Explained with ayahs 50–52
قوم ہود کی تاریخ
اللہ تعالیٰ نے حضرت ہود ؑ کو ان کی قوم کی طرف اپنا رسول ﷺ بنا کر بھیجا، انہوں نے قوم کو اللہ کی توحید کی دعوت دی۔ اور اس کے سوا اوروں کی پوجا پاٹ سے روکا۔ اور بتلایا کہ جن کو تم پوجتے ہو ان کی پوجا خود تم نے گھڑ لی ہے۔ بلکہ ان کے نام اور وجود تمہارے خیالی ڈھکوسلے ہیں۔ ان سے کہا کہ میں اپنی نصیحت کا کوئی بدلہ اور معاوضہ تم سے نہیں چاہتا۔ میرا ثواب میرا رب مجھے دے گا۔ جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ کیا تم یہ موٹی سی بات بھی عقل میں نہیں لاتے کہ یہ دنیا آخرت کی بھلائی کی تمہیں راہ دکھانے والا ہے اور تم سے کوئی اجرت طلب کرنے والا نہیں۔ تم استغفار میں لگ جاؤ، گذشہ گناہوں کی معافی اللہ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 54
سورة اعراف رکوع 5 کے حواشی پیش نظر رہیں۔
سورة هُوْد 55
یعنی وہ تمام دوسرے معبود جن کی تم بندگی و پرستش کر رہے ہو حقیقت میں کسی قسم کی بھی خدائی صفات اور طاقتیں نہیں رکھتے۔ بندگی و پرستش کا کوئی استحقاق ان کو حاصل نہیں ہے۔ تم نے خواہ مخواہ ان کو معبود بنا رکھا ہے اور بلاوجہ ان سے حاجت روائی کی آس لگائے بیٹھے ہو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (قوم) عاد کی طرف ان کے (برادری یا وطن کے) بھائی (حضرت) ہود ؑ کو (پیغمبر بنا کر) بھیجا، انہوں نے (اپنی قوم سے) فرمایا اے میری قوم تم (صرف) اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی تمہارا معبود (ہونے کے قابل) نہیں تم (اس بت پرستی کے اعتقاد میں) محض مفتری ہو (کیونکہ اس کا باطل ہونا دلیل سے ثابت ہے) اے میری قوم (میری نبوت جو دلائل سے ثابت ہے اس کی مزید تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ) میں تم سے (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اس (اللہ) کے ذمہ ہے جس نے مجھ کو (عدم محض سے) پیدا کیا پھر کیا تم (اس کو) نہیں سمجھتے (کہ دلیل نبوت موجود ہے اور اس کے خلاف کوئی وجہ شبہ کی…
Read the full tafseer →وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ۔
قوم عاد اور حضرت ہود : رسولوں کے باب میں یہ سنت الٰہی رہی ہے کہ ہر قوم کی طرف اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے رسول بھیجا تاکہ انہی کے اندر کا ایک بہترین آدمی، انہی کی زبان میں ان پر حجت تمام کرے اور قومی و لسانی اجنبیت بیچ میں حائل نہ ہونے پائے۔ اس طرح گویا اپنی ہی زبان اور اپنا ہی دل اپنے اوپر گواہی دیتا ہے اور خود اپنی ہی بھائی حق نصیحت ادا کرتا ہے جس کی ہر اس شخص کو قدر کرنی چاہیے جس کے اندر حق کی عزت ہے، اخاھم، کے لفظ سے اسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ہم…
Read the full tafseer →50۔ 1 بھائی سے مراد انہی کی قوم کا ایک فرد۔
50۔ 2 یعنی اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرا کر تم اللہ پر جھوٹ باندھ رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
29: قوم عاد کا مختصر تعارف سورة اعراف (65:7) میں گذر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →7 کہ پتھر کے " بت " بھی با اختیار حاکم بلکہ معبود ہیں۔ سورة " اعراف " میں قوم " ہود " کا قصہ گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
آیت 50 وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا
قوم عاد حضرت سام کی نسل سے تھی۔ یہ قوم اپنے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ لق ودق صحرا ہے۔
قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ
یہ جو تم نے مختلف ناموں سے معبود گھڑ رکھے ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے یہ تم محض افترا کر رہے ہو۔
Read the full tafseer →56 قوم عاد کا بیان پہلے سورة اعراف کی آیت نمبر 65 تا 72 میں گذر چکا ہے لہذا وہ حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔
57 یعنی اپنے معبودوں کے متعلق جو عقائد تم نے خود ہی گھڑ رکھے ہیں ان کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں عقائد کے علاوہ ان معبودوں کے مجسمے بھی تمہارے خود ساختہ ہیں۔
Read the full tafseer →78۔ قوم عاد اور حضرت ہود نبی پر حاشیے سورة الاعراف کے رکوع 9 میں گزر چکے۔ (آیت) ” الی عاد “۔ عرب قدیم کی قوم عاد خلیج فارس کے کنارے کنارے عراق کی سرحد تک آباد تھی اس کا اصل مسکن یمن وحضر موت کا علاقہ تھا۔ مزار نبی ہود کے نام سے علاقہ حضرموت میں قسم کے مشرق میں ایک زیارت گاہ آج تک موجود ہے۔
79۔ یعنی اصل حقیقت تو صرف توحید ہے باقی سب تمہارے گڑھے ہوئے ڈھکوسلے ہیں۔ (آیت) ” اعبدوا للہ “۔ یعنی صرف خدائے واحد کی پرستش کرو کسی اور کو اس میں شریک نہ کرو۔ معناہ لاتعبدوا غیر اللہ (کبیر) ای وحدواللہ (معالم) امر الھم بعبادۃ اللہ وحدہ لاشریک لہ ناھیا لھم عن الاوثان التی افتروھا (ابن کثیر) اللہ کے وجود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
ترجمہ : اور ہم نے عاد کی جانب ان کے خاندانی بھاءی ہود کو بھیجا، ہود نے کہا اے میری قوم کے لوگو اللہ کی بندگی کرو) یعنی ( اس کی توحید کا اقرار کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں، مِنْ زائدہ ہے تم بتوں کی بندگی کرکے اللہ پر بہتان لگاتے ہو، اے میری قوم میں تم سے توحید کی) تبلیغ ( پر کوئی اجرت نہیں چاہتا میرا اجر تو اس پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ اے میری قوم کے لوگو تم اپنے رب سے شرک کی معافی مانگو پھر اطاعت کے ذریعہ اس کی طرف رجوع کرو وہ تم کو زور دار بارش عطا کریگا) حال یہ کہ ( ان سے بارش کو روک لیا گیا تھا، اور تمہاری) موجودہ ( قوت میں مال…
Read the full tafseer →والی عادٍ اخاھم ھودًا اور عاد کے پاس (ہدایت کیلئے) ان کے (نسبی) بھائی ہود کو ہم نے بھیجا۔
قال یٰقوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ ان انتم الا مفترون۔ ہود نے کہا : اے میری قوم ! (برادران نسب) تنہا اللہ کی پوجا کرو (عبادت میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو) اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں (تم جو اس کی عبادت میں بتوں کو بھی حصہ دار بنا لیتے ہو اور ان کو دربار الٰہی میں اپنا سفارشی قرار دیتے ہو ‘ یہ محض اختراع ہے) تم محض دروغ بندی کرنے والے ہو (کہ خود ایک عقیدہ تم نے تراش رکھا ہے اور اللہ کی طرف اس کی نسبت کردی ہے۔ مترجم)
Read the full tafseer →(50) اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بنی ہود ؑ کو بھیجا انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں جس پر تمہیں ایمان لانے کا حکم دیا جائے تم بتوں کی عبادت کرکے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرتے ہو کیوں کہ تمہیں ان کی عبادت کا حکم نہیں دیا گیا۔
Read the full tafseer →وَاِلٰي عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا ۭ قَالَ يٰقَوْمِ۔۔ : ”هُوْدًا“ عطف بیان ہے ”اَخَاهُمْ“ سے۔ تشریح کے لیے دیکھیے سورة اعراف (65) اے مشرکو ! اے کافرو ! کے بجائے ”يٰقَوْمِ“ (اے میری قوم !) سے مخاطب کرنے سے ان کے ساتھ اپنا تعلق اور خیر خواہی ظاہر کرنا مقصود ہے۔
اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ : ”مُفْتَرُوْنَ“ ”فَرَیْ“ سے باب افتعال (اِفْتِرَاءٌ) کا اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے۔ افترا یعنی جان بوجھ کر ایسا جھوٹ بولنا جس کے متعلق بولنے والے کو بھی معلوم ہو کہ یہ صاف جھوٹ ہے، یعنی اللہ کے سوا عبادت کے لائق کوئی ہے ہی نہیں، تمہارا کسی غیر کو معبود بنانا محض افترا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیت نمبر 50 تا 60
