Explained with ayahs 50–52
قوم ہود کی تاریخ
اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی۔ اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا۔ اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 57
یہ وہی بات ہے جو پہلے رکوع میں محمد ﷺ سے کہلوائی گئی تھی کہ ”اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ تم کو اچھا سامان زندگی دے گا“۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت ہی میں نہیں اس دنیا میں بھی قوموں کی قسمتوں کا اتار چڑھاؤ اخلاقی بنیادوں پر ہی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس عالم پر جو فرمانروائی کر رہا ہے وہ اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے نہ کہ ان طبعی اصولوں پر جو اخلاقی خیر و شر کے امتیاز سے خالی ہوں۔ یہ بات کئی مقامات پر قرآن میں فرمائی گئی ہے کہ جب ایک قوم کے پاس نبی کے ذریعہ سے خدا کا پیغام پہنچتا ہے تو اس کی قسمت اس پیغام کے ساتھ معلق ہوجاتی ہے۔ اگر وہ اسے قبول کرلیتی ہے تو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
اس کے بعد آٹھ آیتوں میں حضرت صالح ؑ کا قصہ مذکور ہے جو قوم عاد کی دوسری شاخ یعنی قوم ثمود کی طرف معبوث ہوئے تھے، انہوں نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، قوم نے حسب عادت ان کو جھٹلایا اور یہ ضد کی کہ آپ کا نبی برحق ہونا ہم جب تسلیم کریں جب کہ ہمارے سامنے اس پہاڑ کی چٹان میں سے ایک اونٹنی ایسی ایسی نکل آئے۔
صالح ؑ نے ان کو ڈرایا کہ تمہارا منہ مانگا معجزہ اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہر کردیا اور پھر بھی تم نے ایمان لانے میں کوئی کوتاہی کی تو عادۃ اللہ کے مطابق تم پر عذاب آجائے گا اور سب ہلاک و برباد ہوجاؤ گے، مگر وہ اپنی ضد سے باز نہ آئے اللہ تعالیٰ نے ان کا مطلوبہ معجزہ اپنی قدرت کاملہ…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّيَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰي قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ
توبہ کی دعوت اور اس کی برکات : یہ قوم کو توبہ کی دعوت ہے کہ شرک اور نافرمانی سے تائب ہو کر خالص اپنے رب سے اپنے تعلق کو استوار کرو ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ توبہ کے دو رکن ہیں۔ ایک منفی دوسرا مثبت۔ منفی تو یہ ہے کہ آدمی نے جو گلط عقائد و اعمال اختیار کر رکھے ہیں ان سے دست بردار ہو، مثبت یہ ہے کہ ان کی جگہ صحیح عقائد و اعمال اختیار کرے۔ پہلے کے لیے استغفار کا لفظ ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ اپنے رب سے ملتجی…
Read the full tafseer →52۔ 1 حضرت ہود ؑ نے توبہ و استغفار کی تلقین اپنی امت یعنی اپنی قوم کو کی اور اس کے دو فوائد بیان فرمائے جو توبہ اور استغفار کرنے والی قوم کو حاصل ہوتے ہیں۔ جس طرح قرآن کریم اور بھی بعض مقامات پر یہ فوائد بیان کئے گئے ہیں (ملاحظہ سورت نوح ا۔ 11) اور نبی کا بھی فرمان ہے من لزم الاستغفار جعل اللہ لہ من کل ھم فرجا، ومن کل ضیق مخرجا ورزقہ من حیث لا یحتسب (ابوداود) ' جو پابندی سے استغفار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر فکر سے کشادگی، اور ہر تنگی سے راستہ بنا دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی۔
52۔ 2 یعنی میں تمہیں جو دعوت دے رہا ہوں، اس سے اعراض اور…
Read the full tafseer →30: شروع میں اللہ تعالیٰ نے انہیں قحط میں مبتلا فرمادیا تھا ؛ تاکہ وہ اپنی غفلت سے کچھ ہوش میں آئیں، اس موقع پر حضرت ہود ؑ نے انہیں یاد دلایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک تازیانہ ہے اور اگر اب بھی تم بت پرستی سے باز آجاؤ تو یہ قحط تم سے دور ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہیں بارشوں سے نہال کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →1 اسی سورت کے شروع میں اسی جملہ کی تفسیر گزر چکی۔
