Hud 11:39

Hud · from ayah 39

11:39

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ— مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَیَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ ۟فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ مَنۡ يَّاۡتِيۡهِ عَذَابٌ يُّخۡزِيۡهِ وَيَحِلُّ عَلَيۡهِ عَذَابٌ مُّقِيۡمٌ

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you are going to know who will get a punishment that will disgrace him [on earth] and upon whom will descend an enduring punishment [in the Hereafter]."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:39

عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے اور جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تمیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے اور اس پر ہمیشگی کی سزا اتر آئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آرہا ہے جو اسے رسوا کر کے رکھ دے گا، اور کس پر وہ قہر نازل ہونے والا ہے جو کبھی ٹل نہیں سکے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو اب جان جاؤ گے کس پر آتا ہے وہ عذاب کہ اسے رسوا کرے اور اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ رہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو تم عنقریب جان لوگے کہ کس پر (دنیا میں ہی) عذاب آتا ہے جو اسے ذلیل و رسوا کر دے گا اور (پھر آخرت میں بھی کس پر) ہمیشہ قائم رہنے والا عذاب اترتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس تم جلد ہی جان لوگے کہ وہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب اترتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تمہیں جلد ہی معلوم ہوجائے گا کہ کون ہے جس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کر دے اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تم جلد جان لو گے کہ وہ کون ہیں جن پر وہ وہ عذاب آتا ہے جو ان کو رسوا کر کے رکھ دیتا ہے اور وہ قہر نازل ہوتا ہے جو ٹک کے رہ جاتا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

سو اس وقت تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو رسوا کر دے گا اس کو، اور کس پر اترتا ہے وہ عذاب جو ہمیشہ مسلط رہے گا اس کے سر پر،

— مولانا اسحاق مدنی

سو ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ وہ کون ہے جس پر (ایسا) عذاب آنے کو ہے جو اسے رسوا کردے گا اور اس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو عنقریب تم جان لوگے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر اترتا ہے وہ عذاب جو قائم رہنے والا (دائمی) ہوگا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہیں جلد معلوم ہوجائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کس پر ہمیشہ کا عذاب نازل ہوتا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

You will come to know who will be struck by a humiliating chastisement, and who will be subjected to an unceasing torment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, you shall soon know who will be visited by a scourge that will humiliate him, and upon whom a lasting punishment will settle forever.

— Muhammad Taqi Usmani

So, you shall soon know who will be visited by a scourge that will humiliate him, and upon whom a lasting punishment will settle forever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And you will know who it is on whom will come a torment that will cover him with disgrace and on whom will fall a lasting torment."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And ye shall know to whom a punishment that will confound him cometh, and upon whom a lasting doom will fall.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you are going to know who will get a punishment that will disgrace him [on earth] and upon whom will descend an enduring punishment [in the Hereafter]."

— Saheeh International

You will soon learn who will face a humiliating punishment and will be encompassed by an everlasting torment."

— Muhammad Sarwar

So shall you know who it is on whom will come a chastisement which will disgrace him, and on whom will lasting chastisement come down.

— Muhammad Habib Shakir

So presently ye shall know on whom cometh a torment that humiliateth him, and on whom is let loose a torment lasting.

— Abdul Majid Daryabadi

"But soon will ye know who it is on whom will descend a penalty that will cover them with shame,- on whom will be unloosed a penalty lasting:"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–39

قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ۔ پروردگار میں عاجز آگیا ہوں، تو میری مدد کر۔ اسی وقت وحی آئی کہ جو ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کرچکے ہیں۔ بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنالو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 41 یہ ایک عجیب معاملہ ہے جس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے ظاہر سے کس قدر دھوکا کھاتا ہے۔ جب نوح ؑ ؑ دریا سے بہت دور خشکی پر اپنا جہاز بنا رہے ہوں گے تو فی الواقع لوگوں کو یہ ایک نہایت مضحکہ خیز فعل محسوس ہوتا ہوگا اور وہ ہنس ہنس کر کہتے ہوں گے کہ بڑے میاں کی دیوانگی آخر کو یہاں تک پہنچی کہ اب آپ خشکی میں جہاز چلائیں گے۔ اس وقت کسی کے خواب و خیال میں بھی بات نہ آسکتی ہوگی کہ چند روز بعد واقعی یہاں جہاز چلے گا۔ وہ اس فعل کو حضرت نوح ؑ کی خرابی دماغ کا ایک صریح ثبوت قرار دیتے ہوں گے اور ایک ایک سے کہتے ہوں گے کہ اگر پہلے تمہیں اس شخص کے پاگل پن میں کچھ شبہہ تھا تو اب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 38–39

تیسری آیت میں سفینہ سازی کے زمانہ میں قوم نوح ؑ کی غفلت اور انجام بد سے بےفکری کا حال ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت نوح ؑ بحکم خداوندی کشتی بنانے میں مشغول تھے ان کی قوم کے سردار جب ان کو دیکھتے اور پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو ؟ تو یہ فرماتے کہ طوفان آنے والا ہے اس لئے کشتی تیار کر رہا ہوں ان کی قوم ان کا مذاق اڑاتی اور استہزاء کرتی تھی کہ یہاں پینے کے لئے تو پانی کا قحط ہے، یہ بزرگ اس خشکی میں کشتی چلانے کی فکر میں ہیں، حضرت نوح ؑ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اگر آج تم ہم سے استہزاء کرتے ہو تو یاد رکھو کہ ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جس میں ہم تم سے استہزاء کریں گے، مراد یہ ہے کہ حالات ایسے پیش آئیں گے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔ یعنی ابھی تو تم ہمارا مذاق اڑا رہے ہو اور ہماری اس تیاری کو خلل دماغ پر محمول کر رہے ہو لیکن عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب تم دیکھ لوگے کہ رسوا کردینے والا اور ٹک جانے والا عذاب کن پر نازل ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ عذاب دو قسموں کا ہوتا ہے۔ ایک تو وہ عذاب ہوتا ہے جس کا مقصد غافلین و منکرین کو جگانا اور جھنجھوڑنا ہوتا ہے تاکہ وہ داعی کی بات پر کان دھریں اور جس خطرے سے وہ ان کو آگاہ کر رہا ہے اس کے آثار دیکھ کر اگر متنبہ ہونا چاہیں تو متنبہ ہوجائیں۔ دوسرا وہ عذاب ہوتا ہے جو کامل اتمام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

39۔ 1 اس سے مراد جہنم کا دائمی عذاب ہے، جو اس دنیوی عذاب کے بعد ان کے لئے تیار ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–39

19: وہ مذاق اس بات کا اڑاتے تھے کہ انہوں نے دوسرے کام چھوڑ کر کشتی بنانی شروع کردی ہے ؛ حالانکہ پانی کا کہیں دور دور پتہ نہیں، 20:: یعنی ہمیں اس بات پر ہنسی آتی ہے کہ عذاب تمہارے سر پر آچکا ہے اور تمہیں دل لگی سوجھی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 38–39

اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔ وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اب زیادہ تاخیر نہیں۔ جلد آشکارا ہوجائے گا کہ دنیا کا رسوا کن اور آخرت کا دائمی عذاب کس پر نازل ہوتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 38–39

آیت 38 وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۣ وَكُلَّمَا مَرَّ عَلَيْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ حضرت نوح اور آپ کے اہل ایمان ساتھی جس جگہ اور جس علاقے میں یہ کشتی بنار ہے تھے ظاہر ہے کہ وہاں ہر طرف خشکی ہی خشکی تھی ‘ سمندر یا دریا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ ان حالات میں تصور کریں کہ کیا کیا باتیں اور کیسے کیسے تمسخر آمیز فقرے کہے جاتے ہوں گے کہ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بالکل ہی مت ماری گئی ہے کہ خشکی پر کشتی چلانے کا ارادہ ہے !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 38–39

