Hud 11:55

Hud · from ayah 55

11:55

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ ۟مِنۡ دُوۡنِهٖ‌ فَكِيۡدُوۡنِىۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ لَا تُنۡظِرُوۡنِ‏

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے مہلت نہ دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Other than Him. So plot against me all together; then do not give me respite.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:55

تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھا رکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی جن کی) خدا کے سوا (عبادت کرتے ہو تو) تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر (کرنی چاہو) کرلو اور مجھے مہلت نہ دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اچھا تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب تم سب کے سب ملکر میرے خلاف چالیں چل لو، اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم سب مل کر میرا برا چاہو پھر مجھے مہلت نہ دو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اس (اﷲ) کے سوا تم سب (بشمول تمہارے معبودانِ باطلہ) مل کر میرے خلاف (کوئی) تدبیر کرلو پھر مجھے مہلت بھی نہ دو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس کے سوا۔ سو تم سب میرے خلاف تدبیر کرلو، پھر مجھے مہلت نہ دو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ کو چھوڑ کر باقی تم سب مل کر میرے خلاف جو تدبیر کرسکتے ہو کرو اور مجھے مہلت بھی نہ دو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس کے سوا۔ تو تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل دیکھو، پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس کے سوا، پس تم سب ملک کر مجھ پر اپنا داؤ چلا لو، اور مجھے ذرہ بھی مہلت مت دو ،

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ کے علاوہ تو تم سب میرے ساتھ داؤ گھات کرلو پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس کے سواپس تم سب مل کر میرے خلاف جو چالیں چل سکتے ہو چل لو پھر مجھے ذرا مہلت نہ دو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم سب مل کر میرے بارے میں جو تدبیر کرنی چاہو کرلو اور مجھے مہلت نہ دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

others than Him in His divinity. So conspire against me, all of you, and give me no respite.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

besides Him. So, try your plans against me, all of you together, then give me no respite.

— Muhammad Taqi Usmani

besides Him. So, try your plans against me, all of you together, then give me no respite.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Besides Him (Allah). So plot against me, all of you, and give me no respite."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Beside Him. So (try to) circumvent me, all of you, give me no respite.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Other than Him. So plot against me all together; then do not give me respite.

— Saheeh International

with the idols that you worship besides God. So plan against me without delay.

— Muhammad Sarwar

Besides Him, therefore scheme against me all together; then give me no respite:

— Muhammad Habib Shakir

Beside Him, so plot against me all tcgether, and then respite me not.

— Abdul Majid Daryabadi

"Other gods as partners! so scheme (your worst) against me, all of you, and give me no respite.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–56

قوم ہود کے مطالبات قوم ہود نے اپنے نبی ﷺ کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔ یہ سن کر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 62 یہ ان کے اس فقرے کا جواب ہے کہ ہمارے معبودوں کی تجھ پر مار پڑی ہے (تقابل کے لیے ملاحظہ ہو سورة یونس، آیت 71)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–61

اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔ صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 54–55

54۔ 55:۔ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِهٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۔ حضرت ہود کی غیرت حق : اعتراء کے معنی پہنچنے اور لاحق ہونے کے ہیں، یعنی تمہارا یہ دعوی اور یہ مطالبہ تسلیم کرنا تو الگ رہا۔ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ تم پر ہمارے معبودوں ہی میں سے کسی کی مار پڑی ہے جس کے اثر سے تم باؤلے ہو کر اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ ان کی یہ بات سنتے ہی حضرت ہود کی غیرت توحید بھڑک اٹھی۔ انداز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کی بات کاٹ کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

55۔ 1 اور اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں ہے بلکہ تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ یہ بت کچھ کرسکتے ہیں تو لو میں حاضر ہوں، تم اور تمہارے معبود سب ملکر میرے خلاف کچھ کر کے دکھاؤ۔ مزید اس سے نبی کے انداز کا پتہ چلتا ہے کہ وہ اس قدر بصیر پر ہوتا ہے کہ اسے اپنے حق پر ہونے کا یقین ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–55

