Hud 11:54

Hud · from ayah 54

11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ ؕ— قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ۟ۙاِنۡ نَّقُوۡلُ اِلَّا اعۡتَـرٰٮكَ بَعۡضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوۡٓءٍ‌ ؕ قَالَ اِنِّىۡۤ اُشۡهِدُ اللّٰهَ وَاشۡهَدُوۡۤا اَنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

We only say that some of our gods have possessed you with evil." He said, "Indeed, I call Allah to witness, and witness [yourselves] that I am free from whatever you associate with Allah

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:54

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑ گئی ہے" ہودؑ نے کہا "میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھیرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر (دیوانہ کر) دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں اس سے بیزار ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تو ہمارے کسی معبود کے برے جھپٹے میں آگیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواه کرتا ہوں اور تم بھی گواه رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم تو اس کے سوا کچھ اور نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے خداؤں میں سے کسی نے تمہیں بری طرح جھپیٹے میں لے لیا ہے، ہود نے کہا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں، اور تم بھی گواہ رہو کہ تم اللہ کے سوا جس جس کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارے کسی خدا کی تمہیں بری جھپٹ (پکڑ) پہنچی کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم سب گواہ ہوجاؤ کہ میں بیزار ہوں ان سب سے جنہیں تم اللہ کے سوا اس کا شریک ٹھہراتے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ہم اس کے سوا (کچھ) نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تمہیں (دماغی خلل کی) بیماری میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہود ؑنے کہا: بیشک میں اﷲ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان سے لاتعلق ہوں جنہیں تم شریک گردانتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ بیشک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم تو بس یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی تکلیف پہنچا دی ہے۔ ہود نے جواب دیا : میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جو کچھ تم شرک کر رہے ہو میں اس سے بیزار ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہم تو یہی ن کہیں گے کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے۔ اس نے کہا میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بالکل بری ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم پر مار پڑگئی ہے ہمارے معبودوں میں سے کسی کی، ہود نے فرمایا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور خود تم سب بھی گواہ رہو کہ میں ان تمام چیزوں سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں جن کو تم لوگ شریک ٹھہراتے ہو (اس وحدہ لاشریک کا)

— مولانا اسحاق مدنی

ہمارا قول تو یہ ہے کہ ہمارے کسی دیوتا ہی نے تم کو شامت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ (ہود ؑ نے) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم شریک قرار دیتے رہتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے ہود ؑ نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بری ہوں ان سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو اس کے سوا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تم پر آسیب ڈال کر دیوانہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو، میں اس سے بیزار ہوں، (جن کی) اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

All we can say is that some god of ours has afflicted you with evil.. Hud said: 'Indeed I take Allah as my witness, and you too to be my witnesses that I have nothing to do with your associating with Allah

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We do not say except that some of our gods have subjected you to some evil. He said, :I make Allah my witness, and you bear witness that I have nothing to do with what you take as gods

— Muhammad Taqi Usmani

We do not say except that some of our gods have subjected you to some evil. He said, :I make Allah my witness, and you bear witness that I have nothing to do with what you take as gods

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

All that we say is that some of our gods (false deities) have seized you with evil (madness). He said: "I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We say naught save that one of our gods hath possessed thee in an evil way. He said: I call Allah to witness, and do ye (too) bear witness, that I am innocent of (all) that ye ascribe as partners (to Allah)

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We only say that some of our gods have possessed you with evil." He said, "Indeed, I call Allah to witness, and witness [yourselves] that I am free from whatever you associate with Allah

— Saheeh International

We believe that some of our gods have afflicted you with evil." Hud said, "God is my witness and so are you that I have no association

— Muhammad Sarwar

We cannot say aught but that some of our gods have smitten you with evil. He said: Surely I call Allah to witness, and do you bear witness too, that I am clear of what you associate (with Allah).

