Explained with ayahs 53–56
قوم ہود کے مطالبات
قوم ہود نے اپنے نبی ﷺ کی نصیحت سن کر جواب دیا کہ آپ جس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں اس کی کوئی دلیل و حجت تو ہمارے پاس آپ لائے نہیں۔ اور یہ ہم کرنے سے رہے کہ آپ کہیں اپنے معبودوں کو چھوڑ دو اور ہم چھوڑ ہی دیں۔ نہ وہ آپ کو سچا ماننے والے ہیں نہ آپ پر ایمان لانے والے۔ بلکہ ہمارا خیال تو یہ ہے کہ چونکہ تو ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک رہا ہے اور انہیں عیب لگاتا ہے۔ اس لیے جھنجھلا کر ان میں سے کسی کی مار تجھ پر پڑی ہے تیری عقل چل گئی ہے۔ یہ سن کر اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہی ہے تو سنو میں نہ صرف تمہیں ہی بلکہ اللہ کو بھی گواہ کر کے اعلان کرتا ہوں کہ میں اللہ کے سوا جس…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 58
یعنی ایسی کوئی کھلی علامت یا ایسی کوئی واضح دلیل جس سے ہم غیر مشتبہ طور پر معلوم کرلیں کہ اللہ نے تجھے بھیجا ہے اور جو بات تو پیش کر رہا ہے وہ حق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔
صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ۔
قوم کی طرف معجزہ کا مطالبہ۔ بینۃ سے مراد یہاں کوئی کھلا ہوا حسی معجزہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارا اتنا بڑا دعوی کہ تم خدا کے رسول ہو کر ہمارے پاس آئے ہو اور اتنا بڑا مطالبہ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں، مجرد تمہارے کہہ دینے سے کس طرح قبول کرلیں ؟ ہم یہ دعوی اور مطالبہ تو صرف اس صورت میں مان سکتے تھے جب تم کوئی کھلا ہوا معجزہ دکھاتے۔ لیکن جب تم اس طرح کا کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے تو ہم مجرد تمہارے کہے پر نہ اپنے معبودوں ہی کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں اور نہ تمہارے اس…
Read the full tafseer →53۔ 1 ایک نبی دلائل وبراہین کی پوری قوت اپنے ساتھ رکھتا ہے لیکن شپرہ چشموں کو وہ نظر نہیں آتے قوم ہود ؑ نے بھی اسی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم بغیر دلیل کے محض تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو کس طرح چھوڑیں ؟
Read the full tafseer →31: روشن دلیل سے ان کی مراد ان کے فرمائشی معجزات تھے۔ عقلی اور نقلی دلائل تو حضرت ہود ؑ نے ہر قسم کے پیش کردئیے تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم جس معجزے کی فرمائش کرتے جائیں وہ ہمیں دکھاتے جاؤ۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کرشمے دکھانے کے لیے وقف نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ان کی یہ فرمائشیں پوری نہ ہوئیں تو انہوں نے کہہ دیا کہ تم کوئی روشن دلیل ہی ہمارے پاس نہیں لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →4 یہ ان کی کھلی ہٹ دھرمی تھی جو کہتے تھے کہ آپ کوئی واضح سند اور دلیل اپنی صداقت کی نہیں لائے۔ خدا جسے پیغمبری کے عہدہ پر فائز کرے، ضرور ہے کہ اس کو تقرر کی سند اور پروانہ عطا فرمائے۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ جو نبی مبعوث ہوا اس کے ساتھ ایسے واضح نشان بھیجے گئے جس پر آدمی ایمان لانا چاہیں تو لاسکتے ہیں۔ اس لیے بالیقین کہا جاسکتا ہے کہ ہود (علیہ السلام) نے نشان پیش کیے ہوں گے، مگر وہ لوگ ہٹ دھرمی اور بےحیائی سے یہ ہی کہتے رہے کہ آپ کوئی کھلا ہوا نشان نہیں لائے (شاید یہ مراد ہو کہ ایسا نشان نہ لائے جو سب کی گردنیں پکڑ کر ایمان لانے پر مجبور کر دے) بہرحال ہم محض تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہیں…
Read the full tafseer →آیت 53 قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ
یعنی آپ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو اس کے ثبوت کے طور پر آپ کے پاس کوئی کھلی نشانی سند یا معجزہ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →60 ویسے تو ہر نبی کو ایسے واضح دلائل دیئے جاتے ہیں جو ایمان لانے والوں کی تسلی اور تشفی کے لیے کافی ہوتے ہیں مگر ہٹ دھرم لوگ عموماً کسی ایسے حسی معجزے کے طالب ہوتے ہیں جو ان کی گردنیں پکڑ کر انھیں ایمان لانے پر مجبور کر دے اور وہ اس وقت تک ایمان لانے کو تیار نہیں، ہوتے جب تک ایسا معجزہ دیکھ نہ لیں۔ حالانکہ اس وقت ایمان لانے کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا اور ایسا معجزہ پیش کرنا ویسے بھی مشیئت الٰہی کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →83۔ بینہ یا سند سے مراد کوئی دلیل عقلی نہیں، دلائل عقلی تو توحید پر متعدد اور شروع سے موجود تھیں ان جاہلین کی مراد اس سے ان کے فرمائشی خوارق، معجزات و عجائب سے تھی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →قالوا بھودما جئتنا ببینۃ قوم نے کہا : ہود ! تم نے کوئی قطعی دلیل پیش نہیں کی۔ یعنی ایسی دلیل پیش نہیں کی جس سے تمہارے دعوے کی صحت ثابت ہو سکے۔ حضرت ہود نے معجزات تو پیش کئے تھے (جو ثبوت رسالت کیلئے کافی تھے ( مگر قوم والوں کے دلوں میں عناد تھا ‘ اسلئے انہوں نے مذکورہ جملہ کہا۔
وما نحن بتارکی الھتنا عن قولک وما نحن لک بمؤمنین۔ اور ہم تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کی عبادت چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہم تم پر ایمان لانے والے ہیں۔ یعنی تمہاری تصدیق نہیں کریں گے۔ مطلب یہ کہ نہ تمہارے قول کا عملی اتباع کریں گے کہ اپنے معبودوں کی عبادت ترک کریں ‘ نہ اعتقادی تصدیق کریں گے۔
Read the full tafseer →(53) اور ان کے قوم نے کہا آپ نے اپنے دعوے پر ہمارے سامنے کوئی دلیل تو پیش نہیں کی اور ہم صرف آپ کے کہنے سے تو اپنے بتوں کی عبادت کو چھوڑنے والے نہیں اور ہم کسی طرح آپ کی رسالت کا یقین کرنے والے نہیں۔
Read the full tafseer →یہاں تک ہود ؑ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا اور اس مختصر سی تقریر میں تین دفعہ انھیں ”اے میری قوم“ کہہ کر پکارا، تاکہ شاید قرابت کے واسطے ہی سے ان کے دلوں تک رسائی حاصل کرسکیں۔ کیونکہ ہود ؑ اسی قبیلے کے فرد ہو کر انھی کی بدخواہی نہیں کرسکتے تھے۔
قَالُوْا يٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَةٍ۔۔ : یہ بات یقینی ہے کہ ہر پیغمبر اللہ کی طرف سے ایسے واضح دلائل اور یقینی آیات اور نشانیاں لے کر آتا ہے کہ سننے اور دیکھنے والوں کو اس کے نبی ہونے میں کوئی شک نہیں رہتا، مگر یہ سب کچھ انھی کے لیے کار آمد ہوتا ہے جو دل کے کانوں اور آنکھوں سے سنتے اور دیکھتے ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص یا قوم ضد اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[قَالُوْا : لوگوں نے کہا ] [ يٰهُوْدُ : اے ہود (علیہ السلام) ] [مَا جِئْتَنَا : آپ (علیہ السلام) نہیں آئے ہمارے پاس ] [بِبَيِّنَةٍ : کسی واضح (دلیل) کے ساتھ ] [وَّمَا نَحْنُ : اور ہم نہیں ہیں ] [بِتَارِكِيْٓ اٰلِهَتِنَا : اپنے خدائوں کو چھوڑنے والے ] [عَنْ قَوْلِكَ : آپ (علیہ السلام) کی بات سے ] [وَمَا نَحْنُ : اور ہم نہیں ہیں ] [لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ : آپ (علیہ السلام) کی بات ماننے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →50: قوم نے انتہائی ضد وعناد سے پیغام توحید کا انکار کیا اور الٹا حضرت ہود (علیہ السلام) پر طعن کرنے لگے۔ عَنْ قَوْلِکَ میں عن سببیہ ہے۔ قوم نے کہا اے ہود ! تم اپنے دعوے پر کوئی دلیل تو لائے نہیں اس لیے صرف تمہارے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ تم پر ہی ایمان لانے کو تیار ہیں۔ قوم نے فرط عناد و جہالت سے یہ جواب دیا تھا ورنہ توحید کے دلائل واضحہ اور اور آیات باہرہ ان کے سامنے پیش کی جاچکی تھیں۔ انما قالوہ لفرط عنادھم او لشدۃ عمائھم عن الحق و عدم نظرھم فی الایت الخ (روح ج 12 ص 81) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–57
