Explained with ayahs 32–34
قوم نوح کی عجلت پسندی کی حماقت
قوم نوح کی عجلت بیان ہو رہی ہے کہ عذاب مانگ بیٹھے۔ کہنے لگے بس حجتیں تو ہم نے بہت سی سن لیں۔ آخری فیصلہ ہمارا یہ ہے کہ ہم تو تیری تابعداری نہیں کرنے کے اب اگر تو سچا ہے تو دعا کر کے ہم پر عذاب لے آؤ۔ آپ نے جواب دیا کہ یہ بھی میرے بس کی بات نہیں اللہ کے ہاتھ ہے۔ اسے کوئی عاجز کرنے والا نہیں اگر اللہ کا ارادہ ہی تمہاری گمراہی اور بربادی کا ہے تو پھر واقعی میری نصیحت بےسود ہے۔ سب کا مالک اللہ ہی ہے تمام کاموں کی تکمیل اسی کے ہاتھ ہے۔ متصرف، حاکم، عادل، غیر ظالم، فیصلوں کے امر کا مالک، ابتداء پیدا کرنے والا، پھر لوٹانے والا، دنیا و آخرت کا تنہا مالک وہی ہے۔ ساری…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 38
یعنی اگر اللہ نے تمہاری ہٹ دھرمی، شرپسندی اور خیر سے بےرغبتی دیکھ کر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ تمہیں راست روی کی توفیق نہ دے اور جن راہوں میں تم خود بھٹکنا چاہتے ہو انہی میں تم کو بھٹکا دے تو اب تمہاری بھلائی کے لیے میری کوئی کوشش کارگر نہیں ہو سکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی کہ تمہاری نظریں جن غریب بےسرمایہ لوگوں کو حقیر و ذلیل دکھتی ہیں میں تمہاری طرح یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو کوئی خیر اور بھلائی نہ دے گا کیونکہ خیر اور بھلائی کا تعلق مال و دولت سے نہیں بلکہ انسان کے قلب سے ہے اور دلوں کا حال اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں کہ کسی کا قلب خیر و صلاح کے قابل ہے کس کا نہیں۔
پھر فرمایا کہ اگر میں بھی تمہاری طرح ان کو حقیر و ذلیل کہنے لگوں تو میں بھی ظالم ہوجاؤں گا۔
Read the full tafseer →وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ ۭ هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ۔ دعوت و نصیحت اور تذکیر و موعظت کا آخری مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ رسول اپنا فرض ادا کر کے اپنی سبکدوشی کا اعلان کرتا ہے اور اپنے جھٹلانے والوں کو ان کے اس انجام کے حوالے کرتا ہے جو ان کے لیے خدا کی طرف سے مقدر ہوچکا ہوتا ہے۔ یہ بات حضرت نوح ؑ نے اسی مرحلہ میں فرمائی ہے کہ اب تم خدا کے قانون کی زد میں آ چکے ہو اور اپنے اعمال کے سبب سے سزاوار ہو لہذا تمہیں گمراہی کی راہ پر جانے کے لیے چھوڑ دے تو میں لاکھ تمہیں نصیحت و موعظت سناؤں میری نصیحت و موعظت…
Read the full tafseer →34۔ 1 اغواء بمعنی اضلال (گمراہ کرنا ہے)۔ یعنی تمہارا کفر وجحود اگر اس مقام پر پہنچ چکا ہے، جہاں سے کسی انسان کو پلٹ کر آنا اور ہدایت کو اپنا لینا ناممکن ہے، تو اسی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر لگا دینا کہا جاتا ہے، جس کے بعد ہدایت کی کوئی امید باقی نہیں رہ جاتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم بھی اسی خطرناک موڑ تک پہنچ چکے ہو تو پھر میں تمہاری خیر خواہی بھی کرنی چاہوں یعنی ہدایت پر لانے کی اور زیادہ کوشش کروں، تو یہ کوشش اور خیر خواہی تمہارے لئے مفید نہیں، کیونکہ تم گمراہی کے آخری مقام پر پہنچ چکے ہو۔
34۔ 2 ہدایت اور گمراہی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، جہاں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