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : والیٰ عادٍاخاھم ھودًا یعنی اور ہم نے بھیجا۔ ارسلنانوحًاپر اس کا عطف ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ان (قوم عاد) کا بھائی کہا گیا ان میں سے ہونے کی وجہ سے، قبیلہ نے ان کو جمع کردیا تھا، جس طرح آپ کہتے ہیں : یا احاتمیم ایک قول یہ ہے ان کو ان کا بھائی کہا گیا کیونکہ وہ (ہود علیہ السلام) اولاد آدم (علیہ السلام) سے ہیں جس طرح کہ وہ (قوم عاد) اولاد آدم سے ہے۔ یہ الاعرف میں گزرچکا ہے۔ اور وہ بتوں کے بچاری تھے۔ کہا گیا ہے : عاد (نام کی) دو (قومیں) تھیں عاد اولیٰ او عاد ثانیہ۔ تو یہ عاد اولیٰ ہے، رہے عادثانیہ تو وہ شداد اور لقمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادارم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
حضرت ہود (علیہ السلام) کی دعوت :
1:۔ ابن جریر ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) الا علی الذین فطرنی “ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا۔
2:۔ ابن عساکر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ قوم عاد سے تین سال تک بارش روک دی گئی ھود نے ان سے فرمایا (آیت) ” استغفروا ربکم ثم تو بوا الیہ یرسل السمآء علیکم مدرارا “ مگر انہوں نے سرکشی کرتے ہوئے انکار کردیا۔
3:۔ ابن سعد (رح) نے الطبقات میں وسعد بن منصور وابن ابی شیبہ نے مصنف میں وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے اپنی سنن میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ بارش طلب کرنے…
Read the full tafseer →[وَاِلٰي عَادٍ : اور (بیشک ہم بھیج چکے ہیں) عاد کی طرف ] [اَخَاهُمْ : ان کے بھائی ] [هُوْدًا : ہود (علیہ السلام) کو ] [قَالَ : انھوں نے کہا ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [اعْبُدُوا : تم لوگ بندگی کرو ] [اللّٰهَ : اللہ کی ] [مَا لَكُمْ : تمہارے لئے نہیں ہے ] [مِّنْ اِلٰهٍ : کوئی بھی اِلٰہ ] [غَيْرُهٗ : اس کے علاوہ ] ان : نہیں ہو ] [انتم : تم لوگ ] [اِلَّا : مگر ] [مُفْتَرُوْنَ : گھڑنے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
قوم عاد کو حضرت ہود (علیہ السلام) کا تبلیغ فرمانا اور نافرمانی کی وجہ سے قوم کا ہلاک ہونا
حضرت نوح (علیہ السلام) کی سرکشی اور ضد وعناد اور کفر و تکذیب کی سزا کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم یعنی قوم عاد کی سرکشی و نافرمانی اور ضد وعناد کی تکذیب کا تذکرہ فرمایا یہ لوگ بڑی قوت والے اور بڑے ڈیل ڈول والے تھے ان کو اپنی قوت پر پڑا گھمنڈ تھا۔ سورة الفجر میں ہے (اَلَمْ تَرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِعَادٍ ۔ اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ ۔ الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُھَا فِی الْبِلَادِ ) (کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے قوم عاد یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا معاملہ کیا جن کی قدو قامت ستون جیسی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–68
قال اللہ تعالیٰ والی عاد اخاھم ھودا .... الیٰ .... الا بعد العاد قوم ھود۔
(ربط) نوح (علیہ السلام) کے قصہ کے بعد دوسرا قصہ ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کا ہے جس میں قوم عاد کی ضلالت اور عذاب کا حال بیان فرمایا ہے یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں مبتلا تھے اور دولت و ثروت کی وجہ سے مغرور تھے۔ اور انبیاء (علیہ السلام) اور ان کے متبعین کا حقارت کی نظروں سے دیکھتے تھے اور ان کا مذاق اڑاتے تھے اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو دو خصوصیتیں عطا فرمائی تھیں ایک قوت و توانائی کما قال تعالیٰ وقالوا من اشد منا قوۃ۔ دوم یہ کہ ان کے بلاد نہایت سرسبز اور شاداب تھے یمن ان کا مسکن تھا۔ صاحب زراعت اور صاحب عمارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
