Ayah 12:1۔ 1 قرآن کریم کی انتیس صورتیں ہی جن کی ابتداء حروف مقطعات سے ہوتی ہے اور اس کی تفصیل ہم نے سورة البقرہ کی آیت ایک میں کردی ہے اس لئے قارئین کو پیچھے مراجعت کرنی چاہئے۔ حرف مقطعات کے بعد ارشاد فرمایا ہے کہ یہ آیات کریمات ایسی کتاب کی ہیں جس کی علمی تعلیمات میں کسی قسم کا اخفاء اورا بہام نہیں۔ عملی مسائل اس کے صاف ، سادہ اور متفق علیہ ہیں جن پر کوئی شخص بھی خواہ وہ کسی ملت سے تعلق رکھتا ہو من حیثث العقل اور بصیرت کے کوئی سقم نہیں پائے گا بلکہ اس کو اعتراف کرنا پڑے گا کہ یہ کلام کسی انسان کا نہیں۔
Ayah 12:2یہ پڑھی جانے والی کتاب ہے جس کا نزول عربی زبان میں ہوا
۔ 2 اس قرآن کریم کو عربی زبان میں نازل کیا گیا ، کیوں ؟ اس لئے کہ یہ جس اللہ کے بندے کے دل پر نازل کیا گیا اس کی زبان عربی تھی اور اس کے مخاطبین اول بھی عربی تھے اور یہ وہ زبان ہے جس کو صیح معنوں میں زبان یا ایک بولی کہا جاسکتا ہے جس کے مقابلہ میں اور کوئی زبان وسیع اور فصیح نہیں۔ ” انزلناہ ‘ ‘ کی ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہے یا قصہ یوسف علیہ السلام۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اس کتاب کو عربی میں نازل کیا تاکہ تم اس کو اچھی طرح سمجھ سکو اور دوسری صورت میں اس کا مطلب یہ ہوا کہ قصہ یوسف جس کے متعلق اہل کتاب نے قریش مکہ کی وساطت سے دریافت کرایا ہے اسے ہم عربی زبان میں نازل کر رہے ہیں تاکہ اے اہل عرب ! تم اس کو اچھی طرح سمجھو اور اس سے نصیحت حاصل کرو۔
سود ہود کی آیت 41 میں گزر چکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بیٹے کیب شارت دی گئی تھی کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوگا اور پھر اس سے ایک لڑکا ہوگا جس کا نام یعقوب رکھنا اور اس کی اولاد میں بھی اللہ برکت دے گا۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ہاں اس بشارت کے بعد اسحاق پیدا ہوئے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی سارا کے بطن سے تھے اور پھر اسحٰق (علیہ السلام) کی اولاد میں جو پہلا لڑکا پیدا ہوا وہ یعقوب (علیہ السلام) ہی تھے پھر اللہ نے جو یعقوب (علیہ السلام) میں برکت رکھی تھی اس کے باعث اللہ نے یعقوب (علیہ السلام) کو بارہ بےٹہ عطا کئے جن میں سے یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین دونوں ایک ماں کے بطن سے پیدا ہوئے جن کی والدہ ماجدہ کا نام ” راخل “ بیان کیا گیا ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) کی چار بیویاں بیان کی گئی ہیں ” لیاہ “ جس کے بطن سے چھ بیٹے تھے ” بلہا “ جس کے بطن سے دو بیٹے تھے ” زلفہ “ جس کے بطن سے دو بیٹے پیدا ہوئے اور ” راخل “ سے بھی دو ہی بیٹے تھے جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ یہاں ایک وہم کا ازالہ بھی کرتے چلیں ، ہمارے مفسرین نے یعقوب (علیہ السلام) کے نکاح میں بیک وقت دو بہنوں ” لیاہ “ اور ” راحیل “ یا ” راخل “ کا ذکر کیا ہے جو سو فیصد غلط ہے۔ کسی صحیح حدیث یا قرآن کریم کی کسی آیت سے یہ استدلال بھی نہیں کیا جاسکتا چہ جائیکہ کوئی واضح بات ہو۔ ہاں ! تو رات کے بیان پر ان مفسرین نے انحصار کر کے یہ لکھا ہے جو تورات کی تحریفات میں سے ایک تحریف ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کی سرگزشت میں مزید وضاحت آئے گی۔ انشاء اللہ
Ayah 12:3ہم آپ کو بہتر سے بہتر سرگزشتیں سناتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے آپ ان سے ناواقف تھے
۔ 3 اے پیغمبر اسلام ! آپ سے قریش نے جو قصہ پوچھا ہے ہم اس کو بہترین طریقہ سے بیان کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کی پوری قوم اس قصہ سے ناواقف تھی۔ ان لوگوں سے جن لوگوں نے اس قصہ کے متعلق دریافت کرایا ہے ان کی نیت تو درست نہیں انہوں نے تو شرارتاً استفسار کرایا ہے لیکن ہم اس کو اس طرح صاف صاف بیان کرتے ہیں تاکہ وہ لوگ جنہوں نے اس کے متعلق استفسار کیا اور وہ جنہوں نے استفسار کرایا سب اس سے عبرت حاصل کریں اگر وہ عبرت حاصل کرنا چاہیں لیکن جو عبرت حاصل نہ کرنا چاہیں وہ بھی اس قصہ کے متعلق کوئی اور بات نہ پوچھ سکیں کیونکہ وہ پہلے ہی سوال کا مفصل جواب سن کر انگشت بدنداں ہوں اور ان کو کوئی مزید سوال پوچھنے کی جرات نہ رہے۔ القصص ” قصص “ قصص سے ہے جس کے معنی کسی چیز کا تتبع کرنے کے ہیں یعنی اس قصہ کو اس ترتیب سے بیان کیا گیا ہے کہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے جائو تو بڑی ترتیب سے بیان کی گئی یہ سرگزشت ایک ہی مجلس میں تفصیل کے ساتھ پڑھ سکو گے اور دوسرے قصص کی طرح اس کا کوئی واقعہ ایک جگہ اور کوئی دوسری جگہ بیان نہیں کیا گیا بلکہ پوری سورت ایک ہی بار ایک ہی واقعہ پر مشتمل پڑھ لو گے۔ اس قصہ کو قرآن کریم نے ” احسن القصص “ کہا جس کی وجہ ظاہر ہے کہ انسانی زندگی کے تمام کرداروں کو یہاں اس خوبی سے پیش کیا گیا ہے کہ ہر ایک کی حقیقت نکھر کر سامنے آگئی ہے اور اس کے ضمن میں زندگی کے ان مسائل کو بیان کیا گیا ہے جن کا انسانی معاشرہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ اس میں توحید کے دلائل ، خوابوں کی تعبیر ، سیاسی مسائل ، معاشرہ کی پیچیدگیاں ، معاشی اصلاح کی تدابیر غرض کہ تمام وہ امور جو دین اور دنیا کی اصلاح میں موثر ثابت ہو سکتے ہیں بڑی عمدگی سے بیان کردیئے گئے ہیں اور آیت کے آخر میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے کہا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! ” یقینا قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تو بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو اس واقعہ کے سلسلہ میں بیخبر تھے۔ “ یعنی ان کو اس واقعہ کا کچھ اتا پتہ نہ تھا۔
Ayah 12:4یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں
۔ 4 یعقوب (علیہ السلام) اپنی تمام اولاد میں سے حضرت یوسف اور بنیامین سے بیحد محبت رکھتے تھے جس کی اصلاح وجہ ان کی کم عمری اور آپ کے اخلاق کریمانہ تھے اور شکل و صورت کے بھی حسین و جمیل تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کی یہ مبحت برادران یوسف کے لئے بیحد شاق اور ناقابل برداشت تھی اور وہ ہر وقت اس فکر میں لگے رہتے تھے کہ یا تو یعقوب (علیہ السلام) کے دل سے یوسف کی اس محبت کو ناکل ڈالیں یا پھر کسی نہ کسی صورت یوسف ہی کو اپنے راستہ سے ہٹا دیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ان بھائیوں کے حاسدانہ تخیل پر مزید تازیانہ یوسف (علیہ السلام) کا یہ خواب ہوا جو آپ نے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کی یہ محبت برادران یوسف کے لئے بیحد شاق اور ناقابل برداشت تھی اور وہ ہر وقت اس فکر میں لگے رہتے تھے کہ یا تو یعقوب (علیہ السلام) کے دل سے یوسف کی اس محبت کو نکال ڈالیں یا پھر کسی نہ کسی صورت یوسف ہی کو اپنے راستہ سے ہٹا دیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ ان بھائیوں کے حاسدانہ تخیل پر مزید تازیانہ یوسف (علیہ السلام) کا یہ خواب ہوا جو آپ نے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے ، سورج اور چاند ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) نے جب اپنے بیٹے سے یہ خواب سنا تو سختی کے ساتھ ان کو منع کردیا کہ اپنا یہ خواب کسی کے سامنے نہ دہرانا ایسا نہ ہو کہ اس کو سن کر تیرے بھائی برے پیش آئیں کیونکہ یہ خواب تو ان پر وہی اثر کرے گا جو جلتی پر تیل کرتا ہے کیونکہ شیطان تو ہر انسان کے اندر بیٹھا ہے اور پھر جس پر اس کو غلبہ حاصل ہو تو اسے گرماتے اس کو کتنی دیر لگتی ہے ؟ اور تیرا خواب اپنی تعبیر میں بہت صاف اور واضح ہے۔
رای سے مصدر رئویۃ ہو تو معنی ہوتے ہیں بیداری میں دیکھا اور رئویا مصدر ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں خواب میں دیکھا لیکن ماضی دونوں سے ایک ہی ہے ” رایت “ میں نے دیکھا ” رئویۃ “ سے ماضی کا صیغہ واحد متکلم اس جگہ خواب میں دیکھنا مذکور ہے یا بیداری میں دیکھنا ؟ خواب میں دیکھنا ، کیوں ؟ اس لئے کہ جو واقعہ دیکھا گیا وہ خود اس بات کو بول بول کر بتا رہا ہے کہ میں خواب ہوں کیونکہ ستارے ، سورج اور چاند کا سجدہ کرنا دیکھا گیا ہے اور سجدہ اسلامی اصطلاح میں جس ہئیت کذائی کو کہتے ہیں وہ سب کو معلوم ہے لہٰذا اس سے عرفی سجدہ جو نماز کے اندر یا باہر کیا جاتا ہے جس میں دونوں پائوں ، دونوں گھٹنے اور دونوں ہاتھ اور ناک و پیشانی کا زمین کے ساتھ لگانے کا نام سجدہ ہے تو ظاہر ہے کہ سورج ، چاند اور ستاروں کو یہ اعضاء کب نصیب ہیں ؟ لہٰذا اس سے خواب ہی مراد ہو سکتا ہے اور پھر یہ بھی کہ اس جگہ سجدہ سے مراد وہ عرفی سجدہ نہیں بلکہ مراد اس سے فرمانبرداری ہی ہو سکتی ہے۔ پھر بیداری اور خواب کے دیکھنے میں یہ فرق بھی ہے کہ بیداری میں حقیقتاً بذریعہ بصر اس شے کا ادراک ہوتا ہے اور خواب میں اس شے کا تصور قلب میں ہوتا ہے اس تو ہم پر کہ بذریعہ حاسہ بصر اس کا ادراک ہو رہا ہے حالانکہ بذریعہ حاسہ ادراک نہیں ہوتا۔ (امام راغب)
اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بیان کرنے والے کے بیان سے یہ پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ خواب بیان کر رہا ہے یا بیداری کا واقعہ سنا رہا ہے کیونکہ واقعہ خود ہی یہ بتا دیتا ہے کہ میں خواب ہوں یا بیداری کی حالت ہے ۔ جس طرح اس جگہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد ماجد کو جو بات سنائی چونکہ وہ خود اس پر دلالت کر رہی ہے کہ میں خواب ہوں اس لئے والد بزرگوار نے بات کو سنتے ہی فرمایا کہ تیرا یہ خواب بہت ہی معنی خیز ہے۔
چنانچہ قرآن کریم میں بیسیویں ایسے واقعات بیان ہوئے ہیں جن کا طرز بیان خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ واقعہ خواب کا ہے کیونکہ بیداری میں ایسا ہونا سنت اللہ کے خلاف ہے لیکن افسوس کہ مفسرین کرام نے اس اصول کو سامنے نہ رکھا اور یہ بات ان کی مرضی پر موقوف ہوگئی کہ وہ کس واقعہ کو خواب پر محمول کرتے ہیں اور کسی کو بیداری پر۔ پھر انہوں نے ، اللہ ان پر رحم فرمائے کتنے واقعات ہیں جو خود بول بول کر کہہ رہے ہیں ہمارا تعلق بیداری سے نہیں بلکہ خواب سے ہے لیکن وہ اس واقعہ کی چیخ و پکار بھی سننے کو تیار نہیں۔ وہ صرف یہ دیکھیں گے کہ ہم سے پہلے مفسرین نے کیا کہا اور کیا لکھا پھر وہ اس تعبیر کو کھلے دل تسلیم کریں گے جس کو پہلے لوگوں نے لکھا اور اس پر ان کا جی نہیں لگے گا اور وہ سننے کو کبھی تیار نہیں ہوں گے جس کو پہلوں نے نہیں لکھا۔ پہلوں سے ہماری مراد اس جگہ ان سے پہلے کے مفسرین ہیں اگرچہ قرآن کریم کی عبارت اور حدیث نبوی کا پیغام نہ ہو بلکہ وہ بات صحابہ کرام اور تبع تابعین سے بھی منقول نہ ہو۔ ہم پیچھے سے ایسے واقعات کی طرف کھلا اشارہ کرتے آ رہے ہیں اور انشاء اللہ العزیز کرتے رہیں گے۔ اگرچہ ہمارے معاصرین ہم کو تابڑ توڑ گالیاں دیں اور کتنا ہی برا بھلا کیوں نہ کہیں کیونکہ ہمارے نزدیک اسلام میں حجت و دلیل اللہ کی ذات اور محمد رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث ہے۔ سلف صالحین کا ہم احترام کرتے ہیں ، ان کی باتوں کو قبول کرتے ہیں لیکن قرآن کریم کو اللہ کی کتاب تسلیم کرتے ہیں ، لوگوں میں سے کسی انسان کی بالکل نہیں مانتے اور ہم پورے زور سے یہ بات کہتے ہیں کہ قرآن کریم سلف صالحین میں سے کسی کا محتاج نہیں بلکہ سارے سلف صالحین کتاب اللہ کو کتاب اللہ ماننے کے محتاج ہیں۔ لہٰذا قرآن کریم کی کسی آیت کا مفہوم بیان کرنے کے لئے خود قرآن کریم ہی سے اس کی دلیل طلب کریں گے اور اس کے بعد صحیح حدیث کو حجت مانیں گے۔ مختصر یہ کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کی بات سنی اور اس کو اس طرح جواب دیا :
Ayah 12:5یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کی بات کو بڑے غور سے سنا اور فرمایا کہ بیٹا یہ بات بھائیوں کو نہ بتاتا
۔ 5 یوسف (علیہ السلام) نے اپنی بات جب اپنے والد سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کو سنائی تو ظاہر ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اس وقت موجود نہ تھے اس لئے یعقوب (علیہ السلام) نے خواب سنا اور بہت ہی مسرور ہوئے اور ان کو نبوت اور علوم الہیہ کی بشارت سنائی اور اس کے ساتھ ہی ایک ہدایت بھی بیٹے کو کی کہ دیکھو اپنا یہ خواب بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ انسان کا اصل دشمن تو شیطان ہے جو ہر انسان کے اندر بیٹھا ہے اور خصوصاً وہ لوگ جو اس کے اشاروں پر لگنے والے ہیں ان سے وہ کیا کچھ کرا کر دکھا دیتا ہے اگرچہ بعد میں وہ کتنا ہی افسوس کیوں نہ کریں۔ اس سے ہم کو یہ سبق بھی ملا کہ اپنے دل کی بات ضروری نہیں کہ ہر انسان کو بتائی جائے بلکہ ضروری یہی ہے کہ اپنے دل کی بات دل ہی میں رکھیں۔ الیہ کہ وہ بات کسی سے متعلق ہو تو اس سے کرنا چونکہ ضروری ہے اس لئے جو بات کی جائے وہ بالکل صحیح اور واضح ہو مبہم بات کرنا ، ذو منی بات کرنا ، اندر کچھ رکھ کر منہ سے کچھ بکواس کرنا صحیح نہیں بلکہ اس سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کو فی نفسہ وہ بات نہ بیان کرنے کی ہدایت دی ہے جس میں کوئی قباحت اور کوئی برائی نہیں۔ فرمایا اگر تو نے خواب بتایا تو وہ سب مل کر تیرے خلاف کوئی مخفی تدبیر ضرور کریں گے اور یہ مخفی تدبیر شیطان ہی ان سے کرائے گا۔
