Explained with ayahs 23–24
عقل و ہوش اور ایمان والے لوگ
بروں کے ذکر کے بعد اچھے لوگوں کا بیان ہو رہا ہے جن کے دل ایمان والے، جن کے جسمانی اعضا فرماں برداری کرنے والے تھے، قول و فعل سے فرمان رب بجا لانے والے اور رب کی نافرمانی سے بچنے والے تھے یہ لوگ جنت کے وارث ہوں گے۔ بلند وبالا بالا خانے، بچھے بچھائے تخت، چکھے ہوئے خوشوں اور میوؤں کے درخت ابھرے ابھرے فرش، خوبصورت بیویاں، قسم قسم کے خوش ذائقہ پھل، چاہت کے لذیذ کھانے پینے اور سب سے بڑھ کر دیدار الٰہی یہ نعمتیں ہوں گی جو ان کے لیے ہمیشگی کے لیے ہوں گی۔ نہ انہیں موت آئے گی نہ بڑھاپا، نہ بیماری، نہ غفلت، نہ رفع حاجت ہوگی، نہ تھوک، نہ ناک مشک، نہ بو والا پسینہ آیا اور غذا…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 27
یہاں عالم آخرت کا بیان ختم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
خلاصہ تفسیر
اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے…
Read the full tafseer →اہل ایمان کے فضائل : اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰي رَبِّهِمْ ۙاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــنَّةِ ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۔ اب یہ کفار و مشرکین کے مقابل گروہ یعنی اہل ایمان کے انجام کا ذکر ہے۔ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰي رَبِّهِم، کے معنی اطمانوا الی اللہ و تخشعوا امامہ کے ہیں۔ یعنی ہر ایک سے کٹ کر اپنے رب کی طرف پوری دل جمعی اور کامل یک سوئی کے ساتھ وہ جھک پڑے۔ اوپر مشرکین کا حال تو یہ بیان ہوا ہے کہ وہ اپنے کبر و غرور کے سبب سے نہ اپنے کان ہی کھولنے کے لیے تیار ہوئے نہ اپنی آنکھیں ہی لیکن ان لوگوں نے ایمان و عم صالح کی روشن اختیار کی اور خلق خدا کو اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
20۔ 1 یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا ' (فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ) 46۔ الاحقاف :26) نہ ان کے کانوں نے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے ' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے (لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 ) 67۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →اس کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں اور وہ لوگ جو ایمان کے بعد عمل صالح بھی رکھتے ہیں ، وہ اپنے رب کی جانب سے بےحد مطمئن ہوں گے ، انہیں پورا وثوق ہوگا کہ ان کے اعمال صالح کا پورا پورا اجر ملے گا۔ نہایت ہی پرسکون ، ہر قسم کی پریشانیوں اور شکو وں سے دور۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔ اخبات کے معنی ہیں اطمینان ، استقرار وثوق اور تسلیم و رضا۔ یہ لفظ ایک حقیقی مومن اور اس کے رب کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی بہت ہی اچھی تصویر کشی کرتا ہے۔ مومن مکمل طور پر اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کی طرف سے اس پر جو حالت بھی آتی ہے اس پر مطمئن ہوتا ہے اس کے نفس میں ایک ٹھہراؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
2 منکرین کی بد انجامی کے بالمقابل مومنین کا انجام نیک بیان فرمایا۔ ان کی عاجزی خدا کو پسند آئی اس لیے اپنی دائمی خوشنودی کا مقام عطا فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
آیت 22 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ
واضح رہے کہ ”اَخْسَرُ“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔
اہل جہنم کے تذکرے کے بعد فوری تقابل simultaneous contrast کے لیے اب اہل جنت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
Read the full tafseer →8 2 یہ درمیان میں ایمان والوں اور ان کی جزا کے متعلق جو آیت آئی ہے تو یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہے کہ جہاں کفار اور ان کے انجام کا ذکر آتا ہے تو ساتھ ہی اہل ایمان اور ان کی جزا کا بھی ذکر آتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔
Read the full tafseer →31۔ (آیت) ” اخبتوا الی ربھم “۔ یعنی اپنے پروردگار کا خشوع وانقیاد دل میں پیدا کرلیا۔ الاخبات ھو الخشوع والخضوع (کبیر) اصحاب جنت کے اوصاف کی ترتیب آیت میں خاص طور پر قابل لحاظ ہے۔ (آیت) ” الذین امنوا “۔ پہلا درجہ تو ایمان یا تصحیح عقائد کا ہوا (آیت) ” وعملوا الصلحت “۔ دوسرا مرتبہ عمل صالح کا یا اصلاح اعمال واخلاق کا ہوا۔ (آیت) ” واخبتوا “۔ تیسرا مرتبہ تزکیہ نفس کا ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →ان الذین امنوا وعملوا الصلحت واخبتوآ الی ربھم اولئک اصحب الجنۃ ھم فیھا خٰلدون۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور (دل سے) اپنے رب کی طرف جھکے وہی جنتی ہوں گے ‘ وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے اَخْبَتُوْا کا ترجمہ کیا ہے خافُوْا (ڈرے ‘ اللہ سے خوف کیا) قتادہ نے کہا : رجوع کیا ‘ اللہ کی طرف لوٹے۔ مجاہد نے کہا : اطمینان حاصل کرلیا (یعنی ایمان کے بعد مرتبۂ اطمینان پر فائز ہوگئے) قاموس میں ہے : اَخْبَتَ فروتنی کی ‘ خشوع کیا۔ خَبِیْتٌ حقیر چیز۔
Read the full tafseer →(23) یقیناً جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور کامل طریقہ پر اطاعت خداوندی کی اور اپنے رب کی طرف جھکے اور ادل سے فرمانبرداری خشوع کو ظاہر کیا ایسے حضرات اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔۔ : ”وَاَخْبَتُوْٓا“ ”اِخْبَاتٌ“ کا معنی ہے جھکنا، عاجزی کرنا، مطمئن ہونا۔ جمل ؒ نے فرمایا : ”اَخْبَتَ لَہُ“ کا معنی ہے ”خَشَعَ وَ خَضَعَ لَہُ“ وہ اس کے سامنے عاجز ہوگیا اور ”اَخْبَتَ اِلَیْہِ“ کا معنی ہے ”اِطْمَءَنَّ اِلَیْہِ“ کہ وہ اس کی طرف سے مطمئن ہوگیا۔ سب سے بڑے ظالموں، یعنی اللہ پر جھوٹ باندھنے والے کفار و مشرکین کے بعد اب اہل ایمان کا تذکرہ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اعمال صالحہ کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجز اور اس کی تقدیر اور فیصلے پر مطمئن ہوگئے وہ جنت کے مالک ہوں گے۔ ”اخبات“ والوں کی کچھ صفات سورة حج…
Read the full tafseer →آیت نمبر 23
قولہ تعالیٰ : ان الذین اٰمنوا، الذین، انکا اسم ہے اوراٰمنواصلہ ہے یعنی انہوں نے تصدیق کی۔ وعملوا الصلحٰت واخمتوٓالٰی ربھمصلہ پر عطف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اخمتوٓاکا معنی ہے وہ جھک گئے۔ مجاہد نے کہا : انہوں نے اطاعت کی۔ حضرت قتادہ نے کہا : انہوں نے خشوع و خضوع کیا۔ مقاتل نے کہا : انہوں نے اخلاص کا مظاہرہ کیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اخبات سے مراد دل میں موجود خوف کی وجہ سے اختیار کیا جانے والا خشوع ہے اور اخبات کی اصل استواء ہے، یہ خبت سے مشتق ہے اور اس سے مراد کھلی اور ہموارزمین ہے، لہذا اخبات سے مراد خشوع، اطمینان یا مکمل طور پر مسلسل اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف جھکاؤ ہے۔…
Read the full tafseer →ایمان اور اعمال صالحہ کی پابندی کرنے والے جنتی ہیں :
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخبتوا “ یعنی انہوں نے خوف کھایا۔
2:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الاخبات “ کا معنی ہے انابت یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرتا ہے۔
3:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ” الاخبات “ سے خشوع اور تواضع مراد ہے۔
4:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخبتوا الی ربہم “ سے مراد ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف مطمئن ہوگئے۔
Read the full tafseer →اِنَّ [بیشک ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَعَمِلُوا [اور عمل کئے ] الصّٰلِحٰتِ [ نیکیوں کے ] وَاَخْبَتُوْٓا [ اور عاجزی اختیار کی ] اِلٰي رَبِّهِمْ ۙ [ اپنے رب کی طرف ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہی لوگ ] اَصْحٰبُ الْجَــنَّةِ ۚ [ جنت والے ہیں ] هُمْ [ وہ لوگ ] فِيْهَا [ اس میں ] خٰلِدُوْنَ [ ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
