Explained with ayahs 1–3
تعارف قرآن بزبان اللہ الرحمن
سورة بقرہ کی تفسیر کے شروع میں حروف مقطعات کی بحث گزر چکی ہے۔ اس کتاب یعنی قرآن شریف کی یہ آیتیں بہت واضح کھلی ہوئی اور خوب صاف ہیں۔ مبہم چیزوں کی حقیقت کھول دیتی ہیں یہاں پر تلک معنی میں ھذہ کے ہے۔ چونکہ عربی زبان نہایت کامل اور مقصد کو پوری طرح واضح کردینے والی اور وسعت و کثرت والی ہے، اس لے یہ پاکیزہ تر کتاب اس بہترین زبان میں افضل تر رسول ﷺ ، رسول کے سردار فرشتے کی سفارت میں، تمام روئے زمین کے بہتر مقام میں، وقتوں میں بہترین وقت میں نازل ہو کر ہر ایک طرح کے کمال کو پہنچی تاکہ تم ہر طرح سوچ سمجھ سکو اور اسے جان لو ہم بہترین قصہ بیان فرماتے ہیں۔ صحابہ نے عرض کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة یُوْسُف 1
قرآن مصدر ہے قَرَأَ یَقرأ سے۔ اس کے اصل معنی ہیں ”پڑھنا“۔ مصدر کو کسی چیز کے لیے جب نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ اس شے کے اندر معنی مصدری بدرجہ کمال پایا جاتا ہے۔ مثلا جب کسی شخص کو ہم بہادر کہنے کے بجائے ”بہادری“ کہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے اندر شجاعت ایسی کمال درجہ کی پائی جاتی ہے کہ گویا وہ اور شجاعت ایک چیز ہیں۔ پس اس کتاب کا نام ”قرآن“ (پڑھنا) رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ عام و خاص سب کے پڑھنے کے لیے ہے اور بکثرت پڑھی جانے والی چیز ہے۔
سورة یُوْسُف 2
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کتاب مخصوص طور پر اہل عرب ہی کے لیے نازل کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
الرٰ اس کے معنی تو اللہ ہی کو معلوم ہیں) یہ آیتیں ہیں ایک واضح کتاب کی (جس کے الفاظ اور معانی اولیہ بہت صاف ہیں) ہم نے اس کو اتارا ہے قرآن عربی زبان کا تاکہ تم (اہل زبان ہونے کی وجہ سے دوسروں سے پہلے) سمجھو (پھر تمہارے واسطے سے دوسرے لوگ سمجھیں) ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے ایک بڑا عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پہلے آپ (اس قصہ سے) بالکل بیخبر تھے (کیونکہ نہ آپ نے کوئی کتاب پڑھی تھی نہ کسی معلم سے کچھ سیکھا تھا اور قصہ کی شہرت بھی ایسی نہیں تھی کہ عوام جانتے ہوں آغاز قصہ) وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ یوسف ؑ نے اپنے والد (یعقوب علیہ السلام) سے کہا کہ ابا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
تفسیر آیات 1۔ 2:۔ الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۔
سورة کا قرآنی نام : " الرا " یہ اس سورة کا قرانی نام ہے۔ یہی نام سورة یونس اور سورة ہود کا بھی ہے۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے معانی کی کھود کرید کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا شتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے۔ سو یہ چیز، جیسا کہ ہم پچھلی دونوں سورتوں کی تفسیر میں اشارہ کر آئے ہیں، ان سب سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں اصل موضوع بحث ایک ہی ہے البتہ انداز بحث اور انداز استدلال ہر ایک میں الگ الگ ہے۔
" کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2۔ 1 آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد، لوگوں کی ہدایت اور رہنمائی ہے اور یہ مقصد اس وقت حاصل ہوسکتا ہے جب وہ کتاب اس زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ سکیں، اس لئے ہر آسمانی کتاب اس قومی زبان میں نازل ہوئی، جس قوم کی ہدایت کے لئے اتاری گئی تھی۔ قرآن کریم کے مخاطب اول چونکہ عرب تھے، اس لئے قرآن بھی عربی زبان میں نازل ہوا علاوہ ازیں عربی زبان اپنی فصاحت و بلاغت اور ادائے معانی کے لحاظ سے دنیا کی بہترین زبان ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس اشرف الکتاب (قرآن مجید) کو اشرف اللغات (عربی) میں اشرف الرسل (حضرت محمد ﷺ پر اشرف الملائکہ (جبرائیل) کے ذریعے سے نازل فرمایا اور مکہ، جہاں اس کا آغاز ہوا، دنیا کا اشرف ترین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1: حضرت یعقوب ؑ کو معلوم تھا کہ یوسف ؑ نے جو خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر یہ ہے کہ یوسف ؑ کو اتنا اونچا مقام ملنے والا ہے کہ ان کے گیارہ بھائی اور ماں باپ کسی وقت ان کے مطیع اور فرماں بردار ہوجائیں گے، دوسری طرف صورت حال یہ تھی کہ حضرت یعقوب ؑ کے کل بارہ بیٹے تھے، ان میں سے دوبیٹے یعنی حضرت یوسف ؑ اور بنیامین ایک والدہ سے تھے اور باقی صاحب زادے ان کی دوسری اہلیہ سے تھے، حضرت یعقوب ؑ کو اندیشہ ہوا کہ دوسرے سوتیلے بھائیوں کو اس خواب کی وجہ سے حسد نہ ہو، اور شیطان کے بہکائے میں آکر یوسف ؑ کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر بیٹھیں۔
Read the full tafseer →سورة پر ایک نظر کا بقیہ حصہ :
فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (63) قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (64) وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ (65) قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى…
Read the full tafseer →7 جس کا من عند اللہ ہونا بالکل واضح ہے اور جن احکام و شرائع یا مواعظ و نصائح پر وہ مشتمل ہے نہایت روشن اور صاف ہیں۔
Read the full tafseer →الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ
یہ اس کتاب روشن کی آیات ہیں جو اپنا مدعا واضح طور پر بیان کرتی ہے اور کوئی ابہام باقی نہیں رہنے دیتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 قرآن کی عربی زبان اور روایت بالمعنی کی ضرورت :۔ قرآن ساری دنیا کے لیے ہدایت کی کتاب ہے۔ لیکن چونکہ اس کے اولین مخاطب اہل عرب تھے۔ اس لیے ضروری تھا کہ اسے عربی زبان میں نازل کیا جاتا۔ تاکہ پہلے عرب اس کے مطالب کو خوب سمجھیں، پھر دوسرے لوگوں تک ان لوگوں کی زبان میں اسے پہنچائیں۔ اہل عجم عربی زبان سیکھ جائیں اس سے ایک نہایت اہم مسئلہ کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے جو یہ ہے کہ روایت بالمعنی شرعی لحاظ سے قابل اعتبار چیز ہے اور روایت بالمعنی کے بغیر یہ ممکن ہی نہ تھا کہ قرآن کے مطالب کو دوسری زبانوں میں منتقل کیا جاسکتا۔ قرآن کی ایک صفت تو یہ ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے اور دوسری یہ کہ وہ اپنے سارے مطالب…
Read the full tafseer →1۔ یعنی ایسی کتاب کہ جس کی عملی تعلیمات میں کسی قسم کا خفاء وابہام نہیں عملی مسائل اس کے صاف سادہ اور متفق علیہ ہیں۔ الر۔ ابن عباس صحابی ؓ سے اس کے معنی انا اللہ اری منقول ہیں۔ یعنی میں اللہ دیکھتا ہوں۔ صرف حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا ہے اور (آیت) ” الر “۔ پر شروع سورة یونس میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 6
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم عالا ہے، الٓمرٰ ، اس سے اپنی مراد کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ آیتیں کتاب مبین حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب کی ہیں (آیات الکتاب) میں اضافت بمعنی مِنْ ہے ہم نے اس کتاب کو عربی زبان کا قرآن بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اے اہل مکہ تم اس اس کے معانی کو (پہلے) سمجھو، ہم نے اس قرآن کی وحی آپ کی طرف کرکے آپ کو ایک بہت عمدہ قصہ سنانا چاہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ آپ اس سے پہلے بالکل بیخبر تھے اور اِنْ مخففہ ہے ای واِنَّہ وہ وقت قابل ذکر ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ابا یعقوب (علیہ…
