Explained with ayahs 29–30
دعوت حق سب کے لیے یکساں ہے
آپ اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں جو کچھ نصیحت تمہیں کر رہا ہوں جنتی خیر خواہی تمہاری کرتا ہوں اسکی کوئی اجرت تو تم سے نہیں مانگتا، میری اجرت تو اللہ کے ذمے ہے۔ تم جو مجھ سے کہتے ہو کہ ان غریب مسکین ایمان والوں کو میں دھکے دیدوں مجھ سے تو یہ کبھی نہیں ہونے کا۔ یہی طلب آنحضرت ﷺ سے بھی کی گئی تھی جس کے جواب میں یہ آیت اتری (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ 52) 6۔ الانعام :52) یعنی صبح شام اپنے رب کے پکارنے والوں کو اپنی مجلس سے نہ نکال۔ اور آیت میں ہے (وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
سورة هُوْد 35
یعنی میں ایک بےغرض ناصح ہوں۔ اپنے کسی فائدے کے لیے نہیں بلکہ تمہارے ہی بھلے کے لیے یہ ساری مشقتیں اور تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں۔ تم کسی ایسے ذاتی مفاد کی نشان دہی نہیں کرسکتے جو اس امر حق کی دعوت دینے میں اور اس کے لیے جان توڑ محنتیں کرنے اور مصیبتیں جھیلنے میں میرے پیش نظر ہو۔ (ملاحظہ ہو المومنون، حاشیہ 70۔ یٰس حاشیہ 17۔ الشوریٰ ، حاشیہ 41)
سورة هُوْد 36
یعنی ان کی قدر و قیمت جو کچھ بھی ہے وہ ان کے رب کو معلوم ہے اور اسی کے حضور جا کر وہ کھلے گی۔ اگر یہ قیمتی جواہر ہیں تو میرے اور تمہارے پھینک دینے سے پتھر نہ ہوجائیں گے، اور اگر یہ بےقیمت پتھر ہیں تو ان کے مالک کو اختیار ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
دوسرے یہ بتلایا گیا کہ تم جو ایمان قبول کرنے کے لئے یہ شرط پیش کرتے ہو کہ میں غریب لوگوں کو اپنے پاس سے نکال دوں تو سمجھ لو کہ یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ یہ لوگ اگرچہ غریب ہیں مگر بارگاہ رب العزت میں ان کی رسائی اور اعزاز ہے ایسے لوگوں کو نکالنا کوئی عقل کا کام نہیں،
اور مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر بالفرض میں ان کو نکال دوں تو قیامت کے روز یہ لوگ جب اپنے رب کے سامنے جائیں گے اور فریاد کریں گے تو میرے پاس کیا جواب ہوگا، چوتھی آیت کا یہی مضمون ہے کہ اگر میں ان کو نکال دوں تو مجھے خدا کے عذاب سے کون بچائے گا۔ آخر میں فرمایا کہ یہ سب تمہاری جہالت ہے کہ تم آدمیت کو نبوت کے…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۭ اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ۔ یہ حضرت نوح کی طرف سے اپنی قوم کے سرداروں کی رعونت کا جواب ہے کہ اگر تم میری بات سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہو تو اچھی طرح سمجھ لو کہ اس میں میرا نقصان کوئی نہیں ہے۔ سرسر تمہارا اپنا ہی نقصان ہے۔ میں جو کچھ تمہارے آگے پیش کر رہا ہوں اگر میں اس کے عوض میں تم سے کسی اجرت کا طالب ہوتا تب تو تمہاری اس بیزاری کی مجھے پروا ہوتی کہ تم نے میرے مال کی قدر نہیں کی اور میری دکان بیٹھ جائے گی۔…
Read the full tafseer →29۔ 1 تاکہ تمہارے دماغوں میں یہ شبہ نہ آجائے کہ اس دعوائے نبوت سے اس کا مقصد تو دولت دنیا اکٹھا کرنا ہے۔ میں تو یہ کام صرف اللہ کے حکم پر اسی کی رضا کے لئے کر رہا ہوں، وہی مجھے اجر دے گا۔
29۔ 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قوم نوح ؑ کے سرداروں نے بھی معاشرے میں کمزور سمجھے جانے والے اہل ایمان کو حضرت نوح ؑ سے اپنی مجلس یا اپنے قرب سے دور رکھنے کا مطالبہ کیا ہوگا، جس طرح روسائے مکہ نے رسول اللہ سے اس قسم کا مطالبہ کیا تھا، جس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی آیت نازل فرمائیں تھیں ' اے پیغمبر ان لوگوں کو اپنے سے دور مت کرنا جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (سورة ، الا نعام 52) (وَلَا تَطْرُدِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →اے برادران قوم " جن لوگوں کو تم رذیل کہتے ہو یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے دعوت دی اور انہوں نے میری دعوت قبول کرلی اور ایمان لے آئے اور میرا مطالبہ لوگوں سے فقط یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اس کے سوا میرا ان پر کوئی حق نہیں ہے۔ میں جو دعوت دے رہا ہوں ، اس کے عوض میں ان سے کوئی معاضہ طلب کرنے کا حقدار نہیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو میں فقراء کے مقابلے میں امراء کے درپے ہوجاتا۔ میرے نزدیک تمام لوگ برابر ہیں ، فقیر ہوں کہ امیر۔ جو شخص لوگوں کی دولت میں دلچسپی نہیں رکھتا اس کے نزدیک فقراء اور امراء ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔
اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ " میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے " صرف اللہ کے…
Read the full tafseer →2 یعنی میں تبلیغ کے کام کی کوئی تنخواہ تم سے نہیں مانگتا، جو مالی خود غرضی کا شبہ ہو۔ میں اپنے پروردگار کا نوکر ہوں اسی کے یہاں سے مزدوری ملے گی بحمد اللہ نہ مجھے تمہارے مال کی طلب ہے نہ ضرورت، پھر غریبوں کو چھوڑ کر مالداروں کی طرف کیوں جھکوں۔ اگر تم میرے اتباع کو محض ان کی افلاس یا پیشہ کی وجہ سے حقیر و ذلیل سمجھتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ میں وہ نہیں جو دولت ایمان کے سرمایہ داروں کو ظاہری خستہ حالی کی بناء پر جانوروں کی طرح دھکے دے کر نکال دوں انھیں ایک روز اپنے پروردگار سے ملنا ہے۔ وہ میری شکایت اس کے دربار میں کریں گے کہ آپ کے پیغمبر نے متکبر دنیا داروں کی خاطر ہم غریب وفاداروں کو نکال دیا…
Read the full tafseer →آیت 29 وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْءَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً ط اِنْ اَجْرِیَ الاَّ عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
جن لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ وہ ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ‘ وہ سب اہل ایمان ہیں ‘ اور اس لحاظ سے میرے نزدیک وہ بہت اہم اور معزز لوگ ہیں۔ اب میں تمہارے کہنے پر ان کو خود سے دور نہیں ہٹا سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
37 نبوت اور رسالت پر اجر ؟ میں نہ تمہارا تنخواہ دار ہوں نہ تم سے کسی معاوضہ کا مطالبہ کرتا ہوں پھر تم مجھ سے یہ مطالبہ کیسے کرسکتے ہوں کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انھیں میں اپنے ہاں سے رخصت کردوں تم یہ کیسی جہالت کی باتیں کرتے ہو۔ میں انھیں اس لحاظ سے تم سے بدرجہا بہتر سمجھتا ہوں کہ انہوں نے حق کو حق سمجھ کر قبول کرلیا ہے یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں تمہاری طرح سرکش اور ہٹ دھرم نہیں اللہ کے ہاں تو معزز وہ ہے جو ایمان دار اور پرہیزگار ہو ذات کا اونچا یا نیچا ہونا چنداں فائدہ نہیں دیتا اور اگر بالفرض میں تمہارے کہنے پر انھیں اپنے ہاں سے نکال دوں تو میں تو خود اللہ کے ہاں مجرم ٹھہرتا ہوں پھر اللہ…
Read the full tafseer →40۔ (جیسا کہ تم چاہتے ہو) (آیت) ” ان اجری الا علی اللہ “۔ یعنی میرا سہارا تو صرف رضاء الہی اور اجر اخروی ہے۔ (آیت) ” لا اسئلکم علیہ مالا “۔ میں کیا اپنے موعظت و دعوت کی کوئی فیس تم سے طلب کررہا ہوں جو تم اس کی گراں باری سے کچلے جاتے ہو۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ عبادت واجب پر معاوضہ لینا ناجائز ہے۔ (آیت) ” وما انا بطارد الذین امنوا “۔ محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ مسکینوں اور کم حیثیت والوں کو حضوری مجالس اور التفات خاص سے محروم نہ رکھنا عین سنت انبیاء ہے)
41۔ (کہ توحید جیسے عقیدہ سے جو سرتا سر فطرت سلیم کے عین مطابق ہے گزیز کئے چلے جارہے ہو) (آیت) ” انھم ملقوا ربھم “۔ یعنی یہ لوگ عزت ومقبولیت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…