48: یہ دوسرا قصہ ہے اور پہلے دعوے کے متعلق ہے حضرت ہود (علیہ السلام) نے واضح الفاظ میں اپنی قوم کو یہ پیغام دیایٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ میری قوم صرف خدائے واحد کو پوجو اور صرف اسی کو پاکرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود اور کارساز نہیں یعنی وحدو اللہ ولا تشرکوا معہ شیئا فی العبادۃ (خازن ج 3 ص 237) ۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ تم اپنے معبودان باطلہ کو دعاء اور پکار میں اللہ کے شریک بنا کر اللہ پر افتراء کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ربط آیات
اپنی توحید کو بیان کرنے ، اپنے پیغمبر آخر الزمان کو تسلی دینے اور صبر کا قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة ہود میں بعض سابقہ انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ سورة حضرت ہود (علیہ السلام) کے نام پر ہی موسوم ہے۔ آج کے درس میں آپ ہی کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ آپ کی دعوت کے جواب میں آپ کی قوم کی نافرمانی اور کفر اور شرک کا تذکرہ ہے اور پھر ان کا حشر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو عبرتناک سزا دی۔ پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر تھا ، اب ہود (علیہ السلام) اور ان کی تقریر اور نصیحت کا کچھ حصہ ان آیات میں بیان کیا جارہا ہے۔ پھر آگے قوم کا جواب آئے گا اور آخر میں ان…
Read the full tafseer →وَاِلٰي عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًا 0ۭ قَالَ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَيْرُہٗ 0ۭ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ 50
إلى
إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست،
الیٰ ۔ حرف ( جر ) ہے اور جہات ستہ میں سے کسی جہت کی نہایتہ حدبیان کرنے کے لئے آتا ہے
أخ
أخ الأصل أخو، وهو : المشارک آخر في الولادة من الطرفین، أو من أحدهما أو من الرضاع . ويستعار في كل مشارک لغیره في القبیلة، أو في الدّين، أو في صنعة، أو في معاملة أو في مودّة، وفي غير ذلک من المناسبات . قوله تعالی: لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقالُوا لِإِخْوانِهِمْ [ آل عمران/ 156] ، أي : لمشارکيهم في الکفروقوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ط قَالَ یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّمُفْتَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 50)
(اور ہم نے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ آپ (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم ! اس اللہ کی عبادت کرو، نہیں ہے تمہارا کوئی معبود اس کے سوا، نہیں ہو تم مگر افترا پرداز۔ )
حضرت ہود (علیہ السلام) قوم عاد کی طرف مبعوث ہوگئے۔ یہ قوم جزیرہ عرب میں جانی پہچانی تھی۔ یہ اپنے کسی جدِاعلیٰ عاد کی طرف منسوب تھی۔ ان کا وطن حضرموت اور یمن کا علاقہ کہا جاتا ہے۔ سورة الاعراف میں ہم ان کی تاریخ کے ضروری عنوانات پر گفتگو کرچکے ہیں۔ یہاں ان کا تذکرہ صرف اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت ھود (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا تذکرہ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا سب سے بڑا جرم اللہ کے ساتھ شرک کرنا تھا۔ قوم عاد شرک کے گھناؤنے جرم کے ساتھ کمزور لوگوں پر ظلم ستم کرنے والے تھے۔ یہ قوم تہذیب و تمدن کے اعتبار سے اپنے زمانے کی سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی۔ بڑے لینڈ لارڈ، باغات کے مالک اور پہاڑ تراش تراش کر عظیم الشان گھر تیار کرتے تھے۔ (الشعراء : 128 تا 134) ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ قدو قامت کے لحاظ سے دنیا میں ان کا کوئی ثانی نہیں پیدا کیا گیا۔ سورة الفجر : 8 حضرت ھود (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ صرف ایک…
Read the full tafseer →قوم عاد اور ہود۔ :
