علم غیب اور حاکمیت اعلیٰ صرف اللہ ہی کو سزاوار ہے
آسمان و زمین کے ہر غیب کو جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ عزوجل ہی ہے۔ اسی کی سب کو عبادت کرنی چاہیے اور اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ جو بھی اس پر بھروسہ رکھے وہ اس کے لیے کافی ہے۔ حضرت کعب ؒ فرماتے ہیں کہ تورات کا خاتمہ بھی انہیں آیتوں پر ہے اللہ تعالیٰ مخلوق میں سے کسی کے کسی عمل سے بیخبر نہیں۔
Read the full tafseer →سورة هُوْد 117
یعنی کفر واسلام کی اس کشمکش کے دونوں فریق جو کچھ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کی نگاہ میں ہے۔ اللہ کی سلطنت کوئی اندھیر نگر چوپٹ راجہ کی مصداق نہیں ہے کہ اس میں خواہ کچھ ہی ہوتا رہے شہ بیخبر کو اس سے کچھ سروکار نہ ہو۔ یہاں حکمت اور بردباری کی بنا پر دیر تو ضرور ہے مگر اندھیر نہیں ہے۔ جو لوگ اصلاح کی کوشش کر رہے وہ یقین رکھیں کہ ان کی محنتیں ضائع نہ ہونگی۔ اور وہ لوگ بھی جو فساد کرنے اور اسے برپا رکھنے میں لگے ہوئے ہیں، جو اصلاح کی سعی کرنے والوں پر ظلم وستم توڑ رہے ہیں، اور جنہوں نے اپنا سارا زور اس کوشش میں لگا رکھا ہے کہ اصلاح کا یہ کام کسی طرح چل نہ سکے، انہیں خبردار رہنا چاہیے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
اختلاف مذموم اور محمود
پانچویں آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب انسانوں کو ایک ہی امت و ملت بنا دیتا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتے تو تمام انسانوں کو زبردستی قبول اسلام پر مجبور کر ڈالتے سب کے سب مسلمان ہی ہوجاتے ان میں کوئی اختلاف نہ رہتا مگر بتقاضائے حکمت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو کسی عمل پر مجبور نہیں کرتے بلکہ اس نے انسان کو ایک قسم کا اختیار سپرد کردیا ہے اس کے ماتحت وہ اچھا یا برا جو چاہے عمل کرسکتا ہے، اور انسان کی طبائع مختلف ہیں اس لئے راہیں مختلف ہوتی ہیں اور عمل مختلف ہوتے ہیں، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ ہمیشہ دین حق سے اختلاف کرتے ہی رہیں گے بجز…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۔
اللہ پر بھروسہ کرنے کی ہدایت : یہ آخر میں سارا معاملہ اللہ کے حوالہ کرنے، ہمہ تن اس کی عبادت میں سرگرم رہنے اور اس پر پورا پورا بھروسہ کرنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ آسمانوں اور زمین کا سارا بھید اللہ ہی کے علم و اختیار میں ہے اور سارے معاملات فیصلہ کے لیے اسی کے حضور میں پیش ہوتے ہیں تو تم اسی کی بندگی کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ تمہارا رب جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے بیخبر نہیں ہے۔ وہ ہر منزل اور ہر گام پر تمہارے ساتھ ہے۔ وہ تمہاری رہنمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
122۔ 1 یعنی عنقریب تمہیں پتہ چل جائے گا کہ حسن انجام کس کے حصے میں آتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ ظالم لوگ کامیاب نہیں ہونگے۔ چناچہ یہ وعدہ جلد ہی پورا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمایا اور پورہ جزیرہ عرب اسلام کے زیر نگین آگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
64: یہ بات قرآن کریم نے بار بار واضح فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا تو تمام انسانوں کو زبردستی ایک ہی دین کا پابند بنا دیتا ، لیکن اس کائنات کی تخلیق اور انسان کو اس میں بھیجنے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ انسان کو اچھے برے کی تمیز سکھا کر اسے یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے جو راستہ چاہے اختیار کرے اسی میں اس کا امتحان ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار کو ٹھیک استعمال کرتا ہے، اور اس کے نتیجے میں جنت کماتا ہے یا اس کا غلط استعمال کرکے دوزخ کا مستحق بن جاتا ہے، اس امتحان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس کے اختیار کے بغیر زبردستی کسی ایک راستے پر نہیں رکھا۔
