Explained with ayahs 23–24
عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ
بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے، جن کے جسمانی اعضا فرماں برداری کرنے والے تھے، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔ بلند وبالا بالا خانے، بچھے بچھائے تخت، چکھے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش، خوبصورت بیویاں، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا، نہ بیماری، نہ غفلت، نہ رفع حاجت ہوگی، نہ تھوک، نہ ناک مشک، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 28
یعنی کیا ان دونوں کا طرز عمل اور آخرکار دونوں کا انجام یکساں ہوسکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو شخص نہ خود راستہ دیکھتا ہے اور نہ کسی ایسے شخص کی بات ہی سنتا ہے جو اسے راستہ بتارہا ہو وہ ضرور کہیں ٹھوکر کھائے گا اور کہیں کسی سخت حادثہ سے دوچار ہوگا۔ بخلاف اس کے جو شخص خود بھی راستہ دیکھ رہا ہو اور کسی واقف راہ کی ہدایات سے بھی فائدہ اٹھاتا ہو وہ ضرور اپنی منزل پر بسلامت پہنچ جائے گا۔ بس یہی فرق ان لوگوں کے درمیان بھی ہے جن میں سے ایک اپنی آنکھوں سے بھی کائنات میں حقیقت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتا ہے اور خدا کے بھیجے ہوئے رہنماؤں کی بات بھی سنتا ہے، اور دوسرا نہ خود ہے کی آنکھیں کھلی رکھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
خلاصہ تفسیر
اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے…
Read the full tafseer →مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ ۭ هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۔ اوپر کفار کی حالت بیان ہوچکی ہے کہ كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۔ ، کہ ان کے ہوش کے کان اور ان کی بصیرت کی آنکھیں بند ہوچکی تھیں اس وجہ سے وہ قرآن کو سننے اور اللہ کی نشانیوں کے مشاہدہ سے محروم رہے۔ اس کے برعکس اہل ایمان نے اپنی آنکھیں بھی کھلی رکھیں اور اپنے کان بھی۔ فرمایا کہ ان دونوں گروہوں کی تمثیل یہ ہے کہ ایک اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا بینا اور شنوا تو دونوں کا رویہ قرآن کے باب میں ایک سا کس طرح ہوسکتا ہے ؟ قرآن کی دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 پچھلی آیات میں مومنین اور کافرین اور سعادت مندوں اور بدبختوں، دونوں کا تذکرہ فرمایا۔ اب اس میں دونوں کی مثال بیان فرما کر دونوں کی حقیقت کو مزید واضح کیا جا رہا ہے۔ فرمایا، ایک کی مثال اندھے اور بہرے کی طرح ہے اور دوسرے کی دیکھنے اور سننے والے کی طرح۔ کافر دنیا میں حق کا روئے زیبا دیکھنے سے محروم اور آخرت میں نجات کے راستہ سے بےبہرہ، اسی طرح حق کے دلائل سننے سے بےبہرہ ہوتا ہے، اسی لئے ایسی باتوں سے محروم رہتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوں۔ اس کے برعکس مومن سمجھ دار، حق کو دیکھنے والا اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا ہوتا ہے۔ چناچہ وہ حق اور خیر کی پیروی کرتا ہے، دلائل کو سنتا اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →یہ ایک حسی تصویر کشی ہے جس کے اندر دونوں فریقوں کو مجسم طور پر پیش کردیا گیا ہے۔ پہلا فریق ایک نابینا کی طرح جو کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا ، بہرے کی طرح ہے جو کچھ سن نہیں سکتا۔ جس کے قوائے مدرکہ معطل ہیں اور وہ علی امفاہیم کے ادراک سے عاجز ہے۔ چونکہ اس کے اعضائے مدرکہ کام نہیں کرتے اس لیے وہ گویا ان اعضا ہی سے محروم ہے جبکہ دوسرا فریق ان سے کام لیتا ہے اور سمیع وبصیر ہے اور ان قوتوں سے اس کی عقل استفادہ کرتی ہے۔
اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ آخری میں سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ دونوں قسم کے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ جواب کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
بلکہ دوسرا سوال…
