Hud 11:21

Hud · from ayah 21

11:21

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۟اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ وَضَلَّ عَنۡهُمۡ مَّا كَانُوۡا يَفۡتَرُوۡنَ

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones who will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:21

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہی ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی ہیں جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا اور وه سب کچھ ان سے کھو گیا، جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کے لیے گھاٹے کا سودا کرلیا تھا، اور جو معبود انہوں نے گھڑ رکھے تھے، انہیں ان کا کوئی سراغ نہیں ملے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہی ہیں جنہوں نے اپنی جانیں گھاٹے میں ڈالیں اور ان سے کھوئی گئیں جو باتیں جوڑتے تھے خواہ نخواہ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو نقصان پہنچایا اور جو بہتان وہ باندھتے تھے وہ (سب) ان سے جاتے رہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہوگیا جو کچھ وہ جھوٹ گھڑا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور جو کچھ وہ افترا پردازیاں کرتے تھے، سب انھیں بھول جائیں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے سب ہوا ہوجائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود خسارے میں ڈال دیا اپنے آپ کو، اور کھو گیا ان سے وہ سب کچھ جو یہ (زندگی بھر) گھڑتے رہے تھے (مختلف ناموں سے)

— مولانا اسحاق مدنی

یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو تباہ کرڈالا اور (آج) ان سے غائب ہوگئے (وہ سب معبود) جو انہوں نے گڑھ رکھے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو برباد کرلیا اور ان سے گم ہوگیا جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اور جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے ان سے جاتا رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They caused utter loss to themselves, and all that they had invented failed them.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the ones who brought loss to their own selves, and all that they used to fabricate vanished from them.

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the ones who brought loss to their own selves, and all that they used to fabricate vanished from them.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are those who have lost their own selves, and that which they invented eluded them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such are they who have lost their souls, and that which they used to invent hath failed them.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones who will have lost themselves, and lost from them is what they used to invent.

— Saheeh International

They have lost their souls and their false deities will turn away from them.

— Muhammad Sarwar

These are they who have lost their souls, and what they forged is gone from them.

— Muhammad Habib Shakir

These are they who have lost their souls, and hath strayed from them that which they have been fabricating.

— Abdul Majid Daryabadi

They are the ones who have lost their own souls: and the (fancies) they invented have left them in the lurch!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 18–22

اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے کی ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپالے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے ؟ اور فلاں بھی اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة هُوْد 26 یعنی وہ سب نظریات پادر ہوا ہوگئے جو انہوں نے خدا اور کائنات اور اپنی ہستی کے متعلق گھڑ رکھے تھے، اور وہ سب بھروسے بھی جھوٹے ثابت ہوئے جو انہوں نے اپنے معبودوں اور سفارشیوں اور سرپرستوں پر رکھے تھے، اور وہ قیاسات بھی غلط نکلے جو انہوں نے زندگی بعد موت کے بارے میں قائم کیے تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–24

خلاصہ تفسیر اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 21–22

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔ لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ۔ ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے اس طرح اپنی صلاحیتیں برباد کیں انہوں نے اپنے آپ کو خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کیا اور جن کی مدد اور شفاعت کے اعتماد پر یہ خطرناک کھیل کھیلے ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہ بنے گا اس لیے کہ خدا پر افترا کر کے محض اپنے ذہن سے جو خیالی معبود انہوں نے گھڑے وہ سب بےحقیقت، ثابت ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ آخرت کی نامرادی ایسے ہی عقل و بصیرت سے محروم لوگوں کے حصے میں آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–23

20۔ 1 یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا ' (فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ) 46۔ الاحقاف :26) نہ ان کے کانوں نے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے ' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے (لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 ؀) 67۔…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 20–30

