12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سورة یوسف نمبر 12 رکوع 12 آیات 111 الفاظ و کلمات 1808 حروف 7411 مقام نزول مکہ مکرمہ ایک مرتبہ کفار مکہ نے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روز بروز ترقی سے جل کر خاک ہوئے جا رہے تھے انہوں نے یہودیوں سے یہ کہا کہ کوئی ایسی بات بتاؤ جو ہم حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھیں اور وہ جواب نہ دے سکیں ۔ اس طرح ہمیں ان کا مذاق اڑانے اور نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے میں آسانی رہے گی۔ یہودیوں نے کہا کہ ان سے یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اور ان کے اہل خاندان کے فلسطین سے مصر آنے کی وجہ پوچھئے۔ اگر جواب نہ دے سکیں تو وہ نبی نہیں ہیں ان کا خیال یہ تھا کہ چونکہ مکہ والے اس واقعہ سے قطعات ناواقف ہیں تو وہ اس کا جواب نہ دے سکیں گے۔ چناچہ کفار مکہ نے آپ سے پوچھا کہ (١) اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتائیے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن کا لقب اسرائیل تھا ان کے اور ان کے اہل خاندان کے فلسطین سے مصر آنے کی وجہ کیا تھی (٢) ان کا دوسرا سوال یہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کیا ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے سوالات کے جواب میں نہ صرف اس سورت کی نازل کیا بلکہ عبرت و نصیحت کے لاتعداد پہلوؤں کے علاوہ دو باتوں کی طرف خاص طور پر اشارہ کیا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت یوسف پر جو حالات گذرے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بھی وہی حالات گذر رہے ہیں دوسری بات یہ کہ جس طرح حضرت یوسف کے بھائیوں کو ان کے قدموں پر جھکنا پڑا تھا اسی طرح حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بھی کفار مکہ کو ذلت کے ساتھ جھکنا پڑے گا بعد کے حالات نے ان باتوں کو سچ کر دکھایا۔ اگر غور کیا جائے تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بےانتہا مماثلت اور مشابہت پائی جاتی ہے۔ (١) حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے ان سے حسد اور بغض کرتے ہوئے ان کو قتل کرنے یا والد سے دور کرنے کی سازش کی۔ اسی طرح کی تدبیریں اور سازشیں کفار مکہ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کیں۔ (٢) برادران یوسف نے اپنے بھائی کو طرح طرح کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائیں اور ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے نہایت صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام پر ظلم و ستم کی انتہا کردی گئی اور مکہ کی سر زمین کو ان کے لئے تنگ کردیا گیا لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام نے نہایت صبر و تحمل اور برداشت کا مظاہرہ فرمایا۔ ٣) برادران یوسف نے حضرت یوسف کو ایک اندھے کنوئیں میں ڈال دیا تھا تاکہ وہ مر جائیں یا آنے جانے والا کوئی قافلہ ان کو اپنے ساتھ لے جائے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یوسف تین دن تک اس اندھے کنوئیں میں رہے جہاں اللہ نے ان کی دست گیری فرمائی اور ایک گذرنے والے قافلے نے آپ کو نکالا اور اللہ نے ان کو مصر پہنچا دیا۔ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف بھی سازش کی گئی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی تین دن تک غار ثور میں چھپے رہے۔ ٤) جس طرح برادران یوسف کو حضرت یوسف کے قدموں پر جھکنا پڑا اسی طرح کفار مکہ کو بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھکنا پڑا۔ (٥) جس طرح حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا تھا اسی طرح فتح مکہ کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اپنے جانی دشمنوں کو معاف فرما دیا تھا۔ ٦) جس طرح حضرت یوسف کو اپنے وطن سے دور ہو کر عروج و ترقی نصیب ہوئی۔ اس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنا وطن مکہ چھوڑنے کے بعد دنیاوی عروج و اقتدار ملا۔ غرضیکہ حضرت یوسف اور نیب کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں بےانتہا مناسبت اور مشابہت ہے۔ بقیہ تفصیل زیر مطالعہ تفسیر میں ملاحظہ کیجیے۔ ٭… حضرت یوسف (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑپوتے ہیں۔ ٭ حضرت یوسف کی والدہ کا نام راحیل بنت لابان تھا۔ ٭ حضرت یوسف کا انتقال ایک سو دس سال کی عمر میں مصر میں ہوا۔ ٭ ان کی وصیت تھی کہ ان کو ان کے انتقال کے بعد مصر میں دفن نہ کیا جائے۔ جب اللہ کا وعدہ پورا ہو کر فلسطین پر حکومت الٰہی قائم ہوجائے تو ان کو فلسطین میں دفن کیا جائے۔ ٭ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں ان کے جسم کو نکال کر فلسطین میں لے جا کر دفن کیا گیا۔ ٭ بلاطہ (فلسطین) کے علاقے نابلس کے ایک گاؤں میں دفن کیا۔ ٭… قرآن کریم میں حضرت یوسف کا نام چھبیس مرتبہ آیا ہے چوبیس مرتبہ سورة یوسف میں، ایک مرتبہ سورة الانعام میں اور ایک مرتبہ سورة مومن میں آیا ہے۔ ٭… قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعہ کو احسن القصص یعنی واقعات میں بہترین واقعہ فرمایا گیا ہے۔ ٭… حضرت یوسف کے واقعہ سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اگر ایک مرد مومن اسلامی سیرت و کردار، حکمت و دانائی اور بہترین اخلاق کا پیکر ہو تو وہ تنہا شخص پورے ملک کو فتح کرسکتا ہے اور ناممکن کو ممکن بنانے کی قدرت رکھتا ہے۔

Ayahs 12:1–3

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

ترجمہ :- الف ۔ لام ۔ را (حروف مقطعات جن کے معنی اور مراد کا علم اللہ کو ہے) یہ ایک واضح (روشن ) کتاب کی آیات ہیں۔