Read the full tafseer →3 یعنی منکرین تو اندھے بہرے ہیں جیسا کہ دو تین آیت پہلے فرمایا تھا۔ ( مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ ) 11 ۔ ہود :20) پھر جسے نہ خود نظر آئے نہ دوسرے کی سن سکے، اس کا آغاز و انجام کیسے ان روشن ضمیر ایمانداروں کے برابر ہوسکتا ہے جو بصیرت کی آنکھوں سے حق و باطل اور بھلے برے میں تمیز کرتے اور اپنے ہادیوں کی باتیں بگوش ہوش سنتے ہیں۔ غور کرو کہ دونوں کا انجام یکساں کس طرح ہوسکتا ہے ؟ آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا قصہ اسی مضمون کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے ؟
اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورة الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے…
Read the full tafseer →9 2 بینا اور نابینا کون لوگ ہیں ؟ کافر اور مومن کی زندگی کا تقابل :۔ یہ دو فریق کافر اور مومن ہیں۔ کافر اندھا بھی ہوتا ہے اور بہرا بھی۔ اسے کائنات میں ہر طرف اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے کچھ بھی نظر نہیں آتا اور اگر کوئی اسے بتلانا چاہے تو سن بھی نہیں سکتا کیونکہ وہ بہرا ہے۔ اب دیکھیے ایک اندھا کسی راہ پر چل رہا ہو تو اس کے گمراہ ہونے یا کسی کھڈ میں جا گرنے سے بچنے کا کوئی امکان ہوتا ہے بالخصوص اس صورت میں اگر کوئی اسے راستہ بتلائے بھی تو وہ اس کی بات سن بھی نہ سکے اس کے مقابلہ میں ایک شخص خود ہی راستہ دیکھ رہا ہے اور وحی الٰہی کی روشنی میں اپنی منزل طے کر رہا ہے اور وہ منزل اس کے سامنے ہے…
Read the full tafseer →32۔ یعنی دونوں کے درمیان اتنے موٹے اور بین فرق کو محسوس نہیں کرتے ؟ (آیت) ” فریقین “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ ایک طرف مومن اور فرمانبردار ہیں اور دوسری طرف کافر ونافرمان جن کے انجام ومآل کا فرق ابھی اوپر بیان ہوچکا ہے۔ ایک ہدایت سے موصوف دوسرا ہدایت سے محروم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →مثل الفریقین دونوں فریقوں کی مثال (ایسی ہے) دونوں فریقوں سے مراد ہے مؤمنوں کا فریق اور کافروں کا فریق۔
کالاعمٰے والاصم والبصیر والسمیع جیسے (ایک) اندھا بہرا ہو اور (دوسرا) بینا شنوا۔ کافروں کے پاس گوش حق نیوش نہیں ‘ وہ حق کی بات نہیں سنتے اور راہ حق نہیں دیکھتے۔ حق کا راستہ ان کو سجھائی نہیں دیتا ‘ اسلئے وہ اندھے بہرے کی طرح ہیں اور مؤمن پیام حق سنتے اور اس کو قبول کرتے ہیں اور راہ حق اپنی قلبی خداداد روشنی سے دیکھتے ہیں اور اس پر چلتے ہیں ‘ اسلئے ان کی حالت بینا اور شنوا کی طرح ہے۔
ھل یستوین مثلاً کیا یہ دونوں فریق تمثیل میں ‘ یا صفت میں ‘ یا حالت میں برابر ہیں۔ (1) [ مَثَل مِثَال اور مِثْل…
Read the full tafseer →(24) کافر اور مومن کی حالت ایسی ہے جیسے ایک شخص اندھا ہو اور بہرہ بھی یعنی کافر اندھے کی طرح نہ حق وہدایت کی طرف دیکھتا ہے اور بہرے کی طرح حق و ہدایت کی کوئی بات نہیں سنتا اور مومن کی حالت دیکھنے والے اور سننے والے کی طرح ہے کہ حق وہدایت کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے، سو کیا کافر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور ثواب مومن کی برابر کرسکتا ہے کیا تم قرآن کریم کی ان نصیحتوں کو نہیں سمجھتے کہ پھر ایمان لے آؤ۔
Read the full tafseer →مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ۔۔ : مثال سے کسی چیز کی تصویر سامنے آجاتی ہے اور اس کا سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مومن دیکھنے اور سننے والا ہوتا ہے اور کافر اندھا اور بہرا ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد اور خلاف ہیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں کہ سیدھے راستے پر اندھا بہرا شخص کیسے چل سکتا ہے، جو نہ خود راستہ دیکھے، نہ بتانے سے سنے۔ اسی لیے کفار کہیں گے : (وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ) [ الملک : 10 ] ”اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو بھڑکتی آگ والوں میں نہ ہوتے۔“