2 یعنی موقع بہ موقع خوب بارشیں دے گا۔ وہ قوم چونکہ کھیتی، باغ لگانے سے بڑی دلچسپی رکھتی تھی اس لیے ایمان لانے کے ظاہری فوائد و برکات وہ بیان کیے جو ان کے حق میں خصوصی طور پر موجب ترغیب ہوں۔ لکھتے ہیں کہ وہ لوگ تین سال سے خشک سالی اور امساک باراں کی مصیبت میں گرفتار تھے۔ ہود (علیہ السلام) نے وعدہ کیا کہ ایمان لا کر خدا کی طرف رجوع کرو گے تو یہ مصیبت دور ہوجائے گی۔
3 یعنی مالی اور بدنی قوت بڑھائے گا، اولاد میں برکت دے گا۔ خوشحالی میں ترقی ہوگی، اور مادی قوت کے ساتھ روحانی و ایمانی قوت کا اضافہ کردیا جائے گا۔ بشرطیکہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر…
Read the full tafseer →آیت 52 وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ
شرک ‘ بت پرستی کو چھوڑ دو اور اللہ سے اپنے اس گناہ کی معافی مانگو۔
یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ
قرآن حکیم کے کئی مقامات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف اپنا رسول اپنے پیغام کے ساتھ بھیجتا ہے تو اب اس قوم کی قسمت اس پیغام کے ساتھ معلق ہوجاتی ہے۔ اگر وہ قوم رسول پر ایمان لے آتی ہے اور اس پیغام کو قبول کرلیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے بصورت دیگر اسے تباہ و برباد کردیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →59 توبہ واستغفار سے رزق میں فراوانی :۔ قوم عاد کو کھیتی باڑی سے بڑی دلچسپی تھی اور زیادہ تر زراعت ہی ان کا ذریعہ معاش تھا وہ تین سال سے خشک سالی کی مصیبت میں گرفتار تھے اور بارش نہیں ہو رہی تھی۔ اس مصیبت کے دفعیہ کے لیے ہود نے انھیں اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنے کی تلقین فرمائی اور انھیں یقین دلایا کہ اگر تم ایک اللہ کی طرف رجوع کرکے اپنے سابقہ گناہوں کی سچے دل سے معافی طلب کرو گے تو یقیناً اللہ تعالیٰ تم پر آسمان سے بارش برسا کر رزق کے دروازے کھول دے گا جس سے تمہاری مالی اور بدنی قوت دونوں میں اضافہ ہوگا نیز خوش حالی کا دور دورہ ہوجائے گا اس بات کا تو قوم نے کوئی جواب نہ دیا البتہ کسی…
Read the full tafseer →81۔ یعنی استغفار تو کرو ماضی سے متعلق اور اب توبہ و رجوع اللہ کی جانب کرو مستقبل کیلئے۔
82۔ آیت سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ طاعات کو راحت دنیوی میں بھی دخل ہے اور مشاہدہ بھی ہے کہ طاعت وحسن عمل کا ثمرہ کبھی کبھی برکتوں کی صورتوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ گواصل دارا الجزاء عالم آخرت ہی ہے، روایتوں میں آتا ہے کہ قوم عاد تین سال سے خشک سالی میں مبتلا تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →ویٰقوم استغفروا ربکم اور اے میری قوم ! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو۔ یعنی سابق شرک اور گناہ کرنے کی معافی مانگو۔ مطلب یہ ہے کہ ایمان لے آؤ ‘ مسلم ہوجاؤ۔ حضرت عمرو بن عاص کی مرفوع روایت صحیح مسلم میں آئی ہے کہ اسلام گزشتہ (گناہوں) کو ڈھا دیتا ہے۔
ثم تو بوا الیہ پھر (شرک کو چھوڑ کر اور خالص توحید کے ساتھ مطیع بن کر) اس کی طرف لوٹو۔
یرسل السمآء علیکم مدرارًا ویزدکم قوۃً الی قوتکم وہ خوب بارشیں تم پر برسائے گا اور تمہاری (موجودہ) قوت میں مزید ترقی دے گا۔
سورۂ اعراف میں ہم نے بیان کردیا ہے کہ قوم عاد سہ سالہ کال میں مبتلا ہوگئی تھی۔ تین سال سے بارش نہیں ہوئی تھی اور عورتیں بھی بانجھ ہوگئی تھیں ‘ کسی…
Read the full tafseer →(52) اے میری قوم اپنے پروردگار کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور اسی سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو تو بہ اور اخلاص کے ساتھ اس کے سامنے جھک جاؤ وہ تم پر جب بھی تمہیں ضرورت پیش آئے گی ہمیشہ خوب بارشیں برسائے گا اور تمہیں بادشاہت اور اولاد کے ذریعے تمہاری قوت میں اضافہ کرے گا، اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرکے توبہ اور ایمان منہ مت پھیرو۔