15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ " یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا " یہ بہت ہی عظیم اور تباہ کن خسارہ ہے ، اس لیے کہ اس کاروبار میں جو شخص خسارہ اٹھائے کوئی دوسرا شخص اس کی امداد نہیں کرسکتا۔ اس قسم کے لوگوں نے خسارہ اٹھا کر اپنی دنیا میں بھی ضائع کردی ، یہاں انہوں نے اپنے انسانی شرف کو بھی گنوایا۔ کیونکہ انسان کو یہاں شرف صرف اسلامی نظام زندگی کے ذریعے مل سکتا ہے اور انہوں نے آخرت بھی گنوا دی کیونکہ انہوں نے آخرت کا انکار کیا جس کی وجہ سے اخروی عذاب ان کے انتظار میں ہے۔ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ " اور وہ سب کچھ ان سے کھو گیا جو انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 جان کا کھو بیٹھنا، یہ ہی کہ ابدی عذاب میں گرفتار ہوئے اور سب جھوٹے دعوے وہاں پہنچ کر گم ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ تب انہیں اپنے جھوٹے معبود اور سفارشی ‘ من گھڑت عقائد و نظریات اور اللہ تعالیٰ پر افترا پردازیوں میں سے کچھ بھی نہیں سوجھے گا۔ یہ سب کچھ پادر ہوا ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

6 2 یہاں افتراء پردازیوں سے مراد وہی سستی نجات کے عقیدے ہیں کہ مثلاً اگر ہم فلاں بزرگ کی بیعت میں منسلک ہوجائیں گے تو وہ ہمیں اللہ کی گرفت اور باز پرس سے بچا لیں گے اور ایسی بہت سی حکایات آج بھی اولیاء کے تذکروں میں موجود ہیں۔ جب اس قسم کے لوگ قیامت کی ہولناکیوں اور اللہ تعالیٰ کے دربار عدالت اور شہادتوں کی بنا پر تحقیق جرائم کا نقشہ دیکھیں گے تو ایسے سب عقائد از خود ان کے ذہن سے محو ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 9–24

آیت نمبر 9 تا 24 ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک الذین خسروا انفسھم یہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے خود اپنا نقصان کیا کہ اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر پتھروں کی پوجا کو اختیار کیا اور جنت دے کر دوزخ مول لی۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور ان کے خود تراشیدہ معبود ان سے غائب اور گم ہوگئے ___ یعنی بتوں کی سفارش کرنے کا جو ان کا خیال تھا اور یقین رکھتے تھے کہ بت شفاعت کر کے ان کو بچا لیں گے ‘ ایسا نہ ہو سکے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(21۔ 22) اور جو جھوٹے معبود انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ تراش رکھے تھے وہ ان کے دور ہوگئے اور اپنے اندر مصروف ہوگئے اور لازمی بات ہے کہ آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں نہ ملنے کے باعث سب سے زیادہ نقصان میں یہی لوگ ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 21–22

وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔۔ : یعنی جھوٹے دعوے سب گم ہوگئے، اللہ کی گرفت آنے پر دنیا میں کوئی داتا، کوئی دستگیران کی مدد کو نہیں پہنچا اور اس میں شک نہیں کہ آخرت میں بھی یہی سب سے زیادہ خسارے والے ہوں گے، کیونکہ جن کو یہ سمجھ کر پکارتے تھے کہ وہ ہمیں بچائیں گے انھیں اپنی پڑی ہوگی۔ وہ سب ان سے غائب ہوجائیں گے، اگر سامنے ہوئے بھی تو ان سے بری ہونے کا اعلان کریں گے، بلکہ ان کے دشمن بن جائیں گے۔ دیکھیے سورة احقاف (5، 6)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

