Hud 11:42

Hud · from ayah 42

11:42

وَهِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ ۫— وَنَادٰی نُوْحُ ١بْنَهٗ وَكَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ ۟وَهِىَ تَجۡرِىۡ بِهِمۡ فِىۡ مَوۡجٍ كَالۡجِبَالِ وَنَادٰى نُوۡحُ اۨبۡنَهٗ وَكَانَ فِىۡ مَعۡزِلٍ يّٰبُنَىَّ ارۡكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنۡ مَّعَ الۡكٰفِرِيۡنَ‏

اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it sailed with them through waves like mountains, and Noah called to his son who was apart [from them], "O my son, come aboard with us and be not with the disbelievers."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:42

کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا نوحؑ نے پکار کر کہا "بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں کے ساتھ نہ رہ"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ ان کو لے کر (طوفان کی) لہروں میں چلنے لگی۔ (لہریں کیا تھیں) گویا پہاڑ (تھے) اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو کہ جو (کشتی سے) الگ تھا، پکارا کہ بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں میں شامل نہ ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کشتی انہیں پہاڑوں جیسی موجوں میں لے کر جا رہی تھی اور نوح ؑ نے اپنے لڑکے کو جو ایک کنارے پر تھا، پکار کر کہا کہ اے میرے پیارے بچے ہمارے ساتھ سوار ہو جا اور کافروں میں شامل نہ ره

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان چلی جاتی تھی۔ اور نوح نے اپنے اس بیٹے کو جو سب سے الگ تھا، آواز دی کہ : بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ، اور کافروں کے ساتھ نہ رہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی انہیں لیے جارہی ہے ایسی موجوں میں جیسے پہاڑ اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ اس سے کنارے تھا اے میرے بچے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ کشتی پہاڑوں جیسی (طوفانی) لہروں میں انہیں لئے چلتی جا رہی تھی کہ نوح ؑ نے اپنے بیٹے کو پکارا اور وہ ان سے الگ (کافروں کے ساتھ کھڑا) تھا: اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ انھیں لے کر پہاڑوں جیسی موج میں چلی جاتی تھی، اور نوح نے اپنے بیٹے کو آواز دی اور وہ ایک علیحدہ جگہ میں تھا، اے میرے چھوٹے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ (شامل) نہ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کشتی ان لوگوں کو لئے چلی جارہی تھی جبکہ ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ اس حال میں نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا جبکہ وہ ایک کنارے پر (کھڑا) تھا : بیٹا ! ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں کا ساتھ نہ دے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ کشتی پہاڑوں کی طرح اٹھتی موجوں کے درمیان ان کو لے کر چلنے لگی اور نوح نے اپنے بیٹے کو، جو اس سے الگ تھا، آواز دی کہ اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور ان کافروں کا ساتھ نہ دے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ (کشتی) چلی جا رہی تھی ان سب کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان، اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکار کر کہا جب کہ وہ دور ایک فاصلے پر تھا کہ اے میرے بیٹے سوار ہوجا تو ہمارے ساتھ (اس کشتی میں) اور مت ساتھ رہ تو ان کافروں کے (جنہوں نے غرق ہونا ہے)

— مولانا اسحاق مدنی

اور وہ (کشتی) انہیں لے کر چلنے لگی پہاڑ جیسی موجوں میں۔ اور نوح ؑ نے اپنے لڑکے کو پکارا اور وہ کنارے پر تھا۔ کہ اے میرے (پیارے) بیٹے سوار ہوجا ہمارے ساتھ اور کافروں کے ساتھ مت رہ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ چل رہی تھی ان سب کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان سے اور نوح نے پکارا اپنے بیٹے کو اور وہ ایک کنارے کی طرف تھا کہ اے میرے بیٹے آؤ ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہوجاؤ اور کافروں کے ساتھ مت رہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ ان کو لے کر طوفان کی لہروں میں چلنے لگی۔ لہریں کیا تھیں گویا پہاڑ تھے۔ اس وقت نوح نے اپنے بیٹے کو جو کشتی سے الگ تھا پکارا کہ بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہوجاؤ اور کافروں میں شامل نہ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

