Hud 11:35

Hud · from ayah 35

11:35

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ؕ— قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُهٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَاَنَا بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ ۟۠اَمۡ يَقُوۡلُوۡنَ افۡتَـرٰٮهُ‌ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَيۡتُهٗ فَعَلَىَّ اِجۡرَامِىۡ وَاَنَا بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do they say [about Prophet Muhammad], "He invented it"? Say, "If I have invented it, then upon me is [the consequence of] my crime; but I am innocent of what [crimes] you commit."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:35

اے محمدؐ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو "اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جرم کی ذمہ داری ہے، اور جو جرم تم کر رہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) نے یہ قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے۔ کہہ دو کہ اگر میں نے دل سے بنالیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذمہ ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے خود اسی نے گھڑ لیا ہے؟ تو جواب دے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہو تو میرا گناه مجھ پر ہے اور میں ان گناہوں سے بری ہوں جو تم کر رہے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلا کیا (عرب کے یہ کافر) لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ؟ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ : اگر میں نے اسے گھڑا ہوگا تو میرے جرم کا وبال مجھی پر ہوگا، اور جو جرم تم کر رہے ہو، میں اس کا ذمہ دار نہیں ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے جی سے بنالیا تم فرماؤ اگر میں نے بنالیا ہوگا تو میرا گناہ مجھ پر ہے اور میں تمہارے گناہ سے الگ ہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے اس (قرآن) کو خود گھڑ لیا ہے، فرما دیجئے: اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرے جرم (کا وبال) مجھ پر ہوگا اور میں اس سے بری ہوں جو جرم تم کر رہے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، کہہ دے اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرا جرم مجھی پر ہے اور میں اس سے بری ہوں جو تم جرم کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی) ! کیا کافر یہ کہتے ہیں کہ : اس نے یہ (قرآن) خود ہی گھڑ لیا ہے آپ ان سے کہئے کہ : اگر میں نے گھڑا ہے تو میرا گناہ میرے ذمہ ہے اور جو تم جرم کر رہے ہو میں ان سے برئ الذمہ ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے، کہہ دو ، کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کا وبال میرے ہی اوپر ہے اور جو جرم تم کر رہے ہو میں اس سے بری ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس (قرآن) کو خود ہی گھڑ لیا ہے، تو (ان سے) کہو کہ اگر میں نے اس کو خود گھڑ لیا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں اس جرم سے بری ہوں جو تم لوگ کر رہے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے اسے (یعنی قرآن کو) گڑھ لیا ہے آپ کہہ دیجیے اگر میں نے اسے گڑھ لیا ہے تو میرے ہی اوپر میرا یہ جرم رہے گا اور تم جو جرم کررہے ہو میں اس سے بری رہوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمد) نے اس (قرآن) کو گھڑ لیا ہے ؟ آپ کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو اس کا وبال مجھ ہی پر آئے گا اور میں بری ہوں اس سے جو جرم تم کر رہے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا یہ کہتے ہیں کہ اس پیغمبر نے قرآن اپنے دل سے بنا لیا ہے فرما دیں کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو میرے گناہ کے وبال مجھ پر اور جو گناہ تم کرتے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad!) Do they say that he himself has forged this message? Tell them: 'If I have forged this, the guilt of it will fall upon me, but I am not responsible for the crimes you are committing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do they (the pagans of Makkah) still say that he (Muhammad) has forged it? Say, :If I have forged it, then, I am responsible for my sin, and I am free of the sins you commit.

— Muhammad Taqi Usmani

Do they (the pagans of Makkah) still say that he (Muhammad) has forged it? Say, :If I have forged it, then, I am responsible for my sin, and I am free of the sins you commit.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or they (the pagans of Makkah) say: "He has fabricated it." Say: "If I have fabricated it, upon me be my crimes, but I am innocent of (all) those crimes which you commit.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or say they (again): He hath invented it? Say: If I have invented it, upon me be my crimes, but I am innocent of (all) that ye commit.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do they say [about Prophet Muhammad], "He invented it"? Say, "If I have invented it, then upon me is [the consequence of] my crime; but I am innocent of what [crimes] you commit."

