Hud 11:22

Hud · from ayah 22

11:22

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۟لَا جَرَمَ اَ نَّهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ هُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Assuredly, it is they in the Hereafter who will be the greatest losers.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:22

نا گزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بلاشبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بیشک یہی لوگ آخرت میں زیاں کار ہوں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

لامحالہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

(ضرور) وہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان میں ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ بالکل حق ہے کہ یقینًا وہی لوگ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کوئی شک نہیں کہ یقینا وہ آخرت میں، وہی سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس میں کوئی شک نہیں کہ آخرت میں یہی سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

لازماً یہی لوگ ہیں جو آخرت میں خسارے میں ہوں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لازمی (اور یقینی) بات ہے کہ یہ لوگ آخرت (کے اس حقیقی اور ابدی جہاں) میں سب سے زیادہ خسارے (اور گھاٹے) میں ہوں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

لازمی طور پر آخرت میں یہی سب سے زیادہ گھاٹا اٹھانے والے ہوں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کچھ شک نہیں کہ آخرت میں سب سے بڑھ کر خسارہ پانے والے یہی لوگ ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بلا شبہ یہ لوگ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان پانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Doubtlessly, they shall be the greatest losers in the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Essentially, they are the worst losers in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani

Essentially, they are the worst losers in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Certainly, they are those who will be the greatest losers in the Hereafter.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Assuredly in the Hereafter they will be the greatest losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Assuredly, it is they in the Hereafter who will be the greatest losers.

— Saheeh International

In the life to come they will certainly lose a great deal.

— Muhammad Sarwar

Truly in the hereafter they are the greatest losers.

— Muhammad Habib Shakir

Undoubtedly they! in the Hereafter they shall be the greatest losers.

— Abdul Majid Daryabadi

Without a doubt, these are the very ones who will lose most in the Hereafter!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–22

اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے کی ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپالے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے ؟ اور فلاں بھی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة هُوْد 26 یعنی وہ سب نظریات پادر ہوا ہوگئے جو انہوں نے خدا اور کائنات اور اپنی ہستی کے متعلق گھڑ رکھے تھے، اور وہ سب بھروسے بھی جھوٹے ثابت ہوئے جو انہوں نے اپنے معبودوں اور سفارشیوں اور سرپرستوں پر رکھے تھے، اور وہ قیاسات بھی غلط نکلے جو انہوں نے زندگی بعد موت کے بارے میں قائم کیے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

خلاصہ تفسیر اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح اپنی صلاحیتیں برباد کیں انہوں نے اپنے آپ کو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کیا اور جن کی مدد اور شفاعت کے اعتماد پر یہ خطرناک کھیل کھیلے ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہ بنے گا اس لیے کہ خدا پر افترا کر کے محض اپنے ذہن سے جو خیالی معبود انہوں نے گھڑے وہ سب بےحقیقت، ثابت ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ آخرت کی نامرادی ایسے ہی عقل و بصیرت سے محروم لوگوں کے حصے میں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–23

20۔ 1 یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا ' (فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ) 46۔ الاحقاف :26) نہ ان کے کانوں نے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے ' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے (لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 ؀) 67۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–30

15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ " ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں گے " اس قدر خسارے میں کہ دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 22–23

2 منکرین کی بد انجامی کے بالمقابل مومنین کا انجام نیک بیان فرمایا۔ ان کی عاجزی خدا کو پسند آئی اس لیے اپنی دائمی خوشنودی کا مقام عطا فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22 لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ واضح رہے کہ ”اَخْسَرُ“ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ اہل جہنم کے تذکرے کے بعد فوری تقابل simultaneous contrast کے لیے اب اہل جنت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 2 ایک شخص اللہ کے کسی حکم کی تعمیل ہی نہیں کرتا اسے اس کی سزا ملے گی اور ایک دوسرا شخص تعمیل تو کرتا ہے مگر غلط طریقے سے کرتا ہے اور کسی دوسرے کو بھی اس میں شریک بنا لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس غلط تعمیل کرنے والے کو زیادہ نقصان ہوگا ایک تو اس نے تعمیل کی مشقت اٹھائی دوسرے اسے سزا بھی زیادہ ملے تو اس سے بڑھ کر زیادہ نقصان اٹھانے والا کون ہوسکتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

30۔ (آیت) ” لاجرم “۔ کا مفہوم عربی میں وہی ہے جو اردو میں ” لامحالہ “ یا ” ناگزیر ہے “ سے ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ معناہ انہ لا یقطع قاطع عنھم (کبیر) قال الفراء انھا بمنزلۃ قولنا لا بد ولا محالۃ (کبیر) (آیت) ” انھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون “۔ جملہ کی ترتیب ھم کی تکرار ان اور (آیت) ” لاجرم “۔ کا اضافہ سب کلام میں انتہائی زور اور تاکید پیدا کرنے کے لئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–24