Ayah 12:6یعقوب (علیہ السلام) نے اس ممانت کے ساتھ ہی بیٹے کے خواب کی تعبیر بھی بتانا شروع کر دی
۔ 6 یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے فرمایا کہ بیٹا خواب میں جس طرح کی بشارت دی گئی ہے بالکل ویسے ہی تیرا پروردگار تجھے تیرے ان بھائیوں پر فضیلت اور برتری و بزرگی عطا فرما کر اپنے کام کے لئے تجھے منتخب فرمائے گا اور تجھے علم خواب اور باتوں کی تہہ تک پہنچنا بھی سکھائے گا اور تجھے منصب نبوت اور فرمانروائی ایسے ہی عطا فرمائے گا جیسا کہ اس سے پہلے تیرے بزرگوں حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق کو عطا کرچکا
ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے خاندان پر اپنی نعمت کی تکمیل کردی ہے یقینا تیرا پروردگار بہت ہی جاننے والا اور بہت حکمت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کسی بندے کو چن لینا کیا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو اپنے مخصوص فیض سے بہرہ یاب فرماتا ہے جس کی برکت سے اسے طرح طرح کی نعمتیں بغیر اس کی ذاتی کوشش کے حاصل ہوتی ہیں وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ اسے خوابوں کی تعبیر کا ملکہ عطا فرما دیتا ہے۔ (مفردات) اور امام رازی (رح) نے تاویل ال احادیث کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ روحانی اور جسمانی مخلوقات سے اللہ تعالیٰ کی قدرت ، حکمت اور اس کی جلالت شان پر استدلال کرنے کا ملکہ عطا کرنا تاویل الاحدیث ہے۔ (کبیر) یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے عزیز بیٹے کو خواب کی تعبیر سنانے کے بعد فرمایا کہ بلاشبہ تیرا رب ہی اصل حقیقت حال کو جاننے والا اور سارے دانائوں سے بڑھ کر دانا ہے اس کی حکمت کی کیا کیا کرشمہ سازیاں تیری ذات پر ہوں گی وہ وہی جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ جو کچھ میں نے بیان کیا ہے اس سے بہت کچھ زیادہ وہ آپ کو عطا کرنے والا ہے۔ اس تعبیر خواب ہی نے یعقوب (علیہ السلام) کو یوسف (علیہ السلام) کی جدائی کے بعد اس یقین کے ساتھ زندہ رکھا کہ میرا بیٹا یوسف مر نہیں سکتا کیونکہ اس کی زندگی تو بذریعہ خواب میں سہی رجسٹرڈ کردی گئی ہے اور نبی کا خواب ایسے ہی ہے جیسے ایک چیز مشاہدہ کی جا رہی ہو۔ لہٰذا انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی وفات کو یعنی بھیڑیئے کے کھا جانے کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔
Ayah 12:7پوچھنے والوں کے لئے یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں بڑی نشانیاں ہیں
۔ 7 ” پوچھنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں “ اس فقرہ نے ان احادیث و آثار کے تصدیق فرما دی جن احادیث و آثار می یہ بیان ہوا کہ قریش نے یہود کے ایماء پر یہ سوال کیا تھا کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو بتائیں کہ بنی اسرائیل مصر میں کیسے آئے ؟ ظاہر ہے کہ بنی اسرائیل کی مصر میں آمد یوسف (علیہ السلام) اور آپ کے بھائیوں کی آمد مصر ہی سے ہوئی تھی اس سے پوچھنے والوں کو یہ معلوم ہوگیا کہ کیسے آئے ؟ اور یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کے یہاں آنے کی ابتداء کیونکر ہوئی ؟ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ بھائی جب اپنے بھائی سے حسد کریں تو وہ کیا کچھ کر گزرتے ہیں ؟ ان کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ جس طرح یوسف (علیہ السلام) اپنے سارے بھائیوں کے ایک بھائی تھے محمد رسول اللہ ﷺ بھی قریش مکہ کے اپنے ہی بھائی ہیں اور ان کو یہ بھی بتا دیا کہ جو کچھ یوسف کے بھائیوں نے یوسف سے کیا بالکل اے قریش مکہ تم بھی اپنے بھائی محمد رسول اللہ ﷺ سے وہی کچھ کر رہے ہو ، پھر ان کو یہ بھی بتا دیا کہ کل جو کچھ یوسف نے اپنے بھائیوں سے کیا وہی کچھ محمد رسول اللہ ﷺ بھی اپنے بھائیوں سے کریں گے اور علاوہ ازیں یہ قصہ آج بھی انسانیت کے لئے اپنے اندرونی الواقعہ بہت سی نشانیاں رکھتا ہے غور کرو کہ بھائیوں کا آپ سے حسد اور اس کا انجام ، یوسف (علیہ السلام) کا انتہائی اشتعال انگیز حالات میں دامن عفت پر اللہ کے حکم سے داغ نہ آنے دینا ، غربت اور غلامی کی رسوائیوں اور قید و بند کی سختیوں کو خوشی سے برداشت کرنا ، با اقتدار ہونے کے بعد اپنے ظالم بھائیوں کو معاف کردینا ، حضرت یعقوب کا حزن و ملال اور پھر طویل فراق کے بعد وصال ، یہ ساری کی ساری ایسی باتیں ہیں جن میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنے ہی فطرت انسانی کے وقائق کھلتے چلے جائیں گے۔ نیکی ، صبر ، عفو و درگزر اور دیگر اخلاق حسنہ کی بالا دستی پر یقین اتنا ہی پختہ ہوتا جائے گا اس لئے فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) اور آپ کے بھائیوں کے قصہ میں قوانین فطرت اور سنن الہیہ کے متعلق استفسار کرنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں۔
Ayah 12:8یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے ذہن میں جو چیز تھی اس کے مطابق انہوں نے ابتداء کی