آیت نمبر 21 تا 22 قولہ تعالیٰ : اولٰٓئک الذین خسروٓاانفسھمیہ مبتدا اور خبر ہے۔ وضل عنھم ماکانوا یفترون یعنی ان سے ان کی بہتان تراشی ضائع اور گم ہوگئی۔ قولہ تعالیٰ : لاجرمعلماء کے اس کے بارے میں کئی اقوال ہیں، خلیل اور سیبویہ نے کہا : لاجرمبمعنی حق ہے۔ ان دونوں کے نزدیکفلا جرم ایک ہی کلمہ ہے، اور انان کے بزدیک محل رفع میں ہے۔ یہ فراء اور محمد بن یزید کا قول ہے۔ اور نحاس نے اس کو بیان کیا ہے۔ مہدوی نے کہا : خلیل سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کا معنی لابد اور لامحالۃ ہے یہ بھی فراء کا قول ہے۔ ثعلبی نے اس کو ذکر کیا ہے۔ اور زجاج نے کہا : یہاں لا نافیہ ہے، اور یہ ان کے اس قول کا رد ہے کہ بت انہیں نفع…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) اولئک الذین خسروا انفسہم “ سے مراد ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے دھوکہ دیا اپنے آپ کو۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] الَّذِيْنَ [ وہ ہیں جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] وَضَلَّ [ اور گم ہوا ] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ لوگ گھڑا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ ) (کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جانوں کا خسارہ کر بیٹھے) دنیاوی تجارت میں تو لوگوں کو اموال کا نقصان ہوتا ہے۔ لیکن ان کی تجارت ایسی برباد ہوئی کہ انہیں اپنی جانوں ہی کا خسارہ ہوگیا ‘ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور آخرت کے بدلے دنیا لے لی اور اس طرح اپنی جانوں ہی کو گنوا بیٹھے۔ اگر کسی کے دل میں یہ سوال اٹھے کہ خسارہ تو جب ہوتا ہے جب جانیں ختم ہوجاتیں اور ان کا وجود ہی نہ رہتا لیکن کافر کی جان دنیا میں بھی موجود ہے اور آخرت میں بھی موجود رہے گی پھر بھی جان کا خسارہ کیسے ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب کافر دوزخ میں جائے گا جو وہ موت سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–24

اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔ (ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

25: دنیا میں کوئی نیک عمل نہ کیا اور خوش فہمیوں میں مبتلا رہے اور جن مزعومہ معبودوں پر بھروسہ تھا وہ بھی کام نہ آئے اس لیے لا محالہ آخرت میں وہ سب سے بڑے نقصان و خسران میں رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 18–24

ربط آیات گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔ افترا علی اللہ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۝ 21 خسر ويستعمل ذلک في المقتنیات الخارجة کالمال والجاه في الدّنيا وهو الأكثر، وفي المقتنیات النّفسيّة کالصّحّة والسّلامة، والعقل والإيمان، والثّواب، وهو الذي جعله اللہ تعالیٰ الخسران المبین، وقال : الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَأَهْلِيهِمْ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَلا ذلِكَ هُوَ الْخُسْرانُ الْمُبِينُ [ الزمر/ 15] ، ( خ س ر) الخسروالخسران عام طور پر اس کا استعمال خارجی ذخائر میں نقصان اٹھانے پر ہوتا ہے ۔ جیسے مال وجاء وغیرہ لیکن کبھی معنوی ذخائر یعنی صحت وسلامتی عقل و ایمان اور ثواب کھو بیٹھنے پر بولا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–24

ترکیب : یضاعف جملہ مستانفہ ہے ماکانوا میں تین وجہ ہیں اول یہ کہ نافیہ ہے والثانی مصدریہ۔ وفیہ مافیہ والثالث بمعنی الذی لاجرم الخ اس میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ لا کلام سابق کے رد کے لئے ای لیس الامر کمازعموا جرم فعل ضمیر اس میں مضمر اس کی فاعل وانہم الخ جملہ محل نصب میں دوم لا جرم بمعنی حق بمنزلہ ایک کلمہ کے انہم جملہ محل رفع میں فاعل ہو کر۔ تفسیر : کفار مکہ کی عادت تھی کہ وہ طرح طرح کے شبہات وارد کیا کرتے تھے۔ کبھی نئے نئے معجزات طلب کیا کرتے ٗ کبھی قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ کبھی اپنے پرانے ڈھکوسلوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ان بتوں کی پرستش کا اسی نے ہم کو حکم دیا ہے۔ اسی نے ان کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–22

اُولٰئِٓکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ یُضٰعَفُ لَہُمُ الْعَذَابُط مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ ۔ اُولٰئِٓکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ لاَ جَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 20، 21، 22) (یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے۔ ان کا دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انھوں نے گھڑ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 20–22

فہم القرآن ربط کلام : آخرت کا انکار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے لوگوں کی دنیا میں حیثیت اور آخرت میں ان کا انجام۔ آخرت کا انکار کرنے والے دنیا میں تو حقائق کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جانا۔ لیکن قیامت کے دن جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے انکار نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اٹھائے گا اور انھیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہ اپنی پیشی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ انسان جب اللہ کی ذات کا منکر اور آخرت کا انکاری ہوجائے تو پھر اس کے گناہ اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور آخرت کے انکار کی وجہ سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَھُمْ (ان لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا) اس طرح کہ غیر اللہ کی عبادت کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے مقابلہ میں خرید لیا۔ وَضَلَّ عَنْھُمْ (اور ان سے گم ہوگئے) باطل ہوگئے اور ضائع ہوگیا وہ جس کو انہوں نے خریدا اور وہ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (وہ چیز ہے جس کو وہ باندھا کرتے تھے) یعنی معبود اور ان کی شفاعت۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 21۔” اولئک الذین خسروا انفسھم “ اپنے آپ کو خسارہ کیا ” وضل عنھم ما کانوا یفترون “ وہ فرشتوں اور بتوں کو سفارشی خیال کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 19–22

19۔ 22۔ یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت کے دن سارے جن و انس اور ملائکہ کے روبرو رسوا ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر اب فرمایا کہ آپ تو یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجائیں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد پھر کیسا جینا پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اولئک الذین خسرو انفسھم) ” وہی لوگ ہیں جنہوں نے خسارے میں ڈالا اپنی جانوں کو “ کیونکہ وہ سب بڑے ثواب سے محروم ہوگئے اور شدید ترین عذاب کے مستحق قرار پائے (وصل عنھم ماکون یفترون) ” اور گم ہوگیا ان سے وہ جھوٹ باندھتے تھے “ یعنی ان کا وہ دین، جس کی طرف یہ لوگوں کو دعوت دیا کرتے تھے اور جس کی یہ تحسین کیا کرتے تھے، مٹ گیا اور جب آپ کے رب کا حکم آگیا، تو ان کے وہ جھوٹے خدا ان کے کسی کام نہ آئے جن کی عبادت کیا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–33

طلب دنیا یا عقبی کی چاہت قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

56 ۔ حق سے محرومی سب سے بڑا خسارہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خسارے میں ڈالا تھا اپنے آپ کو۔ سو دین حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی اور خسارہ ہے۔ اور اس محرومی کا باعث یہ لوگ خود تھے۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس خسارے کا ارتکاب انہوں نے خود کیا تھا نور ایمان و یقین سے منہ موڑ کر اور ہدایت کے بدلے میں گمراہی کو اپنا کر۔ والعیاذ باللہ۔ سو نور ایمان و یقین سے منہ موڑنا اپنے آپ کو خسارے میں ڈالنا ہے۔ اور یہ خسارہ ایسا خسارہ ہے جو خساروں کا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ اور ایسا خسارہ کہ اس کی تلافی وتدارک کی بھی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–22

منکرین اور ان کا انجام تشریح : یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 62 اور سورة نساء آیات 152, 150 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں آیا ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کے بارے میں سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہ لایا، وہ جہنم میں جائے گا۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الیٰ جمیع الناس) اور پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا۔” آپ کی خواہش کے مطابق اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ ( سورة یوسف آیت 103) آیت نمبر 18 کے بارے میں حدیث ملاحظہ ہو۔ ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 9–24