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو۔

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

ہم نے جو یہ قرآن آپ کی طرف بھیجا ہے۔ اس کے ذریعہ ہم آپ کو واقعات میں بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ آپ اس سے پہلے (اس واقعہ سے) بیخبر تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 3 تلک (یہ۔ (اسم اشارہ) ۔ مبین (واضح۔ روشن) قران (بہت پڑھا جانے والا ) لعل (شاید۔ توقع) نقص (ہم بیان کرتے ہیں) احسن القصص (قصوں میں بہترین) اوحینا (ہم نے وحی بھیجی) ان کنت (اگرچہ تو تھا) الغفلین (غافل) ۔ بیخبر تشریح :- آیت نمبر 1 تا 3 سورة یوسف بارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اس میں عبرت و نصیحت اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کے لاتعداد پہلوؤں کے ساتھ ان کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف ، ان کے والدین اور رشتہ دار فلسطین سے مصر کیسے پہنچے اہل عرب اس سے ناواقف تھے۔ خود نبی کریم ﷺ نے بھی کبھی اس واقعہ کو بیان نہیں فرمایا۔ کفار مکہ نبی کریم ﷺ پر اعتراض کے موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ کسی موقع پر کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ کو آزمانے کے لئے پوچھا کہ آخر وہ کونسی مجبوری تھی جس کی بنا پر حضرت یعقوب اور حضرت یوسف فلسطین سے مصر آئے تھے اور وہیں آباد ہوگئے تھے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ مکہ والے تو اس واقعہ سے ناواقف تھے یہودیوں نے ان کو یہ بات سکھائی کہ ان سے یوسف کا واقعہ پوچھئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ نبی کریم ﷺ کو اس پورے واقعہ پر مطلع فرمایا۔ حضرت یوسف کا پورا واقعہ بائبل میں موجود ہے لیکن اگر قرآن کریم اور بائبل کا مطالعہ کیا جائے تو یہ فرق بالکل واضح ہو کر سامنے آجائے گا کہ بائبل میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ وہ حسن و عشق کی ایک داستان لگتی ہے جب کہ قرآن کریم نے واقعاتی انداز سے ہٹ کر عبرت و نصیحت کے ان لاتعداد پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے جن سے اخلاق انسانی کی اصلاح اور حضرت یوسف کی پاک دامنی اجاگر ہو کر سامنے آتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ اس واقعہ کو نبی کریم ﷺ کی زندگی اور حضرت یوسف کی زندگی سے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ : (1) جس طرح حضرت یوسف کے بھائیوں نے حسد اور بغض کی بنا پر طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں اور ان کو والد کی نظروں سے دور کرنے کے لئے ایک اندھے کنوئیں میں ڈال کر وہ مطمئن ہوگئے تھے کہ اب ان کے والد کی پوری توجہ ان کی طرف رہے گی اور چند ٹکوں کے عوض انہوں نے اپنے بھائی کو فروخت کردیا تھا مگر حضرت یوسف نے نہایت صبر و استقلال اور عزم و ہمت سے مشکل حالات میں صبر کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا۔ اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے حسد کی آگ میں جل کر ایسی ایسی تکلیفیں پہنچائیں کہ آپ اور آپ کے صحابہ کرام مکہ مکرمہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ نہایت صبر و تحمل سے ناخوشگوار اور اذیت ناک حالات کو برداشت کیا اور آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ (2) جب حضرت یوسف ہزاروں تکلیفیں برداشت کرنے کے بعد تیس سال کی عمر میں مصر کے بادشاہ بنا دیئے گئے اور ہر طرح کی دنیاوی طاقت و قوت آپ کے ہاتھ میں آگئی تب آپ نے پیغمبرانہ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہئے اپنے سوتیلے بھائیوں سے کوئی انتقام اور بدلہ نہیں لیا بلکہ انہوں نے یہ کہہ کر سب کو معاف کردیا ” لاتثریب علیکم الیوم “ کہ تم سے آج کسی بات کا بدلہ نہیں لیا جائے گا اور حضرت یوسف نے ان کے ظلم و ستم کو نظر انداز کر کے عفو و کرم کا معاملہ فرمایا۔ اسی طرح فتح مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ پورے جزیرۃ العرب کے بلاشرکت غیرے حاکم اعلیٰ ہوچکے تھے اس وقت آپ ﷺ نے مکہ والوں سے خون اور ظلم و ستم کا بدلہ لینے کے بجائے رحم و کرم اور عام معافی کا اعلان فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے حاسد بھائیوں کو ان کے ظلم و ستم کا بدلہ لینے کے بجائے رحم و کرم اور عام معافی کا اعلان فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ جس طرح حضرت یوسف نے اپنے حاسد بھائیوں کو ان کے ظلم کے باوجود معاف کردیا تھا میں بھی یہی کہتا ہوں کہ ” اذھبوا وانتم الطلقاء لاتثریب علیکم الیوم “ کہ جاؤ تم سب میری طرف سے آزاد ہو کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ 3) جس طرح حضرت یوسف کی طرف سے عام معافی کے بعد ان کو اس خواب کی تعبیر مل گئی کہ چاند سورج اور گیارہ ستارے ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی طرف سے کفار مکہ کے لئے عام معافی مل جانے کے بعد دشمنان اسلام کو آپ ﷺ کے قدموں پر گرنا پڑا۔ غرضیکہ حضرت یوسف اور نبی کریم ﷺ کی زندگی میں بڑی مناسبت و مشابہت ہے جس کو قرآن کریم نے ایک اچھوتے اور نرالے انداز سے پیش فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف کی آیات نازل فرما کر کفار مکہ کو یہ بات اچھی طرح سمجھا دی ہے کہ جس طرح برادران یوسف نے بغض و حسد کر کے اپنے بھائی کو رسوا کرنا چاہا لیکن اللہ نے اسی شر میں سے خیر کو پیدا فرما کر ان کو عزت و عظمت کی سربلندیوں تک پہنچا دیا تھا اسی طرح وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پھر سے مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہو کر تمام عزت و عظمت کی بلندیوں پر پہنچیں گے اور کفار مکہ ذلیل اور رسوا ہو کر آپ کے قدموں کی دھول بن کر رہ جائیں گے۔ تاریخ کے صفحات اور قرآن کریم کی آیات گواہ ہیں کہ اللہ نے نبی کریم ﷺ کو ہزاروں پریشانیوں اور مشکلات کے باوجود دنیاوی اعتبار سے بھی اعلیٰ ترین مقام عطا فرمایا ہے۔ زیر مطالعہ سورة یوسف کی تینوں آیات میں کچھ الفاظ کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے تاکہ وہ الفاظ جن سے سورت شروع کی جا رہی ہے واضح ہوجائیں۔ حروف مقطعات :- اس سورت کو ” الم “ سے شروع کیا گیا ہے جیسے کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ان جیسے حروف کو مقطعات کہتے ہیں۔ معنی سے کٹے ہوئے یا علیحدہ علیحدہ پڑھے جانے والے حروف۔ ان کے کیا معنی ہیں ان کے متعلق مفسرین یہی ایک بات لکھتے ہیں کہ ” اللہ اعلم بمرادہ بذالک “ اللہ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ان حروف سے کیا مراد ہے ؟ ممکن ہے ان حروف کے معنی ہوں جن کا علم نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نہ تو ان کے معانی بیان فرمائے ہیں اور نہ صحابہ کرام نے آپ سے پوچھا۔ ہمیں صحابہ کرام کی طرح اس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ ان حروف کی مراد سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر طور پر واقف ہیں۔ کتاب مبین :- قرآن کریم کی بہت سی صفات بیان فرمائی گئی ہیں اور اس کو متعدد جگہ ” کتاب مبین، آیات مبین “ فرمایا گیا ہے مراد یہ ہے کہ یہ قرآن کریم اپنے معانی میں اس قدر واضح اور کھلا ہوا ہے جس میں کوئی فلسفیانہ یا منطقی انداز نہیں ہے۔ کھلی کتاب زندگی ہے جو چاہے اس کو پڑھ کر اپنی ہدایت کا سامان کرسکتا ہے۔ نہ اس کے سمجھنے میں کوئی دشواری ہے اور نہ عمل کرنے میں اگر۔ پوری طرح دھیان دیا جائے اور توجہ کی جائے تو اس کو سمجھنا اور اس پر بنی کریم ﷺ کے ارشادات کے مطابق عمل کرنا نہایت آسان ہے۔ قرآن عربیا :- اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو عربی جیسی عظیم الشان زبان میں نازل کیا ہے جو اللہ کے کلام کے لئے نہایت موزوں اور اعلیٰ ترین زبان ہے۔ دوسرے یہ کہ اس قرآن کریم کے سب سے پہلے مخاطب اہل عرب ہیں۔ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کتاب عربی زبان میں ہے جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے جو تمہاری اپنی زبان ہے۔ جس کے کسی لفظ کے سمجھنے میں اہل عرب کے لئے کوئی دشواری نہیں ہے۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ قرآن کریم صرف اہل عرب کے لئے ہے دوسروں کے لئے نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے قرآن کریم وہ کتاب ہے جو قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے راہ ہدایت ہے۔ جس کو عربی جیسی عظیم اور محترم زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ اب یہ پوری امت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قرآن کریم اور نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک کو ساری دنیا تک پہنچائیں اور اس کی عربیت کا خیال رکھیں۔ اسی بنا پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کریم کے ایک ایک حرف پر دس نیکیاں عطا کی جائیں گی۔ ہر حرف پر دس نیکیاں ” عربیت “ میں پوشیدہ ہیں اس کے ترجمے میں نہیں۔ اگر اس کا ترجمہ کسی بھی زبان میں کیا جائے گا تو بیشک اس ترجمہ کا پورا پورا ثواب عطا کیا جائے گا لیکن ترجمے کے حروف پر دس نیکیوں کا وعدہ نہیں فرمایا گیا۔ اسی علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر قرآن کریم کا صرف ترجمہ شائع کیا جائے اور اس کے ساتھ قرآن کریم کے عربی الفاظ و آیات نہ ہوں تو محض کسی زبان میں صرف ترجمہ پڑھنا اور ایسے ترجمے والے قرآن کو رکھنا حرام ہے۔ طریقہ یہ ہے کہ الفاظ قرآن لکھے ہوں پھر ان کا ترجمہ کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آج کل بعض لوگ جو اپنے خیال میں بہت عقل مند اور ترقی پسند بنتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ الفاظ قرآن کے بغیر ترجمہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میں ان لوگوں سے یہی عرض کروں گا کہ اگر یہ طریقہ اختیار کرلیا گیا تو اس سے اللہ نہ کرے قرآن کریم کا بھی وہی حشر نہ ہو جو بائبل کا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کا محض ترجمہ شائع کیا اور آج اصل کتاب ہی دنیا سے ناپید ہوچکی ہے نہیں معلوم کہ جس کتاب کو بائبل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے وہ وہی اصل بائبل ہے یا لوگوں نے اپنے طور پر کچھ ترجمہ گھڑ کر اس کو اللہ کی کتاب کے طور پر پیش کردیا ہے۔ یہاں تک سنا ہے کہ ہر پادری کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کتاب میں وقت کے تقاضوں کے تحت تبدیلیاں کرسکتا ہے۔ بہرحال قرآن کریم کے ساتھ اس طرح کے انداز کا اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ احسن القصص :- واقعات میں واقعہ یوسف کو سب سے خوبصورت اور حسین واقعہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیت ہے کہ قرآن کریم میں کسی واقعہ کو اس طرح بیان نہیں فرمایا گیا۔ بارہ رکوعوں پر مشتمل ایک مکمل سورت میں سوائے حضرت یوسف کے واقعہ کے اور کسی کا واقعہ بیان نہیں کیا گیا۔ لیکن اس پوری سورت میں اس کو ایک واقعاتی ترتیب یا قصے کہانی کے طور پیش نہیں کیا گیا بلکہ چھوٹے چھوٹے جملوں میں عبرت و نصیحت کے ہر پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ حضرت یوسف کی عین جوانی اور شباب کا دور ہے۔ ہر طرف سے بیگمات مصر ان کو اپنی خواہشات کی بھینٹ چڑھانا چاہتی ہیں لیکن اللہ نے ان کو کس طرح پاک دامن رکھا یہ واقعہ ساری دنیا کے نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ وحی کے ذریعہ :- اس واقعہ کا مکہ والوں کو پہلے سے علم نہیں تھا مگر اللہ نے وحی کے ذریعے اس واقعہ کو بیان کر کے اس کے ہر پہلو کو وضاحت سے پیش فرمایا ہے۔
Ayahs 12:4–6