Read the full tafseer →ا ل ر تلک اٰیٰت الکتب المبین۔ الر۔ یہ آیتیں ہیں ایک کتاب واضح کی۔ تلک سے آیات قرآن کی طرف اشارہ ہے اور الکتاب کی طرف آیات کی اضافت بتقدیر مِنْ ہے (کتاب سے یعنی کتاب کی آیات) اور الکتاب سے مراد قرآن مجید ہے۔ یعنی یہ آیات اس قرآن کی جس کا اعجاز ظاہر ہے ‘ یا جس کے مضامین حلال حرام حدود اور احکام واضح ہیں۔ قتادہ نے کہا : وا اللہ ! اس کی برکت ‘ ہدایت اور رشد آگینی ہے۔ زجاج نے کہا : یہ حق کو باطل سے اور حرام کو حلال سے واضح کرنے والا ہے (اس قول پر مبین متعدی ہوگا اور قتادہ کے قول پر لازم ہوگا) ۔
بعض علماء کے نزدیک تلک سے آیات سورة کی طرف اشارہ ہے اور الکتاب سے مراد سورة ہے۔ یعنی یہ سورة کی آیات ہیں…
Read the full tafseer →(1) الر۔ میں اللہ ہوں جو کچھ تم کہہ رہے ہو اور کر رہے ہو میں سب کچھ دیکھ رہا ہوں اور اے محمد ﷺ جو کچھ تمہارے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں وہ میرا کلام ہے یا یہ کہ قسم ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے کھائی ہے۔
Read the full tafseer →الۗرٰ ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ :”الۗرٰ“ کے لیے دیکھیے سورة بقرہ کی پہلی آیت۔ ”الْمُبِيْنِ“ ”أَبَانَ یُبِیْنُ“ باب افعال سے اسم فاعل ہے، لازم بھی آتا ہے، جیسے : (اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ) [ البقرۃ : 168 ] ”بیشک وہ تمہارا کھلا (واضح) دشمن ہے۔“ متعدی بھی، یعنی بیان کرنے والا، واضح کرنے والا۔ ”الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ“ یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے، یا جس کا اللہ کا کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 1
الٓرٰ اس کے بارے میں گفتگو گزر چکی ہے۔ قول تعالیٰ : الٓرٰ ۔ تلک اٰیٰت الکتٰب المبین یہاں تقدیر عبارت : تلک اٰیٰت الکتٰب
ہے۔ یہ مبتدا اور خبر ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ الٓرٰ سورت کا نام ہے یعنی یہ سورت جس کا نام الٓرٰ ہے یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی، کتاب مبین سے مراد قرآن مبین ہے یعنی جس کا حلال، حرام، اس کی حدود، اس کے احکام، اس کی ہدایت اور اس کی برکت واضح ہے۔ ایک قول یہ ہے : یعنی یہ وہ آیات ہیں جن کا تمہارے ساتھ تورات میں وعدہ کیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وبن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” تلک آیت الکتب المبین “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان حروف کو بیان فرماتے ہیں جو عجمی لوگوں کی زبانوں سے گرجاتے ہیں (یعنی وہ عجمیوں کی لغت میں) اور وہ چھ حروف ہیں۔
Read the full tafseer →[الۗر :…] [ تِلْكَ : یہ ] [اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : واضح کتاب کی آیتیں ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد کی تعبیر اور ضروری تاکید
یہاں سے سورة یوسف شروع ہو رہی ہے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان فرمایا اور اس کو احسن القصص بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے آپ اس قصہ کو نہیں جانتے تھے۔ آپ کو اس کا علم صرف وحی کے ذریعہ ہوا ہے لوگوں کو آپ کا بتانا آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور قرآن مجید کے حق اور منزل من اللہ ہونے کی بھی ‘ تصدیق کرنے والے سنیں گے اور غور کریں گے تو یہ سمجھ لیں گے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا قرآن مجید کے اولین مخاطب اہل عرب ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
