Explained with ayahs 18–22
اللہ جل شانہ پہ بہتان باندھنے والے
جو لوگ اللہ کے ذمے بہتان باندھ لیں، ان کا انجام اور قیامت کے دن کی ساری مخلوق کے سامنے کی ان کی رسوائی کا بیان ہو رہا ہے۔ مسند احمد میں صفوان بن محزر کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عمر کا ہاتھ تھامے ہوئے تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا پھر پوچھنے لگا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے قیامت کے دن کی سرگوشی کی بارے میں کیا سنا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ عزجل مومن کو اپنے سے قریب کرے گا یہاں تک کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور اسے لوگوں کی نگاہوں سے چھپالے گا اور اسے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ کیا تجھے اپنا فلاں گناہ یاد ہے ؟ اور فلاں بھی اور…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 24
یہ پھر عالم آخرت کا بیان ہے۔
سورة هُوْد 25
ایک عذاب خود گمراہ ہونے کا۔ دوسرا عذاب دوسروں کو گمراہ کرنے اور بعد کی نسلوں کے لیے گمراہی کی میراث چھوڑ جانے کا۔ (ملاحظہ ہو سورة اعراف، 30)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
خلاصہ تفسیر
اور ایسے شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے (کہ اس کی توحید کا اس کے رسول کی رسالت کا اور اس کے کلام ہونے کا انکار کرے) ایسے لوگ (قیامت کے روز) اپنے رب کے سامنے (مفتری ہونے کی حیثیت سے) پیش کئے جائیں گے اور (اعمال کے) گواہ فرشتے (علی الاعلان) یوں کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنے رب کی نسبت جھوٹی باتیں لگائی تھیں، سب سن لو کہ ایسے ظالموں پر خدا کی (زیادہ) لعنت ہے جو کہ (اپنے کفر و ظلم کے ساتھ) دوسروں کو بھی خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے تھے اور اس (راہ دین) میں کجی (اور شبہات) نکالنے کی تلاش (اور فکر) میں رہا کرتے تھے (تاکہ دوسروں کو گمراہ کریں) اور آخرت کے…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ۘ يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ ۭ مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ۔
یعنی دنیا میں اللہ نے ان کو جو مہلت دی تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ خدا کے قابو سے باہر تھے بلکہ یہ اس کی ڈھیل تھی کہ وہ توبہ اور اصلاح کرنا چاہیں تو توبہ اور اصلاح کرلیں ورنہ اپنا پیمانہ اچھی طرح بھرلیں۔ ان کا یہ زعم بھی بالکل بےحقیقت تھا کہ ان کے کچھ اولیاء اور مددگار ہیں جو خدا کی پکڑ سے ان کو بچا سکتے ہیں۔ اب سارے حقائق ان کے سامنے آگئے۔ اب یہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے اور چونکہ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–23
20۔ 1 یعنی ان کا حق سے اعراض اور بغض اس انتہا تک پہنچا ہوا تھا کہ یہ اسے سننے اور دیکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے تھے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کو کان اور آنکھیں تو دی تھیں لیکن انہوں نے ان سے کوئی بات نہ سنی اور نہ دیکھی۔ گویا ' (فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ) 46۔ الاحقاف :26) نہ ان کے کانوں نے انھیں کوئی فائدہ پہنچایا، نہ ان کی آنکھوں اور دلوں نے ' کیونکہ وہ حق سننے سے بہرے اور حق دیکھنے سے اندھے بنے رہے، جس طرح کہ وہ جہنم میں داخل ہوتے ہوئے کہیں گے (لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْٓ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ 10 ) 67۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–30
15: ایک عاب خود ان کے کفر کا، اور دوسرا اس بات کا کہ وہ دوسروں کو حق کے راستے سے روکتے تھے۔
