Ayah 12:17 جس کا من عند اللہ ہونا بالکل واضح ہے اور جن احکام و شرائع یا مواعظ و نصائح پر وہ مشتمل ہے نہایت روشن اور صاف ہیں۔
Ayah 12:28 یعنی عربی زبان جو تمام زبانوں میں زیادہ فصیح و وسیع اور منضبط و پرشوکت زبان ہے، نزول قرآن کے لیے منتخب کی گئی۔ جب خود پیغمبر عربی ﷺ ہیں تو ظاہر ہے کہ دنیا میں اس کے اولین مخاطب عرب ہوں گے۔ پھر عرب کے ذریعہ سے چاروں طرف یہ روشنی پھیلے گی۔ اسی کی طرف " لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ " میں اشارہ فرمایا کہ تمہاری زبان میں اتارنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ تم جو پیغمبر ﷺ کی قوم ہو اول اس کے علوم و معارف کا مزہ چکھو پھر دوسروں کو چکھاؤ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں۔ " اُنْزِلَ اَشْرَفُ الْکُتُبِ بِاَشْرَفِ اللُّغَاتِ عَلٰی اَشْرَفِ الرُّسُلِ بِسَفَارَۃِ اَشْرَفِ الْمَلَائِکَۃِ وَکَانَ ذٰلِکَ فِیْ اَشْرَفِ بِقَاعِ الْاَرْضِ وَاِبْتَدَاءُ اِنْزَالِہِ فِیْ اَشْرَفِ شُھُور السَّنَۃِ وَہُوَ رَمَضَانُ فَکُمِلَ مِنْ کُلِّ الْوُجُوْہِ ۔
Ayah 12:31 یعنی اس وحی کے ذریعہ سے جو قرآن کی صورت میں ہم پر نازل ہوتی ہے۔ ہم ایک نہایت اچھا بیان نہایت حسین طرز میں تم کو سناتے ہیں۔ جس سے اب تک اپنی قوم کی طرح تم بھی بیخبر تھے۔ گو یہ واقعہ کتب تاریخ اور بائبل میں پہلے سے مذکور تھا مگر محض ایک افسانہ کی صورت میں تھا۔ قرآن کریم نے اس کے ضروری اور مفید اجزاء کو ایسی عجیب ترتیب اور بلیغ و موثر انداز میں بیان فرمایا۔ جس نے نہ صرف پہلے تذکرہ نویسوں کی کوتاہیوں پر مطلع کیا بلکہ موقع بہ موقع نہایت ہی اعلیٰ نتائج کی طرف راہنمائی کی اور قصہ کے ضمن میں علوم و ہدایات کے ابو اب مفتوح کردیئے۔ یہ بات کہ خداوند قدوس کی تقدیر کو کوئی چیز نہیں روک سکتی، اور خدا جب کسی پر فضل کرنا چاہے تو سارا جہان مل کر بھی اپنی ساری امکانی تدابیر سے اسے محروم نہیں کرسکتا، صبر و استقامت دنیاوی و اخروی کامیابی کی کلید ہے، حسد و عداوت کا انجام حذلان و نقصان کے سوا کچھ نہیں، عقل انسانی بڑا شریف جوہر ہے جس کی بدولت آدمی بہت سی مشکلات پر غالب آتا اور اپنی زندگی کو کامیاب بنا لیتا ہے، اخلاقی شرافت اور پاکدامنی انسان کو دشمنوں اور حاسدوں کی نظر میں بھی آخرکار معزز بنا دیتی ہے۔ یہ اور اس قسم کے بیشمار حقائق ہیں جن پر اس احسن القصص کے ضمن میں متنبہ فرمایا ہے۔ مفسرین نے اس سورت کے شان نزول میں کئی روایتیں نقل کی ہیں۔ سب کو ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے مشرکین مکہ کے ذریعہ سے امتحاناً یہ سوال کیا کہ حضرت ابراہیم اور ان کی اولاد تو شام میں رہتی تھی پھر " بنی اسرائیل " مصر میں کیسے پہنچ گئے جو موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون سے مقابلہ کی نوبت آئی۔ شاید مسلمانوں کو بھی ایک مفصل تاریخی واقعہ جو بصائر و عبر سے مملو ہو سننے کا اشتیاق ہوا ہوگا۔ ادھر اس قصہ کے ضمن میں جن احوال و حوادث کا تذکرہ ہونے والا تھا وہ کئی طرح نبی کریم ﷺ اور آپ کی قوم کے حالات سے مشابہت رکھتے تھے۔ اور ان کا ذکر آنحضرت ﷺ کے حق میں موجب تسکین خاطر اور آپ کی قوم کے حق میں موجب عبرت تھا۔ ان وجوہ سے یہ پورا واقعہ کافی بسط و تفصیل سے قرآن کریم میں بیان فرمایا۔ تاکہ پوچھنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب علیہ السلام) اور ان کی اولاد کے شام سے مصر آنے کا سبب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ ہوا ہے۔ پھر وہیں ان کی نسل پھیلی اور بڑھتی رہی تاآنکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے آخر فرعون اور قبطیوں کی غلامی سے انھیں نجات دلائی۔
Ayah 12:42 یعنی گیارہ ستارے اور چاند سورج میرے آگے جھک رہے اور پست ہو رہے ہیں۔ یہ خواب لڑکپن میں دیکھا تھا۔ سچ ہے " ہونہار بروے کے چکنے چکنے پات۔ "
Ayah 12:53 یعنی شیطان ہر وقت انسان کی گھات میں لگا ہے۔ وسوسہ اندازی کر کے بھائیوں کو تیرے خلاف اکسا دے گا۔ کیونکہ خواب کی تعبیر بہت ظاہر تھی، اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کو جو بہرحال خاندان نبوت میں سے تھے، ایسے واضح خواب کا سمجھ لینا کچھ مشکل نہ تھا کہ گیارہ ستارے گیارہ بھائی ہیں اور چاند سورج ماں باپ ہیں گویا یہ سب کسی وقت یوسف (علیہ السلام) کی عظمت شان کے سامنے سر جھکائیں گے چناچہ آخر سورت میں (يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا) 12 ۔ یوسف :100) کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) خواب سے پیشتر ہی یہ محسوس کرتے تھے کہ یوسف کے ساتھ باپ کی خصوصی محبت کو دیکھ کر اس کے علاتی بھائی دل ہی دل میں کڑھتے ہیں۔ اب انہوں نے خیال کیا کہ اگر کہیں یہ خواب سن پائے تو شیطان حسد کی آگ ان کے دلوں میں بھڑکا دے گا اور جوش حسد میں آنکھیں بند کر کے ممکن ہے وہ کوئی ایسی حرکت کر گزریں جو یوسف کی اذیت اور خود ان کی رسوائی اور بدانجامی کا موجب ہو۔ اس لیے آپ نے یوسف (علیہ السلام) کو منع فرما دیا کہ اپنا خواب بھائیوں کے روبرو ظاہر نہ کریں۔ یوسف کا ایک حقیقی بھائی " بنیامین " تھا، اس کے سامنے ذکر کرنے کی بھی اجازت نہیں دی، گو اس سے برائی کا کچھ اندیشہ نہ تھا، لیکن یہ ممکن تھا کہ وہ سن کر بےاحتیاطی سے دوسروں کے سامنے تذکرہ کر دے۔ اور اس طرح یہ خبر لوگوں میں شائع ہوجائے (تنبیہ) حافظ ابن تیمیہ نے ایک مستقل رسالہ میں لکھا ہے کہ قرآن، لغت اور عقلی اعتبارات میں سے کوئی چیز اس خیال کی تائید نہیں کرتی کہ برادران یوسف انبیاء تھے، نہ رسول کریم ﷺ نے اس کی خبر دی نہ صحابہ ؓ میں کوئی اس کا قائل تھا۔ بھلا حقوق والدین، قطع رحم، مسلمان بھائی کے قتل پر اقدام کرنا، اس کو غلام بنا کر بیچ ڈالنا اور بلاد کفر کی طرف بھیج دینا، پھر صریح جھوٹ اور حیلے بنانا وغیرہ ایسی حرکات شنیعہ کیا کسی نبی کی طرف (خواہ قبل از بعثت ہی سہی) منسوب کی جاسکتی ہیں (العیاذ باللہ) ۔ جن لوگوں نے برادران یوسف کی نبوت کا خیال ظاہر کیا ہے، ان کے پاس لفظ " اسباط " کے سوا کوئی دلیل نہیں حالانکہ " اسباط " خاص صلبی اولاد کو نہیں بلکہ اقوام و امم کو کہتے ہیں۔ اور " بنی اسرائیل " کی اسباط پر تقسیم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد میں ہوئی ہے۔