— Saheeh International

Do they say that Muhammad has falsely ascribed (the Quran) to God? (Muhammad), tell them "Had I falsely ascribed it to God, I shall be responsible for my own sins. I am certainly not responsible for whatever sins you commit!

— Muhammad Sarwar

Or do they say: He has forged it? Say: If I have forged it, on me is my guilt, and I am clear of that of which you are guilty.

— Muhammad Habib Shakir

Or say they: he hath fabricated it? Say thou: on me then be my guilt, and I am quit of that whereof ye are guilty.

— Abdul Majid Daryabadi

Or do they say, "He has forged it"? Say: "If I had forged it, on me were my sin! and I am free of the sins of which ye are guilty!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:35

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

کفار کا الزام اور رسول اللہ ﷺ کا جواب یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر ہے کہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں ؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں ؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 35–36

سورة هُوْد 39 انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے حضرت نوح ؑ کا یہ قصہ سنتے ہوئے مخالفین نے اعتراض کیا ہوگا کہ محمد ﷺ یہ قصے بنا بنا کر اس لیے پیش کرتا ہے کہ انہیں ہم پر چسپاں کرے۔ جو چوٹیں وہ ہم پر براہ راست نہیں کرنا چاہتا ان کے لیے ایک قصہ گھڑتا ہے اور اس طرح ”در حدیث دیگراں“ کے انداز میں ہم پر چوٹ کرتا ہے۔ لہٰذا سلسلہ کلام توڑ کر ان کے اعتراض کا جواب اس فقرے میں دیا گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کا ذہن ہمیشہ بات کے برے پہلو کی طرف جایا کرتا ہے اور اچھائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ بات کے اچھے پہلو پر ان کی نظر جاسکے۔ ایک شخص نے اگر کوئی حکمت کی بات کہی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 32–35

چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہاری نظریں جن غریب بےسرمایہ لوگوں کو حقیر و ذلیل دکھتی ہیں میں تمہاری طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کوئی خیر اور بھلائی نہ دے گا کیونکہ خیر اور بھلائی کا تعلق مال و دولت سے نہیں بلکہ انسان کے قلب سے ہے اور دلوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کسی کا قلب خیر و صلاح کے قابل ہے کس کا نہیں۔ پھر فرمایا کہ اگر میں بھی تمہاری طرح ان کو حقیر و ذلیل کہنے لگوں تو میں بھی ظالم ہوجاؤں گا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۔ اس آیت میں بعض لوگوں نے مخاطب آنحضرت ﷺ کو سمجھا ہے اور اس کو حضرت نوح کی سرگزشت کے دریان ایک التفات کی حیثیت دی ہے۔ اگرچہ اس کے التفات ہونے کا بھی ایک محل ہے لیکن ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ دعوت و موعظت کے آخری مرحلہ میں اعلان براءت کی آیت ہے۔ اس آیت میں حضرت نوح کو ہدایت ہوئی کہ اگر تمہاری قوم کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جو کچھ تم انہیں بتا رہے ہو یہ سب تمہاری اپنی ہی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جن کو تم جھوٹ موٹ خدا کی طرف منسوب کر رہے ہو تو اب یہ بحث بند کردو اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

35۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک یہ مکالمہ قوم نوح ؑ اور حضرت نوح ؑ کے درمیان ہوا اور بعض کا خیال ہے کہ یہ جملہ معترضہ کے طور پر نبی اکرم اور مشرکین مکہ کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ قرآن میرا گھڑا ہوا ہے اور میں اللہ کی طرف سے منسوب کرنے میں جھوٹا ہوں تو میرا جرم ہے، اس کی سزا میں ہی بھگتوں گا۔ لیکن تم جو کچھ کر رہے ہو، جس سے میں بری ہوں، اس کا بھی تمہیں پتہ ہے ؟ اس کا وبال تو مجھ پر نہیں، تم پر ہی پڑے گا کیا اس کی بھی تمہیں کچھ فکر ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 35–36

