Explained with ayahs 25–27
آدم ؑ کے بعد سب سے پہلا نبی ؟
سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر حضرت نوح ؑ ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے دردناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے۔ اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اٹھے کہ آپ کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 31
وہی جاہلانہ اعتراض جو مکہ کے لوگ محمد ﷺ کے مقابلہ میں پیش کرتے تھے کہ جو شخص ہماری ہی طرح کا ایک معمولی انسان ہے، کھاتا پیتا ہے، چلتا پھرتا ہے، سوتا اور جاگتا ہے، بال بچے رکھتا ہے، آخر ہم کیسے مان لیں کہ وہ خدا کی طرف سے پیغمبر مقرر ہو کر آیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة یٰس، 11)۔
سورة هُوْد 32
یہ بھی وہی بات ہے جو مکہ کے بڑے لوگ اور اونچے طبقے والے محمد ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ ان کے ساتھ ہے کون ؟ یا تو چند سر پھرے لڑکے ہیں جنہیں دنیا کا کچھ تجربہ نہیں، یا کچھ غلام اور ادنی طبقہ کے عوام ہیں جو عقل سے کورے اور ضعیف الاعتقاد ہوتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو سورة انعام، حواشی نمبر 34 تا 37 و سورة یونس،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
تیسری آیت میں مشرکین کی گفتگو ہے جس میں چند شبہات و اعتراضات کئے گئے ہیں، اس آیت کے حل طلب الفاظ کی تشریح یہ ہے۔
لفظ مَلَاُ عام طور پر جماعت کے لئے بولا جاتا ہے، بعض ائمہ لغت کا کہنا ہے کہ قوم کے سرداروں اور ذمہ داروں کی جماعت کو مَلَاُ کہتے ہیں، بشر کا ترجمہ ہے انسان یا آدمی اَرَاذِلُ ارذل کی جمع ہے حقیر و ذلیل کو کہا جاتا ہے جس کی قوم میں کوئی حیثیت اور عزت نہ ہو، بَادِيَ الرَّاْيِ کے معنی ہیں ابتدائی اور سطحی رائے۔
ان لوگوں کا پہلا اعتراض حضرت نوح ؑ کی نبوت و رسالت پر یہ تھا کہ (آیت) مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا، یعنی آپ تو ہمیں جیسے انسان اور آدمی ہو، ہماری ہی طرح کھاتے پیتے چلتے…
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ ۚ وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍۢ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ۔
لفظ " ملا " کی تحقیق ہم دوسرے مقام میں بیان کرچکے ہیں کہ اس سے مراد کسی قوم کے لیڈر، سرپنچ، زعماء اور اکابر ہوتے ہیں۔ چونکہ بگڑی ہوئی قوم کے سارے فساد کی جڑ یہی ہوتے ہیں اس وجہ سے انبیاء کی دعوت اصلاح سے سب سے زیادہ پرخاش انہی کو رہی ہے۔ قومِ نوح کے ان لیڈروں نے حضرت نوح کی دعوت کے جواب میں بیک وقت تین معارضے پیش کیے۔ ایک یہ کہ مَا نَرٰىكَ اِلَّا…
Read the full tafseer →27۔ 1 یہ وہی شبہ ہے، جس کی پہلے کئی جگہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ کافروں کے نزدیک بشریت کے ساتھ نبوت و رسالت کا اجتماع بڑا عجیب تھا، جس طرح آج کے اہل بدعت کو بھی عجیب لگتا ہے اور وہ بشریت رسول کا انکار کرتے ہیں۔
27۔ 2 حق کی تاریخ میں یہ بات بھی ہر دور میں سامنے آتی رہی ہے کہ ابتداء میں اس کو اپنانے والے ہمیشہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنہیں معاشرے میں بےنوا کم تر سمجھا جاتا تھا اور صاحب حیثیت اور خوش حال طبقہ اس سے محروم رہتا۔ حتی کہ پیغمبروں کے پیروکاروں کی علامت بن گئی۔ چناچہ شاہ روم ہرقل نے حضرت ابو سفیان سے نبی کی بابت پوچھا تو اس میں ان سے ایک بات یہ بھی پوچھی کہ ' اس کے پیروکار معاشرے کے معزز سمجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →یہ ہے اونچے طبقات کے مستکبرین کا جواب ، جو کسی بھی سوسائٹی کے صدر نشین ہوتے ہیں۔ اور یہی جواب حضور ﷺ کو بھی آپ کی قوم قریش کے مستکبرین نے دیا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے ، ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں اور ہماری قوم کے کم درجے کے لوگوں نے بغیر سوچے تمہاری دعوت کو قبول کرلیا ہے اس لیے کہ عوام الناس گہری سوچ نہ رکھتے۔ آخر تمہیں ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہین۔