Read the full tafseer →(اولئک) یہ لوگ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور جو اللہ کے نزدیک قابل ملامت اور لعنت ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ " ان کی یہ تمام تدبیریں اللہ کو عاجز کرنے والی نہیں ہیں۔ لہذا اللہ جس وقت بھی چاہے ان پر اپنا عذاب نازل کرسکتا ہے اور خود اس دنیا میں بھی "
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ " نہ اللہ کے مقابلے میں ان کا کوئی حامی تھا " جو ان کو اللہ سے بچا سکتا یا اللہ کے مقابلے میں ان کی نصرت کرسکتا۔ لیکن اللہ نے ان لوگوں کو اخروی عذاب کے لیے یہاں مہلت دے دی ہے تاکہ وہاں ان کو دنیا اور آخرت دونوں کا عذاب دیا…
Read the full tafseer →7 یعنی اتنی وسیع زمین میں نہ کہیں بھاگ کر خدا سے چھپ سکتے ہیں اور نہ کوئی مددگار اور حمایتی مل سکتا ہے جو خدا کے عذاب سے بچاوے۔
8 کیونکہ خود گمراہ ہوئے اور دوسروں کو گمراہ کیا۔
9 یعنی دنیا میں ایسے اندھے بہرے بنے کہ نہ حق بات سننے کی تاب تھی نہ خدا کے نشانوں کو دیکھتے تھے جنہیں دیکھ کر ممکن تھا راہ ہدایت پالیتے۔ حضرت شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ اللہ پر جھوٹ بولا ہے اصل اور غلط باتیں اس کی طرف منسوب کیں۔ کہاں سے لائے ؟ غیب سے سن نہ آتے تھے غیب کو دیکھتے نہ تھے پھر ان کا ماخذ کیا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 20 اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ
یہ لوگ اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو ہرگز شکست نہیں دے سکتے۔
مَا کَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ
وہ بالکل اندھے اور بہرے ہوگئے تھے۔ سورة البقرۃ میں ایسے لوگوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : صُمٌّم بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ حق کے لیے ان لوگوں کے اسی رویہ کی وجہ سے ان کا عذاب بڑھایا جاتا رہے گا۔
Read the full tafseer →4 2 اللہ کے ذمہ جھوٹ لگانے پر سخت ترین عذاب کیوں ہوگا :۔ یعنی اگر اللہ چاہتا تو دنیا میں ہی ان کو سزا دے کر تباہ و برباد کرسکتا تھا اور یہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جاسکتے تھے اور آج قیامت کے دن بھی ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا اور انھیں دگنا عذاب اس لیے دیا جائے گا کہ ایک تو خود گمراہ ہوئے دوسرے یہی گمراہی کی میراث اپنی اولاد کے لیے اور دوسرے پیروکاروں کے لیے چھوڑ گئے۔ جن کے عذاب سے حصہ رسدی ان کے کھاتے میں بھی جمع ہوتا رہا۔
5 2 دگنے عذاب کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ایک تو خود وہ سیدھی راہ دیکھنے کی کوشش ہی نہ کرتے تھے اور دوسرے اس لیے کہ اگر انھیں کوئی سیدھی راہ بتلانے کی کوشش کرتا…
Read the full tafseer →27۔ (کہ کوشش کرکے یا سفارش کرکے انہیں چھڑا دیتا۔ (آیت) ” من اولیآء “۔ میں من۔ زائدہ استغراق یا کلیت نفی کے لئے ہے۔ من زائدۃ لاستغراق النفی (روح) اردو ترجمہ میں ” بھی “ اس مفہوم کے اظہار کے لئے ہے۔ (آیت) ” لم یکونوا معجزین فی الارض “۔ ان کا اللہ کو عاجز کرنا یہی تھا کہ یہ کہیں چھپ جاتے اور اللہ کے ہاتھ نہ آتے۔ اور اگر یصدون کے معنی محض (آیت) ” یعرضون “۔ کے لئے جائیں تو سزا کا دوگنا ہونا تعدد عمل کی بناء پر نہیں شدت عمل کی بنا پر ہوگا۔
28۔ یعنی نہ کلام حق کو غایت عناد سے سنتے تھے اور نہ راہ حق کو غایت عناد سے دیکھتے تھے، روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ جس بات سے ضد اور نفرت دل میں بیٹھ جاتی ہے۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیت نمبر 9 تا 24
ترجمہ : اور اگر ہم کافر انسان کو اپنی رحمت) مثلاً ( مالداری اور صحت سے نوازنے کے بعد اس کو رحمت سے محروم کردیتے ہیں تو وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اس رحمت کی بےحد ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آپڑی تھی) مثلاً ( فقر اور سختی، ہم اس کو نعمتوں کا مزا چکھا دیتے ہیں تو کہنے لگتا ہے کہ میرے سب دکھ دور ہوگئے اور ان نعمتوں کے زوال کا خیال بھی نہیں کرتا اور نہ ان پر شکر ادا کرتا ہے) اور ( وہ اترانے لگتا ہے اور جو کچھ اس کا دیا گیا ہے اس کی وجہ سے لوگوں پر شیخی بگھارنے لگتا ہے، مگر جو لوگ مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں اور نعمتوں میں نیک عمل کرتے ہیں یہی ہیں وہ لوگ…