Read the full tafseer →ویقوم لا اسئلکم علیہ مالاً اور اے قوم والو ! میں تم سے تبلیغ کے عوض کسی مال کا تو طالب ہوں نہیں جس کا دینا تم پر بار گذرے اور نہ دو تو مجھ پر بار گذرے۔
ان اجری الا علی اللہ (چونکہ اللہ نے اپنی مہربانی سے تبلیغ و ہدایت کا معاوضہ دینے کا وعدہ فرما لیا ہے ‘ اسلئے) میرا اجر تو بس اللہ کے ذمے ہے۔
اونچے طبقہ کو نچلے طبقے کے ساتھ بیٹھنا گوارا نہ تھا ‘ اسلئے انہوں نے کہا : ہم ایمان اس وقت لائیں گے جب تم ان رذیلوں کو اپنے پاس سے نکال دو گے۔ اس درخواست کے جواب میں حضرت نوح نے فرمایا :
وما انا بطارد الذین امنوا انھم ملقوا ربھم اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں ‘ میں ان کو نکالنے والا نہیں (کیونکہ) یہ لوگ…
Read the full tafseer →(29) اور اے قوم میں تم سے اس تبلیغ توحید پر کوئی معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ ہے اور تمہارے کہنے سے میں تو ان ایمان والوں کو نہیں نکالتا یہ لوگ تو اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں، اس چیز پر وہاں جا کر یہ مجھ سے مخاصمہ کریں گے لیکن تم ہی لوگ خواہ مخواہ جہالت کررہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا۔۔ : اور اے میری قوم ! میں اللہ کا یہ پیغام تمہیں پہنچانے پر تم سے کسی اجرت کا مطالبہ نہیں کرتا، مبادا تم سمجھو کہ نوح نے مال کھینچنے کے لیے نبوت کا بہانہ کھڑا کرلیا۔ میری اجرت تو اللہ کے سوا کسی کے ذمے بھی نہیں اور نہ دنیا کی کسی چیز کا تم سے مطالبہ ہے۔
وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : یعنی جس طرح اللہ کی رحمت (اسلام) کے دامن میں آنے سے جب تک تم نفرت اور کراہت کرتے رہو گے، میں تمہیں زبردستی اسلام لانے پر مجبور نہیں کرسکتا، اسی طرح جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے، چونکہ وہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں، اس لیے میں انھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
آیت نمبر 28 تا 31
قولہ تعالیٰ : قال یقوم اریتم ان کنت علیٰ بینۃٍ من ربی یعنی یقین پر، یہ ابوعمران جونی کا قول ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ معجزہ پر سورة انعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ واٰتٰئنی رحمۃً من عبدہٖرحمت سے مراد
نبوت و رسالت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ (نبوت و رسالت) مخلوق پر رحمت ہے۔
اور ایک قول کے مطابق رحمت سے مراد دلائل کے ساتھ اللہ کی طرف ہدایت دینا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ایمان اور اسلام ہے۔ فعبیت علیکم یعنی رسالت اور ہدایت تم سے پوشیدہ ہوگئی ہو اور تم اسے سمجھ سکے ہو۔ عمیت عن کذا اور عمی علی کذا کہا جاتا ہے یعنی میں اسے نہ سمجھ سکا۔ اور معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو…
Read the full tafseer →[وَ (اور) يٰقَوْمِ (اے میری قوم) لَآ (نہیں) اَسْـــَٔـلُكُمْ (میں مانگتا تم سے )] [عَلَيْهِ [ اس پر ] مَالًا ۭ [ کوئی مال ] اِنْ [ نہیں ہے ] اَجْرِيَ [ میرا اجر ] اِلَّا [ مگر ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] وَمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] بِطَارِدِ الَّذِيْنَ [ ان کو دھتکارنے والا جو ] اٰمَنُوْا ۭ [ ایمان لائے ] اِنَّهُمْ [ بیشک وہ لوگ ] مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ [ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں ] وَلٰكِنِّيْٓ [ اور لیکن میں ] اَرٰىكُمْ [ دیکھتاہوں تم کو ] قَوْمًا [ ایک قوم کہ ] تَجْـهَلُوْنَ [تم لوگ غلط عقائد رکھتے ہو ]
