12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 12:58

وَ جَآءَ اِخْوَةُ یُوْسُفَ فَدَخَلُوْا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَ هُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ Open ayah 12:58 in the Quran reader

اور (پھر قحط کے سالوں میں) یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے ، یوسف (علیہ السلام) نے انہیں پہچان لیا لیکن انہوں نے نہیں پہچانا

وہ وقت آگیا کہ یوسف کے بھائی غلہ لینے کی غرض سے مصر پہنچ گئے اور یوسف نے پہچان بھی لیا ۔ 70 وقت کتیگ تیزی سے گزر گیا ، گویا آنکھ جھپکتے ہی چودہ سال کا طویل عرصہ گزر گیا۔ حضرت یوسف نے سلطنت مصر کے مختار کل ہونے کے بعد خواب سے متعلق وہ تمام تدابیر شروع کردیں جو چودہ سال کے اندر مفید کار ہو سکیں اور رعایا قحط سالی کے سالوں میں بھی بھوک اور پریشان حال سے محفوظ رہ کسی چونکہ یہ تفصیل خواب اور اس کی تعبیر کے ضمن میں خود بخود ذہن میں آجاتی ہے اس لئے قرآن کریم نے واقعہ کے ان غیر ضروری حصوں کو بیان نہیں کیا لیکن تورات میں ان کی تفصیل بھی مذکور ہے۔ ضرورت ہو تو ملاحظہ فرمائیں (پیدائش باب 14 : 64 ، 94 ، 35 ، 75 اور باب 24 : 1 ، 2) جب قحط سالی کا زمانہ شروع ہوا تو مصر اور اس کے قریب و جوار کے علاقہ میں بھی سخت کال پڑا اور کنعان میں خاندان یعقوب بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا جب حالت نزاکت اختیار کرگئی تو حضرت یعقوب نے بھی اپنے صاحبزادوں سے کہا کہ مصر میں عزیز مصر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس غلہ محفوظ ہے تم سب جائو اور غلہ خرید کر برادران یوسف کا یہ قافلہ اس بھائی سے غلہ لینے چلا ہے جس کو اپنے خیال میں وہ کسی مصری گھرانے کا معمولی اور گمنام غلام بنا چکے تھے۔ مگر اس یوسف فروش قافلہ کو کیا معلوم کہ وہ کل کا غلام آج مصر کے تخت و تاج کا مالک و مختار کل ہے اور سا کو اس کے سامنے عرض حال کرنا ہے۔ بہرحال یہ لوگ کنعان سے چلے اور مصر جا پہنچے اور جب دربار یوسفی میں پیش ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور کیوں نہ پہنچانتے ، رنگ ڈھنگ ، بول چال ، لب و لہجہ ، نقشہ و صورت اور ساری ادائیں یوسف کی جانی پہچانی تھیں البتہ وہ یوسف کو نہ پہچان سکے اور کس طرح پہچانتے ؟ کل جو چھوٹا بچہ تھا آج وہ تقریباً چالیس سالہ تجربہ کار انسان ہے۔ نقشہ و رنگ اور بول چال سے کچھ شبہ بھی کرتے تو کس طرح ؟ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ یوسف اور تخت شاہی ! مگر یہ واقعہ تھا ، حقیقت تھی اور اپنے برگزیدہ بندہ کے ساتھ رب العالمین کا وہ معاملہ تھا جو صفحہ دنیا پر ثبت ہو کر رہا۔
Ayah 12:59

وَ لَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُوْنِیْ بِاَخٍ لَّكُمْ مِّنْ اَبِیْكُمْ١ۚ اَلَا تَرَوْنَ اَنِّیْۤ اُوْفِی الْكَیْلَ وَ اَنَا خَیْرُ الْمُنْزِلِیْنَ Open ayah 12:59 in the Quran reader

اور جب یوسف (علیہ السلام) نے ان کا سامان مہیا کردیا تو کہا اب کے آنا ہوا تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لانا ، تم نے اچھی طرح دیکھ لیا ہے کہ میں تمہیں پوری تول دیتا ہوں اور بہتر مہمان نواز ہوں