Read the full tafseer →اولئک لم یکونوا معجزین فی الارض یہ لوگ (تمام) زمین پر اللہ کو (کہیں بھی) عاجز نہیں کرسکتے تھے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے معجزینکا ترجمہ کیا ہے آگے نکل جانے والے ‘ اور قتادہ نے کیا ہے بھاگ جانے والے اور مقاتل نے کیا ہے چھوٹ جانے والے۔ مطلب سب کا ایک ہی ہے ‘ یعنی یہ لوگ اللہ کو دنیا میں سزا دینے سے روک نہیں سکتے۔
وما کان لھم من دون اللہ من اولیاء اور (دنیا میں) اللہ کے عذاب سے ان کو بچانے والا کوئی ان کا حمایتی نہیں مگر اللہ نے ہی خود ان کے عذاب کو آخرت پر ٹال رکھا ہے تاکہ ان کو عذاب سخت اور لافانی میں مبتلا کر دے (دنیا کا عذاب کتنا ہی بڑا ہو ‘ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں کم ہے اور ختم ہوجانے والا بھی…
Read the full tafseer →(20) یہ لوگ کسی مقام پر اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے اور عذاب الہی سے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی انہیں بچا نہیں سکتا ایسے سرداروں کو دوہری سزا ہوگی۔
یہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے بغض کی وجہ سے آپ کے کلام کو سن نہ سکتے تھے یا یہ کہ آپ کے کلام کی طرف توجہ نہیں کرتے تھے اور نہ دشمنی کی غرض سے رسول اکرم ﷺ کی طرف دیکھتے تھے یا یہ کہ بغض کی وجہ سے آپ کو دیکھ نہیں سکتے تھے۔
یہ امراء وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو برباد کربیٹھے نہ ان کو جنت میں اہل و عیال ملیں گے اور نہ محلات اور نہ شان شوکت بلکہ ان کے علاوہ دوسرے مومنین ان نعمتوں کے وارث ہوں گے۔
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ۔۔ : یعنی یہ لوگ کبھی بھی اللہ کو عاجز کرکے اس کی گرفت سے بھاگ نہیں سکتے۔ وہ جب پکڑنا چاہے گا، اس زمین پر بھی پکڑ لے گا اور آخرت کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ پھر اللہ کے سوا کبھی کوئی ان کا مددگار نہیں ہوگا جو انھیں اللہ کے عذاب اور پکڑ سے چھڑا سکے۔
يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ : ایک اپنے گمراہ ہونے کا عذاب، دوسرا لوگوں کو اللہ کی راہ سے روک کر گمراہ کرنے کا عذاب۔ دیکھیے سورة اعراف (37، 38) اور عنکبوت (12، 13)۔
مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ : یعنی کان اور آنکھیں رکھنے کے باوجود حق سنتے یا دیکھتے نہیں تھے۔ دیکھیے سورة اعراف…
Read the full tafseer →آیت نمبر 20
قولہ تعالیٰ : اولٰٓئک لم یکونوا معجزین فی الررض یعنی وہ اللہ کے عذاب سے بچنے والے نہیں۔ اور حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد ہے : وہ مجھے اس بات سے عاجز نہیں کرسکتے کہ میں زمین کو حکم دوں کہ وہ ان کو دنگل لے۔ وماکان لھم من دون اللہ من اولیاء سے مراد مددگار ہیں اور من زائدہ ہے اور ایک قول کے مطابق ما بمعنی الذی ہے اور تقدیر عبارت یہ ہوگی : اولٰیک لم یکونوا معجزین لاھم ولا الذین کانوالھم من اولیاء من دون اللہ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ یضٰعف لھم العذاب یعنی ان کے کفر اور ان کی نافرمانیوں سے دوگنا۔ ماکانویستطیعون السمع، ما اس بنیاد پر محل نصب میں ہے کہ اس کا معنی ہوگا ماکانوایستطیعون…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ سبحانہ نے خبر دی کہ وہ حائل ہے شرک والوں اور ان کی اطاعت کے درمیان دنیا میں اور آخرت میں۔ دنیا میں (اس طرح پر) کہ اس نے کہا کہ ہم وہ لوگ اس کی اطاعت و فرمانبرداری میں کہ کوئی آواز سن سکتے ہیں اور نہ ہی اس حق کے نور کو دیکھ سکتے ہیں اور آخرت میں تو اس نے فرمایا کہ وہ خشوع اور عاجزی کی طاقت نہیں رکھیں گے۔
2:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ماکانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون “ یعنی وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ وہ خیر کی بات کو سنیں اور اس سے نفع حاصل کریں اور نہ وہ یہ…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ] لَمْ يَكُوْنُوْا [ ہرگز نہیں ہیں ] مُعْجِزِيْنَ [ عاجز کرنے والے (مومنین کو ) ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہے ] لَهُمْ [ان کے لئے ] مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مِنْ اَوْلِيَاۗءَ ۘ [ کوئی بھی کارساز ] يُضٰعَفُ [ کئی گنا کیا جائے گا ] لَهُمُ [ ان کے لئے ] الْعَذَابُ ۭ [ عذاب کو ] مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ [ وہ استطاعت نہیں رکھتے تھے ] السَّمْعَ [ سن کر سمجھنے کی ] وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ [ اور وہ لوگ دیکھ کر سمجھتے نہیں تھے ]
(آیت ۔ 20) معجزین اسم المفعول ہے جو فعل کا عمل کررہا ہے اور اس کا مفعول محذوف ہے جو اللہ کی راہ کے راہی…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اُولٰٓءِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ ) (یہ لوگ زمین میں اللہ کو عاجز کرنے والے نہ تھے) کہ کہیں جا کر چھپ جاتے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہوجاتے اور موت سے بچ جاتے جب دنیا میں اللہ کو عاجز کر کے کہیں نہیں جاسکتے تھے تو آخرت میں کیسے چھوٹ کر جاسکتے ہیں۔ جہاں حساب کے لئے جمع کئے جائیں گے۔
(وَمَا کَانَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ) (اور ان لوگوں کے لئے اللہ کے سوا کوئی بھی مددگار نہیں ہوگا) جن لوگوں کو سفارشی سمجھا تھا وہ کچھ بھی فائدہ نہ پہنچا سکے۔ (یُضٰعَفُ لَھُمُ الْعَذَابُ ) (ان کے لئے دوہرا عذاب کردیا جائے گا) ایک عذاب ان کے اپنے کفر کا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
اہل دنیا اور اہل آخرت کا مقابلہ اور موازنہ اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ افمن کان علی بینہ من ربہ ...... الیٰ ...... ہل یستوین مثلا افلا تذکرون۔
(ربط) گذشتہ آیت میں اہل دنیا کا بیان تھا اب ان آیات میں اہل دنیا اور اہل آخرت کا موازنہ اور مقابلہ ہے اور فریقین کے نتائج اخروی کا بیان اور پھر آخر میں اللہ تعالیٰ نے دونوں کی مثال بیان کی کہ کافر تو مثل اندھے اور گونگے کے ہیں اور ایماندار مثل بینا اور شنوا کے ہیں دونوں کے اعمال اور افعال میں اور دونوں کے حال اور مآل میں زمین و آسمان کا فرق ہے اسی طرح سمجھو کہ اہل دنیا اور اہل آخرت برابر نہیں ہوسکتے۔ چناچہ فرماتے ہیں۔ پس کیا جو…
Read the full tafseer →24: دنیا میں انہیں فوراً اس لیے نہیں پکڑا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دسترس سے باہر تھے یا اللہ سے ورے ان کا کوئی کارساز اور نگہبان تھا بلکہ یہ تاخیر اللہ کی حکمت بالغہ پر مبنی تھی۔ یُضٰعَف لَھُمُ الْعَذَابُ اب آخرت میں انہیں دوگنا عذاب دیا جائے گا دنیا میں وہ حق بات کو سننے کے لیے تیار نہ تھے اور نہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے واضح نشانات میں غور وفکر کرتے تھے۔ مَاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ جن معبودان باطلہ کو انہوں نے خدا کے یہاں سفارشی سمجھ رکھا تھا قیامت کے دن وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی ان کے کام نہیں آئے گا۔ (وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) من الالھۃ و شفاع تھا (روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–24
ربط آیات
گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔
افترا علی اللہ
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ وَمَا كَانَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ 0 ۘ يُضٰعَفُ لَہُمُ الْعَذَابُ 0ۭ مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ 20
