Ayah 12:11۔ یعنی ایسی کتاب کہ جس کی عملی تعلیمات میں کسی قسم کا خفاء وابہام نہیں عملی مسائل اس کے صاف سادہ اور متفق علیہ ہیں۔ الر۔ ابن عباس صحابی ؓ سے اس کے معنی انا اللہ اری منقول ہیں۔ یعنی میں اللہ دیکھتا ہوں۔ صرف حروف مقطعات پر حاشیہ شروع سورة بقرہ میں گزر چکا ہے اور (آیت) ” الر “۔ پر شروع سورة یونس میں۔
Ayah 12:22۔ (اور سمجھ کر اس کی ہدایات پر عمل کرو) (آیت) ” عرب یا “۔ خطاب سارے انسانوں کو ہے نہ کہ صرف اہل عرب کو (آیت) ” قرء نا عرب یا “۔ کے معنی اگر ” عربی زبان کا قرآن “ کئے جائیں تو دائرہ خطاب سمٹ کر صرف اہل عرب تک محدود رہ جاتا ہے لیکن عربی کے معنی فصاحت سے بیان کرنے والے اور خود کلام فصیح وواضح کے ہیں اور یہاں یہ معنی لینے سے خطاب عامۃ الناس کی طرف رہتا ہے۔ العربی المفصح (راغب) العربی الفصیح البین من الکلام (راغب) التعریب التبیین والایضاح ویقال اعرب عنہ لسانہ وعرب ای ابان وافصح (تاج) خود عرب کا نام اس لئے پڑا کہ وہ زبان فصیح کے مالک تھے۔ واختلف فی سبب تسمیۃ العرب فقیل لاعراب لسانھم ای ایضاحہ وبیانہ لانہ اشرف الا لسن واوضحھا واعربھا وقد مال الیہ جماعۃ ورجحوہ من وجوہ (تاج) (آیت) ” انزلنہ “۔ ضمیر کتاب کی طرف ہے۔ جس کے اندر قصہ یوسف (علیہ السلام) مذکور ہے۔ والتقدیر انا انزلنا الکتب الذی فیہ قصۃ یوسف فی حال کونہ قرانا عرب یا (کبیر)
Ayah 12:33۔ یعنی اس قصہ کے صحیح تفصیلات آپ ﷺ کو نہ اپنے ذوق ووجدان سے معلوم تھے اور نہ کسی راوی یا مؤرخ کے ذریعہ سے۔ احسن القصص سورة تقریبا ایک مسلسل قصہ پر شامل ہے۔ اسے بہترین قصہ کیوں فرمایا گیا ہے ؟ قصہ سے بہترین اخلاقی سبقوں کا نکلنا تو ظاہر ہی ہے۔ باقی مختلف اہل تفسیر نے اس کی مختلف تو ج ہیں اپنے اپنے مذاق کے لحاظ سے کی ہیں۔ عجب نہیں جو بڑی وجہ یہ ہو کہ جو متعدد اور مختلف بصیرتیں مختلف قصوں سے مقصود تھیں وہ سب اس میں یکجا کردی گئی ہوں، اور یہ تو بہرحال واقعہ ہے کہ فطرت بشری کی کارفرمائیاں اور اس کے جتنے حقائق و اسرار اس ایک سورت میں اکٹھے مل جاتے ہیں ان کے لحاظ سے تو یہ سورت بس اپنی نظیر آپ ہے۔ ہوسکتا ہے کہ احسن القصص میں یہ پہلو بھی ہو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور برادران یوسف (علیہ السلام) کے درمیان جو واقعات پیش آئے وہ اس صورت حال کا نقشہ پیش کررہے تھے جو رسول اللہ ﷺ اور قریش کے مابین پیش آنے والی تھی۔ (آیت) ” نحن نقص “۔ عربی کے اس دوہرے صیغہ متکلم سے مقصود زور دینا اور حصر کردینا ہے کہ ہم ہی یہ صحیح مستندومفصل واقعات آپ تک پہنچا رہے ہیں یہ کسی اور کے بس کی بات نہیں۔ (آیت) ” من قبلہ “۔ یعنی قبل اس کے کہ ہم یہ قرآن آپ کی جانب وحی کریں۔ ؛ ای قبل ایحائنا الیک ذلک (روح)
Ayah 12:44۔ یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) پیغمبر زادہ اور خود بھی پیغمبر تھے شرف نبوت خاندان میں تین پشتوں سے چلا آرہا تھا زمانہ بقول اغلب 1910 ء تا 1800 ء ق، م مولد ومکسن ارض فلسطین میں وادی حبرون تھا جسے اب الخلیل بھی کہتے ہیں اور جو یروشلم سے 18 میل جنوب ومغرب میں واقع ہے۔ ولادت حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے محبوب ترین محل حضرت راحیل (علیہما السلام) کے بطن سے ہوئی خود بھی حسین وخوبرو اور والد ماجد کی نگاہ میں سب اولاد سے زیادہ محبوب تھے۔ آخر آگے چل کر پیغمبر بھی ہونے والے تھے ؛۔ آثار رشد بچپن ہی سے کون کر نمایاں نہ ہوتے۔ توریت میں ہے :۔ ” اسرائیل یوسف کو اپنے سب لڑکوں سے زیادہ پیار کرتا تھا اس لیے کہ وہ اس کے بڑھاپے کا بیٹا تھا اور اس نے اس کے لیے ایک بوقلمون قبا بنائی “ (پیدائش 37: 3) (آیت) ” لابیہ “۔ مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں آپ پر مفصل حاشیہ پارۂ اول کے رکوع 16 میں گزر چکا۔
5۔ (آیت) ” سجدین “ سجدہ سے یہاں اصطلاحی وشرعی سجدہ مراد نہیں جس کے معنی ایک متعین ومعروف ہیئت کے ساتھ زمین پر ماتھا ٹیکنے کے ہیں بلکہ سجدہ یہاں اپنے اصلی ولغوی مفہوم میں یعنی انقیاد، اطاعت وتذلل کے مرادف آیا ہے۔ اصل السجود التطامن والتذلل (راغب) ساجدین ای متواضعین (مدارک) (آیت) ” انی رایت “۔ یعنی خواب میں دیکھا۔ رایت ” رویت “ سے بھی ہوسکتا ہے اور رؤیا سے بھی لیکن مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہاں رؤیا ہی سے ہے۔ رایت من الرؤیا لامن الرؤیۃ (کشاف) اور مفسرین کے اتفاق سے قطع نظر خود قرآن مجید کی تصریح اگلی ہی آیت میں آرہی ہے۔ (آیت) ”’ لا تقصص رء یاک “۔ توریت میں بھی ذکر خوابوں ہی کا ہے۔ (آیت) ” رایت۔۔۔ سجدین “۔ اجرام سماوی کے اس انحناء کی کیفیت کے تفصیلی ذکر سے قرآن مجید حدیث نبوی بلکہ توریت بھی خاموش ہے البتہ یہ خوب مستحضر رہے کہ یہ منظر بیداری کا نہیں بلکہ خواب کا تھا، جہاں ہر وہ چیز جو تصور یا تخیل میں آسکتی ہے جس وتمثل کے ساتھ واقعہ بن کر بھی سامنے آجاتی ہے اس لیے اس پر وہ سوالات پیدا ہی نہیں ہوتے جو بیداری کے مشاہدہ پر عائد ہوسکتے تھے مثلا یہ کہ سورج کے ساتھ چاند اور ستاروں کا اجتماع ممکن کیونکر ہوا ؟ وقس علی ھذا “۔ یہ بھی واضح رہے کہ قدیم اسرائیلیوں میں سجدہ کمال ادب سے سلام کرنے کا مرادف اور خاص علامت انقیاد تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جس اہمیت اور سنجیدگی کے ساتھ اپنے خواب کو تعبیر کے لیے بیان کررہے ہیں اور پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) جس طرح اس کی تعبیر دے رہے ہیں اس سے یہ مسئلہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ خواب کوئی ایسی حقیر وناقابل التفات شے نہیں جیسی کہ آج کی ” روشن خیالی “ میں بغیر کسی دلیل کے فرض کرلی گئی ہے۔
Ayah 12:56۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ذہن میں خواب کی تعبیر فورا آگئی۔۔ آپ اپنے چہیتے فرزند حضرت یوسف (علیہ السلام) کو منع کرتے ہیں کہ کہیں اس خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے نہ دہرا دینا وہ بھائی بھی بہرحال خاندان نبوت ہی سے تھے اور تعبیر خواب سے مناسبت نہ بھی رکھتے جب بھی خواب کا مضمون جذبات رشک وحسد کے برانگیختہ کردینے کو بہرحال کافی تھا۔ ؛ (آیت) ” اخوتک “۔ آپ (علیہ السلام) سے بڑے بھائی آپ کی دوسری ماؤں سے دس تھے گیارہویں بھائی بنیامین آپ ہی کی والدہ کے بطن سے اور آپ (علیہ السلام) سے چھوٹے تھے۔ ان میں سے نبی کوئی بھی نہ تھا۔ (آیت) ’ یبنی “۔ بنی صیغہ تصغیر کا ہے۔ مگر ایسی تصغیر جو تحقیر پر نہیں بلکہ محبت و شفقت پر مبنی ہو۔ صغرہ للشفقۃ ویسمی النحاۃ مثل ھذا التصغیر التحبیب (روح)