17: حضرت نوح ؑ کے واقعے کے درمیان یہ آیت جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے۔ توجہ اس طرف دلائی گئی ہے کہ حضرت نوح ؑ کا یہ واقعہ جس تفصیل کے ساتھ آنحضرت ﷺ بیان فرما رہے ہیں، اسے معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ وحی کے سوا نہیں ہے، اور جس انداز و اسلوب میں وہ بیان ہورہا ہے، وہ من گھڑت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کے باوجود کفار عرب کا انکار کرنا محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قصے کے اس مرحلے پر روئے سخن اچانک پلٹا ہے۔ اب ایک بات قریش مکہ اور مشرکین مکہ کی طرف بھی ، کیونکہ ان کی حالت بھی ایسی ہی تھی جیسے حضرت نوح کی قوم کی تھی۔ ان کا دعوی یہ ہے کہ حضرت محمد یہ قصے اپنی جانب سے گھڑتے ہیں ، تو درمیان میں اچانک بات کاٹ کر ان کے اس اعتراض کا جواب دے دیا جاتا ہے اور بعد میں قصہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔ ۔۔۔۔ افتراء پردازی بیشک ایک بڑا جرم ہے۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیں سے کہہ دیں کہ اگر میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے۔ جب مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے تو میں کیسے اس کا ارتکاب کرسکتا ہوں اور تم جو مجرمانہ تہمت مجھ پر لگا رہے ہو تو میں اس سے بھی بری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہ گفتگو کفار مکہ کی آنحضرت ﷺ کے ساتھ تھی کہ قرآن آپ خود بنا لائے ہیں۔ خدا کا کلام نہیں ہے۔ حضرت نوح کتاب نہ لائے تھے جو ان کی قوم یہ بات کہتی۔ (کذا فی الموضح) لیکن بعض مفسرین نے اس آیت کو بھی نوح کے قصہ کا جزو بتلایا ہے۔ یعنی ان کی قوم نے کہا کہ جن باتوں کو نوح خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ خود ان کی گھڑنت ہیں۔ بعض نے کہا کہ گفتگو تو اہل مکہ کی حضور ﷺ سے ہے مگر اس کا تعلق خاص نوح کے قصہ سے تھا گویا وہ کہتے تھے کہ یہ داستان آپ نے جھوٹ بنا لی ہے۔ واقعہ میں ان قصوں کی کوئی اصل نہیں۔ 3 قرآن کو " مفتریٰ " کہنے کا تحقیقی جواب اسی سورت میں ایک رکوع پہلے گزر چکا۔ یہاں آخری بات فرمائی یعنی قرآن کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 35–36

آیت 35 اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

42 کفار مکہ اور قوم نوح میں مماثلت :۔ سابقہ آیات میں نوح (علیہ السلام) کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں اور جو کچھ ان کی قوم ان کو جواب دیتی اور ان سے تکرار کرتی رہی وہ بعینہ ویسے ہی تھے جو رسول اللہ کو مکہ میں قریش مکہ کی طرف سے پیش آرہے تھے لہذا قریش مکہ کو یہ شبہ لاحق ہوا کہ یہ تو ہمارے ہی حالات اور سوال و جواب ہیں جو نوح (علیہ السلام) کا نام لے کر ہمارے سامنے پیش کیے جارہے ہیں۔ چناچہ انہوں نے رسول اللہ پر ایک الزام یہ بھی لگا دیا کہ یہ باتیں تو یہ خود ہی بنا کر ہمارے سامنے بیان کر رہا ہے اور گفتہ آید در حدیث دیگراں کے مصداق ہم پر ہی یہ چوٹ کی جارہی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ قریش مکہ سیدنا نوح کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

