Explained with ayahs 50–52
قوم ہود کی تاریخ
اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی۔ اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا۔ اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 56
یہ نہایت بلیغ فقرہ ہے کہ جس میں ایک بڑا استدلال سمیٹ دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ میری بات کو جس طرح سرسری طور پر تم نظر انداز کر رہے ہو اور اس پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ ورنہ اگر تم عقل سے کام لینے والے ہوتے تو ضرور سوچتے کہ جو شخص اپنی کسی ذاتی غرض کے بغیر دعوت و تبلیغ اور تذکیر و نصیحت کی یہ سب مشقیں جھیل رہا ہے، جس کی اس تگ و دو میں تم کسی شخصی یا خاندانی مفاد کا شائبہ تک نہیں پاسکتے، وہ ضرور اپنے پاس یقین و اذعان کی کوئی ایسی بنیاد اور ضمیر کے اطمینان کی کوئی ایسی وجہ رکھتا ہے جس کی بنا پر اس نے اپنا عیش و آرام چھوڑ…
Read the full tafseer →وعظ و نصیحت اور دعوت دین پر اجرت
قرآن کریم نے یہ بات تقریبا سب ہی انبیاء کی زبان سے نقل کی ہے کہ ہم تم سے اپنی دعوت و محنت کا کوئی معاوضہ نہیں مانگتے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ کا اگر معاوضہ لیا جائے تو دعوت مؤ ثر نہیں رہتی، جس پر تجربہ شاہد ہے کہ وعظ و نصیحت پر اجرت لینے والوں کی بات سامعین پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
تیسری بات یہ فرمائی کہ اپنی پچھلی زندگی میں جو کفر و گناہ کرچکے ہو، اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت مانگو اور اگلی زندگی میں ان سب گناہوں سے توبہ یعنی اس کا پختہ ارادہ اور معاہدہ کرو کہ اب ان کے پاس نہ جائیں گے، اگر تم نے یہ استغفار و توبہ کا عمل کرلیا تو اس کے نتیجہ میں آخرت…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ فَطَرَنِيْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔
حضرت ہود کی بےقرار : یعنی میں اس طرح ٹوٹ ٹوٹ کر جو تمہیں سمجھا رہا ہوں تو اس لیے نہیں کہ اس کے عوض میں تم سے اپنا کوئی مفاد وابستہ رکھتا ہوں۔ یہ میں کوئی مال تجارت لے کر تمہارے پیچھے پیچھے نہیں پھر رہا ہوں۔ اگر تم نے نہ خریدا تو میرا کاروبار بیٹھ جائے گا۔ یہ تو محض تمہاری صلاح و فلاح کی آرزو ہے جو تمہاری تمام ناقدریوں کے باوجود مجھے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی تو خدارا میری بات توجہ سے سنو تو سہی۔ آخر میں اس کا کوئی معاوضہ تو نہیں مانگ رہا ہوں کہ تم میری بات سننے کے بھی روادار…
Read the full tafseer →51۔ 1 اور یہ نہیں سمجھتے کہ جو بغیر اجرت کے اور لالچ کے تمہیں اللہ کی طرف بلا رہا ہے وہ تمہارا خیر خواہ ہے، آیت میں یَا قَوْمِ ! سے دعوت ایک طریقہ کار معلوم ہوتا ہے یعنی بجائے یہ کہنے کے
' اے کافرو ' اے مشرکو ' اے میری قوم سے مخاطب کیا گیا ہے۔ '
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
29: قوم عاد کا مختصر تعارف سورة اعراف (65:7) میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →8 یعنی تمہارے مال کی مجھے ضرورت نہیں۔ میرا پیدا کرنے والا ہی تمام دنیاوی ضروریات اور اخروی اجرو ثواب کا کفیل ہے یہ بات ہر ایک پیغمبر نے اپنی قوم سے کہی تاکہ نصیحت بےلوث اور موثر ہو۔ لوگ ان کی محنت کو دنیاوی طمع پر محمول نہ کریں۔
9 یعنی اس قدر غبی ہو، اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ ایک شخص بےطمع بےغرض، محض درد مندی اور خیر خواہی سے تمہاری فلاح دارین کی بات کہتا ہے۔ تم اسے دشمن اور بدخواہ سمجھ کر دست و گریباں ہوتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 50 وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا
قوم عاد حضرت سام کی نسل سے تھی۔ یہ قوم اپنے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ لق ودق صحرا ہے۔
قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ
یہ جو تم نے مختلف ناموں سے معبود گھڑ رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ تم محض افترا کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →58 دعوت اور رسالت پر اجر :۔ ہر پیغمبر نے اپنی قوم سے یہ بات کہی ہے کہ میں بغیر کسی لالچ کے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا رہا ہوں اور تم ہو کہ مجھے اپنا دشمن سمجھ کر مجھ سے دست و گریبان ہوتے ہو۔ میں نے اپنا عیش و آرام بھی چھوڑا ہے دنیا کمانے کی فکر بھی چھوڑ رکھی ہے تم سے بھی کسی معاوضہ کا مطالبہ نہیں کر رہا پھر تم سب کی دشمنی بھی مول لے رہا ہوں آخر تم خود بھی کچھ سوچو تو سہی کہ میرا اس میں کیا ذاتی فائدہ ہوسکتا ہے ایسے شخص کی بات اتنی بےوزن تو نہیں ہوسکتی کہ اسے بلا سوچے سمجھے رد کردیا جائے۔
Read the full tafseer →80۔ ضرور اور مناسب حاشیے سورة یونس میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →یٰقوم لا اسئلکم علیہ اجرًا اے قوم والو ! میں اس نصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کہ تم پر مالی بوجھ پڑے ‘ اور بار پڑنے کی وجہ سے تم میری نصیحت کو نہ مانو۔ یا مال کا لالچ مجھے دروغ بندی پر آمادہ کرے۔
ان اجري الا علی الذی فطرتی میرا ثواب تو بس اسی کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا (یعنی ثواب کا ذمہ تو اسی نے لے رکھا ہے ‘ اس لئے مجھے تم سے کوئی لالچ نہیں۔ مترجم)
افلا تعقلون۔ کیا تم نہیں سمجھتے۔ یعنی کیا اپنی اپنی عقل سے کام لے کر تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ ایسے (بےلالچ ‘ مخلص) کا قول جھوٹ کے احتمال سے بھی پاک ہوتا ہے اور اس کی تصدیق کرنی تم پر لازم ہے۔
Read the full tafseer →(51) اور میں تم سے اس دعوت توحید پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو اس اللہ کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا پھر کیوں تم اس چیز کی تصدیق نہیں کرتے کیا تمہارے پاس دماغ نہیں۔
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا۔۔ : ”فَطَرَ“ کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا : (اِذَا السَّمَاۗءُ انْفَطَرَتْ) [ الانفطار : 1 ] ”اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔“ ”فَطَرَنِيْ“ سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔
اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت و تبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ : میں نہیں مانگتا تم سے ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [اَجْرًا : کوئی معاوضہ ] [ان : نہیں ہے ] [اَجْرِيَ : میرا اجر ] [اِلَّا : مگر ] [عَلَي الَّذِي : اس پر جس نے ] [فَطَرَنِيْ : پیدا کیا مجھ کو ] [اَفَلَا تَعقلوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
48: یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے کے متعلق ہے حضرت ہود (علیہ السلام) نے واضح الفاظ میں اپنی قوم کو یہ پیغام دیایٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ میری قوم صرف خدائے واحد کو پوجو اور صرف اسی کو پاکرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں یعنی وحدو اللہ ولا تشرکوا معہ شیئا فی العبادۃ (خازن ج 3 ص 237) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ تم اپنے معبودان باطلہ کو دعاء اور پکار میں اللہ کے شریک بنا کر اللہ پر افتراء کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ربط آیات
اپنی توحید کو بیان کرنے ، اپنے پیغمبر آخر الزمان کو تسلی دینے اور صبر کا قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة ہود میں بعض سابقہ انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ سورة حضرت ہود (علیہ السلام) کے نام پر ہی موسوم ہے۔ آج کے درس میں آپ ہی کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ آپ کی دعوت کے جواب میں آپ کی قوم کی نافرمانی اور کفر اور شرک کا تذکرہ ہے اور پھر ان کا حشر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو عبرتناک سزا دی۔ پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر تھا ، اب ہود (علیہ السلام) اور ان کی تقریر اور نصیحت کا کچھ حصہ ان آیات میں بیان کیا جارہا ہے۔ پھر آگے قوم کا جواب آئے گا اور آخر میں ان…
Read the full tafseer →يٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْہِ اَجْرًا 0ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي الَّذِيْ فَطَرَنِيْ 0ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 51
أجر
الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] .
والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →یٰـقَوْمِ لَآاَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّعَلَی الَّذِیْ فَطَرَنِیْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔
(سورۃ ہود : 51)
(اے میری قوم کے لوگو ! میں اس پر تم سے کسی معاوضے کا طالب نہیں۔ میرا اجر تو بس اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا تم سمجھتے نہیں۔ )
آیت کے دو مفہوم
اس آیت کریمہ میں ایک ایسی بات فرمائی گئی ہے جس کو سمجھنے کے لیے عقل کا استعمال ضروری ہے۔ اس لیے آیت کے آخر میں عقل کا حوالہ دیا گیا ہے۔ عام رواروی میں اس آیت کا مفہوم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ میں جو عظیم الشان کام سرانجام دے رہا ہوں اس کے لیے میں تم سے کسی اجر کا متمنی نہیں ہوں حالانکہ دنیا میں کوئی کام آدمی معاوضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا سب سے بڑا جرم اللہ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔ قوم عاد شرک کے گھناؤنے جرم کے ساتھ کمزور لوگوں پر ظلم ستم کرنے والے تھے۔ یہ قوم تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اپنے زمانے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی۔ بڑے لینڈ لارڈ، باغات کے مالک اور پہاڑ تراش تراش کر عظیم الشان گھر تیار کرتے تھے۔ (الشعراء : 128 تا 134) ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قدو قامت کے لحاظ سے دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں پیدا کیا گیا۔ سورة الفجر : 8 حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ صرف ایک…
Read the full tafseer →51: یٰـقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًاج اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی الَّذِیْ فَطَرَنِیْ (اے میری قوم میں اس پر تم سے اجر نہیں مانگتا میری مزدوری تو اس اللہ پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا) جتنے بھی انبیاء (علیہم السلام) گزرے تمام کو ان کی قوموں نے اسی قسم کی بات کہی۔ کیونکہ وہ نصیحت کرنے آئے تھے۔ نصیحت مخلصانہ وہی کرسکتا ہے جو مطامع کو مٹانیوالا ہو۔ اور جب تک ان میں سے کسی چیز کی طمع رکھتا ہے کامیابی نہیں ہوتی۔ اور نہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ اَفَـلَاتَعْقِلُوْنَ (کیا تم سمجھتے نہیں ہو) جبکہ تم اس شخص کی نصیحت مسترد کر رہے ہو جو اس پر تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں وہ تو صرف خدائے ذوالجلال سے بدلہ…
Read the full tafseer →تفسیر 51۔” یا قوم لا اسئلکم علیہ “ رسالت کی تبلیغ پر تم سے کوئی معاوضہ نہیں مانگتا ۔” اجرا “ عوض ” ان اجری “ نہیں ہے میرا ثواب الاعلی الذی فطرنی مجھے پیدا کیا ہے ” افلا تعقلون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 52۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا حضرت ہود کو قوم عاد کا بھائی فرمایا صرف بسبب قومیت اور قرابت کے عاد دو ہوئے ہیں۔ ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں جن کی طرف یہی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے دوسرے عاد شداد اور لقمان اور ان کی قوم جن کا ذکر { ارم ذات العماد } ہے عاد ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ایک قبیلہ مشہور ہوگیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے آٹھ سو برس کے بعد دنیا میں آئے ان کی عمر چار سو چونسٹھ برس کی ہوئی قوم عاد ملک شام اور ملک یمن کے بیچ میں ایک ریگستان میں رہتی تھی اور تبول کی پرستش کرتی…
Read the full tafseer →پھر اطاعت کے راستے پر گامزن ہونے سے کسی چیز کے مانع نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (یقوم لا اسئلکم علیہ اجراً ) ” اے میری قوم ! میں اس کا تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔ “ یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں تمہارے اموال میں سے کوئی تاوان وصول نہیں کرتا کہ تمہیں کہنا پڑے ” یہ ہمارے مال ہتھیانا چاہتا ہے “ میں تو تمہیں بغیر کسی معاوضہ کے اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ (ان اجری الا علی الذی فطرنی افلا تعقلون) ” میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، کیا پس تم نہیں سمجھتے “ یعنی جس کی طرف تمہیں دعوت دیتا ہوں کیا تم اسے سمجھتے نہیں کہ یہ قبولیت کی موجب ہے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →118 ۔ منکروں کو عقل سے کام لینے کی دعوت و تحریک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ اے میری قوم میں تم لوگوں سے اس کام پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ بلکہ میں خالص اللہ کی رضا کے لیے اور تمہاری بھلائی کی خاطر تم کو یہ دعوت دے رہا ہوں۔ سو میں دعوت حق پر تم لوگوں سے کسی اجر و معاوضہ کا مطالبہ نہیں کرتا کہ تمہیں مجھ پر یہ الزام لگانے کا موقع مل سکے کہ یہ شخص تو محض اپنے مفاد کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ اور (اجرا) میں نکرہ تحت النفی واقع ہونے کے باعث مفید عموم ہے۔ یعنی میں کسی بھی قسم کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا۔ نہ ووٹ، نہ نوٹ، نہ صلہ نہ ستائش وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ جو بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ کہ جو شخص سچے دل سے دعوت و تبلیغ اور نصیحت کی مشقتیں اٹھا رہا ہے اور جسے اپنے رب سے اجر کی امید ہے وہ تم سے کوئی دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(11:50) والی عاد اخاہم ھودا۔ اس کا عطف ارسلنا نوحا الی قومہ (آیۃ 25) پر ہے۔ گویا آیت کی تقدیر ہے وارسلنا الی عاد اخاھم ھودا۔ اخاہم (ان کا بھائی) یعنی انہیں کے نسب سے۔