7۔ ان بھائیوں کے تعلقات (جیسا کہ دنیا میں اکثر سوتیلے بھائیوں میں ہوتا ہے) آپ (علیہ السلام) سے کشیدہ تھے اس کشیدگی کے صحیح اسباب کا علم تو اللہ ہی کو ہے البتہ توریت میں دو سبب لکھے ہوئے ہیں ایک یہ کہ یوسف (علیہ السلام) بچپن ہی سے بہت ہی سلیم الطبع تھے نہ صرف یہ کہ خود شرارتوں سے الگ رہتے تھے بلکہ اپنے بھائیوں کی شرارتوں کی رپورٹ بھی اپنے والد ماجد سے کردیتے تھے :۔ ” یوسف (علیہ السلام) ان کے باپ کے پاس ان کے برے کاموں کی خبر لاتا تھا “۔ (پیدائش 37: 2) دوسری بات یہ کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ محبت غیر معمولی تھی یہ بات بجائے خود دوسروں کو ناگوار گزرتی :۔ ” اس کے بھائیوں نے یہ دیکھ کے کہ اس کا باپ اس کے سب بھائیوں سے اسے زیادہ پیار کرتا ہے اس کا کینہ پیدا کیا اور اس سے محبت کی بات نہ کرسکتے تھے۔” (پیدائش 37: 4) لیکن ایک وجہ تو بالکل کھلی ہوئی ہے یعنی بچپن ہی سے آپ کا سعید ورشید ہونا، گیا رہواں بھائی (جو سو تیلا نہیں حقیقی بھائی تھا) مخالف نہ تھا لیکن اس کی کمسنی کی بنا پر یہ ممکن تھا کہ بڑے بھائی اپنی سازشوں اور منصوبوں میں اس سے بھی فائدہ اٹھاتے۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ جس کسی سے حسد یا کینہ کا اندیشہ ہو۔ اس سے اللہ کی نعمتوں کا اخفاء جائز ہے۔ وھو اصل فی جواز ترک فی اظھار النعمۃ وکتمانہ عند من یخشی حسدہ وان کان اللہ قدا مرباظھارہ (جصاص)
8۔ (اسے تمہارے بھائیوں کے دل میں وسوسہ ڈالتے کیا دیر لگتی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا یہ خیال ہی خیال نہ تھا۔ توریت میں ہے کہ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کا خواب سن کر زبان سے بھی اپنے غصہ کر اظہار کرڈالا :۔ ” تب اس کے بھائیوں نے اسے کہا کہ کیا تو سچ مچ ہمارا بادشاہ ہوگا یا تو ہمارا حاکم ہوگا۔ اور انہوں نے اس کے خوابوں اور اس کی باتوں سے اس کا زیادہ کینہ پیدا کیا “۔ (پیدائش 37: 8) توریت کی یہ روایت بھی اگرچہ حسب معمول تحریفات سے پر ہے، تاہم جابجا اس سے قرآنی صداقتوں کی توثیق بھی ہوتی جاتی ہے۔ آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ شیطان کے اثر اور کینہ کے اخلاقی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے پیغمبر زادگی ہرگز کافی نہیں۔ چہ جائیکہ مشائخ وصالحین کی اولاد میں سے ہونا !
Ayah 12:69۔ (اے یوسف نبوت کے لیے) قال الحسن یجتبیک ربک بالنبوۃ (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) فرما رہے ہیں کہ جس طرح اس خواب کے ذریعہ سے تمہاری آئندہ عزت افزائی کی ایک جھلک تمہیں دکھا دی گئی ہے اور اشارہ کردیا گیا ہے کہ تمہیں اپنے گیارہ بھائیوں اور ماں باپ پر سرداری حاصل ہوگی، اس طرح اور بھی عزتیں تمہارے لیے پردۂ غیب میں منتظر ہیں۔
10۔ خوابوں کی صحیح تعبیر بھی اللہ کی ایک نعمت ہے اگرچہ اس نعمت میں زندگی رزق صحت، دولت وغیرہ دوسری نعمتوں کی طرح مسلم کے ساتھ غیر مسلم بھی شریک ہوں۔ (آیت) ” تاویل الاحادیث “۔ کے عام ومتداول معنی تو تعبیر خواب ہی کے ہیں۔ قال مجاھد والسدی تاویل الاحادیث عبارۃ الرؤیا (بحر) وذلک تعبیر الرؤیا (ابن جریر) لیکن احادیث کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے علم و حکمت وفہم مسائل وغیرہ سب اس میں داخل ہیں، قال الحسن عواقب الامور (بحر) قال ابن زید العلم والحکمۃ (بحر) ویجوزان یرادبتاویل الاحادیث معانی کتب اللہ وسنن الانبیاء وما غمض واشتبہ علم الناس فی اغراضھا ومقاصدھا یفسرھالھم ویشرحھا (کشاف) خواب کی بنا پر آئندہ کے واقعات تکوینی کے مکشوف ہوجانے کا نام غیب دانی نہیں۔
11۔ وہ علیم کل ہر ایک ظرف و استعداد سے بھی خواب واقف ہے اور صفت حکمت کے تقاضے سے ہر ایک کے مناسب حال عطائے فیض کرنے والا بھی ہے۔ (آیت) ” وعلی ال یعقوب “۔ ال یعقوب بنی اسرائیل کا مرادف ہے اور آیت کے ان الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) کو بھی نبوت ملی ہو۔ (آیت) ” یتم نعمتہ علیک “۔ اتمام نعمت میں ساری دنیوی واخروی نعمتیں آگئیں۔ (آیت) ” کما۔۔۔ اسحاق “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ اتمام نعمت کے موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپناذکر تواضعا نہیں فرمایا۔ (آیت) ” ابرھیم۔ اسحاق “۔ دونوں پر حاشیے پارۂ اول کے آخرت میں گزر چکے۔
Ayah 12:712۔ یعنی عام طالبان حق اور جو بندگان علم کے لیے عموما اور ان اہل کتاب کے لیے خصوصا جنہوں نے امتحان کی غرض سے رسول اللہ ﷺ سے اس باب میں سوال کیا تھا۔ (آیت) ” ایت “۔ یعنی حق تعالیٰ کے کمال قدرت و حکمت کی نشانیاں۔ مطلب یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے باہمی معاملات سے بڑے بڑے اخلاقی اور دینی سبق حاصل ہوسکتے ہیں اگر کوئی لینا چاہے۔
Ayah 12:813۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) اصلا اور ان کے بھائی بنیامین تبعا۔ توریت میں ان کے بھائی کا نام بنیامین درج ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شیخ کو جائز ہے کہ کسی مرید کے ساتھ دوسرے مریدوں سے زیادہ شفقت واختصاص رکھے جبکہ اس میں آثار رشد دوسروں سے زائد پائے۔
14۔ (پس تعداد وقوت دونوں کی بنا پر قدر ہماری ہونا چاہیے نہ کہ ان دو کمسن نادانوں کی جو باپ کے کسی کام بھی تو نہیں آسکتے) یہ گفتگو ان دسوں بھائیوں میں آپس میں ہوئی۔ تمدن کی ان منزل میں اولاد کی تعداد اور قوت اہمیت کا جو درجہ رکھتی تھی وہ آج خیال میں بھی نہیں آسکتا۔
