12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الٓر قف۔ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وبن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” تلک آیت الکتب المبین “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان حروف کو بیان فرماتے ہیں جو عجمی لوگوں کی زبانوں سے گرجاتے ہیں (یعنی وہ عجمیوں کی لغت میں) اور وہ چھ حروف ہیں۔
Ayah 12:2

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس کو اتارا قرآن عربی تاکہ تم سمجھو۔

1:۔ الطبرانی وابو الشیخ والحاکم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عرب کے لوگوں سے محبت کرتا ہوں۔ تین چیزوں کی وجہ سے میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور وہ جنت والوں کی زبان ہوگی۔ 2:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں عربی ہوں قرآن عربی ہے اور جنت والوں کی زبان بھی عربی ہوگی۔ 3:۔ الحاکم (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” قرءنا عربیا “ کی تلاوت فرمائی پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسماعیل (علیہ السلام) کو یہ عربی زبان الحام کی گئی ہے (کہ ان کے دل میں یہ کلام ڈال دیا گیا ) 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا اور وہ ان کا کلام ہے۔
Ayah 12:3

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے سب سے اچھا قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے پہلے آپ محض بیخبر تھے

1:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم پر کوئی قصہ بیان کریں یہ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت) ” نحن نقص علیک احسن القصص “۔ 2:۔ اسحاق بن زاہد والبزار وابویعلی وابن منذر وابن ابی حاتم وابن حبان وابو الشیخ والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ پر قرآن اتارا گیا آپ لوگوں پر ایک زمانہ اس کی تلاوت کرتے رہے۔ انہوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہم پر کوئی قصہ بیان فرمائیے تو اللہ تعالیٰ فرمایا (آیت) ” الٓر تلک ایت الکتب المبین (1) ‘ ‘۔ یعنی وہ سورة نازل فرمائی پھر آپ نے ان سے ایک زمانہ کی تلاوت کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” الم یان للذین امنوا ان تخشع قلوبہم لذکر اللہ “ (الحدید آیت 16) (کیا ابھی وقت نہیں آیا ایمان والوں کے لئے کہ ان کے دل اللہ کی یاد کے لئے جھک گئے) 3:۔ ابن منذر (رح) نے عون بن عبداللہ کے راستے سے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم پر کوئی قصہ بیان کیجئے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” نحن نقص علیک احسن القصص “ 4:۔ ابن جریر (رح) نے عون بن عبداللہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب اکتا گئے اور انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم کو (سابقہ انبیاء کے واقعات) بیان فرمائیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت ) ” اللہ نزل احسن الحدیث “ پھر دوسری مرتبہ اکتا گئے تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم کو دوسری باتیں (یعنی واقعات) بیان فرمائیں۔ قرآن کے علاوہ اور وہ اس سے مراد لے رہے ہیں (پہلی قوموں کے) قصے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” الٓر تلک ایت الکتب المبین “ یعنی یہ سورة پس صحابہ کرام نے ارادہ کیا کسی بات کا تو (اللہ تعالیٰ ) نے ان کو بہترین بات پر رہنمائی فرمائی۔ ان لوگوں نے قصوں کا ارادہ کیا اور (اللہ تعالیٰ نے) ان کو بہترین قصہ کی طرف رہنمائی فرمائی۔ 5:۔ ابویعلی ابن منذر وابن ابی حاتم ونصر المقدسی نے الحجۃ میں والضیاد نے المختارہ میں خالد بن عرفظہ (رح) سے روایت کیا کہ میں حضرت عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ایک آدمی عبدالقیس میں سے ان کے پاس آیا عمر ؓ نے اس سے فرمایا تو فلاں المعبدی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! عمر ؓ نے اس کو نیزہ کے ساتھ مارا جو ان کے پاس تھا اس آدمی نے کہا اے امیرالمومنین (مجھے کیا ہے) فرمایا بیٹھ جاوہ بیٹھ گیا تو حضرت عمر ؓ نے اس کے سامنے یہ آیت پڑھی (آیت) ” بسم اللہ الرحمن الرحیم الٓر تلک ایت الکتب المبین (1) سے لے کر ” لمن الغفلین “ تک تین مرتبہ پڑھی اور اس کو تین مرتبہ مارا اس آدمی نے حضرت عمر ؓ سے سزا کی وجہ پوچھی عمر ؓ نے فرمایا تو وہ ہے جس نے دانیال کی کتاب نقل کی ہے اس نے کہا مجھے حکم فرمائیے میں اس کی تابعداری کروں گا فرمایا چلا جا اور اس کو گرم پانی اور اون سے مٹا دے۔ پھر نہ تو خود اس کو پڑھ اور نہ کسی دوسرے کو پڑھا اگر تیری طرف کبھی مجھے خبر ملی کہ تو نے اس کو پڑھا ہے یا کسی دوسرے کو پڑھائی ہے تو میں تجھ کو سخت سزا دوں گا پھر فرمایا بیٹھ جا اور ان کے آگے بیٹھ گیا عمر ؓ نے فرمایا میں چلتا ہوں اور میں نے اہل کتاب میں سے ایک کتاب نقل کی تھی اس کو ایک چمڑے میں لے آیا رسول اللہ ﷺ مجھ سے فرمایا اے عمر تیرے ہاتھ میں کیا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ ایک کتاب ہے میں اہل کتاب سے لکھ کر لایا ہوں تاکہ ہم اپنے علم میں اضافہ کریں رسول اللہ ﷺ (یہ سن کر) غصے ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے رخسار مبارک سرخ ہوگئے پھر نماز کی طرف بلایا گیا یعنی اذان دی گئی انصار نے کہا تمہارے نبی کو غصہ دلایا ہے ہتھیاروں نے وہ لوگ آئے یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے منبر کو گھیر لیا آپ نے فرمایا اے لوگو کہ میں جوامع الکلم اور اس کی خواتیم کو دیا گیا ہوں اور مجھے بہت مختصر الفاظ میں ایک طویل کلام کا ملکہ عطا گیا ہے۔ اور میں تمہارے پاس صاف اور شفاف شریعت لے کر آیا ہوں۔ پس تم بےپرواہی میں ہلاکت کے نذر نہ کرو۔ اور تم کو بیوقوف اور بےپرواہ لوگ (یعنی یہود ونصاری) دھوکہ میں نہ ڈالیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے کھڑے ہو کر کہا میں راضی ہوں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور آپ کے رسول ہونے پر پھر رسول اللہ ﷺ منبر سے اترآئے۔ 6:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں وابن الضریس رحمہم اللہ نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی کوفہ میں تھا۔ جو دانیال کی کتاب کو تلاش کرتا تھا اس وجہ سے حضرت عمر ؓ نے اس کو سزا دی حضرت عمر بن خطاب ؓ نے اسے خط کے ذریعہ حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب ہو آدمی حضرت عمر کے پاس آیا تو آپ نے درہ اٹھالیا اور اس کو سزا دی پھر اس پر (یہ آیات) تلاوت فرمائی یعنی (آیت) ” الٓر تلک آیت الکتب المبین “ یہاں تک کہ ” لمن الغفلین “ تک پہنچے۔ اس نے آدمی سے کہا کہ میں نے آپ کی مراد سمجھ گیا میں نے عرض کیا اے امیرالمومنین مجھ کو چھوڑ دیجئے اللہ کی قسم میں ساری کتابیں جلا دوں گا تو آپ نے اس کو چھوڑ دیا۔ 7:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” نحن نقص علیک احسن القصص “ کے بارے میں فرمیا ا کہ ہم تم کو گزشتہ کتابوں اور گزشتہ امتوں کے حالات و واقعات میں سے بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ (پہلی) امتوں کے بارے میں فرمایا (آیت) ” وان کنت من قبلہ “ یعنی اس قرآن سے پہلے (آیت) ” لمن الغفلین “ یعنی تم غافل تھے۔ 8:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” نحن نقص علیک احسن القصص “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد قرآن ہے۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جبکہ یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ اے میرے ابا میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند اور سورج مجھے سجدہ کئے ہوئے ہیں

