Explained with ayahs 41–43
کشتی نوح پر کون کون سوار ہوا ؟
حضرت نوح جنہیں اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان سے فرمایا کہ آؤ اس میں سوار ہوجاؤ اس کا پانی پر چلنا اللہ کے نام کی برکت سے ہے اور اسی طرح اس کا آخری ٹھہراؤ بھی اسی پاک نام سے ہے۔ ایک قرآت میں مجرھا و مرسھا بھی ہے۔ یہی اللہ کا آپ کو حکم تھا کہ جب تم اور تمہارے ساتھی ٹھیک طرح بیٹھ جاؤ تو کہنا (الْـحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ نَجّٰىنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 28) 23۔ المؤمنون :28) اور یہ بھی دعا کرنا کہ (اَنْزِلْنِيْ مُنْزَلًا مُّبٰرَكًا وَّاَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِيْنَ 29) 23۔ المؤمنون :29) اس لیے مستحب ہے کہ تمام کاموں کے شروع میں بسم اللہ پڑھ لی جائے خواہ کشتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
سورة هُوْد 45
یہ ہے مومن کی اصلی شان۔ وہ عالم اسباب میں ساری تدابیر قانون فطرت کے مطابق اسی طرح اختیار کرتا ہے جس طرح اہل دنیا کرتے ہیں، مگر اس کا بھروسہ ان تدبیروں پر نہیں بلکہ اللہ پر ہوتا ہے اور وہ خوب سمجھتا ہے کہ اس کی کوئی تدبیر نہ تو ٹھیک شروع ہو سکتی ہے، نہ ٹھیک چل سکتی ہے اور نہ آخری مطلوب تک پہنچ سکتی ہے جب تک اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم شامل حال نہ ہو۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور نوح ؑ نے (سب جانوروں کو سوار کرکے اپنے متبعین سے) فرمایا کہ (آؤ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اور غرق سے کچھ اندیشہ مت کرنا کیونکہ) اس کا چلنا اور ٹھہرنا (سب) اللہ ہی کے نام سے ہے (اور وہی اس کے محافظ ہیں پھر اندیشہ کیوں کیا جاوے اور گو بندوں کے گناہ مقتضی غرق کو ہیں مگر) بالیقین میرا رب غفور ہے رحیم ہے (وہ اپنی رحمت سے گناہ بخش دیتا ہے اور حفاظت بھی کرتا ہے، غرض سب کشتی پر سوار ہوگئے اور اس اثناء میں پانی بڑھ گیا) اور وہ کشتی ان کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں میں چلنے لگی اور نوح ؑ نے اپنے (ایک سگے یا سوتیلے) بیٹے کو (جس کا نام کنعان تھا اور وہ باوجود فہمائش کے ایمان نہ لایا تھا اور بوجہ…
Read the full tafseer →وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔
مومن کا مرکز نگاہ : اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت نوح نے اپنے ساتھیوں کو کشتی میں سوار ہوجانے کی دعوت دی اور پہلا کلمہ جو موقع پر ان کی زبان سے نکلا وہ بسم اللہ مجریھا ومرساھا۔۔۔ الایۃ۔ ہے۔ یہ کلمہ اس حقیقت کی تعبیر ہے کہ اسباب و وسائل بجائے خود کتنی ہی اہمیت کیوں نہ رکھتے ہو لیکن مومن کا اصلی اعتماد اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ خدائے رحمان و رحیم کی رحمت و عنایت پر ہوتا ہے۔ اس کی عنایت شامل حال ہو تو مّواج و متلاطم سمندر کے اندر لکڑی کا ایک ٹوٹا ہوا تختہ بھی آدمی کے لیے سہارا بن جاتا…
Read the full tafseer →41۔ 1 یعنی اللہ ہی کے نام سے اس کا پانی کی سطح پر چلنا اور اسی کے نام پر اس کا ٹھہرنا ہے۔ اس سے ایک مقصد اہل ایمان کو تسلی اور حوصلہ دینا بھی تھا کہ بلا خوف و خطر کشتی میں سوار ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ ہی اس کشتی کا محافظ اور نگران ہے اسی کے حکم سے چلے گی اور اسی کے حکم سے ٹھہرے گی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا کہ ' اے نوح ! جب تو اور تیرے ساتھی کشتی میں آرام سے بیٹھ جائیں تو کہو (اَلْحَمْدُ لللّٰہِ الَّذِیْ نَجّٰنَا مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ہ وَ قُلْ رَّبِّ اَنْزِلْنِیْ مُنْزَلًا مُّبٰرَکَا وَّ اَنْتَ خَیْرُالْمُنْزِلِیْنَ) (المومنون 28، 29) ' سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، جس نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