Ayah 12:64 یعنی جس طرح ایسا اچھا خواب دکھلایا، اسی طرح محض جاذبہ رحمت سے اپنی بارگاہ قرب میں تجھ کو خصوصی مقام عطا فرمائے گا۔ چناچہ نبوت عطاء فرمائی اور طرح طرح کی ظاہری و باطنی نوازشیں کیں۔
5 مثلا تعبیر رؤیا، یعنی خواب سن کر اس کے اجزاء کو ذہانت و فراست سے ٹھکانے پر لگا دینا۔ یا ہر بات کے موقع و محل کو سمجھنا، اور معاملات کے عواقب و نتائج کو فورا پرکھ لینا۔ یا خدا اور پیغمبروں کے ارشادات اقوام و امم کے قصص اور کتب منزلہ کے مضامین کی تہہ تک پہنچ جانا، یہ سب چیزیں " تاویل الاحادیث " کے تحت میں مندرج ہوسکتی ہیں۔
6 یعنی اخروی نعمتوں کے ساتھ دنیاوی نعمتیں عطا فرمائے گا۔ نبوت کے ساتھ بادشاہت میں حصہ دے گا اور شدائد و محن سے نجات دے کر خوشحالی و فراغ بالی کی زندگی نصیب کرے گا۔ یعقوب کے گھرانے کو دنیاوی مکروہات اور مادی تکلیفوں سے رہائی دے گا اور آئندہ ان کی نسل سے بڑے بڑے پیغمبر اور بادشاہ پیدا کرے گا۔
7 حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تواضعاً اپنا نام نہیں لیا۔ اپنے والد حضرت اسحاق اور ان کے والد حضرت ابراہیم کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابراہیم کو خدا نے اپنا خلیل اور نبی بنایا ان کے دشمن نمرود کو ہلاک کیا، آگ کے شعلوں کو ان کے لیے گلزر بنادیا، اسحاق کو نبوت عطا کی۔ پھر ان کے صلب سے حضرت یعقوب جیسا نبی پیدا کیا۔ جس سے تمام انبیائے بنی اسرائیل کا سلسلہ چلا۔ حدیث صحیح میں ہے۔ الکریم ابن الکریم ابن الکریم ابن الکریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم۔ (تنبیہ) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جو پیشین گوئی کی اس کا کچھ حصہ تو غالبا حضرت یوسف کے خواب سے سمجھے اور اس سے کہ اتنی چھوٹی عمر میں ایسا موزوں و مبارک خواب دیکھا اور کچھ حضرت یوسف کے خصائل و شمائل سے یا وحی الٰہی کے ذریعہ سے مطلع ہوئے ہوں گے۔
8 یعنی وہ ہر ایک کی مناسبت واستعداد سے باخبر ہے۔ اپنی حکمت سے اسی کے مناسب فیض پہنچاتا ہے۔
Ayah 12:79 یعنی جو لوگ اس طرح کے واقعات دریافت کر کے کسی نتیجہ پر پہنچنا چاہتے ہیں ان کے لیے یوسف اور ان کے بھائیوں کی سرگزشت میں ہدایت و عبرت کی بہت سی نشانیاں موجود ہیں۔ اس قصہ کو سن کر قلوب میں حق تعالیٰ کی عظیم قدرت و حکمت کا نقش جم جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی صداقت کا بین ثبوت ملتا ہے کہ آپ باوجود امی ہونے اور کسی کتاب یا معلم سے استفادہ نہ کرنے کے ایسے منقح و منضبط تاریخی حقائق کا انکشاف فرما رہے ہیں۔ جن کے بیان کی بجز اعلام ربانی کے کوئی توجیہ نہیں ہوسکتی۔ خصوصا قریش مکہ کے لیے (جو یہود کے اکسانے سے اس قصہ کے متعلق حضور ﷺ سے سوال کر رہے تھے) اس واقعہ میں بڑا عبرت آموز سبق ہے کہ جس طرح حضرت یوسف کو بھائیوں نے گھر سے نکالا۔ ازراہ حسد قتل یا جلا وطن کرنے کے مشورے کیے۔ طرح طرح سے ایذائیں پہنچائیں۔ اہانت و استخفاف میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔ آخر ایک دن آیا کہ یوسف کی طرف نادم محتاج ہو کر آئے۔ یوسف (علیہ السلام) کو خدا نے دین و دنیا کے اعلیٰ مناصب پر فائز کیا اور انہوں نے اپنے عروج و اقتدار کے وقت بھائیوں کے جرائم سے چشم پوشی کی اور نہایت دریا دلی سے سب کے قصور معاف کردیے۔ ٹھیک اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی برادری نے آپ ﷺ کے متعلق ناپاک منصوبے باندھے، دکھ پہنچائے، عزت و آبرو پر حملے کیے، حتی کہ وطن چھوڑنے پر مجبور کیا۔ لیکن جلد وہ دن آنے والا تھا جب وطن سے علیحدہ ہو کر آپ ﷺ کی کامیابی اور رفعت شان کا آفتاب چمکا، اور چند سال کے بعد فتح مکہ کا وہ تاریخ دن آپہنچا جبکہ آپ نے اپنے قومی اور وطنی بھائیوں کی گزشتہ تقصیرات پر بعینہ حضرت یوسف والے کلمات (لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ) 12 ۔ یوسف :92) فرما کر قلم عفو کھینچ دیا۔
Ayah 12:810 حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف اور ان کے عینی بھائی بنیامین سے بہت زیادہ محب کرتے تھے کیونکہ یہ دونوں اپنے علاتی بھائیوں سے چھوٹے تھے، والدہ کا انتقال ہوچکا تھا اور خاص حضرت یوسف کی نسبت اپنے نور فراست یا الہام ربانی سے سمجھ چکے تھے کہ ان کا مستقبل نہایت درخشاں ہے اور نبوت کا خاندانی سلسلہ ان کی ذات سے وابستہ ہونے والا ہے۔ خود یوسف (علیہ السلام) کا حسن صورت و سیرت اور کمال ظاہری و باطنی پدر بزرگوار کی محبت خصوصی کو اپنی طرف جذب کرتا تھا۔ دوسرے بھائیوں کو یہ چیز ناگوار تھی۔ وہ کہتے تھے کہ وقت پر کام آنے والے تو ہم ہیں۔ ہمارا ایک طاقتور جتھا ہے جو باپ کی ضعیفی میں کام آسکتا ہے۔ ان چھوٹے لڑکوں سے کیا امید ہوسکتی ہے ؟ ان ہی خیالات کے ماتحت اپنے والد بزرگوار کی نسبت کہتے تھے کہ وہ اس معاملہ میں سخت غلطی اور صریح خطا پر ہیں۔ اپنے نفع و نقصان کا صحیح موازنہ نہیں کرتے۔