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

جب یوسف نے اپنے والد (حضرت یعقوب) سے کہا کہ اے میرے ابا جان ! میں نے گیارہ ستارے، چاند اور سورج کو (خواب میں) دیکھا ہے جو مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

(حضرت یعقوب نے) کہا کہ اے میرے بیٹے ! تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا ورنہ وہ تمہارے لئے کوئی چال چل جائیں گے۔ بیشک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور ایسا ہی ہوگا کہ تمہیں تمہارا رب منتخب کرے گا اور تمہیں بات کی (خوابوں کی تعبیر کی) گہرائی تک پہنچنے کا علم عطا فرمائے گا۔ تم پر اور آل یعقوب پر وہ اپنی نعمت کو اسی طرح مکمل رکے گا جس طرح اس نے تمہارے باپ دادا ابراہیم و اسحاق پر اس سے پہلے اپنی نعمت کو مکمل کیا تھا۔ بیشک تمہارا رب ہر چیز کا جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 4 تا 6 لابیہ (اپنے باپ کے لئے) انی رایت (بےشک میں نے دیکھا ہے) احد عشر (گیارہ) کوکب (ستارے) الشمس (سورج) القمر (چاند) سجدین (سجدہ کرنے والے) یبنی (اے میرے پیارے بیٹے) لاتقصص (بیان نہ کر، بیان مت کر ) رویاک (تیرا خواب، آپ کا خواب) اخوتک (تیرا بھائی، آپ کا بھائی) یکیدوا (وہ فریب کریں گے۔ چال چلیں گے عدو (دشمن) یجتبیک (تجھے منتخب کرے گا) یعلمک (تجھے سکھائے گا ) تاویل (انجام۔ تعبیر) الاحادیث (حدیثیں۔ باتیں۔ خواب) ( یتم (پورا کرے گا) علی ابویک (تیرے باپ دادا پر) تشریح آیت نمبر 4 تا 6 سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کے جس واقعہ کا ذکر فرمایا ہے وہ درحقیقت ان کے صبر و تحمل اور ہمت و استقلال کا ایک عظیم واقعہ ہے جس میں یہ بات بالکل واضح ہے کہا نہوں نے اپنے بھائیوں کی بےانتہا زیادتیوں کے باوجود حالات کی تنگی پر نہ شکوہ کیا اور نہ اس کا بدلہ لیا۔ قرآن کریم میں ان کے واقعہ کی ابتدا ایک خوب سے کی گئی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو ان کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچنے کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ ایک دن حضرت یوسف نے اپنے والد محترم حضرت یعقوب کو اپنا یہ خواب سنایا۔ انہوں نے بتایا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے اور چاند سورج ہیں جو انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ حضرت یعقوب جو ایک جلیل القدر پیغمبر بھی ہیں انہوں نے خواب کی گہرائی تک پہنچتے ہوئے حضرت یوسف کو شروع میں خواب کی تعبیر تو نہیں بتائی مگر اس بات کی تاکید فرمائی کہ تم اس خواب کو اپنی حد تک محدود رکھنا اور اپنے بھائیوں میں سے کسی کو یہ خواب مت سنانا۔ کیونکہ یہ خواب اس قدر واضح ہے کہ اس کو سنا کر یقینا ان کے حسد کی آگ اور بھڑک اٹھے گیا ور وہ سمجھ جائیں گے کہ یوسف کو اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کسی سخت تدبیر کے کرنے پر مجبور ہوجائیں اور کوئی نقصان پہنچا دیں۔ اس خواب کی تعبیر دیتے ہوئے فرمایا کہ اے یوسف اللہ تعالیٰ تمہیں منتخب فرمائے گا۔ تمہیں بات کی گہرائی معاملہ فہمی اور خوابوں کی تعبیر کا ایک ایسا علم عطا فرمائے گا جو ان سے پہلے کسی کو عطا نہیں کیا گیا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کے علم و فضل کا وارث بنائے گا اور وہ نعمتیں جو تمہارے باپ دادا حضرت ابراہیم و اسحاق (علیہ السلام) کو عطا کی گئی تھیں وہ ان کو تمہارے اوپر پورا فرمائے گا۔ خواب ایک حقیقت ہے جس کی سچائی سے انکار ممکن نہیں ہے اور خاص طور پر وہ خواب جو کوئی نبی یا رسول دیکھتا ہے اس کا درجہ وحی جیسا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے یہ دیکھا تھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں اور اس خواب کو انہوں نے مسلسل تین دن تک دیکھا تو سمجھ گئے کہ یہ خواب نہیں ہے بلکہ اللہ کا حکم ہے جو خواب کے ذریعہ ان کو دیا گیا ہے۔ پھر وہ حضرت اسماعیل کو منی کی طرف لے کر چلے تاکہ اللہ کے حکم کی تعمیل فرمائیں۔ لیکن اللہ نے حضرت اسماعیل کی جگہ ایک مینڈھا عطا فرمایا جس کو انہوں نے ذبح کیا اور اس خواب کی سچائی بھی سامنے آ کر رہی اور فرمایا کہ اے ابراہیم تمہارا خواب سچا تھا اور تم نے سچ کر دکھایا۔ ہمارا مقصد بیٹے کو ذبح رانا نہیں تھا بلکہ ایک امتحان تھا جس کو تم نے پورا کر دکھایا۔ اس طرح خواب کی سچائی پر اللہ نے مہر لگا دی اور بتا دیا کہ انبیاء کرام کے خواب وحی کا درجہ رکھتے ہیں۔ خواب کی سچائی نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد سے بھی واضح ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا۔ شیطان کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ خواب میں میری صورت بنا کر آجائے۔ اس وقت ہمارا موضوع خواب نہیں ہے لیکن علماء کرام نے اس آیت سے چند اصولی باتیں ارشاد فرمائی ہیں تاکہ ہر خواب دیکھنے والا ان ہدایات کو پیش نظر رکھے۔ 1) جس خواب کے بیان کرنے سے فتنہ کا اندیشہ ہو یا برے جذبات اور حسد کی آگ کے بڑھنے کا اندیشہ ہو اسے بیان نہ کرے۔ کیونکہ ایسے خواب شیطان کی طرف سے ہیں جو انسان کا ازلی دشمن ہے۔ 2) اپنا خواب صرف اس شخص سے بیان کرے جو اس کا خیر خواہ ہو اور خواب کی تعبیر کے علم سے اچھی طرح واقف ہو۔ ہر ایک کے سامنے اپنے خواب کو سناتے پھرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ خواب اس وقت تک معلق رہتا ہے جب تک اس کو بیان نہ کردیا جائے اور سننے والے نے کوئی تعبیر نہ دیدی ہو جب تعبیر دیدی جاتی ہے تو پھر وہ اسی طرح واقع ہو کر رہتی ہے۔ 3) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے اس کو راز میں رکھنے سے مدد لو۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر اس شخص سے حسد کیا جاتا ہے جس کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا ہو۔ 4) خواب دیکھتے ہی اور تعبیر حاصل کرتے ہی یہ نہ سمجھے کہ وہ فوراً ہی پوری ہو جائیگی۔ ہو سکتا ہے کہ بہت بعد میں اس کی تعبیر سامنے آئے ۔ حضرت یوسف کو اپنے خواب کی تعبیر تقریباً تیس سال کے بعد حاصل ہوئی۔ 5) اگر کوئی شخص برا خواب دیکھے تو اس کو بیان نہ کرے بلکہ اٹھ کر نماز پڑھ لے یا بائیں طرف تین دفعہ تھتھکار دے۔ ممکن ہو تو کچھ صدقہ دیدے۔
Ayahs 12:7–10

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

یقینا یوسف اور اس کے بھائیوں کے (واقعہ میں) پوچھنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب یوسف کے متعلق اس کے بھائیوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے والد کو زیادہ پیارے ہیں جب کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں۔ بیشک ہمارے والد ایک کھلی غلطی کر رہے ہیں۔

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو قتل کر دو یا کسی جگہ پھینک آؤ تاکہ تمہارے والد کی پوری توجہ تمہاری طرف ہوجائے۔ اس کے بعد پھر نیک لوگوں کی طرح بن جانا۔

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل نہ کرو بلکہ اس کو ایک ایسے اندھے کنوئیں میں ڈال دو جہاں سے کوئی قافلہ اس کو اٹھا کرلے جائے اگر تم کچھ کرنا چاہتے ہو۔