45 کشتی بنانے پر قوم کا مذاق اڑانا :۔ وہ مذاق یہ کرتے تھے کہ جہاز جتنی بڑی کشتی جو تم بنا رہے ہو اسے کیا خشکی پر چلاؤ گے ؟ یہاں نہ تو نزدیک کوئی دریا ہے جس میں اسے چلا سکو۔ بارشوں کو ہم ترس رہے ہیں خشک سالی بھی ہے اور کسی دریا وغیرہ میں سیلاب کا خطرہ بھی نہیں تو پھر اسے بنا کر کیا کرو گے ؟ وہ تو نوح (علیہ السلام) کو دیوانہ سمجھ رہے تھے اور نوح (علیہ السلام) انھیں دیوانہ سمجھ رہے تھے کیونکہ انہوں نے قوم کو خبردار کردیا تھا کہ تم پر سیلاب کا عذاب آنے والا ہے وہ اپنی قوم پر اس بات سے حیران تھے کہ عنقریب ان لوگوں کی تباہی ہونے والی ہے اور انھیں اپنی ذرا بھی فکر نہیں الٹا مجھے دیوانہ سمجھ کر مذاق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

57۔ عذاب مقیم کا تعلق بعد مرگ اور عالم آخرت سے ہے اور عذاب خزی کا تعلق اسی موجودہ زندگی سے۔ عذاب یخزیہ۔ یرید بالعذاب عذاب الدنیا وھو الغرق (مدارک) عذاب مقیم وھو عذاب الاخرۃ (مدارک)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–49

آیت نمبر 36 تا 49 ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فسوف تعللمون من یاتیہ عذاب یخزیہ ویحل علیہ عذاب مقیم۔ اور آئندہ تم کو معلوم ہوجائے گا کہ کس پر رسوا کن عذاب آئے گا اور اٹل عذاب نازل ہوگا۔ چناچہ طوفان میں غرق ہونے کا عذاب ان پر آگیا اور سب ڈوب کر عالم برزخ میں پہنچ گئے جہاں قیامت تک ان کو عذاب ہوتا رہے گا ‘ پھر قیامت میں ان پر عذاب ہوگا اور دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تورات کا خیال ہے کہ اللہ نے حضرت نوح کو حکم دیا تھا کہ ساگوان یا سار کی لکڑی کی کشتی بنائیں جس کا سینہ آگے کو نکلا ہوا ہو اور کشتی کے اندر باہر ہر طرف روغن قار کا پالش کردیں۔ کشتی کی لمبائی اسّی ہاتھ ‘ چوڑائی پچاس ہاتھ اور اونچائی تیس ہاتھ ہو۔ ہاتھ سے مراد…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(39) تم ابھی جان جاؤ گے کہ کس پر ہلاکت خیز اور ذلت آمیز عذاب آرہا ہے، اور آخرت میں اس پر ابدی عذاب نازل ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–40

آیت نمبر 38 تا 40 اللہ تعالیٰ کا فرمان : ویصنع الفلک یعنی آپ بنانے لگے۔ زید بن اسلم نے کہا : حضرت نوح (علیہ السلام) سو سال درخت لگاتے رہے، ان کو کانٹے رہے اور خشک کرتے رہے، اور سو سال ان میں کام کرتے رہے (کشتی بناتے رہے) ابن قاسم نے ابن اشرس عن مالک روایت بیان کی ہے انہوں نے کہا : مجھ تک خبر پہنچی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے زمین کو بھر دیا، یہاں تک کہ انہوں نے میدانوں اور پہاڑوں کو بھردیا، پس وہ (پہاڑ والے) ان (میدان والوں) کی طرف نہیں اتر سکتے تھے اور نہ یہ (میدان والے) ان (پہاڑ والوں) کی طرف چڑھ سکتے تھے، پس حضرت نوح (علیہ السلام) سو سال کشتی بنانے کے لیے درخت لگاتے رہے، پھر ان کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 38–39

حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر کتنی تھی ؟ 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم ابوالشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور امام ذہبی نے ضعیف وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نوح (علیہ السلام) اپنی قوم میں نوسو پچاس برس رہے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہے یہاں تک کہ جب ان کا آخری زمانہ تھا تو انہوں نے ایک درخت اگایا وہ خوب بڑھا اور اس نے جہاں تک جانا تھا گیا۔ پھر آپ نے اس کو کاٹ لیا پھر آپ نے اس سے کشتی بنانا شروع کی۔ لوگ گزرتے تھے اور پوچھتے تھے تو آپ فرماتے کہ میں ایک کشتی بنا رہا ہوں۔ تو وہ لوگ ان سے مذاق کرتے اور کہتے کہ تم خشکی میں کشتی بنا رہے ہو تو وہ کیسے چلے گی۔…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [تَعْلَمُوْنَۙ: تم لوگ جان لوگے ] [مَنْ : کون ہے ] [يَاْتِيْهِ : آئے گا جس کے پاس ] [عَذَابٌ: ایسا عذاب جو ] [يُّخْزِيْهِ : رسوا کرے گا اس کو ] [وَيَحِلُّ : اور اترے گا ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [عَذَابٌ مُّقِيْمٌ: ایک قائم رہنے والا عذاب ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 36–39

حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم اور کشتی کی تیاری کے وقت سردار ان قوم کا تمسخر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بہت زیادہ محنت کی اور طرح طرح سے اپنی قوم کو سمجھایا توحید کی دعوت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان کی محنت اور دعوت سے صرف چند افراد مسلمان ہوئے اور قوم کی طرف سے عذاب لانے کی فرمائش ہوتی رہی۔ بالآخر ظالموں پر عذاب آگیا اور ایمان والے محفوظ رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے اب ان کے علاوہ کوئی شخص ایمان نہ لائے گا آپ ان کے حال پر غمگین نہ ہوں کیونکہ توقع کی چیز کے واقع نہ ہونے سے رنج ہوتا ہے۔ جب ان سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–43

بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔ (ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔ چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 38–39

37: یَصْنَعُ ، کَانَ محذوف کی خبر ہے۔ حذف کان مع بقاء خبر کلام عرب میں جائز ہے لَوْ اور اِنْ کے بعد کَانَ کا حذف مشہور و معروف ہے یحذفونہا و یبقون الخبر بعد لو وان کثیرًا اشتھر (الفیہ ابن مالک) مشرکین حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بناتے دیکھ کر ان سے استہزاء کرتے کہ یہ کشتی خشک زمین پر کیسے چلاؤ گے یہاں تو کوئی سمندر یا دریا نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا استہزاء کرلو ہمارا وقت بھی آجائے گا جب ہم دیکھیں گے کہ تم ذلیل ورسوا کرنے والے عذاب میں مبتلا ہو اور ہم محض اللہ کی مہربانی سے اس کشتی میں اس سے محفوظ ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–39

