قوم نوح پر عذاب الٰہی کا نزول
حسب فرمان ربی آسمان سے موسلا دھار لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا اور ساری زمین پانی سے بھر گئی اور جہاں تک منظور رب تھا پانی بھر گیا اور حضرت نوح کو رب العالمین نے اپنی نگاہوں کے سامنے چلنے والی کشتی پر سوار کردیا۔ اور کافروں کو ان کے کیفر کردار کو پہنچا دیا۔ تنور کے ابلنے سے بقول ابن عباس یہ مطلب ہے کہ روئے زمین سے چشمے پھوٹ پڑے یہاں تک کہ آگ کی جگہ تنور میں سے بھی پانی ابل پڑا۔ یہی قول جمہور سلف و خلف ہے کا ہے۔ حضرت علی سے مروی ہے کہ تنور صبح کا نکلنا اور فجر کا روشن ہونا ہے یعنی صبح کی روشنی اور فجر کی چمک لیکن زیادہ غالب پہلا قول ہے۔…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 42
اس کے متعلق مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک صحیح وہی ہے جو قرآن کے صریح الفاظ سے سمجھ میں آتا ہے کہ طوفان کی ابتدا ایک خاص تنور سے ہوئی جس کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا، پھر ایک طرف آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اور دوسری طرف زمین میں جگہ جگہ سے چشمے پھوٹنے لگے۔ یہاں صرف تنور کے ابل پڑنے کا ذکر ہے اور آگے چل کر بارش کی طرف بھی اشارہ ہے۔ مگر سورة قمر میں اس کی تفصیل دی گئی ہے کہ فَفَتَحْنَآ اَبْوَاب السَّمَآءِ بِمَآ ءٍ مُّنْھَمِرٍ وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا فَالْتَقَی الْمَآءُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔”ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیئے جن سے لگاتار بارش…
Read the full tafseer →پا نچویں آیت میں طوفان کی ابتداء اور اس سے متعلقہ ہدایات اور واقعات کا سلسلہ شروع ہوا ہے، اس میں ارشاد فرمایا (آیت) حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ ، یعنی جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور سے پانی ابلنا شروع ہوگیا۔
لفظ تنور کئی معنی میں استعمال ہوتا ہے، سطح زمین کو بھی تنور کہتے ہیں، روٹی پکانے کے تنور کو بھی تنور کہا جاتا ہے، زمین کے بلند حصہ کے لئے بھی لفظ تنور بولا جاتا ہے اسی لئے ائمہ تفسیر میں سے بعض نے فرمایا کہ اس جگہ تنور سے مراد سطح زمین ہے کہ اس سے پانی ابلنے لگا، بعض نے فرمایا کہ حضرت آدم ؑ کا تنور مقام " عین وردہ " ملک شام میں تھا وہ مراد ہے، اس سے پانی نکلنے لگا،…
Read the full tafseer →ﱑ اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ۔
فار یفور کے معنی جوش مارنے کے ہیں۔ یہ لفظ پکتی ہوئی ہانڈی کے جوش مارنے کے ہیں۔ یہ لفظ پکتی ہوئی ہانڈی کے جوش مارنے اور ابلنے کے لیے بھی آتا ہے اور بھڑکتے ہوئے تنور کے جوش مارنے کے لیے بھی۔ یہاں فار التنور کا محاورہ بطریق استعارہ اس سائیکلونی طوفانی کی تعبیر کے لیے استعمال ہوا ہے جو قوم نوح پر آیا، جس سے سخت بارش بھی ہوئی اور آس پاس کے سمندروں کا پانی بھی ابل پڑا۔ حضرت استاز ؒ، سورة ذاریات…
Read the full tafseer →40۔ 1 اس سے بعض نے روٹی پکانے والے تنور، بعض نے مخصوص جگہیں مثلا عین الوردہ اور بعض نے سطح زمین مراد لی ہے۔ حافظ ابن کثیر نے اسی آخری مفہوم کو ترجیح دی ہے یعنی ساری زمین ہی چشموں کی طرح ابل پڑی، اوپر سے آسمان کی بارش نے رہی سہی کسر پوری کردی۔
40۔ 2 اس سے مراد مذکر اور مؤنث یعنی نر مادہ ہے اس طرح ہر ذی روح مخلوق کا جوڑا کشتی میں رکھ لیا گیا اور بعض کہتے ہیں کہ نباتات بھی رکھے گئے تھے۔ وللہ اعلم۔