خ ب ت : (ض) ۔ خبتا (1) کسی کا چرچا مٹ جانا ۔ (2) پست اور نرم ہونا۔ (افعال ) اخباتا ، پست اور نرم زمین میں اترنا ، پستی اور عاجزی اختیار کرنا۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 23، مخبت ۔ اسم الفاعل ہے ۔ عاجزی کرنے والا ۔ وبشر المخبتین (اور آپ خوشخبری سنا دیں عاجزی کرنے والوں کو ] 22:34
Read the full tafseer →ارشاد ہے۔ (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْا اِلٰی رَبِّھِمْ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (بےشک جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے اور اپنے رب کی طرف جھکے یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔
(ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…
Read the full tafseer →26: یہ ماننے والوں اور اعمال صالحہ بجالانے والے اور عاجزی کرنے والے مخلصین کے لیے بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
ربط آیات
گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔
افترا علی اللہ
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰي رَبِّہِمْ 0ۙ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَــنَّۃِ 0ۚ ہُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 23
خبت
الخَبْتُ : المطمئن من الأرض، وأَخْبَتَ الرّجل : قصد الخبت، أو نزله، نحو : أسهل وأنجد، ثمّ استعمل الإخبات استعمال اللّين والتّواضع، قال اللہ تعالی: وَأَخْبَتُوا إِلى رَبِّهِمْ [هود/ 23]
( خ ب ت ) الخبت
۔ نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں اور اخبت الرجل کے معنی نشیبی اور نرم زمین کا قصد کرنے یا وہاں اترنے کے ہیں ( جیسے اسھل وانجد ) اس کے بعد لفظ الاخبات ( افعال ) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَأَخْبَتُوا إِلى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ترکیب : یضاعف جملہ مستانفہ ہے ماکانوا میں تین وجہ ہیں اول یہ کہ نافیہ ہے والثانی مصدریہ۔ وفیہ مافیہ والثالث بمعنی الذی لاجرم الخ اس میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ لا کلام سابق کے رد کے لئے ای لیس الامر کمازعموا جرم فعل ضمیر اس میں مضمر اس کی فاعل وانہم الخ جملہ محل نصب میں دوم لا جرم بمعنی حق بمنزلہ ایک کلمہ کے انہم جملہ محل رفع میں فاعل ہو کر۔
تفسیر : کفار مکہ کی عادت تھی کہ وہ طرح طرح کے شبہات وارد کیا کرتے تھے۔ کبھی نئے نئے معجزات طلب کیا کرتے ٗ کبھی قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ کبھی اپنے پرانے ڈھکوسلوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ان بتوں کی پرستش کا اسی نے ہم کو حکم دیا ہے۔ اسی نے ان کو…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا اِلٰی رَبِّھِمْ لا اُوْلٰٓئِکَ اَضْحٰبُ الْجَنَّۃِ ج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 23)
(بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور عجزونیاز سے اپنے پروردگار کی طرف جھک گئے یہی لوگ جنتی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ )
اہل ایمان کے فضائل
گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا تذکرہ ہوا جنھوں نے اللہ کے نبی پر ایمان لانے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ہر قدم پر ان کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ لوگوں کو اللہ کی طرف آنے سے روکا۔ اللہ کے پیغمبر کی دعوت میں قسم قسم کی پیچیدگیاں پیدا کیں۔ دین کی سیدھی راہ کو بھی اپنے فتورِعقل اور زور بیان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : ملعون لوگوں کے بعد نیک مخلصین کا ذکر۔
قرآن مجید حسب دستور دو قسم کے لوگوں اور کرداروں کے درمیان تقابل بیان کرتا ہے۔ کیا اندھے اور بہرے، دیکھنے والے اور سننے والے برابر ہوسکتے ہیں۔ حقائق نہ دیکھنے اور نہ سننے کی وجہ سے اندھوں اور بہروں کا انجام جہنم کی آگ ہے۔ جو ناقابل تلافی نقصان ہے۔ اتنا فرق ہونے کے باوجود لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ اللہ کے حضور عاجزی کرنیوالے لوگ اپنے رب کی رضا کے لیے حقیقت کو بغور دیکھتے اور سنتے ہیں۔ عاجزی کرنے والوں سے مراد اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ جس کی تاکید اور وضاحت ایمان اور عمل صالح سے کردی ہے۔