Read the full tafseer →غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ (123:12) ّآسمانون اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قضبہ قدرت میں ہےٗ ۔ ان تمام امور کے آخری فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ اے پیغمبر تمہارے معاملات اور اہل ایمان کے تمام معاملات اور ان کو گون کے معاملات جو ایمان نہیں لاتے اور تمام موجودہ مخلوقات کے معاملات اور اہل ایمان کے تمام معاملات ۔ اور ان لوگوں کے معاملات جو ایمان نہیں لاتے اور تمام موجوسہ مخلوقات کے معاملات اور تمام آنے والے مخلوقات کے معاملات سب کے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں
وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (11 : 123)…
Read the full tafseer →6 یعنی آپ ان کے کفر و شرارت سے دلگیر نہ ہوں اپنا کام کیے جائیں اور ان کا فیصلہ خدا کے حوالہ کریں، اس سے آسمان و زمین کی کوئی بات چھپی نہیں، سب معاملات ہر پھر کر اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ وہاں ان کو پتہ لگ جائے گا کہ وہ کس خبط میں پڑے ہوئے تھے۔ آپ تو دل و جان سے اپنے پروردگار کی بندگی اور فرمانبرداری میں لگے رہیے۔ اور تنہا اسی کی اعانت پر بھروسہ رکھیے۔ وہ تمہارے مخلصانہ اعمال سے بیخبر نہیں ان کے مناسب تم سے معاملہ کرے گا۔ حدیث میں ہے کہ صحابہ ؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ ! آپ پر بڑھاپے کے آثار بہت جلد آگئے ؟ فرمایا " شَیَّبَتْنِیْ ہُوْدٌ وَاَخَوَاتُہَا " سورة " ہود " اور اس کی بہنوں نے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
آیت 122 وَانْتَظِرُوْا ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ
کہ اللہ کی طرف سے آخری فیصلہ کیا آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
133 لہذا آپ پورے عزم و استقلال کے ساتھ وحی الٰہی کی پیروی کرتے جائیے اور اپنے سرکش اور ہٹ دھرم مخالفوں سے صاف کہہ دیجئے کہ تم اپنے طریقہ پر کام کرتے جاؤ ہم اپنے ہی طریقہ پر عمل پیرا رہیں گے اور اللہ ہمارے اعمال کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اور جو فریق جیسے انجام کا اہل ہوگا۔ اللہ ویسے ہی انجام سے دوچار کرے گا کیونکہ تمام تر مخلوقات اس کے قبضہ قدرت میں ہے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق سزا و جزا دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
باطل دوئی پرست ہے حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق باطل نہ قبول کر
Read the full tafseer →171۔ علم اور ملک بھی اسی کا کامل اور اختیار و تصرف بھی اسی کا کامل۔ (آیت) ” للہ غیب السموت والارض “۔ زمین و آسمان کی ہر چھپی ہوئی چیز اللہ ہی کے لئے بہ اعتبار علم بھی اور بہ عتبار ملک بھی۔
172۔ کوئی فعل کسی کا جیسا اور جس درجہ کا بھی ہو اس کے علم اور قدرت کی گرفت سے باہر نہیں۔ (آیت) ” و توکل علیہ “۔ یعنی اگر تبلیغ توحید میں اذیت کا احتمال ہو تو اسے خاطر میں نہ لائیے اور یقین یہی جمائے رکھیے کہ تصرفات تکوینی سب کے سب بس اسی کے اختیار میں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیت نمبر 110 تا 123
ترجمہ : امر واقعہ یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو (بھی) کتاب تورات دی تھی اس میں بھی قرآن کے مانند تصدیق و تکذیب کرکے اختلاف کیا گیا تھا، اگر قیامت کیلئے مخلوق کے حساب و جزاء کی تاخیر کا تیرے رب کی طرف سے فیصلہ نہ کرلیا گیا ہوتا تو جس معاملہ میں وہ اختلاف کر رہے ہیں دنیا ہی میں فیصلہ کردیا گیا ہوتا، اور یہ (قرآن) کی تکذیب کرنے والے قرآن کی طرف سے شک میں ڈالنے والے خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ (بھی) واقعہ ہے (ان) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے کہ پوری مخلوق کو جب وہ (اس کے حضور حاضر کرے گا) تو تیرا رب ان کے اعمال کی پوری پوری جزاء دیگ (لَمَا) میں ما زائدہ ہے اور لام قسم مقدّر کی طرف…
