Explained with ayahs 25–27
آدم ؑ کے بعد سب سے پہلا نبی ؟
سب سے پہلے کافروں کی طرف رسول بنا کر بت پرستی سے روکنے کے لیے زمین پر حضرت نوح ؑ ہی بھیجے گئے تھے۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں اگر تم غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑو گے تو عذاب میں پھنسو گے۔ دیکھو تم صرف ایک اللہ ہی کی عبادت کرتے رہو۔ اگر تم نے خلاف ورزی کی تو قیامت کے دن کے دردناک سخت عذابوں میں مجھے تمہارے لینے کا خوف ہے۔ اس پر قومی کافروں کے رؤسا اور امراء بول اٹھے کہ آپ کوئی فرشتہ تو ہیں نہیں ہم جیسے ہی انسان ہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم سب کو چھوڑ کر تم ایک ہی کے پاس وحی آئے۔ اور ہم اپنی آنکھوں دیکھ رہے ہیں کہ ایسے رذیل لوگ…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 29
مناسب ہو کہ اس موقع پر سورة اعراف رکوع 8 کے حواشی پیش نظر رکھے جائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
خلاصہ تفسیر
اور ہم نے نوح ؑ کو ان کی قوم کے پاس رسول بنا کر (یہ پیغام دے کر) بھیجا کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت مت کرو (اور جو بت تم نے قرار دے رکھے ہیں، وَدّ اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر کو چھوڑ دو ، چناچہ حضرت نوح ؑ نے جا کر ان سے فرمایا کہ) میں تم کو (درصورت عبادت غیر اللہ کے) صاف صاف ڈراتا ہوں (اور اس ڈرانے کی تفصیل یہ ہے کہ) میں تمہارے حق میں ایک بڑے تکلیف دینے والے دن کے عذاب کا اندیشہ کرتا ہوں سو ان کی قوم میں جو کافر سردار تھے وہ (جواب میں) کہنے لگے کہ (تم جو نبوت کا دعوی کرتے ہو جیسا نذیر مبین سے معلوم ہوتا ہے تو ہمارے جی کو یہ بات نہیں لگتی کیونکہ) ہم تو تم کو اپنے ہی…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 25 تا 99:۔ آگے آیات 99 تک ایک تاریخی ترتیب کے ساتھ پچھلے رسولوں اور ان کی قوموں کی سرگزشتیں سنائی گئی ہیں۔ ان کے سنانے سے مقصود ایک طرف تو نبی ﷺ کو یہ دکھانا ہے کہ آج جو کچھ تمہیں پیش آرہا ہے بعینہ وہی کچھ تم سے پہلے آنے والے رسولوں کو بھی پیش آچکا ہے، تو تم ان کی زندگیوں سے رہنمائی حاصل کرو اور جس طرح انہوں نے صبر و عزیمت کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اسی طرح تم بھی حالات کا مقابلہ کرو۔ دوسری طرف قریش کو یہ دکھانا ہے کہ تم نے جو روش اپنے رسول کے ساتھ اختیار کی ہے وہی روش تمہاری پیش رو قوموں نے بھی اختیار کی تھی جس کے نتیجہ میں ایک خاص حد تک مہلت دیے جانے کے بعد وہ ہلاک کردی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 پچھلی آیات میں مومنین اور کافرین اور سعادت مندوں اور بدبختوں، دونوں کا تذکرہ فرمایا۔ اب اس میں دونوں کی مثال بیان فرما کر دونوں کی حقیقت کو مزید واضح کیا جا رہا ہے۔ فرمایا، ایک کی مثال اندھے اور بہرے کی طرح ہے اور دوسرے کی دیکھنے اور سننے والے کی طرح۔ کافر دنیا میں حق کا روئے زیبا دیکھنے سے محروم اور آخرت میں نجات کے راستہ سے بےبہرہ، اسی طرح حق کے دلائل سننے سے بےبہرہ ہوتا ہے، اسی لئے ایسی باتوں سے محروم رہتا ہے جو اس کے لئے مفید ہوں۔ اس کے برعکس مومن سمجھ دار، حق کو دیکھنے والا اور حق اور باطل کے درمیان تمیز کرنے والا ہوتا ہے۔ چناچہ وہ حق اور خیر کی پیروی کرتا ہے، دلائل کو سنتا اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →درس نمبر 100 ایک نظر میں
