طوفان نوح ؑ کی روداد
روئے زمین کے سب لوگ اس طوفان میں جو درحقیقت غضب الٰہی اور مظلوم پیغمبر کی بد دعا کا عذاب تھا غرق ہوگئے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ عزوجل نے زمین کو اس پانی کے نگل لینے کا حکم دیا جو اس کا اگلا ہوا اور آسمان کا برسایا ہوا تھا۔ ساتھ ہی آسمان کو بھی پانی برسانے سے رک جانے کا حکم ہوگیا۔ پانی گھٹنے لگا اور کام پورا ہوگیا یعنی تمام کافر نابود ہوگئے، صرف کشتی والے مومن ہی بچے۔ کشتی بحکم ربی جو دی پر رکی۔ مجاہد کہتے ہیں یہ جزیرہ میں ایک پہاڑ ہے سب پہاڑ ڈبو دیئے گئے تھے اور یہ پہاڑ بوجہ اپنی عاجزی اور تواضع کے غرق ہونے سے بچ رہا تھا یہیں کشتی نوح لنگر انداز ہوئی۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 46
جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرہ ابن عمر کے شمالی مشرقی جانب واقع ہے۔ بائیبل میں اس کشتی کے ٹھیرنے کی جگہ اراراط بتائی گئی ہے جو ارمینیا کے ایک پہاڑ کا نام بھی ہے اور ایک سلسلہ کوہستان کے نام بھی۔ سلسلہ کوہستان کے معنی میں جس کو اراراط کہتے ہیں وہ آرمینیا کی سطح مرتفع سے شروع ہو کر جنوب میں کردستان تک چلتا ہے اور جبل الجودی اسی سلسلے کا ایک پہاڑ ہے جو آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔ قدیم تاریخوں میں کشتی کے ٹھیرنے کی یہی جگہ بتائی گئی ہے۔ چناچہ مسیح ؑ سے ڈھائی سو برس پہلے بابل کے ایک مذہبی پیشوا بیراسس (Berasus) نے پرانی کلدانی روایات کی بنا پر اپنے ملک کی جو تاریخ لکھی…
Read the full tafseer →چوتھی آیت کے آخر میں فرمایا کہ زمین و آسمان نے احکام کی تعمیل کی تو طوفان کا قصہ ختم ہوگیا، اور سفینہ نوح ؑ جودی پہاڑ پر ٹھہر گیا، اور ظالموں کو ہمیشہ کے لئے " رحمت سے دور " کہہ دیا گیا۔
جودی پہاڑی آج بھی اس نام سے قائم ہے اس کا محل وقوع حضرت نوح ؑ کے وطن اصلی عراق، موصل کے شمال میں جزیرہ ابن عمر کے قریب آرمینیہ کی سرحد پر ہے، یہ ایک کوہستانی سلسلہ ہے جس کے ایک حصہ کا نام جودی ہے، اسی کے ایک حصہ کو اراراط کہا جاتا ہے، موجودہ تورات میں کشتی ٹھہرنے کا مقام کوہ اراراط کو بتلایا ہے، ان دونوں روایتوں میں کوئی ایسا تضاد نہیں، مگر مشہور قدیم تاریخوں میں بھی یہی ہے کہ نوح ؑ کی کشتی جودی پہاڑ پر آکر…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ وَيٰسَمَاۗءُ اَقْلِعِيْ وَغِيْضَ الْمَاۗءُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۔
زمین کو حکم ہوا کہ اپنا پانی نگل لے۔ آسمان کو حکم ہوا کہ بس اب تھم جا۔ " اقلاع " کے معنی کسی کام سے رک جانے کے بھی ہیں۔ یا سماء اقلعی، ای امس کی من المطر " وغیض الماء " یعنی چڑھا ہوا پانی اتر گیا۔ غاض یغیض، لازم اور متعدی دونوں آتا ہے۔ غاض الماء پانی اتر گیا۔ غاض الماء پانی کو اتار دیا۔ یہاں متعدی استعمال ہوا ہے۔
" جودی " سے مراد الجودی کوہستان اراط کی ایک چوٹی کا نام ہے۔ تورات میں صرف اراراط کا ذکر ہے۔ قران نے خاص اس…
Read the full tafseer →44۔ 1 نگلنا، کا استعمال جانور کے لئے ہوتا ہے کہ وہ اپنے منہ کی خوراک کو نگل جاتا ہے۔ یہاں پانی کے خشک ہونے کو نگل جانے سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ پانی بتدریخ خشک نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ کے حکم سے زمین نے سارا پانی دفعتا اس طرح اپنے اندر نگل لیا جس طرح جانور لقمہ نگل جاتا ہے۔
44۔ 2 یعنی تمام کافروں کو غرق آب کردیا گیا۔
44۔ 3 جودی، پہاڑ کا نام ہے جو بقول بعض موصل کے قریب ہے، حضرت نوح ؑ کی قوم بھی اسی کے قریب آباد تھی۔