40۔ 3 یعنی جن کا غرق ہونا تقدیر الٰہی میں ثبت ہے اس سے مراد عام کفار ہیں، یا یہ استشناء اَھْلَکَ سے ہے یعنی اپنے گھر والوں کو بھی کشتی میں سوار کرا لے، سوائے ان کے جن پر اللہ کی بات سبقت کرگئی ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
21: عربی زبان میں ”تنور“ سطح زمین کو بھی کہتے ہیں، اور روٹی پکانے کے چولہے کو بھی۔ بعض روایات میں ہے کہ طوفان نوح کی ابتدا اس طرح ہوئی تھی کہ ایک تنور سے پانی ابلنا شروع ہوا، اور پھر کسی طرح نہ رکا۔ اور بعض مفسرین نے تنور کو سطح زمین کے معنی میں لیا ہے اور مطلب یہ بتایا ہے کہ زمین کی سطح سے پانی ابلنا شروع ہوگیا، اور پھر ساری زمین میں پھیل گیا۔ اور اوپر سے تیز بارش شروع ہوگئی،۔
22: چونکہ طوفان میں وہ جانور بھی ہلاک ہونے والے تھے جن کی انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے، اس لئے حکم دیا گیا کہ کشتی میں ضرورت کے تمام جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو، تاکہ ان کی نسل باقی رہے اور طوفان کے بعد ان سے کام لیا…
Read the full tafseer →اور جب مقررہ وقت آجاتا ہے۔ وہ لمحہ جس کا انتظار تھا تو پھر اس کا منظر کچھ اس طرح ہے :
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس میں ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اسکا ٹھہرنا بھی ، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔
یہ تنور کس طرح جوش میں آیا ؟ بعض اقوال ایسے ہیں جو تخیلات پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت دور کے نظر آتے ہیں اور بعض کے اندر اسرائیلیات کی بو آتی…
Read the full tafseer →10 یعنی نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کرتے رہے یہاں تک کہ وعدہ کے موافق خدا کا حکم پہنچ گیا۔ " بادلوں " کو کہ برس پڑیں اور زمین کو کہ ابل پڑے، اور فرشتوں کو کہ تعذیب وغیرہ کے متعلق اپنے فرائض منصبی سرانجام کریں۔ آخر اوپر سے بارش آئی اور نیچے زمین کی سطح سے چشموں کی طرح جوش مار کر پانی ابلنے لگا۔ حتٰی کہ روٹی پکانے کے تنوروں میں بھی جہاں آگ بھری ہوتی ہے، پانی ابل پڑا۔ (تنبیہ) " تنور " کے معنی میں اختلاف ہے بعض مطلق روٹی پکنے کا تنور مراد لیتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ ایک تنور حضرت حواء سے منتقل ہوتے ہوتے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تھا، وہ ان کے گھر میں طوفان کا نشان ٹھہرایا گیا تھا کہ جب اس…
Read the full tafseer →آیت 40 حَتّٰیٓ اِذَاجَآءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ
مشرق وسطیٰ کے اس پورے علاقے میں ایک بہت بڑے سیلاب کے واضح آثار بھی ملتے ہیں ‘ اس بارے میں تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں اور آج کا علم طبقات الارض Geology بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ H.G.Wells نے اس سیلاب کی تاویل یوں کی ہے کہ یہ علاقہ بحیرۂ روم Mediterranean کی سطح سے بہت نیچا تھا ‘ مگر سمندر کے مشرقی ساحل یعنی شام اور فلسطین کے ساتھ ساتھ موجود پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے سمندر کا پانی خشکی کی طرف نہیں آسکتا تھا۔ جیسے کراچی کے بعض علاقوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سطح سمندر سے بہت نیچے ہیں مگر ساحلی علاقہ کی سطح چونکہ بلند ہے اس لیے سمندر…