۔ 8 آخر کار حسد کی بھڑکتی ہوئی آگ نے ایک روز برادران یوسف کو یوسف کے خل اف سازشیں کرنے پر مجبور کر ہی دیا اور اس طرح شیطان اپنا ہاتھ دکھا گیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بلاشبہ پہلے یوسف (علیہ السلام) کے خواب کو ایک خطرہ کا الارم سمجھا تھا پھر بیٹے کو منع بھی کیا کہ یہ خواب بھائیوں تک نہ پہنچانا لیکن جس کام کا مشیت میں ہونا تحریر ہو اس کو کون روک سکتا ہے اور کیسے روک سکتا ہے ؟ یوسف (علیہ السلام) کا یہ خواب بھائیوں تک کیسے پہنچا ؟ اگر ایک شخصیت کا نام سامنے آتا تو کہہ دیتے کہ فلاں نے یہ خواب ان کے بھائیوں تک پہنچا دیا اسلئے ہم نے عرض کیا ہے کہ اس خواب کا بھائیوں تک پہنچنا مشیت الٰہی میں طے تھا اس لئے پہنچ گیا ، پھر کیا تھا ؟ کہ حاسدین کے حسد کو اس نے اس طرح بڑھا دیا جیسے پانی دودھ کو ، گالی جھگڑے کو اور تیل جلتی آگ کو بڑھا دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے احساس میں اس چبھنے والے کانٹے کو نکال پھینکنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار جنگلی شکار پر تھا وہ وہیں باہم مشورہ کے لئے مل بیٹھنے اور ایک دوسرے کو مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ دیکھو ہم دس بھائی ہیں ، سارے کنبہ کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں ، کاروبار کی ساری ذمہ داری ہماری کندھوں پر ہے ، مویشی ہم چراتے ہیں ، ان کی حفاظت ہم کرتے ہیں اور والد ہیں کہ جب دیکھو یوسف سے پیار اور محبت کرتے ہیں ، اس کو اچھا کھلاتے ، پلاتے اور پہناتے ہیں۔ اولاد کے بارے میں ان کا یہ رویہ قطعاً درست نہیں اور ہم سب مل کر ایک مضبوط جماعت ہیں کیونکہ ہم دس افراد ہیں اور سارے جوانی میں ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔
” یقینا ہمارا باپ صریح غلطی پر ہے۔ “ ضلالہ سے اس کی جگہ کوئی عقیدہ کی گمراہی نہیں بلکہ دنیوی معاملات میں راہ اعتدال سے اناہوں نے انحراف سمجھا اس لئے ہم نے ترجمہ اس کو ” صریح غلطی “ کیا۔ ان کے نزدیک چھوٹے بیٹوں سے یہ ترجیح سلوک عدل و انصاف کے منافق تھا۔ لنک سمجھنے والے سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ بیماری کہاں سے چلی اور کیسے چلی۔ جن گھروں میں دو یا دو سے زیادہ مائوں کی اولاد مل کر ایک خاندان بنے وہاں اس طرح کی بیماریاں آج بھی موجود ہیں۔ جن مفسرین نے ” راخل “ اور ” لیاۃ “ کو حقیقی بہنیں تحریر کیا ہے اور پھر لیاۃ کے بطن سے چھ بیٹے اور ایک بیٹی بھی لکھا ہے انہوں نے بالکل غور نہیں کیا کہ اگر ” لیاۃ “ اور ” راخل “ بہنیں ہوتیں تو ان کی اولاد کا رجحان یقینا اس طرح نہ ہوتا جس طرح بیان کیا گیا ہے بلکہ دونوں بہنوں کی اولاد ایک طرف ہوتی اور باقی بھائی ایک طرف اور اس تقسیم میں وہ دوسرے بھائیوں کے بجائے یوسف اور بنیامین کا ساتھ دیتے اور اگر کسی وجہ سے اس وقت ممکن نہ ہوسکا تھا تو بعد میں یہ راز کھلتے زرا دیر نہ لگتی۔ بہرحال دونوں بہنوں کا یک جا یعقوب (علیہ السلام) کے نکاح میں بیان کرنے کی کوئی دلیل عقلی و نفلی موجود نہیں۔ یہ تصور تورات نے دیا اور ہمارے مفسرین نے وہیں سے مستعار لے لیا۔ پھر علامہ بیضاوی (رح) جیسے مفسر نے جب اس کو لکھ دیا کہ اسرائیل کی شریعت میں ایسا نکاح جائز تھا تو بعد میں آنے والوں کے لئے وہ ” سلف “ تھے اس لئے اس نظریہ کو تقویت مل گئی اور پھر سب نے اس کو بڑی شرح و وسط سے لکھنا شروع کردیا۔
ان کے اندر ہی کے شیطان نے ان کو یہ باور کرا دیا کہ ہمارا اپنے نوجوان و توانا بیٹوں کو نظر انداز کر کے چھوٹے اور ضعیف بچوں سے اتنا پیار کر کے ایک بہت بڑی غلطی کر رہا ہے اور یہ کہاں کہ عقلمندی ، مصلحت اندیشی اور دانشمندی ہے۔ ذرا غور کرو کہ ان کے اپنے خیال میں بھی یہ غلطی کس کی ہے ؟ ظاہر ہے کہ ان کے باپ کی۔ پھر اس غلطی کی سزا وہ کس کو دے رہے ہیں ؟ اگر ان کو مارنا ہی تھا تو پھر باپ کو مارتے جو یہ غلطی کر رہا تھا لیکن ان کے ذہن و دماغ میں یہ بات ڈالنے والوں نے اپنی رقابت کے باعث یہ بات بٹھا دی کہ تمہارے راستے سے یوسف ہٹ جائے تو تمہارا مقصد حل ہوجائے گا لیکن ان کی اس رقابت کا نتیجہ کیا نکلنے والا تھا ؟ اللہ کو معلوم تھا۔
Ayah 12:9بھائیوں کے مشورہ میں جو بات طے پائی وہ یہ تھی کہ یوسف کو قتل کر دو یا ملک بدر کر دو
۔ 9 غور کرو کہ انسان دشمین کے عالم میں کتنی دور تک جاسکتا ہے اور بد خواہی کے کن کن حدود تک پہنچ سکتا ہے ؟ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی اس تجویز سے بالکل واضح اور ظاہر ہو رہا ہے۔ تجویز پیش ہوئی کہ یا تو یوسف کو قتل کر دو یا کسی دور دراز علاقہ میں پہنچا دو اس طرح جب یہ باپ کی آنکھوں سے پوشیدہ ہوجائے گا تو اس کی ساری توجہ اور محبت کا مرکز ہم ہوجائیں گے۔ انسان کے اندر کا شیطان انسان کو کیا کیا سبز باغ دکھاتا ہے اس سر گزشت کو پڑھتے وقت ذرا سوچتے چلو اور خود اپنے اندر کے شیطان سے بھی اس کا موازنہ کرتے چلو۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی دس آدمی ہیں اس لئے ان کو ایک کمیٹی یا شوریٰ کہہ لیجیے۔ کمیٹی اور شوریٰ میں مختلف تجویزیں اور مشورے پیش ہوتے رہتے ہیں یہاں بھی مختلف سمتوں سے یہ تجویزیں پیش ہو رہی تھیں لیکن ان سب کے ہاں ایک نظریہ پہلے سے طے تھا ، وہ کیا تھا ؟ یہی کہ یوسف کو باپ سے لاگ کرنا ہے۔ نظریہ بلاشبہ غلط تھا لیکن وہ سب کے سب اس پر متفق تھے اس لئے وہ اپنے لحاظ سے اس میں کامیاب ہوگئے اور جو کچھ کرنا طے پایا تھا وہ معرض وجود میں آگیا۔
وتکونوا من بعدہ قوما صالحین کے ترجمہ پر بھی ایک نظر ڈالتے چلو جو مترجمین نے کئے جیسا کہ تحریر ہوا کہ ” اور اس کے بعد تم صالح لوگ ہوجانا۔ “ (مظہری) ” اور ہوجانا اس کے بعد (توبہ کر کے) نیک قوم۔ “ (ضیاء القرآن) ” پھر بن جانا اس کے بعد بڑے پرہیز گار توبہ کرنے والے بالکل نکوب کار۔ “ (عبداللہ چکڑالوی “ ) ” اس پیغام لاہوری) ” اس کے بعد توبہ کر کے تم پھر ایک نیک گروہ ہو جائو گے۔ “ (خلیفہ قادیاں)
مذکورہ تراجم جیسے بھی ہیں ان کو ” کونوا مین بعدہ قوماً صالحین “ کے تراجم کہا جاسکتا ہے جو قرآن کریم میں نہیں۔ قرآن کریم میں ہے ” وتکونوا من بعدہ قوماً صالحین “ جو ” یخل “ پر معطوف ہو کر اقتلوا یوسف اواطرحوہ ارضاً کا جواب ہے اور ” وائو “ اور ” نون “ امر کے جواب میں واقع ہونے کے باعث ساقط ہیں لہٰذا یہ تراجم کسی حال میں صحیح نہیں اسلئے ہم نے ” اس کے بعد تمہارے سارے کام سدھر جائیں گے۔ “ (ابوالکلام آزاد) کا ترجمہ دیا ہے اور اس طرح یہ بھی صحیح ہے کہ ” اس کے بعد تمہارے سب کام بن جائیں گے۔ “ (ماجدی) ” اس کے بعد نیک بن رہنا۔ “ (تفہیم القرآن)
سید مودودی رحمت اللہ علیہ نے اس جگہ خوب نوٹ دیا ہے کہ ” یہ فقرہ ان لوگوں کی نفسیات کی بہترین ترجمانی کرتا ہے جو اپنے آپ کو خواہشات نفس کے حوالے کردینے کے ساتھ ایمان اور نیکی سے بھی کچھ رشتہ جوڑے رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ جب کبھی نفس ان سے کسی برے کام کا تقاضا کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضوں کو ملتوی کر کے پہلے نفس کا تقاضا پورا کرنے پر تل جاتے ہیں اور جب ضمیر اندر سے چٹکلیاں لیتا ہے تو اسے یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذرا صبر کر یہ ناگزیر گناہ جس سے ہمارا کام اٹکا ہوا ہے کہ گزرنے دے ، پھر انشاء اللہ ہم توبہ کر کے ویسے ہی نیک بن جائیں گے جیسا تو ہمیں دیکھنا چاہتا ہے۔ “ بلکہ گناہ بھی کریں گے اور اس گناہ سے ثواب بھی حاصل کیں گے اور ایسے ہوجائیں گے جیسے آج ہی ماں کے بطن سے پیدا ہوئے۔
