بلا اجرت خیر خواہ سے ناروا سلوک
حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو جواب دیا کی سچی نوبت یقین اور واضح چیز میرے پاس تو میرے رب کی طرف سے آچکا ہے۔ بہت بڑی رحمت و نعمت اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمائی اور وہ تم سے پوشیدہ رہی تم اسے نہ دیکھ سکے نہ تم نے اس کی قدر دانی کی نہ اسے پہنچانا بلکہ بےسوچے سمجھے تم نے اسے دھکے دے دئیے اسے جھٹلانے لگ گئے اب بتاؤ کہ تمہاری اس ناپسندیدگی کی حالت میں میں کسیے یہ کرسکتا ہوں کہ تمہیں اس کا ماتحت بنا دوں ؟
Read the full tafseer →سورة هُوْد 34
یہ وہی بات ہے جو ابھی پچھلے رکوع میں محمد ﷺ سے کہلوائی جا چکی ہے کہ پہلے میں خود آفاق وانفس میں خدا کی نشانیاں دیکھ کر توحید کی حقیقت تک پہنچ چکا تھا، پھر خدا نے اپنی رحمت (یعنی وحی) سے مجھے نوازا اور ان حقیقتوں کا براہ راست علم مجھے بخش دیا جن پر میرا دل پہلے سے گواہی دے رہا تھا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام پیغمبر نبوت سے قبل اپنے غور و فکر سے ایمان بالغیب حاصل کرچکے ہوتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ ان کو منصب نبوت عطا کرتے وقت ایمان بالشہادۃ عطا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
تیسری آیت میں مشرکین کی گفتگو ہے جس میں چند شبہات و اعتراضات کئے گئے ہیں، اس آیت کے حل طلب الفاظ کی تشریح یہ ہے۔
لفظ مَلَاُ عام طور پر جماعت کے لئے بولا جاتا ہے، بعض ائمہ لغت کا کہنا ہے کہ قوم کے سرداروں اور ذمہ داروں کی جماعت کو مَلَاُ کہتے ہیں، بشر کا ترجمہ ہے انسان یا آدمی اَرَاذِلُ ارذل کی جمع ہے حقیر و ذلیل کو کہا جاتا ہے جس کی قوم میں کوئی حیثیت اور عزت نہ ہو، بَادِيَ الرَّاْيِ کے معنی ہیں ابتدائی اور سطحی رائے۔
ان لوگوں کا پہلا اعتراض حضرت نوح ؑ کی نبوت و رسالت پر یہ تھا کہ (آیت) مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا، یعنی آپ تو ہمیں جیسے انسان اور آدمی ہو، ہماری ہی طرح کھاتے پیتے چلتے…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْهَا وَاَنْتُمْ لَهَا كٰرِهُوْنَ۔
معارضات کا جواب : اب اس آیت میں اور آگے کی آیت میں مذکورہ بالا معارضات میں سے ایک ایک کا جواب آرہا ہے۔ حضرت نوح نے پہلی بات تو یہ فرمائی کہ میں جو کچھ تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اس کی بنیاد دو چیزوں پر ہے۔ ایک تو اس نور فطرت (بینہ) پر جو میرے اندر پہلے سے موجود تھا اور دوسرے اس وحی الٰہی (رحمت) پر جس سے میرے رب نے مجھے نوازا۔ اگر تمہارے اندر بھی فطرت کی وہ روشنی موجود ہوتی جو میرے اندر ہے تب تو میری یہ دعوت تمہیں…
Read the full tafseer →28 1 بینۃ سے مراد ایمان و یقین ہے اور رحمت سے مراد نبوت۔ جس سے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو سرفراز کیا تھا۔
28۔ 2 یعنی تم اس کے دیکھنے سے اندھے ہوگئے۔ چناچہ تم نے اس کی قدر پہچانی اور نہ اسے اپنانے پر آمادہ ہوئے، بلکہ اس کو جھٹلایا اور رد کے درپے ہوگئے۔
28۔ 3 جب یہ بات ہے تو ہدایت و رحمت تمہارے حصے میں کس طرح آسکتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →حضرت نوح ان الزامات ، اس سرکشی اور استکبار کو نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ وہ یقین ، ثابت قدمی اور نہایت ہی ٹھنڈے انداز میں اس سچائی کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اللہ نے ان پر نازل کی ہے۔ وہ نہایت ہی وضاحت سے بات کرتے ہیں ، نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں گہرے شعور اور یقین کے ساتھ ان سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ وہ ان کی زبان میں بات نہیں کرتے ، وہ الزام کا جواب الزام سے نہیں دیتے۔ وہ ایسا دعویٰ نہیں کرتے جو وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں حقیقی تاثر کے بجائے کوئی مبالغہ آمیز تصور نہیں دیتے۔ وہ اپنی رسالت اور منصب رسالت کے بارے میں ان کے سامنے نہایت ہی حقیقی بات کرتے ہیں۔