عجز
عَجُزُ الإنسانِ : مُؤَخَّرُهُ ، وبه شُبِّهَ مُؤَخَّرُ غيرِهِ. قال تعالی: كَأَنَّهُمْ أَعْجازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ [ القمر/ 20] ، والعَجْزُ أصلُهُ التَّأَخُّرُ عن الشیء، وحصوله عند عَجُزِ الأمرِ ، أي : مؤخّره، كما ذکر في الدّبر، وصار في التّعارف اسما للقصور عن فعل الشیء، وهو ضدّ القدرة . قال تعالی: أَعَجَزْتُ أَنْ أَكُونَ [ المائدة/ 31] ، وأَعْجَزْتُ فلاناً وعَجَّزْتُهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
ترکیب : یضاعف جملہ مستانفہ ہے ماکانوا میں تین وجہ ہیں اول یہ کہ نافیہ ہے والثانی مصدریہ۔ وفیہ مافیہ والثالث بمعنی الذی لاجرم الخ اس میں دو قول ہیں۔ اول یہ کہ لا کلام سابق کے رد کے لئے ای لیس الامر کمازعموا جرم فعل ضمیر اس میں مضمر اس کی فاعل وانہم الخ جملہ محل نصب میں دوم لا جرم بمعنی حق بمنزلہ ایک کلمہ کے انہم جملہ محل رفع میں فاعل ہو کر۔
تفسیر : کفار مکہ کی عادت تھی کہ وہ طرح طرح کے شبہات وارد کیا کرتے تھے۔ کبھی نئے نئے معجزات طلب کیا کرتے ٗ کبھی قرآن مجید کا انکار کرتے تھے۔ کبھی اپنے پرانے ڈھکوسلوں کو خدا کی طرف منسوب کرتے تھے کہ ان بتوں کی پرستش کا اسی نے ہم کو حکم دیا ہے۔ اسی نے ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
اُولٰئِٓکَ لَمْ یَکُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآئَ یُضٰعَفُ لَہُمُ الْعَذَابُط مَاکَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوْا یُبْصِرُوْنَ ۔ اُولٰئِٓکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَہُمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ لاَ جَرَمَ اَنَّہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ ہُمُ الْاَخْسَرُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 20، 21، 22)
(یہ زمین میں خدا کے قابو سے باہر نہیں اور نہ اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے۔ ان کا دگنا عذاب دیا جائے گا۔ یہ نہ سن سکتے تھے اور نہ دیکھتے تھے۔ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا اور جو انھوں نے گھڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
فہم القرآن
ربط کلام : آخرت کا انکار کرنے اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے لوگوں کی دنیا میں حیثیت اور آخرت میں ان کا انجام۔
آخرت کا انکار کرنے والے دنیا میں تو حقائق کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھایا جانا۔ لیکن قیامت کے دن جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونے سے انکار نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ انھیں اٹھائے گا اور انھیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہ اپنی پیشی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو بےبس نہیں کرسکتے۔ انسان جب اللہ کی ذات کا منکر اور آخرت کا انکاری ہوجائے تو پھر اس کے گناہ اپنی ذات تک محدود نہیں رہتے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور آخرت کے انکار کی وجہ سے…
Read the full tafseer →20: اُولٰٓئِکَ لَمْ یَکُوْنُوْا (یہ لوگ نہیں ہیں) یعنی نہیں تھے۔ مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ (زمین میں عاجز کرنے والے نہ تھے) دنیا میں اللہ کو عاجز کرنے والے نہ تھے کہ اگر وہ ان کو سزا دینا چاہے تو سزا دے (اور یہ اس سے بھاگ جائیں) وَمَاکَانَ لَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ اَوْلِیَآ ئَ (اور نہیں تھا ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی کارساز) جو ان کی دوستی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ سے ان کا بدلہ لے۔ اور اسکی پکڑ سے ان کو محفوظ کرلے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دینا چاہی اور اس دن تک عذاب کو مؤخر کردیا۔ یہ گواہوں کا کلام ہے۔ یُضٰعَفُ لَھُمُ الْعَذَابُ (ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا) کیونکہ…
