Explained with ayahs 53–56
قوم ہود کے مطالبات
قوم ہود نے اپنے نبی ﷺ کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔ یہ سن کر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 62
یہ ان کے اس فقرے کا جواب ہے کہ ہمارے معبودوں کی تجھ پر مار پڑی ہے (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو یونس، آیت 71)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔
صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…
Read the full tafseer →اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللّٰهِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔
مومن کی ڈھال توکل : یہ ہے مون و موحد کی وہ ڈھال جس کے بل پر حضرت ہود نے مذکورہ بالا چیلنج دیا۔ فرمایا کہ میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا رب بھی ہے اور تمہاری بھی۔ مجال نہیں ہے کہ اس کے اذن کے بغیر کسی کو کوئی گزند پہنچا سکے۔ مامن دابۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا۔ کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جو اس کے قبضہ قدرت سے باہر ہو۔ سب کی پیشانی اس کی مٹھی میں ہے۔ وہ جس کو جدھر چاہے اس کی چوٹی پکڑ کر موڑ دے اور جہاں چاہے روک لے۔ ان ربی علی صراط مستقیم، اور یہ نہ…
Read the full tafseer →56۔ 1 یعنی جس ذات کے ہاتھ میں ہر چیز کا قبضہ و تصرف ہے، وہی ذات ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے میرا توکل اسی پر ہے۔ مقصد ان الفاظ سے حضرت ہود ؑ کا یہ ہے کہ جن کو تم نے اللہ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے ان پر بھی اللہ ہی کا قبضہ و تصرف ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ جو چاہے کرسکتا ہے، وہ کسی کا کچھ نہیں کرسکتے۔
56۔ 2 یعنی وہ جو توحید کی دعوت دے رہا ہے یقیناً یہ دعوت ہی صراط مستقیم ہے اس پر چل کر نجات اور کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہو اور اس صراط مستقیم سے اعراض انحراف تباہی و بربادی کا باعث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
33: اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے سیدھا راستہ مقرر کردیا ہے، اور اسی پر چلنے سے خدا ملتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
6 یعنی وہ بےچاری پتھر کی مورتیں تو مجھے کیا گزند پہنچا سکتیں، تم سب جو بڑے شہ زور، تنو مند اور طاقتور نظر آتے ہو اپنے دیوتاؤں کی فوج میں بھرتی ہو کر اور مجھ جیسے یکہ و تنہا پر پوری قوت سے بیک وقت ناگہاں حملہ کر کے بھی میر ابال بیکا نہیں کرسکتے۔ سنو میں خدا کو گواہ بنا کر اعلان کرتا ہوں اور تم سب بھی اس پر گواہ رہو کہ میں تمہارے جھوٹے دیوتاؤں سے قطعا بیزار ہوں۔ تم سب جمع ہو کر جو برائی مجھے پہنچا سکتے ہو پہنچاؤ نہ ذرا کوتاہی کرو نہ ایک منٹ کی مجھے مہلت دو ۔ اور خوب سمجھ لو کہ میرا بھروسہ خدائے وحدہ ' لاشریک لہ ' پر ہے جو میرا رب ہے اور وہی تمہارا بھی مالک و حاکم ہے۔ گو بد فہمی سے تم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا
یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضور سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں : فِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ 1 یعنی اے اللہ ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں ‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔
Read the full tafseer →63 یعنی ہر جاندار کی ہر حرکت اور ہر فعل کی باگ ڈور اللہ کے قبضہ اختیار میں ہے۔ کوئی جاندار اللہ کے تصرف اور اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا وہ جب چاہے اسے سزا بھی دے سکتا ہے اور موت سے بھی دو چار کرسکتا ہے۔