اس جگہ ایک بات مزید سمجھ لیجیے کہ جس توبہ کے بھروسہ پر گناہ کیا جائے وہ توبہ بجائے خود گناہ ہے کہ اس سے گناہ کی جرات پیدا ہوتی ہے۔ بلاشبہ گناہ کا ہوجانا فطرت انسانی سے ہے لیکن گناہ کا جان بوجھ کر کرنا سمجھ سوچ کر کرنا ، مشورہ کر کے کرنا ، گناہ ہوجانا نہیں کہلاتا۔ لیکن ان تراجم سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ اس طرح کے گناہ کرنا اور پھر ان کے معافی مانگنا اسلام کا حکم ہے۔ ہمارے مفسرین کو یہ ترجمے کیوں پسند آئے گا ؟ اسلئے کہ ہمارے لوگوں کو گناہ بھی کرنے ہیں اور نیک بھی رہنا ہے۔ پھر ہمارے لوگوں کے لئے بھی تو آخر کوئی دلیل ہونی چاہئے وہ ہم کو قرآن کریم سے مل گیء اس لئے ہمارا کام بن گیا اور لوگوں کو یہ حیلہ بتا دیا۔ انہی بد اعتدالیوں نے قوم یہود کا بیڑا غرق کیا۔ علمائے یہود نے اسی طرح کے بکھیڑوں سے قوم کو تباہی تک پہنچایا اور آج یہی حال ہمارا ہے۔ قانون بنانے والے ، قانون سمجھنے والے اور قانون نافذ کرنے والے سمجھتے ہیں کہ یہ باریک نکتے قانون میں کیا کچھ کردیتے ہیں عوام کو اگر اتنا شعور ہو تو پھر وکلا کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟ علماء کرام کیا ہیں ؟ آخر مذہبی وکیل ہی تو ہیں۔
گناہ کو گناہ سمجھ کر کرنا ہی دراصل فساد فی الارض ہے جس کی تفصیل بہت ہی لمبی ہے ایسے گناہوں کی معافی کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وعدہ نہیں جو اس خیال سے کئے گئے ہوں کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا چناچہ قرآن کریم میں ہے ” یاخذون عرض ھذا الا دنی ویقولون سیغفرلنا۔ “ (الاعراف 7 : 169) یہ کام تو ناخلف یہود کا تھا ، مسلمانوں کے اسلامف کا کیوں ہوگیا ؟ حاشاء اللہ مسلمانوں کے اسلاف کا دامن اس سے پاک ہے۔ یہ عجیب خوش فہمی ہے کہ جو آیا حلال حرام سب کھا گئے اور یہ بھی کہتے رہے کہ یہ سب اللہ کی بخشش ہے گویا رند کے رند بھی رہے اور جنت بھی ہاتھ سے نہ گئی۔ جزاک اللہ ، ماشاء اللہ ، الحمد للہ ، سبحان اللہ کتنا پیارا لباس تھا لیکن سامان کے شلیتوں پر ان کے پیوند کیوں لگا دیئے گئے۔ اس لباس کے لئے پاکیزہ اجسام کی ضرورت نہ تھی ؟ کیا لعل کو اٹھا کر گدھے کے گلے کا ہار بنا دینا عقل مندی ہے ؟ جس چیز نے یہود کو ” ناخلف “ بنا دیا اس کی ضرورت ہم کو کیوں پیش آئی ؟
Ayah 12:10کسی ایک نے مشورہ دیا کہ قتل نہ کرو بلکہ کسی کنوئیں میں اس کو ڈال دو
۔ 10 ایک کہنے والے نے کہا کہ اگر واقعی تم کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس کی بہتر تدبیر یہ ہے کہ یوسف کو یہاں سے اس طرح کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو جو اس علاقہ کی شاہراہ پر جگہ جگہ بنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تاکہ اس کو کوئی قافلہ واں سے نکال لے جائے اور تمہارا مقصد بھی حاصل ہوجائے۔ بس اس امر پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ غور کرو کہ یہ پیغمبر زادے تھے ، بارہا یہ سنا تھا کہ کسی کو بلاوجہ قتل کرنا یا اسے اذیت پہنچانا جرم عظیم ہے۔ اس خیال نے ان کے اندر یقینا کچھ گھبراہٹ پیدا کی ہوگی لیکن ان کے نفس حیلہ ساز نے انہیں سہارا دیا کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ اسی لئے ہم اس کو اندر کا شیطان کہتے ہیں ، یوسف کو ٹھکانے لگانے کے بعد ہماری کو فت تو ختم ہوگی اور پھر قتل کے عظیم ظلم سے بھی بچ جائیں گے لہٰذا یہی سکیم صحیح اور درست ہے اور کل اس پر عمل کرنا ہے۔ یہ کہنے والا کون تھا جس کی یہ آخری سکیم منظور ہوئی تھی وہ انہی بھائیوں میں سے کوئی بھائی تھا یا کوئی دوسرا آدمی تھا ؟ کہا گیا ہے کہ ان کا بھائی شمعون تھا اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان بھائیوں میں سے نہ تھا بلکہ کوئی غیر تھا جو اس مشورہ کے وقت پاس تھا شمعون تھا اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان بھائیوں میں سے نہ تھا بلکہ کوئی غیر تھا جو اس مشورہ کے وقت پاس تھا شمعون تھا اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان بھائیوں میں سے نہ تھا بلکہ کوئی غیر تھا جو اس مشورہ کے وقت پاس تھا جساو کہ یاریاں نبھانے والے ایک دوسرے سے ان باتوں میں مشورہ کرتے ہی رہتے ہیں اور تاریخ اس کی گواہ ہے کہ اس وقت فلسطین کے جنوب مشرقی علاقہ میں تجارتی قافلوں کی آمد و رفت ایک طرف فلسطین اور مصر کے اور دوسری طرف عرب و مصر کے درمیان برابر رہا کرتی تھی اور ان راستوں پر وہ کنوئیں بھی منزل منزل کے نشان پر پائے جاتے تھے جن کی گہرائی کسی جگہ بہت گہری تھی لیکن کسی جگہ وہ زیادہ گہرے نہیں ہوتے تھے اور سطح زمین کے لحاظ اور پانی کے نکلنے پر اس اک انحصار تھا۔ اندھا کنواں وہی ہو سکتا ہے جس کی گہرائی زیادہ ہو اور پانی بھی زیادہ گہرا نہ ہو۔ ہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” غیبت الجب “ اس کنوئیں کو کہا اجتا ہے جس پر چرخی اور ڈول نہ ہو بلکہ قافلہ والے اپنے ہی ڈول سے پانی بھرتے ہوں۔ یہ اسکیم مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے والد بزرگوار کے پاس گئے اور درج ذیل جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا :
Ayah 12:11باپ سے کہنے لگے ابو ! کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملہ میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے ؟