Read the full tafseer →واللہ غیب السموت والارض اور اللہ ہی کے لئے ہے آسمانوں اور زمین کا وہ علم جو بندوں کے علم میں نہیں ہے۔
اس سے کوئی مخفی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے ‘ اس لئے وہی تمہارے اعمال سے واقف ہے۔
والیہ یرجع الامر کلہ اور (بندوں کے) تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے آپ کے امور کا بھی اور ان کے امور کا بھی ‘ وہی آپ کا ان سے انتقام لے گا۔ وہ جو چاہتا کرتا ہے اور جیسی اس کی مرضی ہوتی ہے حکم دیتا ہے۔
فاعبدہ و توکل علیہ پس تم اس کی عبادت کرو اور اس پر بھروسہ رکھو۔ عبادت کا حکم توکل کے حکم سے پہلے دینے سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ توکل کی افادیت اس وقت ہے جب عبادت ساتھ ہو (تنہا عبادت بغیر توکل کے مغرور بنا سکتی ہے اور…
Read the full tafseer →(123) اور بندوں سے جو چیزیں پوشیدہ ہیں اس کا علم اللہ ہی کو ہے اور بندوں کے سب امور آخرت میں اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے لہذا سی کی اطاعت کیجیے اور اس پر بھروسہ رکھیے اور آپ کا رب ان کی نافرمانیوں سے بیخبر نہیں یا یہ کہ ان کے اعمال کی سزا سے وہ فروگزاشت کرنے والے نہیں جس طرح کہ وہ ان سے غافل نہیں۔
Read the full tafseer →وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ : سب کو اسی کے پاس جانا ہے، پھر وہی ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
آیت نمبر 121 تا 123
قولہ تعالیٰ : وقل للذین لایؤمنون اعملوا علیٰ مکانتکم دھمکی اور وعید ہے۔ اناعٰملونۙوانتظروا۔ۚ انا منتظرون دوسری دھمکی ہے اس کا معنی پہلے گزر چکا ہے۔ وللہ غیب السمٰوٰت والارض یعنی زمین و آسمان کے غیب اور ان کی شہادت اللہ ہی کے لیے ہے۔ شہادت کو معنی کی دلالت کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اس سے مراد آسمان اور زمین کے خزانے ہیں۔ ضحاک نے کہا : اس سے آسمانوں اور زمین کی جو چیزیں بندوں سے غائب ہیں وہ ساری مراد ہیں۔ باقیوں نے کہا : غیب السمٰوٰت والارض سے عذاب کا آسمان سے نزول اور زمین سے طلوع مراد ہے۔ ابو علی فارسی نے کہا : للہ غیب السمٰوٰت والارض سے مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
مخالف کو دعوت دینے کا انداز :
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اعملو علی مکانتکم “ یعنی تم اپنی منازل پر عمل کرتے رہو۔
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” وانتظروا انا منتظرون “ کے بارے میں فرمایا کہ تم خاص شیطان کے وعدوں کا انتظار کرو اور اس سے بچو جو وہ تمہارے لئے آراستہ کرکے تم پر پیش کرتا ہے۔ (اور فرمایا) (آیت) ” والیہ یرجع الامر کلہ “ یعنی وہی عدل کا فیصلہ فرمائے گا ان کے درمیان۔
3:۔ عبداللہ بن احمد نے الزہد بن وابن الضریس نے فضائل القرآن میں وابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے کعب ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →[وَللّٰهِ : اور اللہ ہی کے ہیں ] [غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کے غیب ] [ وَاِلَيْهِ : اور س ہی کی طرف ] [ يُرْجَعُ : لوٹائے جاتے ہیں ] [الْاَمْرُ : تمام معاملات ] [ كُلُّهٗ : ان کے سب کے سب ] [ فَاعْبُدْهُ : پس آپ ﷺ بندگی کریں اس کی ] [وَتَوَكَّلْ : اور آپ ﷺ بھروسہ کریں ] [عَلَيْهِ : اس پر ] [ وَمَا رَبُّكَ : اور آپ ﷺ کا رب ] [بِغَافِلٍ : غافل نہیں ہے ] [عَمَا : اس سے جو ] [ تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ عمل کرتے ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واقعات آپ کے لئے تقویت قلب کا باعث ہیں
