ…
Read the full tafseer →60: وَاُتْبِعُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ( اور ان کے پیچھے اس دنیا کی زندگی میں لعنت اور قیامت کے دن لعنت لگادی گئی) جب وہ رسولوں کے علاوہ دوسروں کی اطاعت کرنے والے تھے تو لعنت کو دونوں جہانوں میں ان کا تابع بنادیا۔ اَلَا اِنَّ عَادًا کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَ لَا بُعْدًا لِّعَادٍ (خبردار عاد نے اپنے رب کا انکار کیا خبردار دوری ہو قوم عاد کیلئے) اَلَا کو دو مرتبہ لائے تاکہ ان کے معاملے کی خوفنا کی ظاہر ہو نیز ان کے کفر کا اعلان اور ان کے متعلق بددعا۔ ان سے عبرت حاصل کرنے پر آمادہ کیا گیا اور ان کی حالت سے بچنے پر آمادہ کیا گیا۔ ہلاکت کے بعد ان کی دوری کی بددعا کی…
Read the full tafseer →تفسیر 60” واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃ “ ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی جو ان کو لا حق ہے اور ان کے ساتھ پھرتی ہے اور اللعنتہ دور کرنا اور رحمت سے ہٹانا لعنت رحمت سے دورہونا ۔ ” ویوم القیامۃ “ یعنی قیامت کے دن بھی دنیا کی طرح لعنت کیے جائیں گے ۔ ” الا ان عاد کفروا ربھم “ یعنی اپنے رب کا ، کہا جاتا ہے کفرتہ وکفرت ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے شکرتہ وشکرت لہ ونصحۃ و نصحت ہے ۔ الا بعد العاد قوم ھودبعض نے کہا ہے کہ اللہ کی رحمت سے دوری ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ہلاکت ہے اور ” بعد “ کے دو معنی ہیں ایک قرب کی ضد اور دوسرا معنی ہلاک ہونا ۔ پہلے معنی کا باب ۔ ” بعد یبعد بعدا “ ہے اور دوسرے بمعنی ہلاکت کے ہے، جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ…
Read the full tafseer →(واتبعوا امر کل جبار) ” اور انہوں نے حکم نامہ ہر اس شخص کا جو سرکش تھا “ یعنی وہ شخص جو جب ر استبداد کے ذریعے سے اللہ کے بندوں پر مسلط ہوجاتا ہے۔ (عنید) ” سرکش “ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ عناد رکھتا ہے۔ انہوں نے ہر خیر خواہ اور مشفق کی نافرمانی کی اور ہر دھوکے باز کی پیروی کی جو ان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ (واتبعوافی ھذہ الدنیا لعنۃ) ” اور پیچھے لگی رہی ان کے اس دنیا میں پھٹکار “ پس ہر وقت اور ہر زمانے میں ان کے کرتوتوں اور بری خبروں کا لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں اور ایسی مذمت کے ساتھ ان کو یاد کرتے ہیں جو ان کا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ (ویوم القیمۃ) ” اور قیامت کے روز بھی “ وہ ملعون ٹھہریں گے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →138 ۔ قوم عاد پر لعنت و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ۔ سو قوم عاد کے سنگین جرائم اور ان کے ہولناک انجام کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ پیچھے لگا دی گئی ان کے لعنت دنیا میں بھی اور قیامت کے دن بھی۔ ان کے اپنے کفر و انکار اور تکذیب حق کے جرم عظیم کی بناء پر کہ حق سے دوری اور محرومی کے باعث یہ لوگ دارین میں حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی رحمت و عنایت سے محروم ہو کر ابدی ہلاکت و تباہی کے عمیق اور ہولناک گڑھے میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گرگئے۔ جو کہ سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تکذیب اور انکار حق کا جرم بڑا ہی سنگین اور ہولناک جرم ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یعنی قیامت کے دن یوں پکاریں گے۔ (موضح) ۔ سری سے روایت ہے کہ قوم عاد کے بعد اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس نے عاد پر لعنت کی۔ یا ” اتبعوا “ کے معنی یہ ہیں۔ ” ان پر دنیا میں بھی لعنت اور آخرت میں بھی۔ “ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(11:60) اتبعوا۔ اتباع (افتعال) سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب ان کے پیچھے لگا دیا گیا۔ ان کے پیچھے لگا دی گئی۔