قصص انبیاء اس سورت کا مرکزی موضوع ہے۔ لیکن ، اصل مقصود بذات خود قصہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود وہ حقیقت ہے جسے ان قصص کے ذریعے ثابت کیا جا رہا ہے اور سورت کے آغاز میں مجملاً اس کا تذکرہ کردیا گیا ہے : الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (1) أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ (3)إِلَى…
Read the full tafseer →4 یعنی نہایت وضاحت کے ساتھ وہ چیزیں بتلاتا ہوں جن کے ارتکاب پر مہلک عذاب نازل ہونے کا اندیشہ ہے۔ یا جو اس عذاب سے محفوظ رہنے کے ذرائع ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
هَلْ يَسْتَوِيٰنِ مَثَلًا ۭ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ
بھلا دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے ؟
اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورة الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے…
Read the full tafseer →30 سیدنا نوح کا قصہ پہلے سورة اعراف کے رکوع نمبر 8 میں بھی گذر چکا ہے لہذا وہ حواشی بھی مدنظر رکھے جائیں۔
31 یعنی تمہیں صاف صاف بتارہا ہوں کہ کن باتوں اور کاموں کے ارتکاب سے تم پر عذاب آنے کا اندیشہ ہے اور اس عذاب سے بچنے کے ذرائع کیا ہیں ؟
Read the full tafseer →33۔ (پیغمبر بنا کر اور یہ پیام دے کر) نوح (علیہ السلام) اور قوم نوح (علیہ السلام) پر حاشیے پارہ نمبر 11 میں سورة یونس میں گزر چکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیت نمبر 25 تا 35
ترجمہ : یقیناً ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف واضح طور پر آگاہ کرنے والا بنا کر بھیجا) انّی ( اصل میں بِانّی ہے اور ایک قراءت میں حذف قول کے وجہ سے ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ ہے، یہ کہ تم خدا کے علاوہ کسی کی بندگی نہ کرو، اگر تم نے غیر اللہ کی بندگی کی تو مجھے تم پر دنیا اور آخرت میں دردناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے، اس کی کافر قوم کے سرداروں نے کہا اور وہ شرفاءِ قوم تھے، ہم تجھے اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں تجھے ہم پر کوئی فضیلت) فوقیت ( حاصل نہیں، اور تیری اتباع کرنے والوں کو بھی دیکھتے ہیں کہ وہ ہماری قوم کے نیچ لوگ ہیں جیسا کہ جلا ہے اور موچی، جو سطحی رائے والے ہیں، )…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ انی لکم نذیر مبین۔ اور یقیناً ہم نے نوح کو پیغمبر بنا کر ان کی قوم کی طرف بھیجا تھا (اور) نوح نے کہا تھا کہ میں تم کو (ا اللہ کے عذاب سے) واضح طور پر ڈرانے والا ہوں۔ مُبِیْنٌ کا یہ مطلب ہے کہ تم کو عذاب اور ثواب کے اسباب سے کھول کر اطلاع دے رہا ہوں۔
Read the full tafseer →(25) حضرت نوح ؑ جس وقت اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے کہا کہ میں تمہارے پاس اللہ کی طرف سے رسول بنا کر یہ پیغام دے کر بھیجا گیا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کرو۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ : جن حالات میں نبی ﷺ مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے، وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء ؑ کو پیش آ چکے تھے، اس لیے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء کا ذکر کیا جا رہا ہے اور باقی سورت تقریباً اسی تذکرے سے بھری ہوئی ہے، تاکہ ایک طرف رسول اللہ ﷺ کی ہمت بندھے، آپ کو اور مسلمانوں کو تسلی ہو کہ انجام کار اللہ کے رسولوں اور اہل حق کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یقیناً مدد ہوتی ہے اور دوسری طرف پہلی قوموں کے اعتراضات اور ان کے انبیاء کے جوابات آپ کے لیے نمونہ بنیں اور آپ کی قوم کو پہلے کفار کے انجام سے ڈرایا جائے۔