وہی شبہات ، وہی الزامات ، وہی تکبر و غرور ، اور وہی جہالت اور کم فہمی جو قوم نوح نے اختیار کی اور یہ لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔
انسانوں میں ہمیشہ یہ جہالت پائی جاتی رہی ہے کہ انسان حامل رسالت نہیں ہوسکتا اور…
Read the full tafseer →7 یعنی رسول کو تمام قوم کے مقابلہ میں کوئی نمایاں امتیاز ہونا چاہیے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تم ہماری طرح جنس بشر سے ہیں، آسمان کے فرشتے نہیں۔ جس کے سامنے خواہ مخواہ انسانوں کی گردنیں جھک جائیں پھر بشر بھی ایسے نہیں جسے کوئی خاص تفوق اور بڑائی ہم پر حاصل ہوتی مثلا بڑے دولت مند یا جاہ و حکمت کے مالک ہوتے، جو لوگ تمہارے پیرو ہوئے وہ بھی ماشاء اللہ سب کے سب مفلس، رذیل، پست اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنا بھی ہم جیسے شریفوں کے لیے ننگ و عار کا موجب ہے تو کیا ساری خدائی میں سے تم ہی ملے تھے جنہیں خدا نے اپنے منصب کی سفارت پر مامور فرمایا۔ آخر ہم تم سے حسب نسب، مال و دولت، خَلق و خُلق کس…
Read the full tafseer →آیت 27 فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰٹک الاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا
انہوں نے کہا کہ آپ تو بالکل ہمارے جیسے انسان ہیں۔ آپ میں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ ہم آپ کو اللہ کا فرستادہ مان لیں۔
وَمَا نَرٰٹکَ اتَّبَعَکَ الاَّ الَّذِیْنَ ہُمْ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاْیِ
ہمیں بلا تامل نظر آ رہا ہے کہ چند مفلس ‘ نادار اور نچلے طبقے کے لوگ آپ کے گرد اکٹھے ہوگئے ہیں ‘ جبکہ ہمارے معاشرے کا کوئی بھی معزز اور معقول آدمی آپ سے متاثر نہیں ہوا۔
Read the full tafseer →34 یہ وہی اعتراض ہے جو کہ منکرین حق کی طرف سے تمام انبیاء پر ہوتا رہا ہے جن کے خیال میں نبی کو یا تو مافوق البشر مخلوق ہونا چاہیے یا اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہر وقت رہنا چاہیے یا کم از کم دنیوی وجاہت کے لحاظ سے یعنی مال و دولت اور شان و شوکت کے لحاظ سے سب سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ جب تک ان کے نظریہ کے مطابق نبی کو ان چیزوں میں سے کوئی امتیازی چیز حاصل نہ ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔
35 کسی نبی کے ابتدائی پیر و کاروں کے خصائل :۔ منکرین حق کا دوسرا بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ کیونکہ نبی پر سب سے پہلے ایمان لانے والے لوگ وہ ہوتے ہیں جو معاشرہ اور قوم کے چودھریوں کے ہاتھوں ستم رسیدہ ہوں، غریب ہوں، نوجوان اور…
Read the full tafseer →35۔ (اور کوئی بات تم میں بشریت سے مافوق پاتے نہیں پھر تمہیں مرد خدا کیسے مان لیں) مشرکوں اور مشرک صفتوں کی سمجھ میں کسی بشر کا خدا رسیدہ ہونا یا فرستادہ خدا ہونا نہ پہلے کبھی آیا نہ اب آرہا ہے وہ بزرگی کے صرف اسی کے قائل ہوتے ہیں جو نہ کھاتا پیتا ہو، نہ سوتا ہو، نہ عورت کی خواہش رکھتا ہو، پانی پر چلتا ہو، آگ پر بےتکلف قدم رکھ دیتا ہو، ہوا پر اڑتا ہو، غرض طرح طرح کے خوارق اور کرشمے دکھا کر اپنے ” مافوق البشر “ ہونے کا اعلان کرتا رہتا ہو۔۔۔ بشر کو دیوتا تسلیم کرلینا ان کے لئے اس سے کہیں آسان ہے کہ وہ بشر کو خدا کا بندہ مقرب ومقبول اور ایلچی تصور کریں، (آیت) ” مثلنا “۔ بشریت کی تاکید کے لئے ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…