بعدا۔ دوری۔ ہلاکت ۔ بربادی۔ (ملاحظہ ہو 11:44)
قوم ھود۔ (ہود کی قوم) عطف بیان ۔ اپنے متبوع عاد کی وضاحت کے لئے آیا ہے یعنی وہ قوم عاد جو لعنت دارین کی مستحق ہوئی۔ قوم عاد دو قبیلوں سے منسوب ہے عاد اولیٰ جو حضرت ہود کی قوم تھی۔ اور عاد ثانی جو عمالقی تھے۔ یہ دونوں شاخیں عاد بن عوص ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 60
امرنا (ہمارا حکم، ہمارا فیصلہ ) غلیظ (سخت) جحدوا (انہوں نے انکار کیا) عصوا (انہوں نے انکار کیا) عصوا (انہوں نے نافرمانی کی، کہا نہ مانا) اتبعوا (وہ پیچھے لگ گئے۔ انہوں نے اتباع کی) اتبعوا (وہ پیچھے لگ گئے، انہوں نے اتباع کی) جبار (زبردست، ضدی) عنید (ہٹ دھرم لوگ) اتبعوا (پیچھے لگا دی گئی) لعنۃ (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری )
تشریح : آیت نمبر 58 تا 60
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ” قوم عاد “ کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” قوم عاد “ جو کئی ہزار کی تعداد میں تھے اور دنیاوی اعتبار سے خوش حال اور جسمانی لحاظ سے نہایت مضبوط واقع ہوئے تھے جب انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[30] یہ جو فرمایا کہ عاد نے رسولوں کی نافرمانی کی حالانکہ ان کے پاس صرف ہود (علیہ السلام) کا تشریف لانا ثابت ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ تمام پیغمبر توحید اور اصول دین میں متفق ہیں۔ پس کسی ایک رسول کا انکار تمام رسولوں کا انکار ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) بعد اور لعنت کا اطلاق بطور گال کے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی رحمتوں کے سزاوار نہیں رہے ، اب وہ بخشش اور رحمت سے دور ہیں ۔
Read the full tafseer →60 اس نافرمانی کا انجام یہ ہوا کہ اس دنیا میں بھی لغت ان کے پیچھے لازم کردی گئی اور ان کے ساتھ رب کی نافرمانی کا ارتکاب کیا خوب سن لو رحمت سے دور کردئیے گئے۔
عاد جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے یعنی یہ عاد جن کا ذکر ہوا یہ لوگ ہود (علیہ السلام) کی قوم تھے جو ہمیشہ کے لئے رحمت سے دور کردئیے گئے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی قیامت کو یوں پکاریں گے 12 آٹھویں پارے میں بھی حضرت ہود (علیہ السلام) کے قصے کی تفصیل گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–62
ف 2۔ چناچہ دنیا میں اس کا آخر عذاب ہلاک تھا۔ اور آخرت میں عذاب مخلد ہوگا۔
Read the full tafseer →دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت پڑی اور قیامت کو بھی وہ یقینا رسوا ہوں گے
80 ؎ ہود (علیہ السلام) کی قوم کا انجام بھی اس طرح ہلاکت پر آ کر منتہی ہوا جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کا اختتام ہوا تھا اور دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی یعنی وہ رحمت سے دور ہی کردیئے گئے اور قیامت کے روز بھی وہ لوگ رحمت سے دور ہی رکھے جائیں گے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ عاد قوم پر ہوا کا طوفان مسلط ہوا تھا مگر سورة مومنوں میں یہ مذکور ہے کہ ان کو ایک سخت آواز کے ذریعہ ہلاک کیا گیا اس لئے ممکن ہے کہ قوم ہود پر دونوں قسم کا عذاب نازل کیا گیا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس طوفان باد میں ہی وہ سخت چیخ کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah.
Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
65. It is true that only one Messenger (viz. Hud) had come to them. However, his teachings were the same as those of all the other Messengers who had been raised among different nations and at different times. Hence their rejection of Hud's message is referred to here as a rejection of all Messengers.
Read the full tafseer →