آدم ؑ اللہ تعالیٰ کے نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت نمبر 25 تا 26
قولہ تعالیٰ : ولقد ارسلنا نوحًاالٰی قومہٖٓاللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لیے انبیاء (علیہم السلام) کے قصص کو ذکر کیا تاکہ آپ کفار کی اذیتوں پر صبر کو لازم پکڑیں اور اللہ تعالیٰ ان کے معاملات میں آپ ﷺ کو کافی ہوجائے گا۔ ان یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا : ان یعنی میں، کیونکہ ارسال میں قول کا معنی موجود ہے۔
ابن کثیر، ابوعمرو اور کسائی نے انی کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی ارسلناہ بانی لکم نزیر مبین۔ انہ نہیں فرمایا کیونکہ غیب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کے اپنی قوم کو حطاب کی طرف رجوع فرمایا۔ جس طرح وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیءٍ فرمایا اور پھر فخذھا بقوۃٍ (الاعراف :145)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
حضرت نوح (علیہ السلام) کا اپنی قوم سے مکالمہ :
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحممہا اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما نرک التبعک الا الذین ھم اراذلنا بادی الراع “ یعنی ہم تم کو نہیں دیکھتے کہ تیری پیروی کرتے ہیں وہ لوگ جن کے بارے میں یہ ظاہر ہوچکا ہے کہ وہ ہم میں ذلیل اور حقیر ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ ” ان کنت علی بینۃ من ربی “ تحقیق میں نے اس روشن دلیل کو پہچان لیا ہے اور اس کے ذریعہ میں نے اپنے رب کے حکم کو پہچان لیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں (آیت) واتنی رحمۃ من عندہ “ یعنی رحمت سے مراد اسلام ہدایت ایمان حکم اور نبوت۔
3:۔ ابن جریر وابو…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا [ اور بیشک ہم بھیج چکے ہیں ] نُوْحًا [ نوح کو ] اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ [ ان کی قوم کی طرف ] اِنِّىْ [(انھوں نے کہا) کہ میں ] لَكُمْ [ تمہارے لئے ] نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ [ ایک واضح خبردار کرنے والا ہوں ]
نوٹ ۔ 1: آیت 25 سے 49 تک مسلسل حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر ہے ۔ درمیان میں ایک آیت نمبر 35 ایسی ہے جس کے متعلق دورائے ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ آیت بھی اسی سلسلہ کلام کی ایک کڑی ہے ۔ ایسی صورت میں افتراہ کی ضمیر مفعول ی حضرت نوح (علیہ السلام) کی نصیحت (نضحی ) کے لئے مانی جائے گی اور قل کا خطاب حضرت نوح (علیہ السلام) کے لئے ہوگا ۔ دوسری رائے یہ ہے کہ سلسلہ کلام کو منقطع کرکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