49۔ یہ آخری اور انقطاعی جواب ہے کہ خیرتم کسی طرح نہیں سمجھتے تو نہ سمجھو اپنا جرم میں خود بھگت لوں گا تو خود اپنی خبر لو، منکرین کے اعتراض کا اصل جواب آیت نمبر 13 کے ذیل میں آچکا ہے کہ اگر میں قرآن تصنیف کرسکتا ہوں تو خیر تم سب مل ملا کر پورا قرآن نہ سہی اس کی دس ہی سورتیں تیار کرکے دکھادو۔ اوپر سے حکایت حضرت نوح (علیہ السلام) کی چل رہی تھی آگے بھی وہی ملے گی درمیان میں مناسبت مقام سے یہ آیت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے معاند معاصرین سے متعلق آگئی، عن مقاتل انھا فی شان النبی ﷺ مع مشرکی مکۃ (روح) ھذا کلام معترض فی وسط ھذہ القصۃ مؤکد لھا مقرر لھا بقولہ تعالیٰ لمحمد ﷺ ام یقول ھؤلاء الکفافرون الجاحدون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–35

آیت نمبر 25 تا 35 ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام یقولون افتراہ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ نے یہ قرآن خود بنا کر اللہ پر دروغ بندی کی ہے (مقاتل) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (اس جملہ کا اور اس کے بعد والے خطابی جملہ کا تعلق بھی حضرت نوح کے قصے سے ہے) کیا نوح کی قوم والے کہتے تھے کہ نوح نے اللہ پر دروغ بندی کی ہے۔ قل (اے محمد ﷺ یا اے نوح (علیہ السلام) ! ) آپ کہہ دیجئے۔ ان افتریتہ فعلی اجرامی اگر میں نے اللہ پر دروغ بندی کی ہے تو میرے جرم کا وبال مجھ پر پڑے گا۔ اِجْرَام جرم کرنا ‘ گناہ کرنا۔ وانا برئ مما تجرمون۔ اور میں تمہارے جرم سے پاک ہوں۔ یعنی تم جو کہہ رہے ہو کہ تو نے اللہ پر دروغ بندی کی ہے ‘ یہ تم لوگوں کا جرم ہے ‘ میں اس سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(35) بلکہ قوم نوح تو یہ کہتی ہے کہ نوح ؑ جو پیغام ہمارے پاس لے کر آئے ہیں یہ انہوں نے خود بنایا ہے تو آپ فرمادیجیے کہ اگر بالفرض ایسا ہو تو اس کا گناہ مجھ پر ہوگا اور تمہارے گناہوں سے میں بری الذمہ رہوں گا اور کہا گیا کہ یہ آخری آیت رسول اکرم ﷺ کے متعلق میں نازل ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ۔۔ : اس آیت کی مفسرین نے الگ الگ تفسیریں کی ہیں۔ بعض نے اسے نوح ؑ کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب نوح ؑ سے قرار دیا ہے اور بعض نے اسے نوح ؑ کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیا ہے اور اسے مشرکین مکہ کا قول قرار دے کر رسول اللہ ﷺ سے خطاب قرار دیا ہے، یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ اس (محمد ﷺ نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد !) کہہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سے بری ہوں۔ علمائے تفسیر میں سے رازی اور ان کی موافقت میں شوکانی نے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 32–35

آیت نمبر 32 تا 35 اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالوایٰنوح قدجٰدلتنافاکثرت جدالنا یعنی تو نے ہمارے ساتھ جھگڑے کو طول دیا اور اس میں مبالغہ کیا۔ جدل کلام عرب میں جھگڑے میں مبالغہ کے لیے (استعمال ہوتا) ہے۔ الجدل سے مشتق ہے اور یہ رسی کو مضبوطی سے بنانا (بٹنا) ہے۔ شکرے کو بھی اجدل کہا جاتا ہے اڑنے میں اس کی سختی کی وجہ سے۔ یہ معنی سورة الانعام میں اس سے زیادہ واضح طریقے سے گزرچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فاکثرت جدالناپڑھا ہے، نحاس نے اس کو ذکر کیا۔ دین میں جدال کرنا محمود ہے اسی وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں سے جدال کیا یہاں تک حق غالب ہوجائے پس جس نے اس کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–35