وقت انتقام گذشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے وعظ کے جواب میں قوم کا ردعمل بیان ہوچکا ہے ک انہوں نے اس وعظ نصیحت کو جھگڑے سے تعبیر کیا اور عذاب کا مطالبہ کیا ، نوح (علیہ السلام) نے اس بات کو جواب بھی دیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل کے پیش نظر قوم نوح سے انتقام لینے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حالات خراب ہوچکے تھے۔ قوم کے لوگ نوح (علیہ السلام) کو سخت اذیتیں پہنچا رہے تھے اس کے متعلق تورات میں بھی آتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ کے ساتھ ساتھ چلتے رہے یعنی اللہ کے حکم کے مطابق فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے مگر زمین ظلم سے بھر چکی تھی اور قوم سے انتقام لینے کا وقت آگیا تھا (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۝ 0 ۙ مَنْ يَّاْتِيْہِ عَذَابٌ يُّخْزِيْہِ وَيَحِلُّ عَلَيْہِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۝ 39 سوف سَوْفَ حرف يخصّص أفعال المضارعة بالاستقبال، ويجرّدها عن معنی الحال، نحو : سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي[يوسف/ 98] ، وقوله : فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ [ الأنعام/ 135] ، تنبيه أنّ ما يطلبونه۔ وإن لم يكن في الوقت حاصلا۔ فهو ممّا يكون بعد لا محالة، ويقتضي معنی المماطلة والتأخير، واشتقّ منه التَّسْوِيفُ اعتبارا بقول الواعد : سوف أفعل کذا، والسَّوْفُ : شمّ التّراب والبول، ومنه قيل للمفازة التي يَسُوفُ الدلیل ترابها : مَسَافَةٌ ، قال الشاعر : إذا الدّليل اسْتَافَ أخلاق الطّرق والسُّوَافُ : مرض…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ لا مَنْ یَّاْتِیْہِ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۔ (سورۃ ہود : 39) (سو تم عنقریب جان لو گے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر آتا ہے وہ عذاب جو ٹالے نہ ٹلے گا۔ ) تمسخر کا مزید جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے کفار کے تمسخر کے جواب میں مزید یہ فرمایا کہ تم میرے بارے میں جو چاہو سو کہو مجھے خلل دماغ کا شکار کہہ کر جتنی چاہو میری توہین کرو لیکن ایک بات یاد رکھو کہ تمہارے اس تمسخر کا جو انجام ہونے والا ہے وہ اب زیادہ دنوں کی بات نہیں۔ تم عنقریب دیکھ لو گے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ حیرت کی بات ہے کہ نوح (علیہ السلام) کفار کی کسی بات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–39

فہم القرآن ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کو حوصلہ دینے اور اہل مکہ کو انتباہ کرنے کے بعد بطور مثال حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ ذکر کیا جاتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی انتھک اور شب وروز کی طویل کوشش کے باوجود قوم اس بات پر مصرہوجاتی ہے کہ اے نوح ! تیرے اور ہمارے درمیان اب فیصلے کی ایک ہی صورت باقی ہے کہ حسب اعلان ہم پر اپنے رب کا عذاب نازل کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انتہائی مجبور ہو کر اپنے رب کے حضور یہ بددعا کی : (وَقَالَ نُوْحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ إِنَّکَ إِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْا إِلَّا فَاجِرًا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39: فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ مَنْ یَّاْ تِیْہِ (اور عنقریب تم جان لو گے کہ جس کے پاس عذاب آئیگا) تعلمون کی وجہ سے من یاتیہمحل نصب میں ہے۔ ای فسوف تعلمون الذی یا تیہ۔ عنقریب تم جان لوگے اس کو جس پر عذاب آئے گا۔ عَذَابٌ یُّخْزِیْہِ عذاب اس کو رسواء کر دے گا۔ یعنی ان کو عذاب غرق سے دنیا میں رسوا کر دے گا۔ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ (اور اس پر اتر پڑے گا) نازل ہوگا۔ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ (قائم رہنے والا عذاب) اور وہ عذاب آخرت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 39” فسوس تعلمون من یاتیہ عذاب یخزیہ “ اس کو ذلیل کر دے ” ویحل علیہ “ ثابت ہو اس پر ” عذاب مقیم “ دائمی عذاب ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 38–39