ربط آیات
کل کے درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر اور قوم کی نصیحت کا پہلا حصہ بیان ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ حاجت روا ، مشکل کشا ، نافع اور ضار ، علیم کل ، محیط کل اور متصرف اس کے سوا کوئی نہیں۔ آپ نے قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس پر افتراء باند ھ رہے ہو۔ پھر ہود (علیہ السلام) نے اپنی بےلوث خدمت کا ذکر بھی کیا کہ میں اس وعظ ونصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سامنے استغفار اور توبہ کرو ، وہ تم پر مہربانی فرمائے گا ، تمہیں…
Read the full tafseer →قَالُوْا يٰہُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَيِّنَۃٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِكِيْٓ اٰلِہَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ 53
هود
الْهَوْدُ : الرّجوع برفق، ومنه : التَّهْوِيدُ ، وهومشي کالدّبيب، وصار الْهَوْدُ في التّعارف التّوبة .
قال تعالی: إِنَّا هُدْنا إِلَيْكَ [ الأعراف/ 156] أي : تبنا، وهُودٌ في الأصل جمع هَائِدٍ. أي : تائب وهو اسم نبيّ عليه السلام .
( ھ و د ) الھود
کے معنی نر می کے ساتھ رجوع کرن ا کے ہیں اور اسی سے التھدید ( تفعیل ) ہے جسکے معنی رینگنے کے ہیں لیکن عرف میں ھو د بمعنی تو بۃ استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے . : إِنَّا هُدْنا إِلَيْكَ [ الأعراف/ 156] ھود اصل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →قَالُوْا یٰـھُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ وَّمَا نَحْنُ بِتَارِکِیْ ٓ اٰلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 53)
(انھوں نے کہا اے ہود تو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا اور نہ ہم تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے ہیں اور نہ تجھ پر ہم ایمان لانے والے ہیں۔ )
بَیِّنَۃٍکا مطالبہ
حضرت ہود (علیہ السلام) نے گزشتہ آیات میں اللہ کی الوہیت کو کو دلائل سے ثابت کیا اور پھر اپنے رویئے اور اخلاص کو بطور دلیل کے ان کے سامنے پیش کیا جس سے ایک طرف آپ کی دعوت کا اثبات ہوتا تھا اور دوسری طرف آپ کی رسالت کا یقین پیدا ہوتا تھا۔ اس کے بعد آپ نے ترغیب دیتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
فہم القرآن
ربط کلام : قوم عاد کا ردعمل۔
غور فرمائیں کہ حضرت ھود (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور توبہ و استغفار کی دعوت دی۔ لیکن قوم نے اس کا کس قدر الٹا جواب دیا۔ قوم کہنے لگی کہ اے ھود ! تو ہمارے پاس ٹھوس اور واضح دلائل نہیں لایا۔ تیری بےبنیاد باتوں پر ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی تجھ پر ایمان لائیں گے۔ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت کی وجہ سے کچھ معبودوں کی تجھ پر مار پڑگئی ہے۔ جس کی وجہ سے تو الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے فرمایا تم جو کچھ چاہو کہو۔ لیکن میں اس بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ جو کچھ میں…
