12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 12:1–4

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

ا لۤرٰ یہ کتاب مبین کی آیات ہیں

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس قرآن کو اتارا ہے عربی تاکہ تم سمجھو۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم نے جو یہ قرآن آپ کے پاس بھیجا ہے اس کے ذریعہ سے ہم آپ سے سب سے اچھا قصہ بیان کرتے ہیں۔ اور اس سے پہلے آپ محض بیخبر تھے۔

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب کہ یوسف نے اپنے والد سے کہا کہ اے میرے ابا میں نے دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور چاند اور سورج مجھے سجدہ کئے ہوئے ہیں۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب اور ان کے والد کی تعبیر اور ضروری تاکید یہاں سے سورة یوسف شروع ہو رہی ہے اس سورت میں تفصیل کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان فرمایا اور اس کو احسن القصص بتایا ہے اور ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ اس سے پہلے آپ اس قصہ کو نہیں جانتے تھے۔ آپ کو اس کا علم صرف وحی کے ذریعہ ہوا ہے لوگوں کو آپ کا بتانا آپ کی نبوت کی بھی دلیل ہے اور قرآن مجید کے حق اور منزل من اللہ ہونے کی بھی ‘ تصدیق کرنے والے سنیں گے اور غور کریں گے تو یہ سمجھ لیں گے کہ یہ واقعی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ہم نے قرآن کو عربی میں نازل کیا قرآن مجید کے اولین مخاطب اہل عرب ہی تھے۔ انہیں اس کے سمجھنے میں کوئی دقت نہ تھی اگر قرآن غیر عربی میں ہوتا تو وہ کہہ سکتے تھے کہ یہ زبان ہماری سمجھ میں نہیں آتی جب قرآن عربی میں نازل ہوا تو اہل عرب پر لازم تھا کہ اس کی تصدیق کرتے لیکن جنہیں ایمان لانا نہ تھا وہ ضد اور عناد پر ہی اڑے رہے اور کفر پر جمے رہے۔ یہودیوں کے لئے بھی عبرت تھی اور سمجھنے کی بات تھی انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ معلوم تھا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے کسی سے پڑھا نہیں آپ کا کوئی استاد نہیں تھا جس نے آپ کو انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے واقعات بتائے ہوں۔ یہ سب کچھ جاننے کے باوجود عموماً یہودی کافر ہی رہے ‘ اور ان میں سے بعض نے سورة یوسف (علیہ السلام) سن کر اسلام قبول کرلیا۔ تفسیر در منثور میں بحوالہ دلائل النبوۃ للبیہقی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک یہودی عالم رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس وقت آپ سورة یوسف تلاوت فرما رہے تھے وہ کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ یہ سورت آپ کو کس نے سکھائی ہے آپ نے فرمایا کہ یہ سورت مجھے اللہ تعالیٰ نے سکھائی ہے۔ اسے بڑا تعجب ہوا اور یہودیوں کے پاس واپس پہنچ کر اس نے کہا کہ اللہ کی قسم وہ اسی طرح قرآن پڑھتے ہیں جیسا کہ توریت میں (بعض) چیزیں نازل ہوئی ہیں اس کے بعد وہ ان لوگوں کو اپنے ہمراہ لے کر آیا۔ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو ان صفات سے پہچان لیا جنہیں وہ جانتے تھے اور مہر نبوت کو بھی آپ کے دونوں شانوں کے درمیان دیکھ لیا پھر آپ کی قرأت سننے لگے آپ سورة یوسف تلاوت فرما رہے تھے۔ انہیں بھی تعجب ہوا اور پھر اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ (در منثور ص 2 ج 4) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے والد حضرت یعقوب (علیہ السلام) تھے (یہ وہی یعقوب ہیں جن کا لقب اسرائیل تھا اور یہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے تھے اور حضرت اسحاق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے والد کے چھوٹے بیٹے تھے اور یہ دوسری بیوی سے تھے ‘ ان کا ایک حقیقی بھائی بھی تھا جس کا نام بنیامین بتایا جاتا ہے پہلی بیوی سے بھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد تھی ان میں جو بیٹے تھے ان کی تعداد دس تھی ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایک دن اپنے والد سے کہا کہ میں نے یہ خواب دیکھا ہے کہ مجھے چاند اور سورج اور گیارہ ستارے سجدہ کر رہے ہیں ‘ ان کے والد کے ذہن میں اس کی یہ تعبیر آگئی کہ یوسف عروج والا ہوگا اور اس کے گیارہ بھائی اور ماں باپ اسے سجدہ کریں گے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے سے کہا کہ تم یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا وہ اس خواب کو سن کر گیارہ کے عدد پر غور کریں گے تو سمجھ لیں گے کہ تم کو اللہ بلندی دے گا اور وہ لوگ تمہارے مقابلہ میں نیچے رہیں گے ‘ خواب کی تعبیر سے متاثر ہو کر اندیشہ ہے کہ وہ کوئی ایسی تدبیر نہ کر بیٹھیں جس سے تمہیں کوئی تکلیف پہنچ جائے ‘ (اللہ کی قضا و قدر کے سامنے کسی کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی کسی کو گوارا ہو یا نہ ہو بہر حال وہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا۔ اللہ تعالیٰ جسے بلندی عطا فرمائے وہ ضرور بلند ہوگا لیکن حسد کرنے والے اپنی جہالت اور حماقت سے اور شیطان کے سمجھانے بجھانے سے اس کے خلاف مخالفانہ تدبیریں کرتے ہیں جس کی علمی ‘ عملی اور مرتبہ کی بلندی کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہوتا ہے۔ بالآخر یہ مخالفین سب ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ آگے بڑھائیں وہ بڑھ کر ہی رہتا ہے۔ حسد بری بلا ہے حاسد اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا اور چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو رد کر دے۔ العیاذ باللہ۔ )
Ayahs 12:5–6

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

ان کے والد نے کہا کہ اے میرے چھوٹے بیٹے تم اپنا خواب اپنے بھائیوں کو مت بتانا ورنہ وہ تمہارے لئے کوئی تدبیر کریں گے۔ بلاشبہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور تمہارا رب اسی طرح تمہیں منتخب فرمالے گا۔ اور تمہیں خوابوں کی تعبیر کا علم دے گا اور وہ تم پر اور یعقوب کی آل پر اپنی نعمت پوری فرما دے گا۔ جیسا کہ اس نے اپنی نعمت اس سے پہلے تمہارے دونوں دادوں ابراہیم اور اسحاق پر پوری فرما دی۔ بیشک آپ کا رب جاننے والا حکمت والا ہے

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اول تو یہ نصیحت کی کہ تو اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان مت کرنا اور پھر فرمایا کہ میں سمجھ رہا ہوں اور یقین کر رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرما لے گا اور تمہیں تعبیر خواب کا علم بھی عطا فرمائے گا اور تم پر اپنا انعام پورا فرمائے گا جس میں نبوت کا عطا فرمانا بھی ہے ‘ اللہ تعالیٰ تم پر اور آل یعقوب پر اپنا انعام کامل فرمائے گا۔ جیسا کہ اس سے پہلے تمہارے پردادا ابراہیم (علیہ السلام) پر اور تمہارے دادا اسحاق (علیہ السلام) پر انعام کامل فرمایا ہے۔ (اِنَّ رَبَّکَ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ) (بےشک تیرا رب علم والا ہے حکم والا ہے) اس کے فیصلیعلم اور حکمت کے موافق ہیں۔
Ayahs 12:7–9

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

بلاشبہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں سوال کرنے والوں کیلئے دلائل ہیں

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

بلاشبہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں سوال کرنے والوں کیلئے دلائل ہیں۔ جب کہ ان کے بھائیوں نے یوں کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم سب مل کر پوری ایک جماعت ہیں۔ بلاشبہ ہمارے والدکھلی غلطی پر ہیں۔