” اَخْبَتُوْٓا “ کا لغوی معنی ” عاجزی اختیار کرنا…
Read the full tafseer →مؤمنوں کو جنت ملے گی :
23: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْا اِلٰی رَبِّہِمْ (بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیئے اور رجوع کیا اپنے رب کی طرف) اخبتوا کا معنی اسکی طرف مطمئن ہوا اور اسکی عبادت خشوع و تواضع کے ساتھ یکسوئی سے کی۔ یہ الخبتؔ سے لیا گیا اور وہ نرم پست زمین کو کہتے ہیں۔ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ (وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں)
Read the full tafseer →23۔” ان الذین امنوا وعملوا الصالحات و اخبتوا “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے خوف کیا اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ رجوع کیا اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ مطمئن ہوگئے ۔ ” الی ربھم “ یعنی اپنے رب کا ” اولئک اصحاب الجنۃ ھم فیھا خالدون “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
23 ۔ 24 ۔ اوپر کی آیتوں میں بدبختوں کا حال بیان فرما کر اب ان آیتوں میں نیک بخت اور سعادت مندوں کا حال بیان فرمایا کہ جن لوگوں نے اچھے اچھے عمل کئے اور ہر ایک حکم کو خدا کے بجا لائے اور جن چیزوں سے ان کو منع کیا تھا ان سے باز رہے ان کے واسطے خدا نے جنت مقرر کی ہے جس میں طرح طرح کی نعمتیں اور انواع و اقسام کے کھانے اور ہر ایک طرح کے آرام و راحت کا سامان ہے وہ اس میں رہیں گے۔ وہاں پھر نہ موت آئے گی نہ نیند پسینے تک سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ وہاں نہ بوڑھے ہوں گے نہ بیمار پھر اللہ نے ان کفار اور ان مومن بندوں کے درمیان میں فرق بیان کیا کہ وہ کفار ایسے ہیں جیسے اندھے اور بہرے کہ ان کو بھلائی کا رستہ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالیٰ نے (بدبختوں کا حال اور اللہ کے ہاں ان کی جزابیان کرنے کے بعد خوش بخت لوگوں کا حال بیان کرتے ہوئے) فرمایا : (ان الذین امنو) ” جو لوگ ایمان لائے۔ “ یعنی جو لوگ اپنے دل سے ایمان لائے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اصول دین اور اس کے قواعد پر ایمان لانے کا حکم دیا، تو انہوں نے امور کا اعتراف کیا اور ان کی تصدیق کی۔ (وعملوالصلحت) ” اور عمل نیک کئے۔ “ جو اعمال قلوب، اعمال جوارح اور اقوال لسان پر مشتمل ہیں۔ (واخبتوا الی ربھم) ” اور عاجزی کی انہوں نے اپنے رب کے سامنے “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کے سامنے فرافگندہ ہوگئے، اس کی قوت و اقتدار کے سامنے اختیار کی، اپنے دل میں اس کی محبت، اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →59 ۔ جنت کے سزاواروں کی نشاندہی۔ وباللہ التوفیق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے کام بھی نیک کیے اور وہ جھکے اپنے رب کی طرف وہ جنتی ہیں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا۔ سو دولت و ایمان سے سرفرازی، عمل صالح کی پونجی اور اپنے رب کے حضور جھکنے کی دولت ایک عظیم الشان دولت ہے۔ پس جو لوگ اس دولت سے سرفراز ہوئے اور انہوں نے زندگی بھر اسی وحدہ لاشریک کی رضاء و خوشنودی کو اپنا اصل مقصد بنائے رکھا۔ سو ایسے لوگ جنت کی ان سدا بہار نعمتوں میں رہیں گے جن کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ اللہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے ساتھ عمل صالح اور اپنے خالق ومالک کے حضور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
مومن کا انعام، کافر اور مومن کا فرق
تشریح : جیسا کہ آیات سے ظاہر ہے یہاں آکر عالم آخرت کا بیان ختم ہو رہا ہے۔ اب آگے حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ جس میں بیشمار حکمت اور دانائی کی باتیں سکھائی گئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 6 ۔ مسلمان دیکھتا سنتا ہے اور کافر اندھا بہرا ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