Read the full tafseer →آیت نمبر 24
قولہ تعالیٰ : مثل الفریقینیہ مبتدا ہے اور کالاعمٰیاور اس کا مابعد اس کی خبر ہے۔ اخفش نے کہا : یعنیکمثل الا عمی ہے۔ نحاس نے کہا : تقدیر عبارت : مثل فریق الکافرکالأعمی والأصم ہے اور مثل فریق المومن کا لسمیع والبصیر ہے اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ھل یستویٰناس کو فریقین کی طرف لوٹایا گیا اور وہ دو ہیں۔
اس کا معنی حضرت قتادہ اور دیگر سے مروی ہے۔ ضحاک نے کہا : الاعمی والأصم کافر کے لیے مثال ہے اور السمیع اور البصیر مومن کے لیے۔ اور ایک قول کے مطابق یہ ہے کہ کیا اندھا اور دیکھنے والا برابر ہیں، اور کیا بہرا اور سننے والا برابر ہیں۔ مثلاً تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ افلاتذکرون…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” مثل الفریقین کالاعمی والاصم “ سے کافر مراد ہے (آیت) ” والبصیر والسمیع “ سے مومن مراد ہے۔
Read the full tafseer →مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ [ دو فریقوں کی مثال ] كَالْاَعْمٰى [ (ایک ) اندھے جیسا ] وَالْاَصَمِّ [ اور بہرے جیسا ] [وَالْبَصِيْرِ [دیکھنے والے جیسا ] [ وَالسَّمِيْعِ ۭ [ اور سمیع جیسا ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَوِيٰنِ [ یہ دونوں برابر ہوں گے ] مَثَلًا ۭ [ بلحاظ مثال کے ] اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ یاد دہانی حاصل نہیں کرتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
اہل ایمان کا انعام اور اہل کفر کا انجام بیان فرمانے کے بعد دونوں فریق کی مثال بیان فرمائی (مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَعْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ ) (دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا شخص دیکھنے والا اور سننے والا ہو) پہلی مثال کافر کی ہے۔ جو حق کی طرف سے اندھا اور بہرا بنتا ہے اور دوسری مثال مؤمن کی ہے جو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے اور حق کو قبول کرتا ہے اس نے اپنی سننے اور دیکھنے کی قوت ضائع نہیں کی (ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا) کیا یہ دونوں فریق اپنی حالت کے اعتبار سے برابر ہیں یعنی برابر نہیں ہیں جس طرح اندھا اور بہرا دیکھنے اور سننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔
(ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…
Read the full tafseer →27: یہ دونوں فریقوں یعنی مشرکوں اور مومنوں کی تمثیل ہے۔ مشرک کی مثال ایک اندھے اور بہرے شخص کی سی ہے جس طرح اندھا اور بہرا شخص اشارت اور عبادت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا یہی حال مشرکین کا ہے جو اللہ کی آیتوں سے اندھے اور بہرے بنے ہوئے ہیں وہ نہ آیات الٰہی کو سننا چاہتے ہیں نہ دلائل آفاق وانفس کو بنظر غائر دیکھ کر عبرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس مومن کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دیکھتا اور سنتا ہے اور عبارت اور اشارت دونوں سے متمتع ہوتا ہے اسی طرح مومن کانوں سے آیتیں سن کر اور آنکھوں سے دلائل قدرت کو ملاحظہ کر کے ایمان وعمل میں اور زیادہ مضبوط اور پختہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد سات قصے مذکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
ربط آیات
گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔
افترا علی اللہ
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا…
Read the full tafseer →مَثَلُ الْفَرِيْقَيْنِ كَالْاَعْمٰى وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِيْرِ وَالسَّمِيْعِ 0 ۭ ہَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا 0 ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ 24 ۧ
فریق
والفَرِيقُ : الجماعة المتفرّقة عن آخرین،
قال : وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78]