21: عربی زبان میں ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہتے ہیں، اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کی ابتدا اس طرح ہوئی تھی کہ ایک تنور سے پانی ابلنا شروع ہوا، اور پھر کسی طرح نہ رکا۔ اور بعض مفسرین نے تنور کو سطح زمین کے معنی میں لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوگیا، اور پھر ساری زمین میں پھیل گیا۔ اور اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی،۔
22: چونکہ طوفان میں وہ جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے جن کی انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے، اس لئے حکم دیا گیا کہ کشتی میں ضرورت کے تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور طوفان کے بعد ان سے کام لیا…
Read the full tafseer →بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا کا مفہوم یہ ہے کہ اب یہ کشتی اللہ کی مشیت کے حوالے ہے۔ اس کا چلنا پانی کے اوپر اور پھر کسی مقام پر ٹھہرنا اللہ کے قوانین مشیت کے مطابق ہے۔ جب ناقابل کنٹرول لہریں اٹھتی ہیں تو ان میں انسان کی قوت کے حدود ختم ہوجاتے ہیں اور انسان اور کشتی طوفان کے حوالے ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ غفور و رحیم ہی فیصلے کرتا ہے۔
اب (اگلی آیات میں) جو منظر آ رہا ہے وہ نہایت ہی خوفناک ہے یعنی طوفان اور کافروں کا غرق ہونا۔
Read the full tafseer →2 نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا کہ بنام خدا کشتی پر سوار ہوجاؤ، کچھ فکر مت کرو اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب خدا کے اذن و حکم اور اس کے نام کی برکت سے ہے۔ غرقابی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ میرا پروردگار مومنین کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا اور ان پر بیحد مہربان ہے۔ وہ اپنے فضل سے ہم کو صحیح سلامت اتارے گا۔ اس آیت سے نکلتا ہے کہ کشتی وغیرہ پر سوار ہوتے وقت " بِسْمِ اللّٰہ " کہنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت 41 وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا
جب تک اللہ چاہے گا اور جس سمت کو اسے چلائے گا یہ چلے گی اور جب اور جہاں اس کی مشیت ہوگی یہ لنگرانداز ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →47 کشتی پر سوار ہونے کی دعا :۔ نوح نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر اس کشتی پر سوار ہوجاؤ کچھ فکر مت کرو اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ کے اذن اور اس کے نام کی برکت سے ہے۔ غرقابی کا کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میرا پروردگار مومنوں کی کوتاہیوں سے درگذر کرنے والا اور ان پر بہت مہربان ہے۔ وہ یقیناً اپنے فضل و کرم سے ہم کو بخیریت اتارے گا۔
ضمناً اس آیت سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ مومن کو صرف اسباب پر بھروسہ نہ کرنا چاہیے بلکہ اللہ سے اس کے فضل و کرم کی دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کیونکہ اسباب کی باگ ڈور بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور دوسری یہ کہ کشتی یا جہاز پر سوار ہوتے وقت یہ دعا…
Read the full tafseer →61۔ (اس لئے اس پر سوال ہو کر غرق کا اندیشہ بھی نہ کرنا) (آیت) ” قال ارکبوا “۔ ظاہر ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے اس قول کے مخاطب آپ کے عیال اور آپ کے متبعین ہیں۔ بسم اللہ “۔ سے مراد یہاں بامر اللہ یا باذن اللہ لی گئی ہے یعنی اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ ہی کی قدرت اور حکم سے ہے۔ ای بقدرتہ اوبامرہ او باذنہ (روح) کان فی معزل من الکفار وکانہ انفرد عنھم فظن نوح (علیہ السلام) ان ذلک انما کان لانہ احب مفارقتھم (کبیر) (آیت) ” مجرھا “۔ عربی تلفظ میں ی کی آواز صرف یا معروف کی ہے چناچہ قرآن مجید کے قاری بھی ہر جگہ اسی قاعدہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ لیکن اس خاص موقع پر مجری کی ی کی آواز یائے مجہول کی نکلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →وقال ارکبوا فیھا اور نوح نے کہا : کشتی میں سوار ہوجاؤ پڑھتے ہوئے۔
بسم اللہ مجرھا ومرسھا اللہ ہی کے نام کے ساتھ (یا سبب و مدد سے) ہے کشتی کا چلنا اور لنگر انداز ہونا (یعنی ٹھہرنا) مجری اور مرسا یا ظرف زمان ہے یعنی چلنے اور ٹھہرنے کا وقت ‘ یا ظرف مکان ہے یعنی چلنے اور ٹھہرنے کا مقام ‘ یا مصدر ہے یعنی چلنا اور ٹھہرنا۔
ان ربی لغفور رحیم۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رب بڑی مغفرت اور رحمت والا ہے۔ یعنی اگر وہ تمہارے قصور معاف نہ کرتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم کو نجات نہ ملتی۔
بغوی نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت نوح نے جب ارادہ کیا کہ کشتی روانہ ہوجائے تو بسم اللہ کہا ‘ کشتی چل دی اور جب کشتی کو…
Read the full tafseer →(41) حضرت نوح ؑ نے اپنے پیروکاروں سے فرمایا اس کشتی میں سوار ہوجاؤ اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا سب اللہ ہی کے نام سے ہے یا یہہ کہ اللہ تعالیٰ ہی جہاں چاہے گا اس کو چلائے گا اور جس مقام پر چاہے گا اس کو روکے گا، میرے رب بہت ہی معاف فرمانے والا اور توبہ کرنے والے پر بہت ہی رحمتیں فرمانے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا وَمُرْسٰىهَا : ”ارْكَبُوْا فِيْهَا“ عام طور پر سوار ہونے کے لیے ”رَکِبَ عَلَیْہِ“ آتا ہے، یہاں ”اِرْکَبُوْا عَلَیْھَا“ کی جگہ ”ارْكَبُوْا فِيْهَا“ اس لیے فرمایا کہ کشتی میں کمرے کی طرح داخل ہو کر بیٹھا جاتا ہے، جب کہ گھوڑے وغیرہ کے اوپر سوار ہوتے ہیں۔ (ابن عاشور) اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی صرف تختے نہیں تھے جن کے اوپر وہ سوار ہوئے تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں تیار ہونے والی وہ کشتی بہترین کمروں، آرام دہ سیٹوں اور کئی منزلوں والی تھی، جن میں وہ سوار ہوئے۔ ”مَجْرَی“ ”جَرَی یَجْرِیْ“ (ض) سے مصدر میمی ہے، یعنی چلنا۔ بعض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت نمبر 41 تا 44
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال ارکبوافیھاسوار ہونے کا حکم ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی قوم کو ہو۔ رکوب کا معنی ہوتا ہے کسی کی پشت پر بلند ہونا۔ کہا جاتا ہے : رکبہ الدیندین اس پر سوار ہوا۔ اور کلام میں حذف ہے یعنیارکبوا ال ماء فی السفینۃ کشتی میں پانی پر سوار ہوجاؤ۔ ایک قول یہ ہے (اس کا) معنی ” ارکبوھا “ ہے یعنی اس پر سوار ہوجا۔ اور فیتاکید کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان کنتم للرء یاتعبرون(یوسف) (للرءیا میں لام تبیین کے لیے ہے) اور فیکا فائدہ یہ ہے کہ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے فرمایا کہ نوح (علیہ السلام) جب کشتی میں سوار ہوئے اور وہ ان کو لے کر چلے تو ڈر گئے اور آواز لگانی شروع کی ” الا ھا انفن “ یعنی اے اللہ احسان فرما۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “ کے بارے میں فرمایا (کہ یہ الفاظ وہ لوگ جب کہتے تھے) جب وہ سوار ہوتے ہیں جب وہ چلتے ہیں اور جبکہ وہ لنگر انداز ہوتے ہیں۔
3:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب وہ ارادہ کرتے کہ کشتی ٹھہر جائے تو کہتے تھے بسم اللہ تو وہ ٹھہر جاتی اور جب وہ ارادہ کرتے کہ وہ چل پڑے تو کہتے بسم اللہ پس وہ چل پڑتی۔
سعید بن منصور…
Read the full tafseer →[وَقَالَ : اور (اللہ نے) کہا ] [ارْكَبُوْا : تم لوگ سوار ہو ] [ فِيْهَا : اس (کشتی ) میں ] [بِسْمِ اللّٰهِ : (اور کہو) اللہ کے نام سے ہے ] [مَجْــرٖ۩ىهَا : اس کے بہنے کا وقت ] [وَمُرْسٰىهَا : اور اس کو ٹھہرانے کا وقت ] [ان : بیشک ] [رَبِيْ : میرا رب ] [لَغَفُوْرٌ: یقینا بےانتہا بخشنے والا ہے ] [رَّحِيْمٌ : ہر حال میں رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
پانی کا طوفان ‘ کافروں کی غرقابی ‘ اور اہل ایمان کی نجات
حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنا کر تیار کرلی پانی کا طوفان آنا تھا اس کی ابتداء ہوگئی ‘ اہل ایمان کو غرق ہونے سے بچانا تھا اور چوپائے اور درند پرند کی بھی نسلیں چلانی تھیں اور بعد میں دنیا بھی آباد ہونی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے نوح ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو لوگ اہل ایمان ہیں انہیں اور اپنے گھر والوں کو کشتی میں سوار کر دو ‘ ہاں تمہارے گھر والوں میں جن کا ڈوبنا قضاء وقدر میں طے ہوچکا ہے ان کو سوار مت کرو ‘ ان میں ان کا ایک لڑکا تھا جو ایمان نہیں لایا تھا اور ایک بیوی تھی وہ بھی ایمان نہیں لائی تھی ان دونوں کے کفر کی وجہ سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا
تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان
قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔
(ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔
چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را
کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
39: بِسْمِ اللّٰہِ میں باء استعانت کے لیے ہے۔ اس کشتی میں سوار ہوجاؤ، یہ کشتی محض اللہ کی اعانت و توفیق سے اپنے سواروں کے ساتھ صحیح وسالم منزل مقصود پر پہنچ کر لنگر انداز ہوگی۔ وَھِیَ تَجْرِیْ الخ اس سے پہلے اندماج سے یعنی تمام مومنین اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے اہل بیت بیوی اور ایک بیٹے کے علاوہ کشی میں سوار ہوگئے، طوفان زوروں پر آگیا اور کشتی نوح پہاڑ ایسی بلند ومہیب موجوں میں سے اللہ کی حفاظت سے گذر رہی تھی کہ برے دور حضرت نوح (علیہ السلام) کی نظر اپنے بیٹے پر پڑگئی۔ یہ بیٹا کنعان مشرک تھا اور کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اسے آواز دی بیٹٓ اب بھی وقت ہے ہمارے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ربط آیات
حضرت نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کی مگر ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے مایوس ہوگئے۔ پھر آپ کو وحی الٰہی کے ذریعے پتہ چل گیا کہ اب مزید کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا ، لہٰذا آپ نے اللہ کی بارگاہ میں قوم کے خلاف دعا کی۔ پھر اللہ کے حکم سے آپ نے کشتی تیار کی۔ اس دوران نوح (علیہ السلام) قوم کو ظلم و زیادتی سے منع کرتے رہے اور ان کو آگاہ کرتے تھے کہ نافرمانی سے باز آجائو اللہ کے عدل و انصاف اور انتقام کا وقت آچکا ہے اور اب تم بچ نہیں سکو گے۔
طوفان کی علامت
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” حتی اذا جاء امرنا “ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا کہ اس قوم کو اب سزا ہی دینی ہے اور کسی کافر کو…
Read the full tafseer →وَقَالَ ارْكَبُوْا فِيْہَا بِسْمِ اللہِ مَجْؔــرٖىہَا وَمُرْسٰىہَا 0 ۭ اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 41
ركب
الرُّكُوبُ في الأصل : كون الإنسان علی ظهر حيوان، وقد يستعمل في السّفينة، والرَّاكِبُ اختصّ في التّعارف بممتطي البعیر، وجمعه رَكْبٌ ، ورُكْبَانٌ ، ورُكُوبٌ ، واختصّ الرِّكَابُ بالمرکوب، قال تعالی: وَالْخَيْلَ وَالْبِغالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] ، فَإِذا رَكِبُوا فِي الْفُلْكِ
) رک ب ) الرکوب
کے اصل معنی حیوان کی پیٹھ پر سوار ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ لِتَرْكَبُوها وَزِينَةً [ النحل/ 8] تاکہ ان سے سواری کا کام لو اور ( سواری کے علاوہ یہ چیزیں ) موجب زینت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْہَا بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖہَا وَمُرْسٰہَا ط اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔
(سورۃ ہود : 41)
(اور نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس کشتی میں۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور اس کا لنگرانداز ہونا۔ بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے۔ )
مومن کا اصل سہارا
اس آیت کو پڑھئے اور غور فرمایئے کہ نوح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے لوگوں کے سوا سب لوگ طوفان کی نذر ہورہے ہیں۔ کوئی ادھر ڈوب رہا ہے کوئی ادھر ڈوب رہا ہے۔ اپنی ساری کوششوں کے باوجود کسی کے لیے کوئی پناہ نہیں۔ ان کے بڑے بڑے متمردین لہروں کی نذر ہوچکے ہیں۔ ایک نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی ہیں جنھیں پانی سے بچائو کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : طوفان نوح کی کیفیت اور اس کی ہولناکیاں، حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ بسم اللّٰہ مجرہا ومرسہا پڑھ کر کشتی میں سوار ہوجائیں اس بیڑے کا چلنا اور ٹھہرنا اللہ کے حکم سے ہی ہوگا یقیناً وہ نہایت رحم فرمانے اور معاف کرنے والا ہے۔
دنیا میں یہ پہلا بحری بیڑا تھا۔ چپو اور انجن کے بغیر بےانتہا طوفان میں اپنی پوری سلامتی اور خیروبرکت کے ساتھ نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ جس میں اللہ تعالیٰ کا پیغمبر اس کے مومن ساتھی اور جانوروں کے دو ، دو جوڑے سوار تھے گویا کہ ایک دنیا بیڑے میں سوار کردی گئی۔
جوں ہی حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھی کشتی میں سوار ہوئے۔…
Read the full tafseer →کشتی میں سواری کی دعا :
41: وَقَالَ ارْکَبُوْا فِیْھَا بِسْمِ اللّٰہِ مَجْرٖھَا وَمُرْسٰھَا (کہا تم اس پر سوار ہوجائو اللہ تعالیٰ کے نام سے اس کا چلنا اور رکنا ہے) بسم اللہ، ارکبوا سے متصل ہے۔ وائو سے حال ہے۔ یعنی تم اس میں سوار ہوجائو اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ کا نام لینے والے ہو۔ یا اس حال میں کہ اس کے چلانے اور ٹھہرانے کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لینے والے ہو۔ اس وجہ سے کہ المجری، المرسٰی اسماء ظروف ہیں اور وقت کا معنی دیتے ہیں یا اس لئے کہ یہ دونوں مصدر میمی ہیں جیسا اجراء وارساء اور ان کا مضاف وقت کا لفظ حذف کردیا جیساکہتے ہیں : خفوق النجم اے وقت خفوق النجم۔
یہ بھی درست ہے کہ بسم اللّٰہ…
Read the full tafseer →تفسیر 41” وقال ارکبوا فیھا “ یعنی ان کو نوح نے کہا تم اس کشتی میں سوار ہو جائو ” بسم اللہ مجریھا و مرسھا ان ربی لغفوررحیم “۔
ضحاک کا قول ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب ارادہ کیا کہ کشتی روانہ ہوجائے تو بسم اللہ کہا کشتی چل پڑی اور جب کشتی کو ٹھہرانا چاہا تو بسم اللہ کہا کشتی ٹھہر گئی۔
حمزہ کسائی اور حفص نے (مجرسھا) میم کے فتحہ کے ساتھص مرسھاض میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ محمد بن محیص نے ( مجرسھا ومرساھا) دونوں کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے مادہ جرت اور رست ہے۔ عبادت اس طرح ہوگی ” بسم اللہ جریھا واسوھا “ یہ دونوں مصدر ہیں ۔ دوسرے قراء نے ” مجراھا مرساھا “ دونوں میم کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ عبارت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