44۔ 4 بُعْدً ، یہ ہلاکت اور لعنت الٰہی کے معنی میں ہے اور قرآن کریم بطور خاص غضب الٰہی کی مستحق بننے والی قوموں کے لئے اسے کئی جگہ استعمال کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →24: یعنی قوم کے تمام افراد طوفان میں غرق کر دئیے گئے۔
25: یہ اس پہاڑ کا نام ہے جو شمالی عراق میں واقع ہے، اور اس پہاڑی سلسلے کا ایک حصہ ہے جو کردستان سے آرمینیا تک پھیلا ہوا ہے۔ بائبل میں اس پہاڑ کا نام ارارات مذکور ہے۔
Read the full tafseer →اب خطاب زمین و اسمان سے ہے۔ گویا وہ سمجھتے ہیں۔ دونوں تعمیل کرتے ہیں۔ زمین نے پانی کو چوسنا اور نگلنا شروع کردیا اور آسمان نے برسانا چھوڑ دیا۔ پانی زمین کے پیٹ میں چلا گیا اور سطح زمین معمول پر آگئی۔ اللہ نے جو کرنا تھا وہ انجام کو پہنچا اور یہ کشتی جودی پہاڑ پر آ کر رک گئی۔ " اور یہ کہہ دیا گیا کہ دوری ہو ظالموں کی قوم کے لیے " یہ ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن انجام کا اظہار کرتا ہے۔ جس کے اندر بہت بڑی گہرائی ہے اور یہ اسلوب اظہار " کہہ دیا گیا " کہنے والے کا نام نہ لیا گیا۔ مطلب یہ کہ اس باب کو اب بند کردیا گیا ہے اور بُعْدًا لِّلْقَوْمِ یعنی اب یہ نیست و نابود…
Read the full tafseer →6 ایک مدت تک اس قدر پانی برسا گویا آسمان کے دہانے کھل گئے اور زمین کے پردے پھٹ گئے۔ درخت اور پہاڑیاں تک پانی میں چھپ گئیں۔ اصحاب سفینہ کے سوا تمام لوگ جن کے حق میں نوح (علیہ السلام) نے دعا کی تھی ( رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) 71 ۔ نوح :26) غرق ہوگئے۔ اس وقت خداوند قدوس نے زمین کو حکم دیا کہ اپنا پانی نگل جا ! اور بادل کو فرمایا کہ تھم جا ! پھر کیا مجال تھی کہ دونوں اس کے امتثال حکم میں ایک لمحہ کی تاخیر کرتے۔ چناچہ پانی خشک ہونا شروع ہوگیا۔ کشتی " جودی " پہاڑ پر جا لگی جو بعض کے نزدیک موصل میں تھا۔ اور جو کام خدا نے چاہا (یعنی مجرمین کو سزا دینا) وہ پورا…
Read the full tafseer →آیت 44 وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ
زمین کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ تو اپنے اس پانی کو اپنے اندر جذب کرلے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس عمل میں کتنا وقت لگا ہوگا۔ بہر حال حکم الٰہی کے مطابق پانی زمین میں جذب ہوگیا۔
وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ
کوہ ارارات میں ”جودی“ ایک چوٹی کا نام ہے۔ یہ دشوار گزار پہاڑی سلسلہ آذر بائیجان کے علاقے اور ترکی کی سرحد کے قریب ہے۔ کسی زمانے میں ایک ایسی خبر بھی مشہور ہوئی تھی کہ اس پہاڑی سلسلہ کی ایک چوٹی پر کسی جہاز کے پائیلٹ نے کوئی کشتی نما چیز دیکھی تھی۔ بہر حال قرآن کا فرمان ہے کہ ہم اس کشتی کو محفوظ رکھیں گے اور ایک زمانے میں یہ نشانی بن کر دنیا کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
50 طوفان کا خاتمہ :۔ چھ ماہ تک پانی کی سطح بلند ہوتی رہی پہاڑ تک اس میں ڈوب گئے مجرمین اپنے انجام کو پہنچ گئے اور ان میں سے کوئی بھی اس عذاب سے بچ نہ سکا تو اللہ نے زمین کو حکم دیا کہ اپنا پانی پھر سے اپنے اندر جذب کرلے اور اللہ کے حکم سے بارش بھی رک گئی۔ کچھ پانی ہواؤں نے خشک کیا اور کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹک گئی۔ یہ پہاڑ عراق میں موصل شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔
سیلاب دنیا کے کتنے حصے میں آیا :۔ طوفان نوح کے متعلق دو باتیں ہنوز قابل تحقیق ہیں ایک یہ کہ آیا یہ طوفان تمام روئے زمین پر آیا تھا یا صرف قوم نوح کے علاقہ میں آیا تھا۔ اکثر مورخین کا خیال ہے کہ یہ…