50: وَاِلٰی عَادٍ اَخَاھُمْ ھُوْدًا ( اور قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا) اخاھم سے مراد ان کی قوم میں سے ایک۔
نحو : اخاھم کا نصب ارسلنا نوحًا پر عطف کی وجہ سے ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے وارسلنا الی عاد اخاھم ھودًا یہ عطف بیان ہے اخاھم کا قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ (کہا اے میری قوم تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو) اس کو اکیلامانو۔ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ (تمہارے لئے اس کے سواء کوئی معبود نہیں)
قراءت : نافع نے مرفوع پڑھا جارومجرور کے محل پر عطف قراردیکر۔ مگر علی نے لفظ کے لحاظ سے مکسور غَیْرِہٖ پڑھا۔ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ (تم تو افتراء…
Read the full tafseer →50۔” والی عاد “ یعنی ہم نے بھیجا عاد کی طرف ۔ ” اخاھم ھودا “ یہاں بھائی سے مراد نسبی ہیں ۔ دینی بھائی مراد نہیں جو انما المنون اخوۃ کے تحت شامل ہوتا ہے۔ ” قال یا قوم اعبدو اللہ تم اللہ کی توحید بیان کرو مالکم من الہ غیرہ ان انتم الا مفترون یعنی تم اپنے شریک ٹھہرانے میں جھوٹے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
50۔ 52۔ ان آیتوں میں اللہ پاک نے حضرت ہود (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا حضرت ہود کو قوم عاد کا بھائی فرمایا صرف بسبب قومیت اور قرابت کے عاد دو ہوئے ہیں۔ ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے سام کی اولاد میں جن کی طرف یہی حضرت ہود (علیہ السلام) پیغمبر بنا کر بھیجے گئے دوسرے عاد شداد اور لقمان اور ان کی قوم جن کا ذکر { ارم ذات العماد } ہے عاد ایک شخص کا نام تھا اسی کے نام پر ایک قبیلہ مشہور ہوگیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) نوح (علیہ السلام) سے آٹھ سو برس کے بعد دنیا میں آئے ان کی عمر چار سو چونسٹھ برس کی ہوئی قوم عاد ملک شام اور ملک یمن کے بیچ میں ایک ریگستان میں رہتی تھی اور تبول کی پرستش کرتی…
Read the full tafseer →(والی عاد) ” اور عاد کی طرف ‘’ یعنی ہم نے عاد کی طرف مبعوث کیا ” عاد “ ایک معروف قبیلہ تھا جو سر زمین یمن میں وادی احقاف میں آباد تھا۔ (اخاھم) ” ان کے بھائی۔ “ نسب میں ان کے بھائی (ھوداً ) ” ہود کو “ تاکہ وہ ان سے علم حاصل کرسکیں۔ (قال) ہود (علیہ السلام) نے ان سے کہا۔ “ (یقوم اعبدو اللہ مالکم من الہٍ غیرہ انتم الا مفترون) ” اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو، تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ تم بہتان باندھتے ہو “ یعنی ہود (علیہ السلام) نے ان کو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کو اختیار کرکے اور اس کو جائز قرار دے کر اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وجوب اور ماسوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →116 ۔ حضرت ھود قوم عاد کے بھائی : یعنی ان کے قومی بھائی اور ان کے ہم قوم۔ کیونکہ حضرت ہود (علیہ السلام) اسی قوم میں سے اور انہی کے ہم وطن تھے اور ہر پیغمبر کی بعثت کے سلسلے میں اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کی سنت بالعموم یہی رہی ہے کہ جس قوم کی طرف کوئی پیغمبر بھیجا گیا وہ انہی میں سے بھیجا گیا۔ تاکہ وہ ان کو انہی کی زبان میں اور انہی کے لب و لہجے اور انداز و اسلوب میں سمجھا سکے۔ اور یہی عقل و فطرت کا تقاضا بھی ہے۔ اور اسی کو قرآن حکیم نے جابجا (اَخَاھُم) اور (مِنکُم) جیسے الفاظ و کلمات سے ذکر وبیان فرمایا ہے۔ سو اہل بدعت کا اس پر شور مچانا کہ فلاں شخص نے پیغمبر کو بھائی کہہ دیا اور اس طرح اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
سیدنا ھود (علیہ السلام) کی قوم عاد پر عذاب
