Explained with ayahs 41–43
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا ؟
حضرت نوح جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ آؤ اس میں سوار ہوجاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔ ایک قرآت میں مجرھا و مرسھا بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ کو حکم تھا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 28) 23۔ المؤمنون :28) اور یہ بھی دعا کرنا کہ (اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ 29) 23۔ المؤمنون :29) اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لی جائے خواہ کشتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة هُوْد 45
یہ ہے مومن کی اصلی شان۔ وہ عالم اسباب میں ساری تدابیر قانون فطرت کے مطابق اسی طرح اختیار کرتا ہے جس طرح اہل دنیا کرتے ہیں، مگر اس کا بھروسہ ان تدبیروں پر نہیں بلکہ اللہ پر ہوتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ اس کی کوئی تدبیر نہ تو ٹھیک شروع ہو سکتی ہے، نہ ٹھیک چل سکتی ہے اور نہ آخری مطلوب تک پہنچ سکتی ہے جب تک اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم شامل حال نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
دوسری اور تیسری آیت میں بتلایا کہ جب حضرت نوح ؑ کے سب اہل و عیال کشتی میں سوار ہوگئے مگر ایک لڑکا جس کا نام کنعان بتلایا جاتا ہے سوار ہونے سے رہ گیا تو پدرانہ شفقت سے حضرت نوح ؑ نے اس کو پکارا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ، کافروں کے ساتھ نہ رہو کہ غرق ہوجاؤ گے، یہ لڑکا کافروں دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتا تھا اور حقیقت میں کافر تھا مگر غالبا حضرت نوح ؑ کو اس کے کافر ہونے کا یقینی طور پر علم نہ تھا اور اگر علم تھا تو کفر سے توبہ کرکے ایمان لانے کی دعوت کے طور پر اس کو کشتی میں سوار ہونے اور کافروں کا ساتھ چھوڑنے کی نصیحت فرمائی، مگر اس بد بخت نے اس وقت بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا کہ آپ…
Read the full tafseer →قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ ۭ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ ۚ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ۔
ہولناک ٹریجڈی کا آخری منظر : بیٹآ بھی بڑا ہی ہٹی تھا۔ یہ ہولناک منظر دیکھ کر بھی اس کی ہیکڑی میں کوئی فرق نہیں آیا۔ باپ کی اس شفقت بھری دعوت کے جواب میں بولا کہ کچھ پروا نہیں، میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا، وہ مجھے اس پانی سے بچا لے گا۔ حضرت نوح نے فرمایا کہ یہ پانی، بلکہ قہر الٰہی ہے جس سے آج کوئی بچانے والا نہیں بن سکتا۔ صرف وہی اس سے بچ سکے گا جس پر اللہ ہی رحم فرمائے۔ اتنے ایک موج بات اور بیٹے کے…
Read the full tafseer →43۔ 1 اس کا خیال تھا کہ کسی بڑے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر میں پناہ حاصل کرلوں گا، وہاں پانی کیونکر پہنچ سکے گا۔
43۔ 2 باپ بیٹے کے درمیان یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ ایک طوفانی موج نے اسے اپنی طغیانی کی زد میں لے لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
23: حضرت نوح ؑ کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا، اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح ؑ کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے، یعنی اگر کافر ہے تو اسے ایمان کی توفیق ہوجائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح ؑ کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح ؑ نے اس وعدے کا حوالہ بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
یہاں دو خوف باہم ملتے ہیں : ایک خاموش طبیعت کا خوف اور ایک نفس بشری کا خوف۔
وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ " کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی "
ایسے خوفناک حالات حضرت نوح دیکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں سے ایک ان سے دور بھاگا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہو رہا۔ یہاں باپ کی خوبیدہ پدری شفقت جاگ اٹھتی ہے اور اس گمراہ بیٹے کو وہ پکار اٹھتے ہیں۔
وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : " نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار…