Read the full tafseer →46 طوفان نوح کا آغاز :۔ طوفان نوح کا آعاز تنور سے چشمہ پھوٹنے سے ہوا۔ ایک قول کے مطابق تنور سے مراد و ہی معروف تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں اور ایک قول کے مطابق تنور سے مراد سطح زمین ہے۔ پھر ارد گرد کی زمین سے کئی مزید چشمے پھوٹنے شروع ہوگئے اور اوپر سے لگاتار بارش شروع ہوگئی۔ پہلا چشمہ پھوٹنے پر نوح (علیہ السلام) کو حکم دے دیا گیا کہ سب ایمان والوں کو اس کشتی میں سوار کرلو اور جو جانور بھی اس وقت روئے زمین پر موجود ہیں اور نر و مادہ سے پیدا ہوتے ہیں ان کا ایک ایک جوڑا (یعنی نر و مادہ) بھی اس کشتی میں رکھ لو۔ اپنے گھر والوں میں سے جو مومن ہیں ان سب کو بھی سوار کرلو اور وہ حام، سام،…
Read the full tafseer →58۔ (جو علامت تھی آغاز عذاب موعود کی) (آیت) ” اذاجآء امرنا “۔ یعنی جب غرقابی کے ذریعہ ان پر عذاب دنیوی کے نزول کا حکم آپہنچا۔ (آیت) ” وفارالتنور “۔ فقرہ کے صحیح معنی صرف اس قدر ہیں کہ زمین سے پانی نے جوش مارنا شروع کیا، تنور کے معنی صرف سطح زمین یا بلند زمین کے ہیں یا چشمہ پھوٹنے کی جگہ کے ہیں۔ ابن عباس ؓ صحابی اور متعدد تابعین سے یہی معنی مروی ہیں۔ التنوروجہ الارض (ابن جریر عن ابن عباس) وجہ الارض (ابن جریر عن الضحاک وعکرمۃ) التنور وجہ الارض والعرب تسمیہ تنورا قالہ ابن عباس وعکرمۃ والزھری وابن عیینۃ (بحر) ۔۔۔ وجہ الارض وکل مفجر ماء ومحفل ماء الوادی (قاموس) التنور اشرف الارض وارفعھا (ابن جریر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →حتی اذا جآء امرنا وفار التنور یہاں تک کہ جب ہمارا حکم (یعنی عذاب کا حکم) آپہنچا اور تنور ابل پڑا __ ابو الشیخ نے عکرمہ اور زہری کا قول نقل کیا ہے کہ تنور کا معنی ہے روئے زمین۔ بغوی نے بھی یہی نقل کیا ہے۔ سعید بن منصور ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے اس قول کی نسبت حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی کی ہے۔ صورت اس طرح ہوئی کہ حضرت نوح سے کہا گیا : جب تم روئے زمین پر پانی ابلتا دیکھو تو کشتی میں سوار ہوجانا۔ عبد بن حمید ‘ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ آیت میں تنور سے مراد ہے زمین کا اونچا بلند حصہ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی نسبت…
Read the full tafseer →(40) غرض کہ جب ہماری عذاب کا وقت قریب آپہنچا اور زمین میں سے پانی ابلنا شروع ہوا یا یہ کہ صبح پھیل گئی تو ہم نے حضرت نوح ؑ کو حکم دیا کہ ہر ایک قسم کے جانوروں میں سے کشتی میں ایک ایک جوڑا یعنی نر و مادہ چڑھا لو اور اپنے گھر والوں کو بھی ماسوا ان لوگوں کے جن پر حکم عذاب نافذ ہوچکا ہے اور اپنے ساتھ دوسرے ایمان کو بھی کشتی میں چھڑا اور صرف اسی آدمی ان پر ایمان لائے تھے۔
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَار التَّنُّوْرُ : ”فَارَ یَفُوْرُ فَوْرًا“ جوش مار کر نکلنا۔ فوارہ بھی اسی سے ہے۔ ”التَّنُّوْرُ“ (بروزن تفعول) کا معروف معنی تنور ہے جس میں روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نوح ؑ کے گھر میں طوفان کا نشان بتا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشی میں سوار ہوجاؤ۔ (موضح) اکثر مفسرین نے تنور سے یہی عام تنور مراد لیا ہے، لیکن حسب تفسیر ابن عباس (ابن جریر) ”التَّنُّوْرُ“ سے مراد روئے زمین ہے۔ قاموس میں بھی لکھا ہے : ”وَجْہُ الْأَرْضِ وَ کُلُّ مَفْجَرِ مَاءٍ وَ مَحْفَلُ مَاءِ الْوَادِیْ“ ”روئے زمین، پانی پھوٹنے کی جگہ اور وادی کے پانی کے جمع ہونے کی جگہ۔“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
آیت نمبر 38 تا 40