Read the full tafseer →تفسیر : 20” اولئک لم یکونوا معجزین “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سبقت لے جانے والے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں بھاگنے والے ۔ ” فی الارض وما کان لھم من دون اللہ من اولیاء “ یعنی مدد گار جو ان کے ہمارے عذاب سے حفاظت کریں ۔ ” یضاعف لھم العذاب “ یعنی ان کا عذاب زیادہ کیا جائے گا اور بعض نے کہا ہے کہ دوسروں کو گمراہ کرنے اور دوسروں کے اور ان کی اتباع کرنے کی وجہ سے ان کو دگنا عذاب ہوگا۔ ابن کثیر ، ابن عامر اور یعقوب نے ( یضعف) عین کی شد کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور باقی حضرات نے ( یضاعف) الف کے ساتھ عین کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔” ما کانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون “ ہدایت کو۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–22
19۔ 22۔ یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت کے دن سارے جن و انس اور ملائکہ کے روبرو رسوا ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر اب فرمایا کہ آپ تو یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجائیں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد پھر کیسا جینا پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتے…
Read the full tafseer →“ (اولئک لم یکونو معجزین فی الارض ) ” وہ لوگ نہیں تھکانے والے زمین میں “ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے کہیں بھاگ نہیں سکتے، کیونکہ وہ اس کی گرفت میں اور اس کے دست قدرت کے تحت ہیں (وماکان لھم من دون اللہ من اولیاء ) ” اور نہیں ہیں ان کے واسطے اللہ کے سوا کوئی دوست “ جو ان کی تکلیف دور کرسکیں یا ان کے لئے کوئی فائدہ حاصل کرسکیں، بلکہ ان کے درمیان تمام اسباب منقطع ہوجائیں گے۔ (یضعف لھم العذاب) ” دوگنا ہے ان کے لئے عذاب “ ان کے لئے عذاب بہت سخت ہوگا اور بڑھتا چلا جائے گا “ کیونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو گمراہ کیا اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنے۔ (ماکانویستطیعون السمع) ” نہیں طاقت رکھتے تھے وہ سننے کی “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–33
طلب دنیا یا عقبی کی چاہت
قول یاری ہے من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لا یبخسون اولیک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار جو لوگ بس اسی دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں ۔ ان کی کارگزاری کا سارا پھل ہم یہیں ان کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص دنیا کی خاطر کوئی عمل کرے گا آخرت میں اس کے لیے اس عمل کے ثواب کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے من کان یرید حرث الاخرۃ نزدلہ فی حرثد و من کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا وما لہ…
Read the full tafseer →53 ۔ افتراء پردازوں کی بےبسی اور لاچارگی کا ذکر وبیان : سو اس سے افتراء پردازوں کی اللہ کی گرفت و پکڑ کے مقابلے میں بےبسی و لاچارگی کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا کیا کہ یہ ایسے لوگ نہیں کہ اللہ کو عاجز کردیں کہیں زمین میں چھپ کر اور نہ ہی ایسوں کے لیے کوئی حمایتی اور مددگار ہوگا۔ جو ان کو چھڑا اور بچا سکے اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے اور ان کے وہ خود ساختہ اور من گھڑت حمایتی اور سفارشی ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے جو انہوں نے طرح طرح کے ناموں سے گھڑ رکھے ہیں کہ ان کے اندر اس کی سرے سے کوئی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں۔ سو فیصلے کے اس دن ان لوگوں کی وہ تمام ملمع کاریاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
منکرین اور ان کا انجام