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب : 1:۔ احمد والبخاری رحمہما اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابن کریم ابن کریم ابن کریم (یعنی یوسف بن یعقوب بن اسحاق ابن ابراہیم علیہم الصلاۃ والسلام ہیں۔ 2:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والحاکم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انی رایت احد عشر کوکبا “ کے بارے میں فرمایا کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں۔ 3:۔ سعید بن نصر والبزار ابویعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والعقیلی وابن حبان نے الضعفاء میں وابوالشیخ اور حاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی دونوں نے دلائل النبوۃ میں جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک مالی یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اس نے کہا اے محمد ﷺ مجھے ان ستاروں کے بارے میں بتائیے جن کو یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا تھا کہ وہ ان کو سجدہ کررہے ہیں انکے کیا نام تھے نبی کریم ﷺ خاموش رہے اور کوئی جواب مرحمت نہ فرمایا جبرائیل نازل ہوئی اور ان کو ان کے نام بتائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو مومن ہر جائے گا اگر میں تجھ کو ان کے نام بتادوں ؟ اس نے کہا ہاں آپ نے (نام بتائیے) حرثان، طارق، زیال، ذوالکفتان قابس، دثان، ھوادن، فلیق، مصیح، ضروح، فریخ، ضیاء اور نور۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آسمان کے افق میں ان ستاروں کو اپنے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے جب یوسف (علیہ السلام) نے یہ قصہ (اپنے والد) یعقوب کو سنایا تو انہوں نے فرمایا یہ منتشر امر ہے اللہ تعالیٰ اسے بعد میں جمع کردے گا یہودی نے کہا اللہ کی قسم ! بلاشبہ ان کے یہی نام ہیں۔ 4:۔ ابن منذررحمۃ اللہ علیہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” احد عشر کوکبا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اور سورج ہے پھر فرمایا اس کی ماں ہے اور چاند سے فرمایا انکا باپ ہے اور اس کی والدہ راحیل تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انکی والدہ کو حسن کا تہائی حصہ عطا فرمایا۔ 5:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” احد عشر کوکبا والشمس والقمر “ کے بارے میں فرمایا کہ ستاروں سے اس کے بھائی مراد ہیں اور سورج اور چاند سے اس کے والدین مراد ہیں۔ 6:۔ ابن جریر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” انی رایت احد عشر کوکبا “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے دیکھا اپنے والد کو اور اپنے بھائیوں کو کہ وہ اس کو سجدہ کررہے ہیں۔ 7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ یہ آپ کے بھائی تھے اور یہ انبیاء (علیہ السلام) تھے نہ کہ اس کے بھائی اس کو سجدہ کریں یہاں تک کہ اس کے والدین نے اس کو سجدہ کیا جب آپ ان کے پاس (مصر میں) پہنچے تھے۔ 8:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کا خواب لیلۃ القدر میں واقع ہوا تھا۔
Ayahs 12:5–6

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

ان کے والد نے کہا کہ اے میرے چھوٹے بیٹے تم کو اپنا خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا ورنہ وہ تمہارے لئے کوئی تدبیر کریں، بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور تمہارا رب اسی طرح تمہیں منتخب فرما لے گا، اور تمہیں خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا اور وہ تم پر اور یعقوب کی آل پر اپنی نعمت پوری فرما دے گا، جیسا کہ اس نے اپنی نعمت اس سے پہلے تمہارے دونوں دادوں ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) پر پوری فرما دی، بیشک آپ کا رب جاننے والا ہے حکمت والا ہے

1:۔ ابن جریر وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکذلک یجتبیک ربک “ یعنی تجھ کو چن لیا ہے (تمہارے رب نے) 2:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے خواب کی تعیبر۔ 3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ میں تاویل احادیث سے مراد ہے علم اور حلم کی تاویل (یعنی حقیقت) اور یوسف ان دونوں لوگوں کو خوابوں کی تعبیر بتاتے تھے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” کما اتمھا علی ابویک من قبل ابراہیم واسحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی نعمت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہ تھی ان کو آگ سے نجات عطا فرمائی اور اسحاق (علیہ السلام) پر یہ تھی کہ ان کو ذبح سے نجات دی۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

بلاشبہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں سوال کرنے والوں کے لئے دلائل ہیں

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت “ میں آیات سے مراد خواب کی تعبیر ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت للسآئلین “ کے بارے میں فرمایا کہ جو اس کے بارے میں سوال کرتے تو وہ اسی طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے تم پر قصہ بیان کیا اور تم کو اس کی خبر دی۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” لقد کان فی یوسف واخوتہ ایت للسآئلین “ کے بارے میں فرمایا کہ جو شخص یوسف اور اس کے بھائیوں کے بارے میں سوال کرے تو یہ ان کی خبر اور واقعہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دینا : 4:۔ ابن جریر (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ محمد ﷺ نے جب اپنی قوم کی بغاوت اور آپ ﷺ کو نبوت کی عزت ملنے پر ان کے حسد کو دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دینے اور یوسف (علیہ السلام) کی اقتداء کرنے کے لئے آپ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ان کے بھائیوں کی بغاوت کا ذکر فرمایا اور بھائیوں نے جو حسد کیا اس کو بیان فرمایا۔
Ayahs 12:8–9

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جبکہ ان کے بھائیوں نے یوں کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم سب مل کر پوری ایک جماعت ہیں، بلاشبہ ہمارے والد کھلی غلطی پر ہیں

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو قتل کردو یا اسے کسی زمین میں ڈال دو ، ایسا کرنے سے تمہارے والد کا تمہاری طرف ہوجائے گا اور اس کے بعد تم صلاح والے بن جاؤ گے