اللہ تعالیٰ کا فرمان : ویصنع الفلک یعنی آپ بنانے لگے۔ زید بن اسلم نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) سو سال درخت لگاتے رہے، ان کو کانٹے رہے اور خشک کرتے رہے، اور سو سال ان میں کام کرتے رہے (کشتی بناتے رہے) ابن قاسم نے ابن اشرس عن مالک روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : مجھ تک خبر پہنچی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے زمین کو بھر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے میدانوں اور پہاڑوں کو بھردیا، پس وہ (پہاڑ والے) ان (میدان والوں) کی طرف نہیں اتر سکتے تھے اور نہ یہ (میدان والے) ان (پہاڑ والوں) کی طرف چڑھ سکتے تھے، پس حضرت نوح (علیہ السلام) سو سال کشتی بنانے کے لیے درخت لگاتے رہے، پھر ان کو…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وفارالتنور “ سے مراد ہے پانی کا (زمین سے چشمے کی صورت میں) پھوٹنا۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وفارالتنور “ کے بارے میں فرمایا کہ جب تو دیکھے اپنے گھروالوں کے تنور کو کہ اس میں سے پانی نکل رہا ہے تو یہ تیری قوم کی ہلاکت اور بربادی کی نشانی ہے۔
3:۔ ابن جریررحمۃ اللہ علیہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ یہ تنور پتھر کا تھا ج۔ مردویہ حواعلیہا السلام کا تھا یہاں تک کہ نوح (علیہ السلام) تک جا پہنچا، ان سے کہا گیا جب تو پانی کو دیکھے کہ وہ تنور میں سے نکل رہا…
Read the full tafseer →[حَتّٰٓي : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب ] [جَاۗءَ : آیا ] [اَمْرُنَا : ہمارا حکم ] [وَفَارَ : اور ابل پڑا ] [التَّنُّوْرُ : تنور ] [قُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [احْمِلْ : آپ لاد لیں ] [فِيْهَا : اس (کشتی) میں ] [مِنْ كُلٍّ : ہر ایک چیز میں سے ] [زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : دو جوڑوں کو ] [وَاَهْلَكَ : اور اپنے گھر والوں کو ] [اِلَّا مَنْ : سوائے اس کے ] [سَبَقَ : پہلے ہوچکا ] [عَلَيْهِ : جس کے خلاف ] [الْقَوْلُ : فیصلہ ] [وَمَنْ : او اس کو (بھی) جو ] [اٰمَنَ : ایمان لایا ] [وَمَآ اٰمَنَ : اور ایمان نہیں لائے ] [مَعَهٗٓ: ان کے ساتھ ] [اِلَّا : مگر ] [قَلِيْلٌ: تھوڑے سے (لوگ)]
[التَّنُّوْر : ج تَنَانِیْرُ ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
پانی کا طوفان ‘ کافروں کی غرقابی ‘ اور اہل ایمان کی نجات
حضرت نوح (علیہ السلام) نے کشتی بنا کر تیار کرلی پانی کا طوفان آنا تھا اس کی ابتداء ہوگئی ‘ اہل ایمان کو غرق ہونے سے بچانا تھا اور چوپائے اور درند پرند کی بھی نسلیں چلانی تھیں اور بعد میں دنیا بھی آباد ہونی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے نوح ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو لوگ اہل ایمان ہیں انہیں اور اپنے گھر والوں کو کشتی میں سوار کر دو ‘ ہاں تمہارے گھر والوں میں جن کا ڈوبنا قضاء وقدر میں طے ہوچکا ہے ان کو سوار مت کرو ‘ ان میں ان کا ایک لڑکا تھا جو ایمان نہیں لایا تھا اور ایک بیوی تھی وہ بھی ایمان نہیں لائی تھی ان دونوں کے کفر کی وجہ سے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا
تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان
قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔
(ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔
چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را
کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ…
