Hud 11:30

Hud · from ayah 30

11:30

وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ ؕ— اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۟وَيٰقَوۡمِ مَنۡ يَّـنۡصُرُنِىۡ مِنَ اللّٰهِ اِنۡ طَرَدْتُّهُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوۡنَ

اور برادران ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And O my people, who would protect me from Allah if I drove them away? Then will you not be reminded?

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:30

اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور برادران ملت! اگر میں ان کو نکال دوں تو (عذاب) خدا سے (بچانے کے لیے) کون میری مدد کرسکتا ہے۔ بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

میری قوم کے لوگو! اگر میں ان مومنوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری مدد کون کر سکتا ہے؟ کیا تم کچھ بھی نصیحت نہیں پکڑتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اے میری قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ (کی پکڑ) سے بچائے گا ؟ کیا تم پھر بھی دھیان نہیں دو گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے قوم مجھے اللہ سے کون بچالے گا اگر میں انہیں دور کروں گا، تو کیا تمہیں دھیان نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اے میری قوم! اگر میں ان کو دھتکار دوں تو اﷲ (کے غضب) سے (بچانے میں) میری مدد کون کر سکتا ہے، کیا تم غور نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اے میری قوم ! اللہ کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا اگر میں انھیں دور ہٹا دوں ؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اے میری قوم ! اگر میں ان لوگوں کو اپنے ہاں سے نکال دوں تو اللہ کے مقابلہ میں میری کون مدد کرے گا، تم ذرا بھی غور نہیں کرتے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اے میرے ہم قومو، اگر میں ان کو ددھتکار دوں تو خدا کے مقابل میں کون میری مدد کرے گا ؟ کیا تم لوگ اس پہلو پر دھیان نہیں کرتے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اے میری قوم، کون میری مدد کرے گا اللہ کے مقابلے میں، اگر میں ان کو دور کر دوں ؟ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اے میری قوم والوکون میری حمایت کرے گا اللہ کے مقابلہ میں اگر میں انہیں نکال بھی دوں کیا تم (اتنی بات بھی) نہیں سمجھتے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اے میری قوم کے لوگو ! (ذرا سوچو کہ) اگر میں ان کو اپنے ہاں سے بھگا دوں گا تو کون میری مدد کرے گا اللہ کے مقابلے میں تو کیا تم لوگ نصیحت اخذ نہیں کرتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اے قوم ! میں ان کو نکال دوں تو اللہ کے عذاب سے مجھے کون چھڑاسکے گا، بھلا تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

My people! Were I to drive the men of faith away, who will protect me from (the chastisement of) Allah? Do you not understand even this much?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O my people, who would help me against (the punishment of) Allah, if I were to drive them away? Would you still take no lesson?

— Muhammad Taqi Usmani

O my people, who would help me against (the punishment of) Allah, if I were to drive them away? Would you still take no lesson?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And O my people! Who will help me against Allah, if I drove them away Will you not then give a thought

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And, O my people! who would deliver me from Allah if I thrust them away? Will ye not then reflect?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And O my people, who would protect me from Allah if I drove them away? Then will you not be reminded?

— Saheeh International

My people, who would protect me against God if I were to drive these people away? Will you then not take heed?

— Muhammad Sarwar

And, O my people! who will help me against Allah if I drive them away? Will you not then mind?

— Muhammad Habib Shakir

O My people! who will succour me against Allah, if I drave them away! Admonished are ye not then?

— Abdul Majid Daryabadi

"And O my people! who would help me against Allah if I drove them away? Will ye not then take heed?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–30

دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اسکی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دیدوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔ یہی طلب آنحضرت ﷺ سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ 52؀) 6۔ الانعام :52) یعنی صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 29–30

سورة هُوْد 35 یعنی میں ایک بےغرض ناصح ہوں۔ اپنے کسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ تمہارے ہی بھلے کے لیے یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں۔ تم کسی ایسے ذاتی مفاد کی نشان دہی نہیں کرسکتے جو اس امر حق کی دعوت دینے میں اور اس کے لیے جان توڑ محنتیں کرنے اور مصیبتیں جھیلنے میں میرے پیش نظر ہو۔ (ملاحظہ ہو المومنون، حاشیہ 70۔ یٰس حاشیہ 17۔ الشوریٰ ، حاشیہ 41) سورة هُوْد 36 یعنی ان کی قدر و قیمت جو کچھ بھی ہے وہ ان کے رب کو معلوم ہے اور اسی کے حضور جا کر وہ کھلے گی۔ اگر یہ قیمتی جواہر ہیں تو میرے اور تمہارے پھینک دینے سے پتھر نہ ہوجائیں گے، اور اگر یہ بےقیمت پتھر ہیں تو ان کے مالک کو اختیار ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–30