آیت نمبر 9 تا 24 ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا جرم انھم فی الاخرۃ ھم الا خسرون۔ لامحالہ وہ ہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نامراد ہوں گے۔ لاَ جَرَمَ (کی لفظی ساخت اور معنوی دلالت) میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک لا زائد ہے ‘ یعنی مشرکوں کے گمان کے موافق نہ ہوگا۔ اس کے بعد جَرَمَ فعل ماضی متعدی ہے ‘ اس کے اندر ضمیر فاعل ہے اور اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ الخ مفعول ہے۔ اس وقت جَرَمَکا معنی ہوگا کَسَبَیعنی ان کا گمان آخرت میں یہ نتیجہ پیدا کرے گا کہ وہی سب سے خسارے میں رہیں گے۔ یا جَرَمَفعل ماضی ہے ‘ لازم بمعنی وَجَبَاور بعد والا جملہ اس کا فاعل ہے ‘ یعنی آخرت میں سب سے بڑھ کر نامراد ہونا واجب ہوگیا۔ بعض کے نزدیک لاَ جَرَمَ دو لفظوں کا مرکب…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور جو جھوٹے معبود انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ تراش رکھے تھے وہ ان کے دور ہوگئے اور اپنے اندر مصروف ہوگئے اور لازمی بات ہے کہ آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں نہ ملنے کے باعث سب سے زیادہ نقصان میں یہی لوگ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔۔ : یعنی جھوٹے دعوے سب گم ہوگئے، اللہ کی گرفت آنے پر دنیا میں کوئی داتا، کوئی دستگیران کی مدد کو نہیں پہنچا اور اس میں شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے، کیونکہ جن کو یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ وہ ہمیں بچائیں گے انھیں اپنی پڑی ہوگی۔ وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے، اگر سامنے ہوئے بھی تو ان سے بری ہونے کا اعلان کریں گے، بلکہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (5، 6)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

آیت نمبر 21 تا 22 قولہ تعالیٰ : اولٰٓئک الذین خسروٓاانفسھمیہ مبتدا اور خبر ہے۔ وضل عنھم ماکانوا یفترون یعنی ان سے ان کی بہتان تراشی ضائع اور گم ہوگئی۔ قولہ تعالیٰ : لاجرمعلماء کے اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں، خلیل اور سیبویہ نے کہا : لاجرمبمعنی حق ہے۔ ان دونوں کے نزدیکفلا جرم ایک ہی کلمہ ہے، اور انان کے بزدیک محل رفع میں ہے۔ یہ فراء اور محمد بن یزید کا قول ہے۔ اور نحاس نے اس کو بیان کیا ہے۔ مہدوی نے کہا : خلیل سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی لابد اور لامحالۃ ہے یہ بھی فراء کا قول ہے۔ ثعلبی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اور زجاج نے کہا : یہاں لا نافیہ ہے، اور یہ ان کے اس قول کا رد ہے کہ بت انہیں نفع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک الذین خسروا انفسہم “ سے مراد ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھوکہ دیا اپنے آپ کو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَا جَرَمَ [ کوئی شک نہیں ] اَنَّهُمْ [ کہ وہ لوگ ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ [ وہی سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (لَا جَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ) (یہ لازمی بات ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ آخرت میں خسارہ میں سب سے زیادہ بڑھ کر ہیں) اہل کفر کا انجام بتانے کے بعد اہل ایمان کا انعام وثواب بتایا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔ (ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

25: دنیا میں کوئی نیک عمل نہ کیا اور خوش فہمیوں میں مبتلا رہے اور جن مزعومہ معبودوں پر بھروسہ تھا وہ بھی کام نہ آئے اس لیے لا محالہ آخرت میں وہ سب سے بڑے نقصان و خسران میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–24

ربط آیات گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔ افترا علی اللہ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَا جَرَمَ اَنَّہُمْ فِي الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۝ 22 جرم ( لاجرم) وقیل : جَرَمَ وجَرِمَ بمعنی، لکن خصّ بهذا الموضع «جرم» كما خصّ عمر بالقسم، وإن کان عمر وعمر «7» بمعنی، ومعناه : ليس بجرم أنّ لهم النار، تنبيها أنهم اکتسبوها بما ارتکبوه إشارة إلى قوله تعالی: وَمَنْ أَساءَ فَعَلَيْها [ الجاثية/ 15] . وقد قيل في ذلك أقوال، أكثرها ليس بمرتضی عند التحقیق «1» . وعلی ذلک قوله عزّ وجل : فَالَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ قُلُوبُهُمْ مُنْكِرَةٌ وَهُمْ مُسْتَكْبِرُونَ [ النحل/ 22] ، لا جَرَمَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يُسِرُّونَ وَما يُعْلِنُونَ [ النحل/ 23] ، وقال تعالی: لا جَرَمَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–24