Ayah 12:911 یعنی رشک و حسد کی آگ اندر ہی اندر سلگتی رہی۔ آخر آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف کی موجودگی میں ممکن نہیں کہ والد بزرگوار کی خصوصی محبت و توجہ کو ہم اپنی طرف کھینچ سکیں، اس لیے یوسف کا قصد ہی یہاں سے ختم کردینا چاہیے خواہ قتل کردو یا کسی دور دراز ملک کی طرف پھینک دو جہاں سے واپس نہ آسکے۔ جب وہ نہ رہیں گے تو باپ کی ساری توجہات اور مہربانیوں کے ہم ہی تنہا حق دار رہ جائیں گے۔ بنیامین کے معاملہ کو غالبا ان کے یہاں کوئی اہمیت نہیں تھی۔ گویا اس کی محبت کو یوسف کی محبت کا ضمیمہ سمجھتے تھے۔
12 یعنی ایک مرتبہ قتل وغیرہ کا گناہ کرنا پڑے گا۔ اس سے فارغ ہو کر توبہ کرلیں گے اور خوب نیک بن جائیں گے، گویا رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ بعض مفسرین نے (وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ ) 12 ۔ یوسف :9) کے معنی یہ لیے ہیں کہ یوسف کے بعد ہمارے سب کام ٹھیک اور درست ہوجائیں گے کیونکہ پدر بزرگوار کا دست شفقت یوسف سے مایوس ہو کر صرف ہمارے ہی سروں پر رہا کرے گا۔
Ayah 12:101 یہ کہنے والا " یہودا " تھا یعنی قتل کرنا بہت سخت بات ہے اور ہمارا مقصد بدون اس کے بھی حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر تم یوسف کو یہاں سے علیحدہ کرنا چاہتے ہو تو آسان صورت یہ ہے کہ اس کو بستی سے دور کسی گم نام کنوئیں میں ڈال دو ۔ ابو حیان نے بعض اہل لغت سے نقل کیا ہے کہ " غیابت الجب " اس طاقچہ وغیرہ کو کہتے ہیں جو کنوئیں (باؤلی) میں پانی سے ذرا اوپر بنا ہوا ہو۔ غرض یہ تھی کہ ہم خواہی نہ خواہی عمداً ہلاک کرنے کا گناہ اپنے سر نہ لیں۔ ایسے کنوئیں میں ڈال دینے کے بعد بہت ممکن ہے کوئی مسافر ادھر سے گزرے اور خبر پا کر کنوئیں سے نکال لے جائے۔ اس صورت میں ہمارا مقصد حاصل ہوجائے گا اور خون ناحق میں ہاتھ رنگین نہ کرنے پڑیں گے گویا سانپ مرجائے گا اور لاٹھی نہ ٹوٹے گی۔
Ayah 12:112 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے بھی باپ سے اس قسم کی درخواست کرچکے تھے مگر ان کا دل ان کے ساتھ بھیجنے پر مطمئن نہ ہوا۔
Ayah 12:123 ایسے خوبصورت بچے کے قوی گھر میں خالی پڑے رہنے سے بیکار ہوجاتے ہیں۔ مناسب ہے کہ ہمارے ساتھ اس کو بکریاں چرانے کے لیے جنگل بھیج دیجئے۔ وہاں جنگل کے پھل میوے خوب کھائے گا اور کھیل کود سے جسمانی ورزش بھی ہوجائے گی۔ کہتے ہیں ان کا کھیل بھاگ دوڑ اور تیر اندازی تھی۔ اور ویسے بھی بچوں کے لیے مناسب حد تک کھیلنا جیسا کہ ابو حیان نے کہا ہے نشاط وشگفتگی کا موجب ہے، غرض یعقوب (علیہ السلام) سے یوسف کو ساتھ لے جانے کی پرزور درخواست کی اور نہایت مؤکد طریقہ سے اطمینان دلایا کہ ہم برابر اس کی حفاظت کریں گے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ خود یوسف کو بھی جدا گانہ طور پر ساتھ چلنے اور باپ سے اجازت لینے کی ترغیب دی۔
Ayah 12:134 یعنی یوسف کی جدائی اور تمہارے ساتھ جانے کا تصور ہی مجھے غمگین بنائے دیتا ہے اس پر یہ خوف مزید رہا کہ بچہ ہے۔ تمہاری بیخبر ی اور غفلت میں بھیڑیا وغیرہ کوئی درندہ نہ پھاڑ کھائے۔ لکھا ہے کہ اس جنگل میں بھیڑیے کثرت سے تھے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " ان کو آگے چل کر بھیڑیے کا بہانہ کرنا تھا وہ ہی ان کے دل میں خوف آیا۔ بعض محققین کا خیال یہ ہے کہ " اَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئبُ " فرمایا حضرت یعقوب جیسے پیغمبر کے درجہ توکل و تفویض سے ذرا نازل بات تھی۔ اس کا جواب یہ ملا کہ لڑکوں نے گویا ان کے منہ میں سے بات پکڑ لی۔ جو اندیشہ ظاہر کیا تھا وہ ہی واقعہ بنا کر آئے۔
Ayah 12:145 یعنی اگر ہماری جیسی طاقتور جماعت کی موجودگی میں چھوٹے بھائی کو بھیڑیا کھاجائے تو سمجھو کہ ہم بالکل ہی گئے گزرے ہیں۔ اس سے بڑھ کر کیا خسارہ ہوگا کہ دس گیارہ تنو مند بھائیوں کی آنکھوں کے سامنے سے ایک کمزور بچہ بھیڑیے کے منہ میں پہنچ جائے۔ ایسا ہو تو کہنا چاہیے کہ ہم نے اپنا سب کچھ گنوا دیا۔
Ayah 12:156 مفسرین نے بہت سے درمیانی قصے نہایت درد انگیز اور رقت خیز پیرایہ میں نقل کیے ہیں جنہیں سن کر پتھر کا کلیجہ موم ہوجائے۔ خدا جانے وہ کہاں تک صحیح ہیں۔ قرآن کریم اپنے خاص نصب العین کے اعتبار سے اس قسم کی تفاصیل کو زیادہ درخوار اعتناء اور لائق ذکر نہیں سمجھتا کیونکہ ان اجزاء سے کوئی مہم مقصد متعلق نہیں ہے۔ قرآن کریم اپنے سامعین کے دلوں میں وہ رقت پیدا کرنا چاہتا ہے جس کا منشاء خاص ایمان و عرفان ہو۔ عام رقت جو ہر کافر و مومن بلکہ حیوانات تک میں طبعا مشترک ہے اس پر عام خطباء کی طرح زور ڈالنا قرآن کی عادت نہیں۔ یہاں بھی اس نے درمیانی واقعات حذف کر کے آخری بات بتلا دی کہ برادران یوسف یوسف کو بلطائف الحیل باپ کے پاس سے لے گئے اور ٹھہری ہوئی قرار داد کے موافق کنوئیں میں ڈالنے کا تہیہ کرلیا۔ اس وقت ہم نے یوسف کو اشارہ کیا جس کی دوسروں کو مطلق خبر نہیں ہوئی کہ گھبراؤ نہیں، ایک وقت آیا چاہتا ہے کہ یہ سب کارروائیاں تم ان کو یاد دلاؤ گے اور اس وقت تم ایسے بلند مقام اور اعلیٰ مرتبہ پر ہو گے کہ یہ تم کو پہچان نہ سکیں گے یا طول عہد کی وجہ سے تم کو شناخت نہ کرسکیں گے۔ یہ خدائی اشارہ خواب میں ہوا یا بیداری میں، بطریق الہام ہوا یا فرشتہ کے ذریعہ سے، اس کی تفصیل قرآن میں نہیں۔ البتہ ظاہر الفاظ کو دیکھ کر کہا گیا ہے کہ وحی کا آنا چالیس برس کی عمر پر موقوف نہیں ہے کیونکہ حضرت یوسف اس وقت بہت کم عمر تھے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:167 یا تو گھر پہنچتے پہنچتے اندھیرا ہوگیا یا جان بوجھ کر اندھیرے سے آئے کہ دن کے اجالے میں باپ کو منہ دکھانا زیادہ مشکل تھا اور رات کی سیاہ چادر بےحیائی، سنگدلی اور جھوٹی آہو بکاء کی کسی حد تک پردہ داری کرسکتی تھی۔ اعمش نے خوب فرمایا کہ برادران یوسف کا گریہ و بکاء سننے کے بعد ہم کسی شخص کو محض چشم اشکبار سے سچا نہیں سمجھ سکتے۔