دوسرے یہ بتلایا گیا کہ تم جو ایمان قبول کرنے کے لئے یہ شرط پیش کرتے ہو کہ میں غریب لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو سمجھ لو کہ یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ غریب ہیں مگر بارگاہ رب العزت میں ان کی رسائی اور اعزاز ہے ایسے لوگوں کو نکالنا کوئی عقل کا کام نہیں، اور مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر بالفرض میں ان کو نکال دوں تو قیامت کے روز یہ لوگ جب اپنے رب کے سامنے جائیں گے اور فریاد کریں گے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا، چوتھی آیت کا یہی مضمون ہے کہ اگر میں ان کو نکال دوں تو مجھے خدا کے عذاب سے کون بچائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ سب تمہاری جہالت ہے کہ تم آدمیت کو نبوت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ یہ اوپر والی آیت کی مزید وضاحت ہے کہ اگر میں تمہاری ناز برداری میں اللہ پر ایمان لانے والے ان غریبوں کو دھتکاروں تو کل کو خدا کی پکڑ سے مجھے کون بچانے والا بنے گا۔ افلا تذکرون، یعنی مال و جاہ کے غرور میں تم ایسے پاگل ہوگئے ہو کہ میں تم میں سے کسی کو معاملے کے اس پہلو پر غور کرنے کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 گویا ایسے لوگوں کو اپنے سے دور کرنا، اللہ کے غضب اور ناراضگی کا باعث ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–30

15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اللہ موجود ہے ، وہ فقراء کا بھی رب ہے اور اغنیاء کا بھی رب ہے۔ ضعیفوں کا بھی والی ہے اور طاقتوروں کو بھی سہارا دینے والا ہے۔ اللہ کے ہاں جو اقدار وزن رکھتی ہیں وہ اور ہیں۔ وہاں ایک ہی ترازو ہے ، ترازوئے ایمان باللہ۔ لہذا یہ لوگ جو ایمان لا چکے ہیں ، اب اپنے رب کی حفاظت میں ہیں وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ " اور اے قوم ، اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا ؟ " جب میں نے اللہ کی قائم کردہ اقدار کو پامال کردیا۔ اور اللہ کے ان بندوں پر زیادتی شروع کردی جو ایمان لے آئے ہیں اور دعوت قبول کرلی۔ یہ لوگ تو اللہ کے ہاں معزز ہیں۔ اس صورت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی میں تمہارے کبر و غرور اور جہالت سے متأثر ہو کر اپنا نقصان کیسے کروں، اگر تمہاری رعایت سے میں نے خدا کے مخلص بندوں کو دھکے دے دیئے تو اس کی سزا اور گرفت سے مجھ کو کون بچا سکے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 30 وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّہُمْ یہ سب سچے مؤمنین ‘ اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعائیں مانگنے والے لوگ ہیں۔ اگر میں تمہارے کہنے پر ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی ناراضگی سے مجھے کون بچائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

37 نبوت اور رسالت پر اجر ؟ میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں نہ تم سے کسی معاوضہ کا مطالبہ کرتا ہوں پھر تم مجھ سے یہ مطالبہ کیسے کرسکتے ہوں کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انھیں میں اپنے ہاں سے رخصت کردوں تم یہ کیسی جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ میں انھیں اس لحاظ سے تم سے بدرجہا بہتر سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیا ہے یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تمہاری طرح سرکش اور ہٹ دھرم نہیں اللہ کے ہاں تو معزز وہ ہے جو ایمان دار اور پرہیزگار ہو ذات کا اونچا یا نیچا ہونا چنداں فائدہ نہیں دیتا اور اگر بالفرض میں تمہارے کہنے پر انھیں اپنے ہاں سے نکال دوں تو میں تو خود اللہ کے ہاں مجرم ٹھہرتا ہوں پھر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ بالفرض میں تمہاری خوشی پوری کرنے کو انہیں اپنے پاس سے دھتکار بھی دوں تو خود ہی اللہ کی گرفت میں آجاؤں گا۔ اس وقت مجھے کون بچائے گا ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” من ینصرنی من اللہ ان طردتھم “۔ کے تحت میں طالب کے حقوق شیخ پر آگئے، آیت کے الفاظ میں اشارہ ادھر ہے کہ جو شخص حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو، اس سے اعراض نہ چاہیے کیونکہ اس کی طرف حق تعالیٰ کو بھی توجہ ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 25–35