64 رب کے صراط مستقیم کا مطلب :۔ اس بےپناہ تصرف کے باوجود اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کے صراط مستقیم پر ہے کہ وہ کسی پر کبھی زیادتی اور ظلم نہیں کرتا۔ البتہ بسا اوقات اپنے بندوں کی خطاؤں کو معاف ضرور کردیتا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی بتلائی ہوئی سیدھی راہ پر گامزن ہیں اللہ ہر وقت ان کے ساتھ ہوتا ہے اور ہر آن ان کی حفاظت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
85۔ یعنی وہی صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور وہ ملتا بھی صراط مستقیم پر چلنے سے ہے حضرت ہود (علیہ السلام) کی ساری تقریر توحید کے ایک مبلغ وداعی کے لیے ہمیشہ کے لیے نمونہ ہے۔ (آیت) ” الا ھو اخذ بنا صیتھا “۔ یعنی سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں کہ کوئی بے اس کے حکم کے کان نہیں ہلا سکتا۔ ای ما من حیوان الا ھو تحت قھرہ وقدرتہ ومنقاد لقضاۂ وقدرہ (کبیر) واعلم ان العرب اذا وصفوا انسانا بالذلۃ والخضوع قالوا ما ناصیۃ فلان الابیدفلان ای انہ مطیع لہ فخوطبوا فی القران بما یعرفون (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →انی توکلت علی اللہ ربی وربکم ما من دابۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا مجھے بلاشک و شبہ اللہ پر اعتماد ہے جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ ہر جاندار کو اللہ پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے ہے۔ یعنی ہر جاندار اس کے پورے قابو میں ہے ‘ اس کی قدرت و قابو کے آگے عاجز و ذلیل ہے۔ وہی جیسا چاہتا ہے ‘ تصرف کرتا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ ناصیہ کا لفظ خصوصیت کے ساتھ اسلئے ذکر کیا گیا کہ اگر کسی چیز کی ذلت و بےبسی کا اظہار کرنا ہوتا ہے تو عرب کہتے ہیں : فلاں شخص کے پیشانی کے بال فلاں شخص کے ہاتھ میں ہیں (جس طرف کو چاہے موڑ دے۔ اردو میں پیشانی کے بالوں کی جگہ گردن کا لفظ بولا جاتا ہے : فلاں شخص کی گردن فلاں شخص کے ہاتھ…
Read the full tafseer →(56) میں نے اپنے تمام معاملات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا ہے جو میرا بھی خالق ہے اور تمہارا بھی اور میرا بھی رازق ہے اور تمہارا بھی، جتنے روئے زمین پر چلنے والے ہیں سب کی دور اس کے ہاتھ میں ہے، وہی موت، وحیات دیتا ہے یا یہ کہ تمام چیزیں اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جو چاہتا ہے سو کرتا ہے یقیناً میرا رب صراط مستقیم پر چلنے سے ملتا ہے یا یہ کہ وہ مخلوق کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے جو اس کے نزدیک پسندیدہ راستہ ہے اور وہ دین اسلام ہے۔
Read the full tafseer →اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللّٰهِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ : یہ جرأت ہود ؑ میں کیسے پیدا ہوئی ؟ وہ خود فرماتے ہیں کہ میرا بھروسا اللہ پر ہے، جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔
مَا مِنْ دَاۗبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِهَا : ”نَاصِیَۃٌ“ پیشانی کے بالوں کو کہتے ہیں، اگر کسی کو یہاں سے اچھی طرح پکڑ لیا جائے تو وہ ہل نہیں سکتا، بلکہ پوری طرح پکڑنے والے کی گرفت میں ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَنَسْفَعًۢا بالنَّاصِيَةِ) [ العلق : 15 ] ”تو ہم ضرور اسے پیشانی کے بالوں کے ساتھ گھسیٹیں گے۔“ مجرموں کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنی علامت کے ساتھ پہچانے جائیں گے : (فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[انى : بیشک میں نے ] [تَوَكَّلْتُ : بھروسہ کیا ] [عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر ] [رَبِيْ : جو میرا رب ہے ] [وَرَبِكُمْ : اور تمہارا رب ہے ] [مَا : نہیں ہے ] [مِنْ دَاۗبَّةٍ : کوئی بھی چلنے والا ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [هُوَ : وہ ] [اٰخِذٌۢ: پکڑنے والا ہے ] [بِنَاصِيَتِهَا : اس کی پیشانی کو ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : ایک سیدھی راہ پر ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →53: اس کی متعدد ترکیبیں ہیں۔ عَلٰی کا متعلق فعل محزوف ہے ای یدل اور صراط مستقیم سے توحید مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ دین توحید کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ یا صراط مستقیم سے مطلقاً حق مراد ہے یا عدل و انصاف اور عَلیٰ کا متعلق کائن وغیرہ محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق اور سچائی پر ہے وہ اس سے کبھی بھی عدول نہیں فرماتا۔ یا وہ اگرچہ قادر مطلق ہے لیکن پھر بھی مجرموں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق جزاء و سزا دیتا ہے۔ یا رَبِّیْ سے پہلے مضاف محذوف ہے ای دین ربی یعنی میرے رب کا دین صراط مستقیم ہے۔ ان ربی علی الحق لا یعدل عنہ او ان ربی یدل علی صراط مستقیم (مدارک ج 2 ص 148) یعنی ان ربی و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
ربط آیات
کل کے درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر اور قوم کی نصیحت کا پہلا حصہ بیان ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ حاجت روا ، مشکل کشا ، نافع اور ضار ، علیم کل ، محیط کل اور متصرف اس کے سوا کوئی نہیں۔ آپ نے قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس پر افتراء باند ھ رہے ہو۔ پھر ہود (علیہ السلام) نے اپنی بےلوث خدمت کا ذکر بھی کیا کہ میں اس وعظ ونصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سامنے استغفار اور توبہ کرو ، وہ تم پر مہربانی فرمائے گا ، تمہیں…
Read the full tafseer →اِنِّىْ تَوَكَّلْتُ عَلَي اللہِ رَبِّيْ وَرَبِّكُمْ 0ۭ مَا مِنْ دَاۗبَّۃٍ اِلَّا ہُوَاٰخِذٌۢ بِنَاصِيَتِہَا 0ۭ اِنَّ رَبِّيْ عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ 56
وكل
والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال :
تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51]
( و ک ل) التوکل ( تفعل )
اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →اِنِّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیْ وَرَبِّکُمْ ط مَا مِنْ دَآبَّۃٍ اِلاَّ ھُوَ اٰخِذٌ م بِنَا صِیَتِھَا ط اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (سورۃ ہود : 56)
(بیشک میں نے بھروسہ کیا ہے اس اللہ پر جو میرا بھی رب ہے اور تمہارے بھی رب ہے۔ کوئی جاندار بھی ایسا نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے پکڑا ہوا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے۔ بیشک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔ )
مومن کا اصل سہارا
میں جس طرح بےخوف ہو کر تمہارے سامنے اللہ کا دین پیش کررہا ہوں اور تمہاری دھمکیوں کے مقابلے میں استقامت کا ثبوت دے رہا ہوں اور نہ میں تمہاری طاقت کو خاطر میں لاتا ہوں اور نہ تمہارے معبودوں کو۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تیسرا جواب۔
قوم نے جب کھلے الفاظ میں بار بار یہ کہا کہ ہم تجھ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور تمہاری دعوت کو دعوت حق سمجھنے کی بجائے اپنے بزرگوں کی بددعا اور ان کی سزا کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ تو حضرت ھود (علیہ السلام) نے یکے بعد تین جواب دئیے۔
1۔ میں اللہ اور تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میرا تمہارے شرک کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں۔
2۔ میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرگزرو۔ میرا اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہے، وہی میری حفاظت کرے گا۔