Read the full tafseer →67۔ (بارش اور طوفانی بارش سے) پہلے زمین اور آسمان کے مالک نے زمین کو حکم دیا تھا کہ پانی ابلنا شروع کردے اور آسمان کو کہ برسانا شروع کردے۔ بےتکان دونوں نے تعمیل کردکھائی۔ اب جب مقصد پورا ہوگیا تو زمین کو حکم ملتا ہے کہ اپنا پانی اپنے اندر جذب کرے اور آسمان کو کہ مزید بارش موقوف۔۔۔ دیر ارشاد کی تھی تعمیل میں دیر ہو ہی کیا سکتی تھی، توریت میں ہے :۔ ” اور خدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی ٹھہر گیا اور گہراؤ کے سوتے اور آسمان کی کھڑکیاں بند ہوئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا “۔ (پیدائش 8: 1۔ 2) (آیت) ” قیل “۔ یہ ارشاد اس وقت ہوا جب طوفان اپنا کام کرچکا اور منکروں کو ڈبو چکا تھا توریت میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →وقیل یارض ابلعي مآءک اور حکم دیا گیا (یعنی امر طوفان پورا ہونے کے بعد زمین کو حکم دیا گیا) اے زمین ! اپنا پانی پی لے (نگل جا ‘ جذب کرلے) یعنی وہ پانی جو تیرے اندر سے پھوٹ کر نکلا ہے ‘ وہ جذب کرلے تو زمین نے اپنے اندر سے نکلا ہوا پانی جذب کرلیا۔ آسمان سے برسا ہوا پانی باقی رہا اور دریاؤں اور نہروں کی شکل میں (سمٹ کر) بہنے لگا۔
ویسمآء اقلعي اور اے آسمان ! تھم جا ‘ پانی برسانا ختم کر دے۔ آسمان سے بارش ہونی بند ہوگئی۔
وغیض الماء اور پانی کم کردیا گیا۔ یعنی اللہ نے پانی کو کم کر یا۔ غَیْضٌ فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی ‘ اس جگہ متعدی ہے۔
وقضي الامر اور کام تمام کردیا گیا (کام پورا ہوگیا) یعنی اللہ…
Read the full tafseer →(44) اور جب کفار سب غرق ہوچکے تو حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا سارا پانی نگل لے اور اے آسمان تھم جا اور پانی گھٹ گیا اور قوم کی ہلاکت سے فراغت ہوئی جس کی قسمت میں ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوگیا اور جسے پچنا تھا وہ بچ گیا اور کشتی کوہ جودی پر آٹھہری اور یہ موصل کے قریب نصیبین میں ایک پہاڑ ہے اور کہہ دیا گیا کہ نوح ؑ کی قوم میں سے مشرکین رحمت خداوندی سے دور
Read the full tafseer →وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ۔۔ : ”بَلَعَ یَبْلَعُ“ (ف) نگلنے کو کہتے ہیں اور انسان یا کوئی بھی جانور عموماً پورا لقمہ اکٹھا ہی نگلتا ہے۔ یہ لفظ استعمال کرنے میں حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ زمین نے پانی آہستہ آہستہ نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ لقمے کی طرح اپنے اندر نگل لیا تھا۔ ادھر آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا، چناچہ بارش رک گئی۔ سارا پانی زمین کے نیچے اتار دیا گیا اور تمام مشرکوں کو نیست و نابود کرنے کا کام، جس کے لیے طوفان آیا تھا، پورا ہوگیا۔
وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ : جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں (جسے کردستان کہتے ہیں) موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں نوح ؑ کی کشتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
آیت نمبر 41 تا 44
