Hud 11:58

Hud · from ayah 58

11:58

وَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا ۚ— وَنَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۟وَ لَمَّا جَآءَ اَمۡرُنَا نَجَّيۡنَا هُوۡدًا وَّالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ بِرَحۡمَةٍ مِّنَّا ۚ وَ نَجَّيۡنٰهُمۡ مِّنۡ عَذَابٍ غَلِيۡظٍ

اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our command came, We saved Hud and those who believed with him, by mercy from Us; and We saved them from a harsh punishment.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:58

پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے بچا لیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ہمارا حکم عذاب آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا۔ اور ان کو عذاب شدید سے نجات دی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے مسلمان ساتھیوں کو اپنی خاص رحمت سے نجات عطا فرمائی اور ہم نے ان سب کو سخت عذاب سے بچا لیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (آخر کار) جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت کے ذریعے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو بچا لیا، اور انہیں ایک سخت عذاب سے نجات دے دی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے ہود اور اس کے ساتھ کے مسلمانوں کو اپنی رحمت فرما کر بچالیا اور انہیں سخت عذاب سے نجات دی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ہمارا حکمِ (عذاب) آپہنچا (تو) ہم نے ہود ؑ کو اور ان کے ساتھ ایمان والوں کو اپنی رحمت کے باعث بچا لیا، اور ہم نے انہیں سخت عذاب سے نجات بخشی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ نجات دی اور انھیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب ہمارا حکم (عذاب) آگیا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ اس کے ساتھ ایمان لائے تھے انھیں اپنی مرضی سے نجات دی اور سخت عذاب سے انھیں بچا لیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ہمارا عذاب آ دھمکا ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے، اپنے فضل خاص سے نجات بخشی۔ اور ہم نے ان کو ایک نہایت ہی سخت عذاب سے بچایا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (آخر کار) جب آپہنچا ہمارا حکم تو ہم نے بچا لیا ہود کو، اور ان سب لوگوں کو جو ایمان لائے تھے، آپ کے ساتھ اپنی خاص رحمت سے، اور بچا لیا ہم نے ان سب کو ایک بڑے ہی سخت عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ہمارا حکم آپہنچا ہم نے ہود ؑ کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا۔ اور ہم نے انہیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ہمارا (عذاب کا) فیصلہ آگیا تو ہم نے بچالیا ہود ؑ کو اور آپ کے اہل ایمان ساتھیوں کو اپنی رحمت سے اور ہم نے انہیں نجات دے دی ایک بہت ہی بھاری عذاب سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہمارے عذاب کا حکم آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، ان کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور انہیں شدید عذاب سے بچا لیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And when Our com-mand came to pass, We delivered Hud, together with those who shared his faith, out of special mercy from Us. We delivered them from a woeful chastisement.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, when came Our command, We saved Hud and those who believed along with him, out of mercy from Us, and We did save them from a heavy punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

So, when came Our command, We saved Hud and those who believed along with him, out of mercy from Us, and We did save them from a heavy punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our commandment came, We saved Hud and those who believed with him by a mercy from Us, and We saved them from a severe torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our commandment came to pass We saved Hud and those who believed with him by a mercy from Us; We saved them from a harsh doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our command came, We saved Hud and those who believed with him, by mercy from Us; and We saved them from a harsh punishment.

— Saheeh International

When Our decree (of destroying them) was fulfilled, We mercifully saved Hud and his believing followers. We saved them from the intense torment.

— Muhammad Sarwar

And when Our decree came to pass, We delivered Hud and those who believed with him with mercy from Us, and We delivered them from a hard chastisement.

— Muhammad Habib Shakir

And then when Our decree came to pass, We delivered Hud and these who believed with him by a mercy from us; and We delivered them: from a torment rough.