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ۔۔ : ”السَّمَاۗءَ“ آسمان کے علاوہ ہر بلند چیز کو بھی ”سَمَاءٌ“ کہہ لیتے ہیں۔ کیونکہ ”سَمَا یَسْمُوْ“ کا معنی بلند ہونا ہے، یہاں ”السَّمَاۗءَ“ سے مراد بادل یا بارش ہے۔ ”مِّدْرَارًا“ یہ ”دَرٌّ“ سے مبالغے کا صیغہ ہے، جس کا معنی دودھ کا بہنا اور زیادہ ہونا ہے، پھر بہت برسنے والی بارش کے لیے بطور استعارہ استعمال ہونے لگا۔ ”دَرَّتِ السَّمَاء بالْمَطَرِ دَرًّا، وَ تَدِرُّ دَرًّا“ جب آسمان سے بارش بہت برسے۔ ان آیات سے اور دوسرے مقامات مثلاً الاحقاف (24) سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے فخر و غرور اور اپنے رسول ہود ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے کافی عرصہ تک ان سے بارش روک لی گئی،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[وَيٰقَوْمِ : اور اے میری قوم ] [اسْتَغْفِرُوْا : تم لوگ مغفرت مانگو ] [رَبَّكُمْ : اپنے رب سے ] [ثُمَّ تُوْبُوْٓا : پھر تم لوگ پلٹو ] [اِلَيْهِ : اس کی طرف ] [يُرْسِلِ : تو وہ بھیجے گا ] [السَّمَاۗءَ : آسمان کو ] [عَلَيْكُمْ : تم پر ] [مِّدْرَارًا : موسلادھار ہوتے ہوئے ] [وَّيَزِدْكُمْ : اور وہ زیادہ کرے گا تم کو ] [قُوَّةً : بلحاظ قوت کے ] [اِلٰي قُوَّتِكُمْ : تمہاری (موجودہ) قوت کی طرف (یعنی پر)] [وَلَا تَتَوَلَوْا : اور روگردانی مت کرو ] [مُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والے ہوتے ہوئے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →49: شرک کو چھوڑ کر اللہ کی توحید پر ایمان لاؤ اور اپنے گذشتہ مشرکانہ اعمال وافعال کی اللہ سے معافی مانگو۔ اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ تمہیں خوشحال اور عیش و آرام کی زندگی سے ہمکنار کرے گا اور تمہاری جمعیت کو مضبوط بنائے گا۔ الی بمعنی مع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ربط آیات
اپنی توحید کو بیان کرنے ، اپنے پیغمبر آخر الزمان کو تسلی دینے اور صبر کا قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة ہود میں بعض سابقہ انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ سورة حضرت ہود (علیہ السلام) کے نام پر ہی موسوم ہے۔ آج کے درس میں آپ ہی کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ آپ کی دعوت کے جواب میں آپ کی قوم کی نافرمانی اور کفر اور شرک کا تذکرہ ہے اور پھر ان کا حشر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو عبرتناک سزا دی۔ پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر تھا ، اب ہود (علیہ السلام) اور ان کی تقریر اور نصیحت کا کچھ حصہ ان آیات میں بیان کیا جارہا ہے۔ پھر آگے قوم کا جواب آئے گا اور آخر میں ان…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْہِ يُرْسِلِ السَّمَاۗءَ عَلَيْكُمْ مِّدْرَارًا وَّيَزِدْكُمْ قُوَّۃً اِلٰي قُوَّتِكُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِيْنَ 52
استغفار
الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، والاسْتِغْفَارُ : طلب ذلک بالمقال والفعال، وقوله : اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10]
( غر ) الغفر
( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اور استغفار کے معنی قول اور عمل سے مغفرت طلب کرنے کے ہیں لہذا آیت کریمہ : ۔ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كانَ غَفَّاراً [ نوح/ 10] اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَیٰـقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْآ اِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 52)