(ر ق ) الفریق
اور فریق اس جماعت کو کہتے ہیں جو دوسروں سے الگ ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقاً يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب تو راہ کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں ۔
عمی
العَمَى يقال في افتقاد البصر والبصیرة، ويقال في الأوّل : أَعْمَى، وفي الثاني :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ترکیب : یضاعف جملہ مستانفہ ہے ماکانوا میں تین وجہ ہیں اول یہ کہ نافیہ ہے والثانی مصدریہ۔ وفیہ مافیہ والثالث بمعنی الذی لاجرم الخ اس میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ لا کلام سابق کے رد کے لئے ای لیس الامر کمازعموا جرم فعل ضمیر اس میں مضمر اس کی فاعل وانہم الخ جملہ محل نصب میں دوم لا جرم بمعنی حق بمنزلہ ایک کلمہ کے انہم جملہ محل رفع میں فاعل ہو کر۔
تفسیر : کفار مکہ کی عادت تھی کہ وہ طرح طرح کے شبہات وارد کیا کرتے تھے۔ کبھی نئے نئے معجزات طلب کیا کرتے ٗ کبھی قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ کبھی اپنے پرانے ڈھکوسلوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ان بتوں کی پرستش کا اسی نے ہم کو حکم دیا ہے۔ اسی نے ان کو…
Read the full tafseer →َمثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَعْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِط ہَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلاً ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 24)
(مثال ان دونوں فریقوں کی ایسی ہے جیسے ایک اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا۔ کیا یکساں ہے ان دونوں کا حال ؟ کیا تم اس مثال میں غور و فکر نہیں کرتے ؟ )
سابقہ آیات کریمہ میں کفار کے اعتقادات اور ان کی بداعمالیوں کا ذکر ہوا اور اس کے نتیجے میں ان کی ناکامی اور محرومی کا بھی تذکرہ ہوا۔ ان کی پوری زندگی کے احوال کو سمیٹتے ہوئے پروردگار نے فرمایا مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ (نہ وہ حق کی آواز کو سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : ملعون لوگوں کے بعد نیک مخلصین کا ذکر۔
قرآن مجید حسب دستور دو قسم کے لوگوں اور کرداروں کے درمیان تقابل بیان کرتا ہے۔ کیا اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ حقائق نہ دیکھنے اور نہ سننے کی وجہ سے اندھوں اور بہروں کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ جو ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اتنا فرق ہونے کے باوجود لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اللہ کے حضور عاجزی کرنیوالے لوگ اپنے رب کی رضا کے لیے حقیقت کو بغور دیکھتے اور سنتے ہیں۔ عاجزی کرنے والوں سے مراد اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ جس کی تاکید اور وضاحت ایمان اور عمل صالح سے کردی ہے۔
” اَخْبَتُوْٓا “ کا لغوی معنی ” عاجزی اختیار کرنا…
Read the full tafseer →مومن و کافر کی مثال :
24: مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَ عْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ (دونوں گروہوں کی مثال اندھے اور بہرے اور دیکھنے اور سننے والے جیسی ہے) کافروں کو اعمیٰ اور اصم سے تشبیہ دی۔ جبکہ ایمان والے فریق کو سمیع اور بصیر سے۔ ھَلْ یَستَوِیٰنِ (کیا یہ دونوں برابر ہیں) یہ فریقین مَثَـلًا (مثال و حالت میں) مشابہت میں
نحو : یہ تمیز کی وجہ سے منصوب ہے۔ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ (کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے) کہ مثال بیان کرنے سے فائدہ اٹھاتے۔
