یہ تاریخ ماضی وحی کے ذریعے بیان کی گئی ہے
قصہ نوح اور اسی قسم کے گذشتہ واقعات وہ ہیں جو تیرے سامنے نہیں ہوئے لیکن بذریعہ وحی کے ہم تجھے انکی خبر کر ہے ہیں اور تو لوگوں کے سامنے ان کی حقیقت اس طرح کھول رہا ہے کہ گویا ان کے ہونے کے وقت تو وہیں موجود تھا۔ اس سے پہلے نہ تو تجھے ہی انکی کوئی خبر تھی نہ تیری قوم میں سے کوئی اور ان کا علم رکھتا تھا۔ کہ کسی کو بھی گمان ہو کہ شاید تو نے اس سے سیکھ لیے ہوں پاس صاف بات ہے کہ یہ اللہ کی وحی سے تجھے معلوم ہوئے اور ٹھیک اسی طرح جس طرح اگلی کتابوں میں موجود ہیں۔ پس اب تجھے ان کے ستانے جھٹلانے پر صبر و برداشت کرنا چاہیے ہم تیری مدد پر ہیں تجھے اور تیرے…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 53
یعنی جس طرح نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں ہی کا آخر کار بول بالا ہوا، اسی طرح تمہارا اور تمہارے ساتھیوں کا بھی ہوگا۔ خدا کا قانون یہی ہے کہ ابتداء کار میں دشمنان حق خواہ کتنے ہی کامیاب ہوں مگر آخری کامیابی صرف ان لوگوں کا حصہ ہوتی ہے جو خدا سے ڈر کر فکر و عمل کی غلط راہوں سے بچتے ہوئے مقصد حق کے لیے کام کرتے ہیں۔ لہٰذا اس وقت جو مصائب و شدائد تم پر گزر رہے ہیں جن مشکلات سے تم دوچار ہو رہے ہو اور تمہاری دعوت کو دبانے میں تمہارے مخالفوں کو بظاہر جو کامیابی ہوتی نظر آرہی ہے اس پر بد دل نہ ہو بلکہ ہمت اور صبر کے ساتھ اپنا کام کیے چلے جاؤ۔
Read the full tafseer →آخر آیت میں رسول کریم کی تسلی دینے کے لئے فرمایا کہ آپ کی نبوت و رسالت پر آفتاب سے زیادہ روشن دلائل کے ہوتے ہوئے بھی اگر کچھ بد بخت نہیں مانتے اور آپ سے جھگڑا کرتے ہیں تو آپ کو اپنے پہلے پیغمبر نوح ؑ کا اسوہ دیکھنا چاہئے کہ انہوں نے ایک ہزار سال کی طویل عمر ساری انہیں اذیتوں میں گزار دی، تو جس طرح انہوں نے صبر کیا آپ بھی ایسا ہی صبر سے کام لیں، کیونکہ یہ متعین ہے کہ انجام کار کامیابی متقی لوگوں کو ہی ملے گی۔
Read the full tafseer →تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهَآ اِلَيْكَ ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا ړ فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ۔
آنحضرت ﷺ کی طرف التفات : یہ خاتمہ سرگزشت پر آنحضرت ﷺ کی طرف التفات ہے کہ یہ سرگزشت نہ تمہارے علم میں تھی اور نہ تمہاری قوم ہی کے۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے کہ اس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے اس سے تم کو بھی آگاہ کیا اور تمہارے واسطہ سے تمہاری قوم کو بھی اس سے آگاہ ہونے کا سامان بہم پہنچایا۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ یہ سرگزشت اس واضح صورت میں، اپنے فوائد و نتائج کے ساتھ، پہلی مرتبہ قرآن ہی میں بیان ہوئی ہے۔ اس سے پہلے تورات میں اس کے بعض…
Read the full tafseer →49۔ 1 یہ نبی سے خطاب ہے اور آپ سے علم غیب کی نفی کی جا رہی ہے کہ یہ غیب کی خبریں ہیں
جن سے ہم آپ کو خبردار کر رہے ہیں ورنہ آپ اور آپ کی قوم ان سے لا علم تھی۔
49۔ 2 یعنی آپکی قوم آپ کی جو تکذیب کر رہی ہے اور آپ کو ایذائیں پہنچا رہی ہے، اس پر صبر سے کام لیجئے اس لئے کہ آپ کے مددگار ہیں اور حسن انجام آپ کے اور آپ کے پیرو کاروں کے لئے ہی ہے، جو تقویٰ کی صفت سے متصف ہیں۔ عاقبت، دنیا و آخرت کے اچھے انجام کو کہتے ہیں۔ اس میں متقین کی بڑی بشارت ہے کہ ابتدا میں چاہے انھیں کتنا بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑے، تاہم بالآخر اللہ کی مدد و نصرت اور حسن انجام کے وہی مستحق ہیں جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا…