The Ark sailed along with them amid mountain-like waves. Noah, spotting his son at a distance, called out to him: 'My son. embark with us. and do not be with the unbelievers.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And it was sailing with them amidst the waves like mountains. And NuH called out to his son, who was at an isolated place, :O my child, come on board with us, and do not be in the company of the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani

And it was sailing with them amidst the waves like mountains. And NuH called out to his son, who was at an isolated place, :O my child, come on board with us, and do not be in the company of the disbelievers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So it (the ship) sailed with them amidst waves like mountains, and Nuh called out to his son, who had separated himself (apart): "O my son! Embark with us and be not with the disbelievers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And it sailed with them amid waves like mountains, and Noah cried unto his son - and he was standing aloof - O my son! Come ride with us, and be not with the disbelievers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it sailed with them through waves like mountains, and Noah called to his son who was apart [from them], "O my son, come aboard with us and be not with the disbelievers."

— Saheeh International

When the Ark sailed on with them amid the mountainous waves, Noah called out to his son who kept away from them, "My son, embark with us. Do not stay with the unbelievers."

— Muhammad Sarwar

And it moved on with them amid waves like mountains; and Nuh called out to his son, and he was aloof: O my son! embark with us and be not with the unbelievers.

— Muhammad Habib Shakir

And it moved on with them amidst waves like mountains. And Nuh called out his son, and he was apart: O my son! embark with us, and be not with the infidels.

— Abdul Majid Daryabadi

So the Ark floated with them on the waves (towering) like mountains, and Noah called out to his son, who had separated himself (from the rest): "O my son! embark with us, and be not with the unbelievers!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:42

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 41–43

کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا ؟ حضرت نوح جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ آؤ اس میں سوار ہوجاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔ ایک قرآت میں مجرھا و مرسھا بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ کو حکم تھا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 28؀) 23۔ المؤمنون :28) اور یہ بھی دعا کرنا کہ (اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ 29؀) 23۔ المؤمنون :29) اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لی جائے خواہ کشتی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 41–43

سورة هُوْد 45 یہ ہے مومن کی اصلی شان۔ وہ عالم اسباب میں ساری تدابیر قانون فطرت کے مطابق اسی طرح اختیار کرتا ہے جس طرح اہل دنیا کرتے ہیں، مگر اس کا بھروسہ ان تدبیروں پر نہیں بلکہ اللہ پر ہوتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ اس کی کوئی تدبیر نہ تو ٹھیک شروع ہو سکتی ہے، نہ ٹھیک چل سکتی ہے اور نہ آخری مطلوب تک پہنچ سکتی ہے جب تک اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم شامل حال نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 42–43

دوسری اور تیسری آیت میں بتلایا کہ جب حضرت نوح ؑ کے سب اہل و عیال کشتی میں سوار ہوگئے مگر ایک لڑکا جس کا نام کنعان بتلایا جاتا ہے سوار ہونے سے رہ گیا تو پدرانہ شفقت سے حضرت نوح ؑ نے اس کو پکارا کہ ہمارے ساتھ کشتی میں آجاؤ، کافروں کے ساتھ نہ رہو کہ غرق ہوجاؤ گے، یہ لڑکا کافروں دشمنوں کے ساتھ ساز باز رکھتا تھا اور حقیقت میں کافر تھا مگر غالبا حضرت نوح ؑ کو اس کے کافر ہونے کا یقینی طور پر علم نہ تھا اور اگر علم تھا تو کفر سے توبہ کرکے ایمان لانے کی دعوت کے طور پر اس کو کشتی میں سوار ہونے اور کافروں کا ساتھ چھوڑنے کی نصیحت فرمائی، مگر اس بد بخت نے اس وقت بھی طوفان کو سرسری سمجھا اور کہنے لگا کہ آپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ ۣ وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ۔ حضرت نوح ؑ کی وفاداری کا آخری امتحان : کشتی متلاطم موجوں کے اندر چل رہی تھی۔ موجیں اس طرح اٹھ رہیں تھیں گویا کالے پہاڑ اٹھ رہے ہوں (یہ صحیح تصویر ہے طوفانی سمندر کے اندر موجوں کے اٹھنے کی) اتنے میں حضرت نوح ؑ نے دیکھا کہ کچھ فاسلے پر ان کا بیٹا (تورات میں اس بیٹے کا نام کنعان آیا ہے) کھڑا ہے۔ اس کو دیکھ کر شفقت پدری جوش میں آگئی۔ اس کو آواز دے کر پکارا۔ یبنی ارکب معنا ولا تکن مع الکافرین " اس پکار میں بیک وقت شفقت اور دعوت دونوں کی روح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