لغات القرآن آیت نمبر 7 تا 01 کان (ہے۔ تھا) السائلین (پوچھنے والے) احب (زیادہ محبوب ہے) عصبۃ (جماعت۔ قوت) ضلل (گمراہ۔ بھٹکنا) اقتلوا (قتل کردو) اطرحوا (ڈال دو ۔ پھینک دو ) یخل (خاص ہوجائے۔ خالی ہوجائے) وجھ (چہرہ) قائل (کہنے والا) القوہ (اس کو ڈال آؤ) غیبت (گہرا۔ اندھا) الجب (کنواں) یلتقت (اٹھا لے گا) السیارۃ (قافلہ) فعلین (کرنے والے) تشریح آیت نمبر 7 تا 01 دیکھا گیا ہے کہ ماں باپ اور دنیا کے دوسرے لوگوں کا رویہ بڑا مختلف ہوتا ہے۔ لوگ دنیا میں اس شخص کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں جو طاقت ور ہوتے ہیں لیکن ماں باپ اولاد میں سے ان بچوں کی طرف زیادہ توجہ دیتے ہیں جو چھوٹے اور کمزور ہوں۔ حضرت یعقوب کے گھرانے میں بھی یہی فرق تھا۔ حضرت یعقوب نے سب سے پہلے حضرت لیا سے شادی کی جن کے بطن سے دس اولاد پیدا ہوئی حضرت لیا کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب نے دوسری شادی کی جن سے حضرت یوسف اور ان کے چھوٹے بھائی بن یا مین پیدا ہوئے حضرت یعقوب کے دس بڑے بیٹے نہایت تنومند اور لمبے چوڑے تھے اور جوان ہوچکے تھے جب کہ حضرت یوسف اور بن یا مین بہت چھوٹے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا کہ ماں باپ کو ساری اولاد سے یکساں پیار ہوتا ہے مگر چھوٹے اور کمزور بچوں سے قدرتی لگاؤ ہوتا ہے جس کو دوسرے بھائی یہ محسوس کرتے ہیں کہ شاید ہمارے والد ہم سے محبت نہیں کرتے اور چھوٹے بچوں کو بہت چاہتے ہیں۔ حضرت یوسف کے بڑے سوتیلے بھائی ان سے حسد کرنے لگے۔ ایک دن آپس میں کہنے لگے کہ ہمارے والد کو جتنی محبت حضرت یوسف اور بن یا میں سے ہم سے نہیں ہے حالانکہ ہم ایک جتھا، طاقت اور قوت ہیں۔ ہماری تعداد بھی زیادہ ہے ہم جو راحت و آرام والدین کو پہناچا سکتے ہیں ہمارے چھوٹے بھائی نہیں پہنچا سکتے۔ اس تصور نے ان کے حسد کی آگ کو اور بھی بھڑکا دیا اور یہ مشروہ کیا کہ اگر ہم کسی طرح یوسف کو والد کی نگاہوں سے دور کردیں، ان کو قتل کردیں یا کہیں ایسی جگہ پھینک آئیں جہاں سے وہ واپس نہ آسکیں تو اس طرح ہم اپنے والد کی محبت کو اپنے لئے خاص کرلیں گے۔ کسی نے کہا کہ یوسف کو قتل کردیا جائے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اس کو کسی ویرانے میں چھوڑ دیا جائے تاکہ وہاں سے واپس نہ آسکے۔ ایک بھائی نے مشورہ دیا کہ نہ تو حضرت یوسف کو قتل کیا جائے نہ کسی ویرانے میں چھوڑا جائے بلکہ کسی غیر آباد اندھے کنوئیں میں ڈالا جائے۔ اگر زندہ بچ گیا تو کوئی قافلہ اس کو اپنا غلام بنا کر دور دراز کے علاقے میں لے جائے گا۔ اسط رح کچھ دن کے بعد والد رو دھو کر صبر کرلیں گے۔ سب بھائیوں نے اس تجویز پر اتفاق کرلیا اور سب جمع ہو کر اپنے والد حضرت یعقوب کے پاس پہنچ گئے۔ اس کی تفصیل اس کے بعد کی آیات میں بیان کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حسد اتنی بڑی خرابی ہے جو انسان کو اس سے غافل کردیتی ہے کہ اس کے سامنے کون ہے۔ اس کی نگاہوں سے سگے سوتیلے کا فرق بھی مٹ جاتا ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! حسد سے بچو ! حسد انسان کے نیک اعمال کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس برائی سے محفوظ فرمائے آمین۔ جس طرح برادران یوسف نے حسد کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت یوسف کو راستے سے ہٹانے کی تدبیروں پر غور و فکر کیا بالکل اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ سے بغض و حسد اور اسلام دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو راستے سے ہٹانے کے لئے باہمی مشورہ کیا اور طے کیا کہ کہ آپ کو (نعوذ باللہ) قتل کردیا جائے۔ حضرت عمر جو اس وقت تک ایمان نہیں لائے تھے انہوں نے یہ ذمہ لیا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو قتل کردیں گے اس ارادے سے چل پڑے لیکن اللہ نے حضرت عمر فاروق کو ایمان کی دولت سے مالا مال فرما دیا اور وہ جس ارادے سے چلے تھے کہ دنیا سے آپ کو مٹا دیا جائے ایمان سے سرفراز ہونے کے بعد حضور اکرم ﷺ کے سب سے بڑے حامی بن گئے۔ بہرحال کفار مکہ نے برادران یوسف کی طرح آپ کو راستے سے ہٹانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ ان آیات میں اللہ نے کفار مکہ کو یہ بتادیا کہ انسان ایک حد تک سوچ سکتا ہے لیکن جب اللہ کی خفیہ تدبیر ہوتی ہے تو انسان کے سارے ارادے خاک میں مل جاتے ہیں۔ جس بات اور عمل سے وہ دوسروں کو گرانے اور حسد کرنے کی کوشش کرتا ہے وہی اس کی سربلندی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
Ayahs 12:11–18

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یوسف کے بھائیوں نے) کہا کہ اے ہمارے ابا جان ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے بارے میں آپ ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں۔

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ کھائے اور کھیلے اور بیشک ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

(حضرت یعقوب نے ) کہا کہ مجھے یہ اندیشہ فکر مند کر رہا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور جب تم غافل ہو تو اس کو بھیڑیا کھا جائے۔

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

کہنے لگے کہ یہ کیسے ممکن ہے جب کہ ہم ایک مضبوط جماعت ہیں اگر ہماری موجودگی میں اس کو بھیڑیا کھا جائے۔ تو ہم بالکل گئے گذرے ہوں گے۔

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب وہ اس کو (یوسف) کو لے گئے اور انہوں نے اس بات پر اتفاق کرل یا کہ اس کو اندھے کنوئیں میں ڈال دیا جائے، تو ہم نے (یوسف کی طرف) وحی بھیجی کہ تو ان کو (ایک دن) ضرور بتائے گا اور وہ تجھے پہچان نہ سکیں گے۔

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور وہ (برادران یوسف) رات کو باپ کے پاس روتے پیٹتے پہنچے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

اور کہنے لگے کہ اے ہمارے ابا جان ! ہم آپس میں دوڑ کر مقابلہ کر رہے تھے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا تو اس کو بھیڑیا کھا گیا۔ آپ ہمارا اعتبار تو نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہیں۔