— Muhammad Habib Shakir

All that we say is that some of our gods have smitten thee with evil. He said: verily I call Allah to witness, and bear ye witness, that I am quit of that which ye associate.

— Abdul Majid Daryabadi

"We say nothing but that (perhaps) some of our gods may have seized thee with imbecility." He said: "I call Allah to witness, and do ye bear witness, that I am free from the sin of ascribing, to Him,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:54

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 53–56

قوم ہود کے مطالبات قوم ہود نے اپنے نبی ﷺ کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔ یہ سن کر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 59 یعنی تو نے کسی دیوی یا دیوتا یا کسی حضرت کے آستانے پر کچھ گستاخی کی ہوگی، اسی کا خمیازہ ہے جو تو بھگت رہا ہے کہ بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے اور وہی بستیاں جن میں کل تو عزت کے ساتھ رہتا تھا آج وہاں گالیوں اور پتھروں سے تیری تواضع ہو رہی ہے۔ سورة هُوْد 60 یعنی تم کہتے ہو کہ میں کوئی شہادت لے کہ نہیں آیا، حالانکہ چھوٹی چھوٹی شہادتیں پیش کرنے کے بجائے میں تو سب سے بڑی شہادت اس خدائی کی پیش کر رہا ہوں جو اپنی ساری خدائی کے ساتھ کائنات ہستی کے ہر گوشے اور ہر جلوے میں اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ جو حقیقتیں میں نے تم سے بیان کی ہیں وہ سراسر حق ہیں، ان میں جھوٹ کا کوئی شائبہ تک نہیں اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–61

اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔ صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 54–55

54۔ 55:۔ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۔ مِنْ دُوْنِهٖ فَكِيْدُوْنِيْ جَمِيْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ۔ حضرت ہود کی غیرت حق : اعتراء کے معنی پہنچنے اور لاحق ہونے کے ہیں، یعنی تمہارا یہ دعوی اور یہ مطالبہ تسلیم کرنا تو الگ رہا۔ ہمارا کہنا تو یہ ہے کہ تم پر ہمارے معبودوں ہی میں سے کسی کی مار پڑی ہے جس کے اثر سے تم باؤلے ہو کر اس قسم کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ ان کی یہ بات سنتے ہی حضرت ہود کی غیرت توحید بھڑک اٹھی۔ انداز کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ انہوں نے ان کی بات کاٹ کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

54۔ 1 یعنی تو جو ہمارے معبودوں کی توہین اور گستاخی کرتا ہے کہ یہ کچھ نہیں کرسکتے، معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے معبودوں نے تیری اس گستاخی پر تجھے کچھ کہہ دیا ہے اور تیرا دماغ ماؤف ہوگیا ہے۔ جیسے آج کل کے نام نہاد مسلمان بھی اس قسم کے توہمات کا شکار ہیں جب انھیں کہا جاتا ہے کہ یہ فوت شدہ اشخاص اور بزرگ کچھ نہیں کرسکتے، تو کہتے ہیں کہ ان کی شان میں گستاخی ہے اور خطرہ ہے کہ اس طرح کی گستاخی کرنے والوں کا وہ بیڑا غرق کردیں۔ نعوذ باللہ من الخرافات والاکاذیب۔ 45۔ 2 یعنی ان تمام بتوں اور معبودوں سے بیزار ہوں اور تمہارا یہ عقیدہ کہ انہوں نے مجھے کچھ کردیا ہے، بالکل غلط ہے، ان کے اندر یہ قدرت ہی نہیں کہ کسی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 54–55

32: یعنی تم ہمارے جن بتوں کی خدائی کا انکار کرتے ہو ان میں سے کسی نے تم سے ناراض ہو کر تم پر آسیب مسلط کردیا ہے، جس کے نتیجے میں تم (معاذاللہ) ہوش کھو بیٹھے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 49–60