Read the full tafseer →سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا جو ایمان لائے تھے اور دنیاوی اعتبار سے اونچے درجہ کے افراد نہ تھے (اور قوم کے بڑے لوگ چاہتے تھے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) انہیں اپنے پاس سے ہٹا دیں) (وَمَا اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) (جو لوگ ایمان لائے میں انہیں نہیں ہٹا سکتا) (اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ ) (بےشک وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں) یعنی وہ اللہ کے مقرب بندے ہیں کامیاب ہیں ان کا ایمان اللہ کے نزدیک معتبر ہے جس کی وہ انہیں جزا دے گا میں انہیں اپنے پاس سے ہٹا کر اللہ کو کیوں ناراض کروں۔ (وَلٰکِنِّیْ اٰرَکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ) (میں دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او
قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔
اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
31: میری قوم ! اس تبلیغ دعوت پر میں تم سے تنخواہ یا معاوضہ طلب نہیں کر رہا تاکہ تم پر اس کا بوجھ ہو اس کا معاوضہ مجھے اللہ کی طرف سے ملے گا جس کی میں ڈیوٹی دے رہا ہوں۔ باقی رہی یہ بات کہ تمہاری خاطر میں ان غرباء کو اپنے پاس سے ہٹا دوں جو ایمان لاچے ہیں تو بھی نہیں ہوسکتا۔ اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس جانے والے ہیں اگر میں ایسا کروں تو وہ خدا کے یہاں میری شکایت کریں گے فیشکوننی الیہ ان طردتھم (مدارک ج 2 س 142) یا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ مقربین بارگاہِ الہی ہیں اس لیے میں ان کو اپنی مجلس سے کیونکر اٹھا دو لا اطردھم ولا ابعدھم عن مجلسی لانھم من اھل الزلفی المقربون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
نبی کی وجہ امتیاز
جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی (آیت) ” ان لاتعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر غیرا للہ کی عبادت سے باز نہیں آئو گے تو سخت دن کی گرفت میں آجائو گے۔ اس پر قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو اور تمہارے پیچھے چلنے والے کمی کمین لوگ ہیں جو سرسری رائے رکھنے والے بےعقل لوگ ہیں ، ان کی موجودگی میں ہم تمہیں کیسے نبی مان لیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت بھی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہم تمہاری سیادت کو تسلیم کرلیں ، ہم تو تمہیں دعوی نبوت میں جھوٹا خیال کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →وَيٰقَوْمِ لَآ اَسْـــَٔـلُكُمْ عَلَيْہِ مَالًا 0 ۭ اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا 0ۭ اِنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـہَلُوْنَ 29
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
أجر
الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالاً ط اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَابِطَارِدِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ط اِنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَلٰکِنِّیْٓ اَرٰکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 29)
(اور اے میرے ہم قومو ! میں اس خدمت پر تم سے کسی مال کا سوال نہیں کرتا، میرا اجر تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور میں ان لوگوں کو ہرگز دھتکارنے والا نہیں جو ایمان لائے ہیں۔ یہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں بلکہ میں تو تم کو دیکھ رہا ہوں کہ تم جہالت میں مبتلا ہو۔ )
قوم کی نخوت پر چوٹ