Ayah 12:178 یعنی ہم نے حفاظت میں کچھ کوتاہی نہیں کی، ہمارے کپڑے جوتے وغیرہ قابل حفاظت چیزیں جہاں رکھی تھیں وہیں یوسف کو بٹھلایا اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کو بھاگ دوڑ شروع کی۔ بس ذرا آنکھ سے اوجھل ہونا تھا کہ بھیڑیے نے یوسف کو آدبوچا۔ اس موقع پر اتنی ذرا سی دیر میں احتمال بھی نہ تھا کہ بھیڑیا پہنچ کر فورا یوسف کو شکار کرلے گا۔
9 یعنی یوسف کے معاملہ میں پہلے ہی سے آپ کو ہماری طرف بدگمانی ہے۔ اگر آپ کے نزدیک ہم بالکل سچے ہوں تب بھی اس معاملہ خاص میں کسی طرح ہماری بات کا یقین نہیں کرسکتے۔
Ayah 12:1810 ایک بکری یا ہرن وغیرہ ذبح کر کے اس کا خون یوسف کی قمیص پر چھڑک لائے تھے وہ جھوٹا خون پیش کر کے باپ کو یقین دلانے لگے، کہ بھیڑیے کے زخمی کرنے سے یہ کرتہ خون آلود ہوگیا۔
1 بھلا جس کو شام میں بیٹھ کر مصر سے یوسف کے کرتہ کی خوشبو آتی تھی وہ بکری کے خون پر یوسف کے خون کا گمان کب کرسکتا تھا۔ انہوں نے سنتے ہی جھٹلا دیا۔ اور جیسا کہ بعض تفاسیر میں ہے کہنے لگے کہ وہ بھیڑیا واقعی بڑا حلیم و متین ہوگا جو یوسف کو لے گیا اور خون آلود کرتہ کو نہایت احتیاط سے صحیح وسالم اتار کر رکھ گیا۔ سچ ہے۔ " دروغ گو را حافظہ نہ باشد " خون کے چھینٹے تو دیے مگر یہ خیال نہ رہا کہ قمیض کو بےترتیبی سے نوچ کر اور پھاڑ کر پیش کرتے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے صاف طور پر فرما دیا کہ یہ سب تمہاری سازش اور اپنے دلوں سے تراشی ہوئی باتیں ہیں۔ بہرحال میں صبر جمیل اختیار کرتا ہوں جس میں نہ کسی غیر کے سامنے شکوہ ہوگا نہ تم سے انتقام کی کوشش۔ صرف اپنے خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اس صبر میں میری مدد فرمائے اور اپنی اعانت غیبی سے جو باتیں تم ظاہر کر رہے ہو، ان کی حقیقت اس طرح آشکارا کر دے کہ سلامتی کے ساتھ یوسف سے دوبارہ ملنا نصیب ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کو مطلع کردیا گیا تھا کہ جس امتحان میں وہ مبتلا کیے گئے ہیں وہ پورا ہو کر رہے گا اور ایک مدت معین کے بعد اس مصیبت سے نجات ملے گی۔ فی الحال ڈھونڈنے یا انتقامی تدابیر اختیار کرنے سے کوئی فائدہ نہیں یوسف ابھی ملیں گے نہیں ہاں دوسرے بیٹے ساری دنیا میں رسوا ہوجائیں گے اور ممکن ہے کہ طیش میں آکر خود یعقوب (علیہ السلام) کو ایذاء پہنچانے کی کوشش کریں۔ کذا قال الامام الرازی فی الکبیر۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:192 کہتے ہیں تین روز تک یوسف (علیہ السلام) کنوئیں میں رہے۔ قدرت الٰہی نے حفاظت کی۔ ایک بھائی یہودا کے دل میں ڈال دیا کہ وہ ہر روز کنوئیں میں کھانا پہنچا آتا تھا۔ ویسے بھی سب بھائی خبر رکھتے تھے کہ مرے نہیں۔ کسی دوسرے ملک کا مسافر نکال لے جائے تو ہمارے درمیان سے یہ کانٹا نکل جائے۔ سچ ہے
عل است سعدی و درچشم دشمناں خار است
آخر مدین سے مصر کو جانے والا ایک قافلہ ادھر سے گزرا، انہوں نے کنواں دیکھ کر اپنا آدمی پانی بھرنے کو بھیجا اس نے ڈول پھانسا تو حضرت یوسف چھوٹے تو تھے ہی ڈول میں ہو بیٹھے اور رسی ہاتھ سے پکڑ لی کھینچنے والے نے ان کا حسن و جمال دیکھ کر بےساختہ خوشی سے پکارا کہ یہ تو عجیب لڑکا ہے بڑی قیمت کو بکے گا۔
3 یعنی کھینچنے والے نے اس واقعہ کو دوسرے ہمراہیوں سے چھپانا چاہا کہ اوروں کو خبر ہوگی تو سب شریک ہوجائیں گے۔ شاید یہ ظاہر کیا کہ یہ غلام اس کے مالکوں نے مجھ کو دیا ہے تاکہ مصر کے بازار میں فروخت کروں۔
4 یعنی بھائی بےوطن کرنا چاہتے تھے اور قافلہ والے بیچ کر دام وصول کرنے کا ارادہ کر رہے تھے اور خدا تعالیٰ خزائن مصر کا مالک بنانا چاہتا تھا۔ وہ اگر چاہتا تو ان کارروائیوں کو ایک سیکنڈ میں روک دیتا، لیکن اس کی مصلحت تاخیر میں تھی، اس لیے سب چیزوں کو جانتے اور دیکھتے ہوئے انھیں ڈھیل دی گئی۔
Ayah 12:205 بھائیوں کو خبر ہوئی کہ قافلہ والے نکال لے گئے۔ وہاں پہنچے اور ظاہر کیا کہ یہ ہمارا غلام بھاگ آیا ہے چونکہ اسے بھاگنے کی عادت ہے اس لیے ہم رکھنا نہیں چاہتے، تم خریدو تو خرید سکتے ہو۔ مگر بہت سخت نگرانی رکھنا کہیں بھاگ نہ جائے کہتے ہیں اٹھارہ درہم یا کم و بیش میں بیچ ڈالا۔ اور نو بھائیوں نے دو دو درہم (تقریبا آٹھ آٹھ آنے) بانٹ لیے۔ ایک بھائی یہودا نے حصہ نہیں لیا۔
6 یعنی اس قدر ارزاں بیچنے سے تعجب مت کرو۔ وہ اتنے بیزار تھے کہ مفت ہی دے ڈالتے تو مستبعد نہ تھا۔ جو پیسے مل گئے غنیمت سمجھا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں آیت میں اس بیع کا ذکر ہے جو قافلہ والوں نے مصر پہنچ کر کی۔ اگر ایسا ہو تو کہا جائے گا کہ پڑی ہوئی چیز کی قدر نہ کی اور یہ اندیشہ رہا کہ پھر کوئی آکر دعویٰ نہ کر بیٹھے۔ نیز آبق (بھگوڑا) ہونے کا عیب سن چکے تھے، اس لیے سستے داموں بیچ ڈالا۔ والظاہر ہوالاول۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:217 کہتے ہیں مصر پہنچ کر نیلام ہوا۔ عزیز مصر جو وہاں کا مدارالمہام تھا، اس کی بولی پر معاملہ ختم ہوا۔ اس نے اپنی عورت (زلیخا یا راعیل) سے کہا کہ نہایت پیارا، قبول صورت، اور ہونہار لڑکا معلوم ہوتا ہے۔ اس کو پوری عزت و آبرو سے رکھو۔ غلاموں کا معاملہ مت کرو۔ شاید بڑا ہو کر ہمارے کام آئے۔ ہم اپنا کاروبار اس کے سپرد کردیں۔ یا جب اولاد نہیں ہے تو بیٹا بنالیں۔