Read the full tafseer →4 وہ اپنے جہل و غباوت سے ابھی یہ خیال کر رہا تھا کہ جس طرح معمولی سیلابوں میں بعض اوقات کسی بلندی پر چڑھ کر آدمی جان بچا لیتا ہے، میں بھی کسی اونچے پہاڑ پر چڑھ کر جان بچا لوں گا۔
5 یعنی کس خبط میں پڑا ہے۔ یہ معمولی سیلاب نہیں۔ عذاب الٰہی کا طوفان ہے۔ پہاڑ کی کیا حقیقت کوئی چیز آج عذاب سے نہیں بچا سکتی ہاں خدا ہی کسی پر رحم کرے تو بچ سکتا ہے مگر اس ہنگامہ دار و گیر اور مقام انتقام میں کٹر مجرموں پر رحم کیسا ؟ باپ بیٹے کی گفتگو پوری نہ ہوئی تھی کہ پانی کی ایک موج نے درمیان میں حائل ہو کر ہمیشہ کے لیے دونوں کو جدا کردیا۔
Read the full tafseer →وَحَالَ بَیْنَہُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ
اسی گفتگو کے دوران ایک بڑی موج آئی اور اس کی زد میں آکر آپ کی نظروں کے سامنے آپ کا وہ بیٹا غرق ہوگیا۔
Read the full tafseer →49 بیٹے کا جواب :۔ ضدی بیٹے نے باپ کی آرزو کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ میں ابھی پہاڑ پر چڑھ کر اپنی جان بچا لوں گا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پانی اتنا چڑھ جانے والا ہے کہ وہ اس پہاڑ کو بھی اپنے اندر چھپالے گا۔ نوح (علیہ السلام) نے اسے کہا بیٹے کس خبط میں پڑے ہو یہ کوئی معمولی سیلاب نہیں بلکہ اللہ کا عذاب ہے اور پہاڑ کی کیا حقیقت ہے کوئی چیز بھی آج کسی کو اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی الا یہ کہ اللہ خود ہی کسی پر رحم فرما کر اسے بچا لے یہ گفتگو ابھی پوری بھی نہ ہونے پائی تھی کہ ایک تند و تیز لہر اٹھی جس نے بیٹے کی طرف رخ کرکے ان دونوں کو ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا کردیا اور یہ کافر…
Read the full tafseer →65۔ (مجھے آپ کی کشتی تک آنے کی کیا ضرورت ہے آپ میرے لیے گھبرا کیوں رہے ہیں) بدنصیب کیا جانتا تھا کہ طوفان طبعی نہیں ہے۔ قہر الہی جوش میں آیا ہوا ہے۔ بولا کہ مجھے سیلاب سے غرقابی کا اندیشہ ہے پیرنے میں مشاق ہوں ابھی پانی کا دھارا چیرتا ہوا کسی چوٹی تک پہنچ جاؤں گا اور پہاڑ تو ڈوبنے سے رہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسباب مباح سے تمتع کرنا توکل کے منافی نہیں جیسے سفینہ نوح کے اندر آجانا البتہ اسباب غیر مباح کی طرف دوڑنا بالکل منافی تو کل ہے۔ مثلا کنعان کا پہاڑ کو وسیلہ نجات سمجھنا۔
66۔ اس سبق آموز قصہ کنعان سے بائبل کے صفحات خالی ہیں۔ (آیت) ” من امر اللہ “۔ یعنی اللہ کے عذاب وقہر سے۔ ای من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →قال ساوي الی جبل یعصمني من المآء بیٹے نے کہا : میں (آپ کے ساتھ سوار نہیں ہوں گا بلکہ) پہاڑ کی پناہ پکڑ لوں گا ‘ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا (یعنی پہاڑ پر چڑھ کر ڈوبنے سے محفوظ رہوں گا) ۔
قال لاعاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم نوح نے کہا : آج اللہ کے عذاب سے (جس کا حکم ہوچکا ہے) بچانے والا کوئی نہیں ‘ سوائے اس کے جس پر وہ رحم کرے۔
استثناء یا متصل ہے اور مَنْ محل رفع میں ہے یعنی رحم کرنے والا اللہ ہی بچا سکتا ہے ‘ یا لفظ مکان محذوف ہے یعنی اس شخص کا مقام بچا سکتا ہے جس پر اللہ رحم کرے یعنی اہل ایمان کا مقام۔ مطلب یہ کہ پہاڑ وغیرہ کوئی چیز بچا نہیں سکتی ‘ ہاں کشتی جو اہل ایمان کا مقام ہے ‘ ڈوبنے…
Read the full tafseer →(43) وہ کہنے لگا کہ میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھے غرق ہونے سے بچا لے گا نوح ؑ نے فرمایا آج اللہ تعالیٰ کے اس عذاب وقہر سے کوئی بچانے والا نہیں، مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے، یعنی مومنین پر اور کنعان اور کشتی کے درمیان ایک موج حائل ہوگئی اور وہ بھی طوفان میں غرق ہوگیا۔
Read the full tafseer →قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : معلوم ہوا کہ مشرک کی نظر اسباب تک ہی رہتی ہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی اسباب کے پیدا کرنے والے کی طرف نہیں جاتی۔ ”مجھے پہاڑ پانی سے بچا لے گا“ کم عقل ایک بےاختیار پہاڑ کو بچانے والا سمجھ رہا ہے۔
قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : اس کا جو ترجمہ لکھا گیا ہے اس میں کچھ الفاظ محذوف شامل کیے جائیں تو مطلب درست ہوتا ہے، یعنی ”آج اللہ کے فیصلے سے کوئی بچانے والا نہیں مگر جس پر وہ رحم کرے (وہی بچے گا)۔“ بعض حضرات نے فرمایا کہ فاعل کا وزن بعض اوقات نسبت کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ ”لَابِنٌ“ لبن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت نمبر 41 تا 44
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال ارکبوافیھاسوار ہونے کا حکم ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی قوم کو ہو۔ رکوب کا معنی ہوتا ہے کسی کی پشت پر بلند ہونا۔ کہا جاتا ہے : رکبہ الدیندین اس پر سوار ہوا۔ اور کلام میں حذف ہے یعنیارکبوا ال ماء فی السفینۃ کشتی میں پانی پر سوار ہوجاؤ۔ ایک قول یہ ہے (اس کا) معنی ” ارکبوھا “ ہے یعنی اس پر سوار ہوجا۔ اور فیتاکید کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان کنتم للرء یاتعبرون(یوسف) (للرءیا میں لام تبیین کے لیے ہے) اور فیکا فائدہ یہ ہے کہ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کے غرق ہونے والے بیٹے کا نام :
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام جو غرق ہوا کنعان تھا۔
2:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ آپ کا بیٹا تھا سوائے اس کے کہ وہ ان کی مخالفت کرتا تھا نیت میں اور عمل میں۔
3:۔ ابن جریروابن منذر وابن ابی ھاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابو جعفر محمد بن علی (رح) کہ انہوں نے (آیت) ” ونادی نوح ابنہ “ کے بارے میں فرمایا کہ قبیلہ طی کی لغت میں اس کو بیٹا کہتے ہیں ورنہ وہ آپ کا بیٹا نہ تھا بلکہ وہ ان کی بیوی کا بیٹا تھا۔
4:۔ ابن…
Read the full tafseer →[قَالَ : اس نے کہا ] [سَاٰوِيْٓ: میں جا لگوں گا ] [اِلٰي جبلٍ : کسی پہاڑ کی طرف ] [يَّعْصِمُنِيْ : وہ بچا لے گا مجھ کو ] [مِنَ الْمَاۗءِۭ: پانی سے ] [قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [لَا عَاصِمَ : کوئی بھی بچانے والا نہیں ہے ] [الْيَوْمَ : اس دن ] [مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ : اللہ کے فیصلے سے ] [اِلَّا : مگر ] [مَنْ : اس کو جس پر ] [رَّحِمَ : اس نے رحم کیا ] [وَحَالَ : اور حائل ہوئی ] [بَيْنَهُمَا : ان دونوں کے درمیان ] [الْمَوْجُ : لہر ] [فَكَان : تو وہ ہوگیا ] [ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : غرق کئے جانے والوں میں سے ]
نوٹ۔ 1: مذکورہ واقعہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے ظاہر سے کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
حضرت نوح (علیہ السلام) کا ایک بیٹا موج کی لپیٹ میں :
کشتی چل رہی ہے پہاڑوں کی طرح موجیں ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا موجوں کے تھپیڑوں سے دو چار ہو رہا ہے قریب ہے کہ ڈوب جائے وہ ان سے علیحدہ تھا ‘ کشتی میں سوار نہ تھا اور ایمانی اعتبار سے بھی ان کے ساتھ نہ تھا۔ آپ نے اسے آواز دی ‘ اے بٹوا ہمارے ساتھ سوار ہوجا کافروں کے ساتھ نہ ہو ان کے دین کو چھوڑ دے لیکن اس نے نہ مانا اور کہنے لگا میں کسی پہاڑ پر ٹھکانہ پکڑلوں گا وہ مجھے پانی سے بچا لے گا اس کا خیال تھا کہ جیسے عام طور پر سیلاب آتے ہیں اسی طرح سے یہ بھی ایک سیلاب ہے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا تو بچ جاؤں گا کیونکہ عام طور سے سیلاب پہاڑوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا
تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان
قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔
(ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔
چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را
کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ…
Read the full tafseer →40: کنعان نے کہا مجھے تمہاری کشتی کی ضرورت نہیں ابھی میں اس ساتھ والے پہاڑ پر چڑھ رہا ہوں وہ مجھے اس طوفان سے بچا لے گا۔ مشرک لوگ ہر آڑے وقت میں غیر اللہ سے آس لگائے رہتے ہیں اور خداوند تعالیی کو بھول جاتے ہیں۔ کنعان نے بھی اپنی عادت مستمرہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کو یاد نہ کیا بلکہ پہاڑ کی پناہ لینے کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہوسکی۔