قَالَ يٰقَوْمِ…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ صحیح ہے کہ پیغمبر کو عام انسانوں سے بالکل ممتاز ہونا چاہیے لیکن وہ امتیاز مال و دولت ملک و حکومت اور دنیا کی ٹیپ ٹاپ میں نہیں، بلکہ اعلیٰ اخلاق، بہترین ملکات، تقویٰ ، خدا ترسی، حق پرستی، درمندی، خلائق اور ان صریح آیات و نشانات پیش کرنے سے ان کو امتیاز حاصل ہوتا ہے جو حق تعالیٰ بطور اتمام حجت و اکمال نعمت ان کے اندر قائم کرتا یا ان کے ذریعہ سے ظاہر فرماتا ہے۔ وہ وحی الٰہی اور ربانی دلائل و براہن کی روشنی میں صاف راستہ پر چلتے ہیں اور دن رات خدا کی خصوصی رحمتیں ان پر بارش کی طرح برستی ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر یہ سب چیزیں مجھ میں کھلے طور پر موجود ہوں اور یقینا موجود…
Read the full tafseer →آیت 28 قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ
یہ لفظ بَیِّنَۃ اس سورت میں بار بار آئے گا۔ یعنی میں نے اپنی زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے ‘ میرا کردار ‘ میرا اخلاق اور میرا رویہ ‘ سب کچھ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تم لوگ جانتے ہو کہ میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان ہوں۔ لہٰذا تم لوگ غور کرو کہ پہلے بھی اگر میں ایسی شخصیت کا حامل انسان تھا :
وَاٰتٰٹنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ
یعنی میرے اوپر اللہ کی رحمت سے وحی آتی ہے جس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک تم لوگ نہیں کرسکتے۔ میں اس کے بارے میں تم لوگوں کو بتا ہی سکتا ہوں ‘ دکھا تو نہیں…
Read the full tafseer →36 نبی اور عام کافروں کی زندگی کا فرق :۔ نوح (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ امتیازی باتیں تو مجھ میں موجود ہیں یہ الگ بات ہے کہ تمہارے امتیاز کا معیار اور ہے اور میرے نزدیک دوسرا ہے۔ میں نے ایک اللہ کے سوا کسی کی پوجا نہیں کی ہمیشہ حق بات کہتا ہوں اور حق کی ہی دعوت دیتا ہوں ہر ایک شخص کا ہمدرد ہوں کسی کو دکھ نہیں پہنچاتا نہ دغا فریب کرتا ہوں۔ مزید یہ کہ اللہ نے مجھے نبوت عطا کرکے اپنی رحمت سے نوازا بھی ہے گویا میری اور تمہاری زندگی میں زمین و آسمان کا فرق ہے پھر بھی اگر تمہیں کوئی امتیازی فرق نظر نہیں آتا تو میں زبردستی تمہیں کیسے قائل کرسکتا ہوں ؟
Read the full tafseer →38۔ (اور اپنے کو صریح صاحب وحی پارہا ہوں)
39۔ یعنی دلائل و شواہد پر جب تم غور کیا ہی نہ چاہوتو کیا اسے میں زبردستی تمہارے حلق میں اتاردوں ؟ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” انلزمکموھا “۔ الخ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ منکر کو اہل اللہ سے استفادہ نہیں ہوسکتا اور جب تک وہ منکر رہے گا ان سے نفع نہ حاصل کرسکے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…
Read the full tafseer →قال یقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتني رحمۃ من عندہ فعمیت علیکم انلزمکموھا وانتم لھا کٰرھون نوح نے کہا : اے میری قوم ! یہ تو بتلاؤ کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے دلیل پر ہوں (جس سے میری نبوت ثابت ہو رہی ہے) اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت (نبوت) عطا فرمائی ہو ‘ پھر وہ (دلیل) تم کو نہ سوجھتی ہو تو (میں کیا کروں) کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں اور تم اس سے نفرت کئے جاؤ۔