Read the full tafseer →28: حضرت نوح ؑ کا واقعہ بیان فرمانے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں اس آیت نے دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک یہ کہ یہ واقعہ نہ صرف آپ کو بلکہ قریش اور عرب کے غیر اہل کتاب میں سے کسی کو پہلے معلوم نہیں تھا، اور آپ کے پاس اس کو اہل کتاب سے سیکھنے کا بھی کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ یہ واقعہ آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعے معلوم ہوا ہے۔ اس سے آپ کی نبوت اور رسالت کی دلیل ملتی ہے۔ دوسرے آنحضرت ﷺ کو اپنی قوم کی طرف سے جس تکذیب اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس واقعے کے ذریعے آپ کو اول تو صبر سے کام لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور دوسرے یہ تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح حضرت نوح ؑ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–60
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان…
Read the full tafseer →5 یعنی یہ دلائل نبوت میں سے ہے کہ ایک امی کی زبان سے امم سابقہ کے ایسے مستند و مفصل واقعات سنوائے جائیں۔
6 جیسے نوح اور ان کے رفقاء کا انجام بھلا ہوا آپ کے ساتھیوں کا مستقبل بھی نہایت تابناک اور کامیاب ہے۔ آپ کفار کی ایذاؤں پر صبر کریں، گھبرا کر تنگدل نہ ہوں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو برس صبر کیا۔
Read the full tafseer →فَاصْبِرْ ړاِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِيْنَ
آپ ہمت اور صبر و استقامت کے ساتھ اپنا کام کیے چلے جائیں۔ یقیناً انجام کار کی کامیابی اہل تقویٰ ہی کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →54 نوح (علیہ السلام) کا زمانہ آپ سے تقریباً چار ہزار سال پیشتر کا ہے اس دور کے مستند اور صحیح ترین حالات کی اطلاع دینا اللہ ہی کا کام ہوسکتا ہے۔ اہل مکہ ان حالات سے مطلقاً بیخبر تھے گویا یہ نوح کا قصہ اس تفصیل سے بتادینا بھی آپ کی نبوت کی دلیل ہے۔
55 یعنی بالآخر اچھا انجام اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی ہوتا ہے جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا ہوا بلکہ ہر حق و باطل کے معرکہ میں، خواہ اس کا تعلق انبیاء سے ہو یا نہ ہو۔ بالآخر غلبہ حق کو ہی حاصل ہوتا ہے اور حق پرست ہی انجام کے لحاظ سے بہتر رہتے ہیں اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ اخروی زندگی میں بہرحال اللہ سے ڈرنے والوں کا ہی انجام بخیر ہوگا…
Read the full tafseer →76۔ یعنی واقعات نوح (علیہ السلام) کا صحیح اور مستند ومفصل علم اہل تاریخ واہل توریت کے ناقص اور غلط سلط بیانات سے قطع نظر اب آپ کو وحی الہی سے ہی یاد کرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” من انبآء الغیب “۔ یہ غیب ظاہر ہے کہ علم بشری کے اعتبار سے ہوگا ورنہ علم الہی میں ظاہر ہے کہ غیب کے کوئی معنی ہی نہیں۔
77۔ تو آپ اے رسول بددل وشکتہ خاطر نہ ہوں یہ ہٹ دھرم اور معاند کافر تو اب بھی آپ کو جھٹلائے جائیں گے لیکن آپ ان کی تکذیب پر صبر کیجئے اور حکایت نوح (علیہ السلام) سے تسکین حاصل کیجئے کہ جس طرح ان کے عہد میں آخری انجام مومنوں ہی کا اچھا اور کافروں کا برا ہوا، آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آکر رہے گا۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →تلک من انبآء الغیب یہ (نوح کا قصہ) منجملہ غیبی خبروں کے ہے۔