32: یعنی تم ہمارے جن بتوں کی خدائی کا انکار کرتے ہو ان میں سے کسی نے تم سے ناراض ہو کر تم پر آسیب مسلط کردیا ہے، جس کے نتیجے میں تم (معاذاللہ) ہوش کھو بیٹھے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–60

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 55–56

6 یعنی وہ بےچاری پتھر کی مورتیں تو مجھے کیا گزند پہنچا سکتیں، تم سب جو بڑے شہ زور، تنو مند اور طاقتور نظر آتے ہو اپنے دیوتاؤں کی فوج میں بھرتی ہو کر اور مجھ جیسے یکہ و تنہا پر پوری قوت سے بیک وقت ناگہاں حملہ کر کے بھی میر ابال بیکا نہیں کرسکتے۔ سنو میں خدا کو گواہ بنا کر اعلان کرتا ہوں اور تم سب بھی اس پر گواہ رہو کہ میں تمہارے جھوٹے دیوتاؤں سے قطعا بیزار ہوں۔ تم سب جمع ہو کر جو برائی مجھے پہنچا سکتے ہو پہنچاؤ نہ ذرا کوتاہی کرو نہ ایک منٹ کی مجھے مہلت دو ۔ اور خوب سمجھ لو کہ میرا بھروسہ خدائے وحدہ ' لاشریک لہ ' پر ہے جو میرا رب ہے اور وہی تمہارا بھی مالک و حاکم ہے۔ گو بد فہمی سے تم نہیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 54–55

آیت 54 اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ یعنی ہمارا خیال تو یہی ہے کہ آپ جو ہمارے معبودوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی ہے اور آپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ اسی لیے آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں اور تمہارے شرک کے اس جرم سے بالکل بری اور بیزار ہوں۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے فرمائی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

62 ہود کا قوم کو جواب میرا جو بگاڑ سکتے ہو بگاڑ لو :۔ ان کے اس الزام کے جواب میں ہود (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میں تمہارے معبودوں کی ایسی کرامات کا ہرگز قائل نہیں میں تو اسے اللہ کے ساتھ شرک سمجھتا ہوں اور ہر طرح کے شرک سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں البتہ اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ تمہارے معبود مجھے کچھ نقصان پہنچا سکتے ہیں تو یوں کرو کہ تم اور تمہارے معبود سب مل کر جو تکلیف مجھے پہنچانا چاہتے ہو پہنچاؤ اور اس میں بالکل دیر نہ کرو اور میرا تو یہ یقین ہے کہ اگر اللہ مجھے تکلیف نہ پہنچانا چاہے تو کوئی طاقت مجھے نقصان نہ پہنچا سکے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 55–56

85۔ یعنی وہی صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور وہ ملتا بھی صراط مستقیم پر چلنے سے ہے حضرت ہود (علیہ السلام) کی ساری تقریر توحید کے ایک مبلغ وداعی کے لیے ہمیشہ کے لیے نمونہ ہے۔ (آیت) ” الا ھو اخذ بنا صیتھا “۔ یعنی سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں کہ کوئی بے اس کے حکم کے کان نہیں ہلا سکتا۔ ای ما من حیوان الا ھو تحت قھرہ وقدرتہ ومنقاد لقضاۂ وقدرہ (کبیر) واعلم ان العرب اذا وصفوا انسانا بالذلۃ والخضوع قالوا ما ناصیۃ فلان الابیدفلان ای انہ مطیع لہ فخوطبوا فی القران بما یعرفون (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–60