حقانیت قرآن حکیم و تمہید قصہ
قال اللہ تعالیٰ الر، تلک ایت الکتب المبین ...... الیٰ ۔۔۔۔ لمن الغفلین۔
(ربط) اس سورت کا آغاز سورة یونس کے آغاز سے مشابہ ہے قرآن کریم کے ذکر سے اس قصہ کو شروع فرمایا چناچہ فرماتے ہیں۔
الر۔ یہ متشابہات میں سے ہے۔ سوائے حق تعالیٰ کے کسی کو اس کی مراد معلوم نہیں۔ جمہور کے نزدیک راجح اور مختار قول یہی ہے اور بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ متشابہات۔ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے درمیان راز ہیں۔ سوائے رسول کے کسی کا مرتبہ نہیں کہ وہ ان اسرار کو سمجھ سکے۔ مفصل کلام سورة بقرہ میں گزر چکا ہے یہ آیتیں ایسی کتاب کی ہیں جو واضح اور روشن ہے۔ حق اور باطل کے فرق کو خوب واضح کرتی ہے ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ یہاں سے ” لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ “ تک تمہید ہے۔ ” اَلْکِتَاب “ سے قرا ان مراد ہے یا یہ سورت جیسا کہ ارشاد ہے ” صُحُفًا مُّکَرَّمَۃً فِیھَا کُتُبٌ قَیِّمَۃً “ (البینہ) ۔ یہاں ” کُتُبٌ“ صحفیوں کے حصوں کو فرمایا۔ ” اَلْمُبِیْن “: یہ اشارہ ہے کہ اس سورت میں دلیل نقلی ذکر کی جائے گی۔ ” قُرْاٰنًا “: حال مؤطئہ ہے ” عَرَبِیًّا “ کے لیے یہ حال ہے اور ” عَرَبِیًّا “ اس کی صفت ہے (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
نام اور کوائف
اس سورة کا نام سورة یوسف ہے۔ اس پوری سورة میں صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، لہٰذا اس کا نام آپ کے نام پر سورة یوسف رکھا گیا ہے۔ پورے قران پاک میں دو سورتیں ایسی ہیں جن میں مکمل طور پر صرف ایک ایک نبی کا واقعہ بیان ہوا ہے ایک سورة یوسف ہے اور دوسری سورة نوح۔
سورۃ یوسف مکی دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو گیارہ آیات اور بارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1776 الفاظ اور 7996 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی بنیادی حقائق توحید ، رسالت قیامت ، قرآن کریم کی حقانیت ، انبیاء کی تبلیغ ، قوموں کی نافرمانی اور پھر…
Read the full tafseer →الۗرٰ 0 ۣ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ 1 ۣ
كتب
والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ،
( ک ت ب ) الکتب ۔
الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب…
Read the full tafseer →ترکیب : قرآانا مصدر موضع مفعول میں۔ یہ حال ہے ضمیر انزلنا و مفعول سے عرب یا اس کی صفت۔ احسن منصوب ہے مفعول نقص کا ہو کر بما مصدریہ ہذا مفعول ہے اوحینا کا قرآن نعت ہے یا بیان ہے۔ و ان کنت مخففہ ہے مثقلہ سے فیکیدوا جواب نہی۔
تفسیر : مفسرین کہتے ہیں کہ اس سورة کے نازل ہونے کا سبب یہ ہے کہ مکہ کے کفار سے یہود نے یہ کہلا بھیجا کہ محمد ﷺ جو عاد وثمود کے حالات بیان کرتا ہے سو یہ کچھ مشکل بات نہیں عرب کے مشہور واقعات میں سے ہیں ہاں اس سے یہ پوچھو کہ یعقوب کی اولاد مصر میں کیوں گئی تھی اور یوسف ( علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں میں کیا معاملہ گزرا اور یوسف کیونکر مصر میں پہنچا ؟ یہ باتیں بجز مورخین اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
الٓرٰ قف تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ اِنَّآ اَنْزَلْنٰـہُ قُرْئٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔
(سورۃ یوسف : 1، 2)
(الف، لام، را۔ یہ آیتیں ہیں واضح کتاب کی۔ ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتاراتا کہ تم سمجھو۔ )
الٓرٰ : حروف مقطعات ہیں اور حروف مقطعات پر ہم سورة البقرہ کے آغاز میں بحث کرچکے ہیں۔
کتاب مبین کا مفہوم