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یہ جو تم بہکی بہکی باتیں کرتے ہو اور سارے جہان کو بیوقوف بتلا کر اپنا دشمن بنا رہے ہو۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہمارے دیوتاؤں میں سے کسی نے آسیب پہنچا کر تمہیں مجنون اور پاگل کردیا ہے (العیاذ باللہ) تم جو ان کی عبادت سے روکتے اور برا بھلا کہتے تھے، انہوں نے اس گستاخی کی سزا دی کہ اب تم بالکل دیوانوں کی سی باتیں کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 54–55

آیت 54 اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ یعنی ہمارا خیال تو یہی ہے کہ آپ جو ہمارے معبودوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی ہے اور آپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ اسی لیے آپ بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہیں۔ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَاشْهَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں اور تمہارے شرک کے اس جرم سے بالکل بری اور بیزار ہوں۔ یہ وہی بات ہے جو حضرت ابراہیم نے اپنی قوم سے فرمائی تھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

61 معبودوں اور بزرگوں کی گستاخی کا انجام :۔ کوئی بھی نبی جب اپنی دعوت پیش کرتا ہے تو اس پر ایمان لانے والے تو بہت کم لوگ ہوتے ہیں اور کثیر طبقہ ایسا ہوتا ہے جو اس کی مخالفت پر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور نبی اور ابتدائی معدودے چند مسلمانوں کو پریشان کرنے اور اسے ایذائیں دینے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اور ان پر عرصہ حیات تنگ کردیا جاتا ہے اسی کیفیت کو دیکھ کر قوم عاد نے ہود سے کہا کہ تمہاری اس پریشان حالی کا سبب ہمیں تو صرف یہ نظر آتا ہے کہ تم جو ہمارے معبودوں کی توہین اور ان کے حق میں گستاخی کرتے ہو تو انہوں نے اپنی اس توہین کی تمہیں یہ سزا دی ہے جیسا کہ پرستاران باطل کے عقائد میں عموماً یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

84۔ یعنی تم نے جو ہمارے فلاں دیوتا کی شان میں گستاخی کی اس نے اپنی ماریوں ماری کہ تمہیں خبطی باؤلا کردیا اور تم لگے بہکی بہکی باتیں کرنے جاہلی ذہنیت کی کتنی صحیح ترجمانی !

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 50–60

آیت نمبر 50 تا 60 ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوءٍ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم کو ہمارے کسی معبود کا جھپٹا لگ گیا ہے۔ اِعْتَرٰی (باب افتعال) عَرٰی یعرو سے ماخوذ ہے ‘ عَرٰیکا معنی ہے پہنچ گیا۔ سوئ سے مراد ہے جنون ‘ بدحواسی۔ یعنی تم جو ہمارے معبودوں کو برا کہتے ہو اور ان کی عبادت سے ہم کو روکتے ہو تو ہمارے کسی معبود نے اس کا انتقام تم سے لیا ہے اور تمہارا دماغ خراب کردیا ہے کہ ایسی خرافات بک رہے ہو۔ یا ماضی بمعنی مضارع ہے کہ تم جو معبودوں کو برا کہتے ہو ‘ ہمارا یقینی خیال ہے کہ کوئی معبود تم کو پٹ کر دے گا ‘ ہلاک کر دے گا۔ چونکہ ایسا ہوجانا قوم کے نزدیک ضروری اور یقینی تھا ‘ اسلئے دھمکی دینے کیلئے مضارع کی جگہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(54) اور آپ جن باتوں سے روکتے ہیں ہمارا تو خیال یہ ہے کہ ہمارے معبودوں نے آپ کے دماغ پر کچھ اثر ڈال دیا ہے اسی وجہ سے ان بتوں کو آپ برا کہتے ہیں۔ حضرت ہود ؑ نے فرمایا میں میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں تمہارے بتوں سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 54–55