15۔ (کہ خود اپنے نفع ونقصان کا اندازہ نہیں کرتے) (آیت) ” ضلل “۔ سے مراد کوئی دینی اعتقادی یا اخلاقی گمراہی نہیں بلکہ محض دنیوی کم اندیشی وکم فہمی مراد ہے۔ المراد منہ الضلال من رعایۃ المصالح فی الدنیا لاالبعد عن طریق الرشد والصواب (کبیر) یعنون عن صواب الرأی (جصاص) اپنے حق میں کمال حسن ظن اور اپنے بزرگوں کی فہم سے سوء ظن رکھنا عام بشری کمزوری ہے اور یہ پیغمبر زادے اس سے مستثنی نہ تھے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض اوقات مریدوں کو بھی شیخ پر خطائے اجتہادی کا ایسا ہی گمان ہوتا ہے جیسا ان بھائیوں کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر ہوا تھا۔
Ayah 12:916۔ (اور قضیہ نامرضیہ باقی ہی نہ رہ جائے گا) ای صالحین فی امردنیاکم فانہ ینتظم لکم بعدہ (روح) انسان دشمنی کے عالم میں کتنی دور تک جاسکتا تھا اور بدخواہی کے کن حدود تک پہنچ سکتا ہے یہ ان تجویزوں سے بالکل ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” اقتلوا یوسف اواطرحوہ “۔ جس طرح کمیٹی یا جلسۂ شوری میں مختلف تجویزیں اور مشورے پیش ہوتے رہتے ہیں یہاں بھی مختلف سمتوں سے یہ تجویزیں پیش ہورہی تھیں۔ (آیت) ” وتکونوا من بعدہ قوما صلحین “۔ کی دوسری تفسیر یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اس کے بعد اپنی اس حرکت سے توبہ کرکے بھلے آدمی بن جانا۔ اور اکثر مفسرین نے اسی پہلو کو اختیار کیا ہے۔ ای بالتوبۃ والتنصل الی اللہ تعالیٰ عما جئتم بہ من الذنب والیہ ذھب الجمھور (روح) (آیت) ” من بعد “۔ یعنی یہ یوسف (علیہ السلام) کا قصہ پاک کرنے کے بعد۔ ای بعد یوسف علی معنی بعد الفراغ من امرہ (روح)
Ayah 12:1017۔ یعنی واقعی اگر کچھ کرنا ہے تو اس کی تدبیر یہی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو یہاں سے یوں دفع کرو، مقصد بھی حاصل ہوجائے گا اور خون ناحق کے الزام سے بھی بچ جاؤ گے۔ (آیت) ” القوہ۔۔۔ السیارۃ “۔ کنوئیں اس زمانہ اور اس سطح تمدن میں عموما ایسے موقعوں پر ہوتے تھے جو عام رہگذر ہوں۔ قافلے جب ان کے پاس سے گذرتے تو ضرور پانی بھرتے اور یہ تاریخ کی ایک معلوم حقیقت ہے کہ فلسطین کے جنوبی مشرقی علاقہ میں تجارتی قافلوں کی آمد ورفت ایک طرف فلسطین اور مصر کے اور دوسری طرف عرب ومصر کے درمیان برابر رہا کرتی تھی۔ (آیت) ” قآئل منھم “۔ سے بعض اہل تفسیر نے یہ استنباط کیا ہے کہ جس سے قتل کی رائے دی تھی وہ ان بھائیوں میں سے نہ تھا کوئی غیر تھا۔
Ayah 12:1118۔ (اور کبھی انہیں ہمارے ساتھ سیر وشکار کے لئے نہیں بھیجتے) جب باہم مشورہ سے وہ خاص صورت طے پاگئی تو اب سب مل کر باپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گفتگو شروع کی توریت میں جہاں اور مسخ شدہ روایتیں ہیں اس روایت کو بھی بالکل خلط ملط کرکے درج کیا ہے۔ توریت کا بیان ہے کہ یوسف خود ہی اپنے باپ کے فرستادہ اپنے بھائیوں کے پاس جنگل میں پہنچے جہاں وہ اپنے گلے چرا رہے تھے اور ان کے قتل وغیرہ کے منصوبے وہیں ہوئے :۔ ” اور جونہی انہوں نے اسے دور سے دیکھا اس سے پہلے کہ وہ نزدیک پہنچے اس کے قتل کا منصوبہ باندھا اور ایک نے دوسرے سے کہا دیکھو یہ صاحب خواب آتا ہے سوآؤ اب ہم اسے مار ڈالیں اور کسی کنوئیں میں ڈال دیں اور کہیں کہ کوئی بڑا درندہ اسے کھا گیا اور دیکھیں کہ اس کے خوابوں کا انجام کیا ہوگا۔ تب روبن نے سن کر اس کو ان کے ہاتھوں سے بچایا اور بولا چاہیے کہ ہم اسے قتل نہ کریں اور ان سے کہا خونریزی نہ کرو، بلکہ اسے اس کنوئیں میں جو بیابان میں ہے ڈال دو اور اس پر ہاتھ نہ ڈالو تاکہ وہ ان کے ہاتھوں سے بچا کے اس کے باپ تک پہنچا دے۔ ” (پیدائش 37: 18۔ 22)
Ayah 12:1219۔ توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ گلے چرانے جنگل جایا کرتے تھے اور یوسف (علیہ السلام) ابھی کم سن بھی تھے۔ دشمنی کی حالت میں باتیں دل سے گڑھ لینا سخن سازی کی مشق کرلینا بناوٹی زندگی اختیار کرلینا فطرت بشری کے لحاظ سے ذرا بھی مستبعد نہیں۔ (آیت) ” یرتع ویلعب “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ سیروتفریح جائز کھیل ہیں۔ وفی الایۃ دلالۃ علی ان اللعب الذی ذکروہ کان مباحا لولا ذلک لانکرہ یعقوب (علیہ السلام) (جصاص) المراد من اللعب الاقدام علی المباحات وھذا یوصف بہ الانسان (کبیر) مطلق کھیل اور تفریح اگر اس کے اندر کوئی جز معصیت کا نہ ہو بالکل جائز ہے اور ملاعبت کا جواز صریح تو حدیث نبوی میں موجود ہے۔ جاز ان یکون المراد من اللعب الاقدام علی المباحات لاجل انشراح الصدر کما روی عن النبی ﷺ انہ قال لجابر فھلا بکرا تلاعبھا وتلاعبک (کبیر)
Ayah 12:1320۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ایک تو یوسف (علیہ السلام) کی جدائی ہی مجھے شاق ہے اور پھر یہ اندیشہ بھی لگا ہوا ہے کہ تم لوگ تو جاکر اپنے مشاغل میں لگ جاؤ گے ایسا نہ ہو کہ اسے اکیلا چھوڑ جاؤ اور کہیں کوئی بھیڑیا آکر اٹھا لے جائے۔ ارض فلسطین کے جنگلوں میں بھیڑیئے اب تو خال خال رہ گئے ہیں لیکن قدیم زمانہ میں یہ وہاں کے جنگلوں میں خاص طور سے آباد تھے۔ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 17 صفحہ 120 طبع چہاردہم) حضرت یعقوب (علیہ السلام) تو بہرحال نبی تھے اتنی فراست ایمانی سے کام ایک عام مومن بھی لے سکتا ہے۔ (آیت) ” لیحزننی۔ اخاف “۔ آیت میں حزن اور خوف دونوں کا اثبات حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیغمبر کے حق میں ہے اس سے ظاہر ہے کہ ان کیفیات طبعی کا طاری ہونا کاملین کیلئے ان کے کمال کے منافی نہیں۔
Ayah 12:1421۔ روایات یہود میں تصریح کے ساتھ آتا ہے کہ یہ برادران یوسف (علیہ السلام) بڑے تنومند وقوی ہیکل تھے اپنی قوت وتعداد دونوں پر ان کا ناز کچھ بےجانہ تھا۔
Ayah 12:1522۔ (اور اس پر عمل بھی کرگزرے) توریت میں ہے :۔” اور یوں ہوا کہ یوسف جب اپنے بھائیوں کے پاس آیا تو انہوں نے اس کو قبا کو یعنی بوقلمون قباکو جو وہ پہنے تھا اتار کے اسے ننگا کیا اور اسے لے کے کنوئیں میں ڈال دیا وہ کنواں اندھا تھا اس میں ایک بوند پانی نہ تھا۔ “ (پیدائش 37: 23۔ 24) (آیت) ” فلماذھبوا بہ “۔ قیل وقال کے بعد بالآخر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لے جانے کی اجازت ان کے چرب زبان بھائیوں کو دے دی تھی۔