8 یعنی ہم نے اپنی قدرت کاملہ اور تدبیر لطیف سے یوسف کو بھائیوں کی حاسدانہ سختیوں اور کنوئیں کی قید سے نکال کر عزیز مصر کے یہاں پہنچا دیا۔ پھر اس کے دل میں یوسف کی محبت و وقعت القاء فرمائی اس طرح ہم نے ان کو مصر میں ایک معزز جگہ دی اور اہل مصر کی نظروں میں ان کو وجیہ و محبوب بنادیا۔ تاکہ یہ چیز آئندہ ترقیات اور سر بلندیوں کا پیش خیمہ ہو۔ اور بنی اسرائیل کو مصر میں بسانے کا ذریعہ بنے۔ ساتھ ہی یہ بھی منظور تھا کہ عزیز مصر کے یہاں رہ کر بڑے سرداروں کی صحبت دیکھیں تاکہ سلطنت کے رموز و اشارات سمجھنے اور تمام باتوں کو ان کے ٹھکانے پر بٹھانے کا کامل سلیقہ اور تجربہ حاصل ہو (تنبیہ) اسی سورت کے پہلے رکوع میں " تاویل الاحادیث " کا لفظ گزر چکا ہے۔ اس کی تفسیر وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔
9 یعنی بھائیوں نے یوسف کو گرانا چاہا، خدا نے ان کو آسمان رفعت پر پہنچا دیا۔ اکثر لوگ کوتاہ نظری سے دیکھتے نہیں کہ انسانی تدبیروں کے مقابلہ میں کس طرح خدا کا بندوبست غالب آتا ہے۔
Ayah 12:2210 یعنی جب یوسف کے تمام قوی حد کمال کو پہنچ گئے تو خدا کے یہاں سے عظیم الشان علم و حکمت کا فیض پہنچا۔ نہایت مشکل عقدے اپنی فہم رسا سے حل کرتے، بڑی خوبی اور دانائی سے لوگوں کے نزاعات چکاتے، دین کی باریکیاں سمجھتے، جو زبان سے کہتے وہ کر کے دکھاتے۔ سفیہانہ اخلاق سے قطعا پاک و صاف اور علم شرائع کے پورے ماہر تھے۔ تعبیر رؤیا کا علم تو ان کا مخصوص حصہ تھا۔
11 جو لوگ فطرت کی راہنمائی یا تقلید صالحین اور توفیق ازلی سے نوائب و حوادث پر صابر رہ کر عمدہ اخلاق اور نیک چال چلن اختیار کرتے ہیں، حق تعالیٰ ان پر ایسے ہی انعام فرماتا ہے۔
Ayah 12:2312 ادھر تو الطاف غیبیہ حضرت یوسف کی عجیب و غریب طریقہ سے تربیت فرما رہے تھے۔ ادھر عزیز کی بیوی (زلیخا) نے ان کے سامنے ایک نہایت ہی مزلۃ الاقدام موقع امتحان کھڑا کردیا۔ یعنی حضرت یوسف کے حسن و جمال پر زلیخا مفتون ہوگئی اور دلکشی و ہوشربائی کے سارے سامان جمع کر کے چاہا کہ یوسف کے دل کو ان کے قابو سے باہر کر دے۔ ایک طرف عیش و نشاط کے سامان، نفسانی جذبات پورے کرنے کے لیے ہر قسم کی سہولیتں، یوسف (علیہ السلام) کا ہر وقت زلیخا کے گھر میں موجود رہنا، اس کا نہایت محبت اور پیار سے رکھنا، تنہائی کے وقت خود عورت کی طرف سے ایک خواہش کا بیتابانہ اظہار کسی غیر کے آنے جانے کے سب دروازے بند، دوسری طرف جوانی کی عمر، قوت کا زمانہ، مزاج کا اعتدال، تجرد کی زندگی، یہ سب دواعی و اسباب ایسے تھے جن سے ٹکرا کر بڑے سے بڑے زاہد کا تقوی بھی پاش پاش ہوجاتا۔ مگر خدا نے جس کو محسن قرار دے کر علم و حکمت کے رنگ میں رنگین کیا اور پیغمبرانہ عصمت کے بلند مقام پر پہنچایا، اس پر کیا مجال تھی کہ شیطان کا قابو چل جاتا۔ اس نے ایک لفظ کہا " معاذ اللہ " (خدا کی پناہ) اور شیطانی جال کے سارے حلقے توڑ ڈالے۔ کیونکہ جس نے خدا کی پناہ لی اس پر کس کا وار چل سکتا ہے۔
13 یعنی خدا کی پناہ میں ایسی قبیح حرکت کیسے کرسکتا ہوں ؟ علاوہ بریں " عزیز " میرا مربی ہے جس نے مجھے ایسے عزت و راحت سے رکھا، کیا میں اپنے محسن کے ناموس پر حملہ کروں ؟ ایسی محسن کشی اور بےانصافی کرنے والے کبھی بھلائی اور کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے نیز جب ظاہری مربی کا ہم کو اس قدر پاس ہے تو سمجھ لو کہ اس پروردگار حقیقی سے ہمیں کس قدر شرمانا اور حیا کرنا چاہیے جس نے محض اپنے فضل سے ہماری تربیت فرمائی اور اپنے بندوں کو ہماری خدمت و راحت رسانی کے لیے کھڑا کردیا۔ (تنبیہ) بعض مفسرین نے " انہ ربی " کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع کی ہے۔
Ayah 12:2414 یعنی عورت نے پھانسنے کی فکر کی اور اس نے فکر کی کہ عورت کا داؤ چلنے نہ پائے اگر اپنے رب کی حجت وقدرت کا معائنہ نہ کرتا تو ثابت قدم رہنا مشکل تھا۔ بعض مفسرین نے " وَہَمَّ بِہَا " کو " وَلَقَدْ ہَمَّتْ بِہٖ " سے علیٰحدہ کر کے " لَوْ لَا اَن رَّاٰ بُرْہَانَ رَبِّہٖ " سے متعلق کیا ہے۔ جیسے " اِنْ کَادَتْ لَتُبْدِیْ بِہٖ لَوْلَا اَن رَّبَطْنَا عَلٰی قَلْبِہَا " کی ترکیب ہے۔ اس وقت مقصود یوسف کے حق میں " ہم " کا ثابت کرنا نہیں، بلکہ نفی کرنا ہے۔ ترجمہ یوں ہوگا کہ عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اور یوسف بھی عورت کا ارادہ کرتا اگر اپنے پروردگار کی قدرت و حجت نہ دیکھ لیتا۔ بعض نے " وہم بہا " میں لفظ " ہم " کو بمعنی میلان ورغبت کے لیا ہے۔ یعنی یوسف کے دل میں کچھ رغبت و میلان بےاختیار پیدا ہوا۔ جیسے روزہ دار کو گرمی میں ٹھنڈے پانی کی طرف طبعاً رغبت ہوتی ہے لیکن نہ وہ پینے کا ارادہ کرتا ہے نہ یہ بےاختیاری رغبت کچھ مضر ہے۔ بلکہ باوجود رغبت طبعی کے اس سے قطعا محترز رہنا مزید اجر وثواب کا موجب ہے اسی طرح سمجھ لو کہ ایسے اسباب و دواعی قویہ کی موجودگی سے طبع بشری کے موافق بلا اختیار و ارادہ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں کسی قسم کی رغبت و میلان کا پایا جانا نہ عصمت کے منافی ہے نہ ان کے مرتبہ کو گھٹاتا ہے۔ بلکہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ اگر بندہ کا میلان کسی برائی کی طرف ہوا لیکن اس پر عمل نہ کیا تو اس کے فرد حسنات میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ اس نے (باوجود رغبت میلان) میرے خوف سے اس برائی کو ہاتھ نہ لگایا۔ بہرحال باوجود اشتراک لفظی کے زلیخا کے " ہم " اور یوسف کے " ہم " میں زمین و آسمان کا تفاوت ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے " ہم " کو ایک ہی لفظ میں جمع نہیں کیا اور نہ زلیخا کے " ہم " پر " لام " اور " قد " داخل کیا گیا۔ بلکہ سیاق ولحاق میں بہت سے دلائل یوسف (علیہ السلام) کی طہارت و نزاہت پر قائم فرمائیں جو غور کرنے والوں پر پوشیدہ نہیں۔ تفصیل " روح المعانی " اور " کبیر " وغیرہ میں موجود ہے۔