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وقال ارکبوافیھاسوار ہونے کا حکم ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی قوم کو ہو۔ رکوب کا معنی ہوتا ہے کسی کی پشت پر بلند ہونا۔ کہا جاتا ہے : رکبہ الدیندین اس پر سوار ہوا۔ اور کلام میں حذف ہے یعنیارکبوا ال ماء فی السفینۃ کشتی میں پانی پر سوار ہوجاؤ۔ ایک قول یہ ہے (اس کا) معنی ” ارکبوھا “ ہے یعنی اس پر سوار ہوجا۔ اور فیتاکید کے لیے ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ان کنتم للرء یاتعبرون(یوسف) (للرءیا میں لام تبیین کے لیے ہے) اور فیکا فائدہ یہ ہے کہ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن منذر وابن عساکر رحمہما اللہ نے الکلبی کے راستہ میں ابن عباس ؓ سے فرمایا جس دن نوح (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی اس وقت کے بادشاہ کی بادشاہی کو بیاسی سال ہوچکے تھے اس زمانہ میں کوئی ایسا نہیں تھا جو برائی سے روکے اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی طرف بھیجا (اس وقت) ان کی عمر چار سو اسی سال تھی پھر انہوں نے (اپنی قوم کو) اپنی نبوت کے زمانہ میں ایک سو بیس سال تک بلایا پھر ان کو کشتی بنانے کا حکم دیا گیا انہوں نے اس کو بنایا اور اس پر سوار ہوئے ان کی عمر چھ سو سال تک رہی نوح (علیہ السلام) کا لڑکا پیدا ہوا سام اس کی اولاد میں سفیدی اور گندم گوئی رنگ تھا اور حام پیدا ہوئے اولاد میں…
Read the full tafseer →[وَقِيْلَ : اور کہا گیا ] [يٰٓاَرْضُ : اے زمین ] [ابْلَعِيْ : تو نگل جا ] [مَاۗءَكِ : اپنا پانی ] [وَيٰسَمَاۗءُ : اور اے آسمان ] [اَقْلِعِيْ : تو تھم جا ] [وَغِيْضَ : اور کم (یعنی خشک) کیا گیا ] [الْمَاۗءُ : پانی کو ] [وَقُضِيَ : اور پورا کیا گیا ] [الْاَمْرُ : حکم کو ] [وَاسْـتَوَتْ : اور وہ (یعنی کشتی) متمکن ہوئی ] [عَلَي الْجودِيِّ : جودی پر ] وَقِيْلَ : اور کہا گیا ] [بُعْدًا : دوری ہو ] [لِلْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : ظلم کرنے والی قوم کے لئے ]
[ ب ل ع ]
[بَلَعًا : (ف) کسی کو نگلنا۔ ، اِبْلَعْ : فعل امر ہے تو نگل۔ زیر مطالعہ آیت۔ 24]
[ ق ل ع ]
[قَلْعًا : (ف) کسی کو معزول کرنا۔ کسی سے کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
طوفان کا ختم ہونا اور کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا
پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پانی پہنچ گیا اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مؤمن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا یہ طوفان کتنے دن رہا اس کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے…
Read the full tafseer →قصہ فروشدن طوفان
قال اللہ تعالیٰ وقیل یا رض ابلعی ماءک .... الیٰ ... بعدا للقوم الظلمین۔
(ربط) یہاں تک اس طوفان کی آمد کا بیان تھا۔ اب اس کے خاتمہ کا بیان ہے کہ کفار ناہنجار غرق ہوئے اور اہل ایمان صحیح سالم رہے چناچہ فرماتے ہیں اور جب اصحاب سفینہ کے سوا تمام لوگ جن کے حق میں نوح (علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔ رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا۔ وہ سب غرق ہوگئے اور کافروں میں زمین پر بسنے والا کوئی باقی نہ رہا۔ تو خدا قدوس کی طرف سے زمین کو حکم دیا گیا کہ اے زمین تو اپنا پانی نگل جا اور آسمان کو یہ حکم دیا کہ اے آسمان تو پانی برسانے سے رک جا پھر کیا مجال تھی کہ آسمان اور زمین اس کے حکم کی…
Read the full tafseer →42: جب تمام مشرکین غرقاب ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا کہ اب وہ پانی باہر نکالنے کے بجائے اپنے اندر اسے جذب کرلے اور آسمان کو بارش برسانے سے رک جانے کا حکم دیدیا ادھر کشتی نوح (علیہ السلام) جودی پہاڑ کے دامن میں جا رکی۔ یہ پہاڑ موصول یا شام کے علاقے میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان کی شکل میں عذاب نازل فرمایا اور ساری نافرمان قوم کو اس طوفان میں غرق کیا ، پھر یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ آپ کی قوم کے اہل ایمان کو اللہ نے کشتی کے ذریعے نجات دی۔ یہ طوفان تقریبا سات ماہ تک اس قوم پر مسلط رہا۔ چالیس دن تک متواتر بارش ہوتی رہی اور زمین کے چشمے بھی پھوٹتے رہے حتی کہ پوری سطح ارض بلند ترین پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھر گئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھرگئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں جتنی بلند موجیں اٹھ رہیں تھیں اور نوح…