3۔ اگر تم نے واقعی مجھ سے دور رہنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو یاد رکھو میں نے اپنے رب کا پیغام ٹھیک ٹھیک طریقہ سے…
Read the full tafseer →56: اِنّیْ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ رَبِّیْ وَرَبِّکُمْ مَامِنْ دَآبَّۃٍ اِلَّا ھُوَ اٰخِذٌم بِنَاصِیَتِھَا (بیشک میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا جو میرا اور تمہارا رب ہے کوئی جاندارایسا نہیں مگر وہ اسکی پیشانی کے بالوں سے پکڑنے والا ہے) اس کا مالک ہے جب ہود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ پر اپنے توکل اور اسکی حفاظت پر یقین اور ان کے مکر سے حفاظت کا ذکر کیا تو اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات کا ذکرلائے جو اسکی ذات پر توکل کو لازم کرتا ہے جیسے اسکی ربوبیت جو اس پر اور ان کو شامل ہے اور ہر جاندار پر اسکاقبضہ اور ملک اور اسکی قوت قاہرہ اور سلطانی کے سامنے ہر ایک کی مغلوبیت الاٰخذبالناصیۃ یہ درحقیقت ایک…
Read the full tafseer →56۔ ” انی توکلت “ میں نے اعتماد کیا ” علی اللہ ربی و ربکم ما من دابۃ الا ھو آخذ بنا صیتھا “۔
ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو زندہ کرنے والا اور موت دینے والا ۔ فراء (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا مالک اور اس پر قادر اور بعض علماء رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی پیشانی کو پکڑا ہوا ہے کہ وہ صرف اسی طرح متوجہ ہوتا ہے جو وہ اس کے دل میں ڈالتا ہے اور قتیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس پر غالب ہے اس لیے کہ جو کسی کی پیشانی پکڑ لے وہ اس پر غالب ہوجاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ناصیہ کو ذکر کیا ہے اس لیے کہ عرب جب کسی انسان کی ذلت کو بیان کرنا چاہتے ہیں تو ناصیۃ کا لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ مثلاً کہتے ہیں ” ناصیۃ فلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ…
Read the full tafseer →(انی توکلت علی اللہ ) ” میں نے اللہ پر توکل کیا۔ “ یعنی میں نے اپنے تمام معاملے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا۔ (ربی وربکم ) ” جو میرا اور تمہارا رب ہے “ یعنی وہ تمام موجودات کا خالق ہے، وہی ہے جو ہماری اور تمہاری تدبیر کرتا ہے اور وہی ہے جس نے ہماری تربیت کی (ما من دابۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا) ” جو چلنے پھرنے والا ہے وہ اس کو چوٹی سے پکڑے ہوئے ہے۔ “ یعنی کوئی جان دار اس کے حکم کے بغیر حرکت کرتا ہے نہ ساکن ہوتا ہے اگر تم سب مل کر مجھے کسی مصیبت میں مبتلا کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ تمہیں مجھ پر مسلط نہ کرے، تو تم اپنی کوشش میں کامیاب نہیں ہوسکتے اور اگر وہ تمہیں مجھ پر مسلط کر دے تو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
128 ۔ بندہ مومن کی قوت کا اصل راز اعتماد علی اللہ : سو حضرت ہود نے ان سے کہا کہ میں نے اللہ ہی پر بھروسہ کر رکھا ہے جو کہ رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی۔ یہ ہے بندہ مومن کی قوت کا اصل راز کہ اس کا بھروسہ و اعتماد ایک اللہ وحدہ لاشریک پر ہوتا ہے جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور کارساز و مشکل کشا ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور اس طرح بندہ مومن صرف ایک ہی در کا سوالی ہوتا ہے یعنی وہ ہر جائی نہیں یکجائی ہوتا ہے۔ اور یکجائی ہونے کے اسی ایک وصف نے اس کو اس قدر قوت بخش دی ہوتی ہے اور اس کے باطن کو اتنا قوی اور مضبوط کردیا ہوتا ہے کہ اس کو پھر کسی کی کوئی پرواہ باقی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یعنی جو سیدی راہ پر چلے وہ اس سے ملے۔ (موضح) ۔ یا یہ کہ گو ہر جاندار پر اس کا قبضہ ہے اور وہ اس کے ساتھ جو سلوک کرنا چاہے کرسکتا ہے مگر وہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ (ابن کثیر) ۔