— Abdul Majid Daryabadi

So when Our decree issued, We saved Hud and those who believed with him, by (special) Grace from Ourselves: We saved them from a severe penalty.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 57–60

ہود ؑ کا قوم کو جواب حضرت ہود ؑ فرماتے ہیں کہ اپنا کام تو میں پورا کرچکا، اللہ کی رسالت تمہیں پہنچا چکا، اب اگر تم منہ موڑ لو اور نہ مانو تو تمہارا وبال تم پر ہی ہے نہ کہ مجھ پر۔ اللہ کو قدرت ہے کہ وہ تمہاری جگہ انہیں دے جو اس کی توحید کو مانیں اور صرف اسی کی عبادت کریں۔ اسے تمہاری کوئی پرواہ نہیں، تمہارا کفر اسے کوئی نقصان نہیں دینے کا بلکہ اس کا وبال تم پر ہی ہے۔ میرا رب بندوں پر شاہد ہے۔ ان کے اقوال افعال اس کی نگاہ میں ہیں۔ آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ خیر و برکت سے خالی، عذاب و سزا سے بھری ہوئی آندھیاں چلنے لگیں۔ اس وقت حضرت ہود ؑ اور آپ کی جماعت مسلمین اللہ کے فضل و کرم اور اس کے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 57–58

سورة هُوْد 64 یہ ان کی اس بات کا جواب ہے کہ ہم تجھ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–61

اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔ صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا ۚ وَنَجَّيْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ۔ قوم عاد کے عذاب کی نوعیت : " امر " سے مراد یہاں وہ عذاب ہے جو امر الٰہی کے تحت ظہور میں آیا۔ اس عذاب کی نوعیت کیا تھی ؟ اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں ہے۔ ہمارے استاذ مولانا فراہی نے سورة ذاریات کی تفسیر میں اس کی نوعیت پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ اس بحث کی تمہید مولانا نے یوں اٹھائی ہے۔ " قرآن مجید میں قوم عاد کی ہلاکت کی جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان پر جو شخص غور کرے گا اس سے حقیقت مخفی نہیں رہ سکتی کہ وہ تند ہوا کے ذریعے سے ہلاک کیے گئے جس کے ساتھ سرما کے وہ بادل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

58۔ 1 سخت عذاب سے مراد وہی الرِّ یْحَ الْعَقِیْمَ تیز آندھی کا عذاب ہے جس کے ذریعے سے حضرت ہود ؑ کی قوم عاد کو ہلاک کیا گیا جس سے حضرت ہود ؑ اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 58–60

34: حکم سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا عذاب ہے۔ جیسا کہ سورة اعراف میں عرض کیا گیا، ان پر تیز آندھی اور ہوا کا طوفان بھیجا گیا تھا۔ یہ قد و قامت کے اعتبار سے غیر معمولی قوم تھی، لیکن اس عذاب کے نتیجے میں ان کی ساری قوت دھری رہ گئی اور پوری قوم تباہ ہوگئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–60

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی سات رات اور آٹھ دن مسلسل آندھی کا طوفان آیا جیسا کہ سورة " اعراف " میں ہم ذکر کرچکے ہیں۔ مکان گرگئے چھتیں اڑ گئیں، درخت جڑ سے اکھڑ کر کہیں کے کہیں جا پڑے۔ ہوا ایسی مسموم تھی کہ آدمیوں کی ناک میں داخل ہو کر نیچے سے نکل جاتی اور جسم کو پارہ پارہ کر ڈالتی تھی۔ اس ہولناک عذاب سے ہم نے ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو جو آخر میں چار ہزار تک پہنچ گئے تھے بالکل محفوظ رکھا اور ایمان و عمل صالح کی بدولت آخرت کے بھاری عذاب سے بھی ان کو نجات دے دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 56–58

مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

66 قوم ثمود پر عذاب :۔ ان پر تند و تیز اور نہایت ٹھنڈی آندھی کا عذاب آیا تھا یہ آندھی اتنی تیز رفتار اور ہولناک تھی کہ اس میں انسان اور درخت اڑتے چلے آتے تھے۔ درختوں کو توڑ دیتی اور بعض کمزور چھتوں کو اڑا دیتی تھی۔ پھر یہی چیزیں ایک دوسرے سے ٹکرا ٹکرا کر پارہ پارہ اور تباہ و برباد ہو رہی تھیں پھر اس آندھی میں شدید ٹھنڈک مستزاد تھی اور یہ آندھی مسلسل آٹھ دن اور سات راتیں چلتی رہی جس نے ان کے گھروں میں داخل ہو کر انھیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا۔ عذاب آنے سے پیشتر اللہ تعالیٰ نے ہود کو وحی کردی تھی کہ وہ اور ان کے ساتھی فلاں احاطہ میں جاکر محصور ہوجائیں۔ اس طرح ایمان لانے والوں کو اللہ نے اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

87۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” جآء امرنا “۔ یعنی اس قوم کی ہلاکت کا حکم آپہنچا۔ (آیت) ” نجینھم من عذاب غلیظ “۔ عذاب ہلاکت سے بچ جانے کا ذکر تو ابھی ابھی اس آیت کے اندر آچکا ہے۔ اس نجات عذاب غلیظ سے مراد آخرت کے عذاب سخت سے نجات پانا۔ فالمراد من النجاۃ الاولیھی النجاۃ من عذاب الدنیا والنجاۃ الثانیۃ من عذاب القیامۃ (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–60

آیت نمبر 50 تا 60 ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولما جاء امرنا نجینا ھودًا والذین امنوا معہ برحمۃ منا ونجینھم من عذاب غلیظ اور جب ہمارا حکم (یعنی عذاب کا حکم یا عذاب) آپہنچا تو ہم نے ہود کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والے مؤمنوں کو اپنی مہربانی کے ساتھ بچا لیا اور سخت عذاب سے بچا لیا۔ یعنی ان کے اعمال کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اپنی رحمت سے ان کو محفوظ رکھا۔ یا رحمت سے مراد ہے ایمان ‘ یعنی ہم نے جو ایمان ان کو عطا کیا تھا ‘ اس کی وجہ سے ان کو محفوظ رکھا۔ مؤمنوں کی کل تعداد چار ہزار تھی۔ عذاب غلیظ سے مراد ہے طوفان جس سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) اور جب ہمارے عذاب آیا تو ہم نے اپنی مہربانی سے حضرت ہود ؑ اور ان کے ساتھ جو اہل ایمان تھے انکو بہت ہی سخت عذاب سے بچا لیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا هُوْدًا۔۔ : ہمارے حکم سے مراد عذاب کا حکم ہے، اس کی تفصیل سورة احقاف، سورة حاقہ، سورة قمر اور دوسری سورتوں میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر شدید ہوا کی تیز و تند اور سرکش آندھی بھیجی، جو ان پر سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلی اور اس نے کفار میں سے ایک بھی متنفس کو باقی نہ چھوڑا۔ دیکھیے سورة حاقہ (6 تا 8) یہ تو دنیا کا عذاب تھا، آخرت میں ان کے لیے اس سے بھی سخت عذاب ”عَذَابٍ غَلِيْظٍ“ تیار ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہود ؑ اور ان کے ہمراہ ایمان لانے والوں کو ان دونوں عذابوں سے بچا لیا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی خوف ناک آندھی جب چلتی ہے تو وہ مومن و کافر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–60

آیت نمبر 50 تا 60 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–60

حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت : 1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔ 2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔ 3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَمَا : اور جب ] [ جَاۗءَ : آیا ] [اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [نَجَّيْنَا : ہم نے نجات دی ] [هُوْدًا : ہود (علیہ السلام) کو ] [وَّالَّذِينَ : اور ان کو جو ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [مَعَهٗ : ان کے ساتھ ] [بِرَحْمَةٍ : ایک رحمت سے ] [مِّنَا ۚ : ہماری طرف سے ] [وَنَجَّيْنٰهُمْ : اور ہم نے نجات دی ان کو ] [مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ : ایک سخت عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–60

قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–68

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

55:۔ آخر قوم ہود پر اللہ کا عذاب آگیا ساری قوم ہلاک ہوئی۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اور جو لوگ ان پر ایمان لا چکے تھے اللہ نے ان کو ایمان کی بدولت اور اپنی رحمت سے بچا لیا اور عذاب سے محفوظ رکھا۔ وَتِلْکَ عَادٌ الخ : اس سے چونکہ مشرکین مکہ کو سمجھانا مقصود ہے اور قوم عاد کا واقعہ ان کے ذہنوں میں آچکا ہے اس لیے تِلکَ سے اس قصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اسم اشارہ ہمیشہ محسوس مبصر کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اکثر معہود فی الذہن کے لیے ہوتا ہے جیسا کہ یہاں کیونکہ آنحضرت ﷺ سے سینکڑوں برس پہلے قوم عاد تباہ و برباد ہوچکی تھی اور خارج میں ان کا کوئی وجود نہ تھا مگر اس کے باوجود تَلْکَ سے ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–60