Read the full tafseer →وَقِيْلَ يٰٓاَرْضُ ابْلَعِيْ مَاۗءَكِ وَيٰسَمَاۗءُ اَقْلِـعِيْ وَغِيْضَ الْمَاۗءُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ وَاسْـتَوَتْ عَلَي الْجُوْدِيِّ وَقِيْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ 44
بلع
قال عزّ وجلّ : يا أَرْضُ ابْلَعِي ماءَكِ [هود/ 44] ، من قولهم : بَلَعْتُ الشیء وابْتَلَعْتُهُ ، ومنه : البَلُوعة . وسعد بُلَع نجم، وبَلَّعَ الشیب في رأسه : أول ما يظهر .
( ب ل ع )
بلعت رف الشی وابتلعتہ کے معنی کسی چیز کو نگل لینا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :
يا أَرْضُ ابْلَعِي ماءَكِ [هود/ 44] کہ اسے زمین اپنا پانی نگل جا ۔ اسی سے بلوعۃ ہے جس کے معنی بدر و اور گندی نالی یا چوبچہ کے ہیں ۔ سعد بلع ایک ستاری کا نام بلع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآئَ کِ وَیٰسَمَآئُ اَقْلِعِیْ وَغِیْضَ الْمَآئُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ وَاسْتَوَتْ عَلَی الْجُوْدِیِّ وَقِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 44)
(اور حکم دیا گیا اے زمین اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان تھم جا، اور پانی اتار دیا گیا، اور معاملے کا فیصلہ ہوگیا، اور کشتی جودی پہاڑ پر جا لگی، اور اعلان کردیا گیا، رحمت سے دوری ہے ظالموں کی قوم کے لیے۔ )
ارض و سما کو احکام
زمین کو حکم دیا گیا کہ اپنا پانی نگل جا اور آسمان سے کہا گیا کہ تھم جا اور بارش کو روک دے۔ بار ش کے رک جانے، زمین کے ابلنے والے چشموں کے ٹھہر جانے اور زمین کے پانی کو نگل جانے سے بھی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : طوفان کا تھمنا اور کشتی کا ٹھہرنا۔
مؤرخین اور مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ سیلاب چالیس دن تک رہا۔ جس کی کیفیت یہ تھی کہ پانی سب سے بلند پہاڑ کی چوٹی سے بھی بیس فٹ اونچا بہتا رہا۔ علاقہ میں کوئی چیز زندہ نہ بچی گویا کہ زمین کو اچھی طرح شرک و کفر کی غلاظت سے دھودیا گیا۔ تب اللہ تعالیٰ نے حکم صادر فرمایا کہ : اے زمین پانی کو پی جا اور آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جاؤ۔ اس طرح ظالم قوم کا صفایا ہوا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی جودی پہاڑ کی چوٹی پر لنگر انداز ہوئی۔ جودی پہاڑ کردستان کے علاقہ میں جزیرۂ ابن عمر کے شمال مشرقی جانب واقع ہے۔ بائبل میں اس کشتی کے ٹھہرنے کی جگہ ارارا ط…
Read the full tafseer →44: وَقِیْلَ یٰٓاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآ ئَ کِ (اور کہا گیا اے زمین تو نگل اپنے پانی کو) تو پھٹ جا اور پانی پی جا۔ البلع کا معنی چوسنا اور جذب کرنا۔ وَیٰسَمَآ ئُ اَقْلِعِیْ (اور اے آسمان تھم جا) پانی برسانا روک لے۔ وَغِیْضَ الْمَآ ئُ (اور پانی کم کردیا گیا) غیض کا معنی کم ہونا اور کرنا۔ یہ غاض بمعنی نقص سے ہے۔ یہاں متعدی آیا ہے۔ وَقُضِیَ اْلاَمْرُ (اور کام تمام کردیا گیا) اور اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ قوم کی ہلاکت کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ پورا کردیا۔ وَاسْتَوَتْ (اور کشتی ٹھہری) چھ ماہ تمام زمین کا چکر کاٹنے کے بعد کشتی ٹھہر گئی۔ عَلَی الْجُوْدِیِّ (جو دی پہاڑ پر) یہ موصل کا ایک…