اپنے بھائیوں کا سامان بڑی دلچسپی سے تیار کرایا اور کہا آئندہ اپنے چھوٹے بھائی کو ساتھ لانا ۔ 71 ایک بات واضح ہونے سے بہت سی ضمنی باتیں خود بخود نکل آتی ہیں اگرچہ ان کا ذکر نہ بھی کیا جائے ذکر تو یہاں سامان تیار کرانے کا ہے لیکن ساتھ ان کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ ” اب کے آنا تو اپنے سوتیلے بھائی کو بھی ساتھ لانا۔ “ جس سے یہ بات خود بخود نکل آئی کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد ، حقیقی بھئای اور گھر کے دوسرے سارے حالات کو خوب کرید کیرد کر پوچھا اور آہستہ آہستہ سب کچھ معلوم کرلیا اور پھر ان کو حسب مرضی غلہ بھر دیا۔
Ayah 12:60

فَاِنْ لَّمْ تَاْتُوْنِیْ بِهٖ فَلَا كَیْلَ لَكُمْ عِنْدِیْ وَ لَا تَقْرَبُوْنِ Open ayah 12:60 in the Quran reader

لیکن اگر تم اسے میرے پاس نہ لائے تو پھر یاد رکھو نہ تو تمہارے لیے میرے پاس ماپ ہوگا اور نہ تم میرے نزدیک جگہ پاؤ گے

یوسف کی ہدایت کہ آئندہ اگر تم آئو تو بنیامین کو بھی ساتھ لانا ورنہ غلہ میں ملے گا ۔ 72 جب قافلہ والے غلہ لے کر رخصت ہونے لگے تو ان کو یہ بھی کہہ دیا کہ قحط اس قدر سخت ہے کہ تم کو دوبارہ یہاں آنا پڑے گا اس لئے یاد رکھو کہ اب کی مرتبہ اگر تم اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لائے جس کے متعلق تم نے مجھ سے کہا ہے کہ اس کا بھائی یوسف گم ہوگیا ہے اور اس لئے تمہارا باپ اس کو کسی طرح جدا نہیں کرتا تو تم کو ہرگز غلہ نہیں دیا جائے گا اور نہ تم یہاں آنا۔ اگر بینا آنکھ رکھتے ہو تو ذرا دیکھو کہ جب حضرت یوسف کے بھائی ان کے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں ، کون بھائی ؟ جنہوں نے قتل کا سامان کیا اور پھر کنوئیں میں گرا کر الگ ہوگئے ؟ اسی مظلوم کے سامنے جو آج مظلوم نہیں ہے بلکہ وقت کی سب سے بڑی مملکت کا مالک اور قحط سالی کی سب سے بڑی مصیبت میں سامان زندگی بخشنے والا ہے کیسا عجیب موقعہ تھا اور نفس انسان کے لئے ولولہ انتقام کی کیسی صبر آزما آزمائش ؟ تاہم غور کرو کہا ول سے لے کر آخر تک حضرت یوسف کا طرز عمل کیسا رہتا ہے ؟ کہیں بھی کوئی بات ایسی دکھائی دیتی ہے کہ کہہ سکو ، بغض و انتقام کے جذبہ کی کوئی ہلکی سی بھی پرچھائیاں پڑ رہی ہیں ؟ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ تو ان کے لئے سرتا سر شفقت و رحمت ہوگئے تھے انتقام و سرزنش کا کیا ذکر ہے ان کی زبان سے تو ایک لفظ بھی ایسا نہیں نکلا جس سے بھائیوں کے لدوں کو ذرا بھی ٹھیس لگتی۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ ان کی شرمندگی ، پشیمانی کا زخم ان سے کہیں زیادہ خود ان کے دل پر لگ رہا ہے ہے اور اب فکر ہے تو اس بات کی کہ کس طرح ان کے دلوں کے لئے تسکین خاطر کے سامان پیدا کردیں۔
Ayah 12:61

قَالُوْا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ اَبَاهُ وَ اِنَّا لَفٰعِلُوْنَ Open ayah 12:61 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم اس کے باپ کو اس کی ترغیب دیں گے اور ہم ضرور ایسا کریں گے