ترکیب : یضاعف جملہ مستانفہ ہے ماکانوا میں تین وجہ ہیں اول یہ کہ نافیہ ہے والثانی مصدریہ۔ وفیہ مافیہ والثالث بمعنی الذی لاجرم الخ اس میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ لا کلام سابق کے رد کے لئے ای لیس الامر کمازعموا جرم فعل ضمیر اس میں مضمر اس کی فاعل وانہم الخ جملہ محل نصب میں دوم لا جرم بمعنی حق بمنزلہ ایک کلمہ کے انہم جملہ محل رفع میں فاعل ہو کر۔ تفسیر : کفار مکہ کی عادت تھی کہ وہ طرح طرح کے شبہات وارد کیا کرتے تھے۔ کبھی نئے نئے معجزات طلب کیا کرتے ٗ کبھی قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ کبھی اپنے پرانے ڈھکوسلوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ان بتوں کی پرستش کا اسی نے ہم کو حکم دیا ہے۔ اسی نے ان کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اُولٰئِٓکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ یُضٰعَفُ لَہُمُ الْعَذَابُط مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ ۔ اُولٰئِٓکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ لاَ جَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 20، 21، 22) (یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے۔ ان کا دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انھوں نے گھڑ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کا انکار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے لوگوں کی دنیا میں حیثیت اور آخرت میں ان کا انجام۔ آخرت کا انکار کرنے والے دنیا میں تو حقائق کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جانا۔ لیکن قیامت کے دن جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے انکار نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اٹھائے گا اور انھیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہ اپنی پیشی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ انسان جب اللہ کی ذات کا منکر اور آخرت کا انکاری ہوجائے تو پھر اس کے گناہ اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور آخرت کے انکار کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22: لَاجَرَمَ اَنَّھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ھُمُ الْاَخْسَرُوْنَ (یقینا وہ آخرت میں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں) روکنے اور رکنے کی وجہ سے۔ لاجرم میں کئی اقوال ہیں نمبر 1۔ لَاسابقہ کلام کی تردید کیلئے ہے۔ مطلب یہ ہے لیس الامر کما زعموا۔ معاملہ اس طرح نہیں جیسا انہوں نے گمان کیا اور جرم ؔ کا معنی کسب ہے (کمایا) اس کا فاعل ضمیر ہے اور انہم یہ محل نصب میں ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ان کے قول کی کمائی آخرت کا خسارہ ہے۔ نمبر 2۔ لا جرم ؔ یہ مرکب ہے۔ اس کا معنی حقًّا ہے۔ انہم میں اَنّ محل رفع میں حق کا فاعل ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے۔ حق خسرانہم۔ ان کا خسارہ ثابت ہے۔ نمبر 3۔ لا جرم ؔ کا معنی بہر صورت اور بہر طور ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22۔” لا جرم “ یعنی حق ہے اور بعض نے کہا کیوں نہیں اور فراء (رح) فرماتے ہیں کہ لا محالہ ” انھم فی الآخرۃ ھم الاخسرون “ یعنی اپنے غیر کی بنسبت اگرچہ تمام خسارہ میں ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–22

19۔ 22۔ یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت کے دن سارے جن و انس اور ملائکہ کے روبرو رسوا ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر اب فرمایا کہ آپ تو یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجائیں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد پھر کیسا جینا پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لاجرم) ” بلا شبہ “ یعنی یہ بات حق اور سچ ہے کہ (انھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون) ” وہ آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ان پر منحصر کردیا ہے، بلکہ ان کے لئے شدید ترین خسارہ مقرر کیا، کیونکہ ان کی حسرت اور محرومی نہایت شدید ہوگی۔ مشقت اور عذاب ان پر مستزاد ہوگا۔ ہم ان کے حال سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–33

طلب دنیا یا عقبی کی چاہت قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58 ۔ آخرت کا خسارہ سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ یقینی اور لازمی طور پر یہی ہیں وہ لوگ جو آخرت میں سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے۔ سو کفر و شرک والے جملہ باطل پرست یقینی طور پر آخرت میں سب سے زیادہ اور سب سے بڑے خسارے میں ہوں گے کہ جنت کی دائمی نعمتوں کی بجائے یہ لوگ دوزخ کے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے اور جنت کمانے کے لیے زندگانی دنیا کی جو فرصت ان کو ملی تھی اس کو انہوں نے دنیاوی مشاغل میں اور اس کے حطام زائل اور متاع فانی کو جوڑنے جمع کرنے اور شہوات بطن و فرج اور ملذات کام و دہن کی تحصیل و تکمیل میں ضائع کردیا اور اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–22