آیت نمبر 25 تا 35 ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ویقوم من ینصرنی من اللہ ان طردتھم اور اے میری قوم ! (ایسے مرتبہ والوں کو) جب میں نکال دوں گا تو اللہ سے مجھے کون بچائے گا اور میرے اوپر سے اس کے عذاب کو کون دفع کرے گا۔ افلا تذکرون۔ تو کیا اب بھی تم نصیحت پذیر نہ ہو گے اور اتنی بات بھی نہیں سمجھو گے کہ ان کو نکال دینا صحیح نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(30) اور اگر تمہارے کہنے کے مطابق میں ان کو نکال بھی دوں تو عذاب الہی سے مجھے کون بچائے گا کیا میری ان باتوں سے بھی نصیحت نہیں حاصل کرتے کہ ایمان لے آؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 29–30

وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا۔۔ : اور اے میری قوم ! میں اللہ کا یہ پیغام تمہیں پہنچانے پر تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، مبادا تم سمجھو کہ نوح نے مال کھینچنے کے لیے نبوت کا بہانہ کھڑا کرلیا۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے بھی نہیں اور نہ دنیا کی کسی چیز کا تم سے مطالبہ ہے۔ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : یعنی جس طرح اللہ کی رحمت (اسلام) کے دامن میں آنے سے جب تک تم نفرت اور کراہت کرتے رہو گے، میں تمہیں زبردستی اسلام لانے پر مجبور نہیں کرسکتا، اسی طرح جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے، چونکہ وہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں، اس لیے میں انھیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–31

آیت نمبر 28 تا 31 قولہ تعالیٰ : قال یقوم اریتم ان کنت علیٰ بینۃٍ من ربی یعنی یقین پر، یہ ابوعمران جونی کا قول ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ معجزہ پر سورة انعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ واٰتٰئنی رحمۃً من عبدہٖرحمت سے مراد نبوت و رسالت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ (نبوت و رسالت) مخلوق پر رحمت ہے۔ اور ایک قول کے مطابق رحمت سے مراد دلائل کے ساتھ اللہ کی طرف ہدایت دینا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ایمان اور اسلام ہے۔ فعبیت علیکم یعنی رسالت اور ہدایت تم سے پوشیدہ ہوگئی ہو اور تم اسے سمجھ سکے ہو۔ عمیت عن کذا اور عمی علی کذا کہا جاتا ہے یعنی میں اسے نہ سمجھ سکا۔ اور معنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 25–35

حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ : 1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔ 2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔ 3:۔ ابن جریر وابو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيٰقَوْمِ [ اور اے میری قوم ] مَنْ [ کون ] يَّنْصُرُنِيْ [ مدد کرے گا میری ] مِنَ اللّٰهِ [ اللہ سے ( بچنے میں) ] اِنْ [اگر ] طَرَدْتُّهُمْ ۭ [ دھتکار دوں ان کو ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ یاد دہانی حاصل نہیں کرتے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مزید فرمایا (وَیَقٰوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ ) (اے میری قوم ! میں مومنین کو اپنے پاس سے ہٹا دوں اور دور کردوں تو اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہوجائے گا پھر اسکی ناراضگی کو کوئی دفع کرنے والا نہ ہوگا تم اپنی جہالت پر مصر ہو سمجھتے کیوں نہیں) ۔ صاحب روح المعانی (ص 41 ج 2) لکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے صاف تو نہ کہا تھا کہ ان لوگوں کو ہٹا دیں لیکن ان کے کلام سے یہ مفہوم ہو رہا تھا کہ ان کو ہٹا دیا جائے تو ہم ایمان لاسکتے ہیں اس لئے ان کی اس بات کی تردید فرما دی۔ فَکَانّ ذالک التماساً منھم بطردھم وتعلیقاً لایمانھم بہ ﷺ بذالک انفۃً من الانتظام معھم فی سلک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–35

قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔ (ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔ اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

31: میری قوم ! اس تبلیغ دعوت پر میں تم سے تنخواہ یا معاوضہ طلب نہیں کر رہا تاکہ تم پر اس کا بوجھ ہو اس کا معاوضہ مجھے اللہ کی طرف سے ملے گا جس کی میں ڈیوٹی دے رہا ہوں۔ باقی رہی یہ بات کہ تمہاری خاطر میں ان غرباء کو اپنے پاس سے ہٹا دوں جو ایمان لاچے ہیں تو بھی نہیں ہوسکتا۔ اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں اگر میں ایسا کروں تو وہ خدا کے یہاں میری شکایت کریں گے فیشکوننی الیہ ان طردتھم (مدارک ج 2 س 142) یا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مقربین بارگاہِ الہی ہیں اس لیے میں ان کو اپنی مجلس سے کیونکر اٹھا دو لا اطردھم ولا ابعدھم عن مجلسی لانھم من اھل الزلفی المقربون…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 28–31

نبی کی وجہ امتیاز جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی (آیت) ” ان لاتعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر غیرا للہ کی عبادت سے باز نہیں آئو گے تو سخت دن کی گرفت میں آجائو گے۔ اس پر قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو اور تمہارے پیچھے چلنے والے کمی کمین لوگ ہیں جو سرسری رائے رکھنے والے بےعقل لوگ ہیں ، ان کی موجودگی میں ہم تمہیں کیسے نبی مان لیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت بھی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہم تمہاری سیادت کو تسلیم کرلیں ، ہم تو تمہیں دعوی نبوت میں جھوٹا خیال کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 30؀ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَ یٰـقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 30) (اور اے میری قوم ! کون مدد کرسکتا ہے میری اللہ کے مقابلے میں، اگر میں انھیں نکال دوں۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ ) گزشتہ مضمون کی تائید و توثیق گزشتہ آیت کے مضمون کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں ان صاحب ایمان لوگوں کے مقام و مرتبہ کا حقیقی ادراک نہیں۔ تم کیا جانو کہ یہ اللہ کے یہاں کس عظمت کے مالک ہیں۔ پروردگار کے یہاں ان کی نازبرداریوں کا حال یہ ہے کہ اگر میں انھیں اپنے پاس سے نکلنے کا حکم دے دوں تو باوجود اس کے کہ میں اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں اللہ کی طرف سے گرفت کا خطرہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–30

فہم القرآن ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو جواب۔ حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی سطحی اور بےبنیاد گفتگو کا نہایت ہی مدبرانہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اے میری قوم کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کہ میں نے تمہارے سامنے جو دعوت پیش کی ہے اس کے کتنے واضح دلائل اپنے رب کی طرف سے پیش کیے ہیں، جہاں تک میرے بشرہونے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ میں واقعی بشرہی ہوں۔ لیکن اس میں بھی غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنافضل وکرم فرمایا ہے۔ اس نے تم سب میں سے مجھے ہی اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اگر تم جان بوجھ کر حقائق دیکھنے اور ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو میں کس طرح تم پر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: وَیٰقَوْمِ مَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰہِ (اے میری قوم کون میری مدد کرے گا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کیلئے) یعنی اس کے انتقام سے کون بچائے گا۔ اِنْ طَرَدْتُّھُمْ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ (اگر میں نے ان کو اپنے ہاں سے نکال دیا کیا تم نصیحت قبول نہیں کرتے ہو) تذکرہ کا معنی وعظ و نصیحت حاصل کرنا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 29–30

29۔” ویاقوم لا اسالکم علیہ مالا “ وحی اور رسالت کے پہنچانے پر ” ان اجری الا اعلیٰ اللہ وما انا بطارد الذین امنوا “ یہ دلیل ہے کہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) سے مؤمنین کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔” انھم ملا قوا ربھم “ یعنی قیامت میں اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں تو وہ ان کو دھتکارنے والے کو بدلہ دے گا ۔” ولکنی ارا کم قوماً تجھلون “۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

30۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) کے قوم کے مالدار لوگوں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ جھگڑا کیا کہ اے نوح (علیہ السلام) اگر تم ان کم عزت اور مفلس لوگوں کو اپنی مجلس میں آنے سے روک دو گے تو ہم مالدار اور عزت دار لوگ کبھی کسی وقت تمہاری مجلس میں آکر کچھ تمہاری نصیحت سنیں گے اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو جواب دیا جس جواب کا ذکر اس آیت میں ہے سورة انعام میں گزر چکا ہے کہ قریش میں عزت دار اور مالدار لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے بھی یہی خواہش کو پورا کرنے سے منع فرمایا حاصل کلام یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر قیامت تک آخر شیطان تو ایک ہی ہے جو ہر زمانہ کے لوگوں کو بہکاتا ہے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ویقوم من ینصرونی من اللہ ان طردتھم) ” اور اے میری قوم ! اگر میں ان کو دھتکاردوں تو کون مجھے اللہ سے چھڑائے گا ؟ “ یعنی مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔ کیونکہ ان کو دھتکارنا اللہ کے عذاب کا موجب ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں بچا سکتا۔ (افلا تذکرون) ” کیا تم نصیحت نہیں حاصل کرتے۔ “ یعنی کیا تم اس چیز سے نصیحت نہیں پکڑتے جو تمہارے لئے زیادہ فائدہ مند اور زیادہ درست ہے اور کیا تم ان معاملات پر تدبر نہیں کرتے ؟

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–33

طلب دنیا یا عقبی کی چاہت قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 29–30

75 ۔ اصل چیز ہے صدق و اخلاص : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متکبروں کے اس مطالبے کو کہ غریب لوگوں کو اپنی مجلس سے ہٹا دو کو مسترد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں تم لوگوں کے مطالبے پر ان مخلص مسلمانوں کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرسکتا کہ یہ سچے اور مخلص ایماندار ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت صدق و اخلاص ہی کی ہے۔ پس میں ان مخلص ایمانداروں کو دور نہیں کرسکتا جیسا کہ تمہارا مطالبہ ہے۔ سو میں ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ایمان کے شرف سے مشرف ہونے کے باعث اپنے رب کے یہاں ایک خاص مرتبہ پاچکے ہیں پھر میں ان بندگان صدق و صفا کو کس طرح دور کرسکتا ہوں ؟ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–44

نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 25–35

آیات 25 تا 35 اسرار و معارف بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔ بشریت ونبوت مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 30–31

ف 12 ۔ یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظرآتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے زیادہ نہیں پاتے۔ اس پر حضرت نوح فرماتے ہیں کہ وہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں نہ میرے پاس اللہ کے خزانے میں نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں۔ یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے اپنے سیدھے راستے کی مھے ہدایت بخشی ہے میرا یہ دعویٰ ناقابلِ تردید ہے۔ اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش کرلو۔ (از وحیدی) ۔ 13 ۔ یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

افلا تذکرون۔ مضارع منفی جمع مذکر ھاضر۔ الف استفہامیہ۔ تم کیوں غور نہیں کرتے۔ تم کیوں نصیحت نہیں پکڑتے۔ تذکر (تفعل) سے دھیان دینا۔ نصیحت پکڑنا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 25–30

لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30 اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے) تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30 اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 29–30

قرآن شریف پڑھانے اور وعظ و نصیحت پر اجرت لینا جائز نہیں حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :'' اے قوم تبلیغ رسالت پر میں کچھ مال نہیں مانگتا بلکہ میں تو فقط اللہ ہی سے اجر کا طالب ہوں ''۔ وعظ و نصیحت کے معاوضہ میں انبیاء کو کسی اجرت یا مزدوری کا لینا جائز نہیں۔ امت کے علماء انبیاء کے وارث بن کر لوگوں کو قرآن کے موافق کچھ وعظ و نصیحت کریں یا قرآن پڑھاویں تو ان کی اجرت امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ قوم نوح کے امراء کہتے تھے کہ تم ادنیٰ آدمیوں کو اپنی مجلس سے نکال دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا میں اہل ایمان کو تمہاری خاطر یہاں سے نہیں ہٹا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

دوسرے اعتراض کا جواب : (ف 1) سب سے پہلے قرآن حکیم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان سے دوسرے اعتراض کا جواب دیا ہے اس لئے کہ وہ باوجود بشریت کے حضرت نوح (علیہ السلام) کو پیغمبر مان سکتے تھے ، مگر یہ ان کے کبر و غرور کے لئے قطعا ناقابل برداشت تھا کہ وہ غرباء کم درجہ لوگوں کے دین کو قبول کرلیں ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے جوابا ارشاد فرمایا ، میں اپنے دعاوی میں سچا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے صداقت کے دلائل عنایت فرمائے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ تمہیں حق کی راہ سوجھائی نہیں دیتی ، میں تم سے کچھ اجر طلب نہیں کرتا ہوں ، کہ مخلص دیندار غربا کو اپنے پاس سے ہٹا دوں ، تم جاہل ہو اس لئے افلاس وغربت کو معیوب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

30 اور اے میری قوم اگر میں ان غریب ایمان والوں کو اپنے پاس سے ن کال دوں اور ہٹا دوں تو اللہ تعالیٰ کی گرفت کے مقابلہ میں میری کون مدد کرے گا اور مجھ کو خدا کی گرفت سے کون بچائے گا کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافروں نے مسلمانوں رزالا ٹھرایا اور چاہا کہ ان کو ہانک دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں بات سنیں فرمایا کہ دل کی بات اللہ تحقیق کرے گا جب اس سے ملیں گے میں اگر مسلمانوں کو ہانکو تو اللہ تعالیٰ سے کون چھڑوائے مجھ کو اور رذالا ٹھہرایا اس پر کہ دے کسب کرتے تھے کسب سے بہتر کمائی نہیں اس واسطے فرمایا کہ تم جاہل ہو 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ اس تقریر میں ان کے تمام مشتبہات کا جواب ہوگیا لیکن آگے ان سب جوابوں کا تتمہ ہے یعنی جب نبوت میری دلیل سے ثابت ہے تو اول دلیل کے سامنے استبعاد کوئی چیز نہیں پھر یہ کہ وہ مستبعد بھی نہیں البتہ کسی امر عجیب و غریب کا اگر دعوی کرتا تو انکار واستبعاد چنداں منکر ومستبعد نہ تھا گودلیل کے بعد وہ بھی مسموع نہیں البتہ اگر دلیل بھی مقتضی استبعاد کو ہو تو پھر واجب ہے لیکن میں تو کسی امر عجیب کا دعوی نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر میں ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھادوں تو مجھے اس کے وبال سے کون بچائے گا ؟ 41 ؎ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جن لوگوں کو ذلیل سمجھتے ہو تو میں کبھی یہ بات نہیں کہہ سکتا کہ وہ ذلیل ہیں اور انہیں خوبی وسعادت نہیں مل سکتی ۔ اگر میں ایسا کروں تو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ میں گرفتار ہو جائوں ، پھر کون ہے جو اللہ کے مقابلہ کیلئے میری مدد کرے گا ؟ کیا تم اتنی معمولی بات کو بھی نہیں سمجھ سکتے ؟ تم میرا مذاق اڑاتے ہو ، مجھے برا بھلا کہتے ہو ، میرے دوستوں کو ذلیل و خوار قرار دیتے ہوے ان کو حقیر خیال کرتے ہو اور میں ہوں کہ تم کو پھر بھی دعوت حق دیتا چلا جا رہا ہوں ۔ کیا میں اس طرح تم سے کوئی مال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

Then, they were told: ` As for the condition you impose that I should remove the poor from my company in order that you could believe, then let it be very clear that I cannot do that. They may be poor but they are close to the Highest of the high, the greatest honor one can have. Turning such people out is not a right thing to do.' And: مُّلَاقُو رَ‌بِّهِمْ (They are surely to meet their Lord) could also mean: If, supposedly, I were to turn them out, when they go to their Lord on the day of Qiyamah and complain, what would I have to say? The subject continues in the fourth verse (30): If I…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

35. The Prophet Noah (peace be on him) told his people that he had sincerely counselled his people about what was conducive to their well-being. Noah bore all kinds of hardship and suffering, and all for the well-being of his people. Noah sought to achieve no personal benefit out of his striving to call 36. The worth of the believers is best known only to their Lord which will become fully evident when they encounter Him on the Day of Judgement. If they indeed are true gems, they will not then become pieces of ordinary rock just because some people in this world had disparagingly thrown them…

Read the full tafseer →