قافلہ والوں نے بھی کہا کہ والد منوا لیں گے اور ضرور ساتھ لائیں گے ۔ 63 قافلہ والوں نے یعنی برادران یوسف نے بھی کہا کہ ہم اپنے والد سے کہیں گے اور ہر طرح ترغیب دیں گے کہ وہ بنیامین کو ہمارے ساتھ یہاں بھیجنے پر رضای ہوجائیں گے کیونکہ ہم کو امید ہے کہ ہم والد سے اتنا کام تو اب بھی کروا ہی لیں گے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کا خود ذکر کیا ہوگا تاکہ اس کے نام سیبھی غلہ وصول ہو سکے اور یوسف (علیہ السلام) نے بھی یقینا اس کی عدم موجودگی کے باعث غلہ دیا ہوگا اور اس طر ان کو یہ کہنے کا حق ہوگیا کہ آئندہ اگر تم اس بھئای کو ساتھ نہ لائے تو غلہ نہیں ملے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ تم نے غلط بیانی کی ہے۔ اس بات پر انہوں نے عزیز مصر سے یعنی یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ ہم اس کو ضرور ساتھ لائیں گے کیا باپ اتنا کام بھی ہمارے کہنے پر نہیں کرے گا ؟ اتنی گئی گزری بات نہیں۔
Ayah 12:62

وَ قَالَ لِفِتْیٰنِهِ اجْعَلُوْا بِضَاعَتَهُمْ فِیْ رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُوْنَهَاۤ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 12:62 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے خدمت گاروں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی پونجی انہیں کے سامان میں رکھ دو جب یہ لوگ اپنے گھر کی طرف لوٹیں تو ممکن ہے اپنی پونجی دیکھ کر پہچان لیں اور پھر عجب نہیں کہ دوبارہ آئیں

یوسف نے جب ان کا سامان تیار کرایا تو ان کی پونجی بھی سامان میں رکھوا دی ۔ 74 سامان تیار ہوجانے کے بعد جب وہ یوسف (علیہ السلام) سے حسب ضابطہ رخصت ہونے کیلئے آئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ خاموشی کے ساتھ ان کے کجاو وں میں ان کی وہ پونجی بھی رکھ دو جو انہوں نے غلہ کی قیمت کے نام سے دی ہے تاکہ جب گھر جا کر اس کو دیکھیں تو عجب نہیں کہ پھر دوبارہ واپس آئیں۔ گویا یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی زبانی اپنے خاندان کی تکلیفوں کا علم ہوا تو آپ نے یہ گوارانہ کیا کہ اپنے کنبہ والوں سے اس غلہ کی قیمت وصول کریں خصوصاً جب کہ وہ قیمت دینے کے اہل بھی نیں اس لئے آپ نے غلہ تولنے والوں کو ان کی وہ رقم جیسی کچھ بھی کہ وہ تھی ان کی بوریوں میں اس طرح رکھ دی کہ انہیں اس پونجی کے رکھنے کا علم نہ ہو۔ قائرین خیال رکھیں کہ یہ پہلی مرتبہ کی تیاری کا سامان اور اس کی رقم کا ذکر ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رقم ان ساربانوں کے واپس بھجوائی ہو جو یہ غلا لاد کر کنعان گئے تھے اور ان کو ہدایت کی ہو کہ وہاں پہنچ کر قیمت ان کو واپس کردینا اور ان سے کرایہ کی رقم بھی وصول نہ کرنا تاکہ اس طرح ان کی مدد ہوجائے اور ان پر اس طرح احسان کیا جائے کہ وہ محسوس نہ کریں۔
Ayah 12:63

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:63 in the Quran reader

پھر جب وہ لوگ اپنے باپ کے پاس لوٹ کر گئے تو کہا اے ہمارے باپ ! آئندہ کو غَلّہ کی فروخت ہم پر بند کردی گئی ہے پس ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دے کہ غَلّہ خرید لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں

غلہ لے جانے والوں نے جاتے ہی والد سے بنیامین کو دوبارہ ساتھ لے جانے کی اپیل کی ۔ 75 جب یہ قافلہ کنعان واپس پہنچا تو انہوں نے اپنی تمام سرگزشت اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کو سنائی اور ان سے کہا کہ مصر کے والی نے اس دفعہ تو بنیامین کے نام کا پر مٹ بنا رک غلہ دے دیا ہے لیکن آگے صاف صاف کہہ دیا کہ تم اس وقت تک یہاں نہ آنا اور نہ ہی غلہ کی خرید کا دھیان کرنا جب تک اپنے سوتیلے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لائو جس کا اس کی عدم موجودگی میں تم نے پر مٹ بنوالیا ہے لہٰذا آپ کو چاہئے کہ اب اس کو بھی ہمارے ساتھ کر دو ، ہم اس کے ہر طرح کے نگہبان اور محافظ ہیں۔
Ayah 12:64

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُ١ؕ فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا١۪ وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:64 in the Quran reader

باپ نے کہا کیا میں اس کے لیے اسی طرح تمہارا اعتبار کروں جس طرح پہلے اس کے بھائی کے بارے میں کرچکا ہوں ؟ سو اللہ ہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے اور اس سے بڑھ کر رحم کرنے والا کوئی نہیں ہے

یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ اب میں تم پر کیسے اعتماد کروں جیسے یوسف کے متعلق کیا تھا ؟ ۔ 76 یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کیا تم پر اس طرح اعتماد کروں جس طرح اس کے بھائی یوسف کے معاملہ میں تم پر اعتبار کرچکا ہوں اور حقیقت تو یہ ہے کہ تمہاری حفاظت ہی کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہی سب سے بہتر محافظ و نگہبان ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی رحم کرنے والا نہیں۔ اس کو کہتے ہیں کہ فلاں آدمی بات کو پی گیا یعنی جس طرح بات کرنی چاہی تھی وہ نہ کی اور ادھر ادھر کر کے اس کو ٹال دیا۔ یہی بات یعقوب (علیہ السلام) نے کی اور کسی دکھتی رگ کو پھر نہ چھیڑا اگرچہ وہ چھیڑ سکتے تھے۔ دور اندیشی اس چیز کا نام ہے کہ جس بات کے کرنے کا فائدہ نہ ہو وہ نہ کرنا کرنے سے سو بار بہتر ہے۔
Ayah 12:65

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْ١ؕ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْ١ؕ هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَا١ۚ وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍ١ؕ ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ Open ayah 12:65 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کی پونجی انہی کو لوٹا دی گئی ہے تب انہوں نے کہا اے ہمارے باپ ! اس سے زیادہ ہمیں اور کیا چاہیے ؟ دیکھ یہ ہماری پونجی ہے جو ہمیں لوٹا دی گئی ہے ہمیں اجازت دے کہ ہم اپنے گھر والوں کے لیے رسد لے آئیں ہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لے آئیں گے یہ غَلّہ بہت تھوڑا ہے

جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو وہ پکار اٹھے کہ ابو یہی رہی ہماری پونجی ۔ 77 اس گفتگو کے بعد یا دوران گفتگو جب انہوں نے اپنا سامان کھولنا شروع کیا تو دیکھا کہ ان کی پونجی ان ہی کو واپس کردی گئی ہے یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ اے باپ اس سے زیادہ اور ہم کو کیا چاہئے ؟ دیکھیے کہ غلہ بھی ملا اور ہماری پونجی بھی جوں کی توں لوٹا دی گئی اس نے تو ہم سے قیمت بھی نہ لی۔ اب ہمیں اجازت دیجیے کہ ہم دوبارہ اس کے پاس جائیں اور گھر والوں کے لئے رسد لائیں اور بنیامین کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیجیے ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ لائیں گے کیونکہ یہ غلہ جو ہم پہلے لائے تھے تھوڑا ہے اور اگر بھائی کو ساتھ لے جائیں گے تو ویسے بھی غلہ آسانی سے مل جائے گا کیونکہ یہ وہاں وعدہ کر کے آئے تھے اور ہم کو یہ بھی کہا گیا تھا کہ اگر تم اپنے بھائی کو ساتھ نہ لائے تو اس دفعہ غلہ تم کو نہیں ملے گا۔
Ayah 12:66

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ Open ayah 12:66 in the Quran reader