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ : 1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔ 2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔ 3:۔ ابن جریر وابو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اَمْ [ یا ] يَقُوْلُوْنَ [ یہ لوگ کہتے ہیں ] افْتَرٰىهُ ۭ [ اس نے گھڑا اس کو (یعنی قرآن کو ) ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] اِنِ [ اگر ] افْتَرَيْتُهٗ [ میں گھڑتاہوں اس کو ] فَعَلَيَّ [ تو مجھ پر ] اِجْرَامِيْ [ میرا جرم کرنا ہے ] وَاَنَا [ اور میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جو ] تُجْرِمُوْنَ [ تم لوگ جرم کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قرآن کو افتراء بتانے والوں کو جواب اس آیت کے بارے میں مفسرین کرام کی دو رائیں ہیں ‘ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے سوال و جواب کا تتمہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے یوں کہا تھا کہ نوح (علیہ السلام) نے جو دعویٰ نبوت کیا ہے یہ ان کی بنائی ہوئی بات ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نوح (علیہ السلام) کو ارشاد ہوا کہ آپ انہیں جواب دے دیں کہ اگر بالفرض میں نے اپنے پاس سے کوئی بات بنائی ہو تو یہ میرا جرم ہے جو مجھ پر عائد ہے اور تم میرے جرم سے بری ہو تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ میں نے اپنے پاس سے یہ بات کہی ہے مجھ پر بہتان لگا رہے ہو یہ تمہارا جرم ہے میں تمہارے جرم سے بری ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–35

قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔ اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 34–35

34: میں تو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں لیکن اگر تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پر مہر جباریت لگا دے اور تمہیں توفیق ہدایت سے محرم کردے تو میری خیر خواہی سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ شکوی ہے۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ جواب شکوی ہے اگر میں نے اللہ پر افتراء کیا ہے تو اس کی سزا مجھے ملے گی مگر یہ میرا افتراء کرنا تو غلط ہے اس لیے میری طرف افتراء علی اللہ کی نسبت کرنے کا جرم تم پر ثابت ہے جس کی تم ضرور سزا پاؤ گے۔ (اِنِ افْتَرَیْتہُہٗ ) ای اختلقتہ وافتلتہ یعنی الوحی والرسالۃ (فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ ) ای عقاب اجرامی و ان…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 32–35

ربط آیات ان دو رکوعات میں حضرت نوع (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں ، تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اگر ایسا کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہے کہ کہیں تم دردناک دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو۔ قوم نے آپ کی نصیحت کو قبول نہ کیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو ، تمہاری اتباع کرنے والے ہمارے کمی کمین لوگ ہی ، جنہیں کوئی برتری حاصل نہیں ، لہٰذا ان کی موجودگی میں ہم تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوگو ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے صحیح راستے پر ہوں ، اللہ نے مجھے اپنی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ۝ 0ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُہٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ۝ 35 ۧ فری الفَرْيُ : قطع الجلد للخرز والإصلاح، والْإِفْرَاءُ للإفساد، والِافْتِرَاءُ فيهما، وفي الإفساد أكثر، وکذلک استعمل في القرآن في الکذب والشّرک والظّلم . نحو : وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرى إِثْماً عَظِيماً [ النساء/ 48] ، (ری ) الفری ( ن ) کے معنی چمڑے کو سینے اور درست کرنے کے لئے اسے کاٹنے کے ہیں اور افراء افعال ) کے معنی اسے خراب کرنے کے لئے کاٹنے کے ۔ افتراء ( افتعال کا لفظ صلاح اور فساد دونوں کے لئے آتا ہے اس کا زیادہ تر استعمال افسادی ہی کے معنوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرَاہُ ط قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ وَاَنَا بَرِیْ ٓئٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 35) (کیا یہ کہتے ہیں کہ اس نے اس کو گھڑ لیا ہے۔ آپ کہہ دیجیے کہ اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو میرے جرم کا وبال میرے ہی اوپر ہوگا اور جو جرم تم کررہے ہو میں اس سے بری ہوں۔ ) مفسرین میں اختلاف ہے کہ اس آیت میں مخاطب کون ہے ؟ آنحضرت ﷺ یا حضرت نوح (علیہ السلام) ۔ اگر مخاطب آنحضرت ﷺ کو سمجھا جائے تو پھر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ مشرکینِ مکہ نے یہ کہا کہ یہ جو آپ ﷺ قرآن کریم کا نام لے کر ایسی آیات ہمیں سناتے ہیں جو واقعی ہم پر منطبق ہوتی ہیں تو یہ سراسر آپ ﷺ کی اپنی گھڑی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے ردِّعمل کا ذکر کرنے کے بعد اہل مکہ کو خطاب۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے واقعات بیان کرنے کا مقصد محض داستان گوئی اور تاریخ برائے تاریخ دہرانا نہیں۔ قرآن مجید موقع ومحل کے مطابق انبیاء اور ان کی اقوام کی تاریخ کا اتنا ہی ذکر کرتا ہے جتنا مخاطب کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کے بیان کے دورانیہ میں حقیقت کی نقاب کشائی اور رسول کریم ﷺ کو حوصلہ دینے کی خاطر فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! نوح (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد اور بےمثال حوصلے کو سامنے رکھ کر اپنا کام جاری رکھو۔ قرآن مجید کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