Read the full tafseer →کشتی نوح کی ساخت
تفسیر 44” وقیل “ یعنی طوفان کا معاملہ ختم ہونے کے بعد ” یا ارض ابلعی “ تو پی جا ” ماء ک ویا سماء اقلعی “ تو روک لے ” وغیض المائ “ خشک ہوگیا ۔ کہا جاتا ہے ” غاض الماء یغیض غیضا “ جب وہ ختم ہوجائے اور غاضہ اللہ یعنی جب اللہ اس کو خشک کر دے ” وقضی الامر “ قوم کی ہلاکت کے امر سے فارغ ہوگئے ۔ ” واستوت “ یعنی کشتی ٹھہر گئی ” علی الجودی “ یہ پہاڑ موصل کے قریب جزیرہ میں ہے۔ ” وقیل بعد “ ہلاکت ہے۔ ” للقوم الظالمین “
طوفان نوح سے بچنے والا ایک شخص
اور روایت کیا گیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے ایک کوے کو بھیجا تا کہ وہ زمین کی خبر گیری کر آئے تو وہاں کسی مردار کو دیکھ کر اس کو کھانے لگ…
Read the full tafseer →44۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ جب سب کفار ڈوب گئے بلکہ کوئی جاندار سوائے ان کشتی والوں کے نہ بچا تو اللہ نے آسمان کو یہ حکم دیا کہ اب پانی نہ برسا تھم جا اور زمین کو یہ حکم دیا کہ تو نے جتنا پانی اگلا ہے نگل جا خدا کا حکم پورا ہوچکا سب کفار ہلاک ہوگئے مینہ تھم گیا اور پانی سوکھ چلا تو کشتی اپنے سواریوں کو لئے ہوئے جودی پہاڑ پر آلگی اور فرمایا کہ ساری قوم ظالموں کی خدا کی رحمت سے دور ہوگئی جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔ طوفان نوح (علیہ السلام) میں کوئی شخص ان کشتی والوں کے سوا زندہ نہ بچا ساری دنیا ہلاک ہوگئی بعض لوگوں کا گمان ہے کہ بعض بعض شہر طوفان سے بچ گئے تھے لیکن یہ غلط ہے کیوں کہ حضرت…
Read the full tafseer →(وَ ) ” اور “ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو سیلاب میں غرق کردیا اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا (قلی یا ارض ابلعی مائک ) ” حکم دیا گیا، اے زمین ! نگل لے اپنا پانی “ یعنی وہ تمام پانی نگل لے جو تجھ سے خارج ہوا تھا اور تیری سطح پر آسمان سے نازل ہوا (ویسماء اقلعی) ” اور اے آسمان ! تھم جا “ پس زمین اور آسمان دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی۔ زمین نے اپنا پانی نگل لیا اور آسمان تھم گیا۔ (وغیض الماء) ” اور سکھا دیا گیا پانی “ یعنی پانی زمین میں جذب ہوگیا (وقضی الامر) ” اور ہوچکا کام “ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور اہل ایمان کی نجات کا فیصلہ چکا دیا گیا۔ (واستوت علی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–44
قول باری ہے فانا نسخر منکم کما تسخرون ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں جس طرح تم ہم پر ہنس رہے ہو ۔ یہاں یہ بات مجاز کے طور پر کہی گئی ہے ، اس کا اطلاق اس لیے کیا گیا ہے کہ مذاق اڑانے اور ہنسنے کی مذمت کر کے اس کا بدلہ اتنی مقدار میں چکایا گیا ہے جتنی مقدار کے یہ لوگ مستحق تھے ، جس طرح یہ قول باری ہے وجزاء سیئۃ سیئۃ مثلھا۔ برائی کا بدلہ اسی جیسی برائی ہے ، نیز ارشاد باری ہے قالو انما نحن مستھزون اللہ یستھزی بھم ہم تو صرف مذاق اڑا رہے تھے ، اللہ تعالیٰ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ بعض کے نزدیک آیت زیر بحث کا مفہوم ہے کہ ہم بھی اس طرح تمہیں جاہل سمجھتے ہیں جس طرح تم ہمیں جاہل سمجھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