38۔ 39۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے تو لوگ آتے جاتے کشتی بناتے دیکھ کر مسخرا پن کرتے تھے کبھی کہتے تھے نبی بن کر اب کیا بڑھئی بن گئے کبھی کہتے تھے کہ کہیں پانی کا تو پتہ بھی نہیں ہے یہ خشکی میں کس طرح کشتی چلاؤ گے اور اس بات کو بھی ہنسی سمجھتے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے تھے کہ عنقریب تم لوگ ڈوبنے والے ہو وہ کہتے تھے کہ یہ کیوں کر ممکن ہے کہ کوئی خشکی میں ڈوبے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) بھی ان پر ہنستے تھے کہ یہ لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں مگر عنقریب ڈوب کر ہلاک ہونے والے ہیں۔ مفسروں نے یہاں یہ بیان کیا ہے کہ وہ کشتی سال کی لکڑی کی تھی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اب جلد جان لو گے کہ کس پر رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور اترتا ہے اس پر دائمی عذاب “ یعنی ہم پر یہ عذاب نازل ہوگا یا تم پر ؟ اور جب ان پر عذاب نازل ہوا تو انہیں معلوم ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 38–44

قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 38–39

90 ۔ حق اور اہل حق کا مذاق اڑانا بدبختی اور ہلاکت کی نشانی۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے ارشاد خداوندی کے مطابق کشتی بنانا شروع کی ان کی قوم کے سرداروں میں سے جو بھی کوئی وہاں سے گزرتا ان کا مذاق اڑاتا۔ کہ پہلے نبوت کا دعوی تھا اب بڑھئی بن گئے ہیں۔ اور بنا بھی رہے ہیں کشتی۔ کیا اس کو خشکی پر چلاؤ گے ؟ سو جن لوگوں کی شامت آجاتی ہے ان کے اطوار ایسے ہی ہوتے ہیں کہ وہ اپنے مآل و انجام کو سوچنے اور داعی حق کی آواز پر لبیک کہنے کی بجائے اس کا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ اور پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ کر وہ دائمی ہلاکت کے گڑھے میں جا گرتے ہیں۔ اور اپنے اس آخری انجام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–44

نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–49

آیات 36 تا 49 اسرار و معارف لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:39) من یاتیہ۔ ای اینا من یاتیہ نحن اوانتم۔ یعنی عنقریب ہی تم کو معلوم ہوجائیگا کہ عذاب کس پر آتا ہے ہم پر یا تم پر۔ یخزیہ۔ جو اس کو رسوا کر دے گا (جس پر نازل ہوگا) (یہ عذاب دینا ہے) عذاب مقیم۔ ایسا عذاب جو ہمیشہ رہے گا۔ (اور یہ عذاب آخرت ہے) مقیم اقامۃ سے اسم فاعل۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–39

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 39 اجرام (جرم، خطا، گناہ) لاتبتئس (تو غم نہ کر) اصنع (تو بنا لے) الفلک (کشتی، جہاز) باعیننا (2 ماری آنکھوں میں، نگرانی میں) لاتخاطب (تو متوجہ نہ کرنا) مر (گذرا) سخروا (مذاق اڑایا) یخزی (رسوا کرے گا) یحل (حلال کرے گا، نازل کرے گا) مقیم (قائم رہنے والا، دائمی تشریح : آیت نمبر 35 تا 39 سورئہ ہود کی ان آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں ان آیات کا رخ نبی کریم ﷺ کی طرف موڑ کر کفار مکہ کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ آج اگر تم نبی کریم ﷺ پر بہت سے اعتراضات کر رہے ہو۔ ان کا مذاق اڑا رہے ہو اور کہتے ہو کہ اس قرآن کریم کو انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 38–39

حدیث شریف میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بحکم الہی سال کے درخت بوئے۔ بیس سال میں یہ درخت تیار ہوئے۔ اس عرصہ میں مطلقا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا اس سے پہلے جو بچے پیدا ہوچکے تھے وہ بالغ ہوگئے اور انہوں نے بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنانے میں مشغول ہوئے تو لوگ آتے جاتے کشتی بناتے دیکھ کر مسخرا پن کرتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ نبی بن کر اب کیا بڑھئی بن گئے، کبھی کہتے تھے کہ کبھی پانی کا تو پتہ بھی نہیں یہ خشکی میں کس طرح کشتی چلاؤگے۔ اور اس بات کو بھی ہنسی سمجھتے تھے جو حضرت نوح (علیہ السلام) ان سے کہتے تھے کہ عنقریب تم ڈوبنے والے ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 38–39