23۔ رحمت الہی نے اس وقت بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ساتھ نہیں چھوڑا عین جس وقت کہ کنوئیں میں گر رہے تھے۔ غیب سے الہام ہوا کہ شکستہ دل وملول نہ ہو خوف نہ کرو ان کے کید سے تمہیں رہائی مل کررہے گی اور ایک روز وہ آئے گا کہ تم ان کی حرکتیں انہیں یاد دلاؤ گے اور یہ تمہیں پہچانیں گے تک نہیں تم اس وقت ایسے ممتاز مرتبہ پر ہوگے، توریت کا قصہ قرآن کے ان بلند ٹکڑوں سے بالکل خالی ہے۔ (آیت) ” واوحینآ الیہ “۔ اس وحی سے وحی اصطلاحی مراد نہیں جو حضرات انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے یہ وحی الہام کے معنی میں ہے جو غیر نبی کو یانبی کو قبل نبوت ہوتا رہتا ہے وھو وحی الھام (بحر عن مجاہد)
Ayah 12:1624۔ (اپنا مصنوعی رنج والم ظاہر کرنے کو) یہ لوگ گھر روزانہ شام کو واپس آتے ہوں گے آج ذرا اور دیر کرکے آئے یہ ظاہر کرنے کو کہ اتنی دیر یوسف (علیہ السلام) کی تلاش کرنے میں لگی، ایک جرم کو نباہنے کے لئے دوسرے جرائم تک فطرت بشری مجرم کو ناگزیر طور پر لے جاتی ہے۔
Ayah 12:1725۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اندیشہ صحیح نکلا۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے آکر ایک لگتی ہوئی کہانی گڑھ کے بیان کردی۔ (آیت) ” انا ذھبنا نستبق “۔ یہ نوجوان یا تو شکار کے پیچھے دوڑتے ہوئے نکل گئے ہوں گے یا محض آپس میں دوڑ کا کھیل کھیل رہے ہوں گے، یا یہ کچھ بھی سرے سے نہ ہوا ہو سب بناوٹ ہی بناوٹ ہو۔
Ayah 12:1826۔ توریت میں اس کے برعکس قصہ یوں درج ہے :۔ ” پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی قبا کو لیا اور ایک بکری کا بچہ مارا اور اسے اس کے لہو میں تر کیا اور انہوں نے اس بوقلمون قبا کو بھیجا اور اپنے باپ کے پاس لے آئے اور کہا کہ ہم نے اسے پایا۔ آپ اسے پہچانئے کہ یہ آپ کے بیٹے کی قبا ہے کہ نہیں، اور اس نے اسے پہچانا اور کہا کہ یہ میرے بیٹے کی قبا ہے کوئی بڑا درندہ اسے کھا گیا۔ یوسف بیشک پھاڑا گیا۔ “ (پیدائش 37: 31۔ 33) گویا حسب بیان تو ریت پیغمبر (علیہ السلام) نے ان فسوں سازوں کے دعوائے باطل کو بالکل تسلیم کرلیا تھا ! قرآن مجید نے حسب معمول توریت کی اس غلط بیانی کی بھی تردید کردی۔
27۔ کہ مجھے توفیق صبر دے) (آیت) ” فصبر جمیل “۔ فقرہ مبتداء بھی ہوسکتا ہے اور خبر بھی تقدیر کلام دونوں طرح جائز ہے۔ ای فامری صبر جمیل اور فصبر جمیل اجمل (بیضاوی) ای فامری صبر جمیل اوفصبری صبرجمیل (روح) بڑی سی بڑی مصیبت کے وقت بھی اگر ذہن میں اس کا استحضار رہے کہ یہ ابتلاء حضر حق کی طرف سے ہے جو ہر طرح حکیم بھی ہیں اور ہر طرح رحیم وشفیق بھی تو ظاہر ہے کہ انتہائی رنج طبعی کے ساتھ یہ تسکین عقلی بھی ضرور شامل رہے گی کہ بہرحال ہماری ہی ہر طرح حکیم بھی ہیں اور ہر طرح رحیم وشفیق بھی تو ظاہر ہے کہ انتہائی رنج طبعی کے ساتھ یہ تسکین عقلی بھی ضرور شامل رہے گی کہ بہرحال ہماری ہی ہر طرح کی مصلحتیں اس سے وابستہ ہیں صبر جمیل اسی کا نام ہے اور اس کے حقدار ایک پیغمبر برحق نہ ہوتے تو اور کون ہوتا۔ اس صبر جمیل کے بجائے توریت میں ہے :۔ ” تب یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اپنے کو لے پر ڈالا اور بہت دن تک اپنے بیٹے کے لئے غم کیا۔ “ (پیدائش 37: 34)
Ayah 12:1928۔ (اس کنوئیں کے پاس سے جہاں یوسف (علیہ السلام) مقید تھے اور وہ قافلہ یمن یا مصر کو جارہا تھا) توریت میں یہ تصریح ہے کہ یہ قافلہ بنی اسمعیل کا تھا۔ اور ” وہ روٹی کھانے بیٹھے اور آنکھ اٹھائی اور دیکھا کہ اسمعیلیوں کا ایک قافلہ صنعاء سے گرم مصالح اور روغن بلسان اور مراونٹوں پر لادے ہوئے آتا ہے کہ انھیں مصر کو لے جائیں “۔ (پیدائش 37: 25)
29۔ اور سارے قافلہ والے قدرۃ بڑے خوش ہوئے۔ (آیت) ” غلم “۔ کی تنوین اگر تفخیم کے لئے سمجھی جائے تو ترجمہ ہوگا “۔ ایک بڑا اچھا لڑکا “۔ (آیت) ” فادلی دلوہ “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اسی کنوئیں میں تھے چناچہ آپ رسی کو تھام کر باہر آگئے۔
30۔ یعنی اس کی نظر سے نہ برداران یوسف کی کارروائیاں پوشیدہ تھیں، نہ اہل قافلہ کی، بردہ فروشی کا رواج اس وقت عام تھا، یہ تجارتی قافلہ والے آخر کاروباری لوگ تھے دل میں بڑے خوش ہوئے کہ ایسے خوش جمال لڑکے کو خوب گراں قیمت پر فروخت کریں گے۔
Ayah 12:2031۔ برادران یوسف کو اس اثناء میں اطلاع مل گئی تھی دوڑے ہوئے آئے اور قافلہ والوں سے کہا یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ برادران یوسف کو یوسف (علیہ السلام) کی جان سے کوئی دشمنی نہ تھی وہ تو صرف اپنے والد ماجد کے پاس سے ہٹا دینے کے درپے تھے کہ ان کے بعد کود ان کے منظور نظر ہو کر رہیں۔ (آیت) ” دراھم معدودۃ “۔ توریت کا بیان ہے کہ یہ رقم 20 روپیہ تھی، (پیدائش 37: 28) دراھم میں اشارہ اس طرف ہوگیا کہ قیمت میں چاندی ہی کے کچھ سکے ملے نہ کہ سونے کے دینار۔ بعض علماء نے یہاں یہ لکھا ہے کہ جب برادران یوسف نے آپ (علیہ السلام) کو اپنا غلام بیان کیا ہے تو ظاہرا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس پر خاموش رہے حالانکہ حر (آزاد) کی بیع شریعت اسلامی میں جائز نہیں اس سے مسئلہ یہ نکلتا ہے کہ خوف ضرر سے امر منکر سے انکار نہ کرنا اس پر سکوت اختیار کرنا منافی کمال نہیں، توریت میں ہے :۔ ” تب یہوداہ نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ اگر ہم اپنے بھائی کو مار ڈالیں اور اس کا خون چھپا دیں تو کیا نفع ہوگا آؤ اسے اسمعیلیوں کے ہاتھ بیچیں اور اس پر اپنے ہاتھ نہ ڈالیں کہ وہ ہمارا بھائی اور گوشت ہے اور اس کے بھائی راضی ہوئے “۔ (پیدائش 37: 26۔ 27)
32۔ یعنی انہیں کچھ تجارت تو مقصود تھی نہیں جو کچھ وہ دام بڑھاتے انہیں مقصود تو اپنے خیال کے مطابق اپنے پاس سے ایک بلا کا دور کرنا تھا اونے پونے جو کچھ بھی دام مل گئے اسے غنیمت سمجھے۔ (آیت) ” کانوا “۔ کی ضمیر اکثر نے بھائیوں کی جانب لی ہے اور یہی لگتی ہوئی بھی ہے۔ والضمیر فی وکانوا ان کان للاخوۃ فظاھر (روح)