Read the full tafseer →24۔” مثل الفریقین ‘ ‘ فریقین سے مراد مؤمن اور کافر ” کالا عمی والاصم والبصیر والسمیع ھل یستویان مثلا ھل یستویان “ فرمایا یستو ون نہیں فرمایا کیونکہ اعمی اور اصم دونوں ایک ہی چیز میں واقع ہیں گویا کہ یہ دونوں کافر کی صفات ہیں اور بصیر اور سمیع ایک ہی جانب میں واقع ہیں گویا کہ یہ مومن کی صفات ہیں ” افلا تذکرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23 ۔ 24 ۔ اوپر کی آیتوں میں بدبختوں کا حال بیان فرما کر اب ان آیتوں میں نیک بخت اور سعادت مندوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے اچھے اچھے عمل کئے اور ہر ایک حکم کو خدا کے بجا لائے اور جن چیزوں سے ان کو منع کیا تھا ان سے باز رہے ان کے واسطے خدا نے جنت مقرر کی ہے جس میں طرح طرح کی نعمتیں اور انواع و اقسام کے کھانے اور ہر ایک طرح کے آرام و راحت کا سامان ہے وہ اس میں رہیں گے۔ وہاں پھر نہ موت آئے گی نہ نیند پسینے تک سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہاں نہ بوڑھے ہوں گے نہ بیمار پھر اللہ نے ان کفار اور ان مومن بندوں کے درمیان میں فرق بیان کیا کہ وہ کفار ایسے ہیں جیسے اندھے اور بہرے کہ ان کو بھلائی کا رستہ…
Read the full tafseer →(مثل الفریقین) ” مثال دو گروہوں کی “ یعنی بدبختوں کا گروہ اور نیک بختوں کا گروہ (کالا عمیٰ والاصم) ” اندھے اور بہرے کی مانند ہیں “ یعنی ان بدبختوں کا گروہ (والبصیر والسمیع) ” اور دیکھنے، سننے والے کے مانند ہیں “ یعنی سعادت مند لوگوں کی مثل۔ (ھل یستوین مثلاً ) ” کیا یہ دونوں مثال میں برابر ہوسکتے ہیں ؟ “ یعنی مثال میں دونوں مساوی نہیں ہیں، بلکہ دونوں کے درمیان فرق ہے جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ (افلا تذکرون) ” پس تم کیوں دھیان نہیں دیتے “ ان اعمال کی طرف جو تمہیں فائدہ دیں اور تم انہیں بجا لاؤ اور ان اعمال کی طرف، جو تمہارے لئے نقصان دہ ہیں، پس تم ان کو چھوڑ دو ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →60 ۔ اہل کفر اور اہل ایمان کے فرق کی توضیح مثال کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان دونوں فریقوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک آدمی اندھا بہرہ ہو اور دوسرا سنتا دیکھتا۔ تو کیا یہ دونوں باہم برابر ہوسکتے ہیں ؟ " اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں۔ سو استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی یہ دونوں باہم برابر نہیں ہوسکتے تو پھر مومن و کافر اور موحد و مشرک آپس میں کس طرح برابر ہوسکتے ہیں ؟ پس یہ دونوں نہ حال کے اعتبار سے باہم برابر ہوسکتے ہیں کہ ان میں سے ایک ایمان و یقین اور نور ہدایت کی راہ پر ہے اور دوسرا کفر و باطل کے اندھیروں میں غلطاں و پیچاں اور نہ ہی یہ اپنے انجام اور مآل کے اعتبار سے باہم برابر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
مومن کا انعام، کافر اور مومن کا فرق
تشریح : جیسا کہ آیات سے ظاہر ہے یہاں آکر عالم آخرت کا بیان ختم ہو رہا ہے۔ اب آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جس میں بیشمار حکمت اور دانائی کی باتیں سکھائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 6 ۔ مسلمان دیکھتا سنتا ہے اور کافر اندھا بہرا ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(11:23) اخبتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ جھکے۔ انہوں نے عاجزی کی۔ اضبات (افعال) سے جس کے معنی تواضع۔ اور خشوع و خضوع کے ہیں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں۔ اخبت الرجل آدمی نے نشیبی اور نرم زمین کا قصد کیا یا وہاں اتر گیا۔ اس کے بعد لفظ الاخبات (افعال) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وبشر المخبتین (22:34) اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔ آیہ ہذا میں واخبتوا الی ربھم اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔
اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس کا معنی خافوا ہے قتادہ ؓ نے رجوع کا معنی کیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
اخبتوا (وہ جھکے رہے) الریقین (دو جماعتیں) اعمی (اندھا) اصم (بہرا) بصیر (دیکھنے والا) سمع (سننے والا) یستوین (دونوں برابر ہیں) افلا تذکرون (کیا پھر بھی تم دھیان نہیں دیتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 23 تا 24