بگڑی ہوئی قوموں کا تمام تر انحصار مال و دولت پر ہوتا ہے، وہ اسی میں اپنی زندگی خیال کرتے ہیں، وہ دیکھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی سطحی اور بےبنیاد گفتگو کا نہایت ہی مدبرانہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اے میری قوم کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کہ میں نے تمہارے سامنے جو دعوت پیش کی ہے اس کے کتنے واضح دلائل اپنے رب کی طرف سے پیش کیے ہیں، جہاں تک میرے بشرہونے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ میں واقعی بشرہی ہوں۔ لیکن اس میں بھی غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنافضل وکرم فرمایا ہے۔ اس نے تم سب میں سے مجھے ہی اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اگر تم جان بوجھ کر حقائق دیکھنے اور ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو میں کس طرح تم پر…
Read the full tafseer →29: وَیٰقَوْمِ لَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ (اور اے میری قوم میں تم سے اس پر نہیں مانگتا) تبلیغ رسالت پر۔ کیونکہ انی لکم نذیر کا مدلول یہی ہے۔ مَالًا (مال) یعنی بدلہ جس کی ادائیگی تم پر گراں ہو رہی ہو۔ اگر تم ادا کرو یا مجھ پر اگر تم انکار کرو۔ اِنْ اَجْرِیَ (نہیں ہے میری مزدوری)
قراءت : مدنی، شامی، ابو عمرو، حفص نے نصب یا سے پڑھا ہے۔
اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (مگر اللہ تعالیٰ پر اور میں ان لوگوں کو ہٹانے والا نہیں ہوں جو ایمان لائے ہیں) یہ کفار کے اس مطالبے کا جواب ہے کہ ان غرباء کے ساتھ ہم نہیں بیٹھ سکتے ان کو نکال دو تو تب تمہارے پاس بیٹھیں گے تو ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔” ویاقوم لا اسالکم علیہ مالا “ وحی اور رسالت کے پہنچانے پر ” ان اجری الا اعلیٰ اللہ وما انا بطارد الذین امنوا “ یہ دلیل ہے کہ انہوں نے نوح (علیہ السلام) سے مؤمنین کو ہٹانے کا مطالبہ کیا تھا۔” انھم ملا قوا ربھم “ یعنی قیامت میں اپنے رب کی طرف جانے والے ہیں تو وہ ان کو دھتکارنے والے کو بدلہ دے گا ۔” ولکنی ارا کم قوماً تجھلون “۔
Read the full tafseer →29۔ پھر نوح (علیہ السلام) نے اس بات کی تفصیل بیان کی کہ میں جو لوگوں کو راہ حق بتلاتا ہوں اور خدا کا پیغام پہنچاتا ہوں اس سے میرا منشأ یہ نہیں ہے کہ کوئی مجھے اس کی اجرت میں مال و دولت دے یہ نبوت کا دعویٰ ہرگز طلب دنیا کے لئے نہیں ہے جو تم کوئی تہمت مجھ پر دھر سکو گے یہ تو خالص خدا کے واسطے ہے۔ اس کا اجر بھی خدا ہی دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء پر یہ بات فرض ہے کہ وہ خالص دل کی نصیحت کے طور پر احکام الٰہی امت کے لوگوں کو پہنچا دیں۔ اب انبیاء اس نصیحت کے معاوضہ میں اگر امت کے لوگوں سے کچھ اجرت اور مزدوری لیویں تو وہ خالص دلی کی نصیحت کا موقع باقی نہیں رہتا اس واسطے وعظ و نصیحت کے معاوضہ…
Read the full tafseer →(ویقوم لا اسئلکم علیہ مالاً ) ” اسے میری قوم میں اس کے بدلے تم سے مال و زر کا خواہاں نہیں ہوں۔ “ یعنی میں تمہیں دعوت دینے پر تم سے کوئی مال اجر کے طور پر نہیں مانگتا جسے تم بوجھ سمجھو۔ (ان اجری الا علی اللہ ) ” میرا اجر تو صرف اللہ کے ذمے ہے “ اور گویا کہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ کمزور بےمایہ اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دیں۔ اس لئے آپ نے فرمایا : (وما انا بطارد الذین امنو) ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں انہیں نکالنے والا نہیں ہوں۔ “ یعنی میرے لئے مناسب ہے نہ مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ میں ان کو دھتکاردوں، بلکہ میں نہایت عزت و اکرام اور تعظیم کے ساتھ ان کا استقبال کروں گا۔ (انھم ملقو ربھم) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
75 ۔ اصل چیز ہے صدق و اخلاص : سو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے متکبروں کے اس مطالبے کو کہ غریب لوگوں کو اپنی مجلس سے ہٹا دو کو مسترد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میں تم لوگوں کے مطالبے پر ان مخلص مسلمانوں کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرسکتا کہ یہ سچے اور مخلص ایماندار ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت صدق و اخلاص ہی کی ہے۔ پس میں ان مخلص ایمانداروں کو دور نہیں کرسکتا جیسا کہ تمہارا مطالبہ ہے۔ سو میں ایسا نہیں کرسکتا کہ وہ ایمان کے شرف سے مشرف ہونے کے باعث اپنے رب کے یہاں ایک خاص مرتبہ پاچکے ہیں پھر میں ان بندگان صدق و صفا کو کس طرح دور کرسکتا ہوں ؟ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیات 25 تا 35