۔ 11 مشورہ طے ہوجانے کے بعد سب جمع ہو کر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ یوسف کو ہمارے ساتھ سیر و سیاحت اور شکار کرنے کے لئے نہیں بھیجتے کیا آپ کو ہم پر اعتماد نہیں ؟ بھلا ہم سے زیادہ اس کا خیر خواہ دوسرا کون ہو سکتا ہے ؟ قرآن کریم کی اس آیت گیارہ اور بارہ کو بار بار پڑھو اور سمجھنے کی کوشش کرو کہ انسان بعض اوقات کتنا مکار ، کتنا فریبی ، کتنا دھوکا باز اور کتنا ڈھیٹ ہوجاتا ہے اور سفید جھوٹ پر کس طرح رنگ بھرتا ہے اور یہ کام کن کن خاندانوں اور کیسے کیسے شاندار گھروں اور بڑی بڑی شخصیتوں کے ہاں ہوتے ہیں۔ یہ نہ سمجھو کہ یہ صرف یعقوب ہی کے بیٹوں کا کردار تھا بلکہ اس کردار کے ادا کرنے والے آج بھی سارے بڑے بڑے گھرانوں میں موجود ہیں خصوصاً جن گھرانوں میں ذرا بھی اقتدار کی ہوس ہے وہاں ان کی آج بھی کثرت ہے۔ افسوس ہے ہمارے قارئین اور مفسرین پر کہ انہوں نے صرف یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں ہی کا یہ کردار سمجھا اور اپنی قوم و ملت میں ان لوگوں کی نشاندہی نہ کی جو آج بھی اس طرح کے کردار ادا کر رہے ہیں اس لئے اس واقعہ کے بیان کرنے کا جو مقصد تھا وہ فوت ہوگیا۔ ذرا غور کرو کہ اس ملک زعیز میں جو اس وقت اقتدار کی کرسیوں پر براجمان ہیں وہ کون ہیں ؟ وہی تو ہیں جن کے آباء و اجداد نے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا کردار ادا کیا تھا اور اقتدار حاصل کرنے کی خاطر کتنے لوگوں کو اندھے کنوئیں میں گرایا تھا اگرچہ اس وقت سارے گرائے جانے والے یوسف نہیں تھے۔ ان کی تاریخ کو پڑھ لو جو آج سرمایہ دار اور جاگیردار کہلاتے ہیں انہوں نے یہ سرمایہ کیسے اکٹھا کیا ؟ اور ان کو یہ جاگیریں کس صلہ میں دی گئیں ؟ انہوں نے کن کن سفید جھوٹوں پر رنگ بھراڈ اور آج وہ کس طرح قوم و ملت کی اس عزیز و لھن کی مانگ بھر رہے ہیں۔ ایک بار پھر غور کرو کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ اپیل کس کے سامنے پیش کی ؟ یہ اپیل تھی یا فراڈ تھا ؟ پھر انہوں نے یہ فراڈ کس سے کیا ؟
Ayah 12:12انہوں نے دوبارہ کہا کہ کل یوسف کو ہمارے ساتھ جانے دیجیے تاکہ وہ کھیلے کو دے
۔ 12 تاریخ میں اس کی پوری وضاحت موجود ہے کہ ان لوگوں کی معیشت کا سارا انحصار جنگل ہی پر تھا۔ پالتو جانوروں کو چرانا اور ان کی حفاظت کرنا جنگلی جانوروں کو شکار کرنا ، جنگل سے بڑے بڑے درخت کاٹ کر فروخت کرنا ، شہد اور جنگلی بوٹیوں کو پہچان کر ان کے موسموں میں تلاش کرنا ، جنگلی پھلوں کو توڑنا اور بیچنا ان کی تجارت تھی۔ یہی کام یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے بھی کرتے تھے اس کام میں یوسف (علیہ السلام) اپنی کم سنی کے باعث ابھی نہیں لگائے گئے تھے۔ بھائیوں نے جو اپنے سفید جھوٹ میں رنگ بھرا تو یہی کہہ سکتے تھے اور یہی کچھ کہا کہ ابو یہ ہمارا بھائی ہے اس کو کل ہمارے ساتھ بھیجے یہ بھی ذرا کھیلے کو دے اور کھائے پئے ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے۔ اس کو کہتے ہیں کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ارادہ مارنے ، قتل کرنے اور کنوئیں میں گرانے کا تھا لیکن ان کی یقین دھانی کا انداز کتنا پیارا تھا ؟ اس سے معلوم ہوا کہ دشمنی کی حالت میں محبت کی باتیں گھڑ لینا ، سخن سازی کی مشق کرلینا ، جھوٹ میں سچ کا رنگ بھر لینا اور بناوٹی زندگی اختیار کرلینا فطرت بشری کے لحاظ سے ذرا بھی مست بعد نہیں۔ ” یرتع ویلعب “ کے الفاظ کس نے کہے ؟ یہ جھوٹ تھا یا سچ تھا ؟
رتع کیا ہے ؟ رتع کہتے ہیں جی بھر کر کھانے کو اور پھر جنگل میں جی بھر کر کھانا کیا ہے ؟ وہی شکار کا گوشت پھر اس کے ہضم کے لئے کیا ہے ؟ اچھا تلاعب کیا ؟ فھلا بکرا فلا عبھا و تلا عبک جواز کے لئے حدیث سے استدلال موجود ہے۔
لیکن ہمارے فقہاء نے اس سے بڑے بڑے مسئلے نکالے۔ جنگلوں میں شکار کھیلنے اور وہاں لہو و لہب کی مجلسیں قائم کرنے ، شکاری جانور پالنے اور شکار کو شکار گاہوں میں چھوڑنے ، ان کی حفاظت کرنے اور سرداروں کی ساری بد اعتدالیوں حتی کہ حرام کاریوں تک کی اجازت انہی الفاظ سے نکالی گئی اور قرآن کریم کہہ کر اس آیت سے استدلال کیا گیا اور کتاب الحیل میں جو جو حیلے اور بہانے اور حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے کے مشغلے اختیار کئے گئے وہ اس کے سوا ہیں۔ کچھ نہ پوچھو ، رہنے دو اور آگے بڑھو۔ ابھی تو ابتداء ہے آگے آگے دیکھئے کہ ہوتا ہے کیا ؟
Ayah 12:13باپ نے خطرہ ظاہر کیا کہ تم جو ان ہو کہیں شکار کھیلتے کھیلتے آگے نکل جائو تو یوسف کا پھر کیا ہوگا ؟
۔ 13 انسان پر بعض اوقات ایسا وقت بھی آجاتا ہے کہ ” نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن “ کا محاورہ اس پر صادق آتا ہے کہ ایک کام نہ کرنے کے باوجود کرنا پڑجاتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کا بڑا مشکل باب ہے۔ دل نہیں مانتا تھا کہ یوسف بھائیوں کے ساتھ جائے لیکن اب انہوں نے پیار کا جو انداز اختیار کیا آخر اس کا جواب بھی کیا ہے ؟ اگر سا وقت انکار کردیا جائے تو بھائی اعلانیہ دشمنی پر بھی اتر سکتے ہیں پھر انسان آخر ایک انسان کی کب تک حفاظت کرسکتا ہے ؟ یعقوب (علیہ السلام) کو یہ خیال یقینا آیا ہوگا کہ میں ان کو ایک اشارہ کردیتا ہوں کیونکہ وہ جو کچھ کرسکتے ہیں یہ اشارہ اس کا یقینا دفاع کرسکتا ہے لیکن مشیت ایزدی کا کون دفاع کرے ؟ بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے اشارہ اشارہ میں ان پر حقیقت حاصل واضح کردی کہ واقعی مجھ کو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تم سے اندیشہ ہے۔ فراست نبوی سبحان اللہ ! بات ایسی کہہ دی کہ اگرچہ جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہوگیا لیکن ان سارے مکاروں کو کوئی ایسا مکر اور فریب نہ ملا جو یعقوب (علیہ السلام) کی بات کا بھی توڑ ہوتا ۔ بلاشبہ آپ کو یقین تھا کہ یوسف کو کوئی بھیڑیا نہیں کھا سکتا بلکہ ساری دنیا بھی مل کر یوسف کو مارنا چاہے تو ابھی نہیں مار سکتی ، کیوں ؟ اس لئے کہ بیٹے کے خواب کی تعبیر دے چکے تھے اور خدائی فیصلہ کو آخر کون روک سکتا ہے ؟ لیکن تاہم اتنی بات ضرور تھی کہ اس کو پریشان کرنا ، جدائی ڈال دینے کے لئے کوئی بہانہ تراشنا تو ممکن تھا انہی خدشات کے باعث آپ نے یہ فرمایا تھا ورنہ یوسف کے مارے جانے کا آپ کو قطعاً ڈر نہ تھا۔
۔ 14 بلاشبہ یعقوب (علیہ السلام) کے یہ فرزند بڑے تنومند اور قوی ہیکل تھے۔ انہوں نے اپنی طاقت اور تعداد دونوں پر جھوٹا گھمنڈ کیا اگر وہ سچے ہوتے تو یقینا ان کا یہ ناز بھی بےجا نہ تھا۔ یہ صحیح کہ وہ شیر تھے لیکن اس وقت لومڑی کا کردار ادا کر رہے تھے جو ” شیر “ اور ” بہادر “ ایک کتیا کے بچہ سے ڈریں وہ نام ہی کے شیر و بہادر ہوں گے کام تو ان کا دیکھ لیا۔ آخر اندھی ” نور بھریاں “ بھی تو دنیا ہی میں ہوتی ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) کے خدشہ کے جواب میں بیک زبان ہو کر کہنے لگے کہ ابو ! ہم دس کڑیل جو ان ساتھ ہوں تو بھیڑیئے کی کیا مجال کہ یوسف کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے۔ اگر ہماری موجودگی میں ایسا ہوگیا تو ہم تو شرم سے ڈرب مرے۔ اس کو کہتے ہیں کہ چور بھی اور چتر بھی۔