تشریح : حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کے بعد دوبارہ بنی نوع انسان بڑھنے شروع ہوئے اسی طرح حضرموت اور نجران کے درمیان احقاف کے مقام پر ایک قوم ابھری جو عاد کی اولاد میں سے تھے۔ عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہے۔ قوم عاد میں سے ہی ایک شخص ھود کو پیغمبر بنا کر قوم عاد کی طرف ہدایت دینے کے لیے بھیجا گیا۔ کیونکہ یہ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کی تعلیمات کو بالکل بھلا کر گمراہی میں پڑچکے تھے۔ جیسا کہ اللہ کا دستور ہے کہ قوموں کو سب کچھ عطا کرتا ہے لیکن جب وہ سرکش ہونے لگتے ہیں تو ان میں نبی بھیجتا ہے اگر تو وہ ہدایت قبول کر کے توبہ کرلیں تو اللہ ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–60
آیات 50 تا 60
اسرار و معارف
تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت ایک تھی
اسی طرح قوم عاد میں حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا جو اسی قوم کے ایک معزز فرد تھے اور یہی دعوت ان تک پہنچائی گئی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو کہ کسی کو یہ حق پہنچتا سب مخلوق ہیں اور خود اللہ کی عبادت کرنے والے اور اس کے محتاج ہیں اور اللہ کی عبادت کرو کہ وہ اس کا مستحق ہے اس کے علاوہ جو رسومات مذہب کے نام پر تم نے بنارکھی ہیں کہ فلاں کو پکاروتو اولاد ملتی ہے اور فلاں کو یاد کرو تو مال یا صحت یا یہ رسم اداکرو تو اس طرح فائدہ ہوتا ہے تو یہ سب محض خرافات ہیں ان کی کوئی اصل نہیں ۔
دین کی تبلیغ اور اجرت
اب…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یہ عطف بیان ہے ” اخاھم “ سے۔ (تشریح کے لئے دیکھئے سورة اعراف آیت 56) ۔
7 ۔ اللہ نے ہرگز انہیں اپنا شریک نہیں بنایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(11:50) والی عاد اخاہم ھودا۔ اس کا عطف ارسلنا نوحا الی قومہ (آیۃ 25) پر ہے۔ گویا آیت کی تقدیر ہے وارسلنا الی عاد اخاھم ھودا۔ اخاہم (ان کا بھائی) یعنی انہیں کے نسب سے۔
مفترون۔ جھوٹے بہتان باندھنے والے۔ اصل میں افتراء سے مفتریون تھا۔ اس کو احد مفتری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–57
لغات القرآن آیت نمبر 50 تا 57
اخا (اخ) بھائی مالکم (تمہارے لئے نہیں ہے) مفترون (گھڑنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا، میں سوال نہیں کرتا) اجر (اجرت، بدلہ، معاوضہ) فطرنی (جس نے مجھے پیدا کیا) استغفروا (تم معافی مانگو) یرسل (وہ بھیجے گا) مدرار (مسلسل برسنا، برسانا، بارشیں) ماجئتنا (تو نہیں ، (تو نہیں لایا) تاریکی (تارکین) ، چھوڑنے والے اعترک ت (تجھے مبتلا کردیا، پھنسا دیا) سوء (برائی، تکلیف، بیماری) اشھد (میں گواہ کرتا ہوں) بری (بیزاری، نفرت) من دونہ (اس کو چھوڑ کر) کیدونی (تم تدبیر کرو میرے خلاف) لا تنظرون (تم مجھے مہلت نہ دو ، موقع نہ دو ) توکلت (میں نے بھروسہ کرلیا، بھروسہ کر رکھا ہے) دابۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
قوم ہود کا ذکر
ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے قوم عاد کی ہدایت کے واسطے اسی قبیلہ میں سے ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنایا۔ انہوں نے فرمایا '' اے قوم میری ! تم اس خدا کی عبادت کرو جس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ تم جن بتوں کو پوجتے ہو اس خیال میں جھوٹے ہو، کوئی سند تمہارے پاس اس کی نہیں ہے کہ سوا اللہ کے اور کوئی معبود ہے۔ میں جو نصیحت کرتا ہوں اور حق کی طرف بلاتا ہوں۔ اس کا کوئی اجر تم سے نہیں مانگتا ہوں، یہ محض اللہ کے لئے ہے وہی اجر دے گا جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ ایک شخص بلا اجرت مفت میں تمہاری دنیا و آخرت کو درست کر رہا ہے اور تم اس کا کہنا نہیں مانتے۔ اپنے سرکش سرداروں کے کہنے پر چلتے ہو۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–56