بَیِّنَۃٍ سے مراد ہے روشن دلیل ‘ جو میرے دعوے کی صحت کو ثابت کر رہی ہے۔ رَحْمَۃً سے مراد ہے بَیِّنَۃٍ ‘ یا ہدایت ‘ یا نبوت۔ عُمِّیَتْتم سے پوشیدہ رکھی جائے ‘ تم کو اس کی طرف راہ نہ ملے۔ بصیرۃٌ اور مُبْصَرۃ دیکھی جانے والی…
Read the full tafseer →(28) حضرت نوح ؑ نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر میں ایسی دلیل پر قائم ہوں جو کہ میرے رب کی طرف سے نازل شدہ ہے اور اس نے مجھے اپنے پاس سے نبوت اور دولت اسلام عطا فرمائی ہو اور پھر میرے دین اور میری نبوت میں تمہیں شبہ ہو یا شبہ میں ڈال دیا ہو تو کیا ہم اس دعوی کو تم پر مسلط کردیں اور کسی طرح تمہارے حلق میں اس کو زبردستی اتار دیں اور تم اس کا انکار کیے جاؤ۔
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ۔۔ : نوح ؑ نے ان کے تمام اعتراضات کا جامع جواب دیا، ایک تو یہ کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اپنی رسالت کے مضبوط دلائل اور پختہ یقین موجود ہے، یعنی ”وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِهٖ“ دوسرا یہ کہ یہ نبوت کسی کی محنت کا نتیجہ یا کسی کے آبا و اجداد کی جائداد نہیں، یہ تو محض اللہ تعالیٰ کی اپنے پاس سے خاص عنایت ہے، اس کی تقسیم تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ یہ اللہ جسے چاہے دیتا ہے، خواہ وہ غریب ہو یا امیر، جیسا کہ مکہ والوں نے ہمارے نبی کریم ﷺ پر اعتراض کیا تھا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
آیت نمبر 28 تا 31
قولہ تعالیٰ : قال یقوم اریتم ان کنت علیٰ بینۃٍ من ربی یعنی یقین پر، یہ ابوعمران جونی کا قول ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس کا معنی یہ ہے کہ معجزہ پر سورة انعام میں یہ معنی گزر چکا ہے۔ واٰتٰئنی رحمۃً من عبدہٖرحمت سے مراد
نبوت و رسالت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ (نبوت و رسالت) مخلوق پر رحمت ہے۔
اور ایک قول کے مطابق رحمت سے مراد دلائل کے ساتھ اللہ کی طرف ہدایت دینا ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس سے مراد ایمان اور اسلام ہے۔ فعبیت علیکم یعنی رسالت اور ہدایت تم سے پوشیدہ ہوگئی ہو اور تم اسے سمجھ سکے ہو۔ عمیت عن کذا اور عمی علی کذا کہا جاتا ہے یعنی میں اسے نہ سمجھ سکا۔ اور معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو…
Read the full tafseer →قَالَ [ انھوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [اے میری قوم ] اَ [ کیا ] رَءَيْتُمْ [ تم لوگوں نے غور کیا ] اِنْ [ (کہ ) اگر ] كُنْتُ [ میں ہوں ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک واضح (دین ) پر ] مِّنْ رَّبِّيْ [ اپنے رب (کی طرف) سے ] وَاٰتٰىنِيْ [ اور اس نے دی مجھ کو ] رَحْمَةً [ ایک رحمت ] مِّنْ عِنْدِهٖ [ اپنے پاس سے ] فَعُمِّيَتْ [ پھر وہ پوشیدہ کی گئی ] عَلَيْكُمْ ۭ [ تم پر ] اَنُلْزِمُكُمُوْهَا [ تو (پھر بھی ) کیا ہم چمٹا دیں تم لوگوں سے اس کو ] وَ (اور) اَنْتُمْ (تم سب) لَهَا (اس کیلیے ) كٰرِهُوْنَ (سب ناپسند کرنے والے تھے )
ل زم ۔ (س) ۔ لزاما ۔ کسی سے چمٹ جانا ۔ لازم ہونا ۔ (آیت ) فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا اور قوم کا ہٹ دھرمی کے ساتھ معارضہ کرنا
سیدنا حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) سے دس قرنوں کے بعد تشریف لائے۔ ایک قرن سو سال کی ہوتی تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں بت پرست آچکی تھی انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کو فرمایا ان لوگوں نے ضد وعناد پر کمر باندھ لی اور بت پرستی سے باز نہ آئے اور طرح طرح کی بےتکی باتیں کرتے رہے ان کا واقعہ سورة اعراف (ع 8) میں گزر چکا ہے وہاں ہم نے ان کی قوم کی بہت سی باتیں متعدد آیات قرآنیہ کی روشنی میں نقل کردی ہیں۔ یہاں بعض مضامین زائد ہیں جو وہاں بیان نہیں ہوئے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او
قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔
اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…
Read the full tafseer →29: حضرت نوح (علیہ السلام) نے مشرکین کی کٹ حجتی کا نہایت معقول اور متین جواب دیا اے میری قوم ! اگر میرے پاس اللہ کی جانب سے اپنے دعوے کی سچائی پر واضح دلائل موجود ہوں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص رحمت سے مجھے نبوت بھی عطا فرما دی ہو اور میں اللہ کے حکم اور اس کی وحی کے مطابق تمہیں توحید کی دعوت دوں مگر بد قسمتی سے ان دلائل وبراہین میں تم غور وفکر نہ کرو اور میرے دعوے کی صداقت نہ سمجھ پاؤ تو اب تم خود ہی بتاؤ اس میں قصور کس کا ہے۔
30: ھَا ضمیر کلمہ توحید یا البینۃ یا رحمۃ کی طرف راجع ہے اور اس سے پہلے مضاف محذوف ہے شھادۃ ان لا الہ الا اللہ وقیل الھا ترجع الی الرحمۃ وقیل الی البینۃ ای نلزمکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–31
نبی کی وجہ امتیاز
جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی (آیت) ” ان لاتعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر غیرا للہ کی عبادت سے باز نہیں آئو گے تو سخت دن کی گرفت میں آجائو گے۔ اس پر قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو اور تمہارے پیچھے چلنے والے کمی کمین لوگ ہیں جو سرسری رائے رکھنے والے بےعقل لوگ ہیں ، ان کی موجودگی میں ہم تمہیں کیسے نبی مان لیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت بھی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہم تمہاری سیادت کو تسلیم کرلیں ، ہم تو تمہیں دعوی نبوت میں جھوٹا خیال کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →قَالَ يٰقَوْمِ اَرَءَيْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَاٰتٰىنِيْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ 0 ۭ اَنُلْزِمُكُمُوْہَا وَاَنْتُمْ لَہَا كٰرِہُوْنَ 28
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ،
( ق و م ) قيام
القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11]
بَيِّنَة
والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →قَالَ یٰقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَاٰتٰنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ ط اَنُلْزِمُکُمُوْھَا وَاَنْتُمْ لَھَا کٰرِھُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 28)
(حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا، اے میرے ہم قومو ! بتائو اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور پھر اس نے خاص اپنی رحمت سے بھی نوازا ہے اور وہ تم سے پوشیدہ رکھی گئی ہے تو کیا ہم اس کو تم پر چپکا دیں جبکہ تم اس سے بیزار بھی ہو۔ )
اعتراضات کا جواب
پیشِ نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد آنے والی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے خلاف ترتیب متذکرہ بالا اعتراضات کا جواب دیا ہے۔ سب سے پہلے اس بات کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) قوم کی سطحی اور بےبنیاد گفتگو کا نہایت ہی مدبرانہ جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔ اے میری قوم کیا تم غور نہیں کرتے ؟ کہ میں نے تمہارے سامنے جو دعوت پیش کی ہے اس کے کتنے واضح دلائل اپنے رب کی طرف سے پیش کیے ہیں، جہاں تک میرے بشرہونے کا تعلق ہے اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ میں واقعی بشرہی ہوں۔ لیکن اس میں بھی غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کتنافضل وکرم فرمایا ہے۔ اس نے تم سب میں سے مجھے ہی اپنے پیغام کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اگر تم جان بوجھ کر حقائق دیکھنے اور ان کو ماننے کے لیے تیار نہیں تو میں کس طرح تم پر…