سورۂ ہود کا اکثر حصہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی امتوں کے واقعات پر مشتمل ہے سورت کے ختم پر ارشاد ہے کہ اے رسول ﷺ ہم جب حضرات انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے قصے آپ کو سناتے ہیں ان کے ذریعہ ہم آپ کے دل کو مضبوط کرتے ہیں اور یہ جو قصے آپ سے بیان کئے گئے ہیں ان میں جو کچھ بیان ہوا ہے وہ سب حق سچ ہے اس میں اہل ایمان کے لیے نصیحت ہے اور یاد دہانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قصوں کا بیان کرنا قصہ گوئی کے طور پر نہیں ہے ان قصوں سے آپ کے دل کو مضبوط کرنا اور اہل ایمان کو نصیحت اور یاد دہانی کرانا مقصود ہے ‘ جو لوگ ان قصوں کو پڑھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
خاتمہ سورت مشتمل بر تہدید عدم قبول ذکریٰ وموعظت
قال اللہ تعالیٰ وقل للذین لا یؤمنون اعملوا علی مکانتکم .... الیٰ .... وما ربک بغافل عما تعملون۔
(ربط) گزشتہ آیت میں یہ بتلایا کہ اس سورت میں حق کو حقیقت خوب واضح ہوگئی اور اہل ایمان کے لیے نصیحت آگئی اب اس آیت میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ جب حق آگیا اور حجت پوری ہوگئی اس پر بھی اگر کوئی نہ مانے تو آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اچھا تم اپنی اسی حالت پر رہو اور نتیجہ کا انتظار کرو۔ عنقریب تم کو اپنے خبط کا پتہ چل جائیگا اور اے اے نبی آپ ﷺ ان کے عناد سے دلگیر نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہئے اور اللہ پر بھروسہ رکھئے پھر سورت کو اللہ تعالیٰ کے کمال علم…
Read the full tafseer →102:۔ اس آخری آیت میں سورت کے تمام دعو وں کا بالاجمال اعادہ ہے وَلِلّٰہِ غیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ ۔ یہ دوسرے دعوے کا اعادہ ہے۔ عالم الغیب اور قادر و متصرف صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فَاعْبُدْہُ : اعادہ دعوی اولی جب عالم الغیب اور قادر و متصرف وہی ہے تو صرف اسی کی عبادت کرو اور انہیں صبر و استقامت سے برداشت کرو۔ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ اعادہ دعوی رابعہ۔ اے مشرکین تم محض ضد وعناد کی وجہ سے نہیں مانتے ہو اور الٹا طعنے دیتے ہو یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور تمہیں ان کی پوری پوری سزا دے گا۔
سورة ہود میں آیت توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
دلی تسلی کا مضمون
آج کے درس کی پہلی آیات میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا مضمون ہے جب کہ آخری آیت میں سورة کا لب و لباب دے دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے واقف ہے اور وہ انہی کے مطابق بدلہ دیگا اس سورة مبارکہ میں گزشتہ انبیاء اور ان کی اقوام کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ سابقہ امم نے کو نکون سے جرائم کا ارتکاب کیا اور پھر انہیں کس قدر ذلت ناک سزا سے دوچار ہونا پڑا اور پھر جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے ان کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح نجات دی۔ ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ جو شخص حق…
Read the full tafseer →وَلِلہِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَيْہِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّہٗ فَاعْبُدْہُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْہِ 0ۭ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 123ۧ
غيب
الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20]
( غ ی ب ) الغیب ( ض )
غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے…
Read the full tafseer →ہشتم۔ وللّٰہ غیب السموات والارض الخ میں سورة کو نہایت مطالب عالیہ پر تمام کیا۔ اول ٗ اللہ تعالیٰ کی صفات کمالیہ کا اظہار کیا۔ للّٰہ غیب السموات والارض میں اس کے علم کا کہ کوئی چیز آسمان و زمین کی اس پر مخفی نہیں مطیع اور عاصی کو بھی جانتا ہے والیہ یرجع الامر کلہ میں قدرت کاملہ کا اظہار ہے اور یہی دونوں ایسی صفت ہیں کہ جن سے عبادت کی جاتی ہے پھر جب یہ دونوں خاص اسی کا حصہ ہیں تو پھر اس کے سوا اور کسی کو نافع و ضار سمجھنا عبث اور فضول بلکہ نامعقول ہے۔ یہ پہلا مرتبہ تصحیح عقائد کا تھا۔ دوم فاعبدہ کہ اس کی عبادت کیا کر۔ عبادت ایک وسیع المعنی لفظ ہے مال سے ‘ جان سے ‘ روح سے ‘ اعضاء سے ‘ یہ دوسرا…
Read the full tafseer →وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُکُلُّہٗ فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیْہِط وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (سورۃ ہود : 123)
(اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کا غیب۔ اور وہی تمام امور کا مرجع ہے۔ تو اسی کی بندگی کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور جو کچھ تم کررہے ہو، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں۔ )
قریشِ مکہ کو فیصلہ کن جواب دینے کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آئندہ چل کر کیا ہونے والا ہے، غیب میں کیا فیصلے منتظر ہیں، اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نہیں، سارے معاملات اسی کو طرف لوٹائے جاتے ہیں، وہی تمام امور کا مرجع ہے اور تمام…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
اس فرمان میں ایک طرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ کیا ہونا چاہیے اور دوسری طرف داعی حق کے لیے تسلی ہے کہ جو خدمت وہ سرانجام دے رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے غافل نہیں ہے۔ انجام کار اور صلہ اس کی جناب میں موجود ہے۔ لہٰذا نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ دل چھوٹا کرنے اور مخالفین کی مخالفت کی طرف دھیان دینے کی بجائے اپنے رب کی عبادت یعنی اس کی یاد میں مگن رہیں اور اس کی ذات پر بھروسہ اور اعتماد رکھیں۔ آپ کا رب نہ آپ کی بےمثال محنت واخلاص سے غافل ہے اور نہ ہی حق کے منکروں اور آپ کی مخالفت کرنے والوں کی سازشوں اور شرارتوں سے بیخبر ہے۔ توکل…
Read the full tafseer →123: وَلِلّٰہِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کیلئے تمام پوشیدہ باتیں ہیں آسمانوں اور زمین کی) ان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس پر چھپی ہو۔ پس تمہارے اعمال اس سے چھپے ہوئے نہیں۔ وَاِلَیْہِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ (اور اسی ہی کی طرف تمام کاموں کا لوٹنا ہے) پس ضروری ہے کہ ان کا معاملہ بھی اسی ہی کی طرف لوٹے اور آپ کا معاملہ بھی پس وہ خود آپ کی طرف سے ان سے انتقام لے گا۔
قراءت : نافع و حفص نے یرجع پڑھا ہے۔ فَاعْبُدْہُ وَ تَوَکَّلْ عَلَیْہِ (پس اسی ہی کی عبادت کرو اور اس پر ہی بھروسہ کرو) وہ آپ کے لئے کافی ہے اور آپ کا کفیل ہے وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (…
Read the full tafseer →123۔” واللہ غیب السموات والارض “ جو بندوں سے ان دونوں میں غائب ہیں ۔ ” والیہ یرجع الامر کلہ “ معاد میں نافع اور حفص رحمہما اللہ ” ترجمع “ یاء کے پیش اور جیم کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے ، یعنی لوٹایا جائے گا اور دیگر حضرات نے یاء کے زیر اور جیم کی زیر کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی تمام امر اسی کی طرف لوٹیں گے۔