پیشِ نظر آیات ایک ایسی کتاب کی ہیں جو اپنے بیان اور استدلال میں سورج کی طرح روشن اور بدیہیات کی طرح واضح ہیں۔ اس کی ہر بات اپنے اندر روشنی کا اتنا سامان رکھتی ہے کہ باہر سے اسے ثبوت کی ضرورت نہیں۔ پورا قرآن پاک آپ کے سامنے ہے۔ کہیں سے بھی نکال کے دیکھ لیجیے، قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن
اآرٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کے بارے میں عرض کیا جاچکا ہے کہ ان کا حقیقی معنیٰ اور مفہوم اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ عرب دانشوروں کا طریقہ تھا کہ شاعر اور ادیب اپنا کلام پیش کرنے سے پہلے ” طرح مصرعہ کے طور پر “ چند الفاظ کہتے جس کا مفہوم بیان کرنا ضروری خیال نہیں کرتے تھے۔ اسی روایت کے پیش نظر صحابہ ؓ نے اس کا معنیٰ جاننے اور اس کا مفہوم سمجھنے کے لیے نبی معظم ﷺ سے استفسار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی نبی معظم ﷺ نے حروف مقطعات کا مفہوم بتلانے کی ضرورت محسوس فرمائی۔ کیونکہ اس کا دین کی تفہیم اور عمل کے ساتھ کوئی تعلق نہ تھا۔ ورنہ آپ اس کا مفہوم ضرور بیان فرماتے۔ ارشاد ہوتا…
Read the full tafseer →عظمت قرآن :
1: الٓرٰ ۔ اللہ اعلم بمرادہٖ ۔ تِلْکَ ٰایٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ (یہ واضح کتاب کی آیات ہیں) تلک سے اس سورت کی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ سے سورت مراد ہے۔ یعنی یہ آیات وہ ہیں جو آپ کی طرف اس سورت میں اتاری گئیں۔ سورت کی آیات کا معاملہ اعجاز کے لحاظ سے غالب ہے۔ نمبر 2۔ یہ آیات اس پر اعجاز کو ظاہر کرتی ہیں جو ان میں غورو تدبر کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ انسانوں کی طرف سے نہیں نمبر 3۔ یہ ایسی واضح آیات ہیں کہ جنکے معانی اہل عرب پر مشتبہ نہیں کیونکہ یہ انہی کی زبان میں ہے۔ نمبر 4۔ ان آیات میں یہود کے اس سوال کو کھولا گیا جو انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے…
Read the full tafseer →1۔” الر تلک آیات الکتاب المبین “ یعنی اس کا حلال و حرام اور حدود و احکام واضح ہیں ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں ظاہر ہے اللہ کی قسم ! اس کی برکت اور ہدایت ۔ پس یہ ” بان “ بمعنی ظھر اور زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا حق باطل سے حلال حرام سے واضح کیا گیا ہے۔ پس یہ ’ ابان “ سے ہے بمعنی اظھر۔
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں۔ اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے (المبین سے) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح وتبیین ہے۔
Read the full tafseer →1 ۔ آیات قرآنی کی عظمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی کتاب عظیم کی۔ یعنی یہ کھول کر بیان کرنے والی ہے عقائد و احکام، اخلاق و معاملات اور دنیا و آخرت کی ہر اس چیز کو جس کی ضرورت انسان کی راہ حق پر چلنے کے ضمن میں پیش آسکتی ہے۔ سو ایسی تمام چیزوں کو یہ کتاب حکیم پوری صراحت و وضاحت سے اور کھول کر بیان کرنے والی ہے۔ اور " مبین " کا لفظ حسب تصریح ائمہ لغت و تفسیر لازمی معنی میں بھی آتا ہے اور متعدی میں بھی۔ یعنی اس کے معنی ظاہر و واضح ہونے کے بھی آتے ہیں اور ظاہر و واضح کردینے کے بھی۔ اور قرآن حکیم میں یہ دونوں صفتیں بدرجہ اتم موجود ہیں کہ اس کے مطالب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
احسن القصص