یعنی جو خبریں تم کو معلوم نہ تھیں (ان میں سے ایک حضرت نوح کا قصہ بھی ہے) ۔
نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا جس کو ہم تمہارے پاس وحی کے ذریعہ پہنچا رہے ہیں ‘ نہ تم اس سے پہلے اس کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ اس کلام میں تنبیہ ہے اس بات پر کہ قصۂ نوح کا علم ایک معجزہ ہے منجانب اللہ کیونکہ آپ کی پوری قوم اس سے واقف نہیں تھی ‘ ہم نے آپ کو اطلاع دی اور اسی کے مطابق اطلاع دی جیسی گزشتہ آسمانی کتابوں میں تھی۔ گزشتہ آسمانی کتابوں کے بیان سے اس اطلاع کی مطابقت یقیناً معجزہ ہے۔
فاصبر پس (نوح کی طرح تبلیغ رسالت پر اور تبلیغ…
Read the full tafseer →(49) یہ قصہ آپکو جو غیب سے خبریں دی جاتی ہیں ان میں سے ایک ہے جن کو اے محمد ﷺ آپ کے پاس جبریل امین کے ذریعے پچھلی امتوں کے واقعات کے سلسلہ میں پہنچاتے ہیں اور قرآن حکیم سے قبل ان گزشتہ قوموں کے واقعات کو نہ آپ جانتے تھے اور نہ آپکی قوم سو آپ اپنی قوم کی ایذاء رسانی اور تکذیب پر صبر کیجیے یقیناً نیک انجامی بذریعہ نصرت اور جنت ان ہی لوگوں کے لیے ہے جو کفر وشرک اور تمام فواحش سے بچنے والے ہیں۔
Read the full tafseer →تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ۔۔ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ شروع ہی سے سب کچھ نہیں جانتے تھے، نہ آپ غیب دان تھے، ورنہ وحی کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ بعض لوگ ان تمام آیات کی تاویل کرتے ہیں جن میں ہے کہ اے نبی ! یہ غیب کی خبریں ہیں، ہم آپ کو سنا رہے ہیں، آپ نہ اس وقت وہاں تھے نہ آپ کو یہ باتیں معلوم تھیں، یہ ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے بتائی ہیں۔ جو لوگ نبی ﷺ کو بھی عالم الغیب کہتے ہیں وہ اس قسم کی آیات ”یہ غیب کی خبریں ہیں، اس سے پہلے آپ ان کو نہیں جانتے تھے“ کی تحریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ خطاب دراصل امت کے لوگوں کو ہے کہ اے امت محمد کے لوگو ! تم یہ باتیں نہیں جانتے تھے، مگر ہماری اس…
Read the full tafseer →آیت نمبر 49
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تلک من انۘبآء الغیب یعنی جو خبریں، اور ایک اور مقام پر ذالک ہے یعنی خبروں میں سے وہ خبریں اور قصص جو آپ سے غیب ہیں۔ نوحیھآ الیک یعنی تاکہ آپ ان سے آگاہ ہوجائیں۔ ماکنت تعلمھآ انت ولاقومک یعنی وہ طوفان کے معاملہ سے ناواقف تھے حالانکہ مجوسی اب اس کا انکار کرتے ہیں۔ اور ایک قول یہ ہے : اس سے مراد ان کا حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کے قصے سے ناواقف ہونا ہے اگرچہ من جملہ انہوں نے طوفان کا معاملہ سن رکھا ہے۔ فاصبر صبر کر رسالت کی مشقتوں اور قوم کی اذیتوں پر جس طرح نوح (علیہ السلام) نے صبر کیا، یعنی اے محمد ! اللہ کے امر اور اپنی رسالت کی تبلیغ کے ذریعے قیام پر…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” تلک “ یعنی یہ ” من انبآء “ یعنی باتیں۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر (اللہ تعالیٰ ) محمد ﷺ کی طرف رجوع فرمایا (سابقہ پیغمبروں) کے حالات بیان کرنے کے بعد اور فرمایا (آیت) ” تلک من انبآء الغیب نوحیھا الیک، ما کنت تعلمھا انت ولا قومک “ یعنی نہ عرب کے لوگ (ان واقعات کو جانتے تھے) اس قرآن (کے نازل ہونے) سے پہلے اور نہ آپ۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا “ یعنی قرآن سے پہلے اور محمد ﷺ اور اس کی قوم نہیں جانتی تھی کہ نوح اور اس کی…