یہاں تک کہ مخلوق کے لیے کوئی امر نہ ہوگا ” فاعبدہ و توکل علیہ “ اس پر اعتماد کرو ما ربک بغافل عما تعلمون “ اہل مدینہ اور اہل شام اور حفص اور یعقوب رحمہما اللہ نے ” تعملون “ یہاں تاء کے ساتھ اور سورة النمل کے آخر میں اور دیگر حضرات نے دونوں میں یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔
کعب (رح) فرماتے ہیں کہ توریت کا…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اور اللہ ہی کے پاس ہے چھپی بات آسمانوں اور زمین کی۔ یعنی تمام مخفی چیزیں اور غیبی امور جو آسمانوں اور زمین میں سر بستہ ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ وَاِلَيْهِ يُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ : اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کام۔ تمام اعمال اور عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹنا ہے وہ پاک اور ناپاک کو علیحدہ علیحدہ کردے گا۔ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ : پس اسی کی عبادت کریں اور اسی پر بھروسہ رکھیں۔ یعنی اللہ کی عبودیت کو قائم کیجیے اس سے مراد اللہ تعالیٰ کے وہ تمام احکام ہیں جن کی تعمیل پر آپ صل اللہ علیہ وسلم قادر ہیں اور اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
انسان کو اختیار بخشا
قول باری ہے ولذلک خلقھم اسی آزادی انتخاب و اختیار کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ ، قتادہ ، مجاہد اور ضحاک سے مروی ہے کہ اللہ نے انہیں رحمت کے لیے پیدا فرمایا ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت ہے نیز حسن اور عطاء سے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں پیدا کردیا حالانکہ اسے علم تھا کہ یہ لوگ دنیا میں باطل کی مختلف راہوں پر چلیں گے۔ آیت میں حرف لام ، لام عاقبت ہے ۔ اہل لغت کا کہنا ہے کہ حرف لام کبھی حرف علی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے جس طرح قائل کا یہ قول ہے۔ اکرمتک علی یرک و لبرک بی تم نے میرے ساتھ جو نیکی کی ہے اس پر اور اس کی خاطر میں تمہارا احترام…
Read the full tafseer →232 ۔ غیب اللہ تعالیٰ ہی کا خاصہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ آسمانوں اور زمین کے سب غیب اللہ ہی کے لیے ہیں۔ پس غیب اللہ ہی کا خاصہ ہے۔ سو دیکھئے کہ یہاں کس طرح حصر کے ساتھ فرمایا جا رہا ہے کہ تمام آسمانوں اور زمین کا غیب اللہ ہی کے ساتھ خاص ہے مگر آج کا کلمہ گو مشرک ہے کہ پھر بھی اللہ کی مخلوق کے لیے علم غیب کا عقیدہ رکھتا ہے۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان وعلیہ التکلان۔ بہرکیف قرآن و سنت کی نصوص کریمہ تصریح کرتی ہیں کہ علم غیب خاصہ خداوندی ہے۔ پس مومن صادق کو چاہیے کہ وہ اپنا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کردے۔ ہمہ تن اس کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوجائے اور بھروسہ و اعتماد اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–123
نیک لوگ اور اللہ کی قدرت و حکمت
تشریح : ان آیات کی تشریح تو خود ان کے آسان مضامین میں موجود ہے۔ بہرحال یہ نقشہ بڑا ہی ہولناک ہے جب میدان حشر میں ہر امیر، غریب، بچہ، بوڑھا، جوان، ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی غرض ہر مذہب کا ہر فرد رب العلمین کی عدالت میں اپنا فیصلہ سننے کے لیے منتظر ہوگا۔ کوئی کسی کی ہرگز مدد نہیں کرسکے گا۔ صرف اپنا اعمال نامہ ہی کام آئے گا۔ اسی لیے موت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے سچ ہے زندہ رہنے کے لیے نام اور مرنے کے لیے مقام پیدا کرنا چاہیے۔ حدیث میں آتا ہے۔ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
” جاننا چاہتے ہو کہ بھلائی کیا ہے ؟ تو اپنے دل سے پوچھو۔ بھلائی وہ ہے جو روح کے لیے باعث اطمینان ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 110–123