ربط آیات اس سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کے سامنے تقریر ، ان کی نصیحت وعظ ، تبلیغ اور اس ضمن میں کی جانے والی محنت اور کوشش کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ نے آپ کی قوم کی نافرمانی اور سرکشی کا ذکر بھی فرمایا۔ قوم ہود کا ذکر قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں آیا ہے۔ سورة احقاف میں آپ کا بیان ہے اور سورة اعراف میں زیادہ تفصیل ہے۔ وہاں پر کفر و شرک کی مختلف باتوں کا تذکرہ ہے ان لوگوں نے مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مختلف معبود بنا رکھے تھے۔ ہود علیہالسلام کی تبلیغ کے جواب میں قوم نے آپ کو بیوقوف کہا ، یہاں بھی گزر چکا ہے کہ وہ کہتے تھے ، اے ہود ! تمہارا دماغ خراب ہو یا ہے اور تم پر ہمارے معبودوں کی مار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَمَّا جَاۗءَ اَمْرُنَا نَجَّيْنَا ہُوْدًا وَّالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا۝ 0 ۚ وَنَجَّيْنٰہُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِيْظٍ۝ 58 لَمَّا يستعمل علی وجهين : أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر . ( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا ھُوْدًاوَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا ج وَنَجَّیْنٰھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ ۔ (سورۃ ہود : 58) (اور جب آگیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دے دی ہود کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی رحمت کے سبب سے۔ اور ہم نے انھیں سخت عذاب سے نجات دے دی۔ ) اللہ تعالیٰ کا عذاب حضرت ہود (علیہ السلام) کی آخری تنبہہ بھی جب انھیں عقل کے ناخن لینے پر آمادہ نہ کرسکی تو آخر اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق اپنے رسول اور ان پر ایمان لانے والوں کو اس عذاب سے محفوظ رکھا اور باقی پوری قوم کو تباہ کردیا گیا۔ یہ تو معلوم نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–60

فہم القرآن ربط کلام : قوم ھود کا انجام۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اس قوم کا انجام ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے ان میں رسول بھیجا۔ جس نے انہیں فرمایا کہ ایک اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ لیکن قوم کے سرداروں نے اس بات کا انکار کیا اور آخرت کو جھٹلایا۔ مال دار طبقے نے کہا یہ تو تمہارے جیسا ہی انسان ہے۔ جو تم کھاتے پیتے ہو یہ بھی وہی کچھ کھاتا پیتا ہے۔ سردار اپنے اپنے قبیلوں کو کہنے لگے کہ اگر تم نے اپنے جیسے انسان کی پیروی کی تو یاد رکھو تم بڑا نقصان پاؤ گے۔ ھود تمہیں یہ کہہ کر ڈراتا ہے کہ تم مر کر بوسیدہ ہڈیوں اور مٹی میں تبدیل ہوجاؤ گے۔ پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عذاب کی آمد اور ایمان والوں کی نجات : 58: وَلَمَّا جَآئَ اَمْرُ نَا نَجَّیْنَا ھُوْدًا وَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ (جب ہمارا عذاب والا حکم آگیا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) اور وہ لوگ جو ان پر ایمان لائے تھے نجات دی) ان کی تعداد چار ہزار تھی۔ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا (اپنی مہربانی سے) نہ کہ ان کے علم کے سبب یا نمبر 2۔ ایمان کے ذریعہ ہم نے ان پر انعام کیا وَنَجَّیْنٰھُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ (ہم نے ان کو سخت عذاب سے نجات دی) نجیناکو دوبارہ تاکید کیلئے لائے۔ نمبر 2۔ آخرت کے عذاب سے اور آخرت کے عذاب سے زیادہ کوئی عذاب سخت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