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی اس کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ان کا کام ظلم و زیادتی کرنا، اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ گھڑنا، سازشیں کرنا دین کی ہر بات میں ٹیڑھ پن تلاش کرنا نہ تو وہ خود حق و صداقت کی راہ پر چلتے ہوں اور نہ دوسروں کو اس راہ پر چلنے کی کوششوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ قیامت کے دن سارے جن وانس اور ملائکہ کے روبرو سوار ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا۔ یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر۔ اب فرمایا کہ خود یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجاویں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسا جینا۔ پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ نہیں کر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ف 3) مسلمان بصارت اور اجرت کا مالک ہے ، کافر کی آنکھیں نہیں ، مسلمان گوش شنوا رکھتا ہے ، منکرین حق نیوش اور بصیرت کی نعمت سے محروم ہیں یعنی مسلمان کبھی حقائق وواقعات کا انکار نہیں کرتا آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے آواز کو سنتا ہے ، منکروں کو تعصب کی وجہ سے صداقت میں روشنی نظر نہیں آتی ، عناد وجہالت سے روشن ، ترین دلائل کو وہ نہیں دیکھتے ، کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے ہیں ، اس لئے یہ دونوں استعداد کے لحاظ سے ہرگز برابر نہیں ہو سکتے ، مسلمان کے دل میں بصیرت کی روشنی اور چمک ہے گوش حق نیوش ہیں ، مگر منکین ان نعمتوں سے محروم ہیں ۔
حل لغات :
لاجرم : بیشک ۔ بالضرور ، قطعی طور پر ۔
Read the full tafseer →24 ان دونوں مذکورہ فریقوں کا فر اور مومنوں کی مثال ایک ادھا بھی اور بہرہ بھی اور ایک دیکھتا بھی اور سنتا بھی کیا دونوں حالت میں برابر ار مساوی ہیں کیا تم اس فرق اور تفاوت سے نصیحت نہیں پکڑتے یعنی اندھے اور کھجا کے بہرے اور سننے میں بڑا فرق ہے بس یہی فرق دین حق کے منکر اور دین حق کو قبول کرنیوالے میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 4۔ یہی حالت کافر اور مسلمان کی ہے کہ پہلا ہدایت سے بہت دور ہوا دوسرا ہدایت کے ساتھ موصوف ہے۔
5۔ یعنی اس میں تردد ہونے کی گنجائش ہی نہیں بہت بدیہی ہے۔
Read the full tafseer →تمہاری نصیحت کیلئے ان دو فریقوں کی مثال بیان کی جا رہی ہے
35 ؎ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا ، کیا ان دونوں کا طرز عمل اور آخر کار دونوں کا انجام یکساں ہو سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو شخص نہ خود راستہ دیکھتا ہے اور نہ کسی ایسے شخص کی بات ہی سنتا ہے جو اسے راستہ بتا رہا ہو وہ ضرور کہیں نہ کہیں ٹھوکر کھائے گا اور کہیں کسی سخت حادثہ سے دوچار ہوگا بخلاف اس کے جو شخص خود بھی راستہ دیکھ رہا ہو اور کسی واقف راہ کی ہدایات سے بھی فائدہ اٹھاتا ہو وہ ضرور اپنی منزل پر بسلامت پہنچ جائے گا۔ بس یہی فرق ان لوگوں کے درمیان بھی ہے جن میں سے ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…
Read the full tafseer →28. Can the attitude and ultimate end of both these types of people be the same? Obviously, he who fails to see the right way and ignores the instruction of the guide who directs him to the right way will necessarily stumble and meet with some terrible mishap. However, he who perceives the right way and follows the instructions of his guide will reach his destination, and reach it safely.
The same difference is found between the two parties mentioned here. One of these carefully observes the realities of the universe and pays heed to the teachings of God's Messengers. The other party,…
Read the full tafseer →