[28] قوم عاد اور ہود (علیہ السلام) کا ذکر سورة اعراف کے رکوع 9 آیت 65 تا 72 صفحہ 348 تا 350 میں گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(ف 1) نوح (علیہ السلام) کی دعوت تبلیغ قوم کا انکار ، وجمود بالآخر خدا کی غیرت کا جوش میں آنا ، زمین کا ابال ، آسمان سے بےپناہ بارش لڑکے کے لئے سفارش اور اس کی نامنظوری ، یہ سب باتیں جو قرآن حکیم نے تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں کسے معلوم تھیں ؟ قرآن حکیم انہیں غیب کی خبریں قرار دیتا ہے ،
وہ قوم جس میں تعلیم نہیں ، تاریخ اقوام کی تدوین وترتیب کا کوئی سامان نہیں ، اس میں ایک امی شخص کھڑا ہوتا ہے اور تمام گذشتہ قوموں کے کارناموں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا شروع کردیتا ہے ، یہ بجز الہام اور تائید ربانی کیونکر ممکن ہے ۔
حل لغات :
فطرنی : جس نے مجھے پیدا کیا ، بنایا ۔
مدرارا : وہ ابر جو خوب برسے ۔
Read the full tafseer →50 اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی حضرت ہود (علیہ السلام) کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہود (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم تم صرف اللہ کی عبادت کیا کرو اس کے سوا تمہارا کوئی حقیقی معبود نہیں اور نہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود ہونے کے قابل ہے تم غیر اللہ کو اس کی عبادت میں شریک کرکے محض اللہ تعالیٰ پر افترا کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 1۔ اس اعتبار سے غیب تھا اور بجز وحی کے دوسرے سب اسباب علم کے یقینا مفقود ہیں پس ثابت ہوگیا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے اور یہی نبوت ہے لیکن یہ لوگ بعد ثبوت نبوت کے بھی آپ سے مخالفت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →ہود (علیہ السلام) کی دعوت قوم عاد کی طرف تھی اور آپ کا پہلا درس توحید کا تھا۔
70 ؎ زیر نظر آیت سے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر سیدنا ہد (علیہ السلام) کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔ ہود (علیہ السلام) قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور آپ ہی کے نام نامی سے یہ سورت معروف ہوئی ہے۔ جن انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اس سورت میں ذکر ہوا ان میں سے ہود (علیہ السلام) کا دوسرا تذکرہ ہے اس سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی دعوت کا ذکر ہوا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ان اذکار میں قوم مسلم کیلئے عبرت و موغطت ہے اس لئے جس کے دل میں ذرا بھی حیات ایمانی اور شعور اسلامی باقی ہے وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the first eleven verses (50-60) from the ones cited above are the events of the revered prophet of Allah, Sayyidna Hud by whose name this Surah is identified. Appearing in this Surah, there are events related to seven blessed prophets and their peoples from Sayyidna Nuh (علیہ السلام) to Sayyidna Musa (علیہ السلام) described in the unique style of the Holy Qur'an. They have such flashes of lesson and advice that no one with a responsive and discerning heart can remain unaffected by them. Apart from their instructive aspects, they contain many principals and subsidiaries…
Read the full tafseer →54. For a detailed account see Towards Understanding the Qur'an, vol. III, al-A'raf 7, nn. 51-6, pp. 42-5.
55. Those whom the Makkan unbelievers associated with God in His divinity actually possessed none of the attributes and powers of God. There was, therefore, no grounds whatsoever for anyone to worship them. Some people had mistakenly taken them as their deities, and looked to those deities to answer their prayers and fulfil their needs.
Read the full tafseer →