Read the full tafseer →[تِلْكَ : یہ ] [مِنْ انۢبَاۗءِ الْغَيْبِ : غیب کی خبروں میں سے ہے ] [نُوْحِيْهَآ : ہم وحی کرتے ہیں ان کو ] [اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَآ : آپ ﷺ نہیں جانتے تھے ان کو ] [انتَ : آپ ﷺ ] [وَلَا قَوْمُكَ : اور نہ آپ ﷺ کی قوم ] [مِنْ قَبْلِ ھٰذَا : اس سے پہلے سے ] [فَاصْبِرْ : پس آپ ﷺ ثابت قدم رہیں ] [ان : یقینا ] [الْعَاقِبَةَ : (بھلا) انجام ] [لِلْمُتَّقِيْنَ : متقی لوگوں کے لئے ہے ]
نوٹ۔ 1: حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا قصہ بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اس کا انصاف کس قدر بےلاگ ہے۔ مشرکین مکہ یہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کیسے ہی کام کریں، ہم پر خدا کا عذاب نہیں ہوگا…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ عبرت اور نصیحت ہے اور خاتم الانبیاء ﷺ کی نبوت کی دلیل ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی غرقابی اور ان کے ساتھ اہل ایمان کی نجات کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ غیب کی خبریں ہیں اے محمد ﷺ آپ اور آپ کی قوم ان خبروں سے واقف نہیں تھے ان خبروں کا آپ کو علم ہونا جبکہ آپ نے کسی سے پڑھا بھی نہیں ‘ پرانی قوموں کے واقعات کسی نے بتائے بھی نہیں یہ سمجھ دار انسان کے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیج کر آپ کو مطلع فرمایا ہے۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان کی نجات پانے سے آپ کو تسلی ہونی چاہئے آپ صبر کریں جیسے انبیاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
خاتمہ قصہ مشتمل بر بیان حکمت و ذکر استدلال بروحی نبوت
قال اللہ تعالیٰ قیل ینوح اھبط بسلم منا .... الیٰ .... ان العاقبۃ للمتقین۔
(ربط) جب کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹھہر گئی اور پانی بھی اتر گیا تو اس وقت حکم ہوا کہ اے نوح اب کشتی سے اترو ہماری طرف سے سلام اور سلامتی کے ساتھ اور برکتوں کے ساتھ اور یہ سلامتی اور برکتیں تجھ پر مبذول ہوں گی اور ان لوگوں پر مبذول ہوں گی جو تیرے ہمراہیوں سے پیدا ہونگے یعنی تیرے ہمراہیوں کی مسلمان اولاد پر بھی ہماری سلامتی اور برکتیں مبذول ہونگی۔ مطلب یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے ہمراہیوں کی مسلمان نسل کا بھی اس سلامتی اور برکت میں سے حصہ ملے گا۔ اور آئندہ نسلوں میں کچھ…
Read the full tafseer →47: جملہ معترضہ ہے۔ آنحضرت ﷺ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں حاضر نہ تھے مگر اس کے باوجود آپ ان کے صحیح صحیح حالات بیان کر رہے ہیں یہ آپ کی صداقت کی زبردست دلیل ہے آپ اللہ کے سچے نبی ہیں اور اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آپ کو انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے احوال وواقعات بتائے جاتے ہیں۔ اس آیت سے آنحضرت ﷺ کے حاضر و ناظر اور عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ فَاصْبِرْ الخ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو تبلیغ کی اور ان کی تکلیفیں اٹھائیں آخر کار ان کے دشمن تباہ ہوئے اسی طرح بہتر انجام آپ کا اور آپ کے متبعین کا ہوگا اور آپ کے دشمن ذلیل و خوار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
ربط آیات
اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ اور محنت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے آپ کی قوم کا کچھ حال بیان کیا اور ساتھ آپ کے بیٹے کی نافرمانی کا ذکر بھی کیا۔ پھر آخر میں نافرمانوں پر مسلط ہونے والے عذاب عذاب اور اس میں قوم کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نوح (علیہ السلام) نے کشتی تیار کی اور اس میں اپنے اہل اور مومنوں کو سوار کیا۔ اس کے ساتھ ہر جانور کا ایک ایک جوڑا بھی لاد لیا۔ پھر اللہ نے طوفان کا ذکر کیا کہ طوفانی پانی اونچے سے اونچے پہاڑ سے بھی تیس ہاتھ اوپر تک پہنچ گیا جس میں نوح (علیہ السلام) کی کشتی چلتی رہی اور پھر ایک سو پچاس دن کے بعد جودی پہاڑ پر جا کر رک گئی۔ اس کے…
Read the full tafseer →تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْہَآ اِلَيْكَ 0ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُہَآ اَنْتَ وَلَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا 0ۭۛ فَاصْبِرْ 0ۭۛ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِيْنَ 49 ۧ
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →تِلْکَ مِنْ اَنْبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْہَآ اِلَیْکَ ج مَا کُنْتَ تَعْلَمُہَآ اَنْتَ وَلاَ قَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ہٰذَا ط فَاصْبِرْ ط اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 49)
(یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم آپ کو وحی کے ذریعہ سے سنا رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ آپ اس کو جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم جانتی تھی۔ پس صبر کیجیے، انجام کار کی کامیابی خدا سے ڈرنے والوں ہی کا حصہ ہے۔ )
آنحضرت ﷺ کی طرف التفات
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کی طرف التفات ہے جس سے آپ پر خصوصی عنایات کا اظہار بھی ہے اور آپ ﷺ کی رسالت پر دلیل بھی۔ خصوصی عنایت کا اظہار اس طرح ہے کہ آپ ایک ایسے شہر سے اٹھے اور ایک ایسی قوم…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے ذکر کے بعد نبی کریم ﷺ کو تکالیف پر صبر کرنے کا حکم۔
قرآن مجید مختلف الفاظ اور انداز میں موقع بہ موقع یہ وضاحت کرتا ہے کہ رسول کا مقام، حدود کار اور اس کے علم کی کیا حقیقت ہے۔ کفار اور مشرک انبیاء کو الجھانے اور لوگوں کو ورغلانے کے لیے یہ پروپیگنڈہ کیا کرتے تھے کہ اسے تو فرشتہ ہونا چاہیے تھا یا اس کے پاس خدا کی خدائی میں سے کچھ اختیار ہونے چاہییں تھے۔ اسی بنا پر وہ رسول معظم ﷺ سے مطالبہ کرتے کہ آپ کے پاس دنیا کے خزانے ہونے چاہییں۔
” فرما دیجیے میں اپنے نفع نقصان کا بھی کچھ اختیار نہیں رکھتا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا…
Read the full tafseer →قصہ نوح ( علیہ السلام) من جملہ اخبار غیب سے ہے :
49: تِلْکَ (یہ) مقصد نوح (علیہ السلام) کی طرف اشارہ ہے۔ یہ ابتداء کی وجہ سے مرفوع ہے اور وہ جملے جو اس کے بعد ہیں۔ مِنْ اَنْچبَآئِ الْغَیْبِ نُوْحِیْھَآ اِلَیْکَ مَاکُنْتَ تَعْلَمُھَآ اَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ (غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کر رہے ہیں آپ کی طرف۔ نہ آپ ان کو جانتے تھے اور نہ ہی آپ کی قوم) خبریں یعنی یہ قصہ غیب کے خبروں میں سے کچھ ہے جو آپ کی طرف وحی کیا گیا۔ تمہیں معلوم نہ تھا اور نہ ہی تیری قوم کو۔ مِنْ قَبْلِ ھٰذَا (اس سے پہلے) اس وقت سے پہلے یا میرے وحی بھیجنے سے پہلے اور اسکی اطلاع دینے سے پہلے فَاصْبِرْ (پس تم صبر کرو) تبلیغ رسالت…