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو قتل کر دو یا اسے کسی زمین میں ڈال دو ۔ ایسا کرنے سے تمہارے والد کا رخ تمہاری طرف ہوجائے گا اور اس کے بعد تم صلاح والے بن جاؤ۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا مشورہ کہ اسے قتل کر دو یا کسی دور جگہ لے جا کر ڈال دو ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا جو واقعہ ہے اس میں سوال کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے آزمائش کے طور پر رسول اللہ ﷺ سے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کا واقعہ معلوم کیا تھا قرآن کریم میں واقعہ بیان کردیا گیا جسے رسول اللہ ﷺ نے سنا دیا لہٰذا سوال کرنے والوں کیلئے لائی ہوئی بات کے دلائل قائم ہوگئے کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں ممکن ہے کہ بعض یہود نے بطور امتحان سوال کیا ہو اور بعض نے آپ سے تلاوت کرتے ہوئے سنا ہو پھر دوسروں کو سنانے کے لیے لائے ہوں اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا قول نقل فرمایا کہ انہوں نے آپس میں یوں کہا کہ ہمارے والد کو یوسف اور اس کا حقیقی بھائی یعنی بنیامین زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہماری پوری جماعت ہے (اور اس جماعت کا ہمارے والد کو فائدہ بھی ہے کیونکہ ہم لوگ ان کی خدمت کرتے ہیں یہ دونوں چھوٹے بچے خدمت کے قابل بھی نہیں ہیں) ہمارے ابا جان کا جو محبت کا رخ ان دونوں کی طرف ہے یہ صحیح نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے والد اس بارے میں صریح غلطی پر ہیں ‘ والد کا رخ ہماری طرف اسی وقت ہوسکتا ہے جبکہ ہم یوسف کو ان کے سامنے سے ہٹا دیں اور اس کے دو طریقے ہیں یا تو اس کو قتل کردیں یا کہیں دور دراز جگہ پر پھینک دیں جہاں سے کوئی خیر خبر نہ پہنچے ‘ جب یوسف ان کے سامنے سے دور ہوجائے گا تو سارا رخ ہماری ہی طرف ہوگا اور ہمیں اپنے والد کی طرف سے بہت کچھ مل سکے گا جس کی وجہ سے ہم صلاح اور فلاح والے ہوجائیں گے (چونکہ یوسف اور بنیامین میں یوسف ہی زیادہ محبوب تھا اس لئے انہوں نے یہ سمجھا کہ دونوں میں سے ایک کو جدا کردینا ہماری کامیابی کا ذریعہ بن جائے گا) مشورہ ہو ہی رہا تھا کہ انہیں میں سے ایک بھائی نے کہا کہ اگر تمہیں ایسا کرنا ہی ہے تو یوسف کو قتل نہ کرو البتہ یوسف کو کسی اندھے کنویں میں ڈال دو قتل کے گناہ سے بچ جاؤ گے اور گزرنے والے تو گزرا ہی کرتے ہیں کنویں کے پاس سے کوئی قافلہ گزرے گا تو اس کی آواز سن لے گا یا پانی نکالنے کے لئے کنویں کے پاس پہنچ کر ڈول ڈالے گا تو اسے پتہ چل جائے گا کہ یہاں کوئی بچہ ہے لہٰذا وہ اسے نکال لے گا اور اٹھا کرلے جائے گا اس طرح بچہ باپ سے بھی دور ہوجائے گا اور اس کی جان بھی نہ جائے گی۔ مفسر ابن کثیر نے قتادہ اور محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ یہ رائے سب سے بڑے بھائی نے دی تھی جس کا نام روبیل تھا اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدرنے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمانا تھی اور مصر میں با اقتدار بنانا تھا لہٰذا قتل تو کر ہی نہیں سکتے تھے بڑے بھائی کا مشورہ قبول کرلیا اور اندھیرے کنویں میں ڈال دیا جس کا ذکر آگے آئے گا۔ مفسر ابن کثیر نے محمد ابن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ ان لوگوں نے متعدد وجوہ سے بہت ہی بری بات کا فیصلہ کیا قطع رحمی ‘ والد کو تکلیف دینا ‘ معصوم چھوٹے بچے پر شفقت نہ کرنا ‘ بوڑھے باپ پر ترس نہ آنا ‘ یہ سب ایسے کام ہیں جو مجموعی حیثیت سے متعدد گناہوں پر مشتمل ہیں۔ (وَتَکُوْنُوْا مِنْ م بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ ) ایک مطلب تو وہی ہے جو اوپر لکھا گیا اور ایک مطلب یہ ہے کہ تمہیں جو کچھ کرنا ہے کر گزرویہ ہے تو گناہ کا کام لیکن بعد میں توبہ کر کے نیک بن جانا ‘ اس مضمون کی طرف مفسر ابن کثیر نے ص 471 ج 2 میں اشارہ فرمایا فاضمروا التوبۃ قبل الذنب۔
Ayahs 12:10–11

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو اور اسے کسی اندھیرے کنویں میں ڈال دو تاکہ اس کو قافلہ والوں میں سے کوئی مسافر اٹھالے۔ اگر تم کو کرنا ہی ہے۔

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اے ہمارے ابا کیا بات ہے آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اطمینان نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جانے کی والد سے درخواست کرنا اور ان کا اندیشہ کرنا کہ اسے بھیڑیا نہ کھاجائے ان لوگوں کا مشورہ تو ہو ہی چکا تھا کہ یوسف کو لے جانا ہے اور باپ کی نظروں سے اوجھل کرنا ہے لیکن اس کا طریقہ کیا ہو باپ تو اپنی نظروں سے دور کرنے کے لیے تیار نہیں ہمراہ لے جانے کے لیے کم از کم والد کی اجازت تو ہونی چاہئے ‘ لہٰذا والد کی خدمت میں آکر یوں کہنے لگے کہ ہم لوگ جنگل جاتے رہتے ہیں وہاں کھاتے بھی ہیں کھیلتے بھی ہیں ‘ یوسف بھی ہمارا چھوٹا بھائی ہے ہم اس کے خیر خواہ بھی ہیں اور محافظ بھی ہیں آخر کیا بات ہے آپ اسے ایک دن بھی ہمارے ساتھ نہیں بھیجتے اس کے بارے میں آپ کو ہم پر ذرا بھی اطمینان نہیں ‘ کل کو آپ اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ہمارے ساتھ کھانے اور کھیلنے میں شریک ہوگا ‘ ان کے والد نے کہا کہ دیکھو دو باتیں ہیں جن کی وجہ سے میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجتا ہوں۔ اول تو یہ کہ تمہارا اسے ساتھ لے جانا ہی مجھ پر شاق ہے اور میرے رنج وغم کا باعث ہے اگر تم اسے لے گئے جب تک اسے واپس لے کر آؤ گے میرا دل کڑھتا ہی رہے گا اور میرے دل پر رنج و غم چھایا رہے گا ‘ اور دوسری بات یہ ہے کہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ تم اس کی طرف سے غافل ہوجاؤ ‘ تم تو بکریاں چراؤ اور تیر اندازی کرو اور کوئی بھیڑیا آکر اسے کھاجائے ‘ پہلی بات کا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے کیونکہ ان کی نظروں سے بیٹے کا غائب ہونا بہر حال ان کے نزدیک والد کے لیے رنج و غم کا باعث تھا اور ان کی قلبی تکلیف کا احساس ہوتے ہوئے ہی انہوں نے ان کے جدا کرنے کا فیصلہ کیا تھا البتہ دوسری بات کا انہوں نے یہ جواب دیا کہ بھلایہ ہوسکتا ہے کہ اتنی بڑی جماعت کے ہوتے ہوئے اسے بھیڑیا کھاجائے اگر ہمارے ہوتے ہوئے اسے بھیڑیا کھا گیا تو ہم بالکل ہی کسی بات کے نہ رہے اور ہم تو سب کچھ گنوا دینے والے اور ضائع کردینے والے ہوجائیں گے۔ مطلب یہ تھا کہ ہم اس کی پوری طرح حفاظت کریں گے اور حفاظت کرنے پر قدرت بھی رکھتے ہیں ہماری اتنی بڑی جماعت کے ہوتے ہوئے اسے بھیڑیا کھاجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اتنے لمبے تڑنگے قوت اور طاقت رکھنے والے جوانوں کی قوت اور جوانی کچھ بھی نہ ہوئی اور گویا بالکل ہی اپاہج بن کر رہ گئے۔ آپ ہمارے بارے میں ایسا خیال تو نہ فرمائیے۔
Ayahs 12:12–15

