Explained with ayahs 36–39
قوم نوح کا مانگا ہوا عذاب اسے ملا
قوم نوح نے جب عذابوں کی مانگ جلدی مچائی تو آپ نے اللہ سے دعا کی الٰہی زمین پر کسی کافر کو رہتا بستا نہ چھوڑ۔ پروردگار میں عاجز آگیا ہوں، تو میری مدد کر۔ اسی وقت وحی آئی کہ جو ایمان لاچکے ہیں ان کے سوا اور کوئی اب ایمان نہ لائے گا تو ان پر افسوس نہ کر نہ ان کا کوئی ایسا خاص خیال کر۔ ہمارے دیکھتے ہی ہماری تعلیم کے مطابق ایک کشتی تیار کر اور اب ظالموں کے بارے میں ہم سے کوئی بات چیت نہ کر، ہم ان کا ڈبو دینا مقرر کرچکے ہیں۔ بعض سلف کہتے ہیں حکم ہوا کہ لکڑیاں کاٹ کر سکھا کر تختے بنالو۔ اس میں ایک سو سال گزر گئے پھر مکمل تیاری میں سو سال اور نکل گئے ایک قول ہے چالیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
سورة هُوْد 39
انداز کلام سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کی زبان سے حضرت نوح ؑ کا یہ قصہ سنتے ہوئے مخالفین نے اعتراض کیا ہوگا کہ محمد ﷺ یہ قصے بنا بنا کر اس لیے پیش کرتا ہے کہ انہیں ہم پر چسپاں کرے۔ جو چوٹیں وہ ہم پر براہ راست نہیں کرنا چاہتا ان کے لیے ایک قصہ گھڑتا ہے اور اس طرح ”در حدیث دیگراں“ کے انداز میں ہم پر چوٹ کرتا ہے۔ لہٰذا سلسلہ کلام توڑ کر ان کے اعتراض کا جواب اس فقرے میں دیا گیا۔
واقعہ یہ ہے کہ گھٹیا قسم کے لوگوں کا ذہن ہمیشہ بات کے برے پہلو کی طرف جایا کرتا ہے اور اچھائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کہ بات کے اچھے پہلو پر ان کی نظر جاسکے۔ ایک شخص نے اگر کوئی حکمت کی بات کہی ہے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (جب نصیحت کرتے ہوئے ایک زمانہ دراز گزر گیا اور کچھ اثر نہ ہوا تو) نوح ؑ کے پاس وحی بھیجی گئی کہ سوا ان کے جو (اس وقت تک) ایمان لاچکے ہیں اور کوئی (نیا) شخص تمہاری قوم میں سے ایمان نہ لاوے گا سو جو کچھ یہ لوگ (کفر و ایذاء و استہزاء) کر رہے ہیں اس پر کچھ غم نہ کرو (کیونکہ غم تو خلاف توقع سے ہوتا ہے جب ان سے مخالفت کے سوا کوئی اور توقع ہی نہیں پھر کیوں غم کیا جاوے) اور (چونکہ ہمارا ارادہ اب ان کو غرق کرنے کا اور اس لئے طوفان آنے کو ہے پس) تم (اس طوفان سے بچنے کے لئے) ہماری نگرانی میں اور ہمارے حکم سے کشتی تیار کرلو (کہ اس کے ذریعہ سے طوفان سے تم اور مؤمنین محفوظ رہو گے) اور (مجھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37۔ وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ۔ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ۔ مذکورہ بالا اعلانِ براءت کے بعد حضرت نوح کو وحی کے ذریعہ سے اطلاع دے دی گئی کہ تمہاری قوم میں جن لوگوں کے اندر تمہاری دعوت ایمان قبول کرنے کی صلاحیت تھی وہ ایمان لا چکے، اب کوئی اور ایمان لانے والا باقی نہیں رہا ہے۔ دودھ میں جتنا مکھن تھا وہ سب نکالا جا چکا ہے، اب جو بچ رہا ہے، وہ صرف چھاچھ ہے، تو تم خاطر جمع رکھو، یہ جو کچھ اب تک کرتے رہے…
Read the full tafseer →36۔ 1 یہ اس وقت کہا گیا کہ جب قوم نوح ؑ نے عذاب کا مطالبہ کیا اور حضرت نوح ؑ نے بارگاہ الٰہی میں دعا کی کہ یا رب ! زمین پر ایک کافر بھی بسنے والا نہ رہنے دے۔ اللہ نے فرمایا، اب مزید کوئی ایمان نہیں لائے گا، تو ان پر غم نہ کھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
17: حضرت نوح ؑ کے واقعے کے درمیان یہ آیت جملہ معترضہ کے طور پر آئی ہے۔ توجہ اس طرف دلائی گئی ہے کہ حضرت نوح ؑ کا یہ واقعہ جس تفصیل کے ساتھ آنحضرت ﷺ بیان فرما رہے ہیں، اسے معلوم کرنے کا آپ کے پاس کوئی ذریعہ وحی کے سوا نہیں ہے، اور جس انداز و اسلوب میں وہ بیان ہورہا ہے، وہ من گھڑت نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس کے باوجود کفار عرب کا انکار کرنا محض ہٹ دھرمی پر مبنی ہے۔
Read the full tafseer →اب قصہ نوح دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح اب اپنے رب کی طرف سے ہدایات پاتے ہیں اور احکام الہی یوں وارد ہیں :
وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ : " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ "
جو دل ایمان لانے کے لیے آمادہ تھے وہ ایمان لاچکے ، جو رہ گئے ان کے اندر ایمان لانے کی استعداد باقی نہیں رہی ہے۔ نہ وہ اس طرف کوئی رجحان رکھتے ہیں۔ یہ تھی اللہ کی جانب سے حضرت نوح کو آخری اطلاع اور یہ اللہ کی جانب سے تھی اور اللہ تو علیم ہے۔ لہذا اب دعوتی مہم جاری…
Read the full tafseer →4 جب قوم کی ایذائیں حد سے گزر گئیں، تو نوح (علیہ السلام) نے سینکڑوں برس ظالموں کی زہرہ گداز جفائیں جھیلنے کے بعد خدا کے آگے شکوہ کیا (فَدَعَا رَبَّهٗٓ اَنِّىْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ ) 54 ۔ القمر :10) کہ میں مغلوب و ضعیف ہوں۔ آپ ان سے بدلہ لیجئے۔ ارشاد ہوا کہ جن گنے چنے افراد کی قسمت میں ایمان لانا تھا، لا چکے۔ آئندہ ان میں کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ لہذا اب آپ ان کی عداوت تکذیب اور ایذاء رسانی سے زیادہ غمگین نہ رہیں۔ عنقریب خدا کی شمشیر انتقام بےنیام ہونے والی ہے جو سب شرارتوں اور شریروں کا خاتمہ کر ڈالے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
آیت 35 اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ ۭ قُلْ اِنِ افْتَرَيْتُهٗ فَعَلَيَّ اِجْرَامِيْ وَاَنَا بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُجْرِمُوْنَ
یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح کے ذکر کے درمیان آگیا ہے۔ اس میں رسول اللہ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! یہ تمام باتیں جو ہم آپ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں ‘ جیسے حضرت نوح اور آپ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی ‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپ ان پر واضح کردیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف…
Read the full tafseer →43 عذاب صرف گندے عنصر پر آتا ہے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کی دعوت اور قوم کے انکار کے نتیجہ میں عذاب اس وقت تک نہیں آتا جب تک اس میں کچھ بھلے آدمیوں کے نکل آنے کا امکان باقی ہو اور جب ایمان لانے والے ایمان لاچکتے ہیں اور باقی صرف گندہ عنصر ہی رہ جاتا ہے تو یہی عین عذاب کا وقت ہوتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورة نوح میں سیدنا نوح (علیہ السلام) نے خود بھی دعا کرتے وقت کہا تھا کہ یا اللہ اب اس قوم کو غارت کردے کیونکہ اب ان لوگوں میں کسی کے ایمان لانے کی توقع نہیں رہی بلکہ جو اولاد یہ جنیں گے وہ بھی فاسق و فاجر ہی پیدا ہوگی لہذا ان میں سے ایک گھرانہ بھی زندہ نہ چھوڑ (71: 26، 27)
Read the full tafseer →50۔ (جب دعوت وتبلیغ کو مدت مدید ہوچکی) توریت میں ہے : اور نوح (علیہ السلام) خدا کے ساتھ چلتا تھا۔ پر زمین خدا کے آگے بگڑی ہوئی تھی اور زمین ظلم سے بھری تھی اور خدا نے زمین پر نظر کی اور دیکھا کہ وہ بگڑگئی، کیونکہ ہر ایک بشر نے اپنے اپنے طریقہ کو زمین پر بگاڑا تھا۔ “۔ (پیدائش 6: 10۔ 12)
51۔ (کیونکہ غم تو خلاف توقع سے ہوتا ہے اور اب ان سے کوئی توقع ہی بجز مخالفت کے نہیں) گویا حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم مل گیا کہ اب نصیحت وانتظار بےسود ہے بددعا کیجیے سزا دی جائے، توریت میں ہے :۔ ”’ اور خدا نے نوح سے کہا کہ سب بشر کی اجل میرے سامنے آپہنچی ہے۔ اس لئے کہ ان کے سبب زمین ظلم سے بھر گئی اور دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →واوحی الی نوح انہ لن یؤمن من قومک الا من قد امن اور نوح کے پاس وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم کے جو لوگ ایمان لا چکے (لا چکے) اور کوئی ایمان نہیں لائے گا۔
فلا تبتئس بمام کانوا یفعلون اب جو کچھ (تکذیب ایذاء کا سلوک) یہ تیرے ساتھ کرتے رہے ہیں ‘ اس سے رنجیدہ نہ ہو (عنقریب ان کو ہلاک کردیا جائے گا) ۔
ا اللہ نے حضرت نوح کو آئندہ کسی کے مؤمن ہونے سے ناامید کردیا تاکہ آپ لاحاصل تبلیغ کی تکلیف سے محفوظ رہیں اور آئندہ کسی کو سرکشی سے نہ روکیں اور کوئی فکر نہ کریں۔ جب آپ کو معلوم ہوگیا کہ اللہ ان کو ہلاک کرنے والا ہے تو دعا کی : رَبِّ لاَ تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔
محمد بن اسحاق…
Read the full tafseer →(36) اور نوح ؑ کے پاس وحی بھیجی گئی کہ اب تک جو ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ اور کوئی ایمان نہیں لائے گا، لہذا ان کے برے اعمال اور ان کی ہلاکت پر کچھ غم نہ کیجیے۔
Read the full tafseer →وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ۔۔ : نوح ؑ سے متعلق قرآن مجید کی تمام آیات پر مجموعی نظر ڈالیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان کے بےمثال صبر کے ساتھ مسلسل صدیوں دعوت دینے کے باوجود قوم نے ان کے انکار اور ایذا رسانی میں کوئی کمی نہ کی، بلکہ ہر نسل اپنی اولاد کو وصیت کرکے مرتی رہی کہ دیکھنا اپنے بتوں کو ہرگز نہ چھوڑنا اور نوح ؑ کی بات مت ماننا۔ (سورۂ نوح) اس کے باوجود نوح ؑ پُر امید رہ کر نہایت استقامت کے ساتھ انھیں دعوت توحید دیتے رہے، مگر جب اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ اطلاع دی کہ اب آئندہ آپ کی قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا تو انھوں نے ان پر عذاب کے لیے بددعا کی۔ جس کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
آیت نمبر 36 تا 37
اللہ تعالیٰ کا ارشاد : واوحی الیٰ نوحٍ انہ لن تیؤمن من قومک الامن قداٰمن، انہمحل رفع میں ہے۔ اوحی کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ محل نصب میں ہو۔ انہ اوراٰمن، یومن کی وجہ سے محل نصب میں ہوں اور کلام کا مطلب ان کے ایمان سے مایوسی اور ان کے کفر کا دوام چاہنا ہے اور مقصد ان پر وعید کے نزول کو ثابت کرنا ہے۔
ضحاک نے کہا : جب (اللہ) نے آپ کو اس کی خبر سی تو آپ نے ان پر بددعا کی عرض کیا : رب لاتذرعلی الارض من الکٰفرین دیارًا(نوح) دو آیتیں (تلاوت کیں) اے میرے رب ! زمین پر کافروں میں سے کوئی بسنے والا نہ چھوڑ ایک قول یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن “ کے بارے میں فرمایا۔ جب نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی تو اس وقت آپ نے قوم کے لئے بدعا کی اور فرمایا (آیت) ” وقال نوح رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا (26) ۔
2:۔ احمد نے الزہد میں وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر بدعا نہیں فرمائی یہاں تک کہ ان پر یہ (آیت) ” واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن “ نازل ہوئی تو اس وقت اس سے آپ کی امید ختم ہوگئی پھر آپ نے ان پر بددعا فرمائی۔
3:۔ ابن ابی…
Read the full tafseer →[وَ اُوْحِیَ : اور وحی کی گئی ] [اِلٰی نُوْحٍ : نوح کی طرف ] [اَنَّہٗ : کہ حقیقت یہ ہے کہ ] [لَنْ یُّؤْمِنَ : ہرگز ایمان نہ لائیں گے ] [مِنْ قَوْمِکَ : آپ (علیہ السلام) کی قوم میں سے ] [اِلَّا : مگر ] [مَنْ : وہ جو ] [قَدْ اٰمَنَ : ایمان لا چکے ہیں ] [فَلَا تَبْتَئسْ : تو آپ (علیہ السلام) دل برداشتہ مت ہوں ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [كَانوْا يَفْعَلُوْنَ : یہ لوگ کرتے رہتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
حضرت نوح (علیہ السلام) کو کشتی بنانے کا حکم اور کشتی کی تیاری کے وقت سردار ان قوم کا تمسخر
حضرت نوح (علیہ السلام) نے بہت زیادہ محنت کی اور طرح طرح سے اپنی قوم کو سمجھایا توحید کی دعوت دینے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ان کی محنت اور دعوت سے صرف چند افراد مسلمان ہوئے اور قوم کی طرف سے عذاب لانے کی فرمائش ہوتی رہی۔ بالآخر ظالموں پر عذاب آگیا اور ایمان والے محفوظ رہ گئے۔
اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لا چکے اب ان کے علاوہ کوئی شخص ایمان نہ لائے گا آپ ان کے حال پر غمگین نہ ہوں کیونکہ توقع کی چیز کے واقع نہ ہونے سے رنج ہوتا ہے۔ جب ان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید کہ سالک بیخبر نبود زراہ و رسم منزلہا
تتمہ قصہ نوح (علیہ السلام) متعلق بہ طوفان
قال اللہ تعالیٰ واوحی الی نوح انہ لن یؤمن ..... الی .... فکان من المغرقین۔
(ربط) جب کفار اپنے شبہات اور اعتراضات کا کافی اور شافی جواب سن چکے اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے جوابات قاہری کی تاب نہ لاسکے تو دوسرا رنگ اختیار کیا ظلم اور تعدی اور ایذا رسانی اور دشنام طرازی پر اتر آئے۔
چو حجت نماند جفا جوئے را بہ پر خالش برہم کشد روئے را
کبھی ان کو دیوانہ اور مجنون کہتے اور کبھی ان کو زمین پر لٹا کر ان کا گلہ گھونٹتے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو نوح (علیہ…
Read the full tafseer →35: یہ قوم نوح (علیہ السلام) کی تباہی کی تمہید ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی مطلع کردیا گیا کہ جن کی قسمت میں ایمان مقدر تھا وہ ایمان لاچکے اور باقیوں میں سے اب کوئی ایمان نہیں لائے گا اس لیے آپ ان کے استہزاء و تمسخر اور تکذیب و ایذاء پر غمگین نہ ہوں اب ان کی ہلاکت کا وقت قریب آگیا ہے۔ مبتدعین حضرت نوح (علیہ السلام) کے لیے علم غیب ثابت کرنے کے لیے کہا کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کی آئندہ نسلوں کے انجام کا علم تھا کہ ان میں اب کوئی بھی ایسا شخص نہیں پیدا ہوگا جو راہ راست پر ہو اور توحید کو قبول کرلے کیونکہ انہوں نے عذاب کی دعا مانگتے وقت کہا تھا۔ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
وقت انتقام
گذشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے وعظ کے جواب میں قوم کا ردعمل بیان ہوچکا ہے ک انہوں نے اس وعظ نصیحت کو جھگڑے سے تعبیر کیا اور عذاب کا مطالبہ کیا ، نوح (علیہ السلام) نے اس بات کو جواب بھی دیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل کے پیش نظر قوم نوح سے انتقام لینے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حالات خراب ہوچکے تھے۔ قوم کے لوگ نوح (علیہ السلام) کو سخت اذیتیں پہنچا رہے تھے اس کے متعلق تورات میں بھی آتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ کے ساتھ ساتھ چلتے رہے یعنی اللہ کے حکم کے مطابق فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے مگر زمین ظلم سے بھر چکی تھی اور قوم سے انتقام لینے کا وقت آگیا تھا (آیت) ”…
Read the full tafseer →وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ 36 ۚۖ
وحی
أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی،
( و ح ی )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلاَّ مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ ج صلے وَاصْنَعِ الْفُلْکَ بِاَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا وَلَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ج اِنَّہُمْ مُّغْرِقُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 36۔ 37)
(اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی۔ یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے آپ کی قوم میں سے بجز ان کے جو ایمان لا چکے ہیں تو جو کچھ یہ کرتے رہے ہیں آپ اس سے آزردہ خاطر نہ ہوں۔ آپ ہماری نگرانی میں کشتی بنایئے اور ہماری ہدایت کے مطابق اور ان ظالموں کے باب میں مجھ سے کچھ نہ کہئے۔ بیشک وہ غرق ہو کر رہیں گے۔ )
فیصلہ الٰہی کا وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
فہم القرآن
ربط کلام : رسول اکرم ﷺ کو حوصلہ دینے اور اہل مکہ کو انتباہ کرنے کے بعد بطور مثال حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ ذکر کیا جاتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی انتھک اور شب وروز کی طویل کوشش کے باوجود قوم اس بات پر مصرہوجاتی ہے کہ اے نوح ! تیرے اور ہمارے درمیان اب فیصلے کی ایک ہی صورت باقی ہے کہ حسب اعلان ہم پر اپنے رب کا عذاب نازل کرو۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے انتہائی مجبور ہو کر اپنے رب کے حضور یہ بددعا کی :
(وَقَالَ نُوْحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْأَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا۔ إِنَّکَ إِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْا إِلَّا فَاجِرًا…
Read the full tafseer →ان کے ایمان کی توقع نہ کریں :
36: وَاُوْحِیَ اِلٰی نُوْحٍ اَنَّہٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ اِلَّامَنْ قَدْ اٰمَنَ (اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی کی گئی کہ ہرگز تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا) ان کے ایمان سے ناامیدی کا اظہار کیا گیا اور اس بات کا بھی کہ ان کے ایمان کی توقع چھوڑ دیں۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ ایمان کیلئے تجدد کا حکم ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ بیشک جو ایمان لایا ہے وہ ایمان لاتا ہے نئے وقت میں اور ایمان بالقرآن میں جس اضافہ کا ذکر ہے اسکا مطلب بھی تجدید ایمان اور پختگی ایمان لیا جائے گا۔ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوْایَفْعَلُوْنَ (پس تو رنجیدہ نہ ہو جو کچھ وہ…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ
36۔” واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن “ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم ان کو اتنا مارتی کہ وہ گرپڑتے پھر وہ ان کو کسی گھر کے کونے میں ڈال دیتے کہ وہ مرچکے ہیں ۔
وہ دوسرے دن پھر نکلتے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ۔ روایت کیا گیا ہے کہ ان کی قوم کا ایک بوڑھا شخص لاٹھی کے سہارے چلتا ہوا اپنے بیٹے کے ساتھ جارہا تھا تو بیٹے کو کہنے لگا یہ مجنوں بوڑھا تجھے دھوکہ میں نہ ڈال دے تو بیٹے نے کہا ابا جان ! مجھے اپنی لاٹھی دیں تو وہ لاٹھی لے کر نوح (علیہ السلام) کو اتنا مارا کہ سر پھاڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے وحی کی ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37۔ جب قوم نوح (علیہ السلام) نے عذاب کی جلدی کی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو بہت ستانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا جتنے ایمان لاچکے وہ لاچکے آئندہ اب کسی سے ایمان لانے کی امید نہیں تم ان کی کسی بات کا غم نہ کرو جو یہ کرتے ہیں کریں تم ایک کشتی تیار کرو ہم وحی کے ذریعہ سے کشتی کے بنانے کا ڈھنگ تمہیں بتاتے ہیں اور ان ظالموں کے باب میں سفارش کے طور پر بارگاہ الٰہی میں کچھ نہ کہو یہ سب ڈوبنے والے ہیں۔ قتادہ کا قول ہے کہ حضرت نوح کی کشتی تین سو گز لمبی تھی۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں بارہ سو گز لمبی اور چھ سو گزر چوڑی تھی…
Read the full tafseer →(واوحی الی نوح انہ لن یومن من قومک الا من قد امن) ” نوح کی طرف وحی کی گئی کہ تیری قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا، مگر جو ایمان لا چکا “ یعنی یہ لوگ پتھر دل ہوگئے ہیں۔ (فلا تبتئس بما کانو یفعلون) ” پس آپ غم نہ کریں ان کا موں پر جو وہ کر رہے ہیں “ یعنی آپ غم زدہ نہ ہوں اور نہ ان کے کرتوتوں کی کوئی پروا کریں۔ اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہے اور اس نے ان کو ایسے عذاب کا مستحق ٹھہرا دیا ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
قول باری ہے ولا ینفعکم نصحی ان اردتا انصح لکم ان کان اللہ یرید ان یغویکم ۔ اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جبکہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا ہو ۔ اس آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ جملہ شرطیہ میں شرط اور جزاء کے درمیان آ جانے والی شرط کا یہ حکم ہے کہ وہ معنی کے لحاظ سے اپنے ما قبل پر مقدم ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص یہ کہتا ہے ۔ ان دخلت الدار ان کلمت زیدا ً فعبدی حر ۔ اگر میں گھر میں داخل ہوجائوں ، اگر زید سے کلام کروں تو میرا غلام آزاد ہے۔ یہ شخص اس وقت حانث ہوگا جب زید سے کلام کرے گا اور پھر گھر میں داخل ہوگا اس لیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
87 ۔ منکرین کو اپنے بارے میں فکر کرنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس شخص نے اس قرآن کو خود گھڑ لیا ہے تو ان سے کہو کہ اگر میں نے اس کو خود گھڑ لیا ہے تو میرے جرم کی ذمہ داری مجھ پر ہے اور میں تمہارے ان جرائم سے بری ہوں جو تم کرتے ہو۔ پس تم لوگ مجھ پر اس طرح کے الزامات لگانے کی بجائے خود اپنی فکر کرو کہ ہر کسی کو اپنے کئے کا بھگتنان خود ہی بھگتنا ہوگا۔ کوئی کسی دوسرے کے کئے کا ذمہ دار و جواب دہ اور اس کا بوجھ اٹھانے والا نہیں ہوگا کہ اصول یہ ہے کہ (اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى) کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھائے گا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم و فیصلہ عدل و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی اس کا وبال خود تم پر پڑے گا۔ اس آیت کے بارے میں مفسرین (رح) کا اختلاف ہے۔ بعض اسے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے قصے ہی سے متعلق سمجھتے ہوئے اس میں خطاب حضرت نوح سے قرار دیتے ہیں ( جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے) اور بعض اسے حضرت نوح کے قصے کے درمیان جملہ معترضہ قرار دیتے ہیں اور اس کو مشرکین مکہ کا قول ٹھہرا کر آنحضرت ﷺ کو مخاطب مانتے ہیں یعنی کیا (مکہ کے کافر) کہتے ہیں کہ (محمد ﷺ ) نے اس (قرآن) کو اپنے دل سے گھڑ لیا ہے۔ (اے محمد ﷺ ) کہ دے اگر میں نے اسے اپنے دل سے گھڑ لیا ہے تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر پڑے گا اور تم جو گناہ کرتے ہو میں اس کی ذمہ داری سیبری ہوں۔ پہلی تفسیر حضرت ابن…
Read the full tafseer →(11:36) لا تبتئس۔ تو غم نہ کھا۔ تو غمگین نہ ہو۔ ابتئاس (افتعال) غمگین اور رنجیدہ ہونا فعل نہی واحد مذکر حاضر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–39
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 39
اجرام (جرم، خطا، گناہ) لاتبتئس (تو غم نہ کر) اصنع (تو بنا لے) الفلک (کشتی، جہاز) باعیننا (2 ماری آنکھوں میں، نگرانی میں) لاتخاطب (تو متوجہ نہ کرنا) مر (گذرا) سخروا (مذاق اڑایا) یخزی (رسوا کرے گا) یحل (حلال کرے گا، نازل کرے گا) مقیم (قائم رہنے والا، دائمی
تشریح : آیت نمبر 35 تا 39
سورئہ ہود کی ان آیات میں حضرت نوح کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ درمیان میں ان آیات کا رخ نبی کریم ﷺ کی طرف موڑ کر کفار مکہ کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ آج اگر تم نبی کریم ﷺ پر بہت سے اعتراضات کر رہے ہو۔ ان کا مذاق اڑا رہے ہو اور کہتے ہو کہ اس قرآن کریم کو انہوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
کشتی کا ذکر
جب قوم حضرت نوح (علیہ السلام) نے عذاب کی جلدی کی اور حضرت نوح (علیہ السلام) کو بہت ستانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نوح (علیہ السلام) ! اب تمہاری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا۔ جتنے ایمان لاچکے وہ لاچکے آئندہ اب کسی سے ایمان لانے کی امید نہیں۔ تم ان کی کسی بات کا غم نہ کرو جو یہ کرتے ہیں کریں۔ تم ایک کشتی تیار کرو ہم وحی کے ذریعہ سے کشتی کے بنانے کا ڈھنگ تمہیں بتاتے ہیں کہ ایسی صورت بناؤ جیسے کہ مرغ کا سینہ ہوتا ہے۔ پھر فرمایا کہ ان ظالموں کے باب میں سفارش کے طور پر بارگاہ الہی میں کچھ نہ کہو یہ سب ڈوبنے والے ہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بارہ سو گز لمبی اور چھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
[20] یعنی نبی ﷺ نے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
غوایت سے مراد ہلاکت ہے !
(ف 1) (آیت) ” ان کان اللہ یرید “۔ الخ یعنی اگر اللہ کے علم میں یہ حقیقت پہلے سے موجود ہے کہ تم بالآخر گمراہی کو ترجیح دو کے ، اور ہدایت کو قبول نہیں کرو گے ، تو بتاؤ کہ تمہاری گمراہی کو ہدایت سے کون بدل سکتا ہے ۔
(آیت) ” یغویکم “۔ کے معنی ہلاکت کے بھی ہو سکتے ہیں اور ادب عربی میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔ قرآن میں ان معنوں کی تائید کرتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے ، (آیت) ” فسوف یلقون غیا “۔ ظاہر ہے یہاں گمراہی مراد نہیں ، گمراہی کی عقوبت یا عذاب مراد ہے ، علامہ ابن جریر (رح) فرماتے ہیں ، (آیت) ” من یغویکم یھلکم بعذابہ “۔ بنی طے کا استعمال یہ ہے کہ مریض کو غاوی کہتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →36 اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی جانب یہ وحی بھیجی گئی کہ تمہاری قوم میں اب کوئی نیا شخص ایمان نہیں لائے گا مگر ہاں جو ایمان لا چکے وہ لا چکے لہٰذا جو کچھ وہ کررہے ہیں اور جن افعال کے یہ لوگ مرتکب ہورہے ہیں اس پر غمگین نہ ہو اور کچھ غم نہ کرو یعنی غم تو جب ہو جب امید کے خلاف کوئی بات ہو اور جب کسی اچھی بات کی امید ہی نہیں رہی پھر غم کیوں کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 3۔ یہ اخیر درجہ کا جواب ہے اور اصل جواب وہ ہے کہ اس افتراء کا افتراء ہونا ثابت کردیا جائے جیسا کہ اسی سورت کے دوسرے رکوع میں جواب دیا ہے۔ قل فاتوبعشر سورمثلہ۔ لیکن جو شخص دلیل میں نہ قدح کرسکے اور نہ تسلیم کرے اخیر درجہ میں یہی کہا جاتا ہے کہ خیر بھائی جیسا میں نے کیا ہوگا بھگتوں گا جیسا کہ تم کررہے ہو تم بھگتو۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) سے کہا گیا کہ جو لوگ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لا چکے بس لا چکے اب فیصلہ کا وقت آنے والا ہے
51 ؎ نوح (علیہ السلام) کی دعوت و تبلیغ کی مدت جب پوری ہوگئی تو آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی اور قوم کیلئے ہر آنے والا دن گزشتہ سے بد تر ہونے لگا وہ اس طرح کہ وہ مخالفت میں بالکل چھوٹ ہوگئے اور کسی ضابطہ اخلاق کے بھی پابند نہ رہے اور دشمنی میں انہوں نے وہ بد اخلاقیاں کیں کہ جن کا ذکر بھی باعث شرم ہے۔ نوح (علیہ السلام) کو اس سے جو کو فت ہوتی ہوگی وہ ہم آپ سن بی نہیں سکتے تو اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو اپنے حکم خاص سے مطلع فرما دیا اور وحی نے بات واضح کرتے ہوئے آپ کو جو…
Read the full tafseer →Commentary
Allah Ta` a1a had blessed Sayyidna Nuh (علیہ السلام) with long years of life extending up to nearly one thousand years. Along with it, he was given a special status in terms of his prophetic mission to invite people to Allah and make their condition better whereby he devoted these long years to keep asking them to believe in the true Faith and in Allah as One. He had to face the harshest of pains in this mission. His people would throw stones at him until he fell down and lost consciousness. But, as soon as he would regain it, he prayed to Allah for the forgiveness of his people…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
39. The context seems to suggest how the opponents reacted to the narration of Noah's story. It seems they would have objected to it on the grounds that the true purpose of narrating Noah's story was to show how it was applicable to the unbelievers. They presumably pointed out that the Prophet (peace be on him) had invented such stories merely to ridicule and disgrace them; that these stories were merely a means whereby he could malign them.
The main theme of the discourse has been interrupted here in order to respond to this objection. Petty people are apt to misinterpret things. Their…
Read the full tafseer →