Explained with ayahs 57–60
ہود ؑ کا قوم کو جواب
حضرت ہود ؑ فرماتے ہیں کہ اپنا کام تو میں پورا کرچکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت حضرت ہود ؑ اور آپ کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
سورة هُوْد 64
یہ ان کی اس بات کا جواب ہے کہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔
صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِهٖٓ اِلَيْكُمْ ۭ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّيْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ۚ وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ شَـيْـــًٔـا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ۔
حضرت ہود کی آخری تنبیہ : یہ حضرت ہود کی طرف سے آخری تنبیہ ہے کہ اگر تم اسی اعراض کی روش پر اڑے رہنے کا فیصلہ کرچکے ہو تو اب نتائج کی تمام ذم داری تمہارے ہی سر ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وہ میں تمہیں واضح طور پر پہنچا چکا ہوں۔ اب آگے کا مرحلہ یہ ہے کہ میرا رب تمہاری جڑ کاٹ دے گا۔ یستخلف ربی قوما غیرکم اور تمہاری جگہ تہارے سوا کسی اور قوم کو متمکن کردے گا۔ ولا…
Read the full tafseer →57۔ 1 یعنی اس کے بعد میری ذمہ داری ختم اور تم پر حجت تمام ہوگی۔
57۔ 2 یعنی تمہیں تباہ کر کے تمہاری زمینوں اور املاک کا وہ دوسروں کو مالک بنا دے، تو وہ ایسا کرنے پر قادر ہے اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے بلکہ وہ اپنی مشیت و حکمت کے مطابق ایسا کرتا رہتا ہے۔
57۔ 3 یقیناً وہ مجھے تمہارے مکرو فریب اور سازشوں سے بھی محفوظ رکھے گا اور شیطانی چالوں سے بھی بچائے گا، علاوہ ازیں ہر نیک بد کو ان کے اعمال کے مطابق اچھی اور بری جزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
33: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سیدھا راستہ مقرر کردیا ہے، اور اسی پر چلنے سے خدا ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →7 یعنی ایسی صاف اور کھری کھری باتیں سن کر بھی نہ مانو گے تو اب میرا کچھ نقصان نہیں۔ میں فرض تبلیغ پوری طرح ادا کرچکا۔ تم اپنی فکر کرلو۔ ضرور ہے کہ اس قسم کی ہٹ دھرمی اور تعصب وعناد پر آسمان سے عذاب آئے جو تم کو ہلاک کر ڈالے۔ خدا کی زمین تمہاری تباہی سے ویران نہ ہوگی۔ وہ دوسرے لوگوں کو تمہارے اموال وغیرہ کا وارث بنا دے گا۔ تمہار قصہ ختم کردینے سے یاد رکھو خدا کا یا اس کے پیغمبروں کا کچھ نہیں بگڑتا نہ اس کا ملک خراب ہوتا ہے۔ جب وہ ہر چیز کا محافظ و نگہبان ہے تو ہر قابل حفاظت چیز کی حفاظت اور اس کے سامان کی حفاظت اپنی قدرت کاملہ سے کر دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا
یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔
Read the full tafseer →65 ان سب باتوں کے باوجود بھی اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر جمے رہو گے تو اللہ عذاب بھیج کر تمہیں تباہ کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے وہ اس کے بعد تمہاری سر زمین پر کوئی دوسرے لوگ لا کر آباد کر دے گا اور تم اس کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکو گے لہذا تمہاری عافیت اسی میں ہے کہ اللہ پر ایمان لے آؤ اور شرک کے کام چھوڑ دو ۔
Read the full tafseer →86۔ (اس سے نہ کوئی شے مخفی ہے نہ اس کی نظر کبھی کسی معاملہ میں بھی چوک سکتی ہے) (آیت) ” فان۔۔۔ الیکم “۔ یعنی میں تو اپنی تبلیغ کے بعد بری الذمہ ہوگیا اتنی صریح ہدایتوں کے بعد بھی تم نہیں مانتے تو آگے تم جانو اور تمہارا کام۔ (آیت) ” ویستخلف ربی قوما غیرکم “۔ یعنی تم تو تباہ وہلاک کردیئے جاؤ گے باقی اللہ کو جو کام دنیا میں تم سے لینا تھا اس کے لیے وہ کسی دوسری قوم کو لا کھڑا کرے گا۔ (آیت) ” ولا تضرونہ شیئا “۔ یعنی تمہاری ان بدبختانہ حرکتوں سے اللہ تعالیٰ کو کیا ضرر۔۔۔ ضرر تو سر تا سر تمہارا اپنا ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →فان تولوا فقد بلغتکم ما ارسلت بہ الیکم اب اگر (میری دعوت سے) تم اعراض کر رہے ہو تو (میرا نقصان نہیں) میں تم کو وہ پیام پہنچا چکا جس کو پہنچانے کیلئے مجھے تمہارے پاس بھیجا گیا ہے۔
ویستخلف ربي قومًا غیرکم (اگر تم اعراض کرو گے تو اللہ تم کو ہلاک کر دے گا) اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔ جو موحد ہوں گے ‘ اللہ ہی کے عبادت گذار اور اس کے فرمانبردار ہوں گے۔