مفترون۔ جھوٹے بہتان باندھنے والے۔ اصل میں افتراء سے مفتریون تھا۔ اس کو احد مفتری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57
اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
قوم ہود کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے قوم عاد کی ہدایت کے واسطے اسی قبیلہ میں سے ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ انہوں نے فرمایا '' اے قوم میری ! تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ تم جن بتوں کو پوجتے ہو اس خیال میں جھوٹے ہو، کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود ہے۔ میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں، یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ ایک شخص بلا اجرت مفت میں تمہاری دنیا و آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے۔ اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(ف 1) نوح (علیہ السلام) کی دعوت تبلیغ قوم کا انکار ، وجمود بالآخر خدا کی غیرت کا جوش میں آنا ، زمین کا ابال ، آسمان سے بےپناہ بارش لڑکے کے لئے سفارش اور اس کی نامنظوری ، یہ سب باتیں جو قرآن حکیم نے تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں کسے معلوم تھیں ؟ قرآن حکیم انہیں غیب کی خبریں قرار دیتا ہے ،
وہ قوم جس میں تعلیم نہیں ، تاریخ اقوام کی تدوین وترتیب کا کوئی سامان نہیں ، اس میں ایک امی شخص کھڑا ہوتا ہے اور تمام گذشتہ قوموں کے کارناموں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا شروع کردیتا ہے ، یہ بجز الہام اور تائید ربانی کیونکر ممکن ہے ۔
حل لغات :
فطرنی : جس نے مجھے پیدا کیا ، بنایا ۔
مدرارا : وہ ابر جو خوب برسے ۔
Read the full tafseer →51 اے میری قوم میں تم سے اس دین حق کی تبلیغ پر کوئی اجرت اور معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اس اللہ تعالیٰ پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے اور بالکل ہی عقل سے کام نہیں لیتے حضرت ہود (علیہ السلام) نے توحید کی تبلیغ فرمائی تو عام کفار کی طرح ان کی قوم نے بھی جواب دیا ہوگا اس پر ہود (علیہ السلام) نے اجرت کی نفی فرمائی اور اجر کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ بتایا اور فطرنی کہہ کر اللہ تعالیٰ کی خالقیت کا اظہار کیا کہ اس نے عدم محض سے مجھ کو پیدا کیا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ دلیل مصح نبوت موجود اور مانع صحت نبوت یعنی خود غرضی مرتفع پھر نبوت میں شبہ کی کیا وجہ۔
Read the full tafseer →ہود (علیہ السلام) نے قوم کو کہا کہ میں تم سے کسی اجر و مزدوری کا خواہش مند نہیں
71 ؎ ہود (علیہ السلام) کی دعوت کا دوسرا پیغام یہ تھا کہ لوگو ! میں جو یہ دعوت توحید لے کر آیا ہوں اور اس کیلئے اپنی زندگی کو وقف کر رکھا ہے تم ذرا اتنا تو غور کرو کہ میں نے یہ مشقت و محنت کیوں اختیار کی ؟ کیا میں نے اس محنت و مشقت پر تم سے کوئی معاوضہ طلب کیا ہے ؟ کیا اس دعوت کے باعث میں نے آپ سے کوئی مادی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر تم ہی غور کرو کہ یہ بلامعاوضہ دعوت جو میں پیش کر رہا ہوں وہ سراسر پیغام الٰہی ہے اور میں پیغام الٰہی کا پہنچانے والا ہوں اور اس رب کریم کے فرمان کے…
Read the full tafseer →Payment for Da'wah work
The Holy Qur'an reports almost all prophets saying that they do not ask for any payment against the duty of Da'wah they do. This shows that, in case payment is accepted (as pre-arranged or as implied by custom) against Da'wah and Tabligh, the call remains ineffective. Experience bears it out that those who take wages for their religious sermons, addresses and good counsels leave the hearts of their audience unchanged at the end of the exercise.
Three: Forgiveness and Repentance: He exhorted them to seek forgiveness from Allah Ta` ala for their disbelief and for sins…
Read the full tafseer →56. This is a very eloquent statement which also embodies a very weighty argument. The Makkan unbelievers had summarily rejected the Prophet's Message without even seriously considering it. This was indicative of the fact that they did not use their brains. For, had they used them, they would certainly have been impressed by the veracity of the Prophet (peace be on him) and the truth of his teachings. For here was someone who had gone through immense suffering in the course of his calling his people to the truth and in sincerely counselling and admonishing them. Again, it was quite evident…
Read the full tafseer →