99 ۔ پسر نوح کا اپنے باپ کو کافرانہ جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نوح کے اس کافر بیٹے نے اپنے باپ کی اس صدا و پکار کے جواب میں کہا کہ میں کسی ایسے پہاڑ کی پناہ لے لیتا ہوں جو مجھے اس پانی سے بچا لے گا۔ سو یہ نمونہ ہے مشرک کی کوتاہ بینی اور مادہ پرستی کا کہ اس کی نگاہ ظاہر پر اور مادیات ہی میں اٹکی اور پھنسی رہتی ہے۔ اور اسی طرح طرح کے مظاہر اور مختلف نمونے ہر دور کی طرح آج بھی یہاں اور وہاں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور مادہ پرست انسان کی ساری توجہ اور پورا زور محسوسات اور مادیات ہی پر ہے جس سے آگے طرح طرح کے ہولناک اور تباہ کن مفاسد جنم لیتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے ایک طرف تو یہ امر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ جودی پہاڑ عراق اور ترکی کے درمیانی علاقے میں جسے کردستان کہتے ہیں موصل کی جانب واقع ہے۔ تورات میں حضرت نوح ( علیہ السلام) کی کشتی ٹھہرنے کی جگہ ” ارات “ بتائی گئی ہے جو ارمینا کے اس پہاڑی سلسلے کا نام ہے جس سے دجلہ اور فرات نکلتے ہیں جو بھی اسی پہاڑی سلسلے کے ایک پہاڑ کا نام ہے اور آج بھی اسی نام سے مشہور ہے۔ چند سال ہوئے مغربی سیاحو نے اس پہاڑ پر ایک بڑی کشتی کے ٹوٹے ہوئے تختے بھی دریافت کئے ہیں، اگرچہ ان کے متعلق قطعی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ آیا یہ حضرت نوح کی کشتی کے ہی تختے ہیں یا کسی اور کشتی کے۔ واضح رہے کہ حضرت نوح کی قوم دجلہ اور فرات کی وادی ہی میں آباد تھی جو بعد میں عراق کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
(11:44) ابلعی۔ بلع یبلع (فتح) امر واحد مؤنث حاضر۔ تو نگل جا۔ بلع سے جس کے معنی نگلنے کے ہیں۔
اقلعی۔ تو تھم جا۔ تو رک جا۔ (بارش سے رک جا) اقلاع (افعال) سے ۔ امر واحد مؤنث حاضر۔
غیض۔ غاض یغیض غیض (باب ضرب) سے ماضی مجہول واحد مذکر گا ئب پانی کو زمین میں جذب کردیا گیا۔ پانی خشک کردیا گیا۔ پانی اتر گیا۔
استوت۔ استوی یستوی استواء (افتعال) ماضی واحد مؤنث غائب۔ وہ (کشتی) ٹھہر گئی۔ جب یہ علیٰ کے ساتھ متعدی ہو تو اس کے معنی کسی چیز پر چڑھنے۔ قرار پکڑنے اور مستوی ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں استوی فلان علی عمالتہ فلاں نے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔ قرآن میں ہے فاستوی علی سوقہ (49:29) اور پھر وہ اپنی نال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47
فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…
Read the full tafseer →جب سب کفار ڈوب گئے بلکہ کوئی جاندار سوائے ان کشتی والوں کے نہ بچا، تو اللہ تعالیٰ نے آسمان کو یہ حکم دیا کہ اب پانی نہ برسا تھم جا اور زمین کو یہ حکم دیا کہ تو نے جتنا پانی اگلا ہے نگل جا۔ خدا کا حکم پورا ہوچکا سب کفار ہلاک ہوگئے مینہ تھم گیا اور پانی سوکھ چلا تو کشتی اپنے سواروں کے لئے ہوئے جودی پہاڑ پر آلگی اور فرمایا کہ دنیا میں ساری قوم ظالموں کی خدا کی رحمت سے دور ہوگئی یعنی ہلاک ہوگئے۔
Read the full tafseer →[24] کوہ جودی جزیرہ ابن عمر اور دریائے دجلہ کے شمال مشرق کی جانب کوہستان میں واقع ہے اور آج بھی جودی ہی کے نام سے مشہور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
قرآن کی بلیغ ترین آیت :
(ف 2) اس پانی کے طوفان میں تمام منکرین خس و خاشاک کی طرح بہ گئے ، ان کا غرور انکے کام نہ آسکا ، اور خدا کے غضب سے سب غرق ہوگئے ، اس آیت میں قرآن حکیم نے طوفان تھم جانے کی تصویر جن الفاظ میں کھینچی ہے وہ بلاغت کا حیرت انگیز مرقع ہے ،