42۔ 1 یعنی جب زمین پر پانی تھا، حتٰی کے پہاڑ بھی پانی میں ڈوبے ہوئے تھے، یہ کشتی حضرت نوح ؑ اور ان کے ساتھیوں کو دامن میں سمیٹے، اللہ کے حکم سے اور اس کی حفاظت میں پہاڑ کی طرح رواں دواں تھی۔ ورنہ اتنے طوفانی پانی میں کشتی کی حیثیت ہی کیا ہوتی ہے ؟ اسی لئے دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اسے بطور احسان ذکر فرمایا۔ (اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَاۗءُ حَمَلْنٰكُمْ فِي الْجَارِيَةِ 11 ۝ ۙ لِنَجْعَلَهَا لَكُمْ تَذْكِرَةً وَّتَعِيَهَآ اُذُنٌ وَّاعِيَةٌ 12۝) 59۔ الحاقہ :12-11) جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا تاکہ اسے تمہارے لئے نصیحت اور یادگار بنادیں اور تاکہ یاد رکھنے والے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 42–43

23: حضرت نوح ؑ کے اور بیٹے تو کشتی میں سوار ہوگئے تھے، مگر ایک بیٹا جس کا نام کنعان بتایا جاتا ہے، کافر تھا، اور کافروں ہی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا، وہ کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح ؑ کو یا تو علم نہیں تھا کہ وہ کافر ہے، اور وہ محض یہ سمجھتے تھے کہ اس کی صحبت خراب ہے، یا کافر ہونے کا علم تھا، مگر یہ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوجائے، اس لیے پہلے اسے کشتی میں سوار ہونے کی اجازت مل جائے، یعنی اگر کافر ہے تو اسے ایمان کی توفیق ہوجائے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ حضرت نوح ؑ کے سارے گھر والے جو صاحب ایمان ہوں گے، انہیں عذاب سے نجات ملے گی، اس لیے حضرت نوح ؑ نے اس وعدے کا حوالہ بھی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 42–43

یہاں دو خوف باہم ملتے ہیں : ایک خاموش طبیعت کا خوف اور ایک نفس بشری کا خوف۔ وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ " کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی " ایسے خوفناک حالات حضرت نوح دیکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں سے ایک ان سے دور بھاگا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہو رہا۔ یہاں باپ کی خوبیدہ پدری شفقت جاگ اٹھتی ہے اور اس گمراہ بیٹے کو وہ پکار اٹھتے ہیں۔ وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : " نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی کشتی پہاڑ جیسی موجوں کو چیرتی پھاڑتی بےخوف و خطر چلی جا رہی تھی۔ سوار ہونے کے بعد نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے " یام " (کنعان) کو جو اپنے بھائی وغیرہ سارے کنبہ سے کنارے ہو کر کافروں کی صحبت میں تھا، آواز دی کہ ان بدبخت کافروں کی معیت چھوڑ کر ہمارے ساتھ سوار ہوجا ! تاکہ اس مصیبت عظمیٰ سے نجات پا سکے۔ (تنبیہ) یا تو نوح (علیہ السلام) اسے مومن خیال کرتے تھے، اس لیے آواز دی خواہ واقعہ میں مومن نہ ہو یا کافر جانتے ہوں مگر یہ توقع ہوگی کہ ان ہولناک نشانات کو دیکھ کر مسلمان ہوجائے گا۔ یا " واہلک " کے عموم میں داخل سمجھ کر شفقت پدری کے جوش سے ایسا کیا ہو، اور " الا من سبق علیہ القول " کو مجمل…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 41–42