یہاں چار جملوں میں ہود ؑ کی قوم نے سخت ترین لفظوں میں انھیں جھٹلا کر ان پر ایمان لانے سے صاف انکار کردیا۔ پہلے جملے میں ان پر نبوت کی ایک بھی دلیل پیش نہ کرنے کا بہتان لگایا۔ دوسرے اور تیسرے جملے میں ”مَا“ نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ کرکے کچھ بھی ہوجائے اپنے معبودوں کو چھوڑنے اور ہود ؑ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْۗءٍ : یہ چوتھی بات ہے جو انھوں نے ہود ؑ کو جھٹلانے کے ساتھ مزید توہین اور مذاق کے لیے کہی۔ ”عَرَا یَعْرُوْ“ اور ”اِعْتَرٰی یَعْتَرِیْ“ پیش آنا، پہنچنا، باء کے ساتھ متعدی ہو کر پہنچانا کے معنی میں ہوگیا، یعنی ہمارے کسی ایک آدھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 50–60

آیت نمبر 50 تا 60 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 50–60

حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت : 1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔ 2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔ 3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ان نَّقُوْلُ : ہم نہیں کہتے ] [اِلَّا : مگر (یہ کہ)] [اعْتَرٰىكَ : لاحق ہو آپ (علیہ السلام) کو ] [بَعْضُ اٰلِهَتِنَا : ہمارے خدائوں کا کوئی ] [ بِسُوْۗءٍ : بری طرح سے ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [انىٓ: بیشک میں ] [اُشْهِدُ : گواہ بناتا ہوں ] [اللّٰهَ : اللہ کو ] [وَاشْهَدُوْٓا : اور تم لوگ گواہ رہو ] [ انى: کہ میں ] [ بَرِيْۗءٌ: بری ہوں ] [مِّمَا : اس سے جو ] [تُشْرِكُوْنَ : تم لوگ شریک کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–60

قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 50–68

قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔ (ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 54–55

51: یہ مشرکین کا ایک نہایت ذلیل طعن تھا وہ چونکہ اپنے معبودان باطلہ کو متصرف و مختار مانتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے پجاریوں پر خوش ہو کر ان کو نفع پہنچاتے اور اپنے مخالفوں پر ناراض ہو کر ان کو تکلیف اور نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہو اس لیے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ناراض ہو کر (عیاذاً باللہ) تمہیں دیوانہ بنادیا ہے اور تم پر ان کی مار پڑی ہے کہ مجنون کی طرح ہر وقت توحید توحید کی رٹ لگاتے رہتے ہو۔ اعتراک اصابک بعض اٰلھتنا بسوء بجنون وخبل (مدارک ج 2 ص 178) بسوء ای بجنون لسبک ایاھا عن ابن عباس وغیرہ (قرطبی ج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 53–57

ربط آیات کل کے درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر اور قوم کی نصیحت کا پہلا حصہ بیان ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ حاجت روا ، مشکل کشا ، نافع اور ضار ، علیم کل ، محیط کل اور متصرف اس کے سوا کوئی نہیں۔ آپ نے قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس پر افتراء باند ھ رہے ہو۔ پھر ہود (علیہ السلام) نے اپنی بےلوث خدمت کا ذکر بھی کیا کہ میں اس وعظ ونصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سامنے استغفار اور توبہ کرو ، وہ تم پر مہربانی فرمائے گا ، تمہیں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِہَتِنَا بِسُوْۗءٍ۝ 0ۭ قَالَ اِنِّىْٓ اُشْہِدُ اللہَ وَاشْہَدُوْٓا اَنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۝ 54ۙ ( اعتراک) ، فيه إعلال بالقلب، أصله اعتري، جاءت الیاء متحرّكة بعد فتح قلبت ألفا فأصبح اعتری- بألف أخيرة۔ وزنه افتعل، والیاء التي هي لام الکلمة منقلبة عن واو مجرّده عرا يعرو، والمصدر عروة . ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 54–55