Read the full tafseer →53: قَالُوْا یٰھُوْدُمَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَۃٍ (انہوں نے کہا اے ہود تو ہمارے لئے کوئی دلیل لیکر نہیں آیا) یہ کذب و جحود کی وجہ سے انہوں نے کہا جیسا کہ قریش مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو کہا اور لولا انزل علیہ اٰیۃ من ربہ [ الرعد : 7[ ان آیات کو فوت کرنے کی وجہ سے (جو ہم مطالبہ کرتے ہیں) وَّمَانَحْنُ بِتَارِکِیْ اٰلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ (ہم تیری بات سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں) یہ تار کی اٰلھتنا کی ضمیر سے حال ہے۔ گویا تقدیر عبارت یہ ہے وما نترک اٰلہتنا صادرین عن قولک۔ ہم اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اس حال میں کہ تیری بات سے واپس لوٹنے والے ہیں۔ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (اور…
Read the full tafseer →قوم ہود کا واقعہ
53۔ ” قالوا یا ھود ما جئتنا بینۃ برھان “ اور واضح دلیل اپنے قول پر وما نحن بتارکی آلھتنا عن قولک وما نحن لک بمومنین “ تصدیق کرنے والے۔
Read the full tafseer →53۔ یہ ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا جواب ہے جب ہود (علیہ السلام) نے ان کو نصیحت کی کہ تم بتوں کا پوجنا چھوڑ دو اور خدا سے استغفار کرو اور آئندہ کے واسطے توبہ کرلو خدا تمہارے رزق میں اور اولاد میں ترقی کرے گا۔ تو ان لوگوں نے یہ جواب دیا کہ تم کوئی سند لے کر خدا کی طرف سے نہیں آئے ہو جو خواہ مخواہ ہم تم پر ایمان لے آئیں اور صرف تمہارے کہنے سے اپنے ان معبودوں کو چھوڑ دیں اور صاف انکار کردیا کہ ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے۔ ہود (علیہ السلام) کو بھی خدا کی طرف سے عجیب و غریب معجزے ملے تھے قوم عاد نے یہاں پر فقط مخالفت کی راہ سے یہ بات کہی تھی کہ تم کوئی سند لے کر نہیں آئے ہو۔ صحیح بخاری و مسلم…
Read the full tafseer →(قالوا) انہوں نے ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا : (یھود ماجئتنا ببینۃٍ ) ” اے ہود ! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر انہیں آیا “ اگر دلیل سے مراد وہ دلیل ہے جس کا وہ مطالبہ کرتے تھے تو ایسی دلیل حق کی صداقت کے لئے لازم نہیں، بلکہ لازم صرف یہ ہے کہ نبی ان کو ایسی دلیل اور ایسا ثبوت پیش کرے جو اس کی دعوت کی صحت پر دلالت کرتا ہو اور اگر ان کا مقصد یہ ہے کہ ہود (علیہ السلام) ان کے پاس کوئی دلیل ہی نہیں لائے جو ان کی دعوت کی صداقت کی گواہی دیتی ہو تو اس بارے میں وہ جھوٹ کہتے ہیں، کیونکہ جب بھی کسی قوم میں کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ کی اس کے ہاتھ پر ایسے ایسے معجزات ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →124 ۔ قوم عاد کے عناد و انکار اور ان کی ہٹ دھرمی کا نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے پاس کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ اور ہم لوگ محض تمہارے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں اور نہ ہی ہم تمہاری بات ماننے والے ہیں۔ یعنی ان سب کی فرمائش کے مطابق کوئی ایسا معجزہ جس کی بناء پر ہم ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں۔ سو یہ ان کی ضد و ہٹ دھرمی اور اعجوبہ پرستی کا ایک مظہر ہے اور یہی چیز آج تک دنیا میں موجود ہے۔ اہل حق کی طرف سے اہل باطل کے سامنے کتنے ہی دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ پیش کردئے جائیں، مگر جنہوں نے نہیں ماننا ہوتا وہ مان کر نہیں دیتے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 1 ۔ جو اس طرح کی بہکی بہکی باتیں کرنے لگا ہے افسوس ! یہی ” کسی بزرگ کی مار “ کا تصور آج مسلمانوں میں بھی آگیا ہے حالانکہ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ اللہ کے سوا کوئی زندہ یا مردہ ہستی کسی کا کچھ نہ بگاڑ سکتی ہے نہ بنا سکتی ہے۔ (از وحیدی) ۔