فلا تضرونہ شیءًا اور (رو گرداں ہو کر) تم اس کو کچھ ضرر نہ پہنچا سکو گے (بلکہ اپنا ہی نقصان کرو گے) بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ تمہارا وجود و عدم اس کیلئے برابر ہے ‘ اسلئے اگر وہ تم کو ہلاک کر دے گا تو اس کا کچھ بگاڑ نہ ہوگا۔
ان…
Read the full tafseer →(57) پھر بھی اگر تم ایمان اور توبہ سے منہ پھیرتے ہو تو رسالت اور تمہاری ہلاکت کا پیغام جو مجھے دے کر بھیجا گیا تھا وہ میں تمہیں پہنچا چکا ہوں اور تمہاری جگہ میرا رب تم سے بہترین اور اطاعت گزار لوگوں کو آباد کرے گا اور اپنی ہلاکت سے اللہ تعالیٰ کا تم کچھ نقصان نہیں کررہے ہو میرا پروردگار تمہارے تمام اعمال کی نگرانی کرتا ہے اور وہ اس سے باخبر ہے۔
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِهٖٓ اِلَيْكُمْ۔۔ : ”تَوَلَّوْا“ اصل میں ”تَتَوَلَّوْا“ تھا، لغت عرب میں کسی فعل کے شروع میں اگر دو ”تاء“ ہوں تو عموماً ایک کو حذف کردیتے ہیں۔ یعنی رسولوں کے بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھ تک اللہ کا پیغام نہیں پہنچا، اس لیے میں معذور ہوں، اب اگر تم نہ مانو تو بیشک نہ مانو، مگر میرا فریضہ پورا ہوگیا اور تمہارا عذر ختم ہوگیا۔ اب اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ کہ ”وہ پیغام پہنچائے بغیر عذاب نہیں دیتا“ تمہارے لیے بہانہ نہیں بن سکتا۔ تمہارے نہ ماننے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ اور لوگ لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[فَان : پھر اگر ] [تَوَلَوْا : تم لوگ منھ موڑو گے ] [فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ : تو میں پہنچا چکا ہوں تم کو ] [مَآ : وہ ] [اُرْسِلْتُ : میں بھیجا گیا ] [بِهٖٓ : جس کے ساتھ ] [ اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف ] [وَيَسْتَخْلِفُ : اور جانشین کرے گا ] [رَبِيْ : میرا رب ] [قَوْمًا : ایک قوم کو ] [غَيْرَكُمْۚ: تمہارے علاوہ ] [وَلَا تَضُرُّوْنَهٗ : اور تم لوگ نقصان نہیں پہنچائو گے اس کو ] [شَـيْـــًٔـا : کچھ بھی ] [ ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : ہر چیز پر ] [حَفِيْظٌ: نگہبان ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →54: اگر مشرکین ضد و انکار پر اڑے رہیں اور ماننے پر نہ آئیں تو آپ کہہ دیں میں نے تو اللہ کا پیغام تم تک پہنچا دیا اور حجت خداوندی قائم کردی اب تمہاری تباہی کا وقت قریب ہے اللہ تمہیں عذاب سے ہلاک کر کے تمہاری جگہ اوروں کو لائے گا اور تم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے اور وہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اس لیے تمہیں ان کی پوری پوری سزا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
ربط آیات
کل کے درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر اور قوم کی نصیحت کا پہلا حصہ بیان ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ حاجت روا ، مشکل کشا ، نافع اور ضار ، علیم کل ، محیط کل اور متصرف اس کے سوا کوئی نہیں۔ آپ نے قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس پر افتراء باند ھ رہے ہو۔ پھر ہود (علیہ السلام) نے اپنی بےلوث خدمت کا ذکر بھی کیا کہ میں اس وعظ ونصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سامنے استغفار اور توبہ کرو ، وہ تم پر مہربانی فرمائے گا ، تمہیں…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖٓ اِلَيْكُمْ 0ۭ وَيَسْتَخْلِفُ رَبِّيْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ 0ۚ وَلَا تَضُرُّوْنَہٗ شَـيْـــًٔـا 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ حَفِيْظٌ 57
بلغ
البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15]
( ب ل غ ) البلوغ
والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہِٓ اِلَیْکُمْ ط وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ج وَلاَ تَضُرُّوْنَہٗ شَیْئًاء ط اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ حَفِیْظٌ۔ (سورۃ ہود : 57)