تشریح : یہی مضمون سورة بقرہ، آیت 62 اور سورة نساء آیات 152, 150 میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے لیے حدیث میں آیا ہے :” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس امت کے جس یہودی، یا عیسائی نے بھی میری نبوت کے بارے میں سنا اور پھر مجھ پر ایمان نہ لایا، وہ جہنم میں جائے گا۔ “ (صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب وجوب الایمان برسالۃ نبینا محمد ﷺ الیٰ جمیع الناس)
اور پھر اللہ نے نبی کریم ﷺ سے فرمایا۔” آپ کی خواہش کے مطابق اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ “ ( سورة یوسف آیت 103)
آیت نمبر 18 کے بارے میں حدیث ملاحظہ ہو۔
” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک مومن سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–24
آیات 9 تا 24
اسرار و معارف
عام انسان کا حال یہ ہے کہ اگر اس کے پاس اللہ کی نعمت ہو اور وہ چھن جائے یعنی مال وغیرہ میں نقصان ہوجائے یا صحت چلی جائے یا اقتدار و وقار جاتا رہے تو وہ بالکل ناامید ہوکرناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا پھرتا ہے کہ اب کچھ نہیں ہوسکتا لیکن اگر اسی کو پھر سے وہ نعمت لوٹادی جائے بیمار کو شفا ہوجائے یا پھر مالدار ہوجائے یاجلاوطنی کے بعد پھر سے اقتدار نصیب ہوجائے تو اترانے اور اکڑنے لگتا ہے اور کہتا ہے وہ دن اب لدگئے اب میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور وہ طرح طرح کی شیخیاں بگھارتا ہے۔
معرفت باری کا اثر
یہ وہ تصویر ہے جو ہراس انسان کی ہے جسے معرفت باری نصیب نہیں مگر جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 2 ۔ ان کے پیغمبر یا فرشتے جو عمل لکھتے ہیں اور علما جنہوں نے اللہ کے احکام کی تبلیغ کی۔ یہ سب گواہ کفار کے متعلق اعلان کریں گے کہ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم کی ایک حدیث میں ہے (ابن کثیر۔ کبیر) امام رازی لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی تو سب کی ہوگی مگر ان کو رسوا کرنے کے لئے پیش کیا جائے گا۔ (کبیر) ۔
3 ۔ جو انہیں اللہ کے عذاب اور پکڑ سے بچا سکے۔ (کبیر) ۔
4 ۔ یعنی اللہ پر بہتان باندھا۔ ان کو کیسے معلو ہوا کہ فلاں فلاں بت یا بزرگ ان کو بچالیں گے ؟ نہ غیب کی انہوں نے سنیں نہ غیب دیکھا۔ (وقریبا من ھذافی الروح) ۔
Read the full tafseer →(11:20) معجزین۔ عجز کے اصلی معنی کسی چیز سے پیچھے رہ جانا۔ یا اس کا حاصل ہونا ایسے وقت میں جب کہ اس کا وقت نکل چکا ہو۔ لیکن عام طور پر یہ لفظ کسی کام کے ل کرنے سے رہ جانے کے بولا جاتا ہے قرآن میں آیا ہے وما انتم بمعجزین فی الارض (42:31) اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ یعنی جسے وہ چاہے وہ کرنے سے تم اسے قاصر نہیں کرسکتے۔
یضاعف۔ مضارع مجہول واحد مذکر غائب۔ مضعفۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ بڑھا دیا جائے گا۔ دوگنا کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22
بینۃ (کھلی نشانی) شاھد (گواہی دینے والا) امام (رہنما، پیشوا) الاحزاب (حزب) ، جماعتیں موعد (وعدہ کیا گیا) یعرضون (پیش کئے جائیں گے) الاشھاد (شھید) گواہ یصدون (وہ روکتے ہیں) یبغون (وہ تلاش کرتے ہیں) معجزین (عاجز و بےبس کرنے والے) یضعف (دوگنا دیا جائے گا) لا جرم (یقینا لازمی) اخسرون (زیادہ نقصان اٹھانے والے)
تشریح : آیت نمبر 17 تا 22
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حق و صداقت پر چلنے والے اور باطل پرستوں کا موازنہ کرتے ہوئے سوالیہ انداز اختیار فرمایا ہے کہ غور کرنے کی بات ہے کیا یہ دونوں کسی طرح بھی برابر ہو سکتے ہیں :
1) ایک وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