آیات 9 تا 24 اسرار و معارف عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔ معرفت باری کا اثر یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ یعنی جھوٹے دعوے آخرت میں گم ہوگئے۔ مثلاً یہ جو کہا کرتے تھے کہ ہمارے یہ بت یا بزرگ یا پیرو مرشد۔ خدا سے ہماری سفارش کریں گے اور ہم اس کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ (کذافی الوحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

خسروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ فعل لازم۔ نقصان اٹھانا۔ گمراہ ہونا۔ ہلاک ہونا (باب سمع) خسروا انفسھم۔ انہوں نے خود نقصان اٹھایا۔ ضل عنہم۔ ان کو چھوڑ گئے۔ ان سے گم ہوگئے۔ (یعنی وہ جھوٹے بت جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ اور جو اپنے معبودان باطل سے انہوں نے موہوم امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ سب کہیں بھی نظر نہ آئیں)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–22

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 بینۃ (کھلی نشانی) شاھد (گواہی دینے والا) امام (رہنما، پیشوا) الاحزاب (حزب) ، جماعتیں موعد (وعدہ کیا گیا) یعرضون (پیش کئے جائیں گے) الاشھاد (شھید) گواہ یصدون (وہ روکتے ہیں) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) معجزین (عاجز و بےبس کرنے والے) یضعف (دوگنا دیا جائے گا) لا جرم (یقینا لازمی) اخسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے) تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت پر چلنے والے اور باطل پرستوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ غور کرنے کی بات ہے کیا یہ دونوں کسی طرح بھی برابر ہو سکتے ہیں : 1) ایک وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–24

یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ قیامت کے دن سارے جن وانس اور ملائکہ کے روبرو سوار ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا۔ یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر۔ اب فرمایا کہ خود یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجاویں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسا جینا۔ پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ نہیں کر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–27

[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–21

(ف 2) دوہرے عذاب سے یہ غرض نہیں کہ ان کو استحقاق سے زائد عذاب میں مبتلا کیا جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم چونکہ دوہرا ہے یعنی وہ منکر بھی تھے ، اور خدا کی راہ سے دوسروں کو روکتے بھی تھے اس لئے انہیں عذاب بھی دگنا دیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے کو تباہ و برباد کرلیا اور ان کی سب افرار پردازیاں ان سے گم اور غائب ہوگئیں یعنی نقصان ہی نقصان ہوا اور وہ معبود ان باطلہ کہ جن کی پرستش کیا کرتے تھے وہ سب کہیں غائب ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ جھوٹے دعوے آخرت میں گم ہوگئے 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–21

ف 6۔ ایک اپنے کافر ہونے کی ایک دوسروں کو کافر بنانے کی کوشش کرنے کی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا اور جن کے سہارا پر وہ جئے ہو بھی ان کے کام نہ آئے 32 ؎ کتنے بد بخت نکلے کیا ان کی اس بد بختی کا کوئی اندازہ لگا سکتا ہے جب ان کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ اپنے معبود ان باطل سے بخشش اور نجات کی جو حسین توقعات انہوں نے وابستہ کر رکھی تھی وہ سب کی سب خاک میں مل گئیں ۔ وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے رہے لیکن ان کے معبود ان باطل کا تو کہیں نام و نشان تک نہ تھا ۔ اس لئے کہ انہوں نے جن کو مشکل کشا بنائے رکھا وہ اپنی ہی سمجھ کے مطابق بنائے رکھا ۔ ان مشکل کشا سمجھے گئیوں نے تو ان کو یہ حکم نہیں دیا تھا وہ ساری زندگی سراب ہی کو پانی سمجھتے رہے لیکن آخر سراب کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–24

The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–22

26. All their conjectures regarding God, the universe and their own selves will prove to be absolutely baseless in the Next Life. Similarly, the notions they entertained about the help and support they would receive from those they considered to be either their deities, or their intercessors with God, or their patrons will prove to be false. Likewise, it will become obvious that all their notions about the After-life were utterly untrue.

Read the full tafseer →