آیت نمبر 50 تا 60 ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

من دونہ ہود نے کہا : میں نہ اللہ کے سوا بتوں کی پوجا کرتا ہوں ‘ نہ کسی بت سے ڈرتا ہوں۔ فکیدونی جمیعًا پس اب تم سب (باہم امداد و تعاون کے ساتھ) مجھے دکھ پہنچانے (اور ہلاک کرنے) کی تدبیریں کر دیکھو۔ ثم لا تنظرون۔ پھر مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ حضرت ہود کے اس کلام میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تمہاری تدبیریں میری نظر میں حقیر ہیں۔ مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے۔ تمہارے معبود عاجز ہیں ‘ پتھر ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ آپ کا یہ قول ایک معجزہ تھا جو پورا ہوا۔ قوم والے شہ زور تھے ‘ بڑے طاقتور اور جابر ظالم تھے۔ آپ کے خون کے پیاسے بھی تھے مگر کچھ نہ بگاڑ سکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) لہذا تم اور تمہارے معبود سب مل کر میری ہلاکت کی تدابیر کرلو اور پھر مجھ کو بالکل مہلت مت دو اور میرے معاملہ میں کسی کا انتظار مت کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 54–55

یہاں چار جملوں میں ہود ؑ کی قوم نے سخت ترین لفظوں میں انھیں جھٹلا کر ان پر ایمان لانے سے صاف انکار کردیا۔ پہلے جملے میں ان پر نبوت کی ایک بھی دلیل پیش نہ کرنے کا بہتان لگایا۔ دوسرے اور تیسرے جملے میں ”مَا“ نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ کرکے کچھ بھی ہوجائے اپنے معبودوں کو چھوڑنے اور ہود ؑ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ : یہ چوتھی بات ہے جو انھوں نے ہود ؑ کو جھٹلانے کے ساتھ مزید توہین اور مذاق کے لیے کہی۔ ”عَرَا یَعْرُوْ“ اور ”اِعْتَرٰی یَعْتَرِیْ“ پیش آنا، پہنچنا، باء کے ساتھ متعدی ہو کر پہنچانا کے معنی میں ہوگیا، یعنی ہمارے کسی ایک آدھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–60

آیت نمبر 50 تا 60 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–60

حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت : 1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔ 2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔ 3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ سے ] [فَكِيْدُوْنِيْ : پس تم لوگ چالبازی کرو مجھ سے ] [جَمِيْعًا : سب کے سب ] [ثُمَّ : پھر ] [ لَا تُنْظِرُوْنِ : تم لوگ مہلت مت دو مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–60

قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–68

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 54–55

51: یہ مشرکین کا ایک نہایت ذلیل طعن تھا وہ چونکہ اپنے معبودان باطلہ کو متصرف و مختار مانتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے پجاریوں پر خوش ہو کر ان کو نفع پہنچاتے اور اپنے مخالفوں پر ناراض ہو کر ان کو تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہو اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ناراض ہو کر (عیاذاً باللہ) تمہیں دیوانہ بنادیا ہے اور تم پر ان کی مار پڑی ہے کہ مجنون کی طرح ہر وقت توحید توحید کی رٹ لگاتے رہتے ہو۔ اعتراک اصابک بعض اٰلھتنا بسوء بجنون وخبل (مدارک ج 2 ص 178) بسوء ای بجنون لسبک ایاھا عن ابن عباس وغیرہ (قرطبی ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–57

ربط آیات کل کے درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر اور قوم کی نصیحت کا پہلا حصہ بیان ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ حاجت روا ، مشکل کشا ، نافع اور ضار ، علیم کل ، محیط کل اور متصرف اس کے سوا کوئی نہیں۔ آپ نے قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس پر افتراء باند ھ رہے ہو۔ پھر ہود (علیہ السلام) نے اپنی بےلوث خدمت کا ذکر بھی کیا کہ میں اس وعظ ونصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سامنے استغفار اور توبہ کرو ، وہ تم پر مہربانی فرمائے گا ، تمہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