15 " برہان " دلیل و حجت کو کہتے ہیں یعنی اگر یوسف (علیہ السلام) اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے تو قلبی میلان پر چل پڑتے۔ دلیل کیا تھی ؟ زنا کی حرمت و شناعت کا وہ عین الیقین جو حق تعالیٰ نے ان کو عطا فرمایا۔ یا وہ ہی دلیل جو خود انہوں نے زلیخا کے مقابلہ میں (اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ) 12 ۔ یوسف :23) کہہ کر پیش کی۔ بعض کہتے ہیں کہ خدا کی قدرت سے اس وقت حضرت یعقوب (علیہ السلام) نظر آئے کہ انگلی دانتوں میں دبائے سامنے کھڑے ہیں۔ بعض نے کہا کہ کوئی غیبی تحریر نظر پڑی جس میں اس فعل سے روکا گیا۔ واللہ اعلم۔
1 یعنی یہ برہان دکھانا اور ایسی طرح ثابت قدم رکھنا اس لیے تھا کہ یوسف ہمارے برگزیدہ بندوں میں ہیں۔ لہذا کوئی چھوٹی بڑی برائی خواہ ارادہ کے درجہ میں ہو یا عمل کے، ان تک نہ پہنچ سکے۔
Ayah 12:252 آگے یوسف تھے کہ جلدی دروازہ کھول کر نکل جائیں۔ اور پیچھے زلیخا انھیں روکنے کے لیے تعاقب کر رہی تھیں۔ اتفاقاً یوسف کے قمیص کا پچھلا حصہ زلیخا کے ہاتھ میں آگیا۔ اس نے پکڑ کر کھینچنا چاہا۔ کھینچا تانی میں کرتہ پھٹ گیا۔ مگر یوسف جوں توں کر کے مکان سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ ادھر یہ دونوں آگے پیچھے دروازہ پر پہنچے، ادھر عورت کا خاوند عزیز مصر بھی پہنچ گیا۔ عورت نے فوراً بات بنانی شروع کی۔
3 عورت نے الزام یوسف پر رکھا کہ اس نے مجھ سے برا ارادہ کیا۔ ایسے شخص کی سزا یہ ہونی چاہیے کہ جیل خانہ بھیجا جائے یا کوئی اور سخت مار پڑے۔
Ayah 12:264 اب یوسف کو واقعہ ظاہر کرنا پڑا کہ عورت نے میرے نفس کو بےقابو کرنا چاہا۔ میں نے بھاگ کر جان بچائی۔ یہ جھگڑا بھی چل رہا تھا کہ خود عورت کے خاندان کا ایک گواہ عجیب طریقہ سے یوسف کے حق میں گواہی دینے لگا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شیر خوار بچہ تھا، جو خدا کی قدرت سے حضرت یوسف کی برأت و وجاہت عند اللہ ظاہر کرنے کو بول پڑا۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ بچہ نہیں کوئی مرد دانا تھا جس نے ایسی پتہ کی بات کہی۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 12:27–295 اگر گواہ شیر خوار بچہ تھا جیسا کہ بعض معتبر روایات میں ہے تب تو اس کا بولنا اور ایسی گواہی دینا جو انجام کار یوسف کے حق میں مفید ہو، خود مستقل دلیل یوسف کی سچائی کی تھی۔ کرتہ کا آگے یا پیچھے سے پھٹا ہونا شہادت سے زائد بطور ایک علامت اور قرینہ کے سمجھنا چاہیے۔ اور اگر گواہ کوئی مرد دانا تھا تو بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ خارجی طریقہ سے حقیقت حال پر مطلع ہوچکا تھا مگر اس نے نہایت دانائی سے ایسے پیرایہ میں شہادت دی جو دفعتاً کسی کی جانبداری پر بھی محمول نہ ہو اور آخرکار یوسف کی برأت ثابت کر دے۔ جو پیرایہ اظہار واقعہ کا اس نے اختیار کیا وہ غیر جانبداروں کے نزدیک نہایت معقول تھا۔ کیونکہ اگر عورت کے دعوے کے موافق یوسف نے (معاذ اللہ) اس کی طرف اقدام کیا تو ان کا چہرہ عورت کی طرف ہوگا تو ظاہر ہے کہ کشمکش میں کرتہ بھی سامنے سے پھٹے اور اگر یوسف کا کہنا صحیح ہے کہ عورت مجھ کو اپنی طرف بلاتی تھی میں دروازہ کی طرف بھاگا، اس نے پکڑنے کے لیے میرا تعاقب کیا تو کھلی ہوئی بات ہے کہ کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوگا کیونکہ اس صورت میں یوسف اس کی طرف متوجہ نہیں تھے بلکہ ادھر سے پیٹھ پھیر کر بھاگ رہے تھے۔ بہرحال جب دیکھا گیا کہ کرتہ آگے سے نہیں پیچھے سے پھٹا ہے۔ تو عزیز نے سمجھ لیا کہ یہ سب عورت کا مکروفریب ہے، یوسف قصور وار نہیں۔ چناچہ اس نے صاف کہہ دیا کہ زلیخا کی پرفریب کارروائی اسی قسم کی ہے جو عموما عورتیں کیا کرتی ہیں۔ اس نے یوسف سے استدعا کی کہ جو ہونا تھا ہوچکا آئندہ اس کا ذکر مت کرو کہ سخت رسوائی اور بدنامی کا موجب ہے۔ اور عورت کو کہا کہ یوسف سے یا خدا سے اپنے قصور کی معافی مانگ، یقینا قصور تیرا ہی تھا۔
Ayah 12:306 یعنی شدہ شدہ شہر کی عورتوں نے کہنا شروع کیا کہ عزیز کی عورت اپنے نوجوان غلام پر مفتون ہوگئی۔ چاہتی ہے کہ اس کے نفس کو بےقابو کر دے۔ غلام کی محبت اس کے دل کی تہ میں پیوست ہوچکی ہے۔ حالانکہ ایسے معزز عہدہ دار کی بیوی کے لیے یہ سخت شرمناک کی بات ہے کہ وہ ایسے غلام پر گرنے لگے۔ ہمارے نزدیک اس معاملہ میں وہ اعلانیہ غلطی پر ہے۔
Ayah 12:317 عورتوں کی گفتگو کو مکرو (فریب) اس لیے کہا کہ مکاروں کی طرح چھپ چھپ کر یہ باتیں کرتی تھیں۔ اور زلیخا پر طعن کر کے گویا اپنی پارسائی کا اظہار مقصود تھا۔ حالانکہ یوسف کے بےمثال حسن و جمال کا شہرہ جس عورت کے کان میں پڑتا تھا، اس کی دید کا اشتیاق دل میں چٹکیاں لینے لگتا تھا۔ کچھ بعید نہیں کہ زلیخا پر طعن وتشنیع اور نکتہ چینی کرنے والیوں کے دلوں میں یہ ہی غرض پوشیدہ ہو کہ زلیخا کو غصہ دلا کر کسی ایسی حرکت پر آمادہ کردیں جو یوسف کے دیدار کا سبب بن جائے۔ یا زلیخا کے دل میں اس کی نفرت بٹھا کر اپنی طرف مائل کرنے کا موقع نکالیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ زلیخانے بعض عورتوں کو اس معاملہ میں اپنا راز دار بنایا ہو۔ اس نے راز داری کی جگہ پردہ داری اور خوردہ گیری شروع کردی بہرحال ان کی گفتگو کو لفظ " مکر " سے ادا کرنے میں یہ سب احتمالات ہیں۔