Read the full tafseer →38: تنور سے یا اس کا حقیقی معنی مراد ہے یعنی روٹیاں پکانے کا تنور جیسا کہ جمہور کی رائے ہے والمراد من التنور تنور الخبز عندالجمھور (روح ج 12 ص 52) تنور سے پانی کا نکلنا طوفان کی علامت تھی۔ یا یہ غضب الٰہی کے جوش میں آنے سے کنایہ ہے۔ وَاَھْلَکَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ الخ۔ مستچنی کو مجمل رکھا اور اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کی صراحت نہ کی تاکہ ان کا دل آزردہ نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
ربط آیات
حضرت نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کی مگر ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے مایوس ہوگئے۔ پھر آپ کو وحی الٰہی کے ذریعے پتہ چل گیا کہ اب مزید کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا ، لہٰذا آپ نے اللہ کی بارگاہ میں قوم کے خلاف دعا کی۔ پھر اللہ کے حکم سے آپ نے کشتی تیار کی۔ اس دوران نوح (علیہ السلام) قوم کو ظلم و زیادتی سے منع کرتے رہے اور ان کو آگاہ کرتے تھے کہ نافرمانی سے باز آجائو اللہ کے عدل و انصاف اور انتقام کا وقت آچکا ہے اور اب تم بچ نہیں سکو گے۔
طوفان کی علامت
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” حتی اذا جاء امرنا “ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا کہ اس قوم کو اب سزا ہی دینی ہے اور کسی کافر کو…
Read the full tafseer →حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ 0 ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِيْہَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَہْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ 0 ۭ وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ 40
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →حَتّٰی اِذَا جَآئَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ لا قُلْنَا احْمِلْ فِیْہَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاَہْلَکَ اِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ ط وَمَآ اٰمَنَ مَعَہٗ اِلاَّ قَلِیْلٌ۔ (سورۃ ہود : 40)
(یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا اور تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلو اور اپنے گھر والوں کو بھی بجز ان لوگوں کے جن پر حکم نافذ ہوچکا ہے اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ایمان لانے والوں کی تعداد بس تھوڑی ہی تھی۔ )
عذاب ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے
کشتی بن کے تیار ہوگئی۔ مخالفین کی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کی بددعا کے نتیجہ میں بارش کا پانی سیلاب کی صورت میں عذاب کی شکل اختیار کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کرچکے تو اللہ کے غضب کا آغاز ہوا۔ جس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ہم نے زوردار بارش کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے۔ جگہ جگہ زمین کو پھاڑ کر چشمے جاری کردیئے یہاں تک کہ زمین اور آسمان کا پانی مل کر طوفان کی شکل اختیار کرگیا۔ ( القمر : 11۔ 12)
اس کے ساتھ ہی اللہ کے حکم کے ساتھ تنور پھٹ گیا التنور کے مفسرین نے کئی معانی کیے ہیں۔ کچھ مفسرین نے صحابہ کرام ؓ کے حوالے سے لکھا کہ التنور سے مرادسطح زمین ہے جو مختلف…