مِنْ دُوْنِہٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۝ 55 دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ كيد الْكَيْدُ : ضرب من الاحتیال، وقد يكون مذموما وممدوحا، وإن کان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلاَّ اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْ ٓئٍ ط قَالَ اِنِّـٓیْ اُشْھِدُاللّٰہَ وَاشْھَدُ ٓوْا اَنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِہٖ فَکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ (سورۃ ہود : 54، 55) (ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مبتلا کردیا ہے تجھے ہمارے کسی اِلٰہ نے دماغی خلل میں۔ (یعنی تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے) حضرت ہود نے کہا میں گواہ بناتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان تمام قوتوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کے سوا۔ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو، پھر مجھے مہلت نہ دو ۔ ) قوم ہود کی ہر زہ سرائی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے خطاب جاری ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے نہ معلوم کتنی مدت تک قوم کو سمجھایا ہوگا۔ لیکن قوم نے ان کی دعوت کو نہصرف کوئی حیثیت نہ دی تھی بلکہ کہنے لگے کہ تیری بہکی بہکی باتیں کرنے کا سبب یہ ہے کہ ہمارے مدفون بزرگوں کی تم پر مار پڑی ہے لہٰذا ہمیں سمجھائے یا نہ سمجھائے ہم تجھ پر ہرگز ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس پر حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں یہ چیلنج دیا کہ تم سب مل کر میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرلو۔ میرا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ کیونکہ میرا بھروسہ اس ذات پر ہے جو میرا اور تمہارا رب ہے۔ وہ اتنا بااختیار اور طاقتور ہے کہ ہر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

55: مِنْ دُوْنِہٖ (اس کے سواء) تمہارے اس کے ساتھ اٰلہہ کو شریک ٹھہرانے سے۔ مطلب یہ ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں تمہارے معبودوں سے جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو بری ہوں اور تم گواہ ہوجائو کہ میں اس سے بری ہوں اور شہادت کو لفظ امر سے ذکر کیا جس طرح وہ آدمی کہتا ہے جنکے درمیان ناراضگی ہوجائے۔ مجھے تم سے محبت نہیں اسکی تذلیل اور شرمندہ کرنے کیلئے۔ قوم کو چیلنج : فَکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا (پس تم تمام میرے خلاف تدبیر کرلو) تم اور تمہارے معبود ثُمَّ لَاتُنْظِرُوْنِ (پھر تم مجھے مہلت بھی نہ دو ) نہ مہلت دو ۔ مجھے تمہاری اور تمہاری تدبیر کی کوئی پرواہ نہیں اور نہ ہی تمہارے چڑھ دوڑنے کا خطرہ ہے خواہ تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

55۔” ومن دونہ “ اس سے مراد بت ہیں ” فکیدونی جمعیا “ مجھے نقصان پہنچانے کی تم اور تمہارے بت تدبیر کرو ۔ ” ثم لاتنظرون “ مجھے مہلت نہ دو ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–60

54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–55

54-55: (ان نقول) ہم تیرے بارے میں یہی کہتے ہیں : (الا اعتراک بعض الھتنا بسوء) ” تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے “ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کرکے تجھے جنون لاحق کردیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کردیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کردی۔ انہوں نے کس طرح سب سچے انسان کو جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا، تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔ اسی لئے ہود (علیہ السلام) نے واضح فرمایا کہ انہیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–60

ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

127 ۔ قوت ایمان و یقین کا ایک مظہر و نمونہ : کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان تمام لوگوں سے کہا کہ اب تم لوگ سب مل کر مجھ پر اپنا داؤ چلا لو اور مجھے ذرا برابر کوئی مہلت مت دو ۔ سبحان اللہ۔ عقیدہ توحید انسان کو کس قدر یقین و اعتماد اور طاقت و قوت سے سرشار کردیتا ہے کہ اس کی قوت کی بناء پر ایک بندہ خدا تن تنہا کس طرح کفر و باطل کی سب قوتوں کو اس طرح اس درجہ عزیمت و اطمینان سے للکارتا اور چیلنج کرتا ہے کہ تم لوگ جو چاہو میرے خلاف کرلو۔ مجھے اس کی کوئی پروا نہیں جبکہ ایمان و یقین کی قوت سے محرومی کی صورت میں انسان ہر چیز سے، یہاں تک کہ فرضی اور وہمی چیزوں سے بھی ڈرتا ہے۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–60