35: اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ (کیا وہ کہتے ہیں اس کو گھڑ لیا ہے) اَمْ ، ہَلْکے معنی میں ہے ہمزہ استفہام کا محذوف ہے، بلکہ کیا وہ کہتے ہیں اس کو گھڑ لیا ہے۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ (کہہ دیں اگر میں نے اس کو گھڑا ہے تو مجھ پر میرا جرم) یعنی اگر صحیح ہے کہ میں نے افتراء کیا ہے تو مجھ پر میرے جرم کی سزا ہے یعنی افتراء کی۔ کہا جاتا ہے : اجرم الرجل، اذا اذنب۔ جب وہ گناہ کرے۔ وَاَنَا بَرِیْ ئٌ (اور میں بری ہوں) یعنی یہ بات ثابت نہیں اور میں اس سے بریٔ الذمہ ہوں مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ تمہارے اس جرم سے کہ میری طرف افتراء کی نسبت کرتے ہو۔ پس تمہاری دشمنی اور اعراض کرنے کی کوئی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

35۔” ام یقولون افتراہ “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی نوح (علیہ السلام) اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی محمد ﷺ ” قل ان افتریتہ فعلی اجرامی “ یعنی میرا گناہ اور میرے جرم کا وبال ۔ اجرام گناہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ ” وانا بری مما تجرمون “ مجھ سیت مہارے گناہوں کا مواخذہ نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

35۔ اس آیت میں اس بات کا اختلاف ہے کہ یہ آیت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی شان میں ہے یا حضرت رسول خدا ﷺ سے کفار مکہ یہ کہتے تھے۔ بعضے مفسروں نے یہ کہا ہے کہ جو کچھ نوح (علیہ السلام) کی قوم حضرت نوح (علیہ السلام) پر اعتراض کیا کرتی تھی وہی اعتراض کفار بھی حضرت ﷺ پر کرتے تھے مگر یہ قول صحیح نہیں معلوم ہوتا کیونکہ نوح (علیہ السلام) کو کوئی کتاب نہیں ملی تھی حضرت ﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا تو کفار مکہ کہنے لگے کہ یہ قرآن انہوں نے اپنے جی سے گھڑ لیا ہے خدا نے نہیں اتارا ہے اس کا جواب اللہ جل شانہ نے حضرت ﷺ کو بتلایا کہ ان سے کہو کہ یہ قرآن اگر ہم خود بنا کر کہتے ہیں تو اس کا جرم ہم پر ہے اور تم جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے : (ام یقولون افتریہ) ” کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے “ اس ضمیر میں اس امر کا احتمال ہے کہ وہ نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہو جیسا کہ پورا سیاق ان کی قوم کے ساتھ ان کے معاملے کے بارے میں ہے اور اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ کہتے تھے کہ نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازی کی ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے اور اللہ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ کہہ دے۔ (قل ان افتریتہ فعلی اجرامی وانا بری ممبا تجرمون) ” کہہ دیجیے، اگر میں نے اسے گھڑا ہو، تو مجھ پر ہے میرا گناہ اور میں تمہارے گناہوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 34–36