2 ۔ یعنی میرا تمہارے ان بتوں سے کوئی تعلق نہیں بلکہ میں ان کی ہر آن مذمت کرنے کو تیار ہوں۔
Read the full tafseer →(11:53) تار کی۔ تارک کی جمع بحالت نصب و جر مضاف الہتنا (مضاف مضاف الیہ) مضاف الیہ۔ تار کی اصل میں تارکین تھا۔ ن بوجہ اضافت کے حذف ہوگیا۔ (ہم) اپنے خداؤں کو چھوڑنے والے (نہیں) یعنی نہیں چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57
اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
قوم ہود کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے قوم عاد کی ہدایت کے واسطے اسی قبیلہ میں سے ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ انہوں نے فرمایا '' اے قوم میری ! تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ تم جن بتوں کو پوجتے ہو اس خیال میں جھوٹے ہو، کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود ہے۔ میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں، یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ ایک شخص بلا اجرت مفت میں تمہاری دنیا و آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے۔ اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
دین قوت وعزت کا نام ہے :
(ف 1) (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم کو دین ودنیا کی بشارتیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دینداری کے معنی ضعف واضمحلال کے نہیں ، فقروافلاس کے نہیں محکومی اور مظلومیت کے نہیں ، بلکہ قوت و عظمت کے ہیں ، اگر تم دیندار ہوجاؤ ، تو آسمان کے بابرکت دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے زمین تمہارے لئے سیم وزر کے خزانے اگلے گی ، اللہ تمہاری قوتوں میں اضافہ کر دے گا ، تم دنیا میں زبردست بن کر زندگی بسر کرو گے ، تمہارا افلاس دولتمندی سے بدل جائے گا ، دل و دماغ میں ایمان ویقین کی شمعیں روشن ہوں گی ، ایمان کے ساتھ دولت وقوت لازم ہے ، خدا…
Read the full tafseer →53 قوم کے لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کی تقریر سن کر جواب دیا اے ہود (علیہ السلام) تو نے ہمارے سامنے توحید اور اپنی رسالت پر کوئی دلیل تو پیش نہیں کی اور ہم فقط تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں ہیں اور نہ تجھ پر ایمان لانے والے ہیں یعنی انہوں نے عناداً کہا کہ دلیل تو کوئی تیرے پاس ہے نہیں اب فقط تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کی عبادت نہ تو ترک کریں گے اور نہ تیرے رسول ہونے کو مانیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
ف 3۔ یعنی عمل صالح کرو۔
Read the full tafseer →قوم کے لوگوں نے ہود (علیہ السلام) کی ان پیار بھری باتوں کا کیا جواب دیا ؟
73 ؎ قوم نے ہود (علیہ السلام) کی ان باتوں کا وہی جواب دیا جو نوح (علیہ السلام) کی قوم نوح (علیہ السلام) کو دے چکی تھی اور وہی جاہلانہ روش اختیار کی جو نوح (علیہ السلام) سے روا رکھی گئی تھی۔ وہ بیک زبان بولے اور پہلی بار یہ بات کہہ دی کہ اے ہود (علیہ السلام) ! آپ ہمارے پاس کوئی نشانی تو لائے نہیں جس کو دیکھ کر ہم یقین کرلیں کہ آپ اللہ کے نبی و رسول ہیں ؟ اس لئے ہم آپ کے کہنے پر اپنے ان معبودوں کو کیسے چھوڑ دیں جن کی عبادت و پکار ہمارے آبائو اجداد کرتے آ رہے ہیں کیا ہم سب اور ہمارے باپ دادا سب غلط تھے اور ایک تو ہی ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah.
Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…
Read the full tafseer →58. The unbelievers contended that Hud (peace be on him) had no clear evidence to prove that it is God Who had designated him to communicate a message, and that his teachings were true.
Read the full tafseer →