[21] نوح (علیہ السلام) کی قوم جہاں آباد تھی وہاں سے سمندر یعنی خلیج فارس سینکڑوں میل کے فاصلے پر تھا۔ لہذا جب آپ نے کشتی بنانی شروع کی تو لوگ آپ کا مذاق اڑاتے اور کہتے کہ دیکھو اس کی دیوانگی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ خشکی میں کشتی چلانے کا ارادہ ہے اور بعض لوگ تمسخر سے یہ کہتے کہ پہلے تو نبی تھے اب بڑھئی ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 38–39

(ف 2) نوح (علیہ السلام) نے جب کشتی بنانا شروع کیا تو قوم مذاق اڑانے لگی ، ان کے خیال میں یہ مجنونانہ حرکت تھی ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے نہایت استقلال اور وثوق کے ساتھ کہا ، اس وقت تم ہنس لو ، عنقریب وقت آنے والا ہے ، جب تمہیں اس تمسخر کی سزا دی جائے گی ، اس وقت تمہاری حماقت ونادانی پرہ میں ہنسی آئے گی ، اور زمین وآسمان کا ذرہ ذرہ تمہاری بربادی کا مضحکہ آڑائے گا ، حل لغات : فلا تبتئس : بوس سے مشتق ہے یعنی تکلیف نہ محسوس نہ کر ۔ مقیم : دائمی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

39 سو عنقریب تم کو معلوم ہوا جاتا ہے کہ کس پردہ عذاب آتا ہے جو اس کو رسوا کردے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے یعنی دنیا میں رسوا کن عذاب اور مرنے کے بعد دائمی عذاب کا مستحق کون ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 37–41

ف 4۔ یعنی ان کے لیے یہ قطعی طور پر تجویز ہوچکا ہے تو ان کی سفارش بےکار ہوگی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ وقت دور نہیں جب اس بات کا فیصلہ کردیا جائے گا کہ دائمی عذاب میں کون گرفتار ہے ؟ 54 ؎ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں اور وڈیروں کیلئے ایک عذاب وہ تھا جو چند ہی دنوں کے بعد طوفان و طغیانی کی صورت میں آنے والا تھا اور ایک عذاب وہ ہے جو اس دنیوی زندگی کے ہاتھ سے نکل کر آخرت کی زندگی کے پنجہ کے بعد شرع ہونے والا تھا۔ بلا شبہ اس دنیا کا عذاب بھی عذاب ہی ہے اور اس دنیا کے عذاب سے بھی رسوائی لازم ہے لیکن یہاں جو مراد لی گئی ہے وہ آخرت ہی کا عذاب ہے جو اس زندگی کے خاتمہ کے بعد شروع ہوگا ۔ اس لئے کہ اس زندگی کے ختم ہونے کے ساتھ تو پوری قوم کی قوم کا خاتمہ تھا سوائے چند معدودے آدمیوں کے جو نوح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 38–39

In the third verse (38), mentioned there is the total lack of concern for their sad end shown by the people of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) during the period he was making the ark. When the chieftains of his people saw him busy with his project under a Divine command, they would ask him, ` what are you doing?' He said, ` a flood is to come, therefore, I am making an ark.' They would mock at him and say, ` we have no water to drink here and this wise man is planning to sail in a boat on this dry land.' In response, Sayyidna Nuh told them, ` if you mock at us today, then remember the day is sure…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

41. This fascinating story illustrates how man can be deluded by the appearance of things. When the Prophet Noah (peace be on him) was busy building the Ark on a tract of land far from any sea or river, it must have appeared a very silly thing to do. Noah's people would surely have laughed at him, mocking at the old fellow's apparently senile plan. They may even have called it an adventure of sailing on the Ark across dry land! At that moment it would have simply been inconceivable for anyone to think that the Ark would one day indeed sail on that very tract of land as it became flooded with…

Read the full tafseer →