اہل ایمان کا انعام اور اہل کفر کا انجام بیان فرمانے کے بعد دونوں فریق کی مثال بیان فرمائی (مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ کَالْاَعْمٰی وَالْاَصَمِّ وَالْبَصِیْرِ وَالسَّمِیْعِ ) (دونوں فریق کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرا ہو اور دوسرا شخص دیکھنے والا اور سننے والا ہو) پہلی مثال کافر کی ہے۔ جو حق کی طرف سے اندھا اور بہرا بنتا ہے اور دوسری مثال مؤمن کی ہے جو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے اور حق کو قبول کرتا ہے اس نے اپنی سننے اور دیکھنے کی قوت ضائع نہیں کی (ھَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا) کیا یہ دونوں فریق اپنی حالت کے اعتبار سے برابر ہیں یعنی برابر نہیں ہیں جس طرح اندھا اور بہرا دیکھنے اور سننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
قصہ نوح (علیہ السلام) با قوم او
قال تعالیٰ ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ ..... الی .... وانا بریء مما تجرمون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں یہ بیان کیا کہ اہل حق اور اہل باطل کا برابر ہونا ایسا ہی ناممکن ہے جیسا کہ بینا اور نابینا اور شنوا اور بہرے کا برابر ہونا ناممکن ہے۔ پس غور کرلو کہ ان دو مختلف اور متضاد فریقین کا انجام کیسے یکساں ہوسکتا ہے۔
اب آگے اسی مضمون کی تائید اور تاکید کے لیے چند عبرتناک واقعات بیان کرتے ہیں جن میں اول قصہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ہے کہ جو صدہا سال کی نصیحت کے بعد بھی راہ راست پر نہ آئے بالآخر غرق ہوئے یہ قصہ اگرچہ سورة یونس میں مذکور ہوچکا ہے مگر یہاں کچھ زائد حالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
28: پہلا قصہ۔ یہ پہلا قصہ ہے جو پہلے دعوے سے متعلق ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے سب سے پہلے بدیں الفاط اپنی قوم کے سامنے دعوت الٰہی پیش کی۔ اِنِّیْ لَکُمْ نَذیْرٌ مُّبِیْنٌ اَنْ لّ ۔ ا تَعْبُدُوْا اِلَّا اللّٰہَ میں اللہ کی طرف سے ڈرانے والا ہوں ظاہر اور میرا پیغام یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو مت پکارو، اللہ کے سوا کوئی معبود اور کارساز نہیں۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْا میں ان مفسرہ ہے اور اَرْسَلْنَا یا نَذِیْرٌ کے متعلق ہے یا ان مصدریہ ہے اور حرف جار مقدر ہے ای بان لا تعبدوا (روح) ۔ اس کے جواب میں قوم نے چار باتیں طنز و اعتراض کے طور پر کہیں اول مَا نَرٰکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا تم ہماری مانند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
تاریخ انبیاء
اس سورة کی پہلی آیت میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا۔ پھر اس کی دوسری آیت میں توحید کا بیان ہے۔ (آیت) ” الا تعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اب آج سے شروع ہونے والے حصہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی تاریخ کا ایک حصہ بیان فرمایا ہے۔ ہر نبی کی تعلیم میں یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا (آیت) ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ گویا اپنی وحدانیت کا درس دینے کے لیے اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کا ذکر فرمایا ہے کہ…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِہٖٓ 0ۡاِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ 25 ۙ
نوح
نوح اسم نبيّ ، والنَّوْح : مصدر ناح أي : صاح بعویل، يقال : ناحت الحمامة نَوْحاً وأصل النَّوْح : اجتماع النّساء في المَنَاحَة، وهو من التّناوح . أي : التّقابل، يقال : جبلان يتناوحان، وریحان يتناوحان، وهذه الرّيح نَيْحَة تلك . أي : مقابلتها، والنَّوَائِح : النّساء، والمَنُوح : المجلس .