آیت 41 وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا جب تک اللہ چاہے گا اور جس سمت کو اسے چلائے گا یہ چلے گی اور جب اور جہاں اس کی مشیت ہوگی یہ لنگرانداز ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 طوفان کی کیفیت اور نوح (علیہ السلام) کا اپنے بیٹے کو نصیحت کرنا :۔ طوفان کی یہ صورت تھی کہ مسلسل چھ ماہ تک چشمے زمین سے پانی اگلتے رہے اور آسمان سے مسلسل بارش ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ ٹیلے اور پہاڑ سب کچھ اس پانی میں ڈوب گئے کشتی پانی کے ساتھ ساتھ اوپر اٹھ رہی تھی اور جس طرح اللہ اسے چلاتا چلتی جارہی تھی۔ جب پانی ابھی اوپر اٹھ رہا تھا اور پانی کی سطح زمین سے خاصی بلند ہو رہی تھی اور پانی کی لہریں پہاڑ کی طرح اٹھ اٹھ کر ایک دوسرے سے ٹکرا رہی تھیں۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا۔ نوح کا کافر بیٹا یام یا کنعان جسے کشتی میں سوار نہیں کیا گیا تھا ایک پہاڑی کے کنارے لگ کر کھڑا طوفان کی ہولناکیاں دیکھ رہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

62۔ اصل مقصود طوفان کی شدت کا اظہار ہے۔ المقصود منہ بیان شدۃ الھول والفزع (کبیر) یہ اور بات ہے کہ یہاں واقعی اونچی اونچی موجیں پہاڑوں پر چڑھ چڑھ گئی تھیں۔ توریت میں اس موقع پر ہے :۔ ” اور سات دن کے بعد ایسا ہوا کہ طوفان کا پانی زمین پر آیا۔ جب نوح (علیہ السلام) کی عمر چھ سو برس کی ہوئی۔ دوسرے مہینے کی سترھویں تاریخ کو اسی دن بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے۔ اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں اور چالیس دن اور چالیس رات زمین پر پانی کی جھڑی لگی رہی۔ (پیدائش 7: 11۔ 12) 63۔ (سفینہ نوح واہل نوح (علیہ السلام) دونوں سے الگ جسما بھی اور عقیدۃ بھی “ ) ابنہ یہ لڑکا کافر تھا اور اس کا نام کنعان آتا ہے۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–49

آیت نمبر 36 تا 49 ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وھی تجری بھم فی موج کالجبال اور کشتی ان کو لے کر پہاڑوں جیسی موجوں میں چلنے لگی۔ مَوْجٌ‘ موجۃٌ کی جمع ہے ‘ لہریں۔ ونادی نوح انبہ وکان في معزل اور نوح نے پکارا اپنے بیٹے کو اور بیٹا (حضرت نوح سے یا دین نوح سے) الگ تھا۔ یٰبنی ارکب معنا ولا تکن مع الکفرین۔ اے میرے پیارے بیٹے ! (ایمان لے آ اور) ہمارے ساتھ سوار ہوجا ‘ اور کافروں کے ساتھ نہ رہ (یعنی کافروں کے مذہب یا ہم سے الگ رہنے میں کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو) اس بیٹے کا نام کنعان یا عبید بن عمیر یام تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(42) اور وہ کشتی ان کو لے کر عظیم الشان موجوں میں چلنے لگی اور حضرت نوح ؑ نے اپنے بیٹے کنعان کو پکارا وہ کشتی سے الگ کسی پہاڑ کی چوٹی پر تھا کہ اے بیٹے کلمہ ”۔ لاالہ اللہ“۔ کہہ کر ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور عقیدہ میں کافروں کے ساتھ مت ہو کہ کہیں تو بھی طوفان میں غرق ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ : پہاڑوں جیسی موجوں سے طوفان کے پانی کی وسعت، اس کی طغیانی اور جوش و غضب کے اندازے کے ساتھ کشتی کے مضبوط اور مستحکم ہونے کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ۔۔ : باپ کی شفقت دیکھیے کتنے پیار سے ”یبنی“ (اے میرے چھوٹے سے بیٹے یا اے میرے پیارے بیٹے) کہہ کر کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : اس سے معلوم ہوا کہ اس بیٹے کی بربادی کا باعث کافروں کی مجلس اور ان کے ساتھ رہنا تھا، اگر وہ نوح ؑ کی صحبت میں رہتا تو کفار کے ہتھے نہ چڑھتا۔ اتنے بڑے سیلاب کے وقت بھی وہ غرق ہوگیا مگر اس نے نوح ؑ کے پاس آنا گوارا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 41–44