41: حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا آج طوفان سے اللہ کے سوا کوئی نہیں بچا سکے گا اس لیے پہاڑ وگیرہ کی پناہ بےسود ہے۔ مَنْ رَّحِمَ میں موصول سے ذات باری تعالیٰ مراد ہے گویا کہ یوں کہا گیا لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلَّاھُوَ سُبْحَانَہٗ وتعالیٰ اور ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ربط آیات
حضرت نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کی مگر ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے مایوس ہوگئے۔ پھر آپ کو وحی الٰہی کے ذریعے پتہ چل گیا کہ اب مزید کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا ، لہٰذا آپ نے اللہ کی بارگاہ میں قوم کے خلاف دعا کی۔ پھر اللہ کے حکم سے آپ نے کشتی تیار کی۔ اس دوران نوح (علیہ السلام) قوم کو ظلم و زیادتی سے منع کرتے رہے اور ان کو آگاہ کرتے تھے کہ نافرمانی سے باز آجائو اللہ کے عدل و انصاف اور انتقام کا وقت آچکا ہے اور اب تم بچ نہیں سکو گے۔
طوفان کی علامت
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” حتی اذا جاء امرنا “ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا کہ اس قوم کو اب سزا ہی دینی ہے اور کسی کافر کو…
Read the full tafseer →قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ 0ۭ قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللہِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ 0ۚ وَحَالَ بَيْنَہُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ 43
أوى
المَأْوَى مصدر أَوَى يَأْوِي أَوِيّاً ومَأْوًى، تقول : أوى إلى كذا : انضمّ إليه يأوي أويّا ومأوى، وآوَاهُ غيره يُؤْوِيهِ إِيوَاءً. قال عزّ وجلّ : إِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ [ الكهف/ 10] ، وقال : سَآوِي إِلى جَبَلٍ [هود/ 43]
( ا و ی ) الماویٰ ۔
( یہ اوی ٰ ( ض) اویا و ماوی کا مصدر ہے ( جس کے معنی کسی جگہ پر نزول کرنے یا پناہ حاصل کرنا کے ہیں اور اویٰ الیٰ کذا ۔ کے معنی ہیں کسی کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
وَہِیَ تَجْرِیْ بِہِمْ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِقف وَنَادٰی نُوْحُ نِ ابْنَہٗ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلَا تَکُنْ مَّعَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ سَاٰوِیْ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآئِ ط قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ ج وَحَالَ بَیْنَہُمَالْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرِقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 42۔ 43)
(وہ کشتی انھیں لے کر چلنے لگی، ایسی موجوں میں جو پہاڑ کی مانند ہیں اور پکارا حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو جو ان سے الگ تھا۔ اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور ان کافروں کا ساتھ نہ دے۔ بیٹے نے کہا (مجھے کشتی کی ضرورت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : کشتی کا پانی کی موجوں کے ساتھ چلنا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنے بیٹے کو سمجھانا۔
کشتی پانی کے ساتھ رواں ہوئی تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے دور کھڑے اپنے لخت جگر کو آخری بار سمجھایا کہ میرے پیارے بیٹے ! کلمہ پڑھو اور کشتی پر سوار ہوجاؤ۔ کفار کے ساتھی نہ بنو۔ لیکن گستاخ بیٹے نے بیزاری کے ساتھ کہا کہ مجھے آپ کے بیڑے کی ضرورت نہیں۔ پانی زیادہ ہوا تو میں پہاڑ پر چڑھ کر جان بچا لوں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت کے ساتھ سمجھایا کہ بیٹا آج اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ لیکن نافرمان بیٹے نے بوڑھے باپ کی شفقت اور…
Read the full tafseer →43: قَالَ سَاٰوِیْ (کہا اس نے میں پناہ لونگا) اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآئِ (پہاڑ پر جو مجھے پانی سے بچائے گا) ڈوبنے سے محفوظ کر دے گا۔ قَالَ لَاعَاصِمَ ا لْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ (کہا آج کوئی پناہ دینے والا نہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے مگر جس پر وہ رحم کرے) مگر رحم کرنے والا بچا سکتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ ہے یا آج کوئی طوفان سے بچنے والا نہیں۔ مگر جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور وہ مومنین ہیں۔ اور اسکی وجہ یہ ہے کہ جب اس نے پہاڑ کو طوفان سے بچانے والا بتایاتو آپ نے اس کو فرمایا آج تمہیں کوئی بچنے کی جگہ بچا نہ سکے گی خواہ پہاڑ وغیرہ ہی کیوں نہ ہو۔ سوائے ایک…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ اس دن کسی پر رحم کرتے تو اس بچہ کی ماں پر ضرور کرتے