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

آپ اس کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے۔ تاکہ وہ ہمارے ساتھ کھائے اور کھیلے اور ہم اس کی پوری حفاظت کرنے والے ہیں۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

یعقوب نے کہا کہ بیشک مجھے یہ بات رنجیدہ کرتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں اندیشہ کرتا ہوں کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اس کو بھیڑیا کھاجائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

کہنے لگے کہ اگر اس کو بھیڑیا کھاجائے اور ہماری پوری جماعت ہے تو ہم بالکل ہی خسارہ میں پڑنے والے ہوجائیں گے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب یوسف کو لے گئے اور اس پر متفق ہوگئے کہ اسے اندھیرے کنویں میں ڈال دیں اور ہم نے اس کے پاس وحی بھیج دی کہ تم ضرور انہیں یہ بات جتلاؤ گے اور وہ نہیں جانیں گے

بھائیوں کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں ڈالنا اور کرتہ پر جھوٹا خون لگا کر واپس آنا اور ان کے والد کا فرمانا کہ یہ تمہارے نفسوں نے سمجھایا ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے والد کو کسی طرح سمجھا بجھا کر یوسف (علیہ السلام) کو لے گئے اور جنگل میں لے جا کر ایک اندھیرے کنویں میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا اور انہیں اس میں ڈال بھی دیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یوسف ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ تم ان لوگوں کو یہ بات بتلاؤ گے کہ تم نے میرے ساتھ ایسا کیا تھا ‘ اور وہ یہ جانیں گے بھی نہیں کہ یہ جو شخص ہمیں جتلا رہا ہے یہ وہی ہے جسے ہم نے کنویں میں ڈال دیا تھا ‘ چناچہ وہ وقت آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا (ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُوْنَ ) (کیا تمہیں اس کا علم ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا جبکہ تم جاہل تھے) اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی آئی کہ تم انہیں ان کی یہ حرکت بتادو گے اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تسلی بھی تھی اور یہ خبر بھی تھی کہ تم اس کنویں میں سے زندہ نکلو گے اور ایسے مقام پر پہنچو گے کہ ان سے خطاب کرسکو گے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) شام کو روتے ہوئے اپنے والد کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ ابا جی ہم سب تو آپس میں دوڑ لگانے لگے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا ہمارا خیال تھا کہ اس جگہ بھیڑیا نہ آئے گا لیکن بھیڑیا آگیا اور یوسف کو کھا گیا ‘ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ہم کیسے ہی سچے ہوں آپ یقین کرنے والے نہیں ہیں اپنی بات کو سچا ثابت کرنے کے لیے انہوں نے یہ کیا کہ کنویں میں ڈالنے سے پہلے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ اتار لیا تھا اس میں کسی جانور کا خون لگا لیا تھا یہ کرتہ انہوں نے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کردیا کہ دیکھئے یہ یوسف کا کرتہ ہے اس میں ان کا خون لگا ہوا ہے بھیڑئیے نے چیر پھاڑ کر کے یوسف کو کھالیا اور اس کے کرتہ میں یہ خون لگ گیا ہے یہ کرتہ ہم اٹھا کرلے آئے ہیں، عیب کرنے کو بھی ہنر چاہیے کرتہ میں خون لگا لیا لیکن یہ دھیان نہ آیا کہ کرتہ پھٹ جاتا میری سمجھ میں تو یہ آتا ہے کہ بھیڑئیے نے یوسف کو نہیں کھایا بلکہ تمہارے نفسوں نے ایک بات سمجھا دی ہے اور ایک بہانہ بنا کرلے آئے ہو اور میں اب کر بھی کیا سکتا ہوں ‘ اب تو میں صبر جمیل ہی اختیار کروں گا (صبر جمیل وہ ہے جس میں کوئی حرف شکایت نہ ہو) اور تم جو کچھ بیان کر رہے ہو اس میں میں اللہ ہی سے مدد طلب کروں گا (معلوم ہوا کہ مومن بندہ مصیبت میں صبر بھی کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگتا ہے) ۔
Ayahs 12:16–19

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور وہ لوگ شام کے وقت روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے اے ابا جی بلاشبہ بات یہ ہے کہ ہم سب آپس میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کیلئے دوڑ لگانے میں مشغول ہوگئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا سو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ اور آپ ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہوں۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور اس کے کرتہ پر جھوٹا خون لگا کرلے آئے۔ یعقوب نے کہا بلکہ بات یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے تمہیں ایک بات بنا کردی ہے سو میں صبر ہی کروں گا جس میں شکایت کا نام نہ ہوگا۔ اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں۔

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک قافلہ آگیا انہوں نے اپنے آدمی پانی لانے والے کو بھیجا اس نے اپنا ڈول ڈالا وہ کہنے لگا کیا ہی خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک لڑکا ہے۔ اور انہوں نے اسے سامان تجارت بنا کر چھپالیا اور اللہ خوب جاننے والا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں سے نکلنا اور فروخت کیا جانا ادھر تو یہ ہوا کہ برادران یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد سے جا کر کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت کا یہ انتظام فرمایا کہ راہ گیروں کا ایک قافلہ وہاں پہنچا دیا یہ قافلہ اسی کنویں کے قریب آکر ٹھہرا جس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں نے ڈالا تھا قافلہ والوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو پانی لانے کے لیے بھیجا وہ آدمی پانی لینے گیا تو کنویں میں اپنا ڈول ڈال دیا ‘ ڈول کا اندر پہنچنا تھا کہ حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے اسے پکڑ لیا جب اس شخص نے ڈول کھینچا تو دیکھا کہ ڈول کے ساتھ ایک لڑکا کھنچا چلا آ رہا ہے اور لڑکا بھی خوبصورت ہے اسے دیکھ کر خوشی کی انتہا نہ رہی فوراً اس کے منہ سے نکلا کہ واہ واہ کیسی خوشی کی بات ہے یہ لڑکا نکل آیا ‘ یہ پانی لے جانے والا شخص لڑکے کو ہمراہ لے گیا اسے دیکھ کر قافلہ کے دوسرے افراد حیران بھی ہوئے اور آپس میں انہوں نے یہ طے کرلیا کہ اسے چھپا کر رکھو اور اپنی سودا گری کی پونجی میں شامل کرلو جب مصر پہنچیں گے تو اچھے داموں کے عوض بیچ دیں گے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی خبر گیری کے لئے ادھر ادھر لگے ہوئے تھے انہیں پتہ چل گیا کہ یوسف کنویں میں نہیں ہے ادھرادھر تلاش کرتے ہوئے قافلہ تک پہنچ گئے وہاں دیکھا کہ یوسف (علیہ السلام) موجود ہیں فوراً بات بنائی اور کہنے لگے کہ یہ تو ہمارا غلام ہے ‘ بھاگ کر آگیا ہے اور اب ہم اسے رکھنا بھی نہیں چاہتے اب اسے تم ہی لوگ رکھ لو اور ہمیں اس کی قیمت دے دو ۔ ان لوگوں نے قیمت پوچھی تو معمولی سی قیمت بتائی اور گنتی کے چند درہم کے عوض یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ہاتھ بیچ دیا۔ اگر وہ چاہتے تو بڑی قیمت مانگ لیتے لیکن چونکہ ان کو ٹالنا تھا اور اس علاقہ سے دور کرنا تھا اور ان کی طرف سے بےرغبت تھے اس لئے چند درہم پر ہی اکتفا کرلیا جیسے کوئی شخص کسی فالتو چیز کو بیچنے لگے اور یہ سوچنے لگے کہ تھوڑا بہت جو کچھ مل جائے وہی بہت ہے ‘ مفسر ابن کثیر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بیس (20) درہم میں بیچا تھا اور حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا کہ بائیس درہم میں بیچا اور حضرت عکرمہ (رح) نے فرمایا چالیس (40) درہم میں بیچا ‘ ان اقوال میں کوئی چیز مستند نہیں ہے اور نہ ان دراہم کی تعداد جاننے پر کوئی حکم شرعی موقوف ہے البتہ یہاں دو حدیثیں ذکر کردینا ضروری ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تین شخص ایسے ہیں جن کے خلاف قیامت کے دن میں مدعی ہوں گا۔ (1) وہ شخص جس نے میرا نام لے کر کسی سے عہد کیا اور پھر دھوکہ دیا۔ (2) جس شخص نے کسی آزاد کو بیچ دیا پھر اس کی قیمت کھا گیا۔ (3) جس نے کسی شخص کو مزدوری پر لیا پھر اس سے کام لے لیا اور اس کی مزدوری نہ دی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 258 از بخاری) حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی۔ (1) جو شخص کچھ لوگوں کا امام بنا اور وہ اسے پسند نہیں کرتے۔ (2) جو آدمی ایسے وقت میں نماز پڑھے جب کہ اس کا وقت جاتا رہا ہو۔ (3) جو شخص کسی کو غلام بنا لے (رواہ ابو داؤد وابن ماجہ) ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں نے بیچ دیا تھا اور انہیں غلام بنا کر بیچا (جیسا کہ کتب تفسیر میں مذکور ہے) لہٰذا انہوں نے اس موقع پر مزید دو بڑے گناہ کئے اول تو یہ جھوٹا بیان دیا کہ یہ ہمارا غلام ہے اور دوسرا یہ کہ آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت وصول کرلی ‘ رہی قطع رحمی تو اس پر وہ پہلے ہی سے تلے ہوئے تھے۔
Ayahs 12:20–21