( ن و ح ) نوح
۔ یہ ایک نبی کا نام ہے دراصل یہ ناح ینوح کا مصدر ہے جس کے معنی بلند آواز کے ساتھ گریہ کرنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ناحت الحمامۃ نوحا فاختہ کا نوحہ کرنا نوح کے اصل معنی عورتوں کے ماتم کدہ میں جمع ہونے کے ہیں اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہِٓ ز اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ۔ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلاَّ اللّٰہَ ط اِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اَلِیْمٍ ۔ (سورۃ ہود : 25، 26)
(ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ (انھوں نے کہا بیشک میں تمہارے لیے کھلا کھلا ڈرانے والا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تم پر ایک دردناک عذاب کے دن کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ )
چند ابتدائی باتیں
پیشِ نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد کی بھی کئی آیات کو پڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم چند ابتدائی باتوں کو ذہن نشین کرلیں۔
1 جب بھی اللہ کی طرف سے کوئی نبی یا رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔
قرآن پاک کے حوالے سے یہ بات پہلے بھی لکھی جاچکی ہے کہ لوگوں کی ہدایت کے لیے جتنے پیغمبر مبعوث کیے گئے ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز اللہ کی توحید سمجھانے سے کیا۔ جس کا تقاضا ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جن کو اوّلُ الرُّسُل بھی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کو یہی فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ میں تمہیں اس طریقہ عبادت کے انجام سے واشگاف الفاظ میں آگاہ کررہا ہوں جس طریقہ سے تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو وہ نہ صرف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں بلکہ اگر تم اس طریقہ عبادت سے باز نہ آئے تو تم پر اذیت ناک عذاب نازل…
Read the full tafseer →دعوت نوح۔ :
25: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِِلٰی قَوْمِہٖٓ اِنِّیْ لَکُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ (تحقیق ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف بھیجا (انہوں نے قوم کو خطاب کر کے فرمایا) بیشک میں تمہارے لئے کھلا ڈرانے والا ہوں) انِّیْ اصل میں بِانِّیْ ہے اسلئے کہ مطلب اس طرح ہوا۔ ہم نے ان کو بھیجا کہ وہ کہہ رہے تھے۔ انی لکم نذیر مبین۔ اِنِّیْ یہ کسرہ کے ساتھ ہے۔ جب حرف جار اس کے ساتھ مل گیا تو کانّ کی طرح اس کو مفتوح پڑھیں گے اَ نِّیْ ۔
قراءت : شامی، نافع اور عاصم، حمزہ و علی نے کسرہ کے ساتھ پڑھا۔ قال کا قول قرار دیکر۔
Read the full tafseer →25۔ ” ولقد ارسلنا نوحا ً الیٰ قومہ انی لکم نذیر مبین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ 26۔ مصنف ابن ابی شیبہ مستدرک حاکم تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو سو برس اپنی قوم کو وہ نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد پھر زندہ رہے اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے 1 ؎ صاحب شریعت انبیاء کی ابتداء حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے پہلے تک کے لوگوں میں بت پرستی نہیں تھی۔ شیطان کے بہکانے سے پہلے اس قوم نے بت پرستی دنیا میں شروع…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا نوحاً ) ” اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کو بھیجا۔ “ یعنی ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اولین رسول بنا کر بھیجا۔ (الی قومہ ) ” ان کی قوم کی طرف۔ “ جو انہیں اللہ کی طرف بلاتے تھے اور شرک سے روکتے تھے۔ انہوں نے اپنی قوم سے کہا : (انی لکم نذیر مبین) ” میں تم کو کھول کھول کر ڈر سنانے آیا ہوں۔ “ یعنی میں نے جس چیز سے تمہیں ڈرایا ہے اسے کھول کھول کر بیان کردیا ہے جس سے اشکال زائل ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →62 ۔ تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو یہاں سے گذشتہ انبیاء و رسل اور ان کی قوموں کی تاریخ کا حوالہ دیا جارہا ہے جس سے ان حقائق کی تائید و تصدیق ہوتی ہے جو عقل و فطرت کے دلائل کی روشنی میں اوپر بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن میں سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کا قصہ بیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم ہی نے نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے ان کی قوم کی طرف جس سے اس اہم بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بعثت ان کی قوم کی طرف تھی اور بس۔ کہ دوسرے انبیاء کرام کی طرح ان کی بعثت و نبوت بھی عام اور عالمی نہیں تھی بلکہ ایک خاص دور کے لئے اور ان ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–44
نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے کا واقعہ
تشریح : کفار و مشرکین ہمیشہ ایک ہی طرح کی باتیں کرتے تھے مثلاً یہ کہ پیغمبر کو کہنا کہ تم ایک معمولی انسان ہو رسول کیسے بن گئے۔ پھر کتاب پر یقین نہ کرنا پھر پیغمبر کا مذاق اڑانا، تکلیف پہنچانا اور پھر یہ کہنا کہ خواہ مخواہ عذاب سے ڈراتے رہتے ہو۔ لائو عذاب وغیرہ وغیرہ تو حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکالمہ اپنی قوم کے ساتھ اور پھر ان کی بددعا اور پھر عذاب کا آنا اور صرف ان لوگوں کا بچ جانا جو رہنمائوں کو سنتے، دیکھتے اور مانتے تھے اور جو نہ سننا چاہتے نہ دیکھنا چاہتے اور نہ ماننا چاہتے تو ایسے لوگ دنیاوی عذاب کا شکار ہو کر نیست و نابود ہوجاتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–35
آیات 25 تا 35
اسرار و معارف
بلکہ ان امور کے نتائج کا فرق دنیا میں بھی سامنے ہے اور تاریخ اس پر گواہ ہے جیسے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا گیا اور انھوں نے اعلان فرمایا کہ لوگو ! کافرانہ عقائد اور برے اعمال کے نتائج قدر ہولناک ہوں گے یہ مجھ سے سنو کہ یہی میرافریضہ نبوت ہے اور تمہارے کردار کا انجام دیکھ کر تو بدن کانپ اٹھتا ہے کہ روزحشرکا عذاب بہت دردناک ہوگا اور تمہارے غلط نظریات تمہیں اس سے دوچار کردیں گے۔
بشریت ونبوت
مگرقوم میں صاحب اقتدار لوگ بھڑک اٹھے جو کفر کی وجہ سے ہی برسراقتدار تھے یا کفار کی رسومات میں ان کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے جب اس پر زدپڑتے دیکھی تو…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ جن حالات میں نبی و مکہ میں توحید کی دعوت پیش کر رہے تھے وہ چونکہ ویسے ہی حالات تھے جو آپ ﷺ سے پہلے دوسرے انبیاء ( علیہ السلام) کو پیش آچکے تھے۔ اس لئے حسب موقع یہاں سے گزشتہ انبیاء ( علیہ السلام) کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ایک طرف آنحضرت ﷺ کی ہمت بندھے اور دوسری طرف کفار مکہ کو تہدید اور تنبیہ ہو۔ (کبیر) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(11:23) اخبتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ جھکے۔ انہوں نے عاجزی کی۔ اضبات (افعال) سے جس کے معنی تواضع۔ اور خشوع و خضوع کے ہیں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں۔ اخبت الرجل آدمی نے نشیبی اور نرم زمین کا قصد کیا یا وہاں اتر گیا۔ اس کے بعد لفظ الاخبات (افعال) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وبشر المخبتین (22:34) اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔ آیہ ہذا میں واخبتوا الی ربھم اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔
اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس کا معنی خافوا ہے قتادہ ؓ نے رجوع کا معنی کیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
لغات القرآن آیت نمبر 25 تا 30
اخاف (میں ڈرتا ہوں، اندیشہ رکھتا ہوں) الملاء (سردار) مانری (ہم نہیں دیکھتے) فضل (برتری، بڑائی) اتبعک (جو تیرے پیچھے چلا) اراذل (رذیل) معمولی حیثیت رکھنے والے بادی الرای (سوچنے سمجھنے والے نہ ہوں) عمیت (اندھا کردیا گیا جو نظر نہ آئے) نلزم (ہم مسلط کریں گے) کرھون (برا سمجھنے والے) لا اسئل (میں نہیں مانگتا ) طارد (دھکے دینے والا، نکالنے والا) طردت (میں نے نکال دیا) افلا تذکرون (کیا پھر تم اتنا غور نہیں کرتے)