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ یعقوب (علیہ السلام) شام میں رہتے تھے اور آپ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی بنیامین کا خصوصی خیال رکھتے تھے ان کے دوسرے بھائی اس پر حسد کرنے لگے جب انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی اس محبت کو دیکھا اور یوسف (علیہ السلام) نے نیند میں ایک خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے سورج اور چاند اس کو سجدہ کررہے ہیں یوسف نے اپنے والد کو یہ خواب سنایا تو (ان کے والد) یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” یبنی لا تقصص رء یاک علی اخوتک فیکیدوالک کیدا “ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو بھی اس خواب کی خبر پہنچی اور وہ اس سے حسد کرنے لگے اور کہنے لگے (آیت) ” لیوسف واخوہ “ یعنی بنیامین (آیت) ” احب الی ابینا منا ونحن عصبۃ “ اور وہ دس بھائی تھے کہنے لگے۔ (آیت) ” ان ابانا لفی ضلل مبین “ کہ (ہمارے والد) ہمارے معاملے میں کھلی غلطی میں ہیں۔ (آیت) ” اقتلوا یوسف اواطرحوہ ارضا یخل لکم وجہ ابیکم وتکونوا من بعدہ قوما صلحین “ کہنے لگے جو کچھ ہم اس (یوسف) کے ساتھ کریں اس سے توبہ کرلیں گے ( اور نیک بن جائیں) (آیت) ” قال قآئل منہم “ اور وہ یہودا تھا (آیت ) ” لاتقتلوا یوسف والقوہ فی غیبت الجب یلتقطہ بعض السیارۃ ان کنتم فعلین “ جب یہ لوگ اپنے اس پروگرام پر متفق ہوگئے تو اپنے والد کے پاس آئے اور کہنے لگے۔ (آیت) ” یابانا مالک لا تامنا علی یوسف “ والد نے فرمایا میں اس کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ کیونکہ (آیت) ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب وانتم عنہ غفلون (13) قالوا لئن اکلہ الذئب ونحن عصبۃ انا اذا لخسرون (14) “ اس کو ہمارے ساتھ بھیج دے آخر یہ لوگ بڑے اصرار سے یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے تو آپ پر عزت و کرامت کے آثار تھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) جب اس کو جنگل کی طرف لے گئے تو انہوں نے ان کے لئے دشمنی کو ظاہر کیا اور اس کو مارنا شروع کیا آپ جس کا بھی نام لیتے تو وہ بھی اس کو مارنے لگتا ان میں سے کوئی بھی رحم کرنے والا دکھائی نہ دیا، سب نے آپ کو اتنا مارا قریب تھا کہ اس کو قتل کردیتے آپ چیخ کر آوازیں لگاتے رہے کہ اے میرے باپ اے یعقوب کاش آپ جان لیتے کہ تیرے بیٹوں نے (میرے ساتھ) کیا کیا جب وہ اس کو قتل کرنے کے قریب ہوگئے تو یہودا نے کہا کیا تم نے مجھ سے پکا وعدہ نہیں کیا تھا کہ تم اس کو قتل نہیں کروگے۔ تو یہ لوگ اس کو ایک کنویں کی طرف لے کر چلے تاکہ اس کو اس میں ڈال دیں پھر انہوں نے آپ کو کنویں میں ڈالنا شروع کیا تو وہ کنویں کے منڈیر سے چمٹ گئے انہوں نے اس کے ہاتھ کو باندھا اور اس کا کرتہ اتارا تو یوسف (علیہ السلام) نے فریاد کی اے میرے بھائیو ! میری قمیض مجھ کو واپس کردو تاکہ میں اس کے ذریعہ اپنے آپ کو کنویں میں چھپالوں۔ انہوں نے کہا بلاتو گیارہ ستاروں کو سورج کو چاند کو تاکہ وہ تیری مدد کریں انہوں نے فریاد نہیں سنی اور آپ کو کنویں میں پھینک دیا۔ یہاں تک کہ جب آپ کنویں کے درمیان میں پہنچے تو انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا آپ کی موت کا ارادہ کرتے ہوئے کنویں میں پانی تھا آپ اس میں گرگئے مگر کوئی تکلیف نہ پہنچی ادھر وہ کنویں میں ایک چٹان کی طرف آئے اور اس پر پناہ لی اور اس کے اوپر کھڑے ہوگئے پھر آپ نے رونا شروع کیا اور اپنے بھائیوں کو پکارنا شروع کیا اور انہوں نے گمان کیا کہ شاید ان کو ترس آجائے اور وہ میری بات کا جواب دیں (یعنی میری مدد کریں) لیکن انہوں نے (الٹا) پتھر مارنے کا ارادہ کیا تو یہودا کھڑا ہوگیا اور ان کو منع کیا اور کہا کہ میں نے تم سے پکا وعدہ نہیں لیا تھا۔ کہ تم اس کو قتل نہ کروگے۔ یہودا آپکے پاس کھانا لے آتا تھا پھر وہ صبح کے بعد اپنے والد کی طرف لوٹے تو انہوں نے بکری کا ایک بچہ لیا اس کو ذبح کیا اور اس کے خون کو یوسف کی قمیض پر مل دیا۔ پھر اپنے والد کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے آئے تو انہوں نے ان کی آوازیں کو سنا تو گھبرائے اور فرمایا اے میرے بیٹو ! تم کو کیا ہوا ؟ کیا تمہاری بکریوں میں کوئی مصیبت پہنچ گئی۔ کہا نہیں پھر پوچھا یوسف کا کیا ہوا۔ (آیت) قالوا یابانا انا ذھبنا نستبق وترکنا یوسف عند متاعنا فاکلہ الذئب، وما انت بمومن لنا “ یعنی (اگرچہ) تو ہماری بات کو سچا نہیں مانے گا (آیت) ” ولو کنا صدقین “ اگرچہ ہم سچے ہیں یعقوب (علیہ السلام) رو پڑے اور بلند آواز میں چیخ ماری پھر پوچھا قمیض کہاں ہے۔ پھر قمیض لے کر آئے اس پر جھوٹا خون تھا انہوں نے قمیض کو لیا اور اس کو اپنے چہرہ پر ڈال دیا پھر روئے یہاں تک کہ ان کا چہرہ قمیض کے خون سے رنگ گیا پھر فرمایا اے میرے بیٹو یہ بھیڑیا کتنا مہربان تھا کہ اس نے گوشت کو کھایا اور اس کی قمیض کو نہیں پھاڑا۔ ایک قافلہ آیا انہوں نے پانی لینے کے لئے اپنے ڈول کو نیچے لٹکایا تو یوسف اس سے چمٹ گئے اور باہر نکل آئے جب ڈول والے نے ان کو دیکھا تو اپنے ساتھیوں میں سے ایکآدمی کو بلایا جس کا نام بشری تھا اس نے کہا اے بشری یہ تو لڑکا ہے۔ یوسف کے بھائیوں نے اس آواز کو سن لیا اور آکر کہنے لگے یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ اور یوسف (علیہ السلام) سے اپنی زبان میں بات کی اور کہا اگر تو نے ہمارا غلام ہونے سے انکار کیا تو ہم تجھ کو قتل کردیں گے۔ کیا تیرا گمان ہے کہ ہم تجھ کو یعقوب (علیہ السلام) کے پاس واپس لے جائیں گے۔ حالانکہ ہم اس کو بتا چکے ہیں کہ بھیڑئیے نے تجھ کو کھالیا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اے میرے بھائیو ! مجھے بھی ساتھ لے چلو میرے والد یعقوب (علیہ السلام) کے پاس میں ان کی رضا مندی کی تم کو ضمانت دیتا ہوں اور تمہارا اس بارے میں ان سے کوئی ذکر نہیں کروں گا۔ انہوں نے انکار کردیا تو لڑکے (یعنی یوسف) نے کہا میں ان کا غلام ہوں تو جب دو آدمیوں نے ان کو خرید لیا تو وہ دونوں اپنے ساتھیوں سے جدا ہوگئے اور یہ سوچا کہ ساتھیوں نے اگر ان کے متعلق پوچھا اور اس میں شریک ہونے کا مطالبہ کیا تو ہم کہیں گے یہ مال ہم کو کنویں سے ملا ہے اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واسروہ بضاعۃ “ (اور) (آیت) ” وشروہ بثمن بخس دراھم معدودۃ “ اور یہ قیمت بیس درھم تھی اور وہ لوگ (یعنی اس کے بھائی) پہلے ہی یوسف کے بارے میں بےرغبتی کرنے والوں میں سے تھے۔ (قافلہ والے) ان کو لے کر مصر کی طرف چلے تو عزیز مصر (یعنی مصر کے بادشاہ) نے ان کو خرید لیا۔ وہ آپ کو اپنے گھر میں لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا (آیت) ” اکرمی مثوہ عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا “ اس کی بیوی آپ سے محبت کرنے لگی اور اس نے کہا اے یوسف ! تیرے بال کیسے خوبصورت ہیں یوسف نے فرمایا یہ پہلے میرے جسم سے جدا ہوں گے کہنے لگی اے یوسف تیری آنکھیں کتنی خوبصورت ہیں ؟ فرمایا وہ پہلی ہوں گی جو زمین کی طرف میرے جسم سے بہہ جائیں گی۔ تمہارا یوسف ! تیرا چہرہ کتنا خوبصورت ہے فرمایا مٹی اس کو کھاجائے گی اور (آیت) ” وقالت ھیت لک “ تجھکو بلاتی ہوں (پس تو آجا اور یہ قبطی زبان کا لفظ ہے (یعنی ھیت) فرمایا میں اللہ کی پناہ لیتا ہوں۔ کیونکہ وہ (یعنی تیرا خاوند میرا رب یعنی میرا آقا ہے) اور فرمایا میرے آقا نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا ہے تو اس کی بیوی کے بارے میں خیانت نہیں کروں۔ وہ برابر آپ کو بلاتی رہی لیکن آپ نے اسے مایوس کردیا اور آپ اس کے فریب میں نہ آئے اس عورت نے انکا ارادہ کرلیا تھا اور یوسف (علیہ السلام) بھی قصد کرلیتے اس کا (اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی روشن دلیل) دونوں گھر میں داخل ہوئی (آیت) ” وغلقت الابواب “ اس نے گھر کے تمام دروازے بند کرلئے جب یوسف (علیہ السلام) تہہ بند اتارنے لگے تو اچانک یعقوب (علیہ السلام) سامنے گھر کے اندر اپنی انگلی کاٹتے ہوئے کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے اے یوسف اس عورت پر واقع نہ ہوجاؤ (یعنی اس سے برا کام نہ کرو) تیری مثال اس پرندے کی طرح ہے جو آسمانم کی فضا ہوتا ہے اور اس کو پکڑا نہیں جاسکتا جب تو اس پر (خدانخواستہ) واقع ہوجائے تو اس پرندہ کی طرح ہوجائے گا۔ جو کہ مر کر زمین پر گرپڑتا ہے اور اپنا بچاؤ بھی نہیں کرسکتا۔ اور اب تیری مثال اس سرکش بیل کی طرح ہے اور جس پر کوئی عمل نہیں کیا جاسکتا اور جب تجھ سے یہ برا کام ہوگیا تو تیری مثال اس بیل کی سی ہوگی جو پانی میں داخل ہو کر اپنے سینگوں کے بل گر کر مرجاتا ہے۔ اور اپنا بچاؤ بھی نہیں کرسکتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی شلوار کو باندھ لیا اور باہر نکل گئے اس عورت نے ان کو پالیا اور ان کی قمیض کے کنارے کو پکڑلیا پیچھے سے اور اس کو پھاڑ دیا یہاں تک کہ اس نے آپکی قمیص اتار لی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) قمیص چھوڑ کر بھاگ گئے دونوں دروازے کی طرف دوڑے اور انہوں نے اپنے آقا کو دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا وہاں عورت کے چچا کا بیٹا بھی تھا۔ جب عورت نے اس کو دیکھا تو کہنے لگی (آیت) ” قالت ما جزآء من اراد باھلک سوٓء الا ان یسجن اوعذاب الیم (25) “ کہ اس نے مجھ کو اپنی ذات کے بارے میں ورغلایا ہے۔ میں نے اس کو اپنے سے روکا تو میں نے اس کی قمیص کو پھاڑ دی، یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قالھی راوتنی عن نفسی “ نہیں بلکہ مجھے ورغلانا چاہا اپنی ذات کے بارے میں تو میں نے انکار کیا اور میں بھاگ نکلا (پھر بھی) اس نے مجھ کو پالیا اور میرے قمیص کو پکڑا اور اس کو پھاڑ دیا اس کے چچا کے بیٹے نے کہا قمیص کا معاملہ ظاہر ہوجائے گا۔ تم لوگ دیکھو اگر قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت سچی ہے اور یوسف جھوٹوں میں سے ہے۔ اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو عورت جھوٹی ہے اور سو یوسف سچوں میں سے ہے۔ جب قمیص لائی گئی تو اس کو پیچھے سے پھٹا ہوا پایا تو (خاوند) نے کہا (آیت) ” انہ من کیدکن، ان کیدکن عظیم (28) یوسف اعرض عن ھذا واستغفری لذنبک “ خاوند نے کہا (اپنی عورت سے) پھر اپنے گناہ کی طرف نہ لوٹنا (آیت) ” وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز تراود فتھا عن نفسہ “ شغاف اس جھلی کو کہتے ہیں جو دل کے اوپر ہوتی ہے۔ اس کو دل کی زبان کہا جاتا ہے کہتے ہیں محبت اس جھلی میں داخل ہوئی یہاں تک کہ دل میں پہنچ گئی جب اس (عورت) نے ان عورتوں کی باتوں کو سنا تو ان کو بلابھیجا اور ان کے لئے مسندیں تیار کیں تاکہ ان پر ٹیک لگائیں اور یوسف (علیہ السلام) سے کہا ان پر (باہر) نکلو جب وہ (ان کے سامنے سے) نکلے اور عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان کو بہت بڑا (بزرگ) سمجھا اور اپنے ہاتھ کو کاٹ ڈالا اور وہ یہ خیال کررہی تھیں کہ انہوں نے مالٹے کو کاٹا ہے اور وہ کہنے لگیں۔ (آیت) ” وقلن حاش للہ ماھذا بشرا، ان ھذا الا ملک کریم “ وہ عورت کہنے لگی (آیت) ” فذلکن الذی لمتننی فیہ، ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم “ لیکن وہ بچا ہے بعد اس سے کہ وہ اپنی شلوار کو کھول چکا تھا مجھے معلوم نہیں اس کے لئے کیا ظاہر ہوا تھا یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” رب اس جن احب الی مما یدعوننی الیہ “ (یعنی مجھے جیل جانا زیادہ محبوب ہے زنا سے پھر اس عورت نے اپنے خاوند سے کہا کہ اس عبرانی غلام نے مجھے لوگوں میں رسوا کردیا۔ اور یہ غلام لوگوں کے سامنے اپنا عذر پیش کررہا ہے اور بتارہا ہے کہ اس نے مجھے ورغلانے کی کوشش کی۔ اور میں طاقت نہیں رکھتی کہ میں خود باہر نکل کر اپنے عذر کی معذرت کروں یا پھر مجھے اجازت دے کہ میں نکلوں اور معذرت کروں جیسے وہ معذرت کرتا ہے یا پھر اس کو بھی جیل میں ڈال دو جیسے کہ مجھے جیل میں ڈال رکھا ہے اسی لئے یہ فرمایا (آیت) ” ثم بدالہم من بعد ما راوالایت “ اور یہ نشانیاں قمیص کا پھٹنا اور ہاتھوں کو کاٹنا ہیں دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ تک قید کردیں۔ (آیت ) ” لیسجنہ حتی حین (35) ودخل معہ السجن فتین “ قید خانہ میں دو نوجوان آپ کے ساتھ تھے یہ دونوں بادشاہ کے ملازم تھے ایک مطبخ کا ناظم تھا اس سے بادشاہ ناراض ہوا کہ اس نے بادشاہ کو زہر دینے کا ارادہ کیا اس نے اسے قید کردیا شراب پلانے والے کو بھی قید کردیا یہ گمان کرتے ہوئے کہ اس نے زہر ملانے پر مدد کی تھی۔ جب یوسف (علیہ السلام) جیل میں داخل ہوئے۔ تو فرمایا کہ میں خوابوں کی تعبیر دیتا ہوں تو ان میں سے ایک نوجوان نے کہا آجاؤ ہم اس عبرانی غلام کا تجربہ کریں۔ انہوں نے بغیر دیکھے ایک خواب بیان کئے بلکہ انہوں اپنی طرف سے گھڑے تھے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کے لئے ان کے گھڑے ہوئے خوابوں کی تعبیر دیدی۔ جو ساقی تھا اس نے کہا میں نے دیکھا ہے کہ شراب نچوڑرہا ہوں اور روٹی پکانے والے نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور اس میں پرندے کھا رہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تمہارے پاس آئے گا کھانا جو تم رزق دیئے جاتے وہ نیند میں مگر میں تم کو بتادوں گا اس کی تعبیر جاگتے میں پھر فرمایا (آیت) ” یصاحبی السجن اما احدکما فیسقی ربہ خمرا “ گویا وہ اپنی جگہ پر لوٹ جائے گا۔ (آیت) ” واما الاخر فیصلب فتاکل الطیر من راسہ “ (یہ سن کر) دونوں گھبرائے اور دونوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہم نے کچھ بھی نہ دیکھا تھا یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) قضی الامر الذی فیہ تستفتین (41) “ اس بات کا حتمی فیصلہ ہوچکا ہے جس کے متعلق تم نے سوال کیا اب یہ ایسا ہی ہوگا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ساتھی سے فرمایا (چونکہ وہ رہا ہونے والا تھا) کہ اپنے بادشاہ کے پاس میرا ذکر کردینا (اسی کو فرمایا) (آیت) ” اذکرنی عند ربک “ لیکن شیطان نے بھلا دیا پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کو ایک خواب دکھایا اس نے دیکھا کہ سات موٹی گائیں کھارہی ہیں سات دبلی گائیوں کو۔ اور سات سرسبز خوشے ہیں اور دوسرے سات خشک خوشے ہیں اس (بادشاہ) نے جمع جادوگروں کو کاہنوں کو اور قیافہ شناسوں کو اور ان لوگوں کو جو جو پرندوں کو جھانکتے ہیں اور انہیں حالات و واقعات بناتے تھے اور ان سب نے کہا (آیت) ” اضغاث احلام وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین (44) “ یعنی پریشان خواب ہیں اور ہم ان خوابوں کے بارے میں نہیں جانتے۔ (آیت) ” وقال الذی نجامنہما واد کر بعد امۃ انا انبئکم بتاویلہ فارسلون (45) “ (اس وقت اس آدمی نے کہا جو قید خانہ سے بچ گیا تھا ان دو قیدیوں میں سے اب اسے یوسف (علیہ السلام) یاد آئے ایک عرصہ کے بعد میں بتاتا ہوں تم کو اس خواب کی تعبیر مجھے قید خانے تک جانے دو ) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کوئی جیل نہیں تھی۔ وہ ساقی یوسف کے پاس گیا اور کہا (آیت) ” افتنا فی سبع بقرت “ سے لے کر (آیت) ” لعلی ارجع الی الناس لعلہم یعلمون “ اس کی تاویل یہ تھی ”(آیت) ” قال تزرعون سبع سنین دابا، فماحصدتم فذروہ فی سنبلہ “ فرمایا وہ تادیر باقی رہے گا۔ (آیت) ” الا قیلا مما تکلون (47) ثم یاتی من بعد ذلک سبع شداد یاکلن ما قدمتم لھن الا قلیلا مما تحصنون (48) یعنی تم نے محفوظ کرلیا ہوگا۔ (آیت) ثم یاتی من بعد ذلک عام فیہ یغاث الناس وفیہ یعصرون (49) “ یعنی انگور (نچوڑوگے) جب قاصد بادشاہ کے پاس آیا اور اس کو بتایا تو بادشاہ نے کہا (آیت) ” ائتونی بہ فلما جآءہ الرسول “ اور (یوسف (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بادشاہ کی طرف آؤ (بلاتے ہیں) یوسف (علیہ السلام) نے انکار کردیا اور فرمایا (آیت) ” ارجع الی ربک فسئلہ ما بال النسوۃ التی قطعن ایدیھن “ (اپنے بادشاہ کی طرف لوٹ جاؤ اور اس سے پوچھو کہ حقیقت حال کیا تھی ان عورتوں کی جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا جیل سے نکلنا : سدی (رح) فرماتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر اس وقت یوسف (علیہ السلام) (جیل سے) باہر آجاتے پہلے اس سے کہ بادشاہ کو آپ کی عظمت شان کا علم ہوتا تو عزیز مصر کے دل میں ان کی کوئی ضرورت یعنی عزت نہ رہتی اور وہ کہتا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے میری بیوی کو ورغلایا تھا۔ بادشاہ نے کہا کہ ان عورتوں کو لے آؤ (آیت) ” ما خطبکن اذ راودتن یوسف عن نفسہ قلن حاش للہ ما علمنا علیہ من سوء “ لیکن عزیز مصر کی بیوی نے ہم کو بتایا کہ میں نے اس کو مطالبہ برابری کے لئے رزق دیا تھا اور وہ اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوا اور اپنی شلوار کو کھولا پھر اس کے بعد اس کو باندھ لیا اور وہ عورت نہیں جانتی کہ اس کے لئے کیا ظاہر ہوا۔ عزیز کی بیوی نے کہا ؟ (آیت) ” الئن حصحص الحق “ اب تو حق ظاہر ہوگیا اور (آیت ) ” انا راودتہ عن نفسہ “ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ میں نے اس وجہ سے کیا تاکہ بادشاہ جان لے (آیت ) ” انی لم اخنہ بالغیب “ کہ میں نے خیانت نہیں کی اس کی غیر حاضری میں (آیت ) ” وان اللہ لایھدی کید الخآئنین “ عزیز کی بیوی نے کہا اے یوسف کیا یہ برائی نہیں تھی جب تم نے شلوار کو کھولا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” وما ابری نفسی “ پس اس نے آپ کو گورنر بنادیا۔ اور اس نے اس کی معشیت اور خریدوفروخت کی قوانین کی تیاری کی اور انکا نفاذ آپ کے حوالے کردیا پھر زمین کی بھوک پہنچ گئی (یعنی قحط سالی ہوگئی) اور یعقوب (علیہ السلام) جس علاقہ میں رہتے تھے وہاں بھی قحط پڑگیا۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو مصر کی طرف بھیجا اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بنیامین کو روک لیا۔ جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس آئے (آیت ) ” فعرفہم وھم لہ منکرون “ جب ان کی طرف (یوسف علیہ السلام) نے دیکھا تو ان کو اپنے گھر یعنی اپنے محل میں ٹھہرایا اور ان سے کہا مجھے بتاؤ تمہارا کیا معاملہ ہے میں تمہارے حال کو نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا ہم شام کی زمین کے باشندے ہیں پوچھا تم لوگ کیسے آئے ہو انہوں نے کہا ہم خوراک لینے کے لئے آئے ہیں۔ فرمایا تم نے جھوٹ بولا تم جاسوس ہو تم کتنے افراد ہو۔ انہوں نے کہا ہم دس ہیں یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم دس ہزار ہو تم میں سے ہر ایک آدمی ایک ہزار افراد کا امیر ہے۔ تم مجھ کو اپنی صحیح صحیح خبر بتاؤ۔ انہوں نے کہا ہم سب ایک سچے آدمی کے بیٹے ہیں اور آپس میں بھائی ہیں ہم کل بارہ بھائی تھے ہمارے والد صاحب محبت کرتے تھے ہم میں سے ایک بھائی سے وہ ہمارے ساتھ جنگل کی طرف گیا اور ہم سے ہلاک ہوگیا اور ہمارے باپ کی طرف وہ ہم سے زیادہ محبوب تھا یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا اس کے بعد اب تمہارے باپ کس بیٹے کے پاس رہتے ہیں انہوں نے کہا اس کے پاس جو اس بھائی سے چھوٹا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا تم نے کس طرح بیان کیا کہ تمہارا باپ صدیق ہے (یعنی سچا ہے) اور وہ تم میں سے چھوٹے سے محبت کرتا ہے بڑوں کو چھوڑ کر تم اس اپنے بھائی کو میرے پاس لے آنا۔ یہاں تک کہ میں اسے دیکھ لوں (آیت ) ” فان لم تاتونی بہ فلا کیل لکم عندی ولا تقربون (60) قالوسنراود عنہ اباہ وانا لفعلون (61) یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا میں ڈرتا ہوں کہ تم اس کو میرے پاس نہ لاوگے تم میں سے بعض کو رہن رکھ دو یہاں تک کہ تم لوٹ آؤ انہوں نے شمعون کو ان کے پاس رہن رکھ دیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نوجوان سے فرمایا جو ان کے لئے غلہ ناپا کرتا تھا ان کی پونجی ان کی بوریوں میں رکھ دو شاید کہ وہ اس کو پہچان لیں۔ جب وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ کر جائیں شاید کہ وہ میری طرف لوٹ آئیں جب یہ لوگ اپنے والد کی طرف لوٹے اور ان سے بات کی اور کہا اے ہمارے باپ ! کہ مصر کے بادشاہ نے ہماری بڑی عزت کی اگر ہم میں سے کوئی آدمی یعقوب کے بیٹوں میں سے کوئی ہوتا تو وہ کبھی ہماری اتنی عزت نہ کرتا اور اس نے شمعون کو رہن رکھ لیا ہے اور کہا میرے پاس لے آؤ اپنے بھائی کو کہ جس کے ساتھ تمہارا باپ زیادہ محبت کرتا ہے اس کے بڑے بھائی کے ہلاک ہونے کے بعد یہاں تک کہ میں اس کی طرف دیکھ لوں اگر تم اس کو نہ لاوگے تو میرے شہروں کے قریب کبھی نہ آنا۔ یعقوب نے ان سے فرمایا جب تم مصر کے بادشاہ کے پاس جاؤ تو میری طرف سے اس کو سلام کہنا اور ان سے کہنا کہ ہمارا باپ تم کو سلام بھیجتا ہے اور تیرے لئے دعا کرتا ہے اس نوازش پر جو تو نے ہمارے اوپر کی ہے۔ جب انہوں نے اپنی بوریاں کھولیں تو اپنی پونجی کو پایا جو واپس لوٹادی گئی وہ اپنے والد کے پاس آئے اور کہا (آیت ) ” قالوا یابانا مانبغی ھذہ بضاعتنا ردت الینا “ ان کے باپ نے کہا جب اس نے یہ معاملہ دیکھا تو فرمایا (آیت ) ” لن ارسلہ معکم حتی توتون موثقامن اللہ لتاتننی بہ الا ان یحاط بکم “ انہوں نے انکے لئے قسم کھائی (آیت ) ” فلما اتوہ موثقہم “ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت ) ” قال اللہ علی ما نقول وکیل “ اور ان سے ڈرے بھی کہ ان کو کوئی نظر بد نہ لگ جائے جب وہ مصر میں داخل ہوں تو ان سے فرمایا (آیت ) ” یبنی لا تدخلوا من باب واحد “ یعنی ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا جب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو انہوں نے اپنے بھائی کو فورا پہچان لیا اور اس کو ایک مقام پر ٹھہرایا اور ان پر کھانے اور پینے کے احکامات جاری فرمائے۔ جب رات ہوئی تو آپ نے فرمایا ہر بستر پر دو دو آدمی سوئیں گے۔ یہاں تک کہ ایک لڑکا اکیلا بچ گیا (یعنی بنیامین اکیلے بچ گئے) تو یوسف نے فرمایا یہ میرے ساتھ میرے بستر پر نیند کرے گا۔ تو بنیامین نے یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ رات گزاری۔ اس نے اس کی خوشبو کو سونگھنا شروع کیا اور اسے (رات بھر پیار کرتے رہے) یہاں تک کہ صبح ہوگئی روبیل نے کہنا شروع کیا۔ ہم نے اس جیسا آدمی نہیں دیکھا اگر ہم اس سے نجات پاجائیں (آیت ) ” فلما جھزھم بجھازھم جعل السقایۃ فی رحل اخیہ “ اور بھائی کو پتہ نہیں تھا۔ جب جانے لگے تو (آیت ) ” ثم اذن موذن “ قافلہ کے روانہ ہونے سے پہلے (آیت ) ” ایتھا العیر انکم لسرقون “ وہ حیرت زدہ ہوگئے (آیت ) ” واقبلوا علیہم “ اور کہنے لگے (آیت ) ” ماذا تفقدون “ سے لے کر (آیت ) ” فماجزآوہ “ تک (آیت ) ” قالوا جزآوہ من وجد فی رحلہ فھو جزآوہ “ یعنی اس کو پکڑلو پس وہ تمہارے لئے ہوگا (آیت ) ” فبدا باوعیتہم قبل وعآء اخیہ “ یعنی جب اپنے بھائی کی بوری باقی رہ گئی تو اس نے کہا اس لڑکے کو زیب نہیں دیتا وہ پیالہ اٹھائے انہوں نے کہا اللہ کی قسم وہ نہیں چھوڑا جائے گا یہاں تک کہ تم دیکھ لو اس کے سامان کو تاکہ ہم جائیں تو ہمارے دل خوش اور مطمئن ہوں تلاشی کرنے والے نے اپنے ہاتھ کو اس کی بوری میں داخل کردیا۔ اور اس کو اپنے بھائی کی بوری میں سے نکال لیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت ) ” کذلک کدنا لیوسف “ یعنی یوں تدبیر کی ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے (آیت ) ” ماکان لیاخذاخاہ فی دین الملک “ یعنی وہ بادشاہ مصر کے قانون کے مطابق وہ بھائی کو اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے (آیت ) ” الا ان یشآء اللہ “ مگر یہ اللہ چاہے یوسف کے ملازمین نے کہا یہی شخص اس کا بدلہ ہے جب اس خادم نے بنیامین کے سامان سے پیالہ نکال لیا تو بھائیوں کی کمر ٹوٹ گئیں اور ہلاک ہونے لگے انہوں نے کہا برابر ہم کو تم سے مصیبت پہنچتی رہے گی اے بنوراحیل یہاں تک کہ اس پیالہ کو تم نے اٹھالیا بینامین نے کہا اے بنوراحیل برابر ہم کو تم سے مصیبت پہنچی۔ تم میرے بھائی کو لے گئے اور تم نے جنگل میں اس کو ہلاک کردیا۔ اور اس پیالے کو میری بوری میں نہیں رکھا مگر اس نے جس نے پہلی مرتبہ دراھم کو تمہاری بوریوں میں رکھا تھا دوسرے بھائیوں نے کہا دراھم کا تذکرہ نہ کرو کہ وہ بھی وصول کئے جائیں گے۔ پھر بھائی بنیامین کو مارنے لگے اور گالیاں دینے لگے کہنے لگے جب ان (سب) کو یوسف (علیہ السلام) کے پاس لے جایا گیا تو اس نے پیالہ منگوایا پھر اس نے اس پیالہ کو چوٹ لگا کر اس کو بجایا پھر اس کو اپنے کان کے قریب کیا اور کہا کہ میرا یہ پیالہ مجھ کو یہ خبر دے رہا ہے۔ کہ تم بارہ بھائی تھے اور تم نے اپنے ایک بھائی کو بیچ دیا تھا جب اس (بات) کو بنیامین نے سنا تو کھڑے ہو کر یوسف کو سجدہ کیا اور کہا اے بادشاہ ! اپنے اس پیالہ سے پوچھو کیا میرا بھائی زندہ ہے یا نہیں ؟ یوسف (علیہ السلام) نے پھر اس میں ٹھوکر لگائی اور فرمایا ہاں وہ زندہ ہے عنقریب تم اس کو دیکھوگے۔ بنیامین نے کہا میرے ساتھ جو چاہے معاملہ کر کیونکہ وہ میرے متعلق زیادہ جاننے والا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) داخل ہوئے روئے اور وضو فرمایا۔ پھر وہ باہر تشریف لائے تو بنیامین نے کہا اے بادشاہ میں دیکھتا ہوں کہ تو اس اپنے پیالہ کے ذریعہ سچی بات بتاتے ہو پس تم اس سے بھائی یوسف کے متعلق پوچھو سوال کر۔ پھر یوسف (علیہ السلام) نے اس کو ٹھوکر ماری اور فرمایا کہ میرا یہ پیالہ ناراض اور غصہ میں ہے اور کہتا ہے کہ تم مجھ سے میرے ساتھی کے متعلق پوچھتے ہو جبکہ تم دیکھ چکے ہو کس کے پاس یہ پیالہ تھا اور یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے جب غصہ ہوئے تو (اس کے قابوآنے پر) طاقت نہ رکھتے تھے روبیل غصہ ہوئے اور کھڑے ہوکرکہا اے بادشاہ ! اللہ کی قسم تو ہم کو چھوڑ دے یا میں ضرور ضرور ایسا چیخوں گا کہ کوئی حاملہ عورت مصر میں باقی نہیں رہے گی۔ مگر جو اس کے پیٹ میں ہے اس کو ڈال دے گی غصہ کی وجہ سے روبیل کے جسم سے ہر بال کھڑا ہوگیا اور اس نے کپڑے سے باہر آگیا یوسف (علیہ السلام) نے ایک مرتبہ اپنے بیٹے سے فرمایا روبیل کے پہلو کی طرف گزر جا اور اس کو ہاتھ لگاؤ پس اس نے ہاتھ لگایا اس سے اس کا غصہ دور ہوگیا روبیل نے کہا کون ہے اس شہروں میں یعقوب (علیہ السلام) کی نسل میں سے کوئی موجود ہے۔ (یعنی اس کی اولاد میں سے) یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا یعقوب کون ہیں روبیل غصہ ہوگیا اور کہا اے بادشاہ کہ تم ہرگز یعقوب کا ذکر کہ کرو کیونکہ اللہ کی بشارت ہیں اور ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے بیٹے ذبیح اللہ کی اولاد ہیں۔ یوسف نے فرمایا اگر تو سچا ہے تو جب تم اپنے باپ کے پاس جاؤ تو میری طرف سے ان کو سلام کہو۔ اور ان سے کہو کہ مصر کے بادشاہ آپ کے لئے دعا کرتا ہے کہ آپ کو موت نہ آئے یہاں تک کہ آپ اپنے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کو نہ دیکھ لیں یہاں تک کہ تمہارا باپ جان لے کہ زمین میں اس کی مثل اور بھی صدیقین موجود ہیں جب یہ لوگ (بنیامین کی رہائی) سے مایوس ہوگئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کی شمعون کو باہر نکالا جو رھن تھا۔ تو انہوں نے آپس میں سرگوشیاں کیں۔ یعنی آپس میں مشورہ کیا ان کے بڑے نے کہا اور وہ روبیل تھا اور وہ ان میں سے عمر میں بڑا نہیں تھا بلکہ ان میں سے علم کے لحاظ سے بڑا تھا (آیت) ” الم تعلموا ان اباکم قد اخذ علیکم موثقا من اللہ ومن قبل ما فرطتم فی یوسف، فلن ابرح الارض حتی یاذن لی ابی اویحکم اللہ لی “ روبیل مصر میں ٹھہر گیا اور باقی تو یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے انہوں نے (جب والد کو) خبر دی (بنیامین کے بارے میں) تو رونے لگے اور کہا اے میرے بیٹو جب تم کسی سفر میں گئے تو ایک کو تم نے گم کردیا (پہلی دفعہ) تم گئے تو یوسف کو تم نے گم کردیا۔ پھر تم دوسری دفعہ گئے تو شمعون کو کم کردیا پھر تم تیسری دفعہ گئے تو بنیامین کو گم کردیا اور چوتھی دفعہ روبیل کو کم کردیا۔ (آیت) ” فصبرجمیل عسی اللہ ان یاتینی بہم جمیعا انہ ھو العلیم الحکیم (83) وتولی عنہم وقال یاسفی علی یوسف وابیضت عینہ من الحزن فھو کظیم (84) غصہ سے (آیت) ” قالوا تاللہ تفتوا تذکر یوسف حتی تکون حرضا اوتکون من الھلکین (85) یعنی مرنے والوں میں سے (آیت) ” قال انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ واعلم من اللہ مالا تعلمون (86) “ راوی نے کہا کہ یوسف کے پاس جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور وہ جیل میں تھے ان کو سلام فرمایا اور جبرائیل (علیہ السلام) انتہائی خوبصورت انسانی شکل میں آئے آپ کی خوشبو پاکیزہ تھی۔ اور صاف ستھرے کپڑے (پہنے ہوئے) تھے یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اے اچھے چہرے والے اپنے رب کے نزدیک بڑی عزت والے پاکیزہ خوشبو والے فرشتے مجھ کو بتائیے کہ یعقوب کیسے ہیں ؟ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا تجھ پر بہت سخت غم کرنے والے ہیں پوچھا وہ کتنے غمگین ہیں فرمایا اتنے غمگین ہیں جتنا کہ ستر عورتیں غمگین ہوتی ہیں جن کے بچے فوت ہوچکے ہوں پھر پوچھا ان کا اجر کتنا ہے۔ فرمایا ستر شہدا کا اجر (ان کو پہنچا) یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا میرے بعد وہ کن کے پاس رہ رہے ہیں۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا تیرے بھائی بنیامین کے پاس پوچھا گیا میری ان سے ملاقات ہوگی۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں یوسف رونے لگے اپنے والد کی پریشانی اور تکلیف کو سن کو پھر فرمایا مجھے کوئی پرواہ نہیں ان پریشانیوں کی اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کو دکھادے راوی نے کہا کہ جب (ان بھائیوں نے) بادشاہ کے بلاوے کی خبر دی یعقوب (علیہ السلام) کی صحت اچھی ہوگئی۔ اور فرمایا زمین میں کوئی صدیق نہیں مگر میرا بیٹا اور آپ خواہش کرنے لگے۔ شاید کہ دو ہی یوسف ہو فرمایا یا نبی (آیت) ” یبنی اذھبوا فتحسسوا من یوسف واخیہ “ مصر میں تلاش کرو (آیت) ” لا یایئس من روح اللہ “ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوجاؤ اللہ کی مہربانی سے کہ وہ یوسف کو لوٹائیں گے۔ جب یہ (بھائی) اس کی طرف واپس آئے (آیت) ” قالوا یایھا العزیز مسنا واھلنا الضر وجئنا ببضاعۃ مزجۃ فاوفلنا الکیل “ یعنی پورا ناپ (ہم کو دیجئے اور ہم کو پورا غلہ دیجئے جیسے آپ نے ہم کو اچھے راہم کے ساتھ غلہ دیا تھا (آیت) ” وتصدق علینا “ اور ہم پر صدقہ بھی کیجئے یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا اور اس وقت ان پر رحم کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ھل علمتم ما فعلتم بیوسف واخیہ اذ انتم جھلون “ بھائی کہنے لگے کیا تو یوسف ہے ؟ فرمایا (آیت) ” انا یوسف وھذا اخی “ سب بھائی ان سے معذرت کرنے لگے (آیت) ” قالوا تاللہ لقد اثرک اللہ علینا وان کنا لخطئین (91) قال لاتثریب علیکم الیوم “ میں تمہارے لئے تمہارے گناہوں کو ذکر ہی نہیں کرتا۔ (آیت) ” یغفر اللہ لکم “ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے پھر پوچھا میرے بعد میرے والد کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا غم سے نابینا ہوگئے (آیت) ” فقال اذھبوا بقمیصی ھذا فالقوہ علی وجہ ابی یات بصیرا واتونی باھلکم اجمعین (93) یہودا نے کہا میں اس قمیص کو یعقوب (علیہ السلام) کے پاس لے گیا تھا اور وہ خون آلودتھی اور میں نے کہا تھا کہ یوسف کو بھیڑئیے نے کھالیا ہے آج بھی میں اس قمیص کو لے جاوں گا اور ان کو خبر دوں گا کہ یوسف (علیہ السلام) زندہ ہے اور میں اس کو خوش کروں گا جیسے کہ میں نے ان کو غمگین کیا تھا اور شہادت دینے والا یہی یہودا تھا جو (آیت) ” ولما فصلت العیر “ (جب قافلہ روانہ ہوا) مصر سے شام کے علاقہ کی طرف سے یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو خوشبو کو پالیا۔ اور اپنے پوتوں سے فرمایا (آیت) ” انی لا اجد ریح یوسف لولا ان تفندون “ تو ان کے پوتوں نے کہا (آیت) ” تاللہ انک لفی ضللک القدیم (95) “ یوسف کے بارے میں (آیت) ” فلما ان جآء البشیر “ وہ یہودا تھا وہ قمیص ان کے چہرہ پر ڈال دی (آیت) ” فارتد بصیرا “ اور اپنے بیٹوں سے فرمایا (آیت) ” قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ مالا تعلمون (96) پھر ان کے (سارے) اہل و عیال مصر کی طرف روانہ ہوئے جب مصر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اوپر والے بادشاہ سے بات کی یوسف (علیہ السلام) اور بادشاہ (استقبال کے لئے) باہر نکلے تاکہ ان سے ملاقات کریں جب ان سے ملاقات کی تو فرمایا (آیت) ” وقال ادخلوا مصر ان شآء اللہ امنین (99) جب یوسف کے پاس (یہ سب لوگ داخل ہوئے تو اپنے والدین یعنی اپنے والد اور اپنی خالہ کو) کیونکہ آپ کی والدہ پہلے فوت ہوگئی تھیں اور یعقوب (علیہ السلام) نے انکی خالہ سے نکاح کرلیا تھا) اپنے پاس عمدہ ٹھکانہ دیا اور ان دونوں (یعنی والدہ اور خالہ کو) اونچی جگہ پر بٹھایا (آیت) ” علی العرش “ یعنی اپنے عرش پر جب یعقوب (علیہ السلام) کو موت حاضر ہوئی تو یوسف کو وصیت فرمائی کہ ان کو ابراہیم کے پاس دفن کیا جائے ان کی وفات ہوئی تو ان پر المر پڑھ کر پھونکی پھر ان کو شام کی طرف لے جایا گیا اور یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” رب قد اتیتنی من الملک “ سے لے کر (آیت) ” توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (101) “ 2:۔ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ پہلے نبی تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ سے موت کا سوال کیا امام ابن جریر (رح) سے یہ قول اس سند کے ساتھ روایت کیا کہ ” حدثنا وکیع ثنا عمروبن محمد العبقری عن اسباط عن سدی ابن حاتم (رح) نے یہ سند ذکر کی ہے کہ حدثنا عبداللہ بن سلیمان بن اشعث ثنا الحین علی ثنا عامر بن الفرات عن اسبات عن اللہ۔ 3:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذقالوا لیوسف واخوہ “ میں اخوۃ سے مراد ہے بنیامین ہیں اور یہ یوسف کے سگے بھائی تھے اور (آیت) ” ونحن عصبۃ میں عصبہ دس سے چالیس سال کے افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ 4:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونحن وعصبۃ میں عصبہ ایک جماعت کو کہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” ان ابانا لفی ضلل مبین “ سے مراد ہے کہ (ہمارے والد) البتہ غلطی رہیں اپنے رائے میں۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اسے کسی اندھرے کنویں میں ڈال دو تاکہ اس کو قافلہ والوں میں سے کوئی مسافر اٹھا لے، اگر تم کو کرنا ہے