Ayah 12:14انجام کار وہ یوسف کو ساتھ لے گئے اور جاتے ہی انہوں نے پہلا کام وہی کیا جو طے کرچکے تھے
۔ 15 یعقوب (علیہ السلام) نے بادل نخواستہ یوسف کو ساتھ بھیج دیا۔ ظاہر ہے کہ انہوں نے اس وقت اس پر مصنوعی خوشی کا اظہار کیا ہوگا کیونکہ ان کی مراد جو بر آئی تھی۔ بہرحال اپنی بستی سے یوسف (علیہ السلام) کو جنگل کی طرف بڑی خوشی کے ساتھ لے چلے اور وہاں سے جب وہ نکل گئے تو راستہ میں انہوں نے اپنے باپ جائے سے کیا کچھ کیا ہوگا اس کی تفصیل کرنے لگیں تو صفحات درکار ہیں لیکن آخر اس کی ضرورت جب کہ ایک سازش وہ کرچکے تھے اور اب اس کو عملی جامہ بھی پہنا چکے تھے تو باقی کیا رہ گیا ؟ قوم کے جذبات کو بھڑکانے کے لئے وہ مقام تلاش کرنا چاہئے جہاں قوم کو بھڑکانے کا کوئی نتیجہ بھی سامنے آئے۔ قوم کو بھڑکا کر ان کی چیخیں سننا اور اس طرح سارے مردوں کو نامرد بلکہ عوتریں بنا کر رکھ دینا سحر بیانی تو کہلا سکتا ہے لیکن عقل مندی اور سمجھ داری نہیں کلہا سکتا۔ رونا ، پیٹنا اور آہ وزاری کرنا اگرچہ کوئی اچھا فعل نہیں تاہم اس کا ایک وقت وہتا ہے۔ بھائیوں نے جو کرنا تھا وہ کر گئے اور اس وقت سے یوسف کو کنوئیں گرانے والے خود کنوئیں میں گرنا شروع ہوگئے اور یوسف کے لئے اللہ نے اس کنوئیں کو شاہی تخت میں تبدیل کرنے کی سکیم کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ جو کسی کے لئے کنواں کھودتا ہے انجام کار ایک دن وہ خود اس کنوئیں میں گر جاتا ہے۔ لیکن ان باتوں کو سمجھنے کے لئے جس زندگی کی ضرورت ہے وہ زندگی اب کہاں ؟ ہماری آنکھیں تو ہر طرف موت ہی موت دیکھتی ہیں۔ بچپن میں اندھوں ، بہروں ، گونگوں اور مردوں کے شہر کہاں ؟ ہماری آنکھیں تو ہر طرف موت ہی موت دیکھتی ہیں۔ بچپن میں اندھوں ، بہروں ، گونگوں اور مردوں کے شہر اور گائوں کی کہانیاں سنتے تھے آج اندھیروں ، بہروں ، گونگوں اور مردوں کے ملک میں رہ رہے ہیں۔ برا نہ ماننا یوں سمجھو کہ جس طرح یعقوب بادل نخواستہ یوسف کو ان کے بھائیوں کے ساتھ بیجنے پر مجبور ہوگئے ہم بھی اس ملک کے باشندوں میں اس طرح بادل نخواستہ رہنے پر مجبور ہیں کہ ” نہ پائے ماندن نہ جائے رفتن “ میرا ایمان ہے کہ اللہ ہر انسان کو تہہ دل تک جانتا ہے کہ اس کے اندر کیا ہے۔ اے اللہ ! میری مدد فرما۔
Ayah 12:15یوسف کنوئیں میں گرائے گئے لیکن انہوں نے بچپنے کے باوجود صبر کا دامن تھامے رکھا
۔ 16 ” واوحینا الیہ “ ہم نے اس کی طرف وحی کی۔ بلاشبہ یہ وحی وہ وحی نبوت نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ ہونے والے انبیاء و رسل کو بلکہ اپنے نیک بندوں کا انتخاب اس وقت کردیتا ہے جب ابھی ان کے پیدا ہونے کا نام و نشان بھی نہیں ہوتا۔ یوسف (علیہ السلام) اس وقت نبی نہ تھے۔ ان کو اپنی نبوت کا یقین ہوچکا تھا اور اس طرح وہ غیب کی طرف سے شہود کی طرف منتقل ہوچکے تھے اور اس بات کا اظہار خود یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹے کے سامنے کرچکے تھے۔ کنوئیں میں گرائے گئے لیکن صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا بلکہ دل کو اللہ نے اپنے الہام سے مضبوط فرما دیا کہ بھائیوں نے کس طرح جنگل کی طرف لانے کے لئے حیلے بہانے کئے۔ میں ان کے ہاتھوں میں تھا وہ مجھے جان سے مار سکتے تھے لیکن کیوں نہ مارا ؟ اس لئے کہ جان جس کے قبضے میں ہے اس نے ان کو مارنے نہیں دیا ، اس کا ہاتھ سارے ہاتھوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ یوسف گھبرائو مت بلاشبہ ایک درخشاں مستقبل تیرے لئے چشم براہ ہے۔ تجھے ہم اتنا سرفراز کریں گے کہ تو یہ سب غم بھول جائے گا۔ اے یوسف ! یہ آندھی کیوں چلی ؟ اس لئے کہ تجھے پرواز سکھائے۔ اے یوسف ! یہ جدائی کی گھڑیاں کیوں آئیں ؟ اس لئے کہ تیری تربیت شاہی محلات میں ہو ، ان جدائیوں سے تو شجاعت و بہادری کا سبق سیکھے اور تجھے عزم و ارادہ کا ایک عظیم پہاڑ بنایا جائے ، تیری عزت و امانت کو ضرب المثل بنائیں۔ اے یوسف ! گھبرائیے نہیں۔ تو یہ سب غم بھول جائے گا ، تیرے یہ بھائی ایک دن تیرے شاہی دربار میں سائل کی حیثیت سے آئیں گے۔ تیرے کردار و اخلاق کا اپنے مونہوں سے چرچا کریں گے تو فکر نہ کر تجھے یہ لوگ امانت و دیانت کا پہاڑ تسلیم کریں گے۔ ہمارے پورے پروگرام سے ابھی تم بھی واقف نہیں اور تجھے کنوئیں میں گرانے والے تو پہلے ہی عقل و فکر کے اندھے اور غیظ و غضب کی دنیا میں رہنے والے ہیں۔ تو ایک گوہر نایاب ہے جس کی قدر و قیمت کا تیرے بھائی اندازہ نہیں لگا سکتے۔ آج تو ان کے کی دو مکر ، دھوکا اور فریب سے بچالیا گیا اور آج سے وہ خود فریب خوردہ ہوگئے۔
Ayah 12:16رات کے شروع حصہ میں یوسف کے بھائی روتے چیختے والد گرامی کی خدمت میں پہنچے
۔ 17 یوسف کو وہ کیا سمجھتے تھے ؟ اپنے راستے کا روڑا۔ بس اس روڑے کو وہ کنوئیں میں گرا کر مطمئن ہوئے اور سارا دن خوب سیر و تفریح کرتے رہے۔ عشاء کا وقت آیا تو چیختے چلاتے اور دھاڑیں مارتے ہوئے گھر کی طرف لوٹے اور والد سے چمٹ کر روئے دوسرے افراد کے گلے لگ کر چیخے مارتے اور آہ و بکار کرتے رہے۔ آج بھی تم کو حسین کا نام لے کر جتنے چیخنے چلانے والے ، سینہ کو بی کرنے والے ، چھریاں چلانے والے ، لہولہان ہونے والے ، مرثیے پڑھنے والی مراثی ملیں گے سب اسی طرح کے جھوٹے اور فریبی ہوں گے۔ ان میں زیادہ تر تو کرائے کے ٹٹو مزدوری پر کام کرنے والے نکلیں گے۔ حسینیت سے رونے ، پیٹنے اور چیخنے چلانے کا کیا تعلق ؟ حسینیت تو میدان جنگ کی للکار ہے ؟ اگر تاریخ کی ورق گردانی کرو گے تو اس وقت پیٹنے والے بھی وہی نکلیں گے جو قاتل حسین تھے۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں سے گریہ سکیھا لیکن یہ نہ سمجھ سکے کہ وہ تو سراسر فراڈ تھا۔ ان نا سمجھوں اور بےعقلوں کو چیلوں اور گدھوں کی طرح ضرورت کا چھیچھڑا تو نظر آیا لیکن وہ جال نہ دیکھ سکے۔ بات یوسف کے بھائیوں کی تھی لیکن ہم ان لہو لگا کر شہیدوں میں داخل ہونے والوں کی طرف کیوں نکل آئے ؟ اس لئے کہ جس طرح وہ ایک فریب تھا بالکل اسی طرح یہ بھی ایک فریب ہے تو کیا ایک فریب کو دوسرے فریب کی طرح نہیں کہا جاسکتا ؟
Ayah 12:17ہم بھاگ رہے تھے اور یوسف سامان کے پاس تھا کہ ایک بھیڑیا آیا اور یوسف کو کھا گیا