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور انہوں نے اسے معمولی سی قیمت میں بیچ دیا جو گنتی کے چند درہم تھے اور یہ لوگ اس سے بےرغبت تھے۔

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور اہل مصر میں سے جس شخص نے یوسف کو خریدا تھا اس نے اپنی عورت سے کہا اسے عزت کے ساتھ رکھنا۔ ممکن ہے ہمارے کام آجائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ اور اس طرح ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں قوت دے دی اور تاکہ اسے خوابوں کی تعبیر دینا بتلا دیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو عزیز مصر کا خریدنا اور اپنے گھر میں اکرام کے ساتھ رکھنا ‘ اور نبوت سے سرفراز کیا جانا جس قافلے نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا تھا وہ انہیں مصر لے گئے اور وہاں لے جا کر فروخت کردیا۔ خریدنے والا عزیز مصر تھا جو بادشاہ کا وزیر خزانہ تھا اس کے ذمہ مالیات کی دیکھ بھال تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ تک پہنچنے میں چند سال لگے اولاً عزیز مصر ہی کے گھر میں رہے ‘ عزیز مصر نے ان کو ہونہار دیکھ کر اپنی بیوی سے کہا کہ اس بچہ کو اچھی طرح اکرام کے ساتھ رکھنا ‘ اس کے لیے لیٹنے بیٹھنے کی جگہ اچھی ہو اور اسے کسی قسم کی تکلیف نہ ہو ممکن ہے کہ آئندہ چل کر یہ ہمیں نفع دے یا ہم اسے بیٹا ہی بنالیں (بیان کیا جاتا ہے کہ عزیز مصر لاولد تھا اس لئے اس نے یہ بات کہی) ۔ عزیز مصر کا نام بعض مفسرین نے قطفیر بتایا ہے اور اس قول کو حضرت ابن عباس ؓ کی طرف منسوب کیا ہے۔ اس کی بیوی کا نام زلیخا مشہور ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کا نام راعیل تھا ‘ جس شخص کو چند روز پہلے بھائیوں نے کنویں میں ڈال دیا تھا وہی شخص آج عزیز مصر کے گھر میں اکرام وانعام و راحت وآرام کے ساتھ رہ رہا ہے اللہ جل شانہ جسے بلند کرنا چاہے اسے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔ (وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ ) (اور اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو سر زمین میں قوت عطا کی) ۔ عزیز مصر کے دل اور گھر میں تو ان کا مقام اور مرتبہ ہو ہی گیا تھا اس کے یہاں معزز ہونے کی وجہ سے مصر کے دوسرے لوگوں کے دل میں بھی ان کی بڑی حیثیت بن گئی تھی۔ (وَلِنُعَلِّمَہٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ ) (اور تاکہ ہم اسے خوابوں کی تعبیر کا علم دیں) اللہ جل شانہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خوابوں کی تعبیر کا جو علم عطا فرمایا تھا وہی آگے بڑھ کر مصر کے خزانوں کا والی اور متصرف ہونے کا ذریعہ بنا (وَاللّٰہُ غَالِبٌ عَلٰی اَمْرِہٖ ) (اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے) اللہ تعالیٰ جو چاہے کرے جس کو چاہے بلندی دے اس کے فیصلے کو کوئی ٹالنے والا نہیں ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پرورش کا اللہ تعالیٰ نے یہ سبب بنایا کہ انہیں عزیز مصر کے گھر میں رکھا ظاہری پرورش کے ساتھ امور انتظامیہ کے بارے میں بھی ان کی تربیت ہوگئی عزیز مصر خزائن مصر کا منتظم تھا بعد میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھی خزائن مصر سپرد کر دئیے گئے۔ عزیز مصر کے گھر میں رہنا ہوا تو مالیات کی حفاظت اور دیکھ بھال کا طریقہ اور سلیقہ بھی سمجھ میں آگیا (وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) (اور لیکن بہت سے لوگ نہیں جانتے) اللہ تعالیٰ کی حکمتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔
Ayah 12:22

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا اور ہم اسی طرح اچھے کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

(وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ اٰتَیْنَہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا) (اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے حکمت اور علم عطا کیا) حکمت اور علم سے نبوت مراد ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان کو بعد میں نبوت عطا کی گئی کنویں میں ہوتے ہوئے جو وحی بھیجی تھی وہ وحی نبوت نہیں تھی دل میں ڈالنے کو بھی وحی سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ سورة القصص میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے بارے میں فرمایا (وَاَوْحَیْنَا اِلٰی اُمِّ مُوْسیٰ اَنْ اَرْضِعِیْہِ ) (وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں) صفت احسان بہت بڑی چیز ہے حسن نیت اور حسن عمل سے جو شخص بھی متصف ہے وہ محسن ہے احسان والوں کو اللہ تعالیٰ بلند فرماتا ہے اور انہیں ان کے احسان کا اچھا بدلہ عطا فرماتا ہے۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور وہ جس عورت کے گھر میں تھے اس نے اپنا مطلب حاصل کرنے کیلئے ان کو پھسلایا اور دروازے بند کر دئیے اور کہنے لگی آجاؤ میں تم ہی سے کہہ رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں بیشک تیرا شوہر میرا مربی ہے اس نے میرا اچھا ٹھکانہ بنایا ہے۔ بیشک بات یہ ہے کہ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔

عزیز مصر کی بیوی کا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سامنے مطلب براری کے لئے پیش ہونا اور آپ کا پاک دامن رہنا سیدنا یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر میں رہتے رہے وہیں پلے پڑھے جوان ہوئے بہت زیادہ حسین تھے عزیز مصر کی بیوی ان پر فریفتہ ہوگئی اور اپنا مطلب نکالنے کے لئے ان کو پھسلانے لگی ‘ اس نے نہ صرف اشاروں سے اپنا مطلب ظاہر کیا بلکہ گھر کے سارے دروازے بند کرلیے اور کہنے لگی آجاؤ میں تمہارے لئے تیار ہوں ‘ حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لیے بڑا ہی امتحان کا موقع تھا خود بھی نوجوان تھے اور عورت پھسلا بھی رہی تھی اور وہ کوئی گری پڑی عورت نہیں عزیز مصر کی بیوی ہے پھر وہ ایک طرح سے اس کے پروردہ بھی تھے وہ گھر کی بڑی تھی اور آپ چھٹ پنے سے اس کے ساتھ رہے تھے ‘ جو عورت گھر کی سردار تھی اس کا حکم رد کرنا بھی مشکل تھا۔ ان سب امور کے ہوتے ہوئے حضرت یوسف ( علیہ السلام) کے لئے گناہ سے بچنے کے لئے متعدد مشکلات تھیں اس موقع پر گناہ سے بچ جانا محض اللہ تعالیٰ کے فضل ہی سے ہوسکتا ہے اس لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عورت کی درخواست پر معاذ اللہ کہہ دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں وہی مجھے گناہ سے بچا سکتا ہے ‘ پھر یہ فرمایا کہ تو میرے آقا اور مربی کی بیوی ہے اس نے میرے ساتھ اچھا سلوک کیا ہے مجھے آرام کی جگہ دی ہے ‘ عزت سے رکھا ہے میری شرافت اس بات کو گوارہ نہیں کرتی کہ میں اس کے اہل خانہ پر دست درازی کروں (اس میں اس عورت کو بھی نصیحت فرما دی کہ تو بھی اللہ سے پناہ مانگ اور اپنے شوہر کی خیانت نہ کر مجھے تو اس گھر میں آئے ہوئے چند سال ہی ہوئے ہیں اور تو مجھ سے بہت پہلے سے عزیز مصر کے پاس رہتی ہے۔ تجھے بھی عفت وعصمت اختیار کرنا لازمی ہے) سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ (اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ) (بلاشبہ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے) یہ ظلم کی بات ہے کہ میں اپنے آقا کا حق شناس نہ بنوں تو مجھے جس کام کی دعوت دے رہی ہے اس میں اللہ جل شانہ کی بھی خیانت ہے یہ دونوں ظلم کی باتیں ہیں ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جس کامیابی کو چاہتے ہیں وہ گناہوں کے ذریعہ نہیں ملتی دنیا کی مطلوبہ کامیابی ہو یا آخرت کی یہ ظالموں کو نہیں مل سکتی۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اِنَّہٗ رَبِّیْ میں جو ضمیر منصوب ہے یہ عزیز مصر کی طرف راجع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا رب ہے اس نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا ہے میں کیسے اس کی نافرمانی کرسکتا ہوں یہ معنی لینے سے یہ اشکال ختم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے غیر اللہ کے لیے لفظ ربی کیسے استعمال فرمایا لیکن اگر انہ کی ضمیر عزیز مصر کی طرف راجع ہو تب بھی اشکال یوں ختم ہوجاتا ہے کہ رب بمعنی مالک اور مستحق اور صاحب بھی آیا ہے۔ (کما ذکرہ صاحب القاموس) اور حدیث میں جو فرمایا ہے کہ ولا یقل العبد ربی یہ ممانعت اس اعتبار سے ہے کہ لفظ رب عام محاورات میں اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے سَدًّاللباب ممانعت فرما دی گئی۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور اس عورت نے ان کے ساتھ اپنا کام نکالنے کا مضبوط ارادہ کرلیا تھا اور وہ بھی ارادہ کرلیتے اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے۔ اسی طرح تاکہ ہم ان سے برائی کو اور بےحیائی کو دور رکھیں۔ بیشک وہ ہمارے برگزیدہ بندوں میں سے تھے۔

دونوں کا دروازہ کی طرف دوڑنا اور اللہ تعالیٰ کا یوسف (علیہ السلام) کو بچانا اور عزیز کو دروازہ پر پانا ‘ اور اس کا اپنی بیوی کو خطا کار بتانا اور استغفار کا حکم دینا ان آیات میں عزیز مصر کی بیوی کی بد نیتی اور اس کے مطابق عزم مصمم کرنے کا ذکر ہے نیز یہ بھی فرمایا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے تو وہ بھی ارادہ کرلیتے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو بچایا اور ان کو برائی سے اور بےحیائی کے کام سے دور رکھا۔ عزیز مصر کی بیوی نے گناہ کرنے کا مضبوط ارادہ کرلیا تھا جو اس کے عمل سے صاف ظاہر ہے اس نے دروازے بند کر لئے اور صاف لفظوں میں ھَیْتَ لَکَ (آ جا میں تیرے لئے حاضر ہوں) کہہ دیا ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سر فراز فرمایا تھا اور ساری امت کا اس پر اجماع ہے کہ نبی سے گناہ کا صدور نہیں ہوسکتا اور گناہ کا ارادہ کرنا بھی گناہ ہے لیکن قرآن مجید میں (وَلَقَدْ ھَمَّتْ بِہٖ ) کے ساتھ وَھَمَّ بِھَا بھی مذکور ہے اس وَھَمَّ بِھَا کا کیا مطلب ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا ہے (وَھَمَّ بِھَا لَوْ لَا اَنْ رَّاٰ بُرْھَانَ رَبِّہٖ ) یہ ایک جملہ ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر وہ اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ لیتے تو وہ بھی اس عورت کے ساتھ جوانی کا تقاضا پورا کرنے کا ارادہ کرلیتے لیکن چونکہ انہوں نے اپنے رب کی دلیل دیکھ لی اس لئے ارادہ نہیں کیا۔ ہم نے اوپر جو ترجمہ کیا ہے وہ اسی قول کے مطابق ہے اور ہمارے نزدیک یہی راجح ہے ‘ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ھَمَّ بِھَا سے گناہ کا ارادہ کرنا مراد نہیں ہے بلکہ بشری طور پر جو ایسے موقع پر میلان طبعی ہوجاتا ہے وہ مراد ہے انہوں نے اس درجہ کا ارادہ نہیں کیا تھا جو معصیت کے درجہ میں ہو یوں ہی وسوسہ کے درجے میں خیال آگیا اس صورت میں لَوْ لَا کا جواب محذوف مانا جائے گا اور مطلب یہ ہوگا کہ اگر وہ اپنے رب کی طرف سے دلیل نہ دیکھ لیتے تو میلان طبعی کے مطابق کام کر گزرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں دلیل دکھائی جو اقدام کرنے سے مانع ہوگئی۔ وہ کون سی دلیل تھی جو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھی ؟ اس کے بارے میں مفسرین نے کئی باتیں لکھی ہیں صاحب روح المعانی ص 214 ج 12 نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شبیہ ظاہر ہوگئی جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سینہ پر ہاتھ مار دیا وذکرہ الحاکم ایضا فی المستدرک ج 2 ص 346 عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال مثل لہ یعقوب فضرب صدرہ فخرجت شھوتہ من اناملہ اور بحوالہ حلیہ ابی نعیم حضرت علی ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب اس عورت نے عمل بد کا ارادہ کیا تو اس نے بت کے اوپر کپڑا ڈال دیا جو گھر کے ایک کونے میں تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو یہ کیا کرتی ہے وہ کہنے لگی کہ میں اپنے معبود سے شرماتی ہوں کہ میں ایسا کام کروں اور یہ مجھے دیکھتا رہے ‘ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تو ایک بت سے شرما رہی ہے جو نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے ( یعنی بےجان ہے کچھ جانتا ہی نہیں) پھر بھلا میں اپنے رب سے کیوں نہ شرماؤں جو ہر شخص کے ہر عمل کو جانتا ہے تو مجھ سے اپنی مطلب براری نہیں کرسکتی ‘ اس بارے میں اور بھی بہت اقوال ہیں لیکن کوئی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ‘ بعض حضرت نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علم و حکمت سے نوازا تھا اور نبوت سے سر فراز فرمایا تھا بُرْھَانَ رَبِّہٖ سے وہی مراد ہے ‘ نبوت اور معرفت الٰہیہ ہی ایک ایسی دلیل تھی جس نے انہیں چونکا دیا اور گناہ سے بچا دیا ‘ یہ بات دل کو لگتی تو ہے لیکن اس صورت میں راٰی بمعنی عرف کیا جائے گا یعنی راٰی سے رؤیت بصری نہیں بلکہ رؤیت قلبی بمعنی علم و معرفت مراد ہوگی۔ حضرات انبیائے کرام (علیہ السلام) کی تو بڑی شان ہے عام طور پر اہل ایمان کو یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ جب کوئی گناہ کی بات دل میں آئے تو دل کھٹک جاتا ہے اور ہر ایک مومن کے دل میں اللہ کا ایک واعظ بیٹھا ہوا ہے۔ حضرت نواس بن سمعان انصاری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مثال بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ایک سیدھا راستہ ہے اس کے دونوں جانب دودیواریں ہیں اور ان دیواروں میں دروازے ہیں جو کھلے ہوئے ہیں اور ان دروازوں میں سے کسی دروازہ کو کھولنا چاہتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تجھ پر افسوس ہے اسے مت کھول اگر تو اس کو کھولے گا تو اس میں داخل ہوجائے گا (اور یہ تیرے حق میں اچھا نہ ہوگا) اس کے بعد آپ نے اس مثال کی توضیح فرمائی ‘ اور وہ یہ ہے کہ صراط مستقیم اسلام ہے ‘ اور دونوں طرف جو دیواریں ہیں یہ اللہ کی حدود ہیں ‘ اور جو دروازے کھلے ہوئے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں ہیں ‘ اور راستے کے شروع میں جو پکارنے والا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے ‘ اور اس کے اوپر جو پکارنے والا ہے وہ اللہ کا واعظ ہے جو ہر مسلم کے دل میں ہے (رواہ بیہقی فی شعب الایمان ص 445 ج 5) جب ہر مومن کے دل میں واعظ موجود ہے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسے صدیق کے دل میں ہونا تو ضروری ہی ہے۔ (کَذٰلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْہُ السُّوْْٓءَ وَالْفَحْشَآءِ ) مفسرین کرام نے فرمایا ہے کہ یہاں عبارت کا کچھ حصہ محذوف ہے صاحب روح المعانی نے ابن عطیہ سے یوں نقل کیا ہے کہ جرت افعالنا و اقدارنا کذالک لنصرف یعنی ہماری قضاء وقدر کے مطابق ایسا ہوا تاکہ ہم ان سے برائی اور بےحیائی کو ہٹا دیں قال صاحب الروح وقدر ابو البقاء نراعیہ کذلک والحوفی اریناہ البراھین کذلک وجوز الجمیع کونہ فی موقع رفع فقیل ای الامر او عصمتہ مثل ذالک 1 ھ۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں : ابو البقا نے یہاں نراعیہ مقدر مانا ہے اور حوفی نے کہا مقدر عبارت اس طرح ہے کہ اریناہ البراھین کذالک اور سب نے اس کا رفع کے مقام پر ہونا جائز رکھا ہے لہٰذا بعض نے کہا اصل یوں ہے کہ الامر مثل ذلک یا عصمتہ مثل ذلک۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور وہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے اور اس عورت نے پیچھے سے اس کا کرتہ چیر دیا اور دونوں نے اس عورت کے سردار کو دروازہ کے پاس پا لیا۔ وہ کہنے لگی جو شخص تیرے گھر والوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے اس کی سزا اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا درد ناک سزا دی جائے۔

(وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ ) ۔ جب عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اپنے برے مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہا تو وہ دروازے کی طرف دوڑ پڑے پیچھے سے عورت بھی دوڑی۔ بالآخر اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتہ کا پچھلا دامن پکڑ لیا چونکہ بھاگتے ہوئے آدمی کا دامن پکڑا تھا اس لئے کرتہ پھٹ گیا۔ روح المعانی میں لکھا ہے کہ قد یقد اکثر لمباؤ میں پھاڑ دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی لئے ہم نے چیر نے کا ترجمہ کیا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) دروازے کی طرف بڑھے تو دروازہ بند پایا لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوئی ‘ دروازے کھلتے چلے گئے اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص گناہ میں مبتلا کرنے کے لیے مجبور کیا جائے تو جہاں تک ممکن ہو اپنی کوشش و طاقت کے بقدر اس سے بچے جب سچ مچ اس سے بچنے کا عزم کرے گا اور اپنی ہمت اور قدرت کے بقدر کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انشاء اللہ ضرور مدد کی جائے گی۔ بعض مفسرین نے ایسا ہی لکھا ہے اور بعض حضرات نے یوں فرمایا ہے کہ دروازے مختلف جہات میں تھے اس عورت نے بند تو سبھی کو کردیا تھا لیکن کسی ایک دروازے میں کوئی ایسی کھڑکی تھی جس کے بارے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دھیان ہوا کہ میں اس سے نکل سکتا ہوں بہر حال انہوں نے گناہ سے بچنے کی انتہائی کوشش کی اور اس کوشش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی دی۔ آگے پیچھے دوڑتے ہوئے جب دروازے پر پہنچے تو ادھر سے مذکورہ عورت کا شوہر آ رہا تھا اس سے مڈ بھیڑ ہوگئی عورتوں کی چالیں تو مشہور ہی ہیں ظاہری خفت مٹانے کے لیے اور اپنے کو بےقصور ثابت کرنے کے لیے عورت بول پڑی کہ اس نے مجھ پر بد نیتی سے مجرمانہ حملہ کرنے کا ارادہ کیا ہے اس کو سزا دی جانی ضروری ہے سزا بھی اس نے خود ہی تجویز کردی کہ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے یا اس کو سخت سزا دی جائے ‘ سیدنا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اپنی صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا اور فرمایا (ھِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَفْسِیْْ ) کہ اس نے مجھے پھسلایا اور غلط کام کرنے کا ارادہ کیا۔ (اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص تہمت لگائے تو اس کا دفاع کرنا شان بزرگی کے خلاف نہیں ہے بلکہ دفاع کرنا ضروری ہے کیونکہ مجرم بن کر رہنا مومن کی شان نہیں ہے اپنا دفاع کرتے ہوئے صحیح صورت بیان کرنے میں اگر تہمت لگانے والے کی طرف تہمت کا انتساب کرنا پڑے تو یہ بھی جائز ہے) ۔ صورت حال دیکھ کر عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو مجرم قرار نہیں دیا وہ ان کی نیک نفسی اور صالحیت سے واقف تھا وہ برسوں سے اس کے گھر میں رہتے تھے اس کے پیش نظر جو ان کے احوال دیکھے تھے ان کو سامنے رکھتے ہوئے کسی طرح بھی اس کا موقع نہ تھا کہ وہ ان کو مجرم سمجھے اور اپنی بیوی کی تصدیق کرے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے جو یہ فرمایا کہ اس عورت نے ہی مجھ سے اپنی خواہش ظاہر کی اس کے پیش نظر عورت ہی کو اول وہلہ میں مجرم سمجھنا چاہئے تھا اور ممکن ہے کہ اس نے مجرم سمجھ بھی لیا ہو لیکن وہ خاموشی اختیار کر گیا ‘ البتہ غیب سے ایک گواہ نکل آیا اور وہ اسی عورت کے خاندان میں سے تھا یہ گواہ ایک بچہ تھا وہ بچہ بول پڑا اور اس نے یوں کہا کہ یوسف کے کرتہ کو دیکھو آگے سے پھاڑا گیا ہے یا پیچھے سے ؟ اگر پیچھے سے پھاڑا گیا ہے تو سمجھ لیا جائے کہ یہ عورت اپنے اس دعوے میں جھوٹی ہے کہ یوسف نے مجھ پر حملہ کیا ہے اور یوسف سچے ہیں ‘ اور اگر ان کا کرتہ آگے سے پھاڑا گیا ہے تو سمجھ لیا جائے کہ عورت سچی ہے اور یہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے ‘ عزیز مصر کو تو اصل صورت حال سمجھنے کی ضرورت ہی تھی اس نے فوراً حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتے پر نظر ڈالی دیکھا تو کرتہ پیچھے سے پھاڑا گیا ہے بس اس کی سمجھ میں آگیا اور فوراً اس کے منہ سے یہ بات نکلی کہ یہ عورتوں والی مکاری ہے۔ کریں خود اور نام رکھیں دوسرے کا ‘ یہ کہہ کر اس نے اپنی عورت کو جھٹلا دیا اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) کی تصدیق کردی ‘ گواہی دینے والے نے جو یوں کہا تھا کہ کرتہ دیکھا جائے اس کا مطلب یہ تھا کہ جب عورت نے اپنی خواہش ظاہر کی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی جان گناہ سے بچانے کی کوشش کی اور راہ فرار اختیار فرمائی اور عورت نے ان کے کرتہ کو پیچھے سے پکڑ کر کھینچا تبھی تو کرتہ پھٹا اس کے پھٹنے کا ظاہری سبب اور کوئی نہ تھا ‘ یہ جو سوال ذہن میں آتا ہے کہ وہاں تو ایک ہی عورت تھی جمع کی ضمیر کیوں لائی گئی اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں عورتوں کا مزاج اور طبیعت اور خاصیت کی طرف اشارہ ہے اکیلی یہی عورت مکر اور فریب والی نہیں عموماً عورتیں ایسی ہی ہوتی ہیں اسی لئے آخیر میں یوں کہا (اِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیْمٌ) (بلاشبہ تمہارا مکر بڑا ہے) اردو کے محاورہ میں اس مکر کو عورتوں کے چھل اور چالوں سے تعبیر کیا جاتا ہے ان کے بڑے بڑے چھل ہوتے ہیں کہ انسان انہیں دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ رسول اللہ ( علیہ السلام) نے ایک مرتبہ عید کی نماز کو جاتے ہوئے عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ما رایت اذھب للب الرجل الحازم من احدا کن (ہوشمند آدمی کی عقل کو ختم کرنے میں میں نے تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا) (رواہ البخاری ص 197 ج 1) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ما ترکت بعدی فتنۃ ھی اضر علی الرجال من النساء کہ میں نے اپنے بعد عورتوں سے بڑھ کر کوئی ایسا فتنہ نہیں چھوڑا جو ضرر دینے میں عورتوں سے بڑھ کر ہو (رواہ البخاری و مسلم کما فی المشکوٰۃ ص 267) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فاتقوا الدنیا واتقوا النساء فان اول فتنۃ بنی اسرائیل کانت فی النساء کہ دنیا سے بچو اور عورتوں سے بچو (یعنی ان دونوں کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ان کے فریب میں نہ آجانا) کیونکہ بنی اسرائیل کا جو سب سے پہلا فتنہ تھا اس کی ابتداء عورتوں ہی سے تھی۔ (رواہ مسلم ص 353 ج 2) اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا النساء حبائل الشیطان ( کہ عورتیں شیطان کے جال ہیں) (مشکوٰۃ المصابیح ص 444) شیطان ان کے ذریعے بہکاتا ہے اور گمراہ کرتا ہے اور گناہوں پر آمادہ کرتا ہے۔ جس گواہ نے گواہی دی اس نے یہ تو نہیں کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ عورت نے یوں کیا بلکہ اس نے ایک ایسی بات کہہ دی جو عورت کے مجرم ہونے پر دلالت کرتی تھی یعنی کرتے کا پھٹا ہونا اس کو گواہی سے تعبیر فرمایا قال صاحب الروح وسمی شاھدا لانہ ادی تادیتہ فی ان ثبت بکلامہ قول یوسف وبطل قولھا وقیل سمی بذلک من حیث دل علی الشاھد وھو تخریق القمیص۔ یہ گواہی دینے والا کون تھا اس کے بارے میں مستدرک حاکم میں ایک حدیث ہے پہلے تو صاحب مستدرک نے ایک قصہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ جس رات کو مجھے معراج کرائی گئی تو مجھے ایک خوشبو محسوس ہوئی میں نے دریافت کیا کہ یہ کیسی خوشبو ہے بتانے والوں نے (یعنی فرشتوں) نے بتایا کہ جو عورت فرعون کی بیٹی اور اس کی اولاد کی کنگھی کیا کرتی تھی یہ اس کی خوشبو ہے ‘ ایک دن کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے کنگھی گرگئی اس پر اس نے بسم اللہ کہا فرعون کی بیٹی نے کہا یہ تو نے کس کا نام لیا ‘ کیا تو نے میرے باپ کا نام نہیں لیا اس نے کہا میں نے اس کا نام لیا ہے جو میرا بھی رب ہے اور تیرا بھی رب ہے اور تیرے باپ کا بھی رب ہے کہنے لگی کہ میں یہ بات اپنے باپ کو بتادوں گی اس عورت نے کہا ہاں بتادینا فرعون کی بیٹی نے اپنے باپ کو یہ بات بتادی ‘ اس پر فرعون نے اس عورت کو اور اس کے بچوں کو بلایا تاکہ انہیں قتل کر دے ‘ اس عورت نے فرعون سے کہا کہ میری ایک حاجت ہے وہ پوری کردینا ‘ فرعون نے کہا وہ کیا حاجت ہے ؟ اس عورت نے کہا کہ میری اور میرے بچوں کی ہڈیوں کو دفن کردینا فرعون نے اس کا اقرار کرلیا پھر اس کے بچوں کو لایا گیا اور ایک ایک کر کے قتل کر کے گڑھے یا آگ میں ڈالا جاتا رہا، یہاں تک کہ جب آخری بچہ رہ گیا جو چھوٹا دودھ پیتا بچہ تھا تو اس نے کہا کہ اے میری ماں صبر کیجئے کیونکہ آپ حق پر ہیں اس کے بعد اس عورت کو اس چھوٹے بچے کے ساتھ ڈال دیا گیا ‘ یہ بیان فرما کر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چھوٹے بچے ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے چھوٹے ہونے کے زمانہ میں بات کی ہے ‘ ان میں سے ایک تو یہی بچہ تھا یعنی کنگھی کرنے والی کا بچہ ‘ دوسرا یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں گواہی دینے والا، تیسرے جریج (راہب کی براءت ظاہر کرنے) والا چوتھے عیسیٰ ابن مریم (قال الحاکم ھذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاہ و وافقہ الذھبی مستدرک حاکم ص 496۔ ج 2) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حق میں گواہی دی تھی وہ ایک چھوٹا بچہ تھا جو بولنے کی عمر کو نہیں پہنچا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بولنے کی قوت دی اور اس نے گواہی دے دی جو آیت شریفہ میں مذکور ہے اس گواہی دینے والے کے بارے میں من اھلھا بھی فرمایا ہے کہ یہ گواہ اس عورت کے خاندان سے تھا اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ‘ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اس عورت کی خالہ کا بیٹا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ اس کے چچا کا بیٹا تھا۔ واللہ تعالیٰ اعلم بحقیقۃ الحال۔
Ayahs 12:26–29