منکرین اور ان کا انجام تشریح : یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 62 اور سورة نساء آیات 152, 150 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں آیا ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کے بارے میں سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہ لایا، وہ جہنم میں جائے گا۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الیٰ جمیع الناس) اور پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا۔” آپ کی خواہش کے مطابق اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ ( سورة یوسف آیت 103) آیت نمبر 18 کے بارے میں حدیث ملاحظہ ہو۔ ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–24

آیات 9 تا 24 اسرار و معارف عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔ معرفت باری کا اثر یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–24

ف 6 ۔ مسلمان دیکھتا سنتا ہے اور کافر اندھا بہرا ہے۔ دونوں میں بڑا فرق ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(11:22) لاجرم۔ یقینا اور حقا کا ہم معنی ہے اور بعض کے نزدیک لا جرم کا معنی ہے لاضد ولا منع۔ کوئی روکاوٹ نہیں۔ کوئی ممانعت نہیں۔ کوئی روک نہیں سکتا۔ لاجرم ولا جرم۔ یعنی ضروری۔ یقینی۔ ناگزیر۔ سبھی قسم کے معنی دیتا ہے اور کہتے ہیں کہ لاجرم لافعلن۔ قسم خدا کی میں ایسا ضرور کروں گا۔ بعض کے نزدیک لا زائدہ ہے جرم فعل متعدی ہے اور کسب کے معنی میں ہے بعض نے فعل لازمی بنا کر وجب کے معنی میں لیا ہے بعض نے لاجرم کو مرکب بنایا ہے حقا کے معنی میں۔ الاخسرون۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ سب سے زیادہ نقصان پانے والے۔ گھاٹا پانے والے۔ خسارہ و خسران مصدر۔ اخسر کی جمع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 بینۃ (کھلی نشانی) شاھد (گواہی دینے والا) امام (رہنما، پیشوا) الاحزاب (حزب) ، جماعتیں موعد (وعدہ کیا گیا) یعرضون (پیش کئے جائیں گے) الاشھاد (شھید) گواہ یصدون (وہ روکتے ہیں) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) معجزین (عاجز و بےبس کرنے والے) یضعف (دوگنا دیا جائے گا) لا جرم (یقینا لازمی) اخسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت پر چلنے والے اور باطل پرستوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ غور کرنے کی بات ہے کیا یہ دونوں کسی طرح بھی برابر ہو سکتے ہیں : 1) ایک وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–24

یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ قیامت کے دن سارے جن وانس اور ملائکہ کے روبرو سوار ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا۔ یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر۔ اب فرمایا کہ خود یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجاویں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسا جینا۔ پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ نہیں کر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–27

[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) یعنی ان کی افتراپردازیاں محض دنیا تک ہیں ، عقبی میں جب مشاہدہ حق ہوگا ، اور یہ خدائے علیم کے حضور میں پہنچیں گے ، تو سب طرح کی چالاکیاں ، بھول جائیں گی ، اور کوئی جھوٹ کسی طرح ان کے کام آسکے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

22 لازمی امر ہے کہ آخرت میں سب سے زیادہ خسارہ اور نقصان اٹھانے والے یہی لوگ ہونگے ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ ایسے لوگ ہی ہیں جو آخرت میں بھی خسارہ ہی میں رہیں گے 23 ؎” لا جرم “ کا مفہوم عربی زبان میں وہی ہے جو اردو زبان میں ” لا محالہ “ یا ” نا گزیر “ سے ادا کیا جاتا ہے اور جس سے کلام میں زور پیدا کرنا مراد ہوتا ہے کہ ” یہی وہ بد بخت ہیں جو آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہوں گے “ ۔ کیونکہ کچھ بد بخت تو وہ تھے جنہوں نے نیک اور اچھا کام نہ کرنے کی قسم کھائی تھی اور ان سے جو جو برائی ہوسکی وہ خوب کی لیکن ان کے مقابلے میں کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی طرف سے جو کچھ کیا وہ نیک اعمال ہی تھے کیونکہ وہ نیک سمجھ کر کرتے رہے لیکن آخر میں جب آ کر یہ راز کھلا کہ جس کو وہ نیک سمجھ کر کرتے رہے وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–24

The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

26. All their conjectures regarding God, the universe and their own selves will prove to be absolutely baseless in the Next Life. Similarly, the notions they entertained about the help and support they would receive from those they considered to be either their deities, or their intercessors with God, or their patrons will prove to be false. Likewise, it will become obvious that all their notions about the After-life were utterly untrue.

Read the full tafseer →