Read the full tafseer →فقال الملا الذین کفروا من قومہ ما نراک الا بشرًا مثلنا نوح کی قوم کے کافر سردار بولے : ہم تو تم کو اپنی طرح کا آدمی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی تم کو ہم پر کوئی ایسی فضیلت نہیں کہ تم واجب الاطاعت نبی ہوجاؤ ‘ گویا ان کی مراد یہ تھی کہ نبی کو بادشاہ یا فرشتہ ہونا چاہئے اور تم نہ فرشتہ ہو اور نہ بادشاہ ‘ ہماری طرح معمولی آدمی ہو۔
مَلَأٌ (اس کا لغوی ترجمہ ہے بھرنے والے ‘ مراد سرداران قوم کیونکہ) سرداروں ہی کی ہیبت لوگوں کے دلوں میں بھر جاتی ہے اور جلسوں میں انہی کی وجہ سے رونق اور شان پیدا ہوجاتی ہے۔
وما نراک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا بادي الراي اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن لوگوں نے تمہارا اتباع کیا ہے ‘ وہ…
Read the full tafseer →(27) یہ سن کر قوم نوح کے سردار کہنے لگے کہ اے نوح ہم تو تمہیں اپنے جیسا آدمی دیکھتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ تم پر وہی لوگ ایمان لائے ہیں جو ہم میں بالکل کم تر اور کمزور ہیں اور وہ بھی سرسری رائے سے اور ان کی رائے بھی ٹھیک نہیں جو انہوں نے ایسا کیا ہے۔
اور ہم تم لوگوں کے دعوے میں کوئی بات خود سے زیادہ بھی نہیں پاتے تم بھی کھاتے پیتے ہو جیسا کہ ہم کھاتے پیتے ہیں بلکہ ہم تو تمہارے دعوے میں تمہیں بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ : آلوسی نے فرمایا : ”اَلْمَلَاءُ“ کا لفظ اسم جمع ہے، جیسا کہ ”رَھْطٌ“ (گروہ) ہے۔ اس لفظ سے اس کا واحد کوئی نہیں آتا۔ ”مَلَأَ یَمْلَأُ“ کا معنی بھرنا ہے، یعنی ایک رائے پر متفق لوگوں کی جماعت، جس کے رعب و جلال اور ظاہری شکل و صورت سے آنکھیں بھر رہی ہوں۔ (راغب)
مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا : نوح ؑ اور دوسرے پیغمبروں کی امتوں کے کافروں کی طرح مکہ کے کافر بھی ہمارے نبی ﷺ کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہماری طرح کا بشر ہو، جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا، بیویاں اور بال بچے رکھتا ہو، آخر وہ اللہ کا رسول کیسے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 27
اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : فقال الملا ابواسحاق زجاج نے کہا : الملا سے مراد سردار ہیں، یعنی وہ جو کچھ کہتے ہیں اس کے ذریعے وہ بھر دیتے ہیں۔ سورة بقرہ میں یہ گزرچکا ہے۔ مانرٰئک الابشرًبشر سے مراد آدمی ہے۔ مثلناحال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور مثلنامعرفہ کی طرف مضاف ہے اور یہ نکرہ ہے تنوین اس میں مقدر ہے جس طرح کہ شاعر نے کہا : یا رب مثلک فی النساء غریرہ
مسئلہ نمبر 2 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وما نرٰئک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا، اراذل ، أرذل کی جمع ہے اور ارذل رذل کی جمع ہے۔ جس طرح کی جمع اکلب اور اکلب کی جمع اکالب آتی ہے۔
اور ایک قول کے مطابق : اذل ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو…
Read the full tafseer →فَقَالَ [ تو کہا ] الْمَلَاُ الَّذِيْنَ [ ان کے سرداروں نے جنھوں نے ] كَفَرُوْا [ کفر کیا ] مِنْ قَوْمِهٖ [ انکی قوم میں سے ] مَا نَرٰىكَ [ ہم نہیں دیکھتے آپ کو ] اِلَّا [ مگر ] بَشَرًا [ ایک بشر ] مِّثْلَنَا [ اپنے جیسا ] وَمَا نَرٰىكَ [ اور ہم نہیں دیکھتے آپ کو ] اتَّبَعَكَ [ (کہ ) پیروی کی آپ کی ] اِلَّا الَّذِيْنَ [ سوائے ان لوگوں کے ] هُمْ [ (کہ ) وہ لوگ ] اَرَاذِلُـنَا [ ہمارے حقیر ہیں ] بَادِيَ الرَّاْيِ ۚ [ بادی النظر میں ] وَمَا نَرٰي [ اور ہم نہیں دیکھتے ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] مِنْ فَضْلٍۢ [ کسی قسم کی کوئی فضیلت ] بَلْ [بلکہ ] نَظُنُّكُمْ [ ہم گمان کرتے ہیں تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تبلیغ فرمانا اور قوم کا ہٹ دھرمی کے ساتھ معارضہ کرنا