(11:23) اخبتوا۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وہ جھکے۔ انہوں نے عاجزی کی۔ اضبات (افعال) سے جس کے معنی تواضع۔ اور خشوع و خضوع کے ہیں۔ الخبت اصل میں نشیبی اور نرم زمین کو کہتے ہیں۔ اخبت الرجل آدمی نے نشیبی اور نرم زمین کا قصد کیا یا وہاں اتر گیا۔ اس کے بعد لفظ الاخبات (افعال) نرمی اور تواضع کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے وبشر المخبتین (22:34) اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو ۔ آیہ ہذا میں واخبتوا الی ربھم اور اپنے پروردگار کے آگے عاجزی کی۔
اور حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس کا معنی خافوا ہے قتادہ ؓ نے رجوع کا معنی کیا ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 24
اخبتوا (وہ جھکے رہے) الریقین (دو جماعتیں) اعمی (اندھا) اصم (بہرا) بصیر (دیکھنے والا) سمع (سننے والا) یستوین (دونوں برابر ہیں) افلا تذکرون (کیا پھر بھی تم دھیان نہیں دیتے ہو)
تشریح : آیت نمبر 23 تا 24
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار و مشرکین کی اس کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ان کا کام ظلم و زیادتی کرنا، اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ گھڑنا، سازشیں کرنا دین کی ہر بات میں ٹیڑھ پن تلاش کرنا نہ تو وہ خود حق و صداقت کی راہ پر چلتے ہوں اور نہ دوسروں کو اس راہ پر چلنے کی کوششوں کو پسند کرتے ہیں بلکہ ان کے لئے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتے ہوں۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ قیامت کے دن سارے جن وانس اور ملائکہ کے روبرو سوار ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا۔ یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر۔ اب فرمایا کہ خود یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجاویں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسا جینا۔ پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ نہیں کر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔
Read the full tafseer →(ف 2) اخبات کے معنی خشوع و طمانیت کے ہیں ، یعنی وہ لوگ جو اپنی خواہشات نفس کو اللہ کے تابع کردیں اور پھر اس ایثار پر مطمئن بھی ہوں ، تکلیفوں اور مصیبتوں کو خدا کی راہ میں برداشت کریں اور اس کے بعد خوش بھی ہوں ، تو یہ لوگ مبارک ہیں ، اور خدا کی رضا کو حاصل کرنے والے ۔
Read the full tafseer →23 بلاشبہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور نیک اعمال کے پابند رہے اور اپنے رب کی طرف دل سے جھکے رہے اور عاجزانہ روش اختیار کی توای سے ہی لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی انقیاد اور خشوع دل میں پیدا کیا۔
3۔ یہ دونوں کے انجام کا تفاوت بیان ہوگیا آگے تفاوت حال کی مثال ہے۔ جس پر تفاوت مال مرتب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →رب کریم کی طرف عجز و نیاز سے جھک جانے والوں کا حال
34 ؎ ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے اب ان سعادت مندوں کا حال بیان کیا جا رہا ہے کہ پہلے گروہ کے مقابلہ میں ان کے اعتقادات کیا ہیں ؟ فرمایا ان کا دستور زندگی کیا ہے ؟ ان کے دل کی کیفیت کیا ہے ؟ اس کے انجام سے آگاہ کیا گیا تاکہ سننے والے کو پتہ چل جائے کہ انہوں نے اپنے حسن عمل ، پاکئی قلب اور قوت ایمانی کی وجہ سے رحمت الٰہی کو اپنی ملتفت کرلیا ہے۔ ان کے دل کے یقین ، اعمال کے حسن اور عجز و نیاز اور سوز و گداز نے عنایات ربانی کو ان کی طرف متوجہ کردیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…
Read the full tafseer →As for those who believed and acted righteously and dedicated themselves totally to their Lord -they are the people of Paradise, and there they shall abide forever. 27
Read the full tafseer →