۔ 18 حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا اندیشہ اور خدشہ صحیح نکلا۔ برادران یوسف نے آ کر ایک لگتی ہوئی کہانی گھڑ کر بیان کردی انہوں نے کہا ’ اے باپ ! ہم ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے لئے دوڑ میں لگ گئے تھے اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ ایک بھیڑیا ادھر آ نکلا اور یوسف کو اس نے کھا لاا۔ “
” قالوا یا با نا انا ذھبنا نستبق وترکنا یوسف عندمتاعنا فاکلہ الذھب “ حالانکہ یہ سراسر جھوٹے تھے۔ قرآن کریم کی یہ عبارت ان کے واضح اور سراسر جھوٹ کو بیان کر رہی ہے ؟ قرآن کریم کی یہ عبارت کیا ہے ؟ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کے جھوٹے الفاظ کا عربی ترجمہ جو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس پر نازل کیا۔ اس سے ظاہر کیا ہوا ؟ یوسف علیہ لاسلام کے بھائیو کا جھوٹ ۔ غور کرو کہ اگر ہم اس سے جھوٹ کی سند جواز تلاش کریں تو ہم کون ہوئے ؟ جھوٹے۔ یہ آیت جھوٹ بولنے کے لئے سند جواز ہے یا جھوٹوں کو جھوٹے کہنے کی الٰہی سند ؟ اچھا اگر کوئی نبی زادہ جھوٹ بولے ، کوئی پیرزادہ جھوٹ بولے ، کوئی صاحبزادہ جھوٹ بولے ، کوئی علامہ جھوٹ بولے ، کوئی مذہبی راہنما جھوٹ بولے ، کوئی ملک کا وزیر اور مشیر جھوٹ بولے ، ملک کا وزیر اعظم یا ملک کا صدر جھوٹ بولے تو وہ اس لئے جھوٹ نہیں ہوگا کہ وہ بڑے لوگوں نے بولا۔ جھوٹ کوئی بھی بولے تو وہ جھوٹ ہی رہے گا یا کسی شخصیت کے لحاظ سے جھوٹ سچ ہوجائے گا اس طرح کیا سچ سچ ہی رہے گا یا کسی جھوٹے کے سچ بولنے سے وہ جھوٹ ہوجائے گا ؟ جو جو اب آپ کا ، امید ہے کہ انشاء اللہ وہی ہمارا بھی ہوگا۔ یوسف کے بھائیوں کی صاحبزادگی میں کوئی شک نہیں کیونکہ وہ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں لیکن اس وقت ان کے جھوٹے ہونے میں بھی کوئی شک نہ رہا جب وہ جھوٹ بول رہے تھے۔ اگر آپ نے یہ بات یاد رکھی تو انشاء اللہ زندگی بھر کام دے گی اور اس احسن القصص میں بھی اس سے راہنمائی ملے گی۔
جھوٹ بولنے والوں کے اپنے ہی بیان سے دال میں کچھ کالا نکل آتا ہے
۔ 19 ان کے اپنے بیان کے آخری جملے نے ان کے اندر کی ساری تصویر کھینچ کر سامنے رکھ دی اور اس طرح کھینچ دی کہ اس کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہا۔ کہنے لگے ابو ! آپ ہماری بات کا یقین تو نہیں کریں گے کیونکہ پہلے ہی آپ کا دل ہماری طرف سے صاف نہیں تھا لیکن آپ مانیں یا نہ مانیں جو بات ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں یہ سو فیصد سچی ہے۔ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہاں ! اگر یہ بات سوفیصد سچی ہے تو پھر دنیا میں جھوٹ نام کی کوئی شے موجود نہیں۔
Ayah 12:18یوسف کے پیراہن پر وہ جھوٹ موٹ کا خون لگا لائے
۔ 20 جھوٹے کو یہ کبھی سمجھ نہیں آتی کہ میں نے جب ایک جھوٹ بولا تو وہ چھپ نہیں رہا اور اب میں جب اس جھوٹ کو سچ بنانے کے لئے بیسیویں جھوٹ بولوں گا تو آخر ان کو سچ کیسے ثابت کر سکون گا ؟ اگر اس کی سمجھ میں یہ بات آجائے تو جھوٹ اگر مرنہ سکے تو بھی ادھ موا ضرور ہوجائے گا یعنی آہستہ آہستہ اس کے جھوٹ بولنے کی عادت ختم ہوجائے۔ یوسف (علیہ السلام) کے پیراہن پر خون ملنے کا ذکر تورات میں اس طرح ہے کہ : ” پھر انہوں نے یوسف کی قبا کو لیا اور ایک بکری کا بچہ مارا اور اس قبا کو اس کے لہو میں تر کیا اور وہ اس بوقلمون قبا کو اپنے باپ کے پاس لے آئے اور کہا کہ ہم نے اسے پایا۔ آپ اسے پہچانئے کہ یہ آپکے بیٹے کی قبا ہے کوئی بڑا درندہ اسے کھا گیا۔ یوسف بیشک پھاڑا گیا۔ “ (پیدائش 31:37 تا 33) گویا حسب بیان تورات پیغمبر نے ان فسوں سازوں کے دعوائے باطل کو بالکل تسلیم کرلیا تھا۔ لنکپ قرآن کریم نے حسب معمولی تورات کی اس غلط بیان کی بھی تردید کردی۔ اسماعیلیوں کا ایک قافلہ شام سے مصر کو نجورات و ملبسان اور مصالحہ جات لاد کر لئے جا رہا تھا۔ کنواں دیکھ کر انہوں نے پانی کے لئے ڈول ڈالا۔ یوسف سمجھے کہ شاید بھائیوں کو رحم آگیا ڈول پکڑ کر لٹک گئے تاجر نے ڈول نکالا تو یوسف کو دیکھ کر جوش مسرت سے شور مچایا کہ بشارت ہو ایک غلام ہاتھ آیا۔ سیارہ ، سیار کی مونث ہے اور اس کے معنی قافلہ کے ہیں یعنی وہ قوم ، وہ گروہ ، وہ قافلہ جو سفر کر رہا ہو۔
Ayah 12:19قافلہ والوں نے مال تجارت سمجھ کر چھپایا اور بیچنے کے مشورے ہونے لگے
۔ 24 اس طرح یوسف کو اسماعیلی تاجروں نے اپنا غلام بنا لیا اور مال تجارت کے ساتھ مصر کو لے گئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کی زندگی کا یہ پہلو اپنے اندر کیسی عظمتیں پنہاں رکھتا ہے اس کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو چشم بصیرت رکھتا ہو ، چھوٹی سی عمر 13 سے 15 سال۔ والدہ کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا ، باپ کی آغوش محبت تھی وہ بھی چھوٹی ، وطن چھوٹا ، بھائیوں نے بےوفائی کی ، آزادی کی جگہ غلامی نصیب ہوئی مگر ان تمام باتوں کے باوجود نہ شور و شیون ہے ، نہ واویلا ، نہ جزع و فزع ہے اور نہ الحاح وزاری۔ قسمت پر شاکر ، مصائب پر صابر اور رضائے الٰہی پر راضی ، سرنیاز خم کئے مصر کے بازار میں فروخت ہونے جا رہے ہیں۔ سچ ہے۔ نزدیکا رابیش بود حیرانی۔
ت
Ayah 12:20اجروں نے یوسف کو چند درہموں کے بدلے فروخت کردیا ، آخر ان کو کیا رغبت تھی ؟
۔ 25 تقریباً دو ہزار سال قبل مسیح ” مصر “ تمدن و تہذیب کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا یہاں کے حکمران عمالقہ (ہیکسوی) تھے جبکہ یوسف (علیہ السلام) کی کنعان سے ایک بدوی غلام کی حیثیت سے مصر میں داخل ہوئے۔ مصر کا دارالسلطنت اس وقت رعمسیس تھا ۔ یہ غالباً اس مقام پر واقع تھا جہاں آج کل ” ان “ کی بستی آباد ہے۔ جغرافیائی حیثیت سے اس کا جائے وقوع مشرق کی جانب دریائے نیل کے قریب بتایا جاتا ہے ، مصری افواج کا افسر شاہی خاندان کا کر اس کو خرید لیا ہے۔ جب کہ اوپر عرض کیا گیا کہ اس زمانے میں مصرف خود کو دنیا کی بہترین مہذب اور متمدن قوم سمجھتے تھے اور بدوی اور صحرائی قبائل کو نہایت ذلت و حقارت سے دیکھتے تھے اور اپنے شہروں میں ان کے ساتھ اچھوت کی طرح معاملہ کرتے تھے۔ انہی قبائل میں سے ایک قبیلہ نسل ابراہیمی کی یادگار کنعان میں آباد تھا یہاں مدنیت و حضارت کا نام و نشان تک نہ تھا۔ شکار پر ان کے رزق کا مدار تھا اور خس پوش جھونپڑیاں اور بکریوں کے گلے ان کا دھن دولت تھے۔