(پس اگر تم روگردانی کرو تو میں نے تو پہنچا دیا ہے تمہیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے اور جانشین بنا دے گا میرا رب تمہاری جگہ کسی اور قوم کو اور تم اس کا کوئی نقصان نہ کرسکو گے۔ بیشک میرا رب ہر چیز کا نگہبان ہے۔ )
حضرت ہود (علیہ السلام) کی آخری تنبیہہ
اس رکوع کی سابقہ آیات کو ایک ترتیب سے پڑھئے تو آپ خود محسوس کریں گے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنے اصولی مؤقف پر ہر…
Read the full tafseer →چلے گا۔ کیونکہ جب وہ اپنے حفظ وامان کا ہاتھ پیچھے ہٹا لیتا ہے تو پھر کوئی چیز بھی باقی نہیں رہتی۔
عنِ الْمُغِےْرَۃِ ابْنِ شُعْبَۃَ ؓ اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ ےَقُوْلُ فِیْ دُبُرِ کُلِّ صَلٰوۃٍ مَّکْتُوْبَۃٍ (لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِےْکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِےْرٌ اَللّٰھُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا اَعْطَےْتَ وَلَا مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا ےَنْفَعُ ذَالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ ) (متفق علیہ)
” حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ ذکر کرتے ہیں نبی کریم ﷺ فرض نماز کے بعد اکثر یہ کلمات ادا فرمایا کرتے تھے۔ ” صرف ایک اللہ ہی معبود حق ہے اس کا کسی لحاظ…
Read the full tafseer →57: فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖٓ اِلَیْکُمْ (اگر تم منہ پھیرو تو وہ پیغام پہنچا چکا جو میں تمہاری طرف دیکر بھیجا گیا ہوں) وہ اس حیثیت میں ہے کہ جس سے تم پر حجت قائم ہوگئی وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ( اور میرا رب تمہارے علاوہ دوسری قوم کو تمہارا نائب بنائے گا) یہ جملہ مستانفہ ہے یعنی وہ اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کر دے گا اور دوسری قوم کو لے آئے گا جو تمہارے شہروں میں تمہاری جگہ ہونگے اور تمہارے اموال میں بھی۔ وَلَاتَضُرُّوْنَہٗ (تم اس کو نقصان نہ پہنچا سکو گے) تمہارے اعراض کردینے کی وجہ سے شَیْئًا (ذ رّہ بھر) بالکل ذرا سانقصان اس لئے کہ مضار اس کو…
Read the full tafseer →تفسیر : 57” فان تولوا “ یعنی تتولوا اگر تم اس سے اعراض کرو جس کی طرف تمہیں بلاتا ہو ” فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم ویستخلف ربی قوما ً غیر کم “ تم اعراض کرتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ہلاک کر کے تمہارے بدلے دوسری قوم لے آئیں گے جو تم سے زیادہ فرمانبردار ہوگی اور اس کی توحید کی قائل اور عبادت کرے گی ۔ ” ولا تضرونہ شیئا ً “ یعنی تم اعراض کر کے اپنے آپ کا نقصان کر رہے ہو اور بعض نے کہا ہے کہ جب وہ تم کو ہلاک کر دے گا تو تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے کیونکہ تمہارا ہونا نہ ہونا اس کے ہاں براب رہے۔ ” ان ربی علی کل شی حفیظ “ یعنی ہر چیز کی حفاظت کرتا ہے وہ میری حفاظت کرے گا تم سے برائی پہنچنے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ…
Read the full tafseer →(فان تولوا) ” پس اگر تم روگردانی کرو۔ “ یعنی اگر تم اس چیز سے منہ موڑ لو جس کی طرف میں تمہیں بلاتا ہوں (فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم) ” تو تم تحقیق میں پہنچا چکا تمہیں وہ پیغام جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا “ پس میرے ذمے تمہارے معاملے میں کوئی چیز باقی نہیں۔ (ویستخلف ربی قوماً غیر کم) ” اور جانشین بنائے گا میرا رب، تمہارے علاوہ کسی اور قوم کو “ جو اس کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (ولا تضرونہ شیئا) ” اور تم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکو گے “ کیونکہ تمہارا ضرر تمہاری ہی طرف لوٹے گا۔ اہل معاصی کی معصیت اسے کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے نہ اہل اطاعت کی اطاعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
128 ۔ بندہ مومن کی قوت کا اصل راز اعتماد علی اللہ : سو حضرت ہود نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی۔ یہ ہے بندہ مومن کی قوت کا اصل راز کہ اس کا بھروسہ و اعتماد ایک اللہ وحدہ لاشریک پر ہوتا ہے جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور کارساز و مشکل کشا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس طرح بندہ مومن صرف ایک ہی در کا سوالی ہوتا ہے یعنی وہ ہر جائی نہیں یکجائی ہوتا ہے۔ اور یکجائی ہونے کے اسی ایک وصف نے اس کو اس قدر قوت بخش دی ہوتی ہے اور اس کے باطن کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا ہوتا ہے کہ اس کو پھر کسی کی کوئی پرواہ باقی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ میں جو دعوت پیش کر رہا ہوں اسے قبول نہ کرو اور کفر پر مصر رہو۔ (شوکانی) ۔