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اندھیرے کنویں میں ڈالا گیا :۔ 1:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال قآئل منہم لا تقتلوا یوسف “ میں ہم اسے کہنے والے کے بارے میں کہتے کہ وہ روبیل تھا اور وہ اپنے بھائیوں میں بڑا تھا اور یوسف کی خالہ کا بیٹا تھا۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” قال قآئل منہم لا تقتلوا یوسف “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ کہنے والا شمعون تھا۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قال قآئل منہم لا تقتلوا یوسف والقوہ فی غیبت الجب “ کے بارے میں فرمایا یہ بات انکے بڑے نے کہی تھی جو پیچھے رہ گیا تھا اور فرمایا (آیت) ” والجب “ سے شام کا ایک کنواں مراد ہے (آیت) ” یلتقتہ بعض السیارۃ “ میں ” التقطہ “ سے مراد ہے کہ دیہاتیوں میں سے کچھ لوگوں نے آپ کو اٹھالیا تھا۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقوہ فی غیبت الجب “ سے مراد ہے کنواں۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الجب “ سے مراد ہے کنواں۔ 6:۔ عبدالرزاق وابن جریر وابن ابی حاتم ابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” والقوہ فی غیبت الجب “ سے بیت المقدس کا ایک کنواں مراد ہے اور کہتے ہیں کہ یہ بیت المقدس کے قریب تھا۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ وہ کنواں جس میں یوسف (علیہ السلام) ڈالے گئے تھے جبریہ کے بالمقابل ہے اور اس کے اور اس کے درمیان کئی میلوں کا فاصلہ تھا۔ 8:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھا (آیت) ” تلتقطہ بعض السیارۃ “ تاء کے ساتھ۔
Ayahs 12:11–12