Read the full tafseer →49۔” تلک من انباء الغیب “ غیب کی خبروں سے ’ ’ نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا “ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے ” فاصبر “ اللہ کے حکم پر قائم ہونے اور رسالت کی تبلیغ پر ۔ جیسے نوح (علیہ السلام) نے صبر کیا ۔ ” ان العاقبۃ “ انجام سعادت اور مدد کے ساتھ ” للمتقین “ تقویٰ والوں کیلئے ہے۔
Read the full tafseer →49۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا قصہ اللہ تعالیٰ نے اوپر تفصیل سے ذکر فرما کر اس آیت میں مشرکین مکہ اور اس زمانہ کے ہند اور چین اور فارس اور مصر کے مشرکوں کے قائل کرنے کو یہ فرمایا ہے کہ یہ قصہ اور اس طرح کے زمانہ گزشتہ کے اور قصے غیب کی خبریں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے جتلایا ہے جس کو اللہ تعالیٰ جتلاتا ہے اسی کو صحیح طور پر یہ قصے معلوم ہوتے ہیں دوسرے کو ان قصوں کا حال کیا معلوم ہوسکتا ہے مشرکین مکہ تو ان پڑھ لوگ ہیں اس طرح کی غیب کی خبروں کا ان لوگوں کا انکار کرنا تو محض سرکشی کے سبب سے ہے کچھ دنوں ان کی سرکشی پر اے اللہ کے رسول تم کو صبر کرنا چاہیے انجام کار یہی ہوگا…
Read the full tafseer →یہ مبسوط قصہ بیان کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ جسے اس شخص کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا جسے اللہ نے اپنی رسالت سے نوازا ہے۔۔۔ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ( علیہ السلام) سے فرمایا : (تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا ) ” یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم یہ آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ کو ان کی خبر تھی نہ آپ کی قوم کو، اس سے پہلے “ کہ آپ کی قوم یہ کہتی کہ یہ تو (محمد ﷺ پہلے ہی جانتا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کیجیے اور اس کا شکر ادا کیجیے، اپنے موقف، یعنی دین قیم، صراط مستقیم اور دعوت دین پر نہایت ثابت قدمی کے ساتھ قائم رہیے۔ (ان العاقبۃ للمتقین) ” بیشک اچھا انجام پرہیز گاروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →113 ۔ پیغمبر کو غیب کی کچھ خبروں سے آگہی کا ذکر : سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کچھ غیب کی ان خبروں میں سے ہے جن کی وحی ہم آپ کی طرف کرتے ہیں۔ سو کلمہ (من) یہاں پر تبعیضیہ ہے۔ پس پیغمبر کو اخبار و علوم غیب میں سے وہی کچھ دیا جاتا ہے جو آپ کے منصب کے لیے ضروری ہوتا ہے، نہ کہ کل غیوب۔ جس طرح کہ آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وزیغ۔ بہرکیف یہ پیغمبر کی صداقت و حقانیت کا ایک واضح ثبوت ہے کہ آپ باوجود اس کے کہ آپ نے کسی انسان سے ایک حرف بھی نہیں پڑھا۔ غیب کی ان چیزوں سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں جبکہ آپ کے پاس ان کو جاننے کا دوسرا ذریعہ نہیں تھا سوائے وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
طوفان کا خاتمہ اور نوح (علیہ السلام) کو تسلی
تشریح : آیت 48 میں تو اللہ تعالیٰ حضرت نوح (علیہ السلام) کو مخاطب فرماتے ہوئے کہتا ہے کہ اب طوفان ختم ہوگیا ہے۔ زمین گنہگاروں، فسادیوں اور مشرکین سے پاک صاف ہوگئی ہے۔ اب جو رحمتیں اور برکتیں تم سب پر کی گئی ہیں ان سے فائدہ اٹھائو اور امن و سکون سے پاکیزہ اور پر امن زندگی گزارو۔ ہاں کچھ عرصہ بعد کچھ قومیں دوبارہ بےرہروی کریں گی۔ اللہ سے دوری اختیار کریں گی تو پھر ان کا بندوبست اللہ ضرور کر دے گا۔ اللہ کا یہی دستور ہے وہ اپنے بندوں کو تمام نعمتیں، برکتیں عطا کرتا ہے جو اس کا شکر ادا کرتے ہوئے نیکی، عاجزی اور بندگی اختیار کرتے ہیں وہ بچ جاتے ہیں جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی جس طرح نوح اور ان کے ساتھیوں کا انجام بخیر ہو رہا اور اسی طرح آپ ﷺ کا انجام بھی دنیا و آخرت دونوں میں بہتر رہے گا اور آپ ﷺ کے مخالفین دنیا میں بھی ذلیل و برباد ہوں گے اور آخرت میں بھی انہیں دوزخ کی آگ نصیب ہوگی۔ (کذافی الروح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(11:48) اھبط۔ تواتر (یعنی اب کشتی سے اتر جاؤ۔ ھبوط سے (باب ضرب) امر واحد مذکر حاضر۔
علی امم ممن معکان لوگوں پر جو تیرے ساتھیوں میں سے ہیں یعنی جو تیرے ساتھ ہیں امم۔ امۃ کی جمع ہے بمعنی جماعت
وامم۔ امم۔ مبتدا ۔ خبر محذوف ہے تقدیر کلام :۔ ومنھم امم سنمتعھم۔ ان میں بعض ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کو ہم مال و متاع دیں گے۔ اپنی نعمتوں سے ان کو نوازیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
لغات القرآن آیت نمبر 48 تا 49
قیل (کہا گیا) اھبط (اتر جا) سلم (سلامتی، عافیت) رکت (برکتیں) امم (امتیں، جماعتیں، گروہ) سنمتع (بہت جلد ہم فائدہ دیں گے) انباء (نبی) ، خبریں (نوحی) ہم وحی کرتے ہیں ) ماکنت (تو نہ تھا) تعلم (تو جانتا ہے) اصبر (صبر کر) العاقبۃ (انجام)
تشریح :- آیت نمبر 48 تا 49
گزشتہ آیات میں ” طوفان نوح “ کی تفصیلات ارشاد فرمائی گئی تھیں اب آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرمایا جا رہا ہے کہ جب پانی کے زبردست طوفان کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ وہ اس سارے پانی کو اپنے اندر جذب کرلے۔ آسمان سے برسنے والے بادلوں اور زمین پر بہنے والے چشموں کو رک جانے کا حکم…
Read the full tafseer →مشرکین کو قائل کرنے کا ذکر
اس آیت میں مشرکوں کو قائل کرنے کو یہ فرمایا کہ یہ قصہ اور اسی طرح کے زمانہ گزشتہ کے اور قصے غیب کی خبریں ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے جتلایا ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ جتلاتا ہے اسی کو صحیح طور پر یہ قصے معلوم ہوتے ہیں دوسرے کو ان قصوں کا حال کیا معلوم ہوسکتا ہے۔ مشرکین مکہ تو ان پڑھ لوگ ہیں، اس طرح کی غیب کی خبروں کا ان کا انکار کرنا تو محض سرکشی کے سبب سے ہے۔ کچھ دنوں ان کی سرکشی پر اے محبوب ﷺ تم کو صبر کرنا چاہئے انجام کار یہی ہوگا کہ اے اللہ کے رسول ! تم کو اور تمہارے ساتھ جو اللہ سے ڈرنے والے پرہیزگار لوگ ہیں ان کو غلبہ ہوگا اور اللہ کی وحی اور غیب کی…
Read the full tafseer →[26] اپنی قوم کی ایذا رسانی پر جس طرح نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ایذاؤں پر صبر کیا۔
[27] یعنی جس طرح نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا آخری انجام اچھا ہوا اور کافروں کا برا ہوا، آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آ کر رہے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–51
(ف 1) نوح (علیہ السلام) کی دعوت تبلیغ قوم کا انکار ، وجمود بالآخر خدا کی غیرت کا جوش میں آنا ، زمین کا ابال ، آسمان سے بےپناہ بارش لڑکے کے لئے سفارش اور اس کی نامنظوری ، یہ سب باتیں جو قرآن حکیم نے تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں کسے معلوم تھیں ؟ قرآن حکیم انہیں غیب کی خبریں قرار دیتا ہے ،
وہ قوم جس میں تعلیم نہیں ، تاریخ اقوام کی تدوین وترتیب کا کوئی سامان نہیں ، اس میں ایک امی شخص کھڑا ہوتا ہے اور تمام گذشتہ قوموں کے کارناموں کو تفصیل کے ساتھ بیان کرنا شروع کردیتا ہے ، یہ بجز الہام اور تائید ربانی کیونکر ممکن ہے ۔