6 ۔ جب وہ ہر چیز کا نگہبان ہے تو میرا بھی نگہبان ہے۔ لہٰذا وہ یقینا تمہارے شر سے میری حفاظت فرمائے گا۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(11:57) ان تولوا فقد بلغتکم ما ارسلت بہ الیکم۔ ای فان تولوا فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم۔ اگر تم پھر روگردانی کرو تو میں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وہ تم کو پہنچا چکا ہوں۔
یستخلف۔ مضارع واحد مذکر غائب (باب استفعال) وہ جانشین بنا دیگا۔ حفیظ۔ نگہبان۔ نگہداشت کرنے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57
اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
[29] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کی مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
(ف 2) ” خدا کے اس ہمہ گیر قانون کی جانب اشارہ ہے کہ قومیں اپنے جذبہ ایمان کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں ، کوئی قوم خدا کی خاص محبوب نہیں ، وہ سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے ، اس کے نزدیک سب قومیں برابر بقاء قیام کا استحقاق رکھتی ہیں ، بقاء وفنا کے لئے اللہ تعالیٰ نے قانون وضع کردیا ہے ، جو قوم اس قانون کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے گی زندہ وکامیاب رہیگی ، جو نافرمانی کرے گی ، فناء ہوجائے گی ، اللہ کے دین میں قوموں کے عروج وزوال سے کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ، جب ایک قوم دین کی حمایت سے دستبردار ہوجاتی ہے ، اللہ دوسری قوم کو لا کھڑا کرتے ہیں جو اس کے دین کے مشن کو پورا کرتی ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرتی…
Read the full tafseer →57 پھر اگر اس صاف بیان کے بعد بھی تم دین حق سے پھرے رہو گے اور اعراض کرتے رہو گے تو میں کیا کرسکتا ہوں میں تو جو پیغام تمہارے لئے دیکر بھیجا گیا تھا وہ تم کو میں نے پہونچا دیا اور میرا کام رب تمہاری بجائے کسی اور قوم کو تمہارا قائم مقام اور جانشین کردے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے بالیقین میرا پروردگار ہر شئی پر نگہبان اور ہر چیز کی نگہداشت کرنیوالا ہے یعنی اگر تم اپنی حرکات سے باز نہ آئو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کردے گا اور تمہاری جگہ کسی اور قوم کے لئے آئے گا اور یہ نہ سمجھو کہ اس کو خبر نہیں وہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کے رسول کا کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ف 4۔ یعنی سب اس کے قبضے میں ہیں بے اس کے حکم کے کوئی کان نہیں ہلاسکتا۔
5۔ پس تم بھی اس صراط مستقیم کو اختیار کرو تاکہ مقبول ومقرب ہوجاو۔
Read the full tafseer →ہود (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم روگرداں رہے تو وہ وقت تم کو آ لے گا جس کی میں نے تم کو اطلاع دی
77 ؎ اس آیت میں ہود (علیہ السلام) نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرما دیا کہ اگر تم اسی طرح حق سے برگشتہ رہو گے تو سمجھ لو کہ جو پیغام دے کر مجھے بھیجا گیا ہے میں تم کو اپنی بساط کے مطابق پہنچا چکا ہوں اور جب تم مسلسل ہٹ دھرمی سے کام لے رہے ہو تو اب اس کے سوا کیا باقی رہ گیا ہے کہ تم پر اللہ کا قہر اور عذاب اور غصہ آجائے اور تم سب کو نیست و نابود کر کے رکھ دے اور میرا اللہ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو لے آئے اور اس سرزمین میں آباد کر دے۔ اس طرح پھر غور سے سن لو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو سراسر اپنا ہی نقصان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah.
Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
64. This is a rejoinder to the unbelievers' statement that they would in no way forsake their deities and believe in the teachings of Hud.
Read the full tafseer →