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور یوسف کی قمیض پر جھوٹا خون بھی لگا لائے۔ (یعقوب نے) کہا کہ یہ بات تم نے اپنے دل سے گھڑ لی ہے۔ اب صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم نے بیان کیا اس پر اللہ ہی مدد فرمائے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 18 مالک (تجھے کیا ہوگیا) لاتامنا (تو ہم پہ اطمینان نہیں کرتا ہے) نصحون (نصیحت کرنے والے۔ خیر خواہ) ارسل (بھیج دے) غداً (کل۔ آئندہ۔ صبح ) یرتع (کھاتا ہے یا کھائے گا ) یعلب (کھیلتا ہے یا کھیلے گا) لیحزننی (البتہ مجھے رنجیدہ کرتی ہے) ان یا کلہ ، (یہ کہ وہ کھائے) الذئب (بھیڑیا) ان یجعلوہ (یہ کہ وہ اس کو ڈال دیں) عشآء (رات کے وقت) یبکون (وہ روتے ہیں یا روئیں گے ) ذھبنا (ہم چلے گئے ) نستبق (ہم دوڑ کا مقابلہ کر رہے ہیں) ترکنا (ہم نے چھوڑ دیا) عند (نزدیک) متاعنا (ہمارا اپنا سامان) دم کذب (جھوٹا خون) سولت (بنا لی ہے۔ برابر کرتی ہے) صبر جمیل (اچھا صبر) المستعان (استعانۃ) مدد مانگی جائے ۔ تصفون (تم گھڑتے ہو) تشریح آیت نمبر 11 تا 81 برادران یوسف نے یہ فیصلہ کرلینے کے بعد کہ حضرت یوسف کو راستے سے ہٹا دیا جائے تاکہ والد کی محبت میں کوئی اور شریک نہ ہو۔ حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یا مین کی کم عمری کی وجہ سے وہ مطمئن تھے اس لئے صرف حضرت یوسف کو اندھے کنوئیں میں ڈالنے کے لئے کوشاں تھے۔ ایک دن تمام بھائیوں نے اپنے والد حضرت یعقوب سے کہا کہ اے ابا جان ! ہم جب سیرو تفریح کے لئے جاتے ہیں تو اپنے بھائی یوسف کے نہ ہونے سے بڑی کمی محسوس کرتے ہیں۔ ہم اس کے خیر خواہ ہیں مگر آپ ہم پر اطمینان کا اظہار نہیں کرتے۔ آج تو ان کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ وہ بھی ہمارے ساتھ جائیں کھیلیں کو دیں اور تفریح کا لطف اٹھائیں۔ ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم ہر ممکن ان کی حفاظت کریں گے۔ ممکن ہے برادران یوسف نے ذہنی طور پر پہلے ہی سے حضرت یوسف کو بھی تیار کرلیا ہو۔ حضرت یعقوب نے فرمایا کہ یوسف کی ذرا سی جدائی بھی مجھے رنجیدہ کردیتی ہے اور پھر تمہارے ساتھ بھیجنے میں مجھے یہ اندیشہ ہے کہیں تمہاری بیخبر ی اور بےتوجہی میں یوسف کو کوئی بھیڑیا نہ کھا جائے۔ کیونکہ اس زمانہ میں جنگلوں میں بھیڑیئے زیادہ ہوتے تھے۔ بھائیوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے جب کہ ہم ایک جتھا ہیں قوت و طاقت میں بھی کم نہیں ہیں۔ اگر ہماری موجودگی میں یہ واقعہ ہوجائے تو یہ ہمارے لئے بڑے خسارے اور نقصان کا سودا ہوگا ۔ تھوڑی سی بحث و گفتگو کے بعد آخر کار حضرت یعقوب اس بات پر رضا مند ہوگئے کہ حضرت یوسف کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں۔ فرمایا کہ اللہ نے حضرت یوسف کے دل میں اس بات کو جما دیا اور فرما دیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ اے یوسف ! تم ان کو یہ سارا واقعہ سناؤ گے اور وہ تمہیں پہچان بھی نہس کیں گے۔ بھائیوں نے حضرت یوسف کو پروگرام کے مطابق ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا جہاں اللہ نے ان کی حفاظت فرمائی۔ رات کو روتے پیٹتے برادران یوسف اپنے والد کے پاس آئے اور کہنے لگے ابا جان ! آپ صحیح کہتے تھے، ہم کھیل کود رہے تھے اور سامان کے پاس ہم نے یوسف کو بٹھا دیا تھا۔ بھیڑیا آیا اور ان کو کھا گیا۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے حضرت یوسف کا قمیص پیش کیا جس پر جھوٹ موٹ کا خون لگا ہوا تھا کہنے لگے ابا جان ! آپ تو ہم اطمینان کا اظہار نہیں کریں گے لیکن ہم سچ کہہ رہے ہیں یہ واقعہ اسی طرح پیش آیا ہے۔ حضرت یعقوب نے کہا کہ یہ بات تم نے خود ہی گھڑ لی ہے اور جس چیز کا تم اظہار کر رہے ہو میرا دل نہیں مانتا کہ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ اب میں اس واقعہ پر صبر ہی کرسکتا ہوں اور میں اللہ تعالیٰ سے مدد کا طلب گار ہوں۔ یہ واقعہ قرآن کریم نے نہایت مختصر لفظوں میں ارشاد فرمایا جس سے چند باتیں سامنے آتی ہیں : 1) سازشی عناصر ہمیشہ ” خیر خواہی “ کا لبادہ اوڑھ کر اپنی سازشوں پر بہت خوش ہوتے ہیں لیکن اس کارخانہ قدرت میں ہر چیز ایک لگے بندھے نظام کے تحت چل رہی ہے۔ سازشیں کرنے والے حسد کی آگ میں جلنے والے اپنی تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ اپنی تدبیر کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی تدبیر ہی سب سے بہتر تدبیر ہوتی ہے۔ سازشی عناصر جس چیز کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں درحقیقت وہی ان کی شکست اور تباہی اور ذلت کا سامان بن جاتی ہے۔ برادران یوسف اس بات پر خوش تھے کہ ہم نے اپنی حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرلیا اور والد کی نگاہوں سے اس کو دور کردیا جو ان کے نزدیک والد کی محبت میں رکاوٹ بن رہا تھا لیکن قدرت نے حضرت یوسف کے لئے اس سربلندی کا فیصلہ فرما لیا تھا جو ان کے تصور میں بھی نہیں تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ اللہ نے حضرت یوسف کے دل کو جما دیا کہ اے یوسف ! تم فکر مت کرنا ان کو اپنی تدبیریں اور سازشیں کرنے دو ایک وقت آئے گا کہ تم ان بھائیوں کے سامنے اس سارے واقعہ کو بیان کریں گے اور وہ تمہیں پہچان نہ سکیں گے۔ اسی طرح کفار مکہ نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثاروں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے تھے وہ اپنے ہر ظلم کو اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے حالانکہ قدرت کے اصول کے تحت وہ ہر روز اپنی ذلت اور شکست کی طرف قدم بڑھا رہے تھے۔ کفار مکہ کے ظلم اور زیادتیوں اور اذیتوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ صحابہ کرام مکہ مکرمہ سے نکل کر حبشہ کی طرف ہجرت فرما گئے اور وہ دن بھی آگیا جب رسول اللہ ﷺ بھی بیت اللہ کی سر زمین کو اللہ کے حکم سے چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ لیکن مکہ مکرمہ سے یہی ہجرت اہل ایمان کی اس سربلندی کا ذریعہ بن گئی جس کا کفار مکہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ کفار مکہ سمجھ رہے تھے کہ چلو اچھا ہوا ہمارے راستہ کا کانٹا نکل گیا لیکن یہی قدم نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی ترقی کا سنگ میل ثابت ہوا۔ 2) حضرت یوسف کے قمیص پر جھوٹا خون لگا کر برادران یوسف سمجھ رہے تھے کہ ہم اپنے والد کو دھوکہ دے سکیں گے۔ لیکن حضرت یعقوب سمجھ گئے یہ سب من گھڑت کہانی ہے، اس موقع پر حضرت یعقوب نے فرمایا کہ یہ کہانی تم نے اپنے دل سے گھڑ لی ہے حقیقت کچھ اور ہے۔ 3) جب کوئی مشکل یا مصیبت کا وقت آتا ہے تو انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ وہ رنج و غم میں اپنے کپڑے نہیں پھاڑتے وہ کپڑوں پر جھوٹا رنگ ڈال کرو اویلا اور شور نہیں مچاتے بلکہ ان کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہے کہ یہ مصیبت اللہ کی طرف سے ہے وہ ہر چیز کا مالک ہے وہ بات کی مصلحت اور بھلائی کو جانتا ہے ہم اسی سے مدد کے طلب گار ہیں۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور ایک قافلہ آگیا۔ انہوں نے اپنا ایک آدمی پانی لانے بھیجا جب اس نے (کنوئیں میں) اپنا ڈول ڈالا تو وہ چلا اٹھا۔ اے لوگو ! مبارک ہو یہاں تک ایک بڑا اچھا لڑکا ہے اور انہوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا اور اللہ خوب جانتا ہے جو وہ کر رہے تھے۔

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

انہوں نے (برادران یوسف نے) اس کو گنتی کے چند درہموں میں بیچ ڈالا اور وہ اس کے بارے میں ان کی قدر کرنے والے نہ تھے۔

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 20 ارسلوا (انہوں نے بھیجا) وارد (پانی لانے والا) ادلی (اس نے ڈالا۔ نیچے لٹکایا) دلو (ڈول (جس کے ذریعہ کنوئیں سے پانی نکالا جاتا ہے) بشریٰ (خوش خبری) غلام (لڑکا) اسروا (انہوں نے چھپا لیا) بضاعۃ (مال تجارت، پونچی) شروا (انہوں نے فروخت کردیا۔ بیچ دیا) ثمن (قیمت) بخس (گھٹیا۔ بہت تھوڑا) الزاھدین (نفرت کرنے والا۔ قدر نہ کرنے والے) تشریح آیت نمبر 19 تا 20 حضرت یوسف کے سوتیلے بھائیوں نے جب حضرت یوسف کو ایک اندھے کنوئیں میں پھینک دیا اور سارے بھائی جھوٹے آنسو بہاتے اور یہ کہتے ہوئے اپنے والد حضرت یعقوب کے پاس آئے کہ ہماری بیخبر ی میں یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور یوسف کی خون آلود قمیض بھی لا کر پیش کردی اس وقت حضرت یعقوب نے اس واقعہ کو رضائے الٰہی سمجھ کر صبر فرمایا اور اللہ کی بارگاہ میں مدد اور رہنمائی کے طلب گار ہوگئے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت یوسف تین دن تک اس کنوئیں میں رہے اور برادران یوسف حالات پر برابر نگرانی کرتے رہے۔ ایک دن مدین سے مصرف کی طرف جانے والا ایک قافلہ وہاں سے گذرا۔ قافلے والوں نے کسی کو پانی کی تلاش میں اپنا ڈول ڈالنے کے لئے کہا۔ جب اس نے ڈول ڈالا تو حضرت یوسف نے ڈول کی اس رسی کو پکڑ لیا جو ڈول میں بندھی ہوئی تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت بچہ اس کنوئیں میں موجود ہے تو اس نے قافلے والوں سے چلا کر کہا اے قافلے والو ! مبارک ہو ایک بہت اچھا غلام ہاتھ لگ گیا ہے۔ وہ سب دوڑے ہوئے آئے اور انہوں نے حضرت یوسف کو باہر نکالا اور اس تصور سے بہت بہت خوش ہوئے کہ اس بچے کو جب مصر میں فروخت کریں گے تو بہت اچھے دام مل سکیں گے ” مال تجارت “ سمجھ کر حضرت یوسف کو چھپا لیا تاکہ کسی کو اس کی خبر نہ ہو سکے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ برادران یوسف جو برابر نگرانی کر رہے تھے جب ان کو مدین کے اس قافلے کا علم اور یقین ہوگیا کہ حضرت یوسف قافلے والوں کے قبضے میں ہیں تو انہوں نے قافلے والوں سے کہا کہ ہمارا ایک غلام گھر سے بھاگ کر آگیا ہے اور وہ اس کو واپس بھی لینا نہیں چاہتے۔ اگر تم اس کے مناسب دام دے دو تو ہم اپنا غلام تمہارے ہاتھ فروخت کرسکتے ہیں روایات میں آتا ہے کہ اٹھارہ درہم پر فیصلہ ہوگیا۔ برادران یوسف نے اپنے بھائی کو ایک معمولی سی رقم کے بدلے میں فروخت کردیا جس کا مقصد یہ تھا کہ قافلے والے اس بات پر مطمئن ہوجائیں کہ یہ مال چوری کا نہیں ہے بلکہ باقاعدہ خریدا گیا ہے۔ اس واقعہ میں یہ نقطہ بھی قابل ملاحظہ ہے کہ حضرت یوسف اس اندھے کنوئیں میں تین دن تک رہے اور پھر اس قافلے والوں کی حفاظت میں آگئے اس طرح نبی کریم ﷺ نے بھی جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی اور کفار مکہ آپ ﷺ کا پیچھا کر رہے تھے تو آپ بھی غار ثور میں تین دن تک چھپے رہے۔ حضرت یوسف اور نبی کریم ﷺ کے واقعات میں ایک یہ بھی مناسبت ہے۔
Ayahs 12:21–22