Ayah 12:2133۔ یہ میاں بیوی لاولد تھے اور اولاد کی تمنا رکھتے تھے، یوسف (علیہ السلام) کی خاطر داریوں کا ذکر توریت میں بھی ہے :۔ ” اور خداوند یوسف کے ساتھ تھا اور وہ صاحب اقبال ہوا، سو وہ اپنے مصری آقا کے گھر میں رہا اور اس کے آقا نے دیکھا کہ خداوند اس کے ساتھ ہے اور یہ کہ خداوند نے اس کے سب کاموں میں اسے اقبال مند کیا چناچہ یوسف (علیہ السلام) اس کی نظر میں مورد لطف ہوا اور اس نے اس کی خدمت کی، اور اس نے اسے اپنے گھر کا مختار کیا اور سب جو کچھ کہ اس کا تھا اس کے قبضہ میں کردیا۔ “ (پیدائش 39: 2۔ 5) (آیت) ” الذی اشتراہ من مصر “۔ قافلہ والے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ہمراہ لائے اور ملک مصر میں بہ حیثیت غلام کے فروخت کیا یہاں جس نے اچھی قیمت دے کر ایسے ہونہار اور صاحب آثار رشد غلام کو خرید کیا وہ حکومت مصر کا ایک بڑا عہدہ دار تھا۔ توریت میں اس عہدہ دار کو فوطیفار کہا گیا ہے اور قرآن مجید نے آگے چل کر اسی کو عربی زبان میں عزیز سے تعبیر کیا ہے۔ توریت میں ہے :۔ ” اور مدیانیوں نے اسے مصر میں فوطیفار کے ہاتھ جو فرعون کا ایک امیر اور لشکر کا رئیس تھا بیچا۔ “ (پیدائش 37: 36) ” یوسف کو مصر میں لائے اور فوطیفار مصری نے جو فرعونی امیر اور بادشاہ کے جلوداروں کا سردار تھا اسے اسماعیلیوں کے ہاتھ سے جو اسے وہاں لائے تھے مول لے لیا۔ “ (پیدائش 39: 1) من مصر یہاں تو مضاف اھل مصر کے قبل محذوف ہے اور یا خود من کوفی کے معنی میں لے لیا جائے۔ (آیت) ” لامراتہ “۔ عزیز کی اس بیوی کا نام توریت میں تو نہیں البتہ روایات یہود میں زلیخا آیا ہے اور وہیں سے مسلمانوں میں بھی چل پڑا ان کے لئے عام طور پر مشہور یہ ہے کہ یہ بعد کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عقد نکاح میں آگئی تھیں لیکن اس کی سند نہ قرآن مجید سے ملتی ہے نہ حدیث صحیح سے نہ توریت سے۔
34۔ (جو آگے چل کر ان کے کام آئے گی) مطلب یہ ہوا کہ یوسف (علیہ السلام) کے نجات دینے سے ہماری غرض یہ تھی کہ ہم انہیں مادی وروحانی ہر انعام سے مالا مال کریں۔ (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح ہم انہیں پہلے اندھیرے کنوؤں سے نجات دلا چکے تھے اسی طرح اب ایک بڑے سردار حکومت کے گھر میں جگہ دے کر (آیت) ” تاویل الاحادیث “۔ پر حاشیہ ابھی اوپر گزر چکا۔ الفاظ قرآن کی جامعیت اور عموم حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہر قسم کے انتظامی تجربہ اور واقفیت تدبیر منزل پر شامل ہے محض خوابوں کی تعبیر تک محدود نہیں، توریت میں ہے :۔ ” اور یوں ہوا کہ جس وقت سے اس نے اسے گھر پر اور اپنی سب چیزوں پر مختار کیا خداوند نے اس مصری کے گھر میں یوسف کے سبب سے برکت بخشی اور اسکی سب چیزوں میں جو گھر میں اور کھیت میں تھیں خداوند کی طرف سے برکت ہوئی اور اس نے اپنا سب کچھ یوسف (علیہ السلام) کے قبضہ میں کردیا اور اس نے روٹی کے سوا جسے کھا لیتا تھا کسی چیز سے کام نہ رکھا اور یوسف خوبصورت اور نور پیکر تھا “۔ (پیدائش 39: 4۔ 6)
35۔ دنیا کی مشرک اور جاہلی قومیں (اور اکثریت انہی کی ہے) اللہ کی اس صفت یعنی قدرت کاملہ سے متعلق طرح طرح کے غلط تصورات اور لغو عقاید میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ” واللہ غالب علی امرہ “۔ جو امور عقل انسان کو مستبعد معلوم ہوتے ہیں اللہ ان کا سامان بھی خفی اور لطیف طریقوں سے کردیتا ہے۔
Ayah 12:2236۔ قرآن مجید کا یہ ایک عام وحکیمانہ اسلوب بیان ہے کہ کسی جزئی اور مخصوص واقعہ کا ذکر کرتے کرتے معا اس کا عام قانون بھی بیان کردیتا ہے چناچہ یہاں بھی یہ ارشاد ہوگیا کہ یہ دینی ودنیوی اکرام وعزاز یوسف (علیہ السلام) کے خواص ذاتی میں سے نہ تھا بلکہ جو کوئی بھی ایمان وحسن عمل کو اپنا شعار رکھے وہ انعامات سے سرفراز کیا جائے گا۔ (آیت) ” اشدہ “۔ اس پختگی عمر کی تعیین میں متعدد قول نقل ہوئے ہیں تاہم 20 سال سے کم کا کوئی قول سلف سے منقول نہیں البتہ ابن جریر نے 18 سال کو بھی اس کا ایک ممکن مصداق بتایا ہے۔ (آیت) ” حکما وعلما “۔ حکم سے مراد عام طور پر دنیوی قوت واقتدار اور علم سے مراد نبوت لی گئی ہے۔
Ayah 12:2337۔ یہ عورت جو سن میں یقیناً یوسف (علیہ السلام) سے بڑی ہوگی جیسا کہ آیۃ کریمہ (آیت) ” او نتخذہ ولدا “۔ سے اشارۃ ظاہر ہورہا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر فریفتہ ہوگئی یہاں تک کہ ان سے تعلق ناجائز پیدا کرنے پر تل گئی۔ حرامکاری آج تہذیب فرنگ میں عورت کے لئے کب عیب ہے جو اس کا عیب ہونا مضر جاہلی تہذیب میں فرض کرلیا جائے ؟ (آیت) ” التی ھو فی بیتھا “۔ قرآن مجید صاف بیتھا (اس عورت کا گھر) فرمارہا ہے۔ بیتہ (عزیز کا گھر) نہیں کہتا۔ مصری تمدن میں عورت بڑی حد تک ” آزاد “ وخود مختار تھی۔ (آیت) ” راودتہ۔۔۔ ھیت لک “۔ توریت میں ہے :۔” اور اس کے بعد یوں ہوا کہ اس کے آقا کے جورو کی آنکھ یوسف پر لگی اور وہ بولی کہ میرے ساتھ ہمبستر ہو۔ “ (پیدائش 39: 7) اور وہ ہرچند یوسف کو روز روز کہتی رہی، پر اس نے ایک نہ سنی کہ اس کے ساتھ سووے یا اس کے ساتھ رہے۔ “ (پیدائش 39: 10)
38۔ (کہ میں اتنے بڑے گناہ کا ارتکاب کروں) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اس فرمائش حرامکاری کے جواب میں پہلا اور اصلی جواب یہی ہے کہ یہ معصیت بہرحال پناہ مانگنے کے قابل ہے۔ وھذا اجتناب منہ (علیہ السلام) علی اتم الوجوہ واشارۃ الی التعلیل بانہ منکر ھائل یجب ان یعاذ باللہ (روح)
39۔ (اس کے ناموس میں خیانت کی جرات کس طرح کرسکتا ہوں) (آیت) ” انہ “۔ میں ضمیر زلیخا کے شوہر عزیز مصر کی جانب ہے۔ (آیت) ” ربی “۔ لفظ رب ظاہر ہے کہ یہاں خالق و پروردگار کے معنی میں نہیں دنیوی مالک اور آقائے مجازی کے معنی ہی میں ہے۔ کل من ملک شیئا فھوربہ (ابو البقاء) ولا یقال الرب مطلقا الا للہ تعالیٰ وبالاضافۃ یقال لہ ولغیرہ (راغب) حضرات انبیاء (قبل نبوت بھی) شاعر نہیں ہوتے ان کی زبان حقیقت سے خالی اور شاعرانہ نہیں ہوتی تمامتر حقایق کی ترجمان ہوتی ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت جس کی رعایا بلکہ غلام یامملوک تھے اس کے لئے یہ کہتے ہوئے بھی آپ (علیہ السلام) کو مطلق عار نہ تھا آج کل کے پرجوش خطیبوں کا سا انداز بیان ان کا نہیں ہوتا کہ سرتا سر محکوم اور رعیت ہو کر زبان سے بڑے بڑے شاندار الفاظ اس کے برعکس ادا کیا کریں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ محسن اگرچہ کافر ہو جب بھی اس کی رعایت کرنا چاہیے اور اہل طریق اس باب میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا دوسرا اور تائیدی جواب ہوا اور فہم مخاطب کے لحاظ سے بہت اہم۔ آپ (علیہ السلام) فرما رہے ہیں کہ حرام کاری ایک تو بجائے خود کیسی شدید معصیت اور پھر وہ بھی کس کے ساتھ ؟ اپنے ہی آقا کے حرم کے ساتھ۔ بہت سے جاہلی مذہبوں میں زنا کاری بجائے خود کوئی جرم ہی نہیں ہے البتہ حقوق شوہری میں خیانت جرم ہے عجب نہیں جو اس وقت کے مصری مذہب میں بھی یہی ہو اور یہ ٹکڑا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زلیخا کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے ہی کے لئے اضافہ کیا ہو ؟ جواب کے اس جزء کو جنہوں نے مرتبہ پیغمبری سے فروتر قرار دیا ہے انہوں نے خود ہی بڑی سطحیت برتی ہے۔ یہ جواب تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حکیمانہ عظمت کا ایک گہرا ثبوت ہے۔