(اے میری قوم ! اپنے رب سے مغفرت طلب کرو، پھر اسی کی طرف لوٹو، وہ آسمان سے تم پر موسلادھار بارش اتارے گا اور تمہیں بڑھا دے گا قوت میں تمہاری پہلی قوت سے، اور اللہ تعالیٰ سے منہ نہ موڑو جرم کرتے ہوئے۔ )
استغفار و توبہ کی ترغیب
حضرت ہود نے اللہ کی الوہیت کی دعوت دینے اور عقلی دلیل کے ذریعے سے ثابت کرنے کے بعد قوم کو استغفار کرنے اور پھر اسی کی طرف لوٹ جانے کی ترغیب دی۔ اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی دعوت کا ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ھود (علیہ السلام) کا قوم سے خطاب جاری ہے۔
حضرت ھود (علیہ السلام) نے اللہ کی عبادت کی دعوت دیتے ہوئے اپنی قوم کو یہ حکم بھی دیا کہ اے میری قوم ! اپنے رب سے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی مانگو اور آئندہ کے لیے کفرو شرک اور ظلم و زیادتی سے باز آجاؤ۔ تمہیں آخرت میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہونے کے ساتھ دنیا میں اللہ تعالیٰ تم پر رحمت کی بارش برسائے گا اور تمہاری قوت میں اور زیادہ اضافہ کرے گا۔ ان باتوں کا انکار کرکے مجرم نہ بنو۔ حضرت ھود (علیہ السلام) کے خطاب سے یہ بات بالکل عیاں ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے کا فائدہ صرف آخرت میں ہی نہیں ہوگا بلکہ…
Read the full tafseer →برکاتِ استغفار :
52: وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُ وْا رَبَّکُمْ (اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو) اس پر ایمان لائو۔ ثُمَّ تُوْبُوْا اِلَیْہِ (پھراسکی
بارگاہ میں توبہ کرو) غیر اللہ کی عبادت سییُرْسِلِ السَّمَآئَ (وہ آسمان کو مقرر کر دے گا) بارش کیلئے عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا ( تم پر مسلسل) یہ مدرارا حال ہے اس حال میں کہ وہ کثرت سے کوٹنے والی ہو۔ وَیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ (وہ تمہاری قوت میں مزید ترقی دے گا) انہوں نے کثرت امطار سے ان کو ایمان کی طرف مائل کرنا چاہا۔ اور اس طرح اضافی قوت سے بھی کیونکہ ان لوگوں کو اپنے کھیتوں اور باغات کیلئے پانی کی سخت ضرورت تھی۔ ان کو اپنی قوت و…
Read the full tafseer →52۔ ” ویاقوم استغفر واربکم “ یعنی اس پر ایمان لائو ، استغفار یہاں ایمان کے معنی میں ہے۔ ” ثم توبوا الیہ “ اس کے غیر کی عبادت سے اور اپنے پچھلے گناہوں سے ” یرسل السماء علیکم مدرارا “ یعنی تم پر ضرورت کے وقت لگا تار بارش بھیجیں گے ۔ ” ویزدکم قوۃ الی قوتکم “ اللہ تعالیٰ نے ان سے تین سال کے لیے بارش روک دی اور ان کی عورتوں کو بانجھ کردیا تو ہود (علیہ السلام) نے فرمایا اگر تم ایمان لے آئو تو اللہ تعالیٰ تم پر بارش برسائیں گے تو تمہارا مال زیادہ اور تمہاری اولاد پیدا ہونے لگ جائے گی تو مال اور اولاد کے ذریعے تمہاری قوت بڑھ جائے گی اور بعض نے کہا ہے کہ بدن کی قوت کے ساتھ دین کی قوت مل جائے گی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 52۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا حضرت ہود کو قوم عاد کا بھائی فرمایا صرف بسبب قومیت اور قرابت کے عاد دو ہوئے ہیں۔ ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں جن کی طرف یہی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے دوسرے عاد شداد اور لقمان اور ان کی قوم جن کا ذکر { ارم ذات العماد } ہے عاد ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ایک قبیلہ مشہور ہوگیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے آٹھ سو برس کے بعد دنیا میں آئے ان کی عمر چار سو چونسٹھ برس کی ہوئی قوم عاد ملک شام اور ملک یمن کے بیچ میں ایک ریگستان میں رہتی تھی اور تبول کی پرستش کرتی…