آیات 110 تا 123
اسراومعارف
موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطافرمائی جو اللہ کا ذاتی کلام تھا اور کلام میں متکلم کی برکات کا بھرپورعکس ہوتا ہے ۔ چاہیئے یہ تھا کہ لوگ اس پہ جان نچھ اور کردیتے اور دلوں کو اس سے روشن اور سینوں کو آباد کرلیتے مگر لوگوں نے اپنے مزاج کے مطابق اس میں اختلاف کیا کسی نے اسے قبول تو کسی نے انکار کردیا کہ رب جلیل نے انسان کو شعور عطافرماکر فیصلے کا اختیار اسے بخش دیا ہے لہٰذایہ اس کی پسند ہے اگرچہ یہ بہت بڑاظلم ہے کہ اللہ کا پیغام آئے اور عاجز انسان جو اس کی مخلوق ہے اسی کا کھاتا ہے اسی کے پیغام کو ٹھکرادے لیکن اللہ نے فیصلے کی گھڑی مقرر کردی ہے کہ یوم حشرسب کا حساب چکا یا…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ سب کو اسی کے پاس جانا ہے پھر وہی ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
(11:121) علی مکانتکم۔ اپنی حد امکان تک۔ ملاحظہ ہو (11:93)
انا عاملون۔ ای انا عاملون علی مکانتنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
لغات القرآن آیت نمبر 118 تا 123
شآء (اس نے چاہا) لجعل (البتہ وہ بنا دیتا) امۃ واحدۃ (ایک جماعت) لا یزالون (ہمیشہ) رحم (رحم کیا) خلق (اس نے پیدا کیا) املئن (میں بھردوں گا) نقص (ہم بیان کرتے ہیں نثبت (ہم جما دیتے ہیں) فواد (دل) موعظۃ (نصیحت) ذکری (دھیان، توجہ دینے کی چیز) انتظروا (تم انتظار کرو) توکل علیہ (اس پر بھروسہ کیجیے)
تشریح : آیت نمبر 118 تا 123
سورة ھود کی ان آخری آیات میں چند بہت ہی بنیادی باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جو درحقیقت اس سورت کا خلاصہ بھی ہیں۔
1) پہلی بات تو یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت اور ایک ہی ملت بنا دیتی کبھی ان کے درمیان اختلاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
مطلب یہ ہے کہ وہ راہ راست پر اس لئے آویں گے کہ حکم ازلی ان کے لئے ہوچکا ہے اور جو فرشتوں سے فرمایا تھا کہ میں ضرور بہ ضرور جہنم کو جنات اور آدمیوں سے بھر دوں گا۔ اور سب کافر جہنم میں جاویں گے اور رسولوں کی خبر ہم تمہارے سامنے بیان کرتے ہیں۔ وہ اس لئے ہے کہ تمہارے دل کو مطمئن اور مظبوط کرنے میں ثابت قدم رہے اور کفار کے ایذا پر صابر۔ یہ سب خبریں صحیح ہیں ان میں کچھ جھوٹ نہیں اور ان میں فقط آپ ہی کے واسطے فائدہ نہیں بلکہ آپ کی امت کے لئے بھی نفع ہے۔ پھر فرمایا کہ اے محبوب ﷺ جو لوگ ایمان نہیں لائے ان سے کہ دو کہ تم بھی جس طرح عمل کرتے ہو کرتے رہو۔ ہم جس طرح عمل کرتے ہیں کرتے رہیں گے، تم بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–123
[61] آیت 116 میں انسانی آبادیوں کی تباہی کا جو سبب بیان کیا گیا ہے اس پر یہ اعتراض کیا جاسکتا تھا کہ ان میں اہل خیر کا نہ ہونا یا کم پایا جانا بھی تو آخر اللہ کی مشیت سے تھا پھر اس کا الزام ان تمام آبادیوں پر کیوں رکھا جائے ؟ کیوں نہ اللہ نے ان کے اندر بہت سے اہل خیر پیدا کردیئے ؟ اس کا جواب اس آیت میں یہ دیا گیا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام انسانوں کو حق پر جمع کردیتا اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ ہے ہی نہیں ورنہ پھر رسولوں اور دعوت حق کی ضرورت ہی کیا تھی۔ انسان کے بارے میں اللہ کی جو مشیت ہے وہ یہ کہ اسے اپنی پسند کے مطابق نیکی اور بدی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
(ف 1) یعنی کفار کو ڈھیل دے دی ہے کہ وہ سب کچھ کر دیکھیں ، ہر سرکشی اور تمرد کو آزما دیکھیں ایک وقت آئے گا جب کہ علم حق وصداقت بلند ہوگا ، اور اہل عناد وبغض حیران ہو کر رہ جائیں گے مگر یہ کب ہوگا ؟ اس کا صحیح صحیح اندازہ صرف اللہ کو ہے ، سب باتیں کسی کے اختیار میں ہیں ‘ وہی اسرار غیب سے آگاہ ہے وہ اپنی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اس لئے مسلم حق نواز کا فرض ہے کہ وہ تائید الہی کا صمیم قلب سے منتظر رہے ، اور مایوس نہ ہو ، کیونکہ خدا تمام حالات کو جانتا ہے اس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