باپ نے کہا میں کبھی اسے تمہارے ساتھ بھیجنے والا نہیں جب تک کہ اللہ کے نام پر مجھ سے عہد نہ کرو کہ بجز اس صورت کے کہ تم سب گھیر لیے جاؤ تم ضرور اسے میرے پاس واپس لے آؤ گے جب انہوں نے باپ کو اپنا پکا قول دے دیا تو اس نے کہا ہم نے جو قول و اقرار کیا اس پر اللہ نگہبان ہے

یعقوب نے کہا کہ میں ہرگز نہیں بھیج سکتا مگر ہاں ! اس شرط پر کہ تم سب واپس آئو گے ۔ 78 تورات میں ہے کہ برادران یوسف اور حضرت یعقوب پونجی دیکھ کر ڈر گئے تھے کہ نہ معلوم اب کیا آفت آئے مگر واقعات کی ترتیب اور حضرت یوسف کے طرز عمل کے پیش نظر جس کا ذکر قرآن کریم اور تورات دونوں میں ہے یہی صحیح ہے کہہ ایسا کوئی ڈر ان کو ہوا ہو کیونکہ برادران یوسف خو داپنے ہاتھوں غلہ کی قیمت ادا کرچکے تھے اور لین دین کے بعد ہی قافلہ کو روانگی کی اجازت ملی تھی۔ پھر سامنے کھولنے کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں نے ان کی قیمت واپس لوٹائی تھی اس لئے اس میں ڈرنے کی کوئی بات نہ تھی۔ مختصر یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں بنا مین کر ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے عہد نہ کرو اور یہ کہ جب تک ہم خود نہ گھیر لئے جائیں اور ہر طرح مجبور نہ کردیئے جائیں ہم ضرور بہ ضرور اس کو تیرے پاس صحیح و سلامت لوٹائیں گے۔ جب ان سب نے متفق ہو کر باپ کے سامنے اس کا پختہ عہد کیا اور ہر طرح اطمینان والا یا تب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ جو کچھ ہوا محض اسباب ظاہری کی بناء پر ہے ورنہ کیا تم اور کیا تمہاری حفاظت اور کیا ہم اور کیا ہمارا عہد ہم سب کو اپنے اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کی نگہبانی اس میں دینا چاہئے اور اس کو کار ساز سمجھتے ہوئے اس کو نگہبانی میں دیتے ہیں۔
Ayah 12:67

وَ قَالَ یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ١ؕ وَ مَاۤ اُغْنِیْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۚ وَ عَلَیْهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُوْنَ Open ayah 12:67 in the Quran reader

اور باپ نے انہیں کہا اے میرے بیٹو ! دیکھو تم ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا جدا جدا دروازوں سے داخل ہونا میں تمہیں کسی ایسی بات سے نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو ، فرمانروائی کسی کے لیے نہیں ہے مگر اللہ کیلیے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی ہے جس پر تمام بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے

قافلہ رخصت ہونے لگا تو یعقوب نے کہا کہ بیٹو ! مصر میں ایک دروازہ سے داخل نہ ہونا ۔ 79 عہد و پیمان کے بعد جب برادران یوسف کا قافلہ دوبارہ غلہ حاصل کرنے کے لئے کنعان سے مصر کو روانہ ہوا اور اس دفعہ بنیامین بھی قافلہ میں شامل تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے رخصت کرتے وقت نصیحت فرمائی کہ دیکھو جب سر پہنچو تو سب بھائی ایک ہی دروازہ سے مصر میں داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے شہر میں داخل ہونا اور ساتھ ہی یہ بھی وضاحت فرما کہ اس نصیحت کا مقصد یہ نہیں ہے کہ تم اپنی تدبیر مغرور ہو جائو کیونکہ میں تمہیں کسی ایسی بات سے ہرگز نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو۔ فرمانروائی تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور تمام بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ اس لئے میں نے جو کچھ کیا ہے وہ صرف احتیاطی تدابیر کے طور پر ہے اللہ تعالیٰ کے بھروسہ اور یقین کے ساتھ اسباب ظاہری کو احتیاط تدابیر کے لئے استعمال کرنا خدا پرستی کے خلاف بھی نہیں ہے۔ یقعوب (علیہ السلام) نے جو بات اس دفعہ بیٹوں کو کہی کہ تم سب مل کر ایک دروازہ سے مصر شہر میں داخل ہونا ظاہر ہے کہ پہلی دفعہ نہیں کہی تھی اس لئے ذہن مانتا ہے۔ کہ پہلی دفعہ مصر میں داخل ہوتے وقت ان پر کوئی ایسی صورت ضرور گزری تھی خواہ وہ کچھ بھی ہو اور تورات کے بیان سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پہلی مرتبہ برادران یوسف پر جاسوسی کا گمان کیا چکا تھا اگرچہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ الزام نہ لگایا لیکن وہاں تک پہنچنے سے پہلے بھی تو مراحل آتے ہوں گے اور مصریوں نے یقینا شبہ کیا ہوگا جس کی تفصیل حضرت یعقوب بیٹوں کی زبانی سن چکے ہوں گے لہٰذا انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ پہلے کی طرح یہ گیارہ نوجوان اگر اس طرح مصر میں کسی بھی ایک دروازہ سے اکٹھے داخل ہوئے تو کہیں ویسی ہی صورت دوبارہ نہ پیش آجائے اور عزیز مصر کے پاس پہنچنے سے پہلے ہی کسی مصیبت سے دوچار ہوجائیں۔ اس لئے نصیحت فرما دی کہ ایک جتھہ بنا کر شہر میں داخل نہ ہونا جدا جدا درد ازاں سے ایک دو مسافروں کی طرح داخل ہونا۔ یہ احتیاطی مشورہ کہ مصر کے دارالسلطنت میں یہ سب بھائی ایک دروازے سے داخل نہ ہوں اس سیاسی صورتحال کو تصور کرنے سے حالات صاف صاف سمجھ میں آجاتے ہیں جو اس وقت پائے جاتے تھے۔ یہ لوگ سلطنت مصر کی سرحد پر آزاد قبائلی علاقے کے رہنے والے تھے۔ الہ مصر اس علاقے کے لوگوں کو اس شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہوں گے جس نگاہ سے آج بھی حکومت ہندوستان یا حکومت پاکستان آزاد سرحدی علاقے والے لوگوں کو دیکھتی ہے اور آزاد سرحدی علاقے کے لوگ جو کچھ آج بھی سرحدات کے قریب کرتے رہتے ہیں کس سے پوشیدہ نہیں۔ یقینا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو یہ اندیشہ ہوا ہوگا کہ اس قحط کے زمانہ میں اگر یہ لوگ ایک جتھا بنائے ہوئے وہاں سے داخل ہوئے تو شاید انہیں مشتبہ سمجھ لیا جائے اور یہ گمان کیا جائے کہ یہاں لوٹ مار کی غرض سے آئے ہیں گزشتہ آیت میں یعقوب (علیہ السلام) کا یہ بیان ” الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لئے جائو۔ “ اسی مضمون کی طرف خود اشارہ کر رہا ہے کہ یہ مشورہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر تھا۔ ایسے ہی خدشات کے پیش نظر یہ نصیحت کرنے کے باوجود یہ فرمایا کہ ” میں تمہیں کسی ایک ایسی بات سے نہیں بچا سکتا جو لالہ کے حکم سے ہونے والی ہو۔ فرمانروائی کسی کے لئے نہیں ہے مگر اللہ کے لئے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور وہی ہے جس پر تمام بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہئے۔ “ لیکن ہمارے ہاں اس سے نظر بد کے مسائل نکالے گئے ہیں اور پھر خوب اس پر بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ نظر بد بھی ہے اور نظر نیک بھی۔ نظر بد بھی لگتی ہے اور نظر نیک بھی۔ نظر پتھر بھی پھاڑتی ہے اور لوہا بھی۔ نظر دل بھی چیرتی ہے اور آنکھیں بھی لیکن اس جگہ کسی نظر کا کوئی احتمال نہیں۔
Ayah 12:68