سیدنا حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت آدم (علیہ السلام) سے دس قرنوں کے بعد تشریف لائے۔ ایک قرن سو سال کی ہوتی تھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم میں بت پرست آچکی تھی انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور بت پرستی چھوڑنے کو فرمایا ان لوگوں نے ضد وعناد پر کمر باندھ لی اور بت پرستی سے باز نہ آئے اور طرح طرح کی بےتکی باتیں کرتے رہے ان کا واقعہ سورة اعراف (ع 8) میں گزر چکا ہے وہاں ہم نے ان کی قوم کی بہت سی باتیں متعدد آیات قرآنیہ کی روشنی میں نقل کردی ہیں۔ یہاں بعض مضامین زائد ہیں جو وہاں بیان نہیں ہوئے۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او
قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔
اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
28: پہلا قصہ۔ یہ پہلا قصہ ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے بدیں الفاط اپنی قوم کے سامنے دعوت الٰہی پیش کی۔ اِنِّیْ لَکُمْ نَذیْرٌ مُّبِیْنٌ اَنْ لّ ۔ ا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰہَ میں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں ظاہر اور میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا میں ان مفسرہ ہے اور اَرْسَلْنَا یا نَذِیْرٌ کے متعلق ہے یا ان مصدریہ ہے اور حرف جار مقدر ہے ای بان لا تعبدوا (روح) ۔ اس کے جواب میں قوم نے چار باتیں طنز و اعتراض کے طور پر کہیں اول مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا تم ہماری مانند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
تاریخ انبیاء
اس سورة کی پہلی آیت میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا۔ پھر اس کی دوسری آیت میں توحید کا بیان ہے۔ (آیت) ” الا تعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اب آج سے شروع ہونے والے حصہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی تاریخ کا ایک حصہ بیان فرمایا ہے۔ ہر نبی کی تعلیم میں یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا (آیت) ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ گویا اپنی وحدانیت کا درس دینے کے لیے اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کا ذکر فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ ہُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ 0 ۚ وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍؚ بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ 27
ملأ
المَلَأُ : جماعة يجتمعون علی رأي، فيملئون العیون رواء ومنظرا، والنّفوس بهاء وجلالا . قال تعالی: أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي إِسْرائِيلَ [ البقرة/ 246]
( م ل ء ) الملاء
( م ل ء ) الملاء ۔ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتونظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھردے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِنْ بَنِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ مَانَرٰکَ اِلاَّ بَشَرًا مِّثْلَنَا وَمَا نَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلاَّ الَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَابَادِیَ الرَّاْیِ ج وَمَانَرٰی لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ م بَلْ نَظُنُّکُمْ کٰذِبِیْن۔ (سورۃ ہود : 27)
(تو کہنے لگے ان کی قوم کے سردار جنھوں نے کفر کیا تھا، اے نوح ہم نہیں دیکھتے تمہیں مگر اپنے جیسا انسان اور نہیں دیکھتے تمہیں کہ پیروی کرتے ہوں تمہاری بجز ان لوگوں کے جو ہم میں حقیر و ذلیل ہیں بلاسوچے سمجھے اور ہم نہیں دیکھتے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت حاصل ہے بلکہ ہم تو تجھے جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ )
اس آیت کریمہ میں ایک لفظ آیا ہے ” بَادِیَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : قوم نوح کا حضرت نوح (علیہ السلام) کو جواب۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے نمائندوں یعنی سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تجھے اپنے ہی جیسا آدمی سمجھتے ہیں اور جو تیرے پیچھے چلنے والے ہیں۔ وہ ہم میں نہایت گھٹیا لوگ ہیں اور ہم اپنے آپ پر تم میں کوئی فوقیت نہیں دیکھتے بلکہ ہم تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں۔ قرآن مجید اور تاریخ کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو آدمی اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہر پیغمبر کو اس کی قوم کی طرف سے سب سے پہلے ایسے ہی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی بنا پر ہی اہل مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ یہ نبی ہماری طرح کا انسان ہے۔ نبی تو انسان کی بجائے فرشتہ ہونا…
Read the full tafseer →27: فَقَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ قَومِہٖ (پس ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا) ملاء سے مراد سرداران قوم ہیں کیونکہ ان کی ہیبت سے دل بھر جاتے اور مجالس پر ہوجاتیں۔ نمبر 2۔ ان کو ملاء۔ اس لئے کہا کیونکہ وہ خیالات سے بھرے ہوتے تھے۔ درست آراء سے مَانَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا (ہم تمہیں اپنے جیسا انسان خیال کرتے ہیں) انکا مقصد یہ تھا کہ پیغمبر کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ فرشتہ ہو یا بادشاہ ہو۔ وَمَانَرٰکَ اتَّبَعَکَ اِلَّاالَّذِیْنَ ھُمْ اَرَاذِلُنَا (اور ہم نہیں دیکھتے تجھے مگر کہ تیری اتباع ان لوگوں نے کی ہے جو ہم سے رذیل ہیں) کم درجہ حقیر جمع ارذل۔
دُنیا پرستوں کی رائے میں…
Read the full tafseer →تفسیر : 27۔” فقال الملاء الذین کفروا من قومہ “ ملا قوم کے سردار اور معزز لوگ ” ما نراک “ اے نوح الا بشر ا ایک آدمی ہے ” مثلثا وما نراک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا “ اراذلنا سے مراد ہمارے نچلے طبقہ کے لوگ والرذل ہر نچلے درجے کی چیز کو رذل کہا جاتا ہے ، رذل کی جمع ارذل آتی ہے اور ارذل کی جمع اراذل آتی ہے جیسے کلب کی جمع اکلب اور اکلب کی جمع اکالب آتی ہے۔ سورة شعراء میں ہے واتبعک الارذلون مراد نچلے طبقے کے لوگ ۔ عکرمہ نے کہا نچلے طبقے سے مراد جو لا ہے موچی نہیں ۔ ” بادی الرای “ ہمزہ کے ساتھ پڑھیں تو معنی ہوگا پہلی رائے میں یعنی ان کا ارادہ تھا کہ پہلی رائے میں بغیر غور و فکر کے آپ کی اتباع…
Read the full tafseer →27۔ یہ جواب نوح (علیہ السلام) کی قوم نے اس وقت دیا کہ جب نوح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے کہا کہ سوائے خدا کے اور کسی کی عبادت نہ کرو نہیں تو تم پر ایک بہت بڑا عذاب نازل ہونے کا خوف ہے اس پر ان کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ جیسے ہم انسان ہیں تم بھی انسان ہو پھر تم پر وحی آئی اور ہم پر نہ آئی یہ کیا بات ہے علاوہ اس کے جو لوگ تمہارے تابع ہوئے ہیں وہ سب کے سب ذلیل ہیں کوئی بھی ان میں شریف نہیں اور یہ ایمان بھی لائے تو کچھ سوچ سمجھ کر نہیں لائے کیوں کہ ان کو عقل ہی کب ہے اس لئے فقط ان لوگوں کے ایمان لانے سے کوئی فضیلت تم کو نہیں ہوسکتی تیسری بات یہ کہی کہ تم کو ہم اپنے سے بڑھ کر نہیں دیکھتے ہم سے…