58” ولماء جاء امرنا “ جب ہمارا عذاب ” نجینا ھود ا والذین امنوا معہ “ یہ چار ہزار لوگ تھے۔ ” برحمۃ “ نعمت کے ساتھ ” منا ونجینا ھم من عذاب غلیظ “ یہ وہ ہوا ہے جس سے قوم عاد کو ہلاک کیا اور بعض نے کہا ہے کہ عذاب غلیظ قیامت کے دن کا عذاب ہے ، یعنی جس طرح ہم نے ان کو دنیا میں عذاب سے نجات دی اسی طرح ان کو آخرت میں نجات دیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–60

54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ولما جاء امرنا) ” اور جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی جب نا مبارک ہوا کی صورت میں ہمارا عذاب آیا۔ (ما تذرمن شئی اتت علیہ الا جعلتہ کالرمیم) ” جس چیز پر بھی وہ چلتی تھی اسے بوسیدہ ہڈی کی مانند ریزہ ریزہ کئے دیتی تھی۔ “ (نجینا ھوداً والذین امنو معہ برحمۃ منا ونجینھم من عذاب غلیظ) ” تو ہم نے اپنی رحمت سے ہود اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور ہم نے ان کو سخت عذاب سے بچا لیا “ یعنی نہایت عظیم عذاب جسے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد پر نازل فرمایا۔ اس عذاب نے ان کی یہ حالت کردی کہ ان کے مساکن کے سوا کچھ نظر نہ آتا تھا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–60

ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 56–58

128 ۔ بندہ مومن کی قوت کا اصل راز اعتماد علی اللہ : سو حضرت ہود نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی۔ یہ ہے بندہ مومن کی قوت کا اصل راز کہ اس کا بھروسہ و اعتماد ایک اللہ وحدہ لاشریک پر ہوتا ہے جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور کارساز و مشکل کشا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس طرح بندہ مومن صرف ایک ہی در کا سوالی ہوتا ہے یعنی وہ ہر جائی نہیں یکجائی ہوتا ہے۔ اور یکجائی ہونے کے اسی ایک وصف نے اس کو اس قدر قوت بخش دی ہوتی ہے اور اس کے باطن کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا ہوتا ہے کہ اس کو پھر کسی کی کوئی پرواہ باقی نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–60

آیات 50 تا 60 اسرار و معارف تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ دین کی تبلیغ اور اجرت اب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 58–59

ف 7 ۔ انہوں نے اگرچہ ہود ( علیہ السلام) ہی کی نافرمانی کی، لیکن چونکہ ایک پیغمبر ﷺ کی نافرمانی تمام پیغمبروں کی نافرمانی ہے اس لئے فرمایا کہ انہوں نے ” اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔ (شوکانی) ۔ 8 ۔ ” عنید “ ہر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو نہ حق کو قبول کرے اور نہ اس کا مطیع ہو۔ مراد قوم کے سردار ہیں۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 57–58

(11:57) ان تولوا فقد بلغتکم ما ارسلت بہ الیکم۔ ای فان تولوا فقد ابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم۔ اگر تم پھر روگردانی کرو تو میں جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وہ تم کو پہنچا چکا ہوں۔ یستخلف۔ مضارع واحد مذکر غائب (باب استفعال) وہ جانشین بنا دیگا۔ حفیظ۔ نگہبان۔ نگہداشت کرنے والا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–60

لغات القرآن آیت نمبر 58 تا 60 امرنا (ہمارا حکم، ہمارا فیصلہ ) غلیظ (سخت) جحدوا (انہوں نے انکار کیا) عصوا (انہوں نے انکار کیا) عصوا (انہوں نے نافرمانی کی، کہا نہ مانا) اتبعوا (وہ پیچھے لگ گئے۔ انہوں نے اتباع کی) اتبعوا (وہ پیچھے لگ گئے، انہوں نے اتباع کی) جبار (زبردست، ضدی) عنید (ہٹ دھرم لوگ) اتبعوا (پیچھے لگا دی گئی) لعنۃ (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری ) تشریح : آیت نمبر 58 تا 60 گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ” قوم عاد “ کے واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ” قوم عاد “ جو کئی ہزار کی تعداد میں تھے اور دنیاوی اعتبار سے خوش حال اور جسمانی لحاظ سے نہایت مضبوط واقع ہوئے تھے جب انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–60

حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 57–58

[29] مطلب یہ ہے کہ اللہ جلد باز نہیں ہے اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ جس وقت رسول کی دعوت کسی شخص یا گروہ کو پہنچی اور اس نے اس کو ماننے سے انکار کیا یا ماننے میں تامل کیا اس پر فوراً عذاب کا فیصلہ نافذ کردیا گیا۔ اس کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر فرد کو اس کی انفرادی حیثیت کے مطابق اور ہر گروہ کو اس کی اجتماعی حیثیت کے مطابق سوچنے سنبھلنے کے لئے کافی وقت دیتا ہے اور اس بات کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کو کتنی مہلت ملنی چاہئے۔ پھر وہ مہلت جب پوری ہوجاتی ہے اور وہ شخص یا گروہ اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتا تب اللہ تعالیٰ اس پر عذاب کا فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ یہ فیصلے کا وقت اللہ کی مقرر کردہ مدت سے نہ ایک…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 57–59

(ف 2) ” خدا کے اس ہمہ گیر قانون کی جانب اشارہ ہے کہ قومیں اپنے جذبہ ایمان کی وجہ سے زندہ رہتی ہیں ، کوئی قوم خدا کی خاص محبوب نہیں ، وہ سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے ، اس کے نزدیک سب قومیں برابر بقاء قیام کا استحقاق رکھتی ہیں ، بقاء وفنا کے لئے اللہ تعالیٰ نے قانون وضع کردیا ہے ، جو قوم اس قانون کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے گی زندہ وکامیاب رہیگی ، جو نافرمانی کرے گی ، فناء ہوجائے گی ، اللہ کے دین میں قوموں کے عروج وزوال سے کوئی خلل واقع نہیں ہوتا ، جب ایک قوم دین کی حمایت سے دستبردار ہوجاتی ہے ، اللہ دوسری قوم کو لا کھڑا کرتے ہیں جو اس کے دین کے مشن کو پورا کرتی ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرتی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

58 اور جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا اور تیزہوا کا عذاب نازل ہوا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور اس کے ہمراہی مسلمانوں کو اپنی رحمت اور عنایت سے بچالیا یعنی جو بھی تھوڑے بہت مسلمان ایمان لائے تھے وہ اور ہود (علیہ السلام) عذاب غلیط سے بچا لئے گئے ظاہر ہے کہ منکر سب ہلاک ہوگئے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ گاڑھی مار وہی جو دنیا میں آئی یا آخرت کے عذاب سے 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 56–58

ف 4۔ یعنی سب اس کے قبضے میں ہیں بے اس کے حکم کے کوئی کان نہیں ہلاسکتا۔ 5۔ پس تم بھی اس صراط مستقیم کو اختیار کرو تاکہ مقبول ومقرب ہوجاو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جب عذاب کا موعود وقت آیا تو ہود (علیہ السلام) کو مع ان کے لوگوں کے بچالیا گیا 78 ؎ عاد قوم کی ہلاکت کا وقت جب قریب آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت اور قانون مشیت کے مطابق اپنے پیغمبر سیدنا ہود (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو بچالیا وہ اس طرح کہ جب عذاب کا موعود وقت قریب آیا تو ہود (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو ہجرت کا حکم دے دیا اور اس علاقہ سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا لہٰذا ہود (علیہ السلام) مع اپنے ساتھ ایمان لانے والوں کے اس سرزمین سے نکل کر کسی دوسری جانب چلے گئے اور آپ (علیہ السلام) کے نکل جانے کے بعد طوفان برق باد اس تیزی سے آیا کہ ان سب کو نیست و نابود کر کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–61

After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah. Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 57–58

64. This is a rejoinder to the unbelievers' statement that they would in no way forsake their deities and believe in the teachings of Hud.

Read the full tafseer →