Read the full tafseer →40: حَتّٰی (یہاں تک کہ) نحو : یہ ابتداء کلام میں آتا ہے۔ یہ شرط و جزاء والے جملے پر داخل ہوتا ہے۔ یصنع الفلک کی غایت ہے یعنی وہ کشتی بناتے رہے یہاں تک کہ وہ وعدہ کا وقت آگیا۔ درمیان والا کلام یصنع سے حال ہے یعنی یصنعھا والحال انہ کلما مر علیہ ملاء من قومہ سخروا منہ آپ کشتی بنا رہے تھے حالت یہ تھی کہ جب بھی آپ کی قوم کے سردار آپ کے پاس سے گزرتے تو وہ آپ سے مذاق کرتے۔ اور کلماؔ کا جواب سخرواہے اور قال ؔ یہ جملہ مستانفہ ہے اس کو سوال مقدر کے جواب میں لایا گیا ہے۔ یا قال سخروا کے جواب میں ہے۔ اور سخروا یہ مَرَّؔ کا بدل ہے یا ملاء کی صفت ہے۔
عذاب آن پہنچا :
اِذَا جَآئَ اَمْرُنَا (جب ہمارا حکم…
Read the full tafseer →40” حتی اذا جاء امرنا “ ہمارا عذاب ” وقا التنور “ اس تنور میں اختلاف ہے۔ عکرمہ اور زہری رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ زمین کا ظاہر مراد ہے کیونکہ نوح (علیہ السلام) کو کہا گیا تھا کہ جب آپ پانی کو دیکھیں کہ زمین کے ظاہر سے پھوٹ رہا ہے تو آپ (علیہ السلام) کشتی پر سوار ہوجائیں۔
تندور سے کیا مراد ہے ؟
حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ” فار التنور “ یعنی فجر طلوع ہوئی اور صبح روشنی ہوگئی اور حسن ، مجاہد اور شعبی رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ وہ تندور مراد ہے جس میں روٹی لگائی جاتی ہے اور یہی اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے اور عطیہ کی ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ حسن رحمہ فرماتے ہیں کہ یہ تندور…
Read the full tafseer →40۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے سے فارغ ہوگئے اور تنور ابل پڑا تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ جو جو جانور انسان کی زندگی میں فائدہ دینے والے ہیں یا جن کا باقی رکھنا دنیا میں منظور تھا ان کا ایک ایک جوڑا اور بعضوں نے درختوں کو بھی لکھا ہے کہ ان کے لینے کا بھی حکم ہوا تھا اور بعضوں کا قول ہے کہ جب کشتی میں گدھا چڑھنے لگا تو شیطان نے اس کی دم پکڑ لی وہ چڑھ نہ سکا کئی دفعہ کوشش کی اٹھا بیٹھا آخر حضرت نوح (علیہ السلام) نے گدھا سے کہا کہ شیطان کشتی کے اندر آجا اس لئے گدھا معہ ابلیس کے کشتی میں داخل ہوگیا بعضوں نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ کشتی والوں نے یہ کہا کہ یہاں شیر بھی ہے…
Read the full tafseer →(حتیٰ اذا جاء امرنا) ” یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آپہنچا۔ “ یعنی جب وہ وقت آگیا جو ہم نے ان پر نزول عذاب کے لئے مقرر کیا تھا۔ (وفار التنور) ” اور جوش مارا تنور نے “ یعنی اللہ تعالیٰ نے زور دار بارش سے آسمان کے دھانے کھول دئیے اور تمام روئے زمین پر جا بجا پانی کے چشمے جاری کر دئیے حتیٰ کہ تنوروں سے بھی پانی ابلنے لگا جو کہ عادۃ آگ کا مقام ہے اور وہاں پانی کا ہونا بعید تر بات ہے۔ تنوروں میں بھی چشمے پھوٹ پڑے اور پانی اس کام کے لئے جمع ہوگیا جو مقدر ہوچکا تھا۔ (وقلنا) ” اور ہم نے کہا۔ “ یعنی ہم نے نوح (علیہ السلام) سے کہا (احمل فیھامن کل زوجین اثنین) ” ہر قسم میں سے جوڑا جوڑا اس میں سوار کرلیں۔ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →92 ۔ (التنور) سے مقصود و مراد ؟ : یعنی وہ " تنور " جو اس غرض کے لیے نشانی کے طور پر مقرر کردیا گیا تھا کہ عذاب آنے کے موقع پر اس تنور میں آگ کی بجائے پانی ابلنے لگے گا۔ اور بعض نے کہا کہ " تنور " سے یہاں پر مراد سطح ارض ہے۔ (روح، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر وغیرہ ) ۔ " فار یفور فورا " کا معنی " ابلنا " اور " جوش مارنا " ہے سو ایک تنور کو اس کے لیے بطور علامت مقرر کیا گیا تھا کہ جب اس میں پانی ابلنے لگے تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ بس عذاب شروع ہوگیا ہے۔ اس لیے اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) کو اس بات کی ہدایت فرمائی گئی کہ اب آپ اپنے خاندان کے خاص لوگوں کے ساتھ اس کشتی میں سوار ہوجائیں اور ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ تنور (بروزن تفعول) تھا حضرت نوح ( علیہ السلام) کے گھر میں، طوفان کا نشان بتا رکھا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلے تب کشتی میں سوار ہوجائو۔ (موضح 9 جمہور مفسرین (رح) نے تنور سے یہی عام تنور مراد لیا ہے۔ لیکن حسب تفسیر ابن عباس ؓ ” تنور “ سے مراد روئے زمین ہے یعنی ساری زمین چشمہ آب بن گئی اور پانی ابلنے لگا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ہے۔ و فجرنا الارض عیونا (القمر 12) ۔ حتیٰ کہ تنورجو آگ کی جگہ ہوتے ہیں، پانی کے فوارے بن گئے۔ (ابن کثیر۔ روح) امرنا سے مراد عذاب کا حکم ہے کہ آسمان سے موسلا دھار پانی برسنے لگا اور زمین سے چشموں کی طرح پانی ابلنا شروع ہوگیا دونوں طبقے مل گئے اور زمین غرقاب ہوگئی۔…
Read the full tafseer →(11:40) فار۔ ماضی واحدمذکر غائب باب نصر۔ فور فئور اور فوران مصادر اس نے جوش مارا۔ وہ ابل پڑا۔
زوجین اثنین۔ دو زوج۔ یعنی ایک نر اور ایک مادہ۔ زوج جوڑے کے ہر فرد کو کہتے ہیں۔ عورت کو بھی زوج کہا جاتا ہے اور مرد کو بھی۔ اس لئے جب زوجین (تثنیہ) ہوگا تو اس سے جوڑے کے دونوں فرد نر اور مادہ ہوں گے۔
اہلک۔ تیرے گھر والے۔ تیرے گھر کے لوگ۔ اہل مضاف ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ جب فعل استعمال ہو تو بمعنی اس نے ہلاک کیا۔ اس نے غارت کیا۔ کے ہوں گے۔
ومن امن کا عطف اہلک پر ہے اور وہ بھی جو ایمان لائے ہوئے ہیں۔ الا حرف استثناء ہے۔
من سبق علیہ القول منی۔ مستثنیٰ ۔ ماسوائے ان کے جن پر پہلے ہی حکم (ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47
فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اور ان کے بیٹے کنعان کے ڈوبنے کا ذکر
جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے سے فارغ ہوگئے تو تنور ابل پڑا۔ جس میں حضرت حوا (علیہا السلام) روٹیاں پکایا کرتی تھیں، اور میراث میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو پہنچا تھا، پس عذاب کا نشان یہ تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا کشتی میں ہر جنس حیوان کا ایک ایک جوڑا بٹھالو اور اپنے گھر والوں کو بھی۔ مگر دیکھو جس کے واسطے ہم عذاب کا حکم بھیج چکے ہیں اس کو نہ بٹھانا۔ اس سے مراد کنعان ہے جو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا تھا اور واعلہ ہے جو کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی تھی اور کشتی پر ایمانداروں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
[22] تنور سے یا تو زمین مراد ہے یا یہی تنور جس میں روٹی پکائی جاتی ہے۔
[23] یعنی جن پر ان کے کفر کے پاداش میں غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے۔
Read the full tafseer →تنور کے مختلف معنی :
(ف 1) تنور کے کئی معنے ہیں :۔
1۔ سطح ارض ، ابن عباس ؓ عکرمہ زہری ، اور ابن عیینہ اسی کے قائل ہیں ۔
2۔ روٹی پکانے کا تنور ، (مجاہد عطیہ وحسن کا مذہب ہے) ۔
3۔ کشتی میں پانی جمع ہونے جانے کی جگہ ، (بعض کا خیال ہے)
4۔ طلوع فجر سے کنایہ ہے ، (حضرت علی ؓ سے مروی ہے)
5۔ مسجد کوفہ ۔ (شعبی حلف اٹھا کر کہا کرتے تھے کہ ابتدا میں پانی کوفہ کی مسجد سے پھوٹا ۔