وَ لَمَّا دَخَلُوْا مِنْ حَیْثُ اَمَرَهُمْ اَبُوْهُمْ١ؕ مَا كَانَ یُغْنِیْ عَنْهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ اِلَّا حَاجَةً فِیْ نَفْسِ یَعْقُوْبَ قَضٰىهَا١ؕ وَ اِنَّهٗ لَذُوْ عِلْمٍ لِّمَا عَلَّمْنٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 12:68 in the Quran reader

پھر جب یہ لوگ داخل ہوئے اس طرح جس طرح باپ نے حکم دیا تھا تو دیکھو یہ بات اللہ کی مشیت کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہ آئی مگر ہاں یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا تھا جسے اس نے پورا کردیا بلاشبہ وہ صاحب علم تھا کہ ہم نے اس پر علم کی راہ کھول دی تھی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

جب یہ لوگ مصر میں داخل ہوئے جیسا کہ باپ نے حکم دیا تھا تو پھر بھی جو ہونا تھا وہ ہو گیا ۔ 80 زیر نظر آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کی جانب بھی توجہ دلائی ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) چونکہ صاحب علم و بصیرت تھے اور یہ دولت علم ہم نے ہی اس کو بخشی تھی اس لئے اس نے بیٹوں سے یہ نصیحت کی بات کہہ رہی جو اس کے خیال میں آگئی تھی ورنہ تو باپ کے حکم کی تعمیل کرنے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت نے جو کچھ مقرر کردیا تھا اس کے مقابلہ میں ان کی ہر احتیاط کچھ بھی کام نہ آئی۔ مطلب یہ ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جو کچھ کرنے کو کہا اس کو عقضائے علم یہی کہنا اور کرنا چاہئے تھا کیونکہ علم کی یہ دولت ہم نے اس کو بخشی تھی مگر یہ ضروری نہیں کہ احتیاط تدابیر ہر جگہ رسات ہی آجائیں اور وہ جو کچھ مشیت میں ہونا منظور ہے اس کو روک دیں۔ اگر الٰہی مشیت اس کے برعکس مصلحت دیکھتی ہے تو پھر وہی ہو کر رہتا ہے اور سب تدبیریں بیکار ہوجاتی ہیں جیسا کہ آنے والے واقعہ میں بنیامین کے ساتھ پیش آیا اور بات وہی رہی کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا کہ جس مصیبت کا اس وقت انہوں نے خطرہ محسوس کیا اور اس کا دفاع انہوں نے بتا دیا لیکن جو مصیبت مشیت الٰہی میں طے تھی وہ کسی اور صورت میں سامنے آگئی اور ایسی آئی کہ پہلے سے سوائی آئی لیکن پھر غور کرو کہ اس کا نتیجہ کیا رہا کہ ایسی مصلحت کے زیر اثر روک لئے گئے کہ اس کا انجام تمام خاندان یعقوب کے حق میں بہتر ثابت ہوا اور اس طرح گویا دو منفی عمل مل کر مشیت بن گئی یعنی یوسف اور بنیامین کے ملنے سے پوری داستان کا رخ بدل گیا۔ یہی بات قرآن کریم نے اس جگہ بیان فرمائی چناچہ فرمایا کہ ” جب یہ لوگ دال ہوئے اس طرح جس طرح باپ نے حکم دیا تھا تو دیکھو یہ بات اللہ کی مشیت کے مقابلہ میں کچھ بھی کام نہ آئی مگر ہاں ! یعقوب کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا تھا جسے اس نے پورا کردیا بلاشبہ وہ صاحب علم تھا کہ ہم نے اس پر عمل کی راہ کھول دی تھی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ “ وہ الٹی سیدھی بحثیں کرتے رہتے ہیں اور خصوصاً یہ کہ جب کسی نے کوئی بات کہہ دی اور انہوں نے اس کو پہلے سن لیا اب اس کو انہوں نے وحی الٰہی سے بیر ثقہ اور پکا سمجھا۔
Ayah 12:69

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:69 in the Quran reader

اور یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے بھائی (بنیامین) کو اپنے پاس ٹھہرا لیا اور اسے (علیحدگی میں) واضح کردیا کہ میں تیرا بھائی ہوں پس جو کچھ وