میرا پیغام اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت ہے
آپ فرماتے ہیں میں صرف رسول اللہ ہوں، اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت اور توحید کی طرف اس کے فرمان کے مطابق تم سب کو بلاتا ہوں۔ اس سے میری مراد تم سے مال سمیٹنا نہیں۔ ہر بڑے چھوٹے کے لیے میری دعوت عام ہے جو قبول کرے گا نجات پائے گا۔ اللہ کے خزانوں کے ہیر پھیر کی مجھ میں قدرت نہیں۔ میں غیب نہیں جانتا ہاں جو بات اللہ مجھے معلوم کرادے معلوم ہوجاتی ہے۔ میں فرشتہ ہونے کا دعویدار نہیں ہوں۔ بلکہ ایک انسان ہوں جس کی تائید اللہ کی طرف سے معجزوں سے ہو رہی ہے۔ جنہیں تم رذیل اور ذلیل سمجھ رہے ہو۔ میں تو اس کا قائل نہیں کہ انہیں اللہ کے ہاں ان کی نیکیوں کا بدلہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
سورة هُوْد 37
یہ اس بات کا جواب ہے کہ جو مخالفین نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم بس اپنے ہی جیسے ایک انسان نظر آتے ہو۔ اس پر حضرت نوح ؑ فرماتے ہیں کہ واقعی میں ایک انسان ہی ہوں، میں نے انسان کے سوا کچھ اور ہونے کا دعویٰ کب کیا تھا کہ تم مجھ پر یہ اعتراض کرتے ہو۔ میرا دعویٰ جو کچھ ہے وہ تو صرف یہ ہے کہ خدا نے مجھے علم و عمل کا سیدھا راستہ دکھایا ہے۔ اس کی آزمائش تم جس طرح چاہو کرلو۔ مگر اس دعوے کی آزمائش کا آخر یہ کونسا طریقہ ہے کہ کبھی تم مجھ سے غیب کی خبریں پوچھتے ہو، اور کبھی ایسے ایسے عجیب مطالبے کرتے ہو گویا خدا کے خزانوں کی ساری کنجیاں میرے پاس ہیں، اور کبھی اس بات پر اعتراض کرتے ہو کہ میں…
Read the full tafseer →پانچویں آیت میں حضرت نوح ؑ کی وہ تقریر نقل کی گئی ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سب اعتراضات سننے کے بعد ان کو کچھ اصول ہدایات دینے کے لئے ارشاد فرمائی، جس میں بتلایا گیا ہے کہ نبوت و رسالت کیلئے وہ چیزیں ضروری نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہیں۔
مثلاً پہلے فرمایا (آیت) وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ ، یعنی میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں، اس میں ان لوگوں کے اس خیال کی تردید ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہو کر آئے ہیں تو ان کے ہاتھ میں خزانے ہونے چاہئیں جن سے لوگوں کو داد و دہش کرتے رہیں، نوح ؑ نے بتلایا کہ انبیاء کی بعثت کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ…
Read the full tafseer →وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا ۭ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔
یہ مخالفین کے سارے معارضات کا اکٹھا جواب ہے کہ اگر تم مجھ میں کوئی بات مافوق بشریت نہیں پاتے تو میں نے بشریت سے بالا تر ہونے کا دعوی کب کیا ہے ؟ میں نے کب کہا ہے کہ میرے پاس خدا کے خزانوں کی کنجیاں ہیں، یا میں غیب دان ہوں یا کوئی فرشتہ ہوں ؟ میں ان باتوں میں سے کسی بات کا بھی مدعی نہیں ہوں۔ میں تو صرف خدا کا رسول ہوں…
Read the full tafseer →31۔ 1 بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایمان کی صورت میں خیر عظیم عطا کر رکھا ہے جس کی بنیاد پر وہ آخرت میں بھی جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں گے اور دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ چاہے گا، تو بلند مرتبے سے ہمکنار ہوں گے۔ گویا تمہارا ان کو حقیر سمجھنا ان کے لئے نقصان کا باعث نہیں، البتہ تم ہی عند اللہ مجرم ٹھہرو گے کہ اللہ کے نیک بندوں کو، جن کا اللہ کے ہاں بڑا مقام ہے، تم حقیر اور فرومایہ سمجھتے ہو۔
31۔ 2 کیونکہ میں ان کی بابت ایسی بات کہوں جس کا مجھے علم نہیں، صرف اللہ جانتا ہے، تو یہ ظلم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
16: یہ اس جاہلانہ خیال کی تردید ہے کہ اللہ کے کسی پیغمبر یا مقرب بندے کے پاس ہر قسم کے اختیارات ہونے چاہئیں، اور اسے غیب کی ساری باتوں کا علم ہونا چاہیے۔ حضرت نوح ؑ نے واضح فرما دیا کہ کسی نبی یا اللہ کے کسی ولی کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ دنیا کے خزانے لوگوں میں تقسیم کرے، یا غیب کی ہر بات بتائے۔ اس کا مقصد تو لوگوں کے عقائد اور اعمال و اخلاق کی اصلاح ہوتا ہے۔ اس کی ساری تعلیمات اسی مقصد کے گرد گھومتی ہیں۔ لہذا اس سے اس قسم کی توقعات رکھنا نری جہالت ہے۔ اس طرح اس آیت میں ان لوگوں کی ہدایت کا بڑا سامان ہے جو بزرگوں کے پاس اپنے دنیوی مقاصد کے لیے جاتے ہیں۔ اور انہیں دنیوی اور تکوینی امور میں…
Read the full tafseer →اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے سامنے اپنی شخصیت اور رسالت کی حقیقت نہایت ہی واضح طور پر رکھتے ہیں۔ بالکل سادہ اور غیر مصنوعی حقائق کی شکل میں۔ رسول کی شخصیت اور منصب رسالت کو دنیا کی کھوٹی قدروں سے بالکل الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ حقیقت کو سمجھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ اللہ کے ہاں حقیقی قدریں کیا ہیں تاکہ ان کے سامنے دنیا کی ظاہری قدریں الگ ہوجائیں اور حقیقی قدریں صاف اور ستھری ہوکر واضح ہوجائیں تاکہ رسول اور رسالت اپنی اصلی شکل میں ، بغیر کسی ملمع کاری کے ان کے سامنے ہوں چاہے وہ قبول کریں یا نہ کریں۔ چناچہ کہا جاتا ہے :
وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ :…
Read the full tafseer →5 کفار نے نوح (علیہ السلام) کو کہا تھا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو، جتھے اور دولت کے اعتبار سے بھی کچھ امتیاز نہیں رکھتے، اس کا جواب نہایت متانت و انصاف کے ساتھ دیتے ہیں کہ بیشک جیسا امتیاز تم دیکھنا چاہتے ہو اس کا ہم دعویٰ نہیں رکھتے، بلاشبہ میں ایک بشر ہوں، فرشتہ نہیں۔ نہ خدا نے اپنے سارے خزانے میرے تصرف و اختیار میں دے دیے ہیں، نہ تمام غیب کی باتوں پر مطلع کیا گیا ہوں، لیکن ان تمام باتوں کے اعتراف کے ساتھ تمہاری طرح یہ کبھی نہ کہوں گا کہ جو لوگ تمہاری نگاہ میں معیوب و حقیر ہیں (یعنی میں اور میرے رفقاء) ان کو خدا ہرگز کوئی خیر (بھلائی) نہیں دے سکتا۔ مثلا ان میں سے کسی کو نبوت و حکمت عطا فرما دے…
Read the full tafseer →آیت 31 وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ
میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ اللہ کے خزانوں پر میرا اختیار ہے۔ یہ وہی بات ہے جو ہم سورة الانعام آیت 50 میں محمد رسول اللہ کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔
وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا
کیا معلوم اللہ کے ہاں وہ بہت محبوب ہوں ‘ اللہ انہیں بہت بلند مراتب عطا کرے اور اخروی زندگی میں فَرَوْحٌ وَّرَیْحَانٌ وَّجَنَّتُ نَعِیْمٍ الواقعہ کا مستحق ٹھہرائے۔
اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ
یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اپنے ایمان کے دعوے میں کتنا…
Read the full tafseer →38 جاہلانہ معیار صداقت کی تردید :۔ جاہل قسم کے منکرین حق کے نزدیک کسی نبی کی صداقت کے معیار عجیب قسم کے ہوتے ہیں مثلاً یہ کہ اس سے خرق عادت واقعات یعنی معجزات کا اکثر صدور ہوتا ہو وہ مٹی پر نظر التفات کرے تو وہ سونا بن جائے وہ یہ بھی بتاسکے کہ فلاں چوری فلاں چور نے فلاں وقت کی تھی اسے طالب دنیا بھی نہ ہونا چاہیے کہ وہ عام لوگوں کی طرح کھاتا پیتا اور چلتا پھرتا ہو اور نکاح وغیرہ بھی کرے بلکہ اسے دنیا سے دلچسپی نہ ہونا چاہیے۔ اس آیت میں اسی جاہلانہ معیار صداقت کی تردید کی گئی ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی زبان سے کفار کے ایسے مطالبات کا دو ٹوک فیصلہ سنا دیا گیا ہے کہ میرا ایسی باتوں کا ہرگز کچھ…
Read the full tafseer →43۔ یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے مخاطبین کے ایک ایک شبہ کا ازالہ فرما رہے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ میں نہ اللہ کی خزانوں کا خزانچی ہوں کہ دنیوی نعمتوں میں سے جو جس کو چاہوں اسے دلادوں اور نہ کاہنوں کی طرف غیب دانی کا دعوی رکھتا ہوں، اور نہ دیوتا کی قسم سے ہوں اور نہ (ان) عوام ہی کی قسمت کا ذمہ لئے ہوں پیغمبر کی اس تقریر میں وقت کی ایک ایک گمراہی کا رد موجود ہے۔ (آیت) ” لااقول لکم عندی خزآئن اللہ “۔ جاہلی قومیں بس یہی چاہتی ہیں کہ جس کا دامن پکڑیں اس کے وسیلہ سے دنیوی فلاح و ترقی بھی ہر قسم کی حاصل ہوجائے۔ (آیت) ” ولآ اعلم الغیب “۔ جاہلی قوموں نے بزرگی کا ایک لازمہ غیب دانی کو بھی سمجھا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…
Read the full tafseer →ولا اقوال لکم عندي خزآئن اللہ اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے دئیے ہوئے رزق کے ذخیرے میرے پاس جمع ہیں۔ یعنی مجھے اس کا دعویٰ نہیں کہ میں تم پر مالی فضیلت رکھتا ہوں اور میرے پاس خداداد مال کے خزانے ہیں۔
ولا اعلم الغیب اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب سے واقف ہوں کہ تم کو میری اس بات پر تعجب ہو اور تم مجھے جھوٹا سمجھو۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں غیب داں نہیں کہ ان لوگوں کا بغیر غور و تامل کے محض سطحی طور پر ایمان لانا مجھے معلوم ہوجائے۔
ولا اقول انی ملک اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں کہ تم انکار کرسکو ‘ اور تم کو یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ تو تو ہماری طرح آدمی ہے ‘ فرشتہ نہیں۔
ولا اقول…
Read the full tafseer →(31) اور میں اس بات کا بھی دعوی نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کے رزق کے تمام خزانوں کی چابیاں میری پاس ہیں، اور نہ غیب کی باتیں جاننے کا میں دعوے دار ہوں کہ کب عذاب نازل ہوگا اور نہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔
اور جو لوگ تمہاری نگاہوں میں کم تر ہیں اور تمہیں وہ جچتے نہیں میں ان کی بابت یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ تصدیق ایمان کے بدلے میں ان کو عزت واکرام نہ دے گا، ان کے دلوں میں جو تصدیق ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی اچھی طرح جاتنا ہے تو اگر میں ان کو اپنے سے دور کردوں تو خود کو بہت ہی نقصان پہنچاؤں۔
Read the full tafseer →وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ۔۔ : یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظر آتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے برتر نہیں پاتے۔ اس پر نوح ؑ فرماتے ہیں کہ ہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں، نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں، یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے مجھے سیدھے راستے کی ہدایت بخشی ہے۔ میرا یہ دعویٰ ناقابل تردید ہے، اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
آیت نمبر 28 تا 31
قولہ تعالیٰ : قال یقوم اریتم ان کنت علیٰ بینۃٍ من ربی یعنی یقین پر، یہ ابوعمران جونی کا قول ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ معجزہ پر سورة انعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ واٰتٰئنی رحمۃً من عبدہٖرحمت سے مراد
نبوت و رسالت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ (نبوت و رسالت) مخلوق پر رحمت ہے۔
اور ایک قول کے مطابق رحمت سے مراد دلائل کے ساتھ اللہ کی طرف ہدایت دینا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ایمان اور اسلام ہے۔ فعبیت علیکم یعنی رسالت اور ہدایت تم سے پوشیدہ ہوگئی ہو اور تم اسے سمجھ سکے ہو۔ عمیت عن کذا اور عمی علی کذا کہا جاتا ہے یعنی میں اسے نہ سمجھ سکا۔ اور معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو…
Read the full tafseer →وَلَآ اَقُوْلُ [ اور میں نہیں کہتا ] لَكُمْ [ تم سے (کہ ) ] عِنْدِيْ [ میرے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ [ اللہ کے خزانے ہیں ] وَلَآ اَعْلَمُ [ اور میں نہیں جانتا ] الْغَيْبَ [ غیب کو ] وَلَآ اَقُوْلُ [ اور میں نہیں کہتا ] اِنِّىْ [ کہ میں ] مَلَكٌ [ کوئی فرشتہ ہوں ] وَّلَآ اَقُوْلُ [ اور میں نہیں کہتا ] لِلَّذِيْنَ [ ان کے لئے جن کو ] تَزْدَرِيْٓ [ حقیر دیکھتی ہیں ] اَعْيُنُكُمْ [ تمہاری آنکھیں ] لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ [ (کہ ) ہرگز نہیں دے گا ان کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] خَيْرًا ۭ [ کوئی بھلائی ] اَللّٰهُ [ اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جاننے والا ہے ] بِمَا [ اس کو جو ] فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ ښ [ ان کے جیوں میں…
Read the full tafseer →وہ لوگ نبی کے اندر غیب دانی کی صفت بھی دیکھنا چاہتے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی صاف فرما دیا کہ (وَلاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ ) (میں غیب نہیں جانتا) اور غیب کا جاننا بھی ان امور میں سے نہیں ہے جن کی بنیاد پر نبوت دی جاتی۔ یہ جو انہوں نے کہا تھا کہ ہم تمہیں اپنے ہی جیسا آدمی دیکھ رہے ہیں اس کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم نبی ہوتے تو ہماری طرح سے کیوں ہوتے ‘ بشری صفات سے خالی ہوتے تمہارے اندر فرشتوں جیسی صفات ہوتیں ‘ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کا بھی جواب دے دیا اور فرمایا (وَلَا اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ) (میں یہ نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں) نبی ہونے کے لئے نہ فرشتہ ہونا ضروری ہے۔ نہ بشریت موانع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او
قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔
اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…
Read the full tafseer →32: یہ تین سوالات مقدرہ کے جوابات ہیں۔ مشرکین کہتے اگر نوح (علیہ السلام) سچا پیغمبر ہے تو اس کے پاس دولت کے خزانے کیوں نہیں اور وہ غیب کی خبریں اور پوشیدہ امور ہمیں کیوں نہ بتاتا نیز وہ بشر ہے اور کھاتا پیتا ہے۔ جواب دیا بیشک اللہ کے خزانوں کا میں مالک نہیں ہوں میں تو اللہ کا پیغمبر ہوں اور میرا کام تبلیغ وانذار ہے اور نہ میں عالم الغیب ہوں کہ جو بات چاہوں اور جب چاہوں جان لو اور نہ میں فرشتہ اور مافوق البشر ہونے کا مدعی ہوں۔ بلکہ میں بشر اور انسان ہوں لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے کمال انسانیت کے بلند ترین مقام (نبوت) پر سرفراز فرمایا ہے۔ یا یہ جمہ معترضہ ہے اور سوالات آنحضرت ﷺ سے متعلق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
نبی کی وجہ امتیاز
جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی (آیت) ” ان لاتعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر غیرا للہ کی عبادت سے باز نہیں آئو گے تو سخت دن کی گرفت میں آجائو گے۔ اس پر قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو اور تمہارے پیچھے چلنے والے کمی کمین لوگ ہیں جو سرسری رائے رکھنے والے بےعقل لوگ ہیں ، ان کی موجودگی میں ہم تمہیں کیسے نبی مان لیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت بھی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہم تمہاری سیادت کو تسلیم کرلیں ، ہم تو تمہیں دعوی نبوت میں جھوٹا خیال کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَہُمُ اللہُ خَيْرًا 0ۭ اَللہُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ 0ۚۖ اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِــمِيْنَ 31
خزن
الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21]
( خ زن ) الخزن
کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَلاَ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ تَزْدَرِیْ ٓ اَعْیُنُُکمْ لَنْ یُّؤْتِیَھُمُ اللّٰہُ خَیْرًا طاَللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا فِْیٓ اَنْفُسِھِمْ ج صلے اِنِّیْ ٓاِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 31)
(اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور نہ ہی یہ کہتا ہوں کہ جن لوگوں کو تمہاری نگاہیں حقیر جانتی ہیں انھیں اللہ تعالیٰ ہرگز کوئی بھلائی نہیں دے گا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے۔ ( اگر میں ایسا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو چوتھا جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کو فقط اتنی دعوت دی تھی کہ اے لوگو ! اللہ ہی سب کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ لہٰذا ادھر ادھر کے واسطے چھوڑ کر براہ راست صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ مگر قوم نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے حضرت نوح (علیہ السلام) پر اعتراضات کیے اور ان سے مختلف قسم کے مطالبات کرنے شروع کردیئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کے بالترتیب یہ جواب دیئے :
1۔ اے میری قوم ! اللہ نے مجھے اپنی رحمت کے ساتھ منتخب فرماکر حق کے ٹھوس اور واضح دلائل دیئے ہیں۔ اگر تم جان بوجھ کر انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تو میں ہدایت کو کس…
Read the full tafseer →31: وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّّٰہِ (اور نہ میں کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں) کہ مالداری کی وجہ سے تم پر مالداری کا دعوٰی کروں یہانتک کہ تم یہ کہہ کر میری فضیلت کا انکار کرو۔ مانری لکم علینا من فضل (ہود۔ 27) (ہم تم میں اپنے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں دیکھتے) وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ (اور نہ میں غیب جانتا ہوں) یہاں تک کہ مجھے اطلاع ہوجائے دلوں کے اندر اور نفوس میں جو میری اتباع ہے۔ (تمہارے ظاہر کرنے سے معلوم ہوگی) اس کا عطف عندی خزائن اللّٰہپر ہے۔ ای لا اقول عندی خرائن اللہ ولا اقول انا اعلم الغیب، وَلَا اَقُوْلُ اِنِّیْ مَلَکٌ (نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں)…
Read the full tafseer →تفسیر : 31” ولا اقول لکم عندی خزائن اللہ “ کہ جو تم مطالبہ کرو گے وہ میں لے آئوں گا ۔” ولا اعلم الغیب “ کہ جو تم چاہو تمہیں بتلا دوں اور بعض نے کہا ہے ان لوگوں نے جب نوح (علیہ السلام) کو کہا جو لوگ آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ہیں وہ صرف ظاہر میں آپ کے متبع ہیں ۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا میں تمہیں نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے غیب کے خزانے ہیں جن میں سے لوگوں کی پوشیدہ باتیں جان لیتا ہوں اور نہ ہی میں غیب جانتا ہوں کہ جو لوگ دل میں چھپاتے ہیں اس کو جان لوں میرے ذمہ تو ان کے ظاہری ایمان کو قبول کرتا ہے۔ ” ولا اقول انی ملک “ یہ ان کے قول ” وما نراک الا بشر امثلا “ کا…
Read the full tafseer →31۔ اوپر کی آیت میں جو نوح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ کہا تھا کہ اپنے اوپر ہم تمہاری کوئی فضیلت نہیں دیکھتے اور تم ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو یہ اسی کا جواب نوح (علیہ السلام) نے ان کو دیا کہ خدا کے خزانے میرے قبضہ میں نہیں اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں نہ کوئی فرشتہ ہوں جو تم میری فضیلت سمجھو میری فضیلت تو خدا کی طرف سے یہ ہے کہ اس نے مجھے معجزے عنایت کئے ہیں اور جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے تم ان کو ذلیل و خوار سمجھتے ہو اگر ان کا باطن ویسا ہی ہے جیسا ظاہر ہے تو چاہے کوئی کتنا ہی ان کو برا کہے حقیر سمجھے مگر خدا کے نزدیک ان کا بڑا مرتبہ ہے۔ خدا تو ان کے دل کی باتوں کو جانتا ہے…
Read the full tafseer →(ولا اقول لکم عندی خزائن اللہ ) ” اور میں تم سے نہیں کہتا ہے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں “ یعنی میری انتہا یہ ہے کہ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول ہوں، میں تمہیں خوشخبری سناتا ہوں اور تمہیں برے انجام سے ڈراتا ہوں، اس کے علاوہ میرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں۔ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے نہیں ہیں کہ میں ان میں تصرف کروں جس کو چاہوں عطا کروں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں۔ (ولا اعلم الغیب) ” اور میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں “ کہ میں تمہارے سینے کے بھیدوں اور تمہارے ” رازدروں “ کے بارے میں تمہیں آگاہ کرسکوں۔ (ولا اقول انی ملکٌ) ’ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ “ یعنی میں اپنے مرتبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →77 ۔ پیغمبر دنیاوی خزانوں کے دعویدار نہیں ہوتے : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ جو تم کو یہ کہنے کا موقع مل سکے کہ تم کو ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں کہ تمہارے پاس دنیاوی مال و دولت نہیں۔ جیسا کہ تمہارا کہنا (وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ ) کہ میں نے تو اس طرح کا کوئی دعوی کیا ہی نہیں۔ اعجوبہ پرست لوگوں کا ہمیشہ یہی حال رہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کو خدا کے خزانوں کا مالک ہونا چاہیے۔ وہ ان میں سے جو چاہے اور جب چاہے صرف و خرچ کرے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے ایسے ہی جاہل مادہ پرستوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیات 25 تا 35
اسرار و معارف
بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔
بشریت ونبوت
مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
ف 12 ۔ یہ اس بات کا جواب ہے جو ان لوگوں نے کہی تھی کہ ہمیں تو تم اپنے جیسے ایک انسان نظرآتے ہو اور یہ کہ ہم تم کو کسی بات میں اپنے سے زیادہ نہیں پاتے۔ اس پر حضرت نوح فرماتے ہیں کہ وہاں میں واقعی تم ہی جیسا ایک بشر ہوں نہ میرے پاس اللہ کے خزانے میں نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں اور نہ میں فرشتہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں۔ یعنی اس قسم کی کوئی فوقیت مجھ میں نہیں ہے۔ میرا جو بھی دعویٰ ہے وہ صرف اتنا ہے کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور اس نے اپنے سیدھے راستے کی مھے ہدایت بخشی ہے میرا یہ دعویٰ ناقابلِ تردید ہے۔ اس کی تم جس طرح چاہو آزمائش کرلو۔ (از وحیدی) ۔
13 ۔ یعنی مجھ سے یہ امید نہ رکھو کہ محض…
Read the full tafseer →(11:31) تزدری۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ ازدراء (افتعال) سے زری مادہ (باب افتعال میں ت کود سے بدلا گیا ہے) تمہاری آنکھیں دیکھتی ہیں۔ (جنہیں تمہاری نظریں) حقیر اور بےوقعت دیکھتی ہیں۔ یہ اصل میں تزدریہم اعینکم تھا۔ (یعنی مفعول محذوف ہے) بمعنی تم انہیں حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو۔ زری علی۔ کسی پر عیب لگانا۔
لن یؤتیہم اللہ خیرا۔ کہ اللہ ان کو بھلائی نہیں دیگا۔ اجر نہیں دے گا۔
انی اذا لمن الظالمین۔ ای ان قلت شیئا من ذلک انی اذا لمن الظالمین (اگر میں کوئی ایسی بات کہوں تو میں ظالموں میں سے ہوجاؤں گا)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
لغات القرآن آیت نمبر 31 تا 34
خزائن (خزانے) تزدری (تم حقیر، ذلیل سمجھتے ہو) اعین (عین) آنکھیں لن یوتی (وہ ہرگز نہ دے گا) انفس (نفس) ، جانیں) جادلت (تو جھگڑ چکا) جدال (جدل) جھگڑے ، بحثیں معجزین (عاجز کرنے والا، بےبس کرنے والا) نصحی (میری نصیحت) یغوی (وہ بھٹکاتا ہے)
تشریح : آیت نمبر 31 تا 34
گزشتہ آیات میں حضرت نوح کا واقعہ ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنی قوم کو ایک طویل عرصہ تک اللہ کا پیغام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش فرمائی ۔ حضرت ابن عباس کی روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کو چالیس سال کی عمر میں خلعت نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس وقت سے لے کر ساڑھے نو سو سال تک آپ مسلسل دین اسلام کی وضاحت…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ
اوپر کی آیت میں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی قوم نے یہ کہا تھا اپنے اوپر ہم تمہاری کوئی فضیلت نہیں دیکھتے اور تم ہم سے زیادہ عزت دار نہیں ہو یہ اسی کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان کو دیا کہ خدا کے خزانے میرے قبضے میں نہیں اور نہ ہی غیب کی باتیں جانتا ہوں۔ نہ کوئی فرشتہ ہوں جو تم میری فضیلت سمجھو۔ میری فضیلت تو خدا کی طرف سے یہ ہے کہ اس نے مجھے معجزے عنایت کئے ہیں اور جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے تم ان کو ذلیل و خوار سمجھتے ہو۔ اگر ان کا باطن ویسا ہی ہے جیسا ظاہر ہے مگر خدا کے نزدیک ان کا بڑا مرتبہ ہے۔ خدا تو ان کے دل کی باتوں کو جانتا ہے آخرت میں…
Read the full tafseer →[16] نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کی نبوت کے بارے میں تین شبہ کئے تھے۔ ایک شبہ تو یہ تھا کہ تم ہماری نظر میں انسان ہو اس پر آپ نے جواب دیا کہ میں کب کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ یعنی میں نے اپنی دعوت کو فرشتہ ہونے پر موقوف نہیں کیا تھا کہ تمہیں اعتراض کا موقع ملتا کہ جتاتے تو ہو فرشتہ اور ہو بشر۔ ان کا دوسرا شبہ یہ تھا کہ ہم تم میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں پاتے، یعنی تم مال و دولت میں ہم سے زیادہ نہیں ہو۔ جواب میں فرمایا کہ تمہارا یہ اعتراض بےمحل ہے کیونکہ میں نے تم سے کبھی یہ نہیں کہا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ میں نے کبھی مال و دولت کی فضیلت نہیں جتائی۔ ان کا تیسرا شبہ یہ تھا کہ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
پہلے اعتراض کا جواب :
(ف 2) بشریت کے متعلق اعتراض کا جواب یہ ہے کہ انبیاء نے کبھی یہ دعوے ہی نہیں کیا کہ وہ عام انسانوں کی طرح حوائج بشری سے متصف نہیں ، یا ان کی ضروریات انسانی ضروریات سے مختلف ہیں ، چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں کمبختو ! میں نے کب یہ کہا ہے کہ میرے پاس خزانے میں اور میں بہت بڑی دولت کا مالک ہوں ، میں تو اللہ کا رسول ہوں ، رسول اگر مالدار نہ ہو تو بھی معارف وحکم کے خزانوں سے اس کا دل معمور ہوتا ہے ، وہ فطرت کے لحاظ سے فرشتہ نہیں ہوتا مگر فرشتے اس کی تقدیس کے معترف ہوتے ہیں وہ غیب نہیں جانتا ، مگر اللہ کے عنایت کہے ہوئے علوم میں وہ کائنات میں کسی دوسرے کو اپنا شریک…
Read the full tafseer →31 اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ کے تمام خزانے میرے پاس ہیں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کی تمام باتیں جانتا ہوں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں اور جو غریب مسلمان تمہاری نگاہ میں حقیر ہیں اور جن کے اخلاص پر تم کو شبہ ہے ان کے متعلق تمہاری طرح یہ بھی نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز کوئی بھلائی اور ثواب نہیں دے گا ان کے دل میں جو کچھ ہے اس کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے اگر میں ایسی کوئی بات کہوں تو یقینا میں اس وقت بےانصافوں میں سے ہوجائوں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں وے جو کہتے تھے کہ تم میں ہم آپ سے برائی نہیں دیکھتے سو فرمایا کہ میں فرشتہ نہیں غیب کی خبر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
ف 1۔ کیونکہ بےدلیل دعوی کرنا گناہ کی بات ہے۔
Read the full tafseer →دیکھو ، میں تم کو یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں
42 ؎ زیر نظر آیت میں نوح (علیہ السلام) کی وہ تقریر نقل کی گئی ہے جو انہوں نے اپنی قوم کے سب اعتراضات سننے کے بعد ان کو کچھ اصولی ہدایات دینے کیلئے ارشاد فرماء جس میں بتلایا گیا ہے کہ نبوت و رسالت کیلئے وہ چیزیں ضروری نہیں جو تم نے سمجھ رکھی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ اللہ کے خزانے میرے ہاتھ میں ہیں اس میں لوگوں کے اس خیال کی تردید مقصود ہے جو یہ خیال رکھتے ہیں کہ جب اللہ کی طرف سے رسول ہو کر آئے ہیں تو ان کے ہاتھ میں خزانے ہونے چاہئیں جن سے لوگوں کو اپنی تحریک کیساتھ وابستہ کرنے کیلئے وقتاً فوقتاً خرچ کرتے رہیں ۔…
Read the full tafseer →Reported in the fifth verse (31) there is an address that Sayyidna Nuh (علیہ السلام) gave before his people to announce some matters of principle after he had heard their objections. In this address it has been stressed that the mission of a prophet and messenger does not depend on things they think are necessary for it.
For instance, first it was said: وَلَا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ (And I do not say to you that with me are the treasures of Allah). This carries a refutation of their idea that someone coming from Allah as His messenger should have brought treasures with him…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–33
37. This is a rejoinder to the Prophet Noah's opponents. His opponents tried to discredit him by saying that he appeared to them to be merely an ordinary human being just like any one of them. In response to this Noah acknowledges that he is indeed nothing more than a human being, and that he has never claimed to be anything other than that. Hence, any attack on him on the grounds that he was merely a human being was pointless.
Noah (peace be on him), like other Prophets, had claimed no more than what God had intimated to him about the Straight Way comprising right beliefs and sound…
Read the full tafseer →