6۔ اونچی جگہیں ، (قتادہ کا ارشاد ہے ) ۔
7۔ ایک چشمہ کا نام ہے ، جو ارض شام میں واقع ہے ۔
8۔ ہندوستان کی جگہ جہاں حضرت حواء روٹیاں پکایا کرتیں ۔
پہلے معنی لغت وادب کے زیادہ قریب ہیں ، مقصد یہ ہے کہ جب اللہ کا عذاب نازل ہوا ززمین…
Read the full tafseer →40 یہاں تک کہ جب ہمارا حکم عذاب آ پہونچا اور تنور سے پانی ابلنے لگا تو ہم نے اس وقت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے نر مادہ کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کرلے اور اپنے گھر والوں کو بھی رسوا کرلے مگر ان کو رسوا نہ کرنا جن کی نسبت پہلے سے ہمارا حکم نافذ ہوچکا ہے اور ان کو رسوا کرلے جو ایمان لا چکے ہیں اور نوح (علیہ السلام) کے ساتھ بجز قلیل آدمیوں کے کوئی ایمان نہلایا تھا یعنی جب ہمارے عذاب کا حکم آ پہونچا اور طوفان شروع ہونے کی جو علامت مقرر تھی وہ ظاہر ہونی شروع ہوئی تو اس وقت ہم نے نوح سے کہا کہ ہر قسم کے جانوروں میں سے جو کارآمد ہیں اور پانی میں زندہ نہ رہ سکتے ہوں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–41
ف 4۔ یعنی ان کے لیے یہ قطعی طور پر تجویز ہوچکا ہے تو ان کی سفارش بےکار ہوگی۔
Read the full tafseer →ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو تنور اہل پڑا ہم نے حکم دیا کہ کشتی میں سوار ہو جائو
55 ؎ نوح (علیہ السلام) کی قوم کی غرقابی کی موعودعلامت ظاہر ہوگئی اور ان کے عذاب دنیوی کا وقت سر پر آگیا ” اور تنور ابل پڑا “ اس کے اصل اور صحیح معنی صرف اس قدر ہیں کہ زمین سے پانی نے جوش مارنا شروع کیا ۔ سطح زمین یا بلند زمین سے پانی ابلنے لگا ۔ بہر حال تنور سے مراد یہ روٹیاں پکانے کا تنور مراد نہیں جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے اگرچہ بارش کے دنوں میں جب بارشوں کی زیادتی ہو تو اس تنور سے بھی پانی ظاہر ہوجاتا ہے تا ہم اس جگہ یہ مراد نہیں اور نہ ہی پانی جوش مار کر ابلنے لگتا ہے بلکہ یہ تو اس موعود عذاب کے ظاہر…
Read the full tafseer →From the fifth verse (40) begins the description of the coming of the flood, related instructions and events as they unfolded. So, first it was said: حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ (At last, when Our command came and the oven overflowed).
The word: (tannur: تَّنُّور oven) is used in more than one sense. The Earth's floor is called an oven. The oven that bakes bread is also a tan-nur. A raised part of the land is also referred to as tannur. Therefore, some of the Tafsir authorities have said that, at this place, ` tannur' means the surface of the land in that water…
Read the full tafseer →42.Commentators on the Qur'an have offered different explanations of this incident. In our view, the place from which the Flood began was a particular oven. It is from beneath it that a spring of water burst forth. This was followed by both a heavy downpour and by a very large number of springs which gushed forth. Surah al-Qamar provides relevant information in some detail: So We opened the gates of the heaven, with water intermittently pouring forth, and We caused the earth to be cleaved and the springs to flow out everywhere. Then the water (from both the sources - the heaven and the earth)…
Read the full tafseer →