40۔ (ایسے محسن کا حق میں یوں ادا کروں ! ) یہ تیسرا جواب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا ہوا فرماتے ہیں کہ ایک تو میں اپنے آقا کے ناموس میں خلل اندازی کروں اور پھر آقا بھی کیسا ؟ ایسا محسن وشفیق ! گویا کفران نعمت کی حد ہوگئی ! البتہ توریت نے اصل جواب اسی کو قرار دیا ہے اور اس سے توریت کی پستی بیشک قرآن کے مقابلہ میں ثابت ہوتی ہے۔ توریت میں ہے :۔ ” لیکن اس نے نہ مانا اور اپنے آقا کی جورو سے کہا کہ دیکھ میرا آقا کسی چیز سے جو گھر میں میرے پاس ہے واقف نہیں ہے۔ اور اس نے اپنا سب کچھ میرے ہاتھ میں کردیا۔ اس گھر میں مجھ سے زیادہ کوئی بڑا نہیں اور اس نے سوا تیرے کوئی چیز میرے اختیار سے باہر نہیں رکھی اور یہ اس لئے ہے کہ تو اس کی جورو ہے پھر میں ایسی بڑی بدذاتی کیوں کروں اور خدا کا گنہگار ہو وں “۔ (پیدائش 39: 9)
41۔ بلکہ اکثر تو آخرت سے پہلے ہی اسی دنیا میں تباہ وپریشان ورسوا ہو کر رہتے ہیں) (آیت) ” الظلمون “۔ ظالم یہاں اپنے وسیع مفہوم میں ہر فاسق و بدکار کے مرادف ہے۔ یہ گویا بہ طور تتمیم کلام کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا چوتھا جواب ہے یعنی آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک اسی پر کیا موقوف ہے بدکار وفاسق کسی قسم کے بھی ہوں روسوا ونامراد ہی رہتے ہیں۔
Ayah 12:2442۔ (درجہ عزم واقدام عمل میں) ای قصدت المخالطۃ وعزمت علیھا عزما جازما (روح) بمعنی القصد الجازم والعقد الثابت کما ھو المراد ھھنا (روح) توریت میں ہے :۔ ” اور یوں ہوا کہ ایک دن وہ اپنے کام کے لئے گھر کے اندر گیا اور گھر کے لوگوں میں سے وہاں کوئی نہ تھا تب اس نے اس کا پیراہن پکڑ کے کہا کہ میرے ساتھ ہمبستر ہو۔ “ (پیدائش 39: 11)
43۔ (امر طبعی کے درجہ میں) خلوت کی یکجائی میں جو ان عمر تندرست مرد کا محض خیال اگر جوان حسین عورت کی طرف جائے خصوصا جبکہ پیش قدمی اور تشویق عورت کی طرف سے ہورہی ہو تو یہ عیب نہیں بلکہ دلیل ہے مرد کے صحیح وتندرست اور مرد ہونے کی۔ ای مال الی مخالط تھا بمتقتضی الطبیعۃ البشریۃ ومثل ذلک لایکاد یدخل تحت التکلیف (روح) والمراد بھمہ (علیہ الصلوۃ والسلام) میل الطبع ومنازعۃ الشھوۃ لا القصد الاختیاری (بیضاوی) قال الشیخ ابو منصور الماتریدی (رح) وھم بھا ھم خطرۃ ولا صنع للعبد فی ما یخطربالقلب ولا مؤاخذۃ علیہ (مدارک) فعل (آیت) ” ھم “۔ کے دونوں معنی آئے ہیں خیال قوی بدرجہ عزم بھی اور خیال ضعیف بدرجہ امر طبعی بھی زلیخا کے لئے ھم پہلے معنی میں آیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) کے لئے دوسرے معنی میں۔ انما عبر عنہ بالھم لمجرد وقوعہ فی صحبتہ ھمماالذکر بطریق المشاکلۃ لالشبھہ بھا (روح) پیغمبر اخلاقی خطاؤں اور لغزشوں سے معصوم اور محفوظ بلاشبہ ہوتے ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کے احساسات بھی مردہ ہوجاتے ہیں (اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے تو یہ بھی مسلم نہیں کہ اس سن میں وہ نبی تھے بھی) پیغمبر کے سامنے کوئی حرام غذا اگر لذیذ وخوشبودار بنا کر رکھ دی جائے تو اس کی ناک خوشبو تو بہرحال محسوس کرے گی گو اس حرام غذا کے کھانے کے لئے التفات دل میں ذرا بھی نہ پیدا ہوگا۔
44۔ (لیکن وہ دلیل خداوندی تو ان کے علم ومشاہدہ میں تھی اس لئے وہ ادنی خیال بھی نہیں پیدا ہونے پایا) (آیت) ” برھان ربہ “۔ سے مراد ہے علم شریعت تقوی و طہارت والمراد برؤیتہ لھا کمال ایقانہ بھا ومشاھدتہ لھا ومشاھدۃ واصلۃ الی مرتبہ عین الیقین (روح) فرق یہ کہ اگر آپ خیال کے ابتدائی درجوں میں مبتلا ہوجاتے جب بھی عصمت نبی پر حرف نہیں آسکتا تھا چہ جائیکہ آپ (علیہ السلام) کے لئے تو یہ بھی نہیں ہوا۔
45۔ (چنانچہ آپ (علیہ السلام) فعل اور ارادۂ فعل دونوں سے بچ گئے) (آیت) ” السوٓء “۔ سے مراد گناہ صغیرہ ہے اور (آیت) ” الفحشآء “۔ سے مراد کبیرہ۔ السوء مقدمات الفحشاء وقیل ھو الامر السئی مطلقا (روح)
46۔ (چنانچہ ان سے صدور معصیت کیا معنی ارادۂ معصیت بھی نہ ہونے پایا)
Ayah 12:2547۔ (آگے آگے آپ (علیہ السلام) کہ بھاگ کر بچنا چاہتے تھے اور پیچھے پیچھے وہ عورت کہ دوڑ کر پکڑان چاہتی تھی) آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ کوئی صورت مخلصی کی نہیں تو بےتحاشا باہر نکل بھاگنے کا قصد کرلیا باوجود اس کے کہ دروازے بند تھے۔ (آیت) ” وغلقت الابواب “۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ کشاد قفل میں اشارہ اسی طرف ہے کہ جو دنیائے حرام سے بھاگنے کی ہمت کرتا ہے اس کے لئے نجات کی راہیں غیب سے کھل جاتی ہیں اور عارف رومی (رح) کا اشارہ اپنی مثنوی کے اس شعر میں اسی منزل کی جانب ہے۔
ع . نیست رخنہ گرچہ درعالم پدید۔ ہمچو یوسف خیرہ سرباید دوید۔
48۔ (جیسا کہ اس موقع پر بالکل قدرتی ہوتا ہے جب کوئی آگے آگے بھاگ رہا ہو اور کوئی دوسرا اسے پیچھے سے پکڑنا چاہے) توریت میں ہے :۔” تب اس نے اس کا پیراہن پکڑ کے کہا کہ میرے ساتھ ہم بستر ہو وہ اپنا پیراہن اس کے ہاتھ میں چھوڑ کر بھاگا اور باہر نکل گیا۔ “ (پیدائش 39: 12) صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ شیطان کا آخری حملہ غضب کا ہوتا ہے تاہم نیک بندے کسی طرح اس کے ہتھے نہیں چڑھتے۔
49۔ زلیخا نے جب دیکھا کہ اب تو راز فاش ہوا ہی جاتا ہے تو جھٹ یوں بات بنائی اور الٹی اپنی مظلومیت کی داستان شوہر اور بااختیار شوہر کو سنانا شروع کردی توریت میں اس مقام پر بھی حسب معمول ایک بلا ضرورت طویل عبارت ہے اور اس کے بعد ہے :۔ ” سو اس نے اس کا پیراہن اپنے پاس رکھا جب تک کہ اس کا آقا گھر میں آیا تب اس نے ایسی ہی باتیں اس سے کہیں کہ یہ عبری غلام جو تو نے ہم پاس لارکھا گھس آیا کہ مجھ سے ٹھٹھا کرے اور جب میں نے آواز بلند کی اور چلا اٹھی تو وہ اپنا پیراہن مجھ پاس چھوڑ کر باہر نکل بھاگا۔ “ (پیدائش 39 : 15۔ 18) (آیت) ” ما جزآء من اراد باھلک سوٓء ا “۔ زلیخا کی اس فرد قرار داد جرم سے بھی اس قرینہ کی تائید ہوتی ہے کہ اس ملک اور وقت کے قانون میں اقدام زنا بجائے خود کوئی جرم نہ تھا بلکہ ناموس شوہری میں خیانت اصل جرم تھی ،
Ayah 12:2650۔ (اور اب الٹا الزام میرے اوپر ڈالے دیتی ہے) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مخالف کی شرارت کا ایسے وقت میں اظہار جبکہ اخفاء میں اپنے ضرر کا احتمال ہو مکارم اخلاق کے منافی نہیں۔
Ayah 12:2751۔ جدید قانونی اصطلاح میں ایسی گواہی کو قرینہ کی گواہی (CircumstAntiAl Evidence) کہتے ہیں یہاں شاہد اور شہادت اپنے اصطلاحی فقہی معنی میں نہیں جو گواہ کے عاقل ہونے بالغ ہونے وقوع واقعہ کے وقت موجود ہونے وغیرہ کی بحثیں پیدا ہوں یہ گواہ تو صرف اس معنی میں تھا کہ اس نے فریقین کے متضاد بیانات کے درمیان فیصلہ کا ایک عاقلانہ طریقہ سجہا دیا۔ تفسیروں میں ایک حدیث مرفوع کے حوالہ سے آتا ہے کہ یہ گواہ ایک شیر خوار بچہ تھا بہ طور خرق عادت کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صفائی میں بول اٹھا۔ لیکن بہت سے ائمہ تفسیر نے اس کے برعکس یہ کہا ہے کہ یہ شخص زلیخا کے چچیرے بھائی اور حاکم وقت تھے تقرب سلطانی رکھنے والے اور درباری مشوروں میں شریک ہونے والے۔ ماکان بصبی ولکن کان رجلا حکیما (ابن جریر عن عکرمہ) کان من خاصۃ الملک (ابن جریر عن ابن عباس) کان رجلا حکیما من اھلھا ذا رأی یاخذ الملک برأیہ ویستشیرہ (بحر عن قتادہ) کان لھا ابن عم وکان رجلا حکیما وھذا قول طائفۃ عظیمۃ من المفسرین (کبیر) قال الحسن وعکرمۃ وقتادۃ و مجاھد لم یکن صبیا ولکنہ کان رجلا حکیما ذا رأی (معالم) عن ابن ابی ملیکہ عن ابن عباس کان من خاصۃ الملک وکذا قال مجاھد وعکرمۃ والحسن وقتادۃ والسدی ومحمد بن اسحاق وغیرھم انہ کان رجلا (ابن کثیر) فقہاء نے اس آیت کے ذیل میں ایک بڑی بحث اس کی اٹھائی ہے کہ پڑی ہوئی گمشدہ چیز جب مل جائے تو آیا محض اس کی علامات بتادینے سے اس چیز کی ملک کا ثبوت ہوجاتا ہے یا نہیں اور جصاص کی احکام القرآن میں اسی باب میں مختلف فقہاء کے مذاہب نقل ہوئے ہیں۔ فقہاء مفسرین نے آیت سے قیاس شرعی کے جواز اور عرف و عادت قوم سے استدلال کے جواز کا بھی استنباط کیا ہے۔ وفی الایۃ دلیل علی القیاس والاعتبار والعمل بالعرف والعادۃ (قرطبی)
Ayah 12:2852۔ ہندی میں اسی کید کو تر یا چرتر کہتے ہیں اور ہندی ادبیات اس طرح کے قصوں سے بھرے پڑے ہیں۔ عورت میں جو ایک خاص مادہ ناز وانداز کا ہوتا ہے اور مرد کے دل میں عورت کے لیے جو طبعی کشش رکھ دی گئی ہے قدرۃ اس نے عورت کے ہاتھ میں اثر اندازی کا ایک زبردست حربہ دے دیا ہے۔ یہاں یہ قول اگرچہ عزیز مصر کی زبان سے نقل ہوا ہے اس کے اپنے تجربہ کچھ اسی قسم کے ہوں گے لیکن قرآن نے بھی اسے بلانکیر نقل کردیا ہے۔ عزیز کے مقولہ کی تائید میں فرنگی اور ہندی حکماء نے اس موضوع پر جو کچھ لکھا ہے اس کے لئے ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔ علماء نے ایک سوال یہاں پیش کیا ہے کہ قرآن ہی نے شیطان کے کید کو ضعیف بتایا ہے۔ ان کید الشیطن کان ضعیفا اور یہاں عورتوں کے کید کو عظیم ٹھہرایا ہے تو کیا عورتوں کا کید شیطان سے بھی بڑھا ہوا ہے ؟ اور پھر اس کا جواب یہ دیا کہ شیطان کا کید جو یہاں ضعیف قرار دیا گیا ہے وہ خدا کی تدبیر کے مقابلہ میں ہے اور نسائی کید جو عظیم بتایا گیا وہ بہ مقابلہ مردوں کے ہے۔ فلا یضرکون ضعف کید الشیطان انما ھو فی مقابلۃ کید اللہ تعالیٰ وعظم کید ھن انما ھو النسبۃ الی کید الرجال (روح)
Ayah 12:2953۔ انکشاف حقیقت کے بعد عزیز پہلے تو عورتوں کی چالبازی پر نفرت کرتا ہے پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف مخاطب ہو کرنیم معذرت کے انداز میں کہتا ہے جو ہونا تھا ہوچکا اب تم بھی اس پر خاک ڈالو نہ اس کا چرچادوسروں سے کرونہ اس کا غبار اپنے دل میں رکھو۔
54۔ (کہ اول تو خود اتنی بڑی جرأت کر گزری اور پھر خواہ مخواہ ایک بیگناہ کو پھانس دینا چاہا) (آیت) ” واستغفری لذنبک “۔ پھر سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ قصور کی معافی کس سے مانگی جائے ؟ ایک جواب یہ دیا گیا ہے کہ خدا سے۔ دوسرا جواب یہ منقول ہے کہ اپنے شوہر سے۔ مصریوں کے مشرکانہ عقائد پر نظر کرتے ہوئے پہلا قول ضعیف اور دوسرا قول صحیح معلوم ہوتا ہے۔
Ayah 12:3055۔ (کہ گری بھی تو کس پر ؟ اپنے ہی خادم اور غلام پر اور وہ بھی اپنا ہم وطن وہم نسب نہیں پردیسی اور کنعانی ! ) (آیت) ” قال نسوۃ فی المدینۃ “۔ واقعہ کے چرچے سوسائٹی میں شروع ہوگئے اور سوسائٹی کی عورتوں نے حسب معمول اس میں خوب دلچپسی لی اور برابر کی وزیر زادیوں اور امیر زادیوں نے یہ طعنہ زنی شروع کردی۔ نسوۃ جمع تکسیر ہے جو قلت عدد پر دلالت کرتی ہے گویا یہ لفظ لاکر قرآن مجید نے ادھر بھی اشارہ کردیا کہ ایسی بیویوں کی تعداد کچھ بہت بڑی نہ تھی صرف گنتی کی چند تھیں جو ہر طرح بیگم وزیر کی ہمسر وہم چشم تھیں۔ (آیت) ” شغفھا “۔ شغف دل کی وہ بیماری ہے جو دل کے اندر تک پہنچ جائے۔ داء یصل الی القلب فینفذ الی القلب (بحر)
Ayah 12:3156۔ خواتین مصر کے طبقہ امراء میں اس وقت اونچی اونچی مسندوں پر بیٹھنے اور مہمانوں کے بٹھانے کا رواج عام تھا۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی (آیت) ” فلما سمعت بمکرھن “۔ زلیخا کو بھی آخر ان لوگوں کی زبان درازیوں کی خبر پہنچی اور انہیں نیچا دکھانے کی نئی تدبیر سوجھی سب کو دعوت میں اپنے ہاں بلابھیجا مکر یہاں لعن طعن طنز وتعریض کے معنی میں ہے۔ ھو اغتیابھن ایاھا وسوء مقالتھن (بحر)