اسرار و معارف
بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔
بشریت ونبوت
مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ جیسے تم چاہتے ہو کہ جن لوگوں نے میری پیروی اختیار کی ہے وہ چونکہ نچلے طبقے کے لوگ ہیں اس لئے انہیں اپنے پاس سے دھکے دے کر نکال دوں۔ یہ بھی اسی قسم کا مطالبہ تھا جو قریش کے سردار نبی ﷺ سے کیا کرتے تھے۔ (از شوکانی) ۔
10 ۔ یعنی میں اگر ان کو ستائوں یا اپنی مجلس سے نکال دوں تو وہ اللہ تعالیٰ سے اپنا انصاف چاہیں گے اس کا میں کیا جواب دوں گا یا یہ کہ وہ لوگ تو اللہ کے ہاں عزت پالیں گے اور اس بارگاہ عالی میں ایمان و عمل کے باعث ان کو یار ملے گا۔ پھر تمہارے ذلیل سمجھنے سے کیا ہوتا ہے۔ یہ ان کے دوسرے اعتراض کا جواب ہے کہ آپ ﷺ (نوح علیہ السلام) کے مقبع ہمارے رذالے ہے۔ (رازی) ۔ شاہ صاحب (رح)…
Read the full tafseer →(11:29) یقوم۔ اے میری قوم قوم اصل میں قومی تھا۔
علیہ۔ میں ۃ ضمیر واحد مذکر غائب۔ تبلیغ رسالت کے لئے ہے۔ یعنی اس تبلیغ پر میں تم سے کوئی اجز نہیں مانگ رہا۔
طارد۔ طرد سے اسم فاعل واحد مذکر حاضر۔ ہانکنے والا۔ تطرد (باب نصر) ہانکنا، کسی کو ذلیل و حقیر جان کر دور کردینا۔ ہٹا دینا
وما انا بطارد الذین امنوا۔ یعنی میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اپنے پاس سے اس واسطے دھتکارنے سے رہا۔ جو تمہاری نظروں میں ذلیل ہیں لیکن وہ درحقیقت خداوند تعالیٰ کے حضور شرف باریابی پانے والے ہیں۔ ایسا ہی مطالبہ کفار نے رسول کریم ﷺ سے کیا تھا۔ کہ جس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔
ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30
اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے)
تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30
اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
قرآن شریف پڑھانے اور وعظ و نصیحت پر اجرت لینا جائز نہیں
حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :'' اے قوم تبلیغ رسالت پر میں کچھ مال نہیں مانگتا بلکہ میں تو فقط اللہ ہی سے اجر کا طالب ہوں ''۔ وعظ و نصیحت کے معاوضہ میں انبیاء کو کسی اجرت یا مزدوری کا لینا جائز نہیں۔ امت کے علماء انبیاء کے وارث بن کر لوگوں کو قرآن کے موافق کچھ وعظ و نصیحت کریں یا قرآن پڑھاویں تو ان کی اجرت امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کے نزدیک جائز نہیں ہے۔
قوم نوح کے امراء کہتے تھے کہ تم ادنیٰ آدمیوں کو اپنی مجلس سے نکال دو تو ہم تمہارے پاس بیٹھیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا میں اہل ایمان کو تمہاری خاطر یہاں سے نہیں ہٹا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
[14] اس کی تشریح حاشیہ 8 میں گزر چکی ہے۔
[15] یعنی نبوت عطا کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
دوسرے اعتراض کا جواب :
(ف 1) سب سے پہلے قرآن حکیم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی زبان سے دوسرے اعتراض کا جواب دیا ہے اس لئے کہ وہ باوجود بشریت کے حضرت نوح (علیہ السلام) کو پیغمبر مان سکتے تھے ، مگر یہ ان کے کبر و غرور کے لئے قطعا ناقابل برداشت تھا کہ وہ غرباء کم درجہ لوگوں کے دین کو قبول کرلیں ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے جوابا ارشاد فرمایا ، میں اپنے دعاوی میں سچا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے مجھے صداقت کے دلائل عنایت فرمائے ہیں ، یہ الگ بات ہے کہ تمہیں حق کی راہ سوجھائی نہیں دیتی ، میں تم سے کچھ اجر طلب نہیں کرتا ہوں ، کہ مخلص دیندار غربا کو اپنے پاس سے ہٹا دوں ، تم جاہل ہو اس لئے افلاس وغربت کو معیوب…