Read the full tafseer →(فقال الملاء الذین کفرو من قومہ ) ” تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے۔ “ یعنی جناب نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اشراف اور روئسا نے آپ کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا۔ جیسا کہ ان جیسے دیگر لوگوں کی عادت رہی ہے۔ وہ اولین لوگ تھے جنہوں نے رسولوں کی دعوت کو رد کیا اور کہنے لگے : (ما نرک الا بشراً مثلنا) ” ہم تو تجھے اپنے ہی جیسا انسان دیکھتے ہیں “ ان کے زعم کے مطابق یہ مانع تھا جو انہیں نوح (علیہ السلام) کی اتباع سے روکتا تھا حالانکہ نفس الامر میں ان کی دعوت حق اور صواب تھی اس کے علاوہ رسول کا کچھ اور ہونا مناسب ہی نہیں، کیونکہ انسان ہی سے انسان علم حاصل کرسکتا ہے اور اپنے ہر معاملے میں وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →66 ۔ بشریت انبیاء سے متعلق ایک قدیم اور مشترک غلط فہمی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قوم نوح کے کافر سرداروں نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم تو تم کو اپنے ہی جیسا ایک بشر اور انسان دیکھ رہے ہیں تو پھر تم کو اللہ کا رسول کس طرح مان لیں ؟ سو حضرات انبیائے کرام کے بشریت طاہرہ سے متعلق لوگوں کی یہ ایک مشترکہ غلط فہمی رہی کہ نبوت اور بشریت میں منافات ہے۔ والعیاذ باللہ۔ پھر تم کو ہم نبی کیسے تسلیم کرلیں ؟ ہاں اگر تم کوئی مافوق البشر ہستی ہوتے۔ کوئی نوری فرشتہ ہوتے تو پھر بھی کوئی بات تھی۔ بحالت موجودہ ہم تم کو کیونکر نبی مان لیں اور اپنا راہبر تسلیم کرلیں ؟ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا۔ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیات 25 تا 35
اسرار و معارف
بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔
بشریت ونبوت
مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ مکہ کے لوگ بھی آنحضرت ﷺ کے بارے میں یہی بات کہا کرتے تھے کہ جو شخص ہاری طرح کا بشر ہو جو کھاتا پیتا، بازاروں میں چلتا پھرتا، سوتا جاگتا اور بال بچے رکھتا ہو آخر وہ اللہ کا رسول ﷺ کیسے ہوسکتا ہے۔ (دیکھئے سورة قرآن آیت 7) مطلب یہ ہے کہ رسالت اور بشریت میں تضاد ہے اور یہ کہ ان دونوں کا ایک شخص میں اجتماع محال ہے۔
3 ۔ یعنی اس وہ سے بھی آپو کو ہم پر کوئی فضیلت نہیں ہے کہ کچھ لوگ آپو کے متبع ہوگئے ہیں کیونکہ وہ تو ہمارے رذالے ہیں جن کا کسی شخص کی اتباع کرنا کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ بعینہ یہی بات مکہ کے کھاتے پیتے سردار نبی ﷺ کے بارے میں کہا کرتے کہ ان کی پیروی ہماری قوم کے غلام اور نچلے طبقے کے…
Read the full tafseer →(11:27) اراذلنا۔ ہم میں سے نیچ قوم ۔ ہمارے رذیل لوگ۔ ارذل کی جمع جو رذالۃ سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ جمع الجمع ہے رذل کی جمع ارذل اور ارذل کی جمع اراذل ہے۔
بادی الرای۔ بادی النظر میں۔ ظاہراً ۔ سرسری نظر میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30
اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے)
تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30
اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کا جہالت آمیز کلام سن کر یہ جواب دیا کہ جو دین میں خدا کی طرف سے لایا ہوں اور جس بات کی تمہیں ہدایت کرتا ہوں، تم پر اس کا قبول کرنا واجب ہے اور جو تم نے جواب دیئے ہیں کوئی بھی ٹھیک نہیں۔ انسان ہونے میں بیشک ہم تم برابر ہیں۔ یہ تو خدا کا فضل ہے جس کو وہ چاہتا ہے رسول بنا کر لوگوں کی طرف بھیجتا ہے۔ تمہاری تو بعینہ وہ مثال ہے کہ کوئی گروہ صحرا میں بھٹکتا پھرتا ہو اور اپنے راہبر کا کہنا نہ مانتا ہو، وہ گروہ راستہ پر نہیں آسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو گمراہ ٹھہر چکا اس کو زبردستی کون راہ راست پر لاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے دو اعتراض :