41۔ 43۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور اس کے نام سے ٹھہرے گی میرا رب بڑا غفور الرحیم ہے۔ ہم پر رحم کھا کر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ کشتی چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے بسم اللہ کہہ دیتے تھے تھم جاتی تھی اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کا کہنا مستحب ہے ناقابل اعتراض سند سے مسند ابی یعلی اور طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا میری امت جب کشتی میں سوار ہونے کے…
Read the full tafseer →“ (وقال) اور نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا جن کو سوار کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ (ارکبو فیھا بسم اللہ مجرھا وموسھا) ” اس میں سوار ہوجاؤ، اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا “ یعنی وہ اللہ کے نام پر بہتی چلی جا رہی تھی اور اسی کے حکم سے لنگر انداز ہوتی تھی (ان ربی لغفوررحیم) ” بیشک میرا رب بخشنے والا مہربان ہے۔ “ کیونہ اس نے ہمیں بخش دیا، ہمیں اپنی رحمت سے نوازا اور ظالموں کی قوم سے ہمیں نجات دی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →96 ۔ اللہ ہی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے پیرو کاروں سے کہا کہ تم سب سوار ہوجاؤ اس کشتی میں اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا بھی ہے اور اس کا ٹھہرنا بھی۔ بیشک میرا رب بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ سو اس ارشاد سے اللہ ہی پر بھروسہ و اعتماد رکھنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ یعنی ہر حال میں چلنے میں بھی اور ٹھہرنے میں بھی۔ کہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اور طبرانی وغیرہ میں حضرت حسن بن علی ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " جو کوئی کشتی پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد یہ دعا پڑھے گا وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ یا اللہ ہی کے نام پر اس کا چلنا اور ٹھہرنا ہے۔
5 ۔ کشتی یا کسی دوسری سواری پر سوار ہوتے وقت بسم اللہ پڑھنا مسنون ہے جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے۔ سورة زخرف آیت 13 ۔ 14 میں سواری پر سوار ہوتے وقت یہ دعا بھی آئی ہے۔ سبحان الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا حالانکہ ہم میں اتنی طاقت نہ تھی کہ اسے قابو میں لاسکتے اور ہم یقینا اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : یہ میری امت کے لئے غرق ہونے سے امان ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہونے لگیں تو یہ دعا کریں۔ بسم اللہ الملک الرحمن بسم…
Read the full tafseer →(11:41) قال۔ ای قال نوح۔
ارکبوا۔ تم سوار ہوجاؤ۔ رکوب سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ رکوب کے اصل معنی جانور کی پشت پر سوار ہونے کے ہیں۔ لیکن یہاں کشتی پر سوار ہونے کے لئے مستعمل ہے۔ فیہا۔ ای فی الفلک۔
مجرھا۔ مجری۔ مصدر میمی مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ۔ جری یجری (باب ضرب) سے۔ اس کا پانی کی طرح ہمواری کے ساتھ رواں ہونا۔ یا مجری ظرف مکان یا ظرف زمان بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی کشتی کے چلنے کی جگہ۔ یا چلنے کا وقت
مرسھا۔ مرسی مضاف ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مضاف الیہ۔ مصدر میمی۔ اس کا ٹھہرانا اس کا جمانا۔ مادہ رسو۔ رسا یرسو (باب نصر) رسو کا معنی ٹھہرنا۔ جگہ پر جم جانا۔ اس سے مصدر میمی مرسا آتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47
فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
پھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ بسم اللہ کہ کر کشتی میں سوار ہوجاؤ خدا کے نام کی برکت سے یہ کشتی پانی پر چلے گی اور ان کے نام سے ٹھرے گی۔ میرا رب غفور الرحیم ہے، رحم کھاکر بخشش کی اور کافروں کو ہلاک کیا۔ تفسیر ضحاک میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) جب چاہتے تھے کہ کشتی چلے تو بسم اللہ کہتے تھے، چلنے لگتی تھی اور جب چاہتے تھے کہ تھم جائے تو بسم اللہ کہتے تھے۔ اسی واسطے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ کہنا مستحب ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے امتی جب کشتی میں سوار ہونے کے وقت بسم اللہ الملک وما قدر واللہ حق قدرہ اور بسم اللہ مجرھا ومرسھا ان ربی لغفور الرحیم کہیں گے تو ڈوبنے سے محفوظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
[22] تنور سے یا تو زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔
[23] یعنی جن پر ان کے کفر کے پاداش میں غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
(ف 2) نوح (علیہ السلام) مومنین کی ایک قلیل جماعت ساتھ لے کر کشتی میں بیٹھ گئے ، آپ نے سب کو ہدایت کردی کہ خدا کا نام لے کر کشتی میں سوار ہوجاؤ اللہ تمہیں محفوظ رکھے گا ۔
Read the full tafseer →41 حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا تم اس کشتی میں سوار ہوجائو اور ڈوبنے کا اندیشہ نہ کرو اس کشتی کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا سب اللہ تعالیٰ ہی کے نام کی برکت ہے یقینا میرا پروردگار بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔ یعنی سب مسلمان کشتی میں سوار ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
ف 4۔ یعنی ان کے لیے یہ قطعی طور پر تجویز ہوچکا ہے تو ان کی سفارش بےکار ہوگی۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) ، آپ (علیہ السلام) کے لوگ سوار ہوگئے اور کشتی اللہ کے نام سے چلنے لگی
57 ؎ اس سے ایک سوال پیدا ہونا ضروری تھا کہ آیا یہ طوفان پوری دنیا پر آیا ہے یا کسی ایک علاقہ میں ؟ پھر اس سے ایک سوال یہ نکلا کہ کیا آپ نے دنیا بھر کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا اپنے ساتھ لیا تھا یا وقتی ضرورت کی چیزوں کا ایک ایک جوڑا ؟ محققین کا جواب یہ ہے کہ طوفان صرف اس علاقہ میں آیا جہاں نوح (علیہ السلام) اور آپ (علیہ السلام) کی قوم آباد تھی لیکن زیادہ تر مفسرین کا بیان طوفان کے عالمگیر ہونے کے متعلق ہی ہے لیکن کتاب و سنت سے کوئی ایسی نص پیش نہیں کی جاسکتی جس سے صراحتہ ً اس طوفان کا عالمگیر ہونا ثابت ہو ۔…
Read the full tafseer →Commentary
Etiquette of boarding boats and other modes of conveyance
The first verse (41) teaches the etiquette of boarding boats and other modes of conveyance. One should board by saying: بِسْمِ اللَّـهِ مَجْرَاهَا وَمُرْسَاهَا (With the name of Allah it sails and anchors). The word: مجرے (majra pronounced according to the reading (qira'ah) of Imam Hafs as ` majray' with fathah on the letter mim and a major Imalah [ inclination ] on the letter ra) means to sail or to move, and مرسی (mursa) means to stop or anchor. The sense is that the moving of this mode of transport owes itself to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
45. Trust in God is the quintessential characteristic of the believer. True, like any other person, the believer also has recourse to worldly measures. It is, in fact, necessary to use them on account of the laws of nature under which all human beings live and operate. One thing, however, differentiates a believer from a man of the world. A believer, while having recourse to worldly measures, places his reliance on God rather than on the measures he adopts. He is well aware that none of his measures can be of any avail unless they coincide with God's favour and mercy.
Read the full tafseer →