Read the full tafseer →(ویقوم استغفرو ربکم) ” اور اے میری قوم ! اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ “ یعنی جو گناہ تم سے سرزد ہوچکے ہیں ان پر اپنے رب سے بخشش طلب کرو۔ (ثم تو بوا الیہ) ” پھر اس کے آگے توبہ کرو۔ “ یعنی آئندہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ جب تم توبہ کرو گے (یرسل السماء علیکم مدرارا) ” وہ تم پر موسلادھار مینہ برسائے گا۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی بکثرت بارش سے نوازے گا جس سے زمین سرسبز و شاداب ہوگی اور رزق میں اضافہ ہوگا۔ (ویزدکم قوۃ الی قوتکم) ” اور زیادہ کرے گا تم کو قوت پر قوت میں “ کیونکہ وہ سب سے طاقت ور لوگ تھے۔ اسی لئے انہوں نے کہا تھا : (من اشد منا قوۃ) ” ہم سے زیادہ کون طاقتور ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →119 ۔ اپنے رب سے بخشش مانگنے کی تعلیم و تلقین : سو حضرت ہود (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم لوگ بخشش مانگو اپنے رب سے۔ اپنے گزشتہ جرائم کی۔ ایمان لاکر کہ وہ بڑا ہی بخشنہار ہے۔ سچی توبہ پر وہ سب ہی گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں کہ اس کی رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں۔ سو نجات کی راہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں اور خطاؤں کی اپنے رب سے معافی مانگے اور سچے دل سے مانگے اور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے استغفار کو لازم پکڑ لیا اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ مہیا فرمائے گا اور اس کو ہر غم سے کشائش نصیب فرمائے گا اور اس کو روزی وہاں سے عطا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ یا اپنے تمام باطل معبودوں کو چھوڑ کر اسی کی طرف پلٹ آئو۔
10 ۔ تفسیر روایات کے بموجب قوم عاد میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط نمودار ہوگیا تھا جو کئی سال تک رہا۔ حضرت ہود نے ان سے کہا کہ ایمان لا کر اپنے گناہوں سے توبہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بارش ہوگی اور قحط کی بجائے خوشحالی اور فراوانی پیدا ہوجائے گی۔ (معالم) ۔ احادیث میں استغفار کے بہت سے فوائد مذکور ہیں۔ ایک روای میں ہے کہ جو شخص استغفار کو عادت بنالے اللہ تعالیٰ اس کی ہر مشکل آسان اور الجھن دور کردیتا ہے اور غیر متوقع طور سے اس کی ضرورتیں پوری فرما دیتا ہے۔ (ابن کثیر) ۔
11 ۔ یا میری اطاعت سے منہ نہ پھیرو ورنہ تم مجرم قرار…
Read the full tafseer →(11:52) یرسل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط (مکسور بالوصل) واحد مذکر غائب ہے ۔ بھیجے گا ۔ ارسال (افعال) سے۔
السمآئ۔ آسمان ۔ ابر۔ بارش۔
مدرارا۔ صیغہ مبالغہ ۔ بہت برسنے والا۔ اصل میں مدرار۔ در اور درۃ سے ہے جس کے معنی دودھ کے ہیں پھر بطور استعارہ بارش کے لئے استعمال ہونے لگا۔ یرسل السماء علیکم مدرارا وہ تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔ یا تم پر بار بار بارش برسانے والے بادل بھیجے گا۔ یا آسمان سے تم پر موسلا دھار بارش بھیجے گا۔
لاتتولوا۔ (جس کی طرف میں تمہیں دعوت دیتا ہوں) اسے سے روگردانی نہ کرو۔ منہ نہ موڑو اعراض مت کرو۔
مجرمین۔ ای مصرین علی ما انتم علیہ من الاجرام۔ اپنے جرموں پر اصرار کرتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57
اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
قوم ہود کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے قوم عاد کی ہدایت کے واسطے اسی قبیلہ میں سے ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ انہوں نے فرمایا '' اے قوم میری ! تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ تم جن بتوں کو پوجتے ہو اس خیال میں جھوٹے ہو، کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود ہے۔ میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں، یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ ایک شخص بلا اجرت مفت میں تمہاری دنیا و آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے۔ اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