آیت نمبر 41 تا 44 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال ارکبوافیھاسوار ہونے کا حکم ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی قوم کو ہو۔ رکوب کا معنی ہوتا ہے کسی کی پشت پر بلند ہونا۔ کہا جاتا ہے : رکبہ الدیندین اس پر سوار ہوا۔ اور کلام میں حذف ہے یعنیارکبوا ال ماء فی السفینۃ کشتی میں پانی پر سوار ہوجاؤ۔ ایک قول یہ ہے (اس کا) معنی ” ارکبوھا “ ہے یعنی اس پر سوار ہوجا۔ اور فیتاکید کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان کنتم للرء یاتعبرون۝(یوسف) (للرءیا میں لام تبیین کے لیے ہے) اور فیکا فائدہ یہ ہے کہ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 42–43

حضرت نوح (علیہ السلام) کے غرق ہونے والے بیٹے کا نام : 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کا نام جو غرق ہوا کنعان تھا۔ 2:۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ آپ کا بیٹا تھا سوائے اس کے کہ وہ ان کی مخالفت کرتا تھا نیت میں اور عمل میں۔ 3:۔ ابن جریروابن منذر وابن ابی ھاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابو جعفر محمد بن علی (رح) کہ انہوں نے (آیت) ” ونادی نوح ابنہ “ کے بارے میں فرمایا کہ قبیلہ طی کی لغت میں اس کو بیٹا کہتے ہیں ورنہ وہ آپ کا بیٹا نہ تھا بلکہ وہ ان کی بیوی کا بیٹا تھا۔ 4:۔ ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَهِىَ : اور وہ ] [تَجْرِيْ : بہتی تھی ] [بِهِمْ : ان کے ساتھ ] [فِيْ مَوْجٍ : ایسی لہروں میں جو ] [ كَالْجبالِ : پہاڑوں جیسی تھیں ] [وَنَادٰي : اور پکارا ] [نُوْحُۨ : نوح (علیہ السلام) نے ] [ابْنَهٗ : اپنے بیٹے کو ] [ و : اس حال میں کہ ] [َكَان : وہ تھا ] [فِيْ مَعْزِلٍ : ایک کنارے میں ] [ يّٰبُنَيَّ : اے میرے بیٹے ] [ارْكَبْ : تو سوار ہو ] [مَّعَنَا : ہمارے ساتھ ] [وَلَا تَكُنْ : اور تو مت ہو ] [مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کے ساتھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 42–43

حضرت نوح (علیہ السلام) کا ایک بیٹا موج کی لپیٹ میں : کشتی چل رہی ہے پہاڑوں کی طرح موجیں ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا موجوں کے تھپیڑوں سے دو چار ہو رہا ہے قریب ہے کہ ڈوب جائے وہ ان سے علیحدہ تھا ‘ کشتی میں سوار نہ تھا اور ایمانی اعتبار سے بھی ان کے ساتھ نہ تھا۔ آپ نے اسے آواز دی ‘ اے بٹوا ہمارے ساتھ سوار ہوجا کافروں کے ساتھ نہ ہو ان کے دین کو چھوڑ دے لیکن اس نے نہ مانا اور کہنے لگا میں کسی پہاڑ پر ٹھکانہ پکڑلوں گا وہ مجھے پانی سے بچا لے گا اس کا خیال تھا کہ جیسے عام طور پر سیلاب آتے ہیں اسی طرح سے یہ بھی ایک سیلاب ہے پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا تو بچ جاؤں گا کیونکہ عام طور سے سیلاب پہاڑوں کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–43

بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔ (ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔ چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 41–42