اِنْ نَّقُوْلُ اِلاَّ اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَا بِسُوْ ٓئٍ ط قَالَ اِنِّـٓیْ اُشْھِدُاللّٰہَ وَاشْھَدُ ٓوْا اَنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِہٖ فَکِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لاَ تُنْظِرُوْنِ ۔ (سورۃ ہود : 54، 55) (ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مبتلا کردیا ہے تجھے ہمارے کسی اِلٰہ نے دماغی خلل میں۔ (یعنی تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے) حضرت ہود نے کہا میں گواہ بناتا ہوں اللہ تعالیٰ کو اور تم بھی گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان تمام قوتوں سے جنھیں تم شریک ٹھہراتے ہو اس کے سوا۔ پس تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرو، پھر مجھے مہلت نہ دو ۔ ) قوم ہود کی ہر زہ سرائی اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–54

فہم القرآن ربط کلام : قوم عاد کا ردعمل۔ غور فرمائیں کہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور توبہ و استغفار کی دعوت دی۔ لیکن قوم نے اس کا کس قدر الٹا جواب دیا۔ قوم کہنے لگی کہ اے ھود ! تو ہمارے پاس ٹھوس اور واضح دلائل نہیں لایا۔ تیری بےبنیاد باتوں پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت کی وجہ سے کچھ معبودوں کی تجھ پر مار پڑگئی ہے۔ جس کی وجہ سے تو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا تم جو کچھ چاہو کہو۔ لیکن میں اس بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ جو کچھ میں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

54: اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰکَ بَعْضُ اٰلِھَتِنَابِسُوْ ئٍ (ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تمہیں ہمارے بعض معبودوں کی مار پڑی ہے) اِنْؔ حرف نفی ہے ایک بات کے سواء ہر بات کی نفی کی اور وہ اعتراک پہنچ جانا بعض الہتنا بسوء سوء ؔ سے جنون و بدحواسی مراد ہے تقدیر عبارت یہ ہے۔ مانقول قولا الا ھٰذہ المقالۃ۔ ہم تو صرف یہ بات کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں نے تمہیں برائی سے چھو لیا ہے۔ قَالَ اِنِّیْ اُشْھِدُ اللّٰہَ وَاشْھَدُوْا اَنِّیْ بَرِیْ ئٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ (کہا بیشک میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا تا ہوں اور تم بھی گواہ ہوجائو کہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

54۔ ” ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوء “ آپ نے ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا تو انہوں نے آپ سے انتقام لیا ہے کہ آپ کو مجنون کردیا ہے۔ ” وقال “ ان کو ہود (علیہ السلام) نے ” انی اشھد اللہ “ اپنی ذات پر ” واشھدوا “ میری قوم ” انی بری مما تشرکون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 54–60

54۔ 60۔ حضرت ہود کی بددعا سے قوم عاد میں تیس برس متواتر قحط رہا جب قحط سے قوم عاد کے لوگ بہت بری حالت میں ہوگئے تو حضرت ہود کو ان پر ترس آیا اس لئے حضرت ہود نے ان کو وہ نصیحت کی جس کا اس رکوع کے شروع میں ذکر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اے قوم عاد اللہ سے اپنے شرک اور بت پرستی کی توبہ استغفار کرو تاکہ اللہ تم پر رحم کرے اور مینہ برسادے اور تمہاری یہ قحط کی حالت رفع ہو مگر شیطان کسی کے دل پر قابو پالیتا ہے تو وہ حق بات کے ماننے کی جگہ حق بات کا الٹا جواب دیتا ہے اس لئے انہوں نے یہ الٹا جواب دیا کہ اے ہود تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے اور تم جو ایسی باتیں کرتے ہو اس کا سبب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 54–55