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر کے جس شخص نے (یوسف کو) خریدا تھا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو اچھی طرح عزت سے رکھنا ۔ ممکن ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اس کو بیٹا بنا لیں اور اس طرح ہم نے یوسف کے اس سر زمین میں قدم جما دیئے۔ تاکہ ہم اس کو باتوں کا انجام (جیسے خوابوں کی تعبیر وغیرہ) نکالنا سکھائیں اور اللہ اپنے کام میں غالب رہتا ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو جانتے نہیں

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب (یوسف) اپنی قوت (جوانی) کو پہنچ گیا تو ہم نے اس کو علم و حکمت سے نوازا اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

لغات القرآن آیت نمبر 21 تا 22 اشتری ٰ (خرید لیا۔ بیچ دیا (دونوں معنی آتے ہیں) امراء ۃ (عورت ، بیوی) اکرمی (عزت سے کھ) مثواہ (ٹھکانا۔ مقام ینفعنا (وہ ہمیں فائدہ دے گا) نتخذ (ہم بنا لیں گے) ولد (بیٹا) کذلک (اسی طرح، اس طرح) مکنا (ہم نے ٹھکانا دیا۔ جما دیا ) نعلم (ہم سکھاتے ہیں ) الاحادیث (حدیث) باتیں غالب (غلبہ و قوت پانے والا) امر (کام) لایعلمون (وہ جانتے نہیں) بلغ (وہ پہنچ گیا) اشدہ (اپنی قوت کو اپنی جو این کو اتینا (ہم نے دیا) حکم (حکم۔ دانائی) علم (علم۔ جاننا) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں۔ جزا دیتے ہیں المحسنین (نیک کام کرنے والے) تشریح : آیت نمبر 21 تا 22 عزت اور ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہی عزت سے نوازتا ہے اور وہی ذلت بھی دیتا ہے اگر عزت و ذلت انسان کے ہاتھ میں ہوتی تو وہ کبھی کسی کو عزت سے نہ نوازتا بلکہ ہر ایک کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیتا۔ برادران یوسف نے حضرت یوسف سے حسد کیا اور ان کو اپنے والد کی نظروں سے گرانے اور دور کرنے کی تدبیریں کیں لیکن اللہ نے ان کی تدبیروں کو الٹ دیا اور حضرت یوسف کو عزت کا بہترین ٹھکانا عطا فرما دیا۔ مدین سے مصرف جانے والا قافلہ حضرت یوسف کو بازار مصر میں لے کر پہنچا تاکہ ان کو ایک غلام کی حیثیت سے فروخت کر کے زیادہ سے زیادہ مال کمال سکے۔ حضرت یوسف کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر ہر ایک نے زیادہ سے زیادہ قیمت لگانا شروع کردی یہاں تک کہ ان کے وزن کے برابر سونا، مشک اور اسی وزن کے ریشمی کپڑے تک عوض میں دینے کی بولی لگا دی گئی۔ مصر کی حکومت کا وزیر اعظم ” عزیز مصر “ ‘ جو شاہی خاندان کا سب سے بڑا اور معتمد آدمی تھا اور حکومت مصر کی فوج کا سپہ سالار بھی تھا۔ اس کی نگاہ حضرت یوسف پر پڑگئی کہ لوگ بڑھ چڑھ کر بولیاں لگا رہے ہیں۔ اس نے سب سے زیادہ قیمت دے کر حضرت یوسف کو خرید لیا۔ نبی کریم ﷺ نے شب معراج حضرت یوسف سے بھی ملاقات فرمائی تھی۔ فرمایا کہ حضرت یوسف اتنے حسین و جمیل ہیں کہ اللہ نے کائنات میں جتنا حسن پیدا کیا ہے اس میں سے آدھا حضرت یوسف کو عطا فرمایا ہے۔ عزیز مصرف حضرت یوسف کو لے کر اپنے گھر پہنچا اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ کوئی غلام نہیں ہے اس کو عزت و احترام سے گھر میں رکھنا ۔ ممکن ہے کہ ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنا لیں بہرحال ہر اعتبار سے یہ ہمیں فائدہ ہی دے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت اور کرم سے حضرت یوسف کو ایک باعزت گھرانے میں ٹھکانا عطا فرما دیا۔ واقعی اللہ کائنات کے ذرہ ذرہ پر غلبہ وقوت رکھتا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو ہانت، حکمت اور علم کی دولت سے نوازا تھا اور ان کو بات کی گہرائی تک پہنچنے اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی عطا فرمایا تھا۔ یہ حضرت یوسف کے صبر و تحمل اور نیکی کا صلہ تھا جو انہیں اللہ نے عنایت فرمایا۔
Ayahs 12:23–29

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اسے (یوسف کو) اس عورت نے اپنی طرف بہکانے کے لئے کا جس کے گھر میں وہ رہتا تھا اس نے دروازے بند کر لئے اور اس عورت نے کہا کہ ” آ جلدی کر “ (یوسف نے ) کہا کہ اللہ کی پناہ میرے رب نے مجھے اتنا بلند مقام اور ٹھکانہ عطا کیا ہے۔ بیشک جو ظالم ہیں وہ فلاح نہیں پاتے۔

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور یقینا اس عورت نے ارادہ کیا اور اگر وہ (یوسف) اللہ کی ایک نشانی کو نہ دیکھ لیتے تو وہ بھی ارادہ کرتے اور اسی طرح ہم برائی اور بےحیائی کو دور کیا کرتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے ہے

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور وہ دونوں دروازے کی طرف دوڑے اس عورت نے اس کی قمیص پیچھے سے پھاڑ دی تھی۔ دروازے پر ان دونوں نے اس (عورت کے) شوہر کو پایا۔ وہ کہنے لگی کہ اس شخص کی کیا سزا ہے جس نے تیری بیوی سے برا ارادہ کیا۔ سوائے اس کے کہ اس کو قید کردیا جائے یا اس کو عبرت ناک سزا دی جائے۔

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا یہ عورت ہی مجھے اپنے نفس کی طرف مائل کرنا چاہتی تھی۔ اور اس عورت کے خاندان کے ایک شخص نے گواہی دی ( اور کہا کہ) اگر اس کی قمیص آگے سے پھٹی ہوئی ہے تو وہ سچی ہے اور وہ جھوٹوں میں سے ہے۔

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے تو یہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچے لوگوں میں سے ہے۔

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب (یوسف کی) قمیص کو پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا تو (عزیز مصر نے) کہا کہ یہ تم عورتوں کے فریب میں سے ایک فریب ہے۔ بلاشبہ تم عورتوں کا مکر و فریب بہت بڑا ہوتا ہے۔

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

اے یوسف ! تو اس معاملہ کو نظر انداز کر دے اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ۔ بیشک تو وہی خطا کاروں میں سے ہے۔