Read the full tafseer →28: قَالَ یٰـقَوْمِ اَرَئَ یْتُمْ (کہا اے میری قوم تم مجھے بتلائو) خبر دواِنْ کُنْتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ (اگر میں ہوں دلیل پر) مِّنْ رَّبِّیْ (اپنے رب کی طرف سے) ٰ اور اسکی طرف سے ایک گواہ بھی اسکی شہادت دیتا ہے کہ میں اپنے دعوٰی میں سچا ہوں۔ وَاٰتٰنِیْ رَحْمَۃً مِّنْ عِنْدِہٖ (اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت دی ہے۔ ) اور رحمت سے مراد نبوت ہے۔ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ (پس وہ تم پر مخفی کردی گئی) یعنی مخفی رہے تم پر۔
قراءت : حمزہ، علی و حفص کی قراءت یہ ہے اور عَمِیَت، نافع، ابن کثیرابن عامر کی قراءت میں ہے۔
مطلب یہ ہے تم پر دلیل مخفی ہوگئی اور اس دلیل نے تمہاری راہنمائی نہیں کی۔ جیسا کہ اگر قوم کا…
Read the full tafseer →حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ
28۔” قال “ نوح (علیہ السلام) ” یا قوم ارایتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتانی رحمۃ “ یعنی ہدایت اور معرفت ” من عندہ فعمیت علیکم “ یعنی تم پر مخفی رہ گئی ہو یا تم پر وہ چیز ملتبس رہ گئی ہو ۔ اور حمزہ ، کسائی اور حفص نے ( فعمیت علیکم) عن کے پیش اور میم کے شد کے ساتھ پڑھا ہے یعنی مشتبہ اور خلط ملط ہوگئی تم پر ” انلز مکموھا “ یعنی کیا ہم تم کو بینہ اور رحمت لازم کردیں گے۔” وانتم لھا کارہون “ تم اس کو نہ چاہتے ہو گے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر انبیاء (علیہم السلام) اس پر قادر ہوتے کہ اپنی قوم کو ہدایت لازم کردیں تو لازم ایسا کرتے لیکن وہ اس پر قادر نہ تھے۔
Read the full tafseer →28۔ یہ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے جواب میں کہا کہ جو دین میں خدا کی طرف سے لایا ہوں اور جس بات کی تمہیں ہدایت کرتا ہوں تم پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور جو تم نے جواب دئیے ہیں کوئی بھی ٹھیک نہیں انسان ہونے میں بیشک ہم تم برابر ہیں مگر انسان ہونا نبوت کے مخالف نہیں اور نہ یہ ضرور ہے کہ سب کے سب جتنے انسان ہیں نبی ہوجائیں یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو وہ پسند کرتا ہے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجتا ہے اگر تم میں اس کی قابلیت اور صلاحیت ہوتی تو ممکن تھا کہ تم بھی رسول بنادئیے جاتے اور رذیلوں کے ایمان لانے سے بھی میری نبوت پر کچھ الزام نہیں آتا کیونکہ تمہاری طرح یہ بھی بشر ہیں ان کو بھی تمہاری…
Read the full tafseer →(قال) بناء بریں نوح (علیہ السلام) نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : (یقوم اریتم ان کنت علی بینۃ من ربی) ” اے میری قوم ! اگر ہوں میں واضح دلیل پر اپنے رب کی طرف سے “ یعنی جزم و یقین پر۔ معنی یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے کامل رسول اور ایسے مقتدیٰ تھے جن کی پیروی بڑے بڑے عقل مند کرتے تھے جن کی عقل کے سامنے بڑے بڑے عقل مندوں کی عقل مضمحل ہوجاتی تھی۔ در حقیقت وہ سچے تھے، لہذٰا جب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے رب کی طرف سیر وشن دلیل رکھتا ہوں تو گواہی اور تصدیق کے لئے، تمہیں یہی قول کافی ہے۔ (واتنی رحمۃ من عندہ ) ” اور وہ دی ہے اس نے مجھے رحمت اپنی طرف سے “ یعنی اس نے میری طرف وحی کی، مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →70 ۔ پیغمبر کی دعوت نور علی نور کا مصداق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو تم ذرا اتنا تو سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی دلیل پر قائم ہوں۔ یعنی فطرت اور نبوت کی روشن دلیل پر۔ جو کہ میرے کسب و اختیار سے نہیں بلکہ میرے رب ہی کی طرف سے ہے جس سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہوجائے۔ اور پھر بھی اگر تم لوگ اس کا انکار کرو گے تو تم کس قدر محروم اور بدبخت لوگ ہوؤگے کہ حق اور ہدایت کے نور سے سرفراز و فیضیاب ہونے کی بجائے تم لوگ اس سے منہ موڑ کر اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کر رہے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیات 25 تا 35
اسرار و معارف
بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔
بشریت ونبوت
مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ یعنی وہ دلیل تمہیں نظر نہ آئی یا وہ رحمت (نبوت) تم سے مخفی رہی۔ اور تم اسے اپنی بےوقوفی سے سمجھ نہ سکے۔ یہ ان کے پہلے اعتراض کا جواب ہے کہ ” تم ہماریجی سے بشر ہو۔ “ (روح) ۔۔
8 ۔ یعنی کیا ہم زبردستی تمہیں اس دلیل کا قائم کردیں حالانکہ تم اس سے نفرت کرتے ہو اور اس سے بھاگتے ہو۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(11:28) ارء یتم۔ اخبرونی۔ مجھے بتاؤ تو۔ بھلا یہ تو بتاؤ۔
فعمیت علیکم۔ پھر وہ پوشیدہ کردی گئی ہو تم پر (یعنی وہ تمہاری نظرون سے پوشیدہ ہو) ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ لعمیۃ (تفعل) سے ۔ جس کے معنی اندھا کردینے اور چھپا دینے کے ہیں۔
انلزمکموھا۔ الف استفہامیہ نلزم مضارع جمع متکلم۔ کم ضمیر جمع مذکر حاضر مفعول اول ۔ ھا مفعول دوئم۔ ضمیر کا مرجع الرحمۃ ہے۔ واؤ دو ضمیروں کے درمیان وصل کے لئے ہے۔ کیا ہم اس کو تم پر چمٹا دیں۔ کیا ہم اس کو تمہارے گلے مڑھ دیں۔ (تھانوی)
اسی طرح استینکموہ (15:22)
وانتم لہا کارھون۔ حالانکہ تم اس سے کراہت کرتے ہو۔ جب کہ تم اس کو ناپسند کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30
اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے)
تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30
اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کا جہالت آمیز کلام سن کر یہ جواب دیا کہ جو دین میں خدا کی طرف سے لایا ہوں اور جس بات کی تمہیں ہدایت کرتا ہوں، تم پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور جو تم نے جواب دیئے ہیں کوئی بھی ٹھیک نہیں۔ انسان ہونے میں بیشک ہم تم برابر ہیں۔ یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجتا ہے۔ تمہاری تو بعینہ وہ مثال ہے کہ کوئی گروہ صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہو اور اپنے راہبر کا کہنا نہ مانتا ہو، وہ گروہ راستہ پر نہیں آسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو گمراہ ٹھہر چکا اس کو زبردستی کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
[14] اس کی تشریح حاشیہ 8 میں گزر چکی ہے۔
[15] یعنی نبوت عطا کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے دو اعتراض :
(ف 1) انبیاء کے متعلق یہ پرانا خیال ہے کہ انہیں فوق البشر ہونا چاہئے ، خلعت بشریت کو کسوت نبوت کے منافی قرار دنیا قدیم سے شیوہ کفر و انکار رہا ہے ، یہ اعتراض بھی قدیم ہے کہ ابتداء دعوت کو لبیک کہنے والے غریب اور مفلس لوگ ہوتے ہیں چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب قوم کو ہدایت کی جانب بلایا ، اور کہا کہ مسلک توحید پر گامزن ہوجاؤ ، ورنہ حق کے مقابلہ میں تم نپٹ نہیں سکو گے ، قدرت کا اٹل فیصلہ ہے کہ جو قومیں قانون فطرت کو نہ مانیں انہیں زندہ رہنے کا کوئی استحقاق نہیں ، قوم کے اکابر نے اس وعظ کو سنا ، اور نہایت شوخ چشمی سے کہا تم میں اور ہم میں امتیاز…