122 اور آسمانوں اور زمین میں جتنی غیب کی باتیں اور پوشیدہ راز ہیں ان سب کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے اور تمام کاموں کا رجوع اسی کی طرف ہے اور جملہ امور کا مرجع وہی ہے اور سب کام اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے لہٰذا اے پیغمبر ! اسی کی عبادت کرتے رہیے اور اسی پر توکل اور بھروسہ رکھئے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ان کاموں سے آپ کا رب بیخبر اور غافل نہیں ہے یعنی آسمان و زمین کے تمام غیوب کا علم اللہ ہی کو ہے اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جانے والے ہیں جس میں نیک و بد سب ہی آگئے اس لئے آپ فکر نہ کیجئے اور جو کام آپ کے سپرد ہوا ہے اسکو کئے جائے یعنی خدا کی عبادت اور اسی پر بھروسہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
ف 1۔ یعنی ایک فائدہ نبی کے لیے دوسرا امت کے لیے ہے۔ فائدہ۔ حق صفت ذاتیہ ہے آیات قرآنیہ کی جو قصص پر مشتمل ہیں اور موعظت اور ذکری اس کی صفات اضافیہ ہیں جن میں ایک زاجر اور ایک آمر ہے۔
Read the full tafseer →پر دئہ غیب میں کیا ہے ؟ اللہ کو سب معلوم ہے سب کام اس کی طرف لوٹنے ہیں
۔ 152 پر دئہ غیب میں کیا چھپا ہے ؟ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور سارے کام اس کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ پھر ت میں اور تمہارے ساتھیوں کو کیا کرنا چاہئے ” بس اس کی عبادت میں لگے رہو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ “ معادین و مخالفین سے اپنے بدلے خود ہی لینے کے لئے نہ تیار رہو بلکہ حکم الٰہی کا انتظار کرو وہ تم کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور تمہارے مخالفین ومعاندین کو بھی اور دونوں فریقوں کے اعمال سے بھی وہ اچھی طرح واقف ہے۔ اس آیت پر سورة ہود کا اختتام ہو رہا ہے اور اس کے بعد ایک اور رسول یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ شروع کیا جارہا ہے لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–123
Difference: Blameworthy and Praiseworthy
When it was said in the fifth verse (118) - ` had your Lord willed, He would have made all the people a single community' - the sense is that had it been the will of Allah, He would have made all human beings accept Islam by force. All of them would have then become nothing but Muslims without any difference remaining between them. But, such are the dictates of His wisdom that, in this world, Allah Ta` ala does not compel anyone to do something. Instead, He has entrusted man with a kind of choice under which he could do whatever good or bad he wishes…
Read the full tafseer →117. God is cognizant of all that is being done by the two panics engaged in the encounter between belief and unbelief. It is simply inconceivable that there should be chaos and disorder in God's realm. For God's realm is not the realm of a negligent, heedless sovereign who is unaware of what is going on, However, since God is Wise and Forbearing, He does not resort to punishing people hastily. However, justice is eventually meted out and those who deserve punishment are ultimately punished. Thus, all those who are engaged in the effort to bring about reform, should feel reassured that their…
Read the full tafseer →