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف نے کہا اسی نے مجھے اپنی مطلب براری کیلئے پھسلایا اور اس کے خاندان میں سے ایک گواہی دینے والے نے گواہی دی کہ اگر اس کا کرتہ سامنے سے پھاڑا گیا ہے تو عورت نے سچ کہا اور یہ شخص جھوٹے لوگوں میں سے ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھاڑا گیا تو اس عورت نے جھوٹ کہا اور یہ سچوں میں سے ہے۔

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب اس کے کرتے کو دیکھا گیا کہ پیچھے سے پھاڑا گیا ہے تو کہنے لگا کہ بیشک یہ تم عورتوں کی فریب کاری میں سے ہے۔ بیشک تمہارا فریب بڑا ہے۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

یوسف اس بات کو جانے دو ۔ اور اے عورت تو اپنے گناہ سے استغفار کر۔ بلاشبہ تو ہی گناہگاروں میں سے ہے۔

معاملہ کی صورت حال سمجھنے کے بعد عزیز مصر نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف توجہ کی اور اس نے درخواست کی کہ (یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا) اے یوسف اس بات سے اعراض کرنا یعنی اسے یہیں تک رہنے دینا اور آگے مت بڑھانا کسی سے نہ کہنا ‘ پھر اپنی بیوی سے کہا واسْتَغْفِرِیْ لِذَنْبِکِ (کہ تو اپنے گناہ کے لیے استغفار کر) (اِنَّکِ کُنْتِ مِنَ الْخٰطِءِیْنَ ) (بلاشبہ تو خطا کرنے والوں میں سے ہے) معاملہ کی صورت حال سے اور گواہ کی گواہی سے ثابت ہوگیا کہ تو ہی گناہ گاروں میں سے ہے ‘ اصل گناہ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بچنے اور پرہیز کرنے اور راہ فرار اختیار کرنے کی وجہ سے نہ ہوسکا لیکن گناہ کے لیے جو اس نے پکا اور مضبوط ارادہ کرلیا تھا وہ بھی گناہ ہی تھا پھر وہ پیچھے دوڑی بھی تھی اور پکڑنے کی کوشش بھی کی تھی لہٰذا اپنی نیت اور عمل دونوں کے اعتبار سے گناہ گار ہوئی ‘ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے اور کانوں کا زنا سننا ہے اور زبان کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں کا زنا چلنا ہے اور دل خواہش کرتا ہے اور آرزو کرتا ہے اور شرمگاہ اسے سچایا جھوٹا کردیتی ہے یعنی گناہ کی آخری حد کا موقع لگ گیا تو شرمگاہ سے صادر ہوجاتا ہے مگر اس سے پہلے کی کوششیں گناہ میں شمار ہوجاتی ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 20) یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ تو مسلمان نہیں تھے پھر استغفار کرنے کے لیے کیوں کہا ؟ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ وہ لوگ اگرچہ بتوں کو پوجتے تھے لیکن خالق کے وجود کا بھی عقیدہ رکھتے تھے کہ بہت سی چیزیں گناہ ہیں اور ان گناہوں کی سزا بھی ملتی ہے صاحب روح المعانی کا یہ فرمانا درست ہے کہ مشرکین خالق کو بھی مانتے ہیں اور بہت سی چیزوں کا گناہ ہونا ان کے ہاں معروف و مشہور ہے ہندوستان کے مشرکین میں یہ سب کچھ پایا جاتا ہے۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور چند عورتوں نے کہا جو شہر میں رہتی تھیں کہ عزیز کی بیوی اپنے غلام کو مطلب حاصل کرنے کیلئے پھسلاتی ہے۔ اس غلام کے عشق نے اس کے دل میں پوری طرح جگہ پکڑلی ہے۔ بیشک ہم تو اس عورت کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہی ہیں