تشریح :- آیت نمبر 25 تا 30
اگر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو ابتدا سے ہی لوگوں نے انسانی شرافت اور عظمت کو مال و دولت کی ترازو پر تولنے کی کوشش کی ہے۔ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
حضرت نوحٖ (علیہ السلام) کی عمر اور ہدایت
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ چالیس برس کی عمر میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور طوفان سے پہلے ساڑھے نو برس اپنی قوم کو وہ نصیحت کرتے رہے اور ساٹھ برس طوفان کے بعد پھر زندہ رہے۔ اس حساب سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر ایک ہزار پچاس برس کے قریب ہوئی۔ صاحب شریعت انبیاء کی ابتدا حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم سے پہلے اس قوم نے بت پرستی دنیا میں شروع کی۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ نصیحت کی کہ اگر تم لوگ بت پرستی سے باز نہ آؤ گے تو تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
(ف 3) مسلمان بصارت اور اجرت کا مالک ہے ، کافر کی آنکھیں نہیں ، مسلمان گوش شنوا رکھتا ہے ، منکرین حق نیوش اور بصیرت کی نعمت سے محروم ہیں یعنی مسلمان کبھی حقائق وواقعات کا انکار نہیں کرتا آنکھوں سے دیکھتا اور کانوں سے آواز کو سنتا ہے ، منکروں کو تعصب کی وجہ سے صداقت میں روشنی نظر نہیں آتی ، عناد وجہالت سے روشن ، ترین دلائل کو وہ نہیں دیکھتے ، کانوں پر غفلت کے پردے پڑے ہوئے ہیں ، اس لئے یہ دونوں استعداد کے لحاظ سے ہرگز برابر نہیں ہو سکتے ، مسلمان کے دل میں بصیرت کی روشنی اور چمک ہے گوش حق نیوش ہیں ، مگر منکین ان نعمتوں سے محروم ہیں ۔
حل لغات :
لاجرم : بیشک ۔ بالضرور ، قطعی طور پر ۔
Read the full tafseer →25 اور بلاشبہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا انہوں نے اپنی قوم سے کہا میں تم کو صاف صاف ڈرانے والا ہوں یعنی واضح اور صاف طورپر ڈراتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
ف 4۔ یہی حالت کافر اور مسلمان کی ہے کہ پہلا ہدایت سے بہت دور ہوا دوسرا ہدایت کے ساتھ موصوف ہے۔
5۔ یعنی اس میں تردد ہونے کی گنجائش ہی نہیں بہت بدیہی ہے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) کو ہم نے ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا
36 ؎ سیدنا نوح (علیہ السلام) مورخین کے بیان کے مطابق آدم (علیہ السلام) سے 1650 سال بعد پیدا ہوئے اور دوسرے روایات جو اس سے زیادہ قابل اعتماد ہیں ان کے مطابق 2262 سال بعد ہوئی لیکن یہ دونوں روایتیں علماء توریت کی ہیں ۔ اس طویل عرصہ میں ان لوگوں میں ہر طرح کی خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں ۔ بدکاری ، اخلاقی پستی ، ظلم و سر کشی ، روز قیامت کا انکار جیسی ساری بیماریوں میں وہ مبتلا ہوچکے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دامن توحید بھی ان کے ہاتھوں سے مکمل طور پر چھوٹ چکا تھا ۔ اللہ وحدہٗ لا شریک لہ کی عبادت کو چھوڑ کر انہوں نے قوم کے لیڈروں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
Commentary
When Sayyidna Nuh علیہ السلام invited his people to believe, they responded with some doubts and objections against the veracity of his mission as a prophet and messenger of Allah. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) with the will and permission of Allah, answered their questions. Many primary and subsidiary religious rulings relating to honesty and social living emerge from here as a corollary. This dialogue forms the core of the subject taken up in these verses.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
29. It is pertinent at this stage to bear in mind Towards Understanding the Qur'an, vol. III. al-A'raf 7: 59-64. nn. 47-50, pp. 37-42.
Read the full tafseer →