39: بِسْمِ اللّٰہِ میں باء استعانت کے لیے ہے۔ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، یہ کشتی محض اللہ کی اعانت و توفیق سے اپنے سواروں کے ساتھ صحیح وسالم منزل مقصود پر پہنچ کر لنگر انداز ہوگی۔ وَھِیَ تَجْرِیْ الخ اس سے پہلے اندماج سے یعنی تمام مومنین اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے اہل بیت بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ کشی میں سوار ہوگئے، طوفان زوروں پر آگیا اور کشتی نوح پہاڑ ایسی بلند ومہیب موجوں میں سے اللہ کی حفاظت سے گذر رہی تھی کہ برے دور حضرت نوح (علیہ السلام) کی نظر اپنے بیٹے پر پڑگئی۔ یہ بیٹا کنعان مشرک تھا اور کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اسے آواز دی بیٹٓ اب بھی وقت ہے ہمارے ساتھ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 40–43

ربط آیات حضرت نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کی مگر ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے مایوس ہوگئے۔ پھر آپ کو وحی الٰہی کے ذریعے پتہ چل گیا کہ اب مزید کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا ، لہٰذا آپ نے اللہ کی بارگاہ میں قوم کے خلاف دعا کی۔ پھر اللہ کے حکم سے آپ نے کشتی تیار کی۔ اس دوران نوح (علیہ السلام) قوم کو ظلم و زیادتی سے منع کرتے رہے اور ان کو آگاہ کرتے تھے کہ نافرمانی سے باز آجائو اللہ کے عدل و انصاف اور انتقام کا وقت آچکا ہے اور اب تم بچ نہیں سکو گے۔ طوفان کی علامت ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” حتی اذا جاء امرنا “ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا کہ اس قوم کو اب سزا ہی دینی ہے اور کسی کافر کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہِىَ تَجْرِيْ بِہِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ۝ 0ۣ وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَہٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ۝ 42 موج المَوْج في البحر : ما يعلو من غوارب الماء . قال تعالی: فِي مَوْجٍ كَالْجِبالِ [هود/ 42] ، يَغْشاهُ مَوْجٌ مِنْ فَوْقِهِ مَوْجٌ [ النور/ 40] ومَاجَ كذا يَمُوجُ ، وتَمَوَّجَ تَمَوُّجاً : اضطرب اضطرابَ الموج . قال تعالی: وَتَرَكْنا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ [ الكهف/ 99] ( م و ج ) الموج سمندر سے پانی کی جو لہر مغرب کی طرف سے اٹھتی ہے اسے موج کہا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛ ۔ فِي مَوْجٍ كَالْجِبالِ [هود/ 42] مہروں میں چلنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 42–43

وَہِیَ تَجْرِیْ بِہِمْ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِقف وَنَادٰی نُوْحُ نِ ابْنَہٗ وَکَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْکَبْ مَّعَنَا وَلَا تَکُنْ مَّعَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ قَالَ سَاٰوِیْ اِلٰی جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآئِ ط قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ ج وَحَالَ بَیْنَہُمَالْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرِقِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 42۔ 43) (وہ کشتی انھیں لے کر چلنے لگی، ایسی موجوں میں جو پہاڑ کی مانند ہیں اور پکارا حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو جو ان سے الگ تھا۔ اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور ان کافروں کا ساتھ نہ دے۔ بیٹے نے کہا (مجھے کشتی کی ضرورت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 42–43

فہم القرآن ربط کلام : کشتی کا پانی کی موجوں کے ساتھ چلنا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنے بیٹے کو سمجھانا۔ کشتی پانی کے ساتھ رواں ہوئی تو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے دور کھڑے اپنے لخت جگر کو آخری بار سمجھایا کہ میرے پیارے بیٹے ! کلمہ پڑھو اور کشتی پر سوار ہوجاؤ۔ کفار کے ساتھی نہ بنو۔ لیکن گستاخ بیٹے نے بیزاری کے ساتھ کہا کہ مجھے آپ کے بیڑے کی ضرورت نہیں۔ پانی زیادہ ہوا تو میں پہاڑ پر چڑھ کر جان بچا لوں گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے پدرانہ شفقت کے ساتھ سمجھایا کہ بیٹا آج اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچ سکے گا۔ سوائے اس کے جس پر اللہ رحم فرمائے۔ لیکن نافرمان بیٹے نے بوڑھے باپ کی شفقت اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