علماء نے اس آیت کے اسرار ونکات پر کتابیں لکھی ہیں ، اس کی معنوی اور لفظی خوبیاں اس قدر حیران کن ہیں ، کہ ہر پڑھا لکھا انسان اعتراف کرتا ہے علامہ ابوحیان اندلسی نے نے بدیع کی اکیس قسموں کو اس میں جلوہ گر دیکھا ہے ، سید محمد بن اسمعیل نے اس ایک مخصوص رسالہ لکھا ہے ، زمخشری جو اسرار و رموز ادب کا سب سے بڑا ماہر ہے ، دلائل الاعجاز میں صفحے کے…
Read the full tafseer →44 جب سب لوگ غرق ہوچکے تب حکم دیا گیا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور جذب کرلے اور اے آسمان تھم جا اور پانی کم کردیا گیا اور گھٹ گیا اور جو کام ہونے والا تھا وہ پورا ہوچکا اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری اور کہا گیا کہ کافر لوگ رحمت سے دور ہوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں چالیس دن پانی آسمان سے برسا اور زمین سے ابلا پھر چھ مہینے کے بعد پہاڑوں کے سر کھلے کہ کشتی جودی پہاڑ سے وہ پہاڑ ملک شام میں ہے 12
Read the full tafseer →ف 3۔ اس سے معلوم ہوا کہ طوفان کا پانی پہاڑ سے اونچا تھا اور قصہ ختم ہونے میں سب باتیں آگئیں نوح (علیہ السلام) کی نجات کافروں کا غرق اور طوفان کافرو ہوجانا اور بعدا للقوم الظالمین شاید اس لیے فرمایا گیا کہ عبرت تازہ ہوجائے کہ کفر کا یہ وبال ہے تاکہ آئندہ آنے والے اس سے بچے رہیں۔
Read the full tafseer →زمین کو پانی نگل جانے اور آسمان کو بارش سے تھم جانے کا حکم دے دیا گیا
62 ؎ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سارا معاملہ نوح (علیہ السلام) کے بیٹے کے غرق ہونے کے ساتھ وابستہ تھا ادھر کنعان ڈوبا اور ادھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو پانی نگل جانے کا حکم دے دیا اور اسی طرح آسمان کو حکم ہوا کہ تھم جا۔ اس طرح پانی اترنا شروع ہوگیا اور حکم الٰہی نافذ ہوگیا کہ نوح (علیہ السلام) کی ساری قوم سوائے ان لوگوں کے جو کشتی پر سوار تھے سب کے سب تباہ و برباد ہوگئے۔ چناچہ تورات میں ہے کہ :
” سمندر کے سوتے اور آسمان کے دریچے بند کئے گئے اور آسمان سے جو بارش ہو رہی تھی تھم گئی اور پانی زمین پر سے گھٹتے گھٹتے ایک سو پچاس دن کے…
Read the full tafseer →At the end of the fourth verse (44), it was said that the heaven and the earth obeyed the orders and the matter of the flood was all over. The Ark of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) came to rest on the Mount Judiyy and it was declared that the unjust people have been cast far ` away from the mercy of Allah' - (which is what curse is).
Mount Judiyy still stands there by that name. Geographically, it is located on the border of Armenia near Ibn ` Umar Island north of Mousil in ` Iraq, the real home of Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . This is a mountain range, part of which is called Judiyy. Another…
Read the full tafseer →46. Mount Judi is situated to the north-east of the Island of Ibn 'Umar in Kurdistan. According to the Bible, the Ark's resting place was Ararat, which is the name of a particular mountain as well as of a whole range of mountains in Armenia. Ararat, in the sense of a mountain range, extends from the Armenian plateau to southern Kurdistan. The mount called Judi is part of this range and is known even today by the same name. In ancient historical accounts, Mount Judi is mentioned as the place where the Ark rested. Around 250 B.C., a Babylonian priest, Berasus, wrote a history of his country…
Read the full tafseer →