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے ہمارے ابا کیا بات ہے آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیرخواہ ہیں

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

آپ اس کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ ہمارے ساتھ کھائے اور کھیلے اور ہم اس کی پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔

1:۔ ابن منذر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابوقاسم (رح) سے روایت کیا کہ ابورزین نے یوں پڑھا (آیت) ” مالک لا تامنا علی یوسف “ عبید بن نظلہ نے ان سے فرمایا آپ نے غلطی کی انہوں نے فرمایا اس نے غلطی نہیں کی جس نے اپنی قوم کی لغت میں قرآت کی۔ 2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ارسلہ معنا غدا یرتع ویلعب “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ ہم دوڑیں ہم ہشاش بشاش ہوں اور ہم کھیل کود کریں۔ 3:۔ ابن جریر وابن منذر (رح) نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ ابو عمر ویوں پڑھتے تھے (آیت) ” نرتع ونلعب “ نون کے ساتھ میں نے ابوعمر و سے کہا وہ لوگ کعبے نوقع اور نلعب کہہ رہے ہیں حالانکہ وہ انبیاء ہیں تو انہوں نے فرمایا ان دنوں وہ انبیاء نہیں تھے۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ارسلہ معنا غدا یرتع ویلعب “ یعنی یاء کے ساتھ۔ 5:۔ ابن جریر (رح) نے ابن زیدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا (آیت) ” یرتع “ یا کے ساتھ اور عین کے کسرہ کے ساتھ پھر فرمایا کہ وہ بکریاں چرانے اور غوروفکر کرتے اور اس طرح معرفت حاصل کرتے جس طرح ایک مرد معرفت حاصل کرتا ہے۔ 6:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا ” نرتع “ نون اور عین کے کسرہ کے ساتھ پھر فرمایا کہ ہم ایک دوسرے کی حفاظت کریں گے اور ایک دوسرے کی چوکیداری کریں گے۔ 7:۔ ابوالشیخ (رح) نے حکم بن عمر والرعینی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے خالد قسری نے قتادہ ؓ کے پاس اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” یرتع ویلعب “ کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا۔ قتادہ نے فرمایا (آیت) ” یرتع ویلعب “ نہیں ہے عین کے کسری کے ساتھ پھر فرمایا کہ لوگ نہیں چرتے ہیں بلکہ بکریاں چرتی ہیں۔ 8:۔ ابوالشیخ (رح) نے مقابل بن حیان (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ارسلہ معنا غدا یرتع ویلعب “ 9 ابن الانباری (رح) نے المصاحف میں اعرج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا ” نرتعی “ نون اور یاء کے ساتھ (آیت ) ” ویعلب “ یاء کے ساتھ۔
Ayahs 12:13–14

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ بیشک مجھے یہ بات رنجیدہ کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں اندیشہ کرتا ہوں کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اس کو بھیڑیا کھاجائے

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اگر اس کو بھیڑیا کھاجائے اور ہماری پوری جماعت ہے تو ہم بالکل ہی خسارہ میں پڑنے والے ہوجائیں گے۔

1:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ والسلفی الطیوریات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں کو تلقین نہ کرو ورنہ وہ جھوٹ بولیں گے کیونکہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے نہیں جانتے تھے کہ بھیڑیا لوگوں کو کھا جاتا ہے جب ان کے باپ نے ان کو تلقین کی تو انہوں نے جھوٹ بولا اور کہنے لگے اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو مجلز (رح) سے روایت کیا کہ کسی کو یہ لائق نہیں کہ اپنے بیٹے کی برائی کی تلقین کرے کیونکہ یعقوب کے بیٹے نہیں جانتے تھے کہ بھیڑیا لوگوں کو کھا جاتا ہے یہاں تک کہ جب ان کے والد نے ان سے فرمایا (آیت) ” انی لیحزننی ان تذھبوا بہ واخاف ان یاکلہ الذئب “ (تو اس بات سے وہ سمجھ گئے کہ بھیڑیا انسانوں کو کھا جاتا ہے )