42: وَھِیَ تَجْرِیْ بِھِمْ (وہ کشتی ان کو لیکر چل رہی تھی) یہ فعل محذوف سے متصل ہے۔ اس پر ارکبوا فیھا باسم اللّٰہ دلالت کر رہا ہے۔ گویا عبارت اس طرح ہے۔ فرکبوا فیھا یقولون بسم اللہ وھی تجری بہم ای السفینۃ وھم فیھا۔ پس وہ اس میں بسم اللہ کہتے ہوئے سوار ہوگئے وہ کشتی ان کو لیکر چل پڑی اس حال میں کہ وہ کشتی میں تھے۔ فِیْ مَوْجٍ کَالْجِبَالِ (ایسی موجوں میں جو پہاڑوں جیسی تھیں) اس سے مرادطوفان کی موجیں ہیں۔ موج جمع موجہ ہے جیسا تمرجمع تمرۃ۔ موجؔ اس پانی کو کہتے ہیں جو تیز ہوائوں کے پانی کے اندر داخل ہونے سے اضطراب کے وقت بلند ہو۔ بلندی اور تہہ تہہ مل جانے کی وجہ سے ہر موج کو پہاڑ سے تشبیہ دی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

42” وھی تجری بھم فی موج کالجبال “ موج اس پانی کو کہتے ہیں جو تیز ہوا کے چلنے سے بلند ہوجائے اس کو پہاڑ کے ساتھ تشبیہ دی اس کے بڑا اور بلند ہونے میں ” ونادی نوح ن ابنہ “ کنعانک اور عبید بن عمیر نے کہا ہے کہ سام مراد ہے اور یہ کافر تھا ” وکان فی معزل “ کشتی پر سوار نہ ہوا تھا۔ ” یا بنی ارکب معنا “ نافع ، ابن عامر، حمزہ اور بزی رحمہما اللہ نے ابن کثیر سے اور ابو ب کرنے عاصم اور یعقو ب رحمہما اللہ سے ” ارکب “ باء کو ظاہر کر کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات باء کو میم میں ادغام کرتے ہیں ۔ ” ولا تکن مع الکافرین “ پس تو ہلاک ہوجائے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 41–43

41۔ 43۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور اس کے نام سے ٹھہرے گی میرا رب بڑا غفور الرحیم ہے۔ ہم پر رحم کھا کر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ کشتی چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے بسم اللہ کہہ دیتے تھے تھم جاتی تھی اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کا کہنا مستحب ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند ابی یعلی اور طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت جب کشتی میں سوار ہونے کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے کشتی کے تیر نے کا وصف اس طرح بیان فرمایا گویا ہم اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ (وھی تجری بھم) ” اور وہ ان کو لے کر چلنے لگی۔ “ یعنی کشتی نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو لے کر تیر رہی تھی۔ (فی موج کالجبال) ” پہاڑوں جیسی لہروں میں “ اور اللہ تعالیٰ کی کشتی اور کشتی میں سوار لوگوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ (ونادیٰ نوح ابنہ) ” اور نوح نے اپنے بیٹے کو پکارا “ یعنی جب نوح (علیہ السلام) کشتی میں سوار ہوگئے تو اسے بلایا، تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ سوار ہوجائے۔ (وکان ) ” اور وہ تھا۔ “ یعنی نوح (علیہ السلام) کا بیٹا (فی معزل ) ” الگ “ یعنی کشتی والوں سے علیحدہ دور فاصلے پر تھا۔ نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 38–44

قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

97 ۔ نوح (علیہ السلام) کے اپنے بیٹے کو پکارنے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو پکارا جبکہ وہ ایک کنارے پر کھڑا تھا اور اس سے کہا کہ ہمارے ساتھ سوار ہوجا۔ سو نوح کا اپنے بیٹے کو کشتی میں سوار ہونے کے لیے پکارنا اور بیٹے کا انکار کرنا بھی اپنے اندر بڑے درسہائے عبرت رکھتا ہے۔ مثلا یہ کہ ہدایت پـیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتی۔ اور یہ کہ جو لوگ ہدایت چاہتے ہی نہیں وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے۔ اور یہ کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں ورنہ نوح کا بیٹا اس طرح کفر پر نہ مرتا۔ سبحان اللہ۔ یہ شفقت پدری بھی کیا چیز ہوتی ہے کہ حضرت نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–44

نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–49

آیات 36 تا 49 اسرار و معارف لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 42–43

ف 6 ۔ یا دوسرا ترجمہ یہ ہوسکتا ہے اور وہی لفظی ترجمی بھی ہے کہ آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں ہے مگر جو رحم کرنے والا ہے۔ (یعنی خود اللہ تعالی) آیت میں یہ ایک وجہ ہے جو محققین نے ذکر کی ہے اور یہی قویٰ ہے کیونکہ فاعل کا صیغہ زیادہ تر صفت کے لئے آتا ہے اور نسبت کے لئے کم استعمال ہوتا ہے۔ (روح) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–47

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47 فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 41–43

پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کہ کر کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور ان کے نام سے ٹھرے گی۔ میرا رب غفور الرحیم ہے، رحم کھاکر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے، چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے امتی جب کشتی میں سوار ہونے کے وقت بسم اللہ الملک وما قدر واللہ حق قدرہ اور بسم اللہ مجرھا ومرسھا ان ربی لغفور الرحیم کہیں گے تو ڈوبنے سے محفوظ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 40–43

[22] تنور سے یا تو زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔ [23] یعنی جن پر ان کے کفر کے پاداش میں غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–42

(ف 2) نوح (علیہ السلام) مومنین کی ایک قلیل جماعت ساتھ لے کر کشتی میں بیٹھ گئے ، آپ نے سب کو ہدایت کردی کہ خدا کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجاؤ اللہ تمہیں محفوظ رکھے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

42 اور وہ کشتی ان سب کو لے کر پہاڑ جیسی اونچی اونچی موجوں میں چلنے لگی اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کنعان کو پکارا وہ کشتی سے علیحدہ مقام پر کھڑا تھا اے میرے بیٹے ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ شامل نہ ہو اور کافروں میں سے مت ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 42–43

ف 1۔ وہ باوجود فہمایش کے ایمان نہ لایا تھا اور بوجہ ایمان نہ لانے کے کشتی میں سوار نہ کیا گیا تھا۔ 2۔ یعنی کفر کو چھوڑ دے کہ غرق سے بھی بچ جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پانی کی موجوں میں کشتی چل رہی تھی کہ نوح (علیہ السلام) کو فرزند نظر آیا تو اس کو سوار ہونے کی دعوت دی 58 ؎ ” ایسی موجوں میں کہ پہاڑ کی طرح اٹھتی ہیں اور کشتی انہیں لئے جا رہی ہے “۔ اس آیت میں گویا طوفان کی شدت کا بیان ہو رہا ہے یعنی یہی نہیں کہ سیلاب آگیا اور وادیاں اور بستیاں ، پہاڑیاں اور اونچے ٹیلے دیکھتے ہیدیکھتے نظروں سے غائب ہوگئے۔ نہیں ! بلکہ اس میں خوفناک قسم کی تند و تیز موجیں اٹھ رہی تھیں اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پانی کا پہاڑچلا آ رہا ہے کبھی سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر سمندر کی لہروں کا منظر دیکھا ہوگا کہ دور دور تک سطح سمندر ہموار نظر نہیں آتی بلکہ پہاڑوں کی طرح بڑی بڑی اونچی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 42–43

As stated in the second (42) and third (43) verse, when the whole family of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) had boarded the ark, a son whose name has been reported as Kin` an (Canaan) was left out. Out of his paternal compassion, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) called out to him asking him to come on board and warning him that he should not stay in the company of disbelievers otherwise he would be drowned with them. This young man was already in league with those disbelieving enemies, in fact, was himself a disbeliever. But, in all likelihood, Sayyidna Nuh (علیہ السلام) did not know that he was a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–43

45. Trust in God is the quintessential characteristic of the believer. True, like any other person, the believer also has recourse to worldly measures. It is, in fact, necessary to use them on account of the laws of nature under which all human beings live and operate. One thing, however, differentiates a believer from a man of the world. A believer, while having recourse to worldly measures, places his reliance on God rather than on the measures he adopts. He is well aware that none of his measures can be of any avail unless they coincide with God's favour and mercy.

Read the full tafseer →