قول باری ہے ولا ینفعکم نصحی ان اردتا انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم ۔ اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا ہو ۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جملہ شرطیہ میں شرط اور جزاء کے درمیان آ جانے والی شرط کا یہ حکم ہے کہ وہ معنی کے لحاظ سے اپنے ما قبل پر مقدم ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص یہ کہتا ہے ۔ ان دخلت الدار ان کلمت زیدا ً فعبدی حر ۔ اگر میں گھر میں داخل ہوجائوں ، اگر زید سے کلام کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ شخص اس وقت حانث ہوگا جب زید سے کلام کرے گا اور پھر گھر میں داخل ہوگا اس لیے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 35–36

87 ۔ منکرین کو اپنے بارے میں فکر کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس قرآن کو خود گھڑ لیا ہے تو ان سے کہو کہ اگر میں نے اس کو خود گھڑ لیا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں تمہارے ان جرائم سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔ پس تم لوگ مجھ پر اس طرح کے الزامات لگانے کی بجائے خود اپنی فکر کرو کہ ہر کسی کو اپنے کئے کا بھگتنان خود ہی بھگتنا ہوگا۔ کوئی کسی دوسرے کے کئے کا ذمہ دار و جواب دہ اور اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہوگا کہ اصول یہ ہے کہ (اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم و فیصلہ عدل و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–44

نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–35

آیات 25 تا 35 اسرار و معارف بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔ بشریت ونبوت مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 32–35

ف 1 ۔ کہ میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اور اس نے یہ یہ احکام مجھئے دئیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:35) افترہ۔ اس نے اس کو گھڑ لیا۔ اس نے اس کا افتراء کیا۔ افتری صیغہ ماضی واحد مذکر غائب ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب فعل کے فاعل جمہور کے نزدیک حضرت نوح ہیں۔ لیکن مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد نبی کریم ﷺ ہیں۔ بصورت اول ہ ضمیر سے مراد وہ کلام ہے جو حضرت نوح پر بذریعہ وحی نازل ہوا۔ اور دوسری صورت میں اس سے مراد قرآن حکیم ہے۔ جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا۔ اجرامی۔ میرے جرم کا وبال۔ ای وبال اجرامی۔ وانا بریٔ مما تجرمون۔ جو جرم تم کر رہے ہو میں اس سے بری الذمہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–39

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 39 اجرام (جرم، خطا، گناہ) لاتبتئس (تو غم نہ کر) اصنع (تو بنا لے) الفلک (کشتی، جہاز) باعیننا (2 ماری آنکھوں میں، نگرانی میں) لاتخاطب (تو متوجہ نہ کرنا) مر (گذرا) سخروا (مذاق اڑایا) یخزی (رسوا کرے گا) یحل (حلال کرے گا، نازل کرے گا) مقیم (قائم رہنے والا، دائمی تشریح : آیت نمبر 35 تا 39 سورئہ ہود کی ان آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں ان آیات کا رخ نبی کریم ﷺ کی طرف موڑ کر کفار مکہ کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ آج اگر تم نبی کریم ﷺ پر بہت سے اعتراضات کر رہے ہو۔ ان کا مذاق اڑا رہے ہو اور کہتے ہو کہ اس قرآن کریم کو انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

آنحضرت ﷺ پر قرآن مجید نازل ہوا تو کفار مکہ کہنے لگے :'' یہ قرآن انہوں نے اپنے دل سے گھڑ لیا ہے، خدا نے نہیں اتارا ہے ''۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو بتلایا کہ ان سے کہو کہ یہ قرآن اگر ہم خود بناکر کہتے ہیں تو اس کا جرم ہم پر ہے اور تم جو جھٹلاتے ہو تو اس سے بھی میں بری ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 34–36