یہ آیتیں انہیں لوگوں کی شان میں ہیں جن کا ذکر اوپر کی آیت میں ہوچکا ہے کہ وہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ قیامت کے دن سارے جن وانس اور ملائکہ کے روبرو سوار ہوں گے اور ہر طرف سے یہی پکار ہوگی کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا پر جھوٹ باندھا تھا۔ یہ بڑے ظالم ہیں لعنت ہو ان پر۔ اب فرمایا کہ خود یہ لوگ گمراہ ہیں لیکن اوروں کو بھی دین حق میں داخل ہونے سے روکتے ہیں، اور یہ چاہتے ہیں کہ ہماری طرح دوسرے بھی گمراہ ہوجاویں یہ لوگ آخرت کے منکر ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ کیسا جینا۔ پھر فرمایا یہ لوگ دنیا میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر خدا ان پر عذاب کا ارادہ کرے تو یہ لوگ کہیں بھاگ نہیں کر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–27
[13] دوہرا عذاب یوں کہ ایک عذاب خود کافر رہنے کا اور دوسرا دوسروں کو کافر بنانے کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(ف 2) دوہرے عذاب سے یہ غرض نہیں کہ ان کو استحقاق سے زائد عذاب میں مبتلا کیا جائے گا بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کا جرم چونکہ دوہرا ہے یعنی وہ منکر بھی تھے ، اور خدا کی راہ سے دوسروں کو روکتے بھی تھے اس لئے انہیں عذاب بھی دگنا دیا جائے گا ۔
Read the full tafseer →20 یہ لوگ تمام روئے زمین پر کہیں بھاگ کر خدا کو تھکا نہیں سکتے اور عاجز نہیں کرسکتے اور نہ ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حمایتی اور مددگار ہوا ان لوگوں کو دوسروں کے مقابلے میں دوگنی سزا دی جائے گی یہ لوگ تعصب کی وجہ سے نہ حق بات سن سکتے ہیں نہ بغض وعناد کی وجہ سے راہ حق کو دیکھ سکتے تھے یعنی جتنی شرارت زیادہ اتنا ہی عذاب زیادہ۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ پر جھوٹ بولنا کہاں سے لائے غیب سے سن آتے تھے نہ غیب کو دیکھتے تھے 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
ف 6۔ ایک اپنے کافر ہونے کی ایک دوسروں کو کافر بنانے کی کوشش کرنے کی۔
Read the full tafseer →یہ لوگ اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں بلکہ ان کیلئے دو گنا عذاب ہے
31 ؎ یہ لوگ دنیا میں بھی اللہ کو یعنی قانون الٰہی کو عاجز نہیں کرسکتے بلکہ محض قانون الٰہی ہی کی ڈھیل کے باعث وہ زندہ ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ دین کی کھلی دشمنی کے باوجد اس چند روز زندگی میں جو ان کا طوطی بدلتا رہا ہے اور ان کی عظمت و سطوت کا نقارہ بجتا رہا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہم سے زبردست اور طاقتور تھے اس لئے اپنی من مانی کرتے رہے۔ ایسا نہیں اگر ہم چاہتے تو ان کے بگڑے ہوئے دماغوں کو نمرود کی طرح ایک مچھر سے درست کروا دیتے اور ان کو کوئی ایسا مدد گار بھی نہ ملتا جو ان کو زبردستی ہمارے عذاب سے چھڑا لیتا بلکہ یہ ڈھیل تو ہم نے خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–24
The word: bayyinah (بینہ) appearing in this verse refers to the Qur'an. As for the meaning of ` shahid' (شاھِد evidence), statements of Tafsir authorities differ. The author of Bay-an a1-Qur'an takes ` shahid' to mean the miracle of the Qur'an that is present in the Qur'an as such. Thus, it comes to mean that those who adhere to the Qur'an, they already have a witness to the veracity of the Qur'an within it, that is, its miracle. Then, the other witness has already come in the form of Torah. Sayyidna Musa (علیہ السلام) had brought it as guidance and mercy for people. The reason is that the…
Read the full tafseer →24. This, again, refers to what will happen in the Next Life.
25. They will suffer punishment for being in error and for misleading others and leaving behind a legacy of error and misguidance for coming generations. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. Ill, al-A'raf, n. 30, pp. 23-6 -Ed.)
Read the full tafseer →