لغات القرآن آیت نمبر 23 تا 29 راودت (اس نے بہکایا۔ پھسلایا) عن نفسہ (اپنے نفس سے۔ اپنی طرف ) غلقت (بند کردیئے ) ابواب (دروازے) ھیت لک (آ۔ اپنا کام ر) معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) احسن (زیادہ بہتر) مثوا (ٹھکانا۔ مقام لایفلح (فلاح نہیں پاتا۔ کامیاب نہیں ہوتا) ھمت (ارادہ کیا (مونث) ھم (ارادہ کیا) لولات (اگر نہ ہوتا (حرف شرط ہے) ان را (یہ کہ دیکھا) برھان (دلیل ۔ نشانی) لنصرف (تاکہ ہم دور کردیں۔ پھیر دیں ) السوء (برائی ) الفحشاء (فحش ) بےحیائی کے کام المخلصین (خالص کرنے والے) استبقا (وہ دونوں آگے پیچھے دوڑے) فدت (پھاڑ دیا) (دبر) پیچھے۔ (پشت کے حصے کو دبر کہتے ہیں) الفیا (الفا (ماضی کا صیغہ) دونوں نے پایا سید (سردار۔ (یہاں شوہر مراد ہے) لدالباب (دروازے کے پاس) ماجزاء (کیا بدلہ ہے ؟ کیا سزا ہے ؟ ) اراد (ارادہ کیا) باھلک (لیری بیوی کے ساتھ) ان یسجن (یہ کہ اس کو قید کیا جائے) راودتنی (اس نے مجھے قابو کرنا چاہا شھد (گواہی دی اس نے (قد) پھٹا ہوا صدقت (اس عورت نے سچ کہا) قبل (آگے کا حصہ کذبت (اس نے جھوٹا کہا) کیدکن (مت عورتوں کا مکر و فریب ) اعرض (منہ پھیر لے۔ نظر انداز کر دے) استغفری (اے عورت تو) استغفار کر لذنبک (اپنے گناہ کے لئے) انک کنت (بےشک تو ہی ہے الخطئین (خطا کرنے والے) تشریح آیت نمبر 23 تا 29 دنیا میں طرح طرح کے حالات پیش آتے ہیں اچھے بھی اور برے بھی نیکی کے بھی اور برائی کے بھی۔ عزم و ہمت والے لوگ وہی ہوتے ہیں جو اچھے اور برے حالات میں نیکی پرہیز گاری اور حق و صداقت پر قائم رہتے ہیں کسی لالچ اور خوف سے نیکی اور سچائی کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ ایسے لوگوں کی غیب سے بھرپور مدد کی جاتی ہے اور اللہ ان کو بڑے سے بڑے حالات سے صاف نکال دیتا ہے۔ عزیز مصر نہایت محبت اور احترام سے حضرت یوسف کو اپنے گھر لے آیا اور ان سے غلاموں جیسا معاملہ کرنے کے بجائے گھر کے ایک فرد کی طرح ہر ایک آرام کا خیال رکھنے لگا۔ جب حضرت حضرت یوسف مصر کے گھر میں آئے تھے اس وقت بعض روایات کے مطابق ان کی عمر سات آٹھ سال کی تھی لیکن چند ہی سال میں وہ ایک خوبصورت ترین نوجوان بن کر ابھرنے لگے۔ اللہ نے کائنات میں جنتا بھی حسن پیدا کیا ہے اس میں سے آدھا حسن حضرت یوسف کو عطا فرمایا گیا تھا، حضرت یوسف جوان ہوتے گئے اور ان کا جمال اور خوبصورتی نکھرتی چلی گئی۔ عزیز مصر کی بیوی (بعض روایات کے مطابق) جس کا نام زلیخا آتا ہے وہ اس بھرپور اور شرم وحیات کے پیکر جوان پر مر مٹی اور اس نے نفس کے غلبہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ ایک دن اس نے اپنے خصوصی کمرے میں حضرت یوسف کو بلایا ، دروازے بند کر لئے، اپنے اس بت پر جس کو وہ اپنا معبود کہتی تھی اس پر کپڑا ڈال کر اپنی بےتابی کا برملا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگی کہ اے یوسف میرے قریب آؤ۔ حضرت یوسف نے اس کی نیت کو بھانپ کر اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہا کہ میری مربی یعنی عزیز مصر نے مجھے عزت کا ٹھکانا دیا ہے میں اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ احسان فراموشی کروں۔ اب اس عورت نے ترغیبات کے جال بچھا دیئے ادھر حضرت یوسف نے اس جال سے نکلنے کیلئے تدبیریں سوچنا شروع کردیں۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کو اپنی کوئی نشانی دکھائی تاکہ ان کو یقین ہوجائے کہ اللہ کی مدد شامل حال ہے او اس عورت کی ہر تدبیر ضائع ہوجائے گی۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تنہائی میں ان کے سامنے حضرت یعقوب کی صورت اس طرح ظاہر فرمائی کہ وہ اپنی انگلی دانتوں میں دبائے ہوئے ہیں اور ان کو تنبیہ فرما رہے ہیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ خود عزیز مصر کی صورت ان کے سامنے لائی گئی۔ بعض حضرات نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت یوسف نے حالات کو اچھی طرح سمجھ لیا اور اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے دروازے کی طرف دوڑنا شروع کردیا۔ اللہ نے مدد فرمائی اور دروازے کھلتے چلے گئے۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ جو بھی اس ذات پر بھروسہ کرتا ہے وہ اس کے لئے ہر طرح کی آسانیاں عطا فرما دیتا ہے۔ حضرت یوسف جب دوڑے تو اس عورت نے ان کو پیچھے سے پکڑنے کی کوشش کی اور ان کی قمیص کو تھام لیا جو پھٹ کر اس کے ہاتھ میں آگئی جیسے ہی حضرت یوسف آخری دروازے پر پہنچے تو آپ نے دیکھا کہ عزیز مصر سامنے کھڑا ہوا ہے زلیخا نے اپنی شرمندگی مٹانے کے لئے حضرت یوسف پر الزام لگادیا کہ اس نوجوان غلام نے عزیز مصر کی بیوی کی آبرو پر ہاتھ ڈالنا چاہا تھا۔ حضرت یوسف نے اپنی صفائی میں جو سچی بات تھی وہ کہنا شروع کردی کہ اس عورت کا بدی اور برائی کا ارادہ تھا۔ میں وہاں سے بھاگا اور باہر نکل آیا۔ عزیز مصر اسی کشمکش میں تھا کہ کسی سمجھ دار آدمی نے کہا اس بات کا فیصلہ ابھی ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر حضرت یوسف کا قمیص آگے سے پھٹا ہے تب تو یوسف کی خطا ہے اور اگر پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ عورت گناہگار ہے۔ دیکھا یا تو قمیض پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ عزیز مصر اس بات کی گہرائی تک پہنچ گیا اور اس کے منہ سے نکل گیا کہ بیشک یہ اس عورت کا مکر و فریب ہے اور عورتوں کا مکر و فریب بہت گہرا ہوتا ہے۔ اس نے حضرت یوسف سے کہا کہ یوسف تم اس واقعہ کو نظر انداز کر دو ۔ اپنی بیوی سے کہا کہ تم اپنی خطا اور گناہ سے پناہ مانگ بلاشبہ یہ سب کی سب تیری خطا ہے۔ عزیز مصر نے اگرچہ ساری بات کو سمجھ لیا تھا اور فیصلہ بھی دیدیا تھا لیکن اس بات کی جب کچھ شہرت ہوگئی اور زلیخا پر الزام لگائے جانے لگے تو عزیز مصر نے اپنے گھر کی عزت بچانے کے لئے حضرت یوسف کو جیل بھیج دیا تاہ دنیا کی نظروں میں شاہی وقار قائم رہے اور یوسف کو قصور وار سمجھا جائے۔ اس کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔
Ayahs 12:30–32

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

شہر میں رہنے والی چند عورتوں نے کہا کہ عزیز کی بیوی کو اس کے اپنے غلام کے عشق نے اپنے مطلب کے لئے دیوانہ بنا رکھا ہے۔ بیشک ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ وہ کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا ہے۔

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب اس نے (عزیز مصر کی بیوی نے ) عورتوں کی یہ قرفیب باتیں سنیں تو کسی کے ہاتھ ان عورتوں کو بلا بھیجا اور ایک باوقار محفل تیار کی بیٹھنے کے لئے تکئے لگا دیئے گئے اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک ایک چاقو دے دیا گیا اور (عزیز مصر کی بیوی نے ) کہا کہ (اے یوسف) تو ان کے سامنے نکل آ۔ پھر جب ان عورتوں نے اس کو دیکھا تو ان پر بدحواسی طاری ہوگئی اور انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور کہنے لگے کہ اللہ کی پناہ یہ تو بشر نہیں ہے۔ بلہ یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے ۔

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

اس عورت نے کہا کہ یہی وہ ہے جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی ہو اور واقعی میں نے اسے اپنے نفس کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی مگر یہ بچا رہا اور جو میں کہتی ہوں اگر اس نے نہ کیا تو وہ قید کردیا جائے گا اور ذلیل و خوار ہو کر رہ جائے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 32 نسوۃ (امراۃ کی جمع ہے) عورتیں، خواتین، المدینۃ (شہر) تراود (آمادہ کرتی ہے۔ مانگتی ہے ) فتی (نوجوان) شغفت (دیوانہ کردیا ہے۔ اس کو پھیر دیا ہے ۔ حب (محبت) انا لنری (بےشک ہم البتہ دیکھتے ہیں، دیکھتی ہیں) ضلل مبین (کھلی گمراہی میں) سمعت (اس عورت نے سنا) مکر (دھوکہ، فریب، تدبیر) ارسلت (بھیجا، بلوا بھیجا) اعتدت (تیاری کی) متکا (بیٹھنے کی جگہ، تکئے لگی جگہ اتت (دیدیا) کل واحدۃ (ہر ایک) سکین (چھری، چاقو) اخرج (نکل) راینہ (انہوں نے اس کو دیکھا) اکبرنہ (وہ عورتیں حیران رہ گئیں) قطعن (کاٹ ڈالا ان عورتوں نے ایدیھن (اپنے ہاتھ کو) قلن (ان عورتوں نے کہا ) حاش للہ (اللہ کی قسم، اللہ کی پناہ ) بشر (انسان) ملک کریم (باعزت فرشتہ ) فذلکن (پس یہی ہے تمہارا وہ ) لمتننی (تم نے مجھے ملامت کی تھی ) استعصم (وہ محفوظ رہا، وہ بچا رہا ہے ) لم یفعل (نہ کیا) ما امرہ (جو میں نے اس کو حکم دیا ہے ) لیسجنن (البتہ وہ قید کردیا جائے گا ) الصغرین (ذلیل خوار ہونے والے) تشریح آیت نمبر 30 تا 32 عزیز مصر نے حضرت یوسف سے کہا کہ وہ زلیخا کی زیادتی کو نظر انداز کردیں۔ اس نے کہا مجھے ان عورتوں کے مکر و فریب کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ حضرت یوسف نے اس واقعہ کو کسی سے بیان نہیں کیا لیکن کسی طرح یہ بات مصر کی امیر زادیوں اور بیگمات تک پہنچ ہی گئی۔ عورتوں میں اس کا چرچا شروع ہوگیا۔ بیگمات نے کہنا شروع کردیا کہ کتنے افسوس کا مقام ہے اتنے بڑے گھر کی ایک عورت اپنے ایک خوبصورت غلام کے پیچھے پڑ کر عشق و محبت میں دیوانی اور پاگل ہوچکی ہے۔ جب زلیخا کو عورتوں کے مکر و فریب کی باتوں کا علم ہوا تو اس نے شہر کی تمام بیگمات کو اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ اس نے خاص طور پر بہترین مجلس کا اہتمام کیا جس میں تکئے لگے ہوئے تھے اور پر تکلف دعوت میں بعض ایسی چیزیں رکھ دی گئیں جو چاقو سے کاٹ کر کھائی جاتی ہیں۔ عورتوں نے ہاتھوں میں چھریاں اور چاقو لئے اور پھلوں کو کاٹ کر کھانا شروع کیا۔ اسی دوران زلیخا نے حضرت یوسف کو بلا بھیجا۔ جیسے ہی حضرت یوسف ان عورتوں کے سامنے آئے وہ بیگمات تو اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔ حضرت یوسف کو دیکھنے میں اس قدر گم ہوگئیں کہ انہوں نے پھل کاٹتے کاٹتے اپنی انگلیاں ہی زخمی کر ڈالیں۔ حضرت یوسف کے حسن و جمال نے پوری محفل میں ایک ہل چل مچا کر رکھ دی اور بیگمات سمجھ گئیں کہ ایسے حسین و جمیل انسان پر مر مٹنا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ حضرت یوسف کے چلے جانے کے بعد جب ان بیگمات کو ہوش آیا تو وہ سب کہہ اٹھیں کہ واقعی یہ تو بشر نہیں ہے بلکہ کوئی حسین و جمیل فرشتہ ہی ہو سکتا ہے۔ بیگمات کی محویت کو دیکھنے کے لئے بعد زلیخا نے کہنا شروع کیا کہ واقعی مجھ سے بڑی بھول ہوئی۔ میں نے اس کو اپنی طرف مائل کرنے کی بہت کوشش کی لیکن اس نے میری طرف نگاہ بھر کر بھی نہیں دیکھا۔ مگر میں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر اس نے میری بات نہ مانی تو میں اس کو قید خانے بھجوا کر رہوں گی اور یہ ذلیل و رسوا ہو کر رہے گا۔ زلیخا اور بیگمات مصر کی چبھتی ہوئی پر شوق نگاہوں سے حضرت یوسف بہت کچھ سمجھ گئے تھے اور انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کرنا شروع کردی کہ الٰہی مجھے ان عورتوں کی مکر و فریب سے محفوظ فرما۔ مجھے جیل جانا پسند ہے لیکن میں اس بات کو گوارا نہیں کرسکتا کہ ان بیگمات کا سایہ بھی میرے اوپر پڑے۔ اس کی تفصیل اگلی آیات میں آرہی ہے۔ حضرت یوسف کا کردار اور زندگی دنیا بھر کے تمام نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے جنہوں نے بھرپور جوانی میں بھی اپنے پاؤں کو ڈگمگانے سے بچا کر عفت و عصمت پاکیزگی اور نزہت و عظمت کی ایک عظیم مثال قائم فرما دی۔
Ayahs 12:33–35

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

(یوسف نے ) کہا اے میرے رب مجھے جیل جانا اس سے زیادہ پسند ہے جس کی طرف وہ مجھے بلا رہی ہیں اور اے اللہ آپ نے ان کے مکر و فریب سے مجھے نہ بچایا تو کہیں میں ان کی طرف مائل ہو کر نادانوں میں سے نہ ہوجاؤں۔

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

اللہ نے ان کی دعا قبول کرلی اور ان سے ان عورتوں کے مکر و فریب کو پھیر دیا۔ بیشک وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر نشانیاں دیکھنے کے بعد ان پر ظاہر ہوا کہ ان کو ایک مدت تک جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

لغات القرآن آیت نمبر 33 تا 35 السجن (جیل، قید خانہ) احب (زیادہ محبوب ہے، زیادہ پسندیدہ ہے) الی (میری طرف، مجھے ) یدعون (وہ بلاتے ہیں ) الا تصرف (اگر تو نہیں پھیرتا ہے ) اصب میں مبتلا ہوجاؤں گا کان میں ہوجاؤں گا حین زمانہ، وقت تشریح : آیت نمبر 33 تا 35 زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) صاف الفاظ میں کہہ چکی تھی کہ یوسف کو ہر حال میں میری بات ماننا پڑے گی۔ اگر اس نے میری ابت نہ مانی تو میں اس کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ضرور پہنچا دوں گی حضرت یوسف زلیخا اور بیگمات مصر کی بےتکی اور فضول باتوں سے بہت رنجیدہ تھے۔ آخر کار حضرت یوسف اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے اور نہایت عزجزی کے ساتھ عرض کیا۔ الٰہی ! یہ عورتیں مجھے اپنی ہوس اور خواہش پر قربان کرنا چاہتی ہیں مجھے ان کی جھوٹی خواہشوں اور پرفریب حرکتوں سے محفوظ فرما۔ اے اللہ میری دستگیری فرمایئے کیونکہ انہوں نے میرے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں۔ الٰہی مجھے ان عورتوں کے مکر و فریب اور خواہشات سے محفوظ فرما دے۔ مجھے جیل جانا پسند ہے لیکن کسی گناہ کے تصور سے بھی میں کانپ اٹھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف کی دعا کو قبول فرمایا۔ ادھر اسباب یہ ہوئے کہ عزیز مصر اس بات سے سخت پریشان تھا کہ یوسف بیشک بےقصور ہیں اور ان کا کردار ہر طرح کے شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن اس واقعہ کی اتنی شہرت ہوچکی ہے کہ گھر گھر میں اس کا چرچا ہو رہا تھا۔ اب دو ہی صورتیں تھیں کہ اس واقعہ پر خاموشی اختیار کی جائے یا اس واقعہ کا انکار کر کے لوگوں کو یقین دلایا جائے کہ ایسا سب کچھ نہیں ہے جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ پہلی صورت میں دشواری یہ بھی کہ خاموش رہنے سے اس بات کے ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ دوسری صورت کا یہی حل تھا کہ حضرت یوسف کو قید کردیا جائے تاکہ لوگوں کی زبانیں بند ہوجائیں، شاہی خاندان کا وقار بھی بچ جائے اور لوگ یہ سمجھنے پر مجبور ہوجائیں کہ اس میں زلیخا (عزیز مصر کی بیوی) کا کوئی قصور نہیں ہے۔ بالاخر حضرت یوسف کو قید خانے بھیج دیا گیا۔ حضرت یوسف جیسے ہی قید خانے میں داخل ہوئے اور چند روز میں اعلیٰ سیرت و کردار کا مظاہرہ کیا تو ہر شخص آپ کا گرویدہ ہوگیا۔ قید خانے کے داروغہ نے تو قید خانے کے سارے اہم معاملات حضرت یوسف کے حوالے کردیئے تھے۔ حضرت یوسف کو دیکھ کر ہر شخص کو اس بات کا یقین ہوگیا تھا کہ حضرت یوسف کا کوئی قصور نہیں ہے بلکہ ان کو زبردستی قید خانے میں ڈالا گیا ہے۔ اللہ کے نیک بندوں کی بھی عجیب شان ہے کہ وہ آزاد ہوں یا قید میں ہر حال میں اپنی سیرت و کردار کا لوہا منوا لیتے ہیں چناچہ قید خانے کے ہر قیدی کے دل میں آپ کے علم و فضل اور اعلیٰ سیرت و کردار کا نقش جمتا چلا گیا اور وہی قید خانہ حضرت یوسف کے لئے عزت و سربلندی اور لوگوں کی محبت کا مرکز بن گیا۔