غوایت سے مراد ہلاکت ہے ! (ف 1) (آیت) ” ان کان اللہ یرید “۔ الخ یعنی اگر اللہ کے علم میں یہ حقیقت پہلے سے موجود ہے کہ تم بالآخر گمراہی کو ترجیح دو کے ، اور ہدایت کو قبول نہیں کرو گے ، تو بتاؤ کہ تمہاری گمراہی کو ہدایت سے کون بدل سکتا ہے ۔ (آیت) ” یغویکم “۔ کے معنی ہلاکت کے بھی ہو سکتے ہیں اور ادب عربی میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ قرآن میں ان معنوں کی تائید کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ، (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ ظاہر ہے یہاں گمراہی مراد نہیں ، گمراہی کی عقوبت یا عذاب مراد ہے ، علامہ ابن جریر (رح) فرماتے ہیں ، (آیت) ” من یغویکم یھلکم بعذابہ “۔ بنی طے کا استعمال یہ ہے کہ مریض کو غاوی کہتے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

35 کیا کفار مکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم پیغمبر نے گھڑ لیا ہے آپ ان سے فرما دیجئے اگر اس قرآن کو میں نے خود بنالیا ہے اور می نے خود گھڑ لیا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہی واقع ہوگا اور میں ان جرائم سے جن کے تم مرتکب ہو بری الذمہ ہوں یعنی یہ تو کوئی ایسی بات نہیں اگر میں اپنی من گھڑت کو خد کی طرف منسوب کروں گا تو میں ذمہ دار ہوں گا اور تم بلا وجہ سچ کو جھوٹ کہو گے تو تم ذمہ دار میں تمہارے گناہوں سے بری الذمہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضر ت نوح (علیہ السلام) کتاب نہ لائے تھے جو ان کی قوم ان سے ایسی بات کہتی 12 خلاصہ ! یہ کہ رکوع کی آخری آیت کا تعلق نبی کریم ﷺ کی قوم سے ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 35–36

ف 3۔ یہ اخیر درجہ کا جواب ہے اور اصل جواب وہ ہے کہ اس افتراء کا افتراء ہونا ثابت کردیا جائے جیسا کہ اسی سورت کے دوسرے رکوع میں جواب دیا ہے۔ قل فاتوبعشر سورمثلہ۔ لیکن جو شخص دلیل میں نہ قدح کرسکے اور نہ تسلیم کرے اخیر درجہ میں یہی کہا جاتا ہے کہ خیر بھائی جیسا میں نے کیا ہوگا بھگتوں گا جیسا کہ تم کررہے ہو تم بھگتو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

50 ؎ یہ پیغام نوح (علیہ السلام) کو دیا گیا تھا لیکن محمد رسول اللہ ﷺ کو بھی بعینہٖ یہی پیغام دیا گیا ہے کہ اگر یہ کلام اور یہ پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ میں نے خود گھڑ کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا ہے تو یہ جرم میرا ہے ، اس کی سزا تمہیں نہیں دی جائے گی لیکن کان کھول کر سن لو کہ یہ پیغام فی الواقع اللہ تعالیٰ کا ہے اور اس کا انکار کر کے جو جرم تم کر رہے ہو وہ معاف کیا جائے گا اور نہ اسے فراموش کیا جائے گا اس کی سزا تمہیں بھگتنی ہوگی لہٰذا تم اس سزا کیلئے تیار ہو جائو ۔ ہم نے اس پیغام کو تو نوح (علیہ السلام) کی طرف ہی وحی کیا گیا تسلیم کیا ہے اگرچہ سارے انبیاء (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 32–35

Fourthly, it was stated: In your sight these poor people may appear lowly and disgraceful. But, I cannot say as you say that Allah Ta'ala will not bless them with what is good, because good relates to one's heart, not wealth, and only Allah knows the secrets of hearts and He knows whose heart is worthy of receiving good and whose heart is not. Then, it was said: If I too were to start calling them lowly and disgraceful, I too would become unjust.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–36

39. The context seems to suggest how the opponents reacted to the narration of Noah's story. It seems they would have objected to it on the grounds that the true purpose of narrating Noah's story was to show how it was applicable to the unbelievers. They presumably pointed out that the Prophet (peace be on him) had invented such stories merely to ridicule and disgrace them; that these stories were merely a means whereby he could malign them. The main theme of the discourse has been interrupted here in order to respond to this objection. Petty people are apt to misinterpret things. Their…

Read the full tafseer →