آیات 50 تا 60 اسرار و معارف تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ دین کی تبلیغ اور اجرت اب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ یعنی یہ جو تم کہتے ہو کہ ہمارے کسی معبود کی تم پر مارپڑگئی ہے تو اگر تم اور تمہارے یہ سب معبود مل کر بھی میرا کچھ بگاڑ سکتے ہیں تو بگاڑ لیں اور مجھے ذرا مہلت نہ دیں۔ ورنہ جان لو کہ تم بھی جھوٹے اور تمہارے یہ معبود بھی غلط۔ (وحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 54–55

(11:54) اعترک۔ اعتری۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اعتری یعتری (افتعال) اعتائ۔ کسی شے کی طرف قصد کرنا اور اس پر چھا جانا۔ اعتری (رنج والم کا) کسی پر چھا جانا۔ اعترک۔ تجھ پر غلبہ کرلیا ہے۔ تجھ پر چھا گیا ہے۔ عدو۔ عدی مادہ ۔ ان نقول میں ان نافیہ ہے۔ بسوئ۔ با تعدیہ کے لئے لایا گیا ہے۔ ان نقول ۔۔ بسوئ۔ ہم (کچھ) نہیں بولتے سوائے اس کہ ہمارے کسی خدا نے تم کو کسی خرابی میں مبتلا کردیا ہے۔ اشھد۔ اشھد یشھد اشھاد۔ گواہ کرنا۔ میں گواہ کرتا ہوں ۔ میں گواہ بناتا ہوں۔ اشھدوا۔ تم گواہ رہو۔ شھد یشھد (سمع) سے امر جمع مذکر حاضر۔ شھادۃ مصدر ۔ تشرکون من دونہ (تشرکون پر وقف نہ کیا جائے) تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–57

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57 اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–60

حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–56

[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–55

دین قوت وعزت کا نام ہے : (ف 1) (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم کو دین ودنیا کی بشارتیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دینداری کے معنی ضعف واضمحلال کے نہیں ، فقروافلاس کے نہیں محکومی اور مظلومیت کے نہیں ، بلکہ قوت و عظمت کے ہیں ، اگر تم دیندار ہوجاؤ ، تو آسمان کے بابرکت دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے زمین تمہارے لئے سیم وزر کے خزانے اگلے گی ، اللہ تمہاری قوتوں میں اضافہ کر دے گا ، تم دنیا میں زبردست بن کر زندگی بسر کرو گے ، تمہارا افلاس دولتمندی سے بدل جائے گا ، دل و دماغ میں ایمان ویقین کی شمعیں روشن ہوں گی ، ایمان کے ساتھ دولت وقوت لازم ہے ، خدا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

55 اب اگر ان بتوں میں کچھ قوت ہے تو تم اور وہ سب مل کر میرے ساتھ جو برائی کرسکتے ہوا اور جو دائوں میرے خلاف کرسکتے ہو وہ کر گزرو اور مجھ کو ذرا مہلت نہ دو ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہود (علیہ السلام) نے قوم کو کھرا کھرا اور واضح جواب سنا دیا 75 ؎ ہود (علیہ السلام) نے مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ قوم کے لوگو ! میں تم کو اتنی واضح اور صاف صاف بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نے اللہ پر بھروسہ اور مکمل طور پر توکل کر رکھا ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہی میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی پھر آخر دوسروں سے کیوں ڈروں گا ؟ اور غیر اللہ کا خوف و ڈر ہی تو شرک کی اصل جڑ ہے اگر میں غیر اللہ کا خوف اور ڈر رکھتا تو میں مواحد کیوں ہوا ؟ میں آپ سے اور آپ کے ان معبودوں سے بالکل خائف نہیں ہوں۔ جائو تم سب مل کر میرے خلاف جو کرنا چاہتے ہو کر گزرو اور مجھے ذرا بھی مہلت نہ دو ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–61

After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah. Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62. This is in answer to the unbelievers' contention that Hud was suffering because he had invited the wrath of their deities upon himself. (Cf. Yunus 10, n. 71.)

Read the full tafseer →