شہر کی عورتوں کا عزیز مصر کی بیوی پر طعن کرنا اور ان کا جواب دینے کے لیے عورتوں کو بلانا ‘ پھر ان کا اپنے ہاتھوں کو کاٹ لینا عزیز مصر نے تو معاملہ کو وقتی طور پر رفع دفع کردیا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ اس قصے کو یہیں تک رہنے دینا آگے مت بڑھانا لیکن خبر کسی طرح شہر کی عورتوں کو پہنچ گئی وہ آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ دیکھو عزیز مصر کی بیوی کو کیا ہوا بڑے گھر کی عورت ہے لیکن اپنے غلام کو اپنا مطلب نکالنے کے لیے پھسلا رہی ہے۔ غلام اس لئے کہا کہ اس کا شوہر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو خرید کر لایا تھا اس میں اس طرف اشارہ تھا کہ اول تو یہ عورت شوہر والی ہے اسے اپنے شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف مائل ہونے کی ضرورت کیا ہے۔ پھر مائل بھی ہوئی تو کس پر جو اس کے برابر کا نہیں ‘ نہ تو عمر میں برابر نہ مرتبہ میں برابر ‘ دونوں میں سے کوئی ایک برابری بھی ہوتی تو ایک بات تھی ‘ (قَدْ شَغَفَھَا حُبًّا) بس جی اس غلام کی محبت تو بری طرح اس کے دل میں گھر کرگئی ہے۔ اسے اس محبت نے یہ بات سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا کہ میں کس سے لگ رہی ہوں اور کس کی طرف مائل ہو رہی ہوں۔ (اِنَّا لَنَرٰھَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍٍ ) ہمیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کھلی ہوئی گمراہی میں پڑگئی۔ عزیز مصر کی بیوی کو عورتوں کی باتیں پہنچ گئیں انہوں نے جو باتیں کی تھیں وہ اس نے سن لیں ان کی باتوں کو مکر سے تعبیر کیا کیونکہ وہ ظاہر میں تو اسے بیوقوف بنا رہی تھیں اور اندر سے ان کا جذبہ یہ تھا کہ ہم اس پر لعن طعن کریں گے تو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے ہمیں بھی غلام کا مشاہدہ کرا دے گی (ذکرہ صاحب الروح عن البعض) بہر حال جب عزیز مصر کی بیوی کو عورتوں کی باتوں کا علم ہوا تو اس نے ان عورتوں کو بلوا بھیجا کہ وہ میرے گھر آئیں اور کچھ کھا پی لیں ان عورتوں کے بیٹھنے کے لیے اس نے عمدہ قسم کے بستر بچھا دئیے اور تکئے لگا دئیے تاکہ وہ آئیں تو تکیہ لگا کر بیٹھ جائیں جب وہ آئیں تو انہیں بٹھا دیا اور ان کے ہاتھوں میں ایک ایک چھری دے دی چھری دینے کا کیا مطلب تھا اس کے بارے میں مختلف اقوال ہیں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس نے چھریوں کے ساتھ کھانے کے لیے گوشت بھی دے دیا تھا کیونکہ گوشت کو دانتوں سے نوچ کر نہیں کھاتے تھے بلکہ چھری سے کاٹتے تھے اور ایک قول یہ ہے کہ سنترہ کی طرح کوئی چیز کھانے کو دے دی تھی تاکہ وہ اس چھری سے کاٹ کر کھائیں اس قول کی تائید مُتَّکَاً کی قرأت سے ہوتی ہے جس کا معنی ترنج یا سنترہ کیا گیا ہے یہ قرأت عشرہ میں سے تو نہیں ہے البتہ صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر اور مجاہد اور قتادہ ؓ سے نقل کی ہے قرأت شاذہ سے کسی ایک محتمل معنی کی تائید ہوسکتی ہے ‘ عین اس وقت میں جبکہ ان عورتوں کے ہاتھ میں چھریاں تھیں اور جو کچھ ان کے سامنے تھا اسے کاٹنا ہی چاہتی تھیں کہ عزیز مصر کی بیوی نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو آواز دی کہ آؤ اندر سے نکلو اور ان عورتوں کے سامنے آجاؤ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) سامنے آئے تو ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر وہ عورتیں ششدر رہ گئیں اور ایسی مبہوت اور حیران ہوئیں کہ انہیں یہ بھی دھیان نہ رہا کہ ہم کیا کاٹ رہی ہیں سنترہ وغیرہ جو کچھ ان کے سامنے تھا اسے کاٹنے کی بجائے انہوں نے اپنے ہاتھ ہی کاٹ ڈالے اور کہنے لگیں کہ حاشا اللہ یہ شخص بشر نہیں ہے بلکہ یہ تو بڑے مرتبہ کا فرشتہ ہی ہے ‘ یہ ان عورتوں نے اس لئے کہا کہ فرشتے کا بےمثال حسین و جمیل ہونا ان کے یہاں معروف و مشہور تھا جیسے کہ شیطان کی بد صورتی کو سبھی جانتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ حسن و جمال عطا فرمایا تھا رسول اللہ ﷺ جب معراج کی رات میں آسمانوں پر تشریف لے گئے تو وہاں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے ملاقاتیں ہوئیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا اذا ھو قد اعطی شطر الحسن (یعنی ان کو آدھا حسن دیا گیا ہے) ۔ (رواہ مسلم ص 91 ج) جب عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر مبہوت ہوگئیں اور ایسی حیران ہوئیں کہ اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تو عزیز مصر کی بیوی ان عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے بول اٹھی کہ تم نے دیکھا یہ غلام کیسا ہے ؟ تم مجھے اس کے بارے میں ملامت کر رہی تھیں اب اپنا حال دیکھ لو تم تو اسے دیکھ کر اپنے ہاتھ ہی کاٹ بیٹھیں ‘ یہ بات کہہ کر اس عورت نے اپنی صفائی پیش کردی بلکہ اپنی مجبوری ظاہر کردی میں عاشق نہ ہوتی تو کیا کرتی وہ تو چیز ہی ایسی ہے جس پر فریفتہ ہوئے بغیر رہا نہیں جاسکتا۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے عزیز مصر کی بیوی نے کہا کہ واقعی میں نے اپنا مطلب نکالنے کے لیے اسے پھسلایا تھا لیکن یہ بچ گیا اس طرح سے اس نے اس بات کا صاف اقرار کرلیا جس کا اپنے شوہر کے سامنے انکار کرچکی تھی ‘ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برأت بھی ظاہر کردی اور ساتھ ہی یوں بھی کہہ دیا کہ یہ ابھی میرے پھندہ سے نکلا نہیں ہے میرا تقاضا برابر جاری رہے گا اگر اس نے میری بات نہ مانی اور میرے حکم پر عمل نہ کیا تو اسے ضرور بالضرور جیل ہی میں بھیج دیا جائے گا اور اسے ضرور بالضرور ذلت اٹھانی پڑے گی۔