43۔” قال “ ان کے بیٹے نے ” سآوی “ عنقریب میں پناہ لوں گا الی جبل یعصمنی من الماء جو مجھے غرق سے بچائے گا قال کہا اس کو نوح (علیہ السلام) نے لا عاصم الیوم من امر اللہ اللہ کے عذاب سے ’ ’ الا من رحم “ بعض نے کہا ہے ” من “ محل نصب میں ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ کوئی محفوظ نہیں ہے مگر جس پر اللہ رحم کر دے جیسے باری تعالیٰ کا قول ” فی عیشۃ راضیۃ “ یعنی ” مرضیۃ “ ہے ۔ ” وحال بینھما الموج فکان من المغرقین “ اور روایت کیا گیا ہے کہ پانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے چالیس گزر بلند ہوگیا اور بعض نے کہا یہ پندرہ گز اور روایت کیا گیا ہے کہ جب گلیوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
41۔ 43۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور اس کے نام سے ٹھہرے گی میرا رب بڑا غفور الرحیم ہے۔ ہم پر رحم کھا کر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ کشتی چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے بسم اللہ کہہ دیتے تھے تھم جاتی تھی اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کا کہنا مستحب ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند ابی یعلی اور طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت جب کشتی میں سوار ہونے کے…
Read the full tafseer →(قال) ” اس نے کہا۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے اپنے باپ کے قول ” عذاب سے صرف وہی نجات پائے گا جو کشتی میں سوار ہوگا۔۔۔۔۔۔ “ کی تکذیب کرتے ہوئے کہا : (ساوی الی جبل یعصمنی من الماء ) ” میں پہاڑ سے جالگوں گا کہ وہ مجھے پانی سے بچا لے گا۔ “ یعنی میں کسی پہاڑ پر چڑھ کر پانی سے محفوظ ہوجاؤں گا۔ (قال) نوح (علیہ السلام) نے کہا : (لا عاصم الیوم من امر اللہ الا من رحم) ” آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں، مگر جس پر وہی رحم کرنے “ کوئی پہاڑ وغیرہ کسی کو بچا نہیں سکے گا۔ اگر کوئی اس پانی سے بچنے کے لئے ممکن حد تک بڑے سے بڑے سبب اختیار کرلے تب بھی اگر اللہ تعالیٰ اسے نہ بچائے تو وہ بچ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
99 ۔ پسر نوح کا اپنے باپ کو کافرانہ جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نوح کے اس کافر بیٹے نے اپنے باپ کی اس صدا و پکار کے جواب میں کہا کہ میں کسی ایسے پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں جو مجھے اس پانی سے بچا لے گا۔ سو یہ نمونہ ہے مشرک کی کوتاہ بینی اور مادہ پرستی کا کہ اس کی نگاہ ظاہر پر اور مادیات ہی میں اٹکی اور پھنسی رہتی ہے۔ اور اسی طرح طرح کے مظاہر اور مختلف نمونے ہر دور کی طرح آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور مادہ پرست انسان کی ساری توجہ اور پورا زور محسوسات اور مادیات ہی پر ہے جس سے آگے طرح طرح کے ہولناک اور تباہ کن مفاسد جنم لیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 6 ۔ یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے اور وہی لفظی ترجمی بھی ہے کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر جو رحم کرنے والا ہے۔ (یعنی خود اللہ تعالی) آیت میں یہ ایک وجہ ہے جو محققین نے ذکر کی ہے اور یہی قویٰ ہے کیونکہ فاعل کا صیغہ زیادہ تر صفت کے لئے آتا ہے اور نسبت کے لئے کم استعمال ہوتا ہے۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(11:43) ساوی۔ اوی یاوی (باب ضرب) اویا۔ کسی جگہ نزول کرنا۔ کسی جگہ پناہ حاصل کرنا۔ اوی الیٰ کسی کے ساتھ مل جانا اور منضم ہوجانا۔ اواہ (باب افعال) ایوائ۔ کسی کو جگہ دینا ساوی الیٰ جبل میں (ابھی) پہاڑ سے جا لگوں گا۔ اور باب افعال سے وتؤدی الیک من تشاء (23:51) اور جسے چاہو اپنے پاس ٹھکانہ دو ۔
یعصمی۔ عصم یعصم (باب ضرب) عصمۃ مصدر۔ وہ مجھے بچا لیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47
فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کہ کر کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور ان کے نام سے ٹھرے گی۔ میرا رب غفور الرحیم ہے، رحم کھاکر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے، چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے امتی جب کشتی میں سوار ہونے کے وقت بسم اللہ الملک وما قدر واللہ حق قدرہ اور بسم اللہ مجرھا ومرسھا ان ربی لغفور الرحیم کہیں گے تو ڈوبنے سے محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
[22] تنور سے یا تو زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔
[23] یعنی جن پر ان کے کفر کے پاداش میں غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) ” واھلک “۔ میں چونکہ اہل کا وعدہ تھا ، اس لئے نوح (علیہ السلام) نے جذبہ پدری سے سرشار ہو کر بیٹے کو آواز دی کہ کشتی میں آجائیے ، بیٹا مغرور تھا کہنے لگا میں پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا ، آپ فکر نہ کریں ، آپ نے فرمایا آج خدائی کی پکڑ سے تمہیں پہاڑ کی بلندیاں نہیں بچا سکیں گی سبحان اللہ ! شفقت پدری بھی کیا چیز ہے ۔
Read the full tafseer →43 بیٹے کنعان نے جواب دیا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا جو مجھ کو اس پانی سے بچا لے گا حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا آج اللہ کے قہر اور اس کی گرفت سے کوئی بچانے والا نہیں مگر ہاں وہ بچ سکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے اور دونوں باپ بیٹوں کے درمیان اتنی دیر میں ایک موج حائل ہوگئی اور وہ لڑکا غرق شدگان میں سے ہوگیا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اس دن بلند پہاڑ کے بلند درخت بھی ڈوب گئے تھے کہ پرندے کا بچائو نہ تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
ف 1۔ وہ باوجود فہمایش کے ایمان نہ لایا تھا اور بوجہ ایمان نہ لانے کے کشتی میں سوار نہ کیا گیا تھا۔
2۔ یعنی کفر کو چھوڑ دے کہ غرق سے بھی بچ جائے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کے بیٹے نے نوح (علیہ السلام) کو کیا جواب دیا ؟
59 ؎ باپ نے ایسے نازک وقت میں بھی بیٹے کو ایمان کی دعوت دی اور کشتی پر سوار ہوجانے کا کہا لیکن اس بد بخت نے ایسے نازک وقت میں بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا کہ آپ فکر نہ کریں میں پہاڑ پر چڑھ کر طوفان سے بچ جائوں گا اور وہ مجھے پانی کے زور سے بچا لے گا ۔ بیٹے نے ایسا کیوں کہا ؟ اس لئے کہ اس کی عقل کا فیصلہ یہی ہوا کہ کشتی پر سوار ہو کر جان بچائی نہیں جاسکتی کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے اور پانی اس زور سے چڑھ رہا ہے کہ کشتی بان مشکل ہی سے کشتی کو سنبھال سکے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ کشتی پورے زور سے کسی پہاڑ سے ٹکرا کر پاش پاش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
As stated in the second (42) and third (43) verse, when the whole family of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) had boarded the ark, a son whose name has been reported as Kin` an (Canaan) was left out. Out of his paternal compassion, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) called out to him asking him to come on board and warning him that he should not stay in the company of disbelievers otherwise he would be drowned with them. This young man was already in league with those disbelieving enemies, in fact, was himself a disbeliever. But, in all likelihood, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) did not know that he was a…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
45. Trust in God is the quintessential characteristic of the believer. True, like any other person, the believer also has recourse to worldly measures. It is, in fact, necessary to use them on account of the laws of nature under which all human beings live and operate. One thing, however, differentiates a believer from a man of the world. A believer, while having recourse to worldly measures, places his reliance on God rather than on the measures he adopts. He is well aware that none of his measures can be of any avail unless they coincide with God's favour and mercy.
Read the full tafseer →