1 یعنی دعوت کر کے ان عورتوں کو بلوا بھیجا اور کھانے پینے کی ایک مجلس ترتیب دی جس میں بعض چیزیں چاقو سے تراش کر کھانے اور میوے وغیرہ کے سامنے چن کر ہر ایک عورت کے ہاتھ میں ایک چاقو دے دیا۔ تاکہ تراشنے کے قابل چیزوں کے کھانے میں کسی کو کلفت انتظار اٹھانا نہ پڑے۔ یہ سب سامان درست کر کے اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو کہیں قریب ہی موجود تھے آواز دی کہ ادھر نکل آئے۔ نکلنا تھا کہ بجلی سی کوند گئی، تمام عورتیں یوسف کے حسن و جمال کا دفعتاً مشاہدہ کرنے سے ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔ اور مدہوشی کے عالم میں چھریوں سے پھلوں کی جگہ ہاتھ کاٹ لیے۔ گویا قدرت نے یہ ایک مستقل دلیل یوسف (علیہ السلام) کی نزاہت و صداقت پر قائم فرما دی کہ جس کے جمال بےمثال کی ذرا سی جھلک نے دیکھنے والی عورتوں کے حواس گم کردیے۔ بحالیکہ یوسف نے آنکھ اٹھا کر بھی ان کے حسن و خوبی کی طرف نہ دیکھا تو یقینا واقعہ یوں ہی ہوا ہوگا کہ زلیخا اس کے جمال ہوشربا کو دیکھ کر ہوش و خرد کھو بیٹھی۔ اور وہ معصوم فرشتہ اس کی طرح اپنا دامن عفت بچاتا ہوا صاف نکل گیا۔
2 یعنی حسن و جمال اور نورانی صورت کے اعتبار سے فرشتہ معلوم ہوتا ہے کسی نے خوب کہا ہے قَوْمٌ اِذَا قُوبِلُوا کانُوا ملاَئِکَۃً
حُسْنًا وَاِنْ قُوتِلُوا کانُوا عَفَارِیَتًا
یا حیاء و عفت اور پاکدامنی جو چہرہ اور چال ڈھال سے ٹپک رہی تھی اسے دیکھ کر کہا کہ یہ آدمی نہیں کوئی معصوم فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 12:323 اب زلیخا کو موقع ملا کہ عورتوں کے طعن وتشنیع کا تیر ان ہی کی طرف لوٹا دے۔ گویا اس وقت " فَذٰلِکُنّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فیہِ " کہہ کر وہ اس شعر کا خلاصہ ادا کر رہی تھی۔
این است کہ خوں خوردہ و دل بردہ بسے را
بسم اللہ اگر تاب ظر ہست کسے را
4 مجمع کا رنگ دیکھ کر زلیخا بالکل ہی کھلی پڑی اور واقعہ کا صاف صاف اظہار کردیا کہ بیشک میں نے ان کا دل لینا چاہا تھا، مگر اس بندہ خدا نے ایسا مضبوط تھامے رکھا کہ کسی طرح نہ دیا۔ یہ خدا تعالیٰ نے شہر کی عورتوں کے مجمع میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کمال عصمت و عفت اور غایت نزاہت و طہارت کا اقبالی ثبوت پیش کردیا۔ زلیخا کا حال اس وقت وہ ہی تھا جو کسی نے کہا ہے۔
لَاتَخَفْ مَاصَنَعَتْ بِکَ الْاَشْوَاقُ ،
وَاشْرَحْ ہَوَاکَ فَکُلُّنَا عُشَّاق،
5 زلیخا کی اس گفتگو میں کچھ تو عورتوں پر اپنی معذوری اور نامرادی کا اظہار تھا، تاکہ ان کی ہمدردی حاصل کرسکے۔ اور کچھ یوسف (علیہ السلام) کو تحکمانہ دھمکیوں سے مرعوب کرنا تھا کہ وہ خوفزدہ ہو کر آئندہ اس کی مطلب برآوری پر آمادہ ہوجائیں۔ حالانکہ
عنقا شکار کس نہ شود دام باز چیں
کانجا ہمیشہ باد بدسست دام را
Ayah 12:336 معلوم ہوتا ہے کہ زلیخا کا مایوسانہ غصہ اور مظلومانہ انداز بیان اس کی ہم جنسوں پر اثر کر گیا۔ یا پہلے ہی سے کچھ ملی بھگت ہوگی، بہرحال لکھا ہے کہ اب عورتوں نے یوسف کو سمجھانا شروع کیا کہ تم کو اپنی محسنہ اور سیدہ کا کہنا ماننا چاہیے۔ آخر اس غریب پر اتنا ظلم کیوں کرتے ہو، پھر یہ بھی سوچ لو کہ نافرمانی کا نتیجہ کیا ہوگا۔ خواہ مخواہ مصیبت سر پر لینے سے کیا فائدہ۔ کہتے ہیں کہ بظاہر زبان سے وہ زلیخا کی سفارش کر رہی تھیں مگر دل ہر ایک کا یوسف کو اپنی طرف کھینچنا چاہتا تھا۔ یوسف نے جب دیکھا کہ یہ عورت بری طرح پیچھے پڑی ہے اور شیطان ہر طرف اپنا جال بچھانے لگا ہے تو نہایت عزم و استقلال اور پیغمبرانہ استقامت سے بارگاہ احدیت میں درخواست کی کہ مجھے ان کے مکروفریب سے بچائیے۔ اگر اس سلسلہ میں قید ہونا پڑے تو میں قید کو ارتکاب معصیت پر ترجیح دیتا ہوں۔ اگر آپ میری دستگیری نہ فرمائیں گے تو ڈر ہے کہ بےعقل ہو کر ان کی ابلہ فریبیوں کی طرف نہ جھک پڑوں۔ یہاں یوسف (علیہ السلام) کی زبانی یہ جتلا دیا کہ انبیاء کی عصمت بھی حق تعالیٰ کی دستگیری سے ہے اور یہ کہ وہ اپنی عصمت پر مغرور نہیں ہوتے بلکہ عصمت کا جو منشاء ہے (حفاظت و صیانت الٰہی) اسی پر نظر رکھتے ہیں۔
Ayah 12:347 یعنی ان کو عصمت و عفت پر پوری طرح ثابت قدم رکھا کسی کا فریب چلنے نہ دیا۔
8 یعنی سب کی دعائیں سنتا ہے اور خبر رکھتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اپنے مانگے سے قید میں پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے اتنا ہی قبول فرمایا کہ ان کا فریب دفع کردیا، باقی قید ہونا قسمت میں۔ آدمی کو چاہیے کہ گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہ مانگے، پوری بھلائی مانگے گو ہوگا وہی جو قسمت میں ہے۔ " ترمذی میں ہے کہ ایک شخص کو حضور ﷺ نے یہ دعا مانگتے سنا۔ " اَللَّہُمَّ اِنِّی اَسْاَلُکَ الصَّبْرَ ۔ " (اے اللہ میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں) آپ نے فرمایا " سألت اللّٰہ البلاء فاسئلہ العافیۃ " (تو نے اللہ سے بلا طلب کی کیونکہ صبر تو بلاء پر ہوگا۔ اب تو اس سے عافیت مانگ)
Ayah 12:359 یعنی باوجودیکہ حضرت یوسف کی برأت نزاہت کے بہت سے نشان دیکھ چکے تھے۔ پھر بھی ان کی مصلحت یہ ہوئی کہ یوسف کو ایک مدت تک قید میں رکھا جائے۔ تاکہ عام لوگ سمجھیں کہ قصور یوسف ہی کا تھا، عورت بیچاری مفت میں بدنام ہوئی۔ گویا عورت نے قید کی جو دھمکی دی تھی اسے پورا کرا کے چھوڑا۔ ان لوگوں کی غرض تو یہ ہوئی کہ عورت سے یہ بدنامی زائل ہو، یعنی ایک مدت تک یوسف اس کی نظر سے دور رہیں، اور عورت کا مطلب یہ ہوگا کہ شاید قید کی سختیاں اٹھا کر یوسف کچھ نرم پڑجائیں۔ اس طرح اپنا مطلب نکال سکوں۔