تشریح : ان آیات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے قصے کو احسن القصص، یعنی سب سے بہترین قصہ کہا گیا ہے۔ الٓر یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ فرمایا کہ یہ آیات یعنی نشانیاں ایک ایسی نایاب کتاب میں بیان کی گئی ہیں جو انتہائی جامع، مکمل اور سچی کتاب ہے۔ کیونکہ یہ جزیرۃ العرب میں نازل ہوئی اس لیے انہی کی زبانی یعنی عربی زبان میں نازل کی گئی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ اس کے مضامین، مفہوم اور احکامات کو اتنی اچھی طرح سمجھ سکیں کہ دوسرے غیر عربی لوگوں کو بغیر کسی شک و شبہ کے اصل مفہوم سمجھا سکیں اور کسی طرح کی غلطی کا امکان نہ رہے۔ اور پھر بڑی وضاحت سے اس قصہ میں اہل عرب کے مشرکین کے اس سوال کا جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
آیات 1 تا 6
اسرار و معارف
الر۔ توحروف مقطعات ہیں اور ان کے بارے پہلے بھی لکھاجاچکا ہے کہ ان کا مفہوم اللہ کو پتہ ہے یا اس کے رسول ﷺ کو یا پھر راسخین فی العلم جنہیں اللہ بتادے ۔ ہاں ! تلاوت سب مسلمانوں کے لئے ہے اور ان سے مرتب ہونے والے فوائد اس سے حاصل ہوجاتے ہیں ۔
یہ آیتیں ایک ایسی کتاب کی ہیں جو بات کو کھول دیتی ہے واضح طور پر بیان کردیتی ہے کہ اس میں کوئی ابہام نہیں رہتا اور اس کتاب عزیز کے پہلے پہلے مخاطب چونکہ عرب تھے اور عرب اہل زبان بھی تھے تو فرمایا کہ اللہ تو زبانوں کی قیود سے بالاتر ہے۔
زبانوں میں تقدس
مگر اس نے اپنے ارشادات کو عربی زبان میں نازل فرما کر عرب کے اہل زبان طبقہ کو جسے…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ کھلی کتاب یعنی جس کا انداز بیان واضح اور ہر ایک کی سمجھ میں آنے والا ہے یا جس کا خدائی کلام ہونا بالکل عیاں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔ (روح) ۔
Read the full tafseer →(12:1) الرا۔ الف لام را۔ حرف مقطعات ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (2:1)
تلک۔ اسم اشارہ بعید ہے واحد مؤنث۔ اصل میں اسم اشارہتی ہے لام اس پر زیادہ کیا گیا ہے اور ک حرف خطاب ہے۔ جس کے حسب احوال مخاطب تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیہ میں گردان ہوتی رہتی ہے۔ یہاں مراد وہ آیات ہیں جو اس سورة میں ہیں۔
الکتب المبین۔ موصوف صفت۔ واضح کتاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3
تلک (یہ۔ (اسم اشارہ) ۔ مبین (واضح۔ روشن) قران (بہت پڑھا جانے والا ) لعل (شاید۔ توقع) نقص (ہم بیان کرتے ہیں) احسن القصص (قصوں میں بہترین) اوحینا (ہم نے وحی بھیجی) ان کنت (اگرچہ تو تھا) الغفلین (غافل) ۔ بیخبر
تشریح :- آیت نمبر 1 تا 3
سورة یوسف بارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اس میں عبرت و نصیحت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کے لاتعداد پہلوؤں کے ساتھ ان کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف ، ان کے والدین اور رشتہ دار فلسطین سے مصر کیسے پہنچے اہل عرب اس سے ناواقف تھے۔ خود نبی کریم ﷺ نے بھی کبھی اس واقعہ کو بیان نہیں فرمایا۔ کفار مکہ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کے موقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
قصہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے خواب کا ذکر
سورۃ یوسف مکی ہے الر حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کا ذکر اول سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی تعریف بیان فرمائی کہ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زبان عربی میں نازل فرمایا ہے۔ تاکہ تم لوگ عرب کے باشندے اس کو اچھی طرح سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصہ یوسف (علیہ السلام) کو احسن القصص فرمایا کیونکہ اس قصہ میں عبرت اور حکمت اور عجیب و غریب فائدے ہیں، جو دین و دنیا میں انسان کے کار آمد ہیں مثلا عورتوں کا مکرو فریب اور دشمن کی ایذا رسانی پر صبر اور خوش اسلوبی سے درگزر کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] قرآن کے اصل معنی ہیں پڑھنا۔ یہ مصدر ہے قَرَأَ یَقْرَأُ سے۔ مصدر کو جب نام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مصدری معنی میں بدرجہء کمال کا مفہوم پیدا ہوتا ہے۔ پس کتاب کا نام قرآن رکھنے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بکثرت پڑھی جانے والی کتاب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