(ف 1) انبیاء کے متعلق یہ پرانا خیال ہے کہ انہیں فوق البشر ہونا چاہئے ، خلعت بشریت کو کسوت نبوت کے منافی قرار دنیا قدیم سے شیوہ کفر و انکار رہا ہے ، یہ اعتراض بھی قدیم ہے کہ ابتداء دعوت کو لبیک کہنے والے غریب اور مفلس لوگ ہوتے ہیں چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے جب قوم کو ہدایت کی جانب بلایا ، اور کہا کہ مسلک توحید پر گامزن ہوجاؤ ، ورنہ حق کے مقابلہ میں تم نپٹ نہیں سکو گے ، قدرت کا اٹل فیصلہ ہے کہ جو قومیں قانون فطرت کو نہ مانیں انہیں زندہ رہنے کا کوئی استحقاق نہیں ، قوم کے اکابر نے اس وعظ کو سنا ، اور نہایت شوخ چشمی سے کہا تم میں اور ہم میں امتیاز…
Read the full tafseer →27 اس پر اس کی قوم کے ان سرداروں نے جو کفر کے خوگر تھے اور کافرانہ روش رکھتے تھے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہنے لگے ہم تو تجھ کو اپنا ہی جیسا ایک آدمی دیکھتے ہیں اور ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جو لوگ تیرے پیرو ہوگئے ہیں وہ صرف ہمارے ہاں کے چند رذیل اور کمین لوگ ہیں جو بلا غور و فکر کئے محض سطحی رائے سے تیرے پیرو ہوگئے ہیں اور ہم تم لوگوں میں اپنے سے کوئی برتری اور اپنے سے کوئی بات زیادہ بھی نہیں دیکھتے بلکہ ہم تو تم کو جھوٹا سمجھتے ہیں یعنی قوم کے چودھریوں نے تین اعتراض کئے۔
ایک یہ کہ تم ہی جیسے بشر ہو اور بشر نبی نہیں ہوسکتا۔
دوسرے یہ کہ اگر پیرو اور متبعین کی کثرت کو دلیل ٹھہرائو تو کوئی شریف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 4۔ یہی حالت کافر اور مسلمان کی ہے کہ پہلا ہدایت سے بہت دور ہوا دوسرا ہدایت کے ساتھ موصوف ہے۔
5۔ یعنی اس میں تردد ہونے کی گنجائش ہی نہیں بہت بدیہی ہے۔
Read the full tafseer →قوم کے سرداروں نے نوح (علیہ السلام) کی تضحیک کی ہر ممکن کوشش کی
38 ؎ نوح (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو توحید کا پیغام سنایا تو چند سلیم الفطرت لوگوں نے فوراً لبیک کہا گویا ان کی پیاسی طبیعتیں اس کی طلب میں زندہ تھیں لیکن یہ لوگ معدودے چند آدمی تھے اور ساتھ ہی کمزور و نادار بھی تھے اور وہ طبقہ جو برسر اقتدار تھا اس کو آپ کی دعوت پسند نہ آئی اس لئے انہوں نے ایک ساتھ نوح (علیہ السلام) پر اعتراضات شروع کردیئے اور آپ کے ماننے والوں پر بھی طعن وتشنیع کے تیر چلائے ۔ نوح (علیہ السلام) کے متعلق تو انہوں نے یہ کہا کہ آپ کون ہیں نبوت کا دعویٰ کرنے والے ، آپ تو ہماری طرح ایک بشر ہیں اور جس طرح کے بشر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
Some questions raised by the disbelievers appear in the third verse (27). Before we take these up, let us first look at the meanings of some of the words there.
The word ملا : (mala) generally means a group. Some leading lexicographers say that a group of the chiefs of a people is called: ملا (mala' ). Bashar (بشر) is translated as human being or man. Aradhil (ارزذل) is the plural form of ardhal (ارذل). It means someone lowly, not having any status or respect among his people. The expression: بَادِيَ الرَّأْيِ (badiyarra'y) means cursory or shallow opinion.
As for their objections, the…
Read the full tafseer →30. Substantially, the same warning was delivered by the Prophet Muhammad (peace be on him) in the first few verses (viz. 2-3) of this surah.
31. This is exactly the same absurd objection which the Makkans raised against the Prophet Muhammad (peace be on him). They found it inconceivable that a mortal like themselves who ate arid drank, walked and slept, and who also had a family could be designated a Messenger by God. (See Ya Sin 36, n. Il;al-Shura42,n.41.)
32. Again, it is noteworthy that the same objection raised by Noah's people against him was raised by the Makkans against the Prophet…
Read the full tafseer →