Read the full tafseer →29 اور اے میری قوم اتنا تو سوچو کہ میں تم سے اس دین کی تبلیغ پر کچھ مال طلب نہیں کرتا میرا اجرو ثواب تو بس اللہ ہی کے ذمہ ہے اور نہ میں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اپنے پاس سے نکالنے والا اور ہٹانے والا ہوں کیونکہ وہ سب اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے اور پروردگار کی حضور میں حاضر ہونیوالے ہیں لیکن میں تم کو دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جاہلانہ باتیں کرتے ہو اور خواہ مخواہ کی جہالت کرتے ہو یعنی اس دعوائے نبوت سے اگر دنیا کمانی ہوتی تو میں تم سے مال طلب کرتا رہا ان لوگوں کو اپنے پاس ہنکانا اور نکالنا یہ میں نہیں کرسکتا کیونکہ اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے ہیں اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 6۔ مطلب یہ کہ تمہارا کہنا کہ جی کو نہیں لگتا محض استبعاد ہے امتناع اجتماع نبوت و بشریت کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اور میرے پاس وقوع اجتماع کی دلیل موجود ہے یعنی معجزہ وغیرہ نہ کہ کسی کا اتباع اس سے اس کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کا اتباع حجت نہیں۔ لیکن انتاج دلیل کا موقوف ہے نظر پر تم نظر کرتے نہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔
Read the full tafseer →میں تم سے کوئی مزدوری طلب نہیں کرتا میں اللہ کا پاغکم تم کو سنا رہا ہوں
40 ؎ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں تو ایک بےغرض نا صح ہوں اپنے کسی ذاتی فائدے کے لئے نہیں بلکہ تمہارے ہی بھلے کیلئے یہ ساری مشتقیں اور تکلیفیں برداشت کر رہا ہوں تم کسی ایسے ذاتی مفاد کی نشان دہی نہیں کرسکتے جو اس امر حق کی دعوت دینے میں اور اس کے لئے جان توڑ محنتیں کرنے اور مصیبتیں جھیلنے میں میرے پیش نظر ہو۔ تم اس طرح کے مطالبات کر کے اپنے ہی بارے میں یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ ہم ایک جاہل قوم ہیں کیونکہ جو شخص اپنے فائدے اور نقصان کی بھی سمجھ نہ رکھتا ہو اس کو آخر کیا کہا جائے گا اس لئے تمہارا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
Then, they were told: ` As for the condition you impose that I should remove the poor from my company in order that you could believe, then let it be very clear that I cannot do that. They may be poor but they are close to the Highest of the high, the greatest honor one can have. Turning such people out is not a right thing to do.'
And: مُّلَاقُو رَبِّهِمْ (They are surely to meet their Lord) could also mean: If, supposedly, I were to turn them out, when they go to their Lord on the day of Qiyamah and complain, what would I have to say? The subject continues in the fourth verse (30): If I…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
35. The Prophet Noah (peace be on him) told his people that he had sincerely counselled his people about what was conducive to their well-being. Noah bore all kinds of hardship and suffering, and all for the well-being of his people. Noah sought to achieve no personal benefit out of his striving to call
36. The worth of the believers is best known only to their Lord which will become fully evident when they encounter Him on the Day of Judgement. If they indeed are true gems, they will not then become pieces of ordinary rock just because some people in this world had disparagingly thrown them…
Read the full tafseer →