بہترین واقعہ :
(ف 1) سورة یوسف کا نزول اس وقت ہواجب حضور ﷺ مکہ چھوڑ رہے تھے ، اور مدینہ کی جانب ہجرت کا ارادہ تھا ، غرض یہ ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے جمال ظاہری کو رشک وحسد کی آنکھوں سے دیکھا اور بھائی کو کنوئیں میں پھینک دیا ، اسی طرح یہ برادران قوم حضور ﷺ کے جمال روحانی کی تجلیات کو برداشت نہ کرسکے ، اور حضور ﷺ غار ثور میں پناہ گزیں ہوئے پھر جس طرح یوسف (علیہ السلام) ارض مصر میں حکومت اعلی کے درجہ تک پہنچے اسی طرح حضور کو مدینہ کے لوگوں نے آنکھوں پر بٹھایا ، اس سورة کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ہجرت یوسف (علیہ السلام) کی سی ہجرت ہے انشاء اللہ آپ مدینے میں یوسف (علیہ السلام) کی طرف…
Read the full tafseer →1 الر قف یہ سورت ایک واضح کتاب کی چند آیتیں ہیں یعنی جو احکام و نصائح اور جو دلائل توحید اس میں مذکور ہیں وہ صاف اور واضح ہیں یا یہ کہ اس کا کلام اللہ ہونا واضح ہے جس میں شکی کی گنجائش نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →۔ 1 قرآن کریم کی انتیس صورتیں ہی جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے اور اس کی تفصیل ہم نے سورة البقرہ کی آیت ایک میں کردی ہے اس لئے قارئین کو پیچھے مراجعت کرنی چاہئے۔ حرف مقطعات کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیات کریمات ایسی کتاب کی ہیں جس کی علمی تعلیمات میں کسی قسم کا اخفاء اورا بہام نہیں۔ عملی مسائل اس کے صاف ، سادہ اور متفق علیہ ہیں جن پر کوئی شخص بھی خواہ وہ کسی ملت سے تعلق رکھتا ہو من حیثث العقل اور بصیرت کے کوئی سقم نہیں پائے گا بلکہ اس کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں۔
Read the full tafseer →Commentary
With the exception of four verses, Surah Yusuf is wholly a Makki Surah. In this Surah, the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has been described with continuity and order. Then, the story of Sayyidna Yusuf appears in this Surah alone. It has not been repeated anywhere else in the whole Quran as such (with the exception of Surah Al-An’ am - 6:84 - and Surah Al-Mu'min or Ghafir - 40:34 - where only the name of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) has been mentioned as a Messenger of Allah, in appropriate context). This is particular with the story of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) otherwise…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1. The Arabic word Quran“to read”is originally the infinitive form of the verb qara. When the infinitive form of a verb in Arabic is used as a name, it implies that that thing or person possesses the characteristics in their perfection. This Book has been named Quran to indicate that it is meant to be read by all and sundry and is to be read often and over and over again.
2. This does not mean that this Book has been sent down exclusively for the Arabs. What it means is only this: Of all the people, O Arabs, you should understand the excellence of the Quran, which is a sure proof of its being…
Read the full tafseer →