57۔ یوسف (علیہ السلام) بہرحال خادم تو اب تک تھے انہیں گھر کی مالکہ نے آواز دی کہ سامنے آجاؤ۔ آگئے نظریں نیچی کئے ہوئے چہرہ نور عصمت سے جگمگایا ہوا اور شہر کی ایک سے ایک بڑھ کر حسین و جمیل وزیر زادیوں امیر زادیوں کا مجمع (آیت) ” سکینا “۔ یہ چھریاں کھانے کے لئے دی گئی تھیں۔ مصری تمدن کھانے کے لئے چھری چمچوں سے بیگانہ نہ تھا۔
58۔ (کہ یہ حسن و جمال کا پتلا کیسا نوجوان ہے کہ ایسی زہد شکن فضا میں آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا) ای اعظمتہ ودھشن برؤیۃ جمالہ الفائق (روح)
59۔ ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی معجزہ یوسفی ہو جیسا کہ بعض کا قول نقل ہوا ہے لیکن حالات طبعی کا تقاضہ بھی تو کچھ ایسا ہی تھا اور اس کے لئے مجلس کا نقشہ ذرا وضاحت کے ساتھ پیش نظر کرلیجیے۔ دعوت اور ضیافت کا اہتمام شاہی پیمانہ پر ہے۔ میزبان وزیر سلطنت کی بانوے محترم ہیں۔ عشوہ وناز سے لبریز وزیرزادیاں امر زادیاں جمع ہیں۔ میووں پھلوں سے شغل ہورہا ہے۔ چھری کانٹے کے رواج سے یوں بھی مصری تمدن نا آشنانہ تھا اور اس وقت تو دور ہی میووں اور پھلوں کا چل رہا ہے۔ ہاتھوں میں چھریاں ہیں گپ شب ہورہی ہے یک بیک ایک ڈرامائی انداز سے ایک نور پیکر سامنے لے آیا جاتا ہے۔ نظریں نیچی، آنکھوں پر حیا کے پردے، چہرے پر عصمت کے سہرے جن کے چہرے اس وقت تک خود ہی سب کو دعوت نظارہ دینے کے عادی تھے وہ آپ اس وقت تماشائی بنی ہوئی اس حسن و جمال عصمت وعفاف کے پتلے کے نظارے میں محو ! اور وہ نہ کسی کی طرف نظر اٹھاتا ہے نہ کسی سے دلچپسی لیتا ہے ایسے میں عجب کیا جو ٹکٹکی لگ گئی ہو اور پلک جھپکانا تک بار ہورہا ہو۔ اور چھریاں بجائے پھلوں کے ہاتھوں کی جلد پر چل گئی ہوں ! پھر آیت کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہاتھ سب ہی کے کٹے ہوئے ہوں چند کا بھی زخمی ہوجانا صیغہ جمع لانے کے لئے کافی ہے۔ اور قطع سے یہ مراد نہیں کہ ہاتھ کاٹ ہی ڈالے محض زخمی کرلینا خراش آجانا بھی کافی ہے۔ ای جرح تھا (کشاف) ای جرح تھا بما فی ایدیھن (روح)
60۔ یوسف (علیہ السلام) حسن و جمال میں ممتازتو تھے ہی، توریت میں ہے :۔ ” اور یوسف (علیہ السلام) خوبصورت اور نور پیکر تھا۔ “ (پیدائش 39: 6) تقوی وعفاف میں بھی اپنی مثال آپ تھے۔ جاہلی متمدن قوم کی عورتیں تقوی وعفاف کے اس معیار سے بھلا کیا واقف دنگ ہوگئیں آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور اپنی زبان میں بول اٹھیں کہ یہ نوجوان انسان کا ہے کو ہے یہ تو کوئی دیوی دیوتا ہیں۔ آکاش سے اترے چلے آرہے ہیں۔ جاہلی قوموں نے فرشتوں ہی کو اپنی زبان میں دیوتا کہا ہے۔ (آیت) ” ملک کریم “۔ یعنی شرافت و تقدس کا پتلا۔ ای شریف کثیر المحاسن (روح) (آیت) ” حاش للہ “۔ عربی محاورہ میں کلمہ تعجب ہے جو مصر کی فیشن ایبل لیڈیاں حسین کنعانی نوجوان کے کمال عفت وتقوی پر دنگ ومتحیر ہو کر زبان پر لا رہی ہیں۔ فالتعجب عن قدرتہ علی خلق عفیف مثلہ (بحر)
Ayah 12:3261۔ (تو اب تو قائل ہوئیں اور جسے معمولی کنعانی غلام سمجھ رہی تھیں وہ کیسا حسین و جمیل جوان رعنا نکلا ! )
62۔ یوسف صدیق (علیہ السلام) کی پاک دامانی پر یہ مزید بلیغ شہادت زلیخا کی زبان سے ہے۔ (آیت) ” فاستعصم “۔ استعصام۔ نام ہے کمال پاکبازی اور شدت احتیاط کا۔ الاستعصام بناء مبالغۃ یدل علی الاعتناء البلیغ والتحفظ الشدید (کشاف)
63۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دھمکانے اور سنانے کو کہا اور دوسری حسین و جمیل خاتونیں امیرزادیاں اور وزیرزادیاں بھی عجب نہیں جو یوسف (علیہ السلام) کو سمجھانے بجھانے لگی ہوں کہ یہ کیسی حماقت ہے جو ایسی حسین وناز نین مالکہ کو اپنے سے ناخوش کررہے ہو۔ (آیت) ” لیسجنن۔ تاریخ کی شہادت موجود ہے کہ مصری حکومتوں میں جیل خانہ کا رواج ہوچکا تھا۔
Ayah 12:3364۔ زلیخانے ابھی ابھی قید کی دھمکی دی تھی اس پر یوسف (علیہ السلام) دعا میں عرض کرتے ہیں کہ پروردگار ! مجھے جیل کی سختیاں گوارا ہیں اور ان لوگوں کی نفسانی مشوروں پر عمل گوارا نہیں۔ اللہ اکبر کیا مقام تھا عصمت یوسفی کا۔ خوب خیال رہے حضرت یوسف (علیہ السلام) جیل جانے کی دعا نہیں کررہے ہیں۔ جیل جانا اپنا مقصود نہیں قراردے رہے ہیں صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ معصیت کا صدور تو مجھے جیل کی سختیوں سے بھی ناگوار تر ہے۔ بعض عارفوں نے لکھا ہے کہ مصیبت کو معصیت پر اختیار کرنا صدیقین کا شیوہ ہے اور اپنے تقوی و تحمل پر بھروسہ نہ رکھنا بلکہ معصیت کے دواعی واسباب سے بھاگتے رہنا سعادت مندوں کا شعار ہے۔
65۔ کمال عبدیت وشکستگی یہ ہے کہ کمال تقوی پر بھی نازواعتماد اپنی ذات پر نہیں ہوتا دعابس اللہ تعالیٰ ہی سے ہے کہ آپ ہی مجھے سنبھالے رکھیے، جیسا کہ اب تک سنبھالے رکھا ہے ورنہ مجھ بشر کی کیا بساط ہے کہ ان ترغیبات کے سامنے ثابت قدم رہ سکوں۔ مفسر تھانوی (رح) نے یہاں کیا خوب فرمایا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی یہ دعا ذرا بھی منافی عصمت کے نہیں کیونکہ یہ عصمت بھی تو بدولت حفاظت خداوندی ہی کے ہے انبیاء (علیہم السلام) کی نظر اصل موثر کی طرف ہوتی ہے اس لیے ان کو اپنی عصمت پر اعتماد وناز ذرا نہیں ہوتا۔ (آیت) ” والا تصرف عنی “۔ کے کھلے ہوئے معنی اصرف عنی ہے جیسا کہ اگلی ہی آیت میں (آیت) ” فصرف عنہ “۔ سے ظاہر ہوا جاتا ہے۔ (آیت) ” اکن من الجھلین “۔ یہاں گویا یہ بتا دیا کہ تقوی کے برعکس راہ اختیار کرنا شعار اہل جاہلیت کا ہے لفظ جاھلیت کا تعلق تمامتر کردار اور سیرت سے ہے خواندگی اور تعلیم ظاہری کے فقدان سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ عارفوں نے کہا ہے کہ اپنے نفس کو خاطی اور عاجز جاننا اور ہر توفیق خیر منجانب اللہ جاننا اور خبث اپنے نفس کی جانب منسوب کرتے رہنا صالحین ومتقین کی روش ہے۔ محققین نے لکھا ہے کہ یہ مقام کمال صدیقیت ہے جوان حسین امیر زادی اپنی طرف بلارہی ہے اور آپ (علیہ السلام) بھی نوجوان ہیں حسین ہیں اس پر بھی خوف خدا اس درجہ غالب ہے کہ ان لذتوں کو چھوڑ کر جیل جانا گوارا کرلیتے ہیں۔ وھذا فی غایۃ مقامات الکمال انہ مع شبابہ وجمالہ وکمالہ تدعوہ سیدتہ وھی امراۃ عزیز مصر وھی مع ھذا فی غایۃ الجمال والمال والریاسۃ ویمتنع من ذلک ویختار السجن علی ذلک خوفا من اللہ ورجاء ثوابہ (ابن کثیر)