Ayah 12:361 یعنی اسی زمانہ میں دو جوان قیدی جیل خانہ میں لائے گئے۔ جن میں ایک بادشاہ مصر (ریان بن الولید) کا نانبائی اور دوسرا ساقی (شراب پلانے والا تھا) ۔ دونوں بادشاہ کو زہر دینے کے الزام میں ماخوذ تھے۔ قید خانہ میں یوسف (علیہ السلام) کی مروت و امانت، راست گوئی، حسن اخلاق، کثرت عبادت، معرفت تعبیر اور ہمدردی خلائق کا چرچا تھا۔ یہ دونوں قیدی حضرت یوسف سے بہت مانوس ہوگئے اور بڑی محبت کا اظہار کرنے لگے۔ ایک روز دونوں نے اپنا اپنا خواب بیان کیا۔ ساقی نے کہا میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ بادشاہ کو شراب پلا رہا ہوں۔ نانبائی نے کہا کہ میرے سر پر کئی ٹوکرے ہیں جس میں سے پرندے نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کو بزرگ دیکھ کر تعبیر مانگی۔
Ayah 12:372 یوسف (علیہ السلام) نے اول ان کو تسلی دی کہ بیشک خوابوں کی تعبیر تمہیں بہت جلد معلوم ہوا چاہتی ہے روز مرہ جو کھانا تم کو ملتا ہے اس کے آنے سے پیشتر میں تعبیر بتلا کر فارغ ہوجاؤں گا۔ لیکن تعبیر خواب سے زیادہ ضروری اور مفید ایک چیز پہلے تم کو سناتا ہوں۔ وہ یہ کہ تعبیر وغیرہ کا یہ علم مجھ کو کہاں سے حاصل ہوا۔ سو یاد رکھو کہ میں کوئی پیشہ ور کاہن یا منجم نہیں بلکہ میرے علم کا سرچشمہ وحی اور الہام ربانی ہے جو مجھ کو حق تعالیٰ نے اس کی بدولت عطا فرمایا کہ میں نے ہمیشہ سے کافروں اور باطل پرستوں کے دین و ملت کو چھوڑے رکھا اور اپنے مقدس آباؤ اجداد (حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب) جیسے انبیاء ومرسلین کے دین توحید پر چلا اور ان کا اسوہ حسنہ اختیار کیا۔ ہمارا سب سے بڑا اور مقدم مطمح نظر یہ ہی رہا کہ دنیا کی کسی چیز کو کسی درجہ میں بھی خدا کا شریک نہ بنائیں نہ ذات میں، نہ صفات میں، نہ افعال میں، نہ ربوبیت و معبودیت میں۔ صرف اسی کے آگے جھکیں، اسی سے محبت کریں، اسی پر بھروسہ رکھیں۔ اور اپنا جینا مرنا سب اسی ایک پروردگار کے حوالہ کردیں۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے موقع مناسب دیکھ کر نہایت موثر طرز میں ان قیدیوں کو ایمان و توحید کی طرف آنے کی ترغیب دی۔ پیغمبروں کا کام یہ ہی ہوتا ہے کہ دعوت و تبلیغ حق کا کوئی مناسب موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان قیدیوں کے دل میری طرف متوجہ اور مجھ سے مانوس ہیں۔ قید کی مصیبت میں گرفتار ہو کر شاید کچھ نرم بھی ہوئے ہوں گے۔ لاؤ ان حالات سے فرض تبلیغ کے ادا کرنے میں فائدہ اٹھائیں۔ اول ان کو دین کی باتیں سکھلائیں۔ پھر تعبیر بھی بتلا دیں گے۔ یہ تسلی پہلے کردی کہ کھانے کے وقت تک تعبیر معلوم ہوجائے گی تاکہ وہ نصیحت سے اکتائیں نہیں۔ (تنبیہ) بہت سے مفسرین نے ( لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ) 12 ۔ یوسف :37) کے معنی یہ لیے ہیں کہ کبھی کھانا تمہارے پاس نہیں آتا ہے مگر میں آنے سے پہلے اس کی حقیقت پر تم کو مطلع کردیا کرتا ہوں۔ یعنی آج کیا کھانا آئے گا، کس قسم کا ہوگا، پھر تعبیر بتلانا کیا مشکل ہے۔ گویا اول حضرت یوسف نے معجزہ کی طرف توجہ دلا کر انھیں اپنی نبوت کا یقین دلانا چاہا، تاکہ آئندہ جو نصیحت کریں زیادہ موثر واقع فی النفس ہو۔ اس تقدیر پر یوسف کا یہ معجزہ ایسا ہی ہوگا جیسے حضرت مسیح نے فرمایا تھا (وَاُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَ ۙفِيْ بُيُوْتِكُمْ ) 3 ۔ آل عمران :49) مگر مترجم محقق نے پہلی تفسیر اختیار کی ہے واللہ اعلم۔ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب لکھتے ہیں " حق تعالیٰ نے قید میں یہ حکمت رکھی کہ ان کا دل کافروں کی محبت سے (یعنی کافر جو ان کی محبت و مدارت کرتے تھے، اس سے) ٹوٹا تو دل پر اللہ کا علم روشن ہوا۔ چاہا کہ اول ان کی دین کی بات سنا دیں پیچھے تعبیر خواب کہیں۔ اس واسطے تسلی کردی، تاکہ نہ گھبرائیں۔ کہا کہ کھانے کے وقت تک وہ بھی بتادوں گا۔
Ayah 12:383 یعنی ہمارا خالص توحید اور ملت ابراہیمی پر قائم رہنا نہ صرف ہمارے حق میں بلکہ سارے جہان کے حق میں رحمت و فضل ہے، کیونکہ خاندان ابراہیمی ہی کی شمع سے سب لوگ اپنے دلوں کے چراغ روشن کرسکتے ہیں لیکن افسوس ہے کہ بہت سے لوگ خدا کی اس نعمت عظیمہ کی قدر نہیں کرتے۔ چاہیے یہ تھا کہ اس کا احسان مان کر راہ توحید پر چلتے وہ الٹی ناشکری کر کے شرک و عصیان کی راہ اختیار کر رہے ہیں۔
Ayah 12:394 یعنی مختلف انواع و اشکال کے چھوٹے بڑے دیوتا جن پر تم نے خدائی اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں ان سے لو لگانا بہتر ہے یا اس اکیلے زبردست خدا سے جس کو ساری مخلوق پر کلی اختیار اور کامل تصرف و قبضہ حاصل ہے اور جس کے آگے نہ کسی کا حکم چل سکتا ہے نہ اختیار، نہ اسے کوئی بھاگ کر ہرا سکتا ہے نہ مقابلہ کر کے مغلوب کرسکتا ہے۔ خود سوچو کہ سر عبودیت ان میں سے کس کے سامنے جھکایا جائے۔
Ayah 12:405 یعنی یوں ہی بےسند اور بےٹھکانے کچھ نام رکھ چھوڑے ہیں جن کے نیچے حقیقت ذرہ برابر نہیں۔ ان ہی نام کے خداؤں کی پوجا کر رہے ہو۔ ایسے جہل پر انسان کو شرمانا چاہیے۔
6 یعنی قدیم سے اللہ انبیاء (علیہم السلام) کی زبانی یہ ہی حکم بھیجتا رہا کہ خدا کی عبادت میں کسی کو شریک مت کرو۔ (وَسْـَٔــلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ ) 43 ۔ الزخرف :45)
1 یعنی توحید خالص کے راستہ میں ایچ پیچ کچھ نہیں۔ سیدھی اور صاف سڑک ہے جس پر چل کر آدمی بےکھٹکے خدا تک پہنچتا ہے۔ لیکن بہت لوگ حماقت یا تعصب سے ایسی سیدھی بات کو بھی نہیں سمجھتے۔