Read the full tafseer →28 حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بھلا یہ تو بتلائو کہ اگر میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن اور واضح دلیل پر قائع ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے رحمت یعنی نبوت عطا فرمائی ہو اور مجھ کو اپنی نبوت سے نوازا ہو پھر وہ نبوت تمہاری آنکھ سے پوشیدہ اور اوجھل ہوگئی ہو ار تم کو کہ نہ سوجھتی ہو تو کیا ہم زبردستی اس رحمت کو تم سے چمٹا دیں اور تمہارے گلے منڈھ دیں حالانکہ تم اس سے نضرت ہی کرتے رہو اور اس کو برا ہی سمجھے ہو یعنی تم مال و دولت اور ظاہری ٹیپ ٹاپ کو نبوت کی دلیل سمجھتے ہو حالانکہ نبوت بلندیٔ اخلاق اعلیٰ تعلیم اور خدا کی رحمت کا نام ہے وہ تم کو دکھائی نہیں دیتی کیونکہ غور نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
ف 6۔ مطلب یہ کہ تمہارا کہنا کہ جی کو نہیں لگتا محض استبعاد ہے امتناع اجتماع نبوت و بشریت کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں اور میرے پاس وقوع اجتماع کی دلیل موجود ہے یعنی معجزہ وغیرہ نہ کہ کسی کا اتباع اس سے اس کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کا اتباع حجت نہیں۔ لیکن انتاج دلیل کا موقوف ہے نظر پر تم نظر کرتے نہیں اور یہ میرے بس سے باہر ہے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کو جو جواب سنایا وہ یہ تھا
39 ؎ نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سرداروں کو جواب دیا کہ لوگو ! انسان کی ہدایت تو انسان ہی کے ذریعہ ہو سکتی ہے اور وہ اتناا ہی کرسکتا ہے جو اس کے اختیار میں ہو۔ تم کہتے کہ میں جھوٹا ہوں لیکن بتلائو اگر تم مجھے سچا سمجھتے تو کیا اس بات کی توقع کرتے کہ میں تم کو جبراً ہدایت کی راہ دکھا دوں پھر اللہ کی طرف سے کتنی ہی واضح دلیل حق مجھے مل گئی ہو لیکن تم سمجھنے سے انکار کردو تو میں کیا کرسکتا ہوں ؟ غور کرو کہ اگر میں ایک دلیل روشن پر ہوں اور اس نے اپنے حضور سے ایک رحمت بھی مجھے بخش دی ہو یعنی راہ حق دکھا دی ہو مگر وہ تمہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
Some questions raised by the disbelievers appear in the third verse (27). Before we take these up, let us first look at the meanings of some of the words there.
The word ملا : (mala) generally means a group. Some leading lexicographers say that a group of the chiefs of a people is called: ملا (mala' ). Bashar (بشر) is translated as human being or man. Aradhil (ارزذل) is the plural form of ardhal (ارذل). It means someone lowly, not having any status or respect among his people. The expression: بَادِيَ الرَّأْيِ (badiyarra'y) means cursory or shallow opinion.
As for their objections, the…
Read the full tafseer →34. This amounts to virtually repeating the statement mentioned earlier (see verse 17 and n. 17 ff. above). The statement suggested that the Prophet (peace be on him) had reached the stage of affirming the unity of God as a result of his own reflection. Whereafter, God favoured him by designating him a Prophet and providing him with direct knowledge of the truths about which his heart was already convinced.
This also shows that the Prophets attain belief regarding the realm of the Unseen before they are appointed to the office of prophethood. When they are subsequently designated Prophets,…
Read the full tafseer →