حل لغات :
فطرنی : جس نے مجھے پیدا کیا ، بنایا ۔
مدرارا : وہ ابر جو خوب برسے ۔
Read the full tafseer →49 اے پیغمبر یہ واقعات غیب کی خبروں میں سے بعض خبریں ہیں جن کو ہم آپ کی جانب وحی کرتے ہیں اور وحی کے ذریعہ آپ کو پہنچاتے ہیں ان واقعات کو ہمارے بتانے سے قبل نہ تو آپ ہی جانتے تھے نہ آپ کی قوم ہی ان کو جانتی تھی اور نہ ان واقعات سے واقف تھی آپ منکروں کے مقابلہ میں صبر اور برداشت سے کام لیجئے اور یقین رکھئے کہ پرہیز گاروں ہی کا انجام بہتر ہے اور آخر ڈرانے والوں ہی کا بھلا ہے ۔ آخر میں نبی کریم کا صاحب وحی ہونا جو دلیل ہے نبوت کی اور آپ کو انجام میں کامیابی کا اظہار فرمایا گویا آپ کی نبوت کا اعلان بھی اور آپ کو تسلی بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 1۔ اس اعتبار سے غیب تھا اور بجز وحی کے دوسرے سب اسباب علم کے یقینا مفقود ہیں پس ثابت ہوگیا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے اور یہی نبوت ہے لیکن یہ لوگ بعد ثبوت نبوت کے بھی آپ سے مخالفت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →یہ غیب کی خبریں آپ کو بذریعہ وحی سنائی جا رہی ہیں جو آپ (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کی قوم کو معلوم نہ تھیں
68 ؎ یہ واقعات جو پڑھ کر سنائے گئے ہیں ان کا صحیح ، مستند اور مفصل علم اہل تاریخ و اہل توریت کے ناقص اور غلط تسلط بیانات سے قطع نظر اب آپ ﷺ کو وحی الٰہی سے باور کرایا جا رہا ہے تو یہ واقعہ خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے نبی و رسول برحق ہونے کی ایک شہادت بن گیا۔ اس پر متنبہ کرنے کیلئے اس زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) اور ان کے طوفان کے واقعات یہ سب غیب کی خبریں ہیں جن کو نہ آپ ﷺ ہی پہلے جانتے تھے اور نہ آپ ﷺ کی قوم یعنی عرب ہی اس سے واقف تھے۔ آپ ﷺ نے ان کو بتلایا تو…
Read the full tafseer →To console the Holy Prophet ﷺ ، it was said at the end of the verse that there were so many open proofs to the fact that he was a prophet and messenger of Allah. If there were some unfortunate human beings that see the sun yet insist that they do not, even challenge him and confront him, then, he should look at the role model of his predecessor, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) ، peace on him. He spent one thousand years of his long life suffering from pain inflicted by his people. He remained patient. Let him stay as patient as he was - because, it stands determined that success will ultimately…
Read the full tafseer →53. The Prophet Muhammad (peace be on him) is consoled by the statement that in the same way that Noah (peace be on him) and his righteous people ultimately succeeded, so will he and his Companions. It is God's law that the opponents of the truth seem to achieve some measure of success in the beginning. But ultimate success is the lot of those who, out of their God-fearing, avoid all erroneous ways while seeking to serve the cause of the truth. The import of the story, therefore, is that the believers should not feel heart-broken by their ephemeral sufferings or the successes of their…
Read the full tafseer →