54-55: (ان نقول) ہم تیرے بارے میں یہی کہتے ہیں : (الا اعتراک بعض الھتنا بسوء) ” تجھے آسیب پہنچایا ہے ہمارے بعض معبودوں نے “ یعنی ہمارے کسی معبود نے تیری عقل سلب کرکے تجھے جنون لاحق کردیا ہے اور تو نے ہذیان بولنا شروع کردیا ہے جو سمجھ میں نہیں آتا۔ پس پاک ہے وہ ذات جس نے ظالموں کے دلوں پر مہر ثبت کردی۔ انہوں نے کس طرح سب سچے انسان کو جو سب سے بڑا حق لے کر آیا، ایسے گھٹیا مقام پر کھڑا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے خود بیان نہ کیا ہوتا، تو ایک عقل مند شخص کو ان سے اس بات کو روایت کرتے ہوئے بھی شرم آتی۔ اسی لئے ہود (علیہ السلام) نے واضح فرمایا کہ انہیں پورا وثوق ہے کہ ان کی طرف سے یا ان کے معبودوں کی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–60

ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

125 ۔ شرک اور مشرک کا ایک خاصہ غیر اللہ سے ڈرنا اور ڈرانا : سو ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) کی اس دعوت حق کے جواب میں کہا کہ ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی جو تم ایسی بہکی بہکی باتیں کرتے ہو۔ سو مشرک اور مشرک کا یہی خاصہ ہے کہ وہ ہمیشہ غیر اللہ سے ڈرتا اور ڈراتا رہتا ہے۔ چناچہ آپ دیکھیں گے کہ اہل حق کے مقابلے میں کلمہ گو مشرکوں کا آج بھی یہی حال ہے کہ وہ سادہ لوح لوگوں کو اس طرح کے ڈراوے آج بھی دیتے رہتے ہیں کہ فلاں شخص نے گیارہویں نہیں دی اس لئے اس کی بھینس مرگئی۔ فلاں شخص کو فلاں قبر والے نے یہ نقصان پہنچا دیا، فلاں کو گیارہویں والے پیر نے مار دیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–60

سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 50–60

آیات 50 تا 60 اسرار و معارف تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔ دین کی تبلیغ اور اجرت اب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 53–54

ف 1 ۔ جو اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے افسوس ! یہی ” کسی بزرگ کی مار “ کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔ (از وحیدی) ۔ 2 ۔ یعنی میرا تمہارے ان بتوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ میں ان کی ہر آن مذمت کرنے کو تیار ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 54–55

(11:54) اعترک۔ اعتری۔ ماضی ۔ واحد مذکر غائب ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اعتری یعتری (افتعال) اعتائ۔ کسی شے کی طرف قصد کرنا اور اس پر چھا جانا۔ اعتری (رنج والم کا) کسی پر چھا جانا۔ اعترک۔ تجھ پر غلبہ کرلیا ہے۔ تجھ پر چھا گیا ہے۔ عدو۔ عدی مادہ ۔ ان نقول میں ان نافیہ ہے۔ بسوئ۔ با تعدیہ کے لئے لایا گیا ہے۔ ان نقول ۔۔ بسوئ۔ ہم (کچھ) نہیں بولتے سوائے اس کہ ہمارے کسی خدا نے تم کو کسی خرابی میں مبتلا کردیا ہے۔ اشھد۔ اشھد یشھد اشھاد۔ گواہ کرنا۔ میں گواہ کرتا ہوں ۔ میں گواہ بناتا ہوں۔ اشھدوا۔ تم گواہ رہو۔ شھد یشھد (سمع) سے امر جمع مذکر حاضر۔ شھادۃ مصدر ۔ تشرکون من دونہ (تشرکون پر وقف نہ کیا جائے) تم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 50–57

لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57 اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 54–60

حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ اور قوم عاد پر ہوا کا عذاب آنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قوم عاد نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو نصیحت کے جواب میں یہ کہا کہ تم ایسی باتیں کرتے ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ تم اکثر ہمارے معبودوں کو برا کہتے رہتے ہو اور اس کے برے اثر سے تم مجنوں اور دیوانے ہوگئے ہو۔ آخر لاچار ہوکر حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ مجھے جو تم کو نصیحت کرنی تھی وہ کرچکا تم نہیں مانتے تو اللہ تعالیٰ تم کو ہلاک کر کے تمہاری جگہ دوسری قوم زمین پر آباد کرے گا۔ آخر وہی ہوا کہ سخت ہوا سے یہ لوگ غارت ہوئے اور قوم ثمود ان کی جگہ آباد ہوئی۔ دوسرا جواب ہود (علیہ السلام) نے قوم کے لوگوں کو یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 50–56

[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–55

دین قوت وعزت کا نام ہے : (ف 1) (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم کو دین ودنیا کی بشارتیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دینداری کے معنی ضعف واضمحلال کے نہیں ، فقروافلاس کے نہیں محکومی اور مظلومیت کے نہیں ، بلکہ قوت و عظمت کے ہیں ، اگر تم دیندار ہوجاؤ ، تو آسمان کے بابرکت دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے زمین تمہارے لئے سیم وزر کے خزانے اگلے گی ، اللہ تمہاری قوتوں میں اضافہ کر دے گا ، تم دنیا میں زبردست بن کر زندگی بسر کرو گے ، تمہارا افلاس دولتمندی سے بدل جائے گا ، دل و دماغ میں ایمان ویقین کی شمعیں روشن ہوں گی ، ایمان کے ساتھ دولت وقوت لازم ہے ، خدا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

54 ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی معبود نے تجھ کو بری طرح جھپٹ لیا ہے اور کسی خرابی میں مبتلا کردیا ہے ہود (علیہ السلام) نے فرمایا تم جو یہ کہتے ہو کہ تمہارے معبودوں میں سے کسی نے مجھ کو جنون میں مبتلا کردیا ہے تو میں اللہ تعالیٰ کو گواہ کرتا ہوں اور تم کو بھی اس بات پر گواہ رہو کہ ان تمام چیزوں میں بالکل بیزار ہوں جن کو تم نے خدا کے سوا عبادت میں شریک کر رکھا ہے یعنی مجھ کو جھپٹایا جنون یا آسیب کا اثر ہوگیا تو تم سے صاف طورپر کہتا ہوں اور خدا کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی سن کر گواہ ہو جائو کہ میں ان معبودوں سے بالکل بیزار ہوں جن کو تم خدا کے سوا اس کی عبادت میں شریک کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم کے لوگوں نے کہا کہ ہم تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے ان بزرگوں کی تجھ کو مار لگ گئی ہے۔ 74 ؎ قوم کے لوگوں اور خصوصاً سرداروں نے ہود (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کی دعوت کے سلسلہ میں جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے ان بزرگوں ہی میں سے تجھے کسی کی مار لگ گئی ہے اور تیرا دماغ درست نہیں رہا اور یقیناً دماغی خرابی میں مبتلا ہوگیا ہے اس لئے اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے اور اگر تو ایسی باتوں سے باز نہ آیا تو تیرا اپنا انجام درست نہ ہوگا۔ قوم کے سرداروں نے بیل بڑا زور دار جواب سنایا تھا لیکن ہود (علیہ السلام) بھی آخر اللہ کے رسول تھے کیسے خاموش رہ سکتے تھے ؟ آپ نے بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–61

After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah. Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

59. The unbelievers presumably thought that because of his sacrilegious behaviour towards some saint or deity, Prophet Hud (peace be on him) had been smitten with madness. Consequently, both words of abuse and stones were hurled at him even though he had once enjoyed much esteem and respect. 60. In response to this. Hud (peace be on him) pointed out that it was true that he had not put forth specific evidence in support of his claim. He contended that rather than bring a set of minor evidence in support of his claim, he had instead brought the weightiest evidence of all - Almighty God…

Read the full tafseer →