Read the full tafseer →(11:56) ھو۔ ای اللہ۔ اخذ بناصی تھا۔ پکڑنے والا ہے اسے پیشانی کے بالوں سے پکڑے ہوئے اس کو اس کی چوٹی سے۔ یعنی وہ سب پر قدرت رکھتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے اس پر اپنا تصرف رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57
اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) ” اخذبنا صیتھا “۔ اصل میں تمثیل ہے تسخیر مخلوقات کی یعنی تمام کائنات اس طرح اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے جس طرح کسی جاندار کو سر سے پکڑ رکھا ہو ،
(آیت) ” ان ربی علی صراط مستقیم “۔ سے غرض یہ ہے کہ خدا جس راہ کی جانب اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے حق وصداقت کی رہی راہ ہے ۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ قوم دشمن ہے اور نقصان پہنچانا چاہتی ہے تو آپ نے پورے صبر اور استقلال سے مقابلہ کیا ، دعوت وتذکیر کے عمل کو جاری رکھا اور کہا میں تمہاری شرارتوں سے ڈرتا نہیں اللہ پر میرا بھروسہ ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے ۔
بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو چونکہ اپنی صداقت پر یقین…
Read the full tafseer →56 یقینا میں نے تو اس اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر رکھا ہے جو میرا بھی مالک ہے اور تمہارا بھی مالک ہے جتنے بھی روئے زمین پر چلنے والے ہیں ان سب کی چوٹی اس کے ہاتھ میں ہے اور ان کی پیشانی کے بال اس نے پکڑ رکھے ہیں بلا شبہ میرا پروردگار سیدھی راہ پر ہے یعنی جو کچھ تم سے کیا جائے وہ تم بھی اور تمہارے بت بھی میرے ساتھ کر گزرو میں نے تو اللہ تعالیٰ پر توکل کر رکھا ہے جس کا ہر ذی روح پر قبضہ ہے پیشانی کے بال جب کسی کے پکڑ لئے جائیں تو مراد اس سے قبضہ ہوتا ہے یہ بھی نبوت کی ایک دلیل ہے کہ ایک اکیلا شخص تمام قوم کو چیلنج کردے نبی کے علاوہ کون ایسا کرسکتا ہے سیدھی راہ اسلام ہی کی راہ ہے اس پر چلنا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
ف 4۔ یعنی سب اس کے قبضے میں ہیں بے اس کے حکم کے کوئی کان نہیں ہلاسکتا۔
5۔ پس تم بھی اس صراط مستقیم کو اختیار کرو تاکہ مقبول ومقرب ہوجاو۔
Read the full tafseer →میرا کار ساز و مددگار صرف اور صرف اللہ ہے اور اس پر میں بھروسہ کرتا ہوں
76 ؎ ہود (علیہ السلام) نے قوم کے سرداروں کو اپنے پیغام کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا ایمان تو یہ ہے کہ جو کچھ روئے زمین پر ہے سب کی چوٹی اس پروردگار حقیقی کے ہاتھ میں ہے اور کسی کی مجال نہیں کہ اس کے اذن و مشیت کے بغیر کسی کو ذرہ برابر نقصان یا تکلیف پہنچا سکے۔ یقینا میرا رب صراط مستقیم پر ہے اور یہ کہ جو راہ مستقیم پر چلتا ہے رب کریم اس کا ساتھ دیتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے۔ غور کرو کہ پوری قوم کے مقابلہ میں ایسا بلند بانگ دعویٰ اور ان کو غیرت دلانا اور پھر پوری بہادر قوم میں سے کسی کی مجال نہ ہونا کہ ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah.
Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…
Read the full tafseer →63. Whatever God does is absolutely right. All His actions are rightly- directed and sound. None of His actions are arbitrary. He governs the universe, and metes out full justice to all. It is, thus, impossible for someone to follow erroneous doctrines, and to engage in evil-doing and still attain salvation. Nor is it possible that someone who is truthful and righteous will end up a loser.
Read the full tafseer →