16: یہ اس جاہلانہ خیال کی تردید ہے کہ اللہ کے کسی پیغمبر یا مقرب بندے کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں، اور اسے غیب کی ساری باتوں کا علم ہونا چاہیے۔ حضرت نوح ؑ نے واضح فرما دیا کہ کسی نبی یا اللہ کے کسی ولی کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کے خزانے لوگوں میں تقسیم کرے، یا غیب کی ہر بات بتائے۔ اس کا مقصد تو لوگوں کے عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس کی ساری تعلیمات اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں۔ لہذا اس سے اس قسم کی توقعات رکھنا نری جہالت ہے۔ اس طرح اس آیت میں ان لوگوں کی ہدایت کا بڑا سامان ہے جو بزرگوں کے پاس اپنے دنیوی مقاصد کے لیے جاتے ہیں۔ اور انہیں دنیوی اور تکوینی امور میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح کا رد عمل کیا ہے ؟ یہ تکذیب اور یہ معاندانہ چیلنج ان کو ایک دینی اور رسول کریم کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتا۔ وہ حق اور صداقت کی تبلیغ سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتے۔ وہ مسلسل ان کے سامنے وہ سچائی پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، بھلایا ہوا سبق یاد کراتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا رویہ بہت ہی جاہلانہ ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لے آئیے وہ عذاب ! آپ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیو ! میں تو فقط رسول ہوں اور میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پیغام تم تک پہنچا دوں۔ رہا عذاب الہی تو وہ امر الہی کے تابع ہے اور تمام امور کی تدبیر تو اللہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے کہ عذاب جلدی لے آئے یا…
Read the full tafseer →1 یعنی کفر پر اس قدر اصرار و ضد اور انتہائی شوخ چشمی سے نزول عذاب کی استدعاء پتہ دیتی ہے کہ خدا کا ارادہ یہ ہی ہے کہ تم کو گمراہی میں پڑا رہنے دے اور آخرکار ہلاک کر دے۔ پس اگر تمہاری بد کرداری کے سبب سے خدا نے یہ ہی چاہا تو میں کتنا ہی نصیحت و خیر خواہی کر کے تم کو نفع پہنچانا چاہوں، کچھ نافع اور موثر نہ ہوگا۔ تمہارا رب وہ ہی ہے جس کے ملک و تصرف میں ہر چیز ہے جیسا جس کے ساتھ معاملہ کرے، کوئی روک نہیں سکتا۔ سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہ ہی سب کے اعمال کی جزاء و سزا دینے والا ہے (ربط) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یہاں تک جتنے سوالات و اعتراضات اس قوم کے تھے، وہ ہی تھے حضرت کی قوم کے۔ گویا یہ…
Read the full tafseer →آیت 34 وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَان اللّٰهُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ
اگر تمہاری اس خواہ مخواہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث اللہ نے تمہاری گمراہی کے فیصلے پر مہر ثبت کردی ہو تو پھر میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے حق میں کچھ بھی مفید نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →41 البتہ تمہارے عذاب پر اصرار اور ہٹ دھرمی سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ تم پر وہ عذاب آکر رہے گا اور میں تمہاری کتنی ہی خیر خواہی کرنا چاہوں اس کا کچھ فائدہ ہوتا نظر نہیں آرہا۔ پھر یہ معاملہ یہیں تک محدود نہ رہے گا کہ اللہ کا عذاب تمہیں ہلاک کردے بلکہ آخرت میں بھی اللہ تم سب کو حاضر کرکے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دے گا۔
Read the full tafseer →48۔ (تمہارے عناد و استکبار کی بناء پر) (آیت) ” ان کان اللہ “۔ اللہ کا ذکر یہاں بہ حیثیت تکوینی علت العلل یا مسبب الاسباب کے ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ارشاد کا مطلب یہ ہوا کہ جب اپنی بدقسمتی سے تم خود ہی اپنے لئے نفع حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا نہ چاہو تو میرے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ہدایت شیخ کے قبضہ میں نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…
Read the full tafseer →ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم اور اگر تم کو گمراہ کرنا چاہے اور میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں تو میری نصیحت تمہارے لئے کچھ سودمند نہ ہوگی۔
اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ گمراہ کرنے کا تعلق بھی اللہ کی مشیت سے ہے اور مشیت الٰہیہ کے خلاف واقع ہونا ناممکن ہے (اگرچہ حکم خدا کے خلاف واقع ہونا ممکن ہے بلکہ کثرت نافرمانیاں کی جاتی ہیں) یا یُغْوِیَکُمْ کے معنی ہیں یُھْلِکُمْ یعنی اللہ اگر تم کو ہلاک کرنا ہی چاہتا ہے تو میری نصیحت تمہارے لئے مفید نہ ہوگی (اور تم ہلاکت سے نہ بچ سکو گے) اس وقت یہ لفظ غوی الفصیلْ سے ماخوذ ہوگا (غوی الفصیل اونٹ کا بچہ ہلاک ہوگیا)
ھو ربکم وہی…
Read the full tafseer →(34) اور میری دعوت اور میرا عذاب الہی سے تمہیں ڈرانا تمہارے کام نہیں آسکتا، خواہ میں تمہیں کیسا ہی عذاب الہی سے ڈراؤں اور توحید کی دعوت دوں جب کہ اللہ ہی کو تمہارا گمراہ کرنا منظور ہو۔
وہی مجھ سے زیادہ تمہارا خیرخواہ اور تمہارا مالک ہے اور مرنے کے بعد تمہیں اسی تمہیں کی طرف لوٹ جانا ہے وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
نوح ؑ نے جواب میں کسی تلخی کا مظاہرہ نہیں کیا، بلکہ اپنی اور اللہ تعالیٰ کی حیثیت واضح فرمائی کہ عذاب لانا یا نہ لانا میرا کام نہیں، یہ تو اللہ کا اختیار ہے۔ وہ اگر چاہے گا تو تم پر عذاب لے آئے گا، پھر تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نکل نہیں سکو گے اور جس طرح کائنات کا ایک ذرہ بھی اللہ کی مرضی کے بغیر حرکت یا سکون میں نہیں آسکتا، انسان ہدایت اور گمراہی کی ایک حد تک اختیار رکھنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے ارادے اور اس کی توفیق کے بغیر پیغمبر کی خیر خواہی اور نصیحت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
آیت نمبر 32 تا 35
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : قالوایٰنوح قدجٰدلتنافاکثرت جدالنا یعنی تو نے ہمارے ساتھ جھگڑے کو طول دیا اور اس میں مبالغہ کیا۔ جدل کلام عرب میں جھگڑے میں مبالغہ کے لیے (استعمال ہوتا) ہے۔ الجدل سے مشتق ہے اور یہ رسی کو مضبوطی سے بنانا (بٹنا) ہے۔ شکرے کو بھی اجدل کہا جاتا ہے اڑنے میں اس کی سختی کی وجہ سے۔ یہ معنی سورة الانعام میں اس سے زیادہ واضح طریقے سے گزرچکا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فاکثرت جدالناپڑھا ہے، نحاس نے اس کو ذکر کیا۔ دین میں جدال کرنا محمود ہے اسی وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء (علیہم السلام) نے اپنی قوموں سے جدال کیا یہاں تک حق غالب ہوجائے پس جس نے اس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو…
Read the full tafseer →وَلَا يَنْفَعُكُمْ [ اور نفع نہیں دے گی تم کو ] نُصْحِيْٓ [ میری خیر خواہی ] اِنْ [ اگر ] اَرَدْتُّ [ میں ارادہ کروں ] اَنْ [ کہ ] اَنْصَحَ [ میں خیرخواہی کروں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] اِنْ [ اگر (یعنی جبکہ ) ] كَانَ [ ہو ] اللّٰهُ [ اللہ ] يُرِيْدُ [ (کہ ) وہ ارادہ رکھتا ہو ] اَنْ [ کہ ] يُّغْوِيَكُمْ ۭ [ وہ گمراہ کرے تم کو ] هُوَ [ وہ ] رَبُّكُمْ ۣ [ تمہارا رب ہے ] وَاِلَيْهِ [ اور اس کی طرف ہی ] تُرْجَعُوْنَ [ تم لوگ لوٹائے جاؤ گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
قوم کا مزید عناد اور عذاب کا مطالبہ ‘ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کا جواب
حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سو سال اپنی قوم میں رہے اور انہیں سمجھاتے رہے۔ خوب سمجھایا اور بہت سمجھایا آپ جیسے جیسے ان کو سمجھاتے تھے وہ ضدو عناد میں آگے بڑھتے چلے جاتے تھے کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے۔ کپڑے اوڑھ لیتے تھے تاکہ آپ کی آواز کانوں میں نہ پڑے ‘ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ تم ہم سے بہت جھگڑ لیے اور بہت زیادہ جھگڑا کرچکے جھگڑا بھی کرتے ہو اور یوں بھی کہتے ہو کہ تم نے توحید کو قبول نہ کیا اور شرک چھوڑ کر تنہا اللہ تعالیٰ کی عبادت میں نہ لگے تو عذاب آجائے گا اب بات یہ ہے کہ جھگڑے چھوڑو عذاب ہی بلا لو اگر تم سچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او
قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔
اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34: میں تو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں لیکن اگر تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں پر مہر جباریت لگا دے اور تمہیں توفیق ہدایت سے محرم کردے تو میری خیر خواہی سے تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰہُ شکوی ہے۔ قُلْ اِنِ افْتَرَیْتُہٗ فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ جواب شکوی ہے اگر میں نے اللہ پر افتراء کیا ہے تو اس کی سزا مجھے ملے گی مگر یہ میرا افتراء کرنا تو غلط ہے اس لیے میری طرف افتراء علی اللہ کی نسبت کرنے کا جرم تم پر ثابت ہے جس کی تم ضرور سزا پاؤ گے۔ (اِنِ افْتَرَیْتہُہٗ ) ای اختلقتہ وافتلتہ یعنی الوحی والرسالۃ (فَعَلَیَّ اِجْرَامِیْ ) ای عقاب اجرامی و ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ربط آیات
ان دو رکوعات میں حضرت نوع (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں ، تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اگر ایسا کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہے کہ کہیں تم دردناک دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو۔ قوم نے آپ کی نصیحت کو قبول نہ کیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو ، تمہاری اتباع کرنے والے ہمارے کمی کمین لوگ ہی ، جنہیں کوئی برتری حاصل نہیں ، لہٰذا ان کی موجودگی میں ہم تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوگو ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے صحیح راستے پر ہوں ، اللہ نے مجھے اپنی…
Read the full tafseer →وَلَا يَنْفَعُكُمْ نُصْحِيْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَكُمْ اِنْ كَانَ اللہُ يُرِيْدُ اَنْ يُّغْوِيَكُمْ 0ۭ ہُوَرَبُّكُمْ 0ۣ وَاِلَيْہِ تُرْجَعُوْنَ 34ۭ
نفع
النَّفْعُ : ما يُسْتَعَانُ به في الوُصُولِ إلى الخَيْرَاتِ ، وما يُتَوَصَّلُ به إلى الخَيْرِ فهو خَيْرٌ ، فَالنَّفْعُ خَيْرٌ ، وضِدُّهُ الضُّرُّ. قال تعالی: وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً [ الفرقان/ 3]
( نع ) النفع
ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے خیرات تک رسائی کے لئے استعانت حاصل کی جائے یا وسیلہ بنایا جائے پس نفع خیر کا نام ہے اور اس کی ضد ضر ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ وَلا يَمْلِكُونَ لِأَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَلا نَفْعاً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَلاَ یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْ ٓاِنْ اََرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغُوِیَکُمْ ط ھُوَرَبُّکُمْ قف وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 34)
(اور نہیں نفع دے گی تمہیں میری خیرخواہی۔ اگرچہ میں ارادہ کروں تمہاری خیرخواہی کا۔ اگر اللہ تم کو گمراہ کرنا چاہتا ہے، وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو لوٹنا ہے۔ )
گزشتہ آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے تمام اعتراضات کا جواب پا کر نصیحت حاصل کرنے کی بجائے جو معاندانہ اور مخاصمانہ رویہ اختیار کیا اسے دیکھتے ہوئے اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کی طرف سے مایوس ہو کر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کے حکیمانہ جوابات کا قوم کی طرف سے بدترین ردِّعمل۔
حضرات ! کفار اور مشرکین کے مزاج کا اندازہ لگائیں کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی دعوت کس قدر ناصحانہ اور ان کا انداز کتنا حکیمانہ ہے۔ لیکن ان کے مخالف کتنے کج فہم اور منفی سوچ کے حامل لوگ تھے کہ انہوں نے دعوت توحید اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی مخلصانہ اور طویل ترین جدوجہد کو بحث و تکرار اور ایک جھگڑے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں دی۔ ایسے لوگوں کا شروع سے یہ مزاج ہے کہ یہ دین کے بنیادی مسائل کو بھی علماء کا باہمی جھگڑا قرار دے کر اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ جس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ سوچ کا یہی…
Read the full tafseer →34: وَ لَایَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْ (اور تمہیں میری نصیحت فائدہ نہ دے گی) اس میں گمراہی کے مقام کی نشاندہی کی گئی تاکہ اس سے بچا جائے اور رشد کی راہنمائی کی گئی تاکہ اسکی پیروی کی جائے
قراءت : ابو عمرو اور مدنی نے ولکنّیَ ، اِنیَ نُصْحِیَ پڑھا ہے۔
اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَکُمْ اِنْ کَانَ اللّٰہُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْ ۔ (اگرچہ میں تمہاری خیر خواہی کا ارادہ کروں اگر اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے گمراہ کرنے کا ہو) یغویکمکا معنی گمراہ کرنا ہے۔
یہ شرط شرط پر داخل ہے۔ پس دوسری شرط حکم میں مقدم ہوگی جیسا کہ معروف و معلوم ہے تقدیر عبارت یہ ہے ان کان یرید ان یغویکم لاینفعکم نصحی ان اردت ان انصح…
Read the full tafseer →34۔” ولا ینفعکم نصحی “ میری نصیحت ” ان ارادت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان بغویکم ھو ربکم “ اسی کے لئے حکم اور معاملہ ہے ۔ ” والیہ ترجعون ” پس تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
32۔ 34۔ جب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ہر ایک سوال کا پورا جواب پایا تو کہنے لگے کہ اے نوح ہم تم سے ہر طرح بحث کر کے تھک گئے کوئی حجت ہماری پیش نہ چلی اب لو جس عذاب کا تم ہم کو خوف دلاتے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب نازل کراؤ اس کا جواب نوح (علیہ السلام) نے دیا کہ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے خدا کے ہاتھ ہے اگر وہ عذاب جلدی بھیجنا چاہے گا تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور اگر اس کی حکمت دیر کی مقتضی ہے تو دیر میں نازل ہوگا اگر تم چاہو کہ ہم بچ جائیں سو یہ بخیر ہے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ تم یا اور کوئی اس کو عاجز کر دے یا تم کہیں بھاگ کر چلے جاؤ اور بچ جاؤ اور میری نصیحت بھی تم کو کچھ فائدہ مند…
Read the full tafseer →(ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم) ” اور انہیں نفع دے گی تم کو میری نصیحت، اگر میں تم کو نصیحت کرنا چاہوں، اگر اللہ کا ارادہ تمہیں گمراہ کرنے کا ہو، یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارادہ غالب ہے، کیونکہ اگر وہ تمہیں تمہارے حق کو ٹھکرادینے کی پاداش میں گمراہ کردے اور خواہ میں پوری کوشش کے ساتھ تمہاری خیر خواہی کروں۔۔۔۔۔۔ اور جناب نوح (علیہ السلام) نے ایسا کیا بھی۔۔۔۔۔۔ تب بھی میری یہ کوشش تمہیں کوئی فائدہ نہ دے گی۔ (ھو ربکم) ” وہ تمہارا رب ہے “ تمہارے ساتھ وہی کچھ کرتا ہے جو وہ چاہتا ہے (والیہ ترجعون) ” اور اسی کی طر فتم لوٹائے جاؤ گے “ پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قول باری ہے ولا ینفعکم نصحی ان اردتا انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم ۔ اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا ہو ۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جملہ شرطیہ میں شرط اور جزاء کے درمیان آ جانے والی شرط کا یہ حکم ہے کہ وہ معنی کے لحاظ سے اپنے ما قبل پر مقدم ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص یہ کہتا ہے ۔ ان دخلت الدار ان کلمت زیدا ً فعبدی حر ۔ اگر میں گھر میں داخل ہوجائوں ، اگر زید سے کلام کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ شخص اس وقت حانث ہوگا جب زید سے کلام کرے گا اور پھر گھر میں داخل ہوگا اس لیے کہ…
Read the full tafseer →85 ۔ سب کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میری نصیحت سے تم لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکے گا خواہ میں کتنی ہی کوشش کروں اگر اللہ تم لوگوں کو گمراہ کرنا چاہے۔ وہی رب ہے تم سب کا اور اسی کی طرف بہرحال لوٹ کر جانا ہے تم سب نے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ ہدایت وغوایت اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ اس کا دارومدار انسان کے قلب و باطن پر ہے۔ پس بدباطنی اور سوء اختیار محرومیوں کی محرومی اور تمام مفاسد کی جڑ بنیاد ہے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی کیفیت کو پوری طرح جانتا ہے اور وہ نور ہدایت سے انہی لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیات 25 تا 35
اسرار و معارف
بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔
بشریت ونبوت
مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
ف 1 ۔ کہ میں اللہ کا رسول ﷺ ہوں اور اس نے یہ یہ احکام مجھئے دئیے ہیں۔
Read the full tafseer →(11:34) یغویکم۔ مضارع منصوب۔ واحد مذکر غائب۔ اغواء (افعال) مصدر ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو کج راہ چھوڑ دے۔ وہ تمہیں گمراہ رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 34
خزائن (خزانے) تزدری (تم حقیر، ذلیل سمجھتے ہو) اعین (عین) آنکھیں لن یوتی (وہ ہرگز نہ دے گا) انفس (نفس) ، جانیں) جادلت (تو جھگڑ چکا) جدال (جدل) جھگڑے ، بحثیں معجزین (عاجز کرنے والا، بےبس کرنے والا) نصحی (میری نصیحت) یغوی (وہ بھٹکاتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 34
گزشتہ آیات میں حضرت نوح کا واقعہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ایک طویل عرصہ تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش فرمائی ۔ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو چالیس سال کی عمر میں خلعت نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت سے لے کر ساڑھے نو سو سال تک آپ مسلسل دین اسلام کی وضاحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اپنے ہر ایک سوال کا پورا جواب پایا تو کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ہم تم سے ہر طرح بحث کرکے تھک گئے، کوئی حجت ہماری پیش نہ چلی، اب تو جس عذاب کا تم ہم کو خوف دلاتے ہو اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب نازل کراؤ۔ اس کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے دیا کہ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے، خدا کے ہاتھ ہے۔ اگر وہ عذاب جلدی بھیجنا چاہے گا تو کوئی اس کو روک نہیں سکتا اور اگر اس کی حکمت دیر کی مقتضی ہے تو دیر میں نازل ہوگا۔ اگر تم چاہو کہ ہم بچ جائیں سو یہ بخیر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ تم یا اور کوئی اس کو عاجز کردے، یا تم کہیں بھاگ کر چلے جاؤ اور بچ جاؤ۔ اور میری نصیحت…
Read the full tafseer →[19] یعنی تمہاری ہٹ دھرمی، سرکشی اور نیکی و بھلائی سے بےرغبتی کی بنا پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
غوایت سے مراد ہلاکت ہے !
(ف 1) (آیت) ” ان کان اللہ یرید “۔ الخ یعنی اگر اللہ کے علم میں یہ حقیقت پہلے سے موجود ہے کہ تم بالآخر گمراہی کو ترجیح دو کے ، اور ہدایت کو قبول نہیں کرو گے ، تو بتاؤ کہ تمہاری گمراہی کو ہدایت سے کون بدل سکتا ہے ۔
(آیت) ” یغویکم “۔ کے معنی ہلاکت کے بھی ہو سکتے ہیں اور ادب عربی میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ قرآن میں ان معنوں کی تائید کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ، (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ ظاہر ہے یہاں گمراہی مراد نہیں ، گمراہی کی عقوبت یا عذاب مراد ہے ، علامہ ابن جریر (رح) فرماتے ہیں ، (آیت) ” من یغویکم یھلکم بعذابہ “۔ بنی طے کا استعمال یہ ہے کہ مریض کو غاوی کہتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →34 اور میں خواہ تمہاری کتنی ہی خیر خواہی کروں میری خیر خواہی تم کو نفع نہیں پہونچا سکتی اگر اللہ ہی کو یہ منظور ہو کہ وہ تم کو بےراہ رکھے وہی تمہارا مالک ہے اور تم سب کی اسی کی طرف بازگشت ہے کسی کی خیر خواہی اور نصیحت جب ہی نافع ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی شامل حال ہو تمہاری نافرمانیوں کے باعث اگر حضرت حق کو تمہاری راہ روی اور ہدایت منظور نہ ہو تو کوئی کیا کرسکتا ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہاں تک جتنے جواب سوال اس قوم کے تھے وہی تھے حضرت کی قوم کے گویا یہ سب جواب ان کو ملے ایک ان کا نیا دعویٰ تھا وہ آگے فرمایا 12
Read the full tafseer →ف 2۔ مطلب یہ کہ جب تم ہی اپنی بدقسمتی سے اپنے لیے نفع حاصل کرنا اور نقصان سے بچنا نہ چاہو تو میرے چاہنے سے کیا۔
Read the full tafseer →مشیت الٰہی کا فیصلہ تم کو تباہ کرنے کا ہو تو میں کون ہوں جو تم کو بچا سکوں
49 ؎ اللہ تعالیٰ کی رضا کسی کو گمراہ کرنے یا تباہ و برباد کرنے کی نہیں ہوتی لیکن جب انسان اپنے ارادہ و اختیار سے جو اللہ نے اس کو دیا ہے خود ہی گمراہ ہونے کی کوشش کرے اور راہ راست کی طرف نہ آئے تو مشیت الٰہی میں یہ قانون طے ہے کہ مخالفین و معاندین کو ایک قوت تک ڈھیل دینے کے بعد ان کی باگیں کھینچ لی جائیں اور پھر جب مشیت الٰہی کا وہ فیصلہ نافذ ہوجائے تو کوئی ماں کا لال اس فیصلہ کو روک نہیں سکتا ۔ یہی بات نوح (علیہ السلام) نے بیان فرمائی کہ اے میرے قوم ! اگر اللہ نے تمہاری ہٹ دھرمی ، شرپسندی اور خیر سے بےرغبتی دیکھ کر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
Fourthly, it was stated: In your sight these poor people may appear lowly and disgraceful. But, I cannot say as you say that Allah Ta'ala will not bless them with what is good, because good relates to one's heart, not wealth, and only Allah knows the secrets of hearts and He knows whose heart is worthy of receiving good and whose heart is not.
Then, it was said: If I too were to start calling them lowly and disgraceful, I too would become unjust.
Read the full tafseer →38. Such was their obduracy, mischievousness and absolute disregard for righteous behaviour that quite understandably God should decide not to direct them to the right way and instead let them, as they wished, stumble in error. Once God had made such a decision no one's effort to direct them to the right way - not even the Prophet's - could be of any avail.
Read the full tafseer →