دین قوت وعزت کا نام ہے :
(ف 1) (آیت) ” یرسل السمآء علیکم مدرارا “۔ کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) قوم کو دین ودنیا کی بشارتیں سناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دینداری کے معنی ضعف واضمحلال کے نہیں ، فقروافلاس کے نہیں محکومی اور مظلومیت کے نہیں ، بلکہ قوت و عظمت کے ہیں ، اگر تم دیندار ہوجاؤ ، تو آسمان کے بابرکت دروازے تمہارے لئے کھل جائیں گے زمین تمہارے لئے سیم وزر کے خزانے اگلے گی ، اللہ تمہاری قوتوں میں اضافہ کر دے گا ، تم دنیا میں زبردست بن کر زندگی بسر کرو گے ، تمہارا افلاس دولتمندی سے بدل جائے گا ، دل و دماغ میں ایمان ویقین کی شمعیں روشن ہوں گی ، ایمان کے ساتھ دولت وقوت لازم ہے ، خدا…
Read the full tafseer →52 اور اے میری قوم تم اپنے پروردگار سے بخشش اور مغفرت طلب کرو پھر آئندہ کے لئے بھی اس کی بارگاہ میں رجوع کرو تم پر وہ خوب مینہ برسائے گا اور لگاتار بارشیں آسمان سے برسائے گا اور تمہیں قوت دے کر تمہاری طاقت و قوت میں ترقی دے گا اور گنہگار رہ کر ایمان سے روگردانی نہ کرو یعنی شرک و کفر سے توبہ کرو اور ایمان لے آئو اور عبادت کے ساتھ متوجہ رہو پس ایمان و عمل صالح کی برکت سے رزق کی کشائش بھی ہوگی اور جسمانی قوت کے ساتھ روحانی قوت بھی پیدا ہوگی اور مجرم رہ کر پیٹھ پھیرو گے تو سز ا کے مستحق ہوگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
ف 3۔ یعنی عمل صالح کرو۔
Read the full tafseer →میری قوم کے لوگو ! اللہ سے مغفرت طلب کرو وہ تم پر انعامات کی بارش کر دے گا
72 ؎ سیدنا ہود (علیہ السلام) نے تیسری بات جو اپنی قوم سے فرمائی وہ یہ تھی کہ اپنی پچھلی زندگی میں جو کفر و شرک تم کرچکے ہو اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت طلب کرو اور ان سارے گناہوں اور جرموں کی معافی طلب کرو اور سچے دل سے توبہ کرو اللہ سے معاہدہ کرو کہ آئندہ تم ایسا نہیں کرو گے اور یاد رکھو کہ اگر تم نے توبہ و استغفار کرلی اور گناہوں سے بچ گئے تو تمہاری آخرت بھی سنور جائے گی اور یہ دنیا کی زندگی بھی لیکن اگر تم اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہے تو وہ وقت کوئی دور نہیں کہ تم عذاب الٰہی کی لپیٹ میں آ جائو گے اور یہی قحط سالی جس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–61
After that, the next eight verses (61-68) carry the story of Sayyidna Salih peace be upon him. He was sent to the people of Thamud, another branch of the tribe of ` Ad. He too invited his people to believe in Tauhid, the Oneness of Allah. As customary, his people belied him and insisted that he must first make a she-camel of a specified description come out from the rock of the mountain in front of them in order to have them believe that he was a true prophet of Allah.
Sayyidna Salih (علیہ السلام) warned them: If Allah Ta` ala shows you your custom-ordered miracles, and you still fail to…
Read the full tafseer →57. This is a reiteration of what was said earlier, 'that you may seek forgiveness of your Lord and turn to Him in repentance whereupon He will grant you a fair enjoyment of life until an appointed term'. (See verse 3 above.) We learn from this that the rise and fall of a nation's fortunes depends on moral factors. For God's rule over the world is based on moral rather than physical laws which are bereft of all distinction between good and evil. The Qur'an has repeatedly mentioned that when a nation receives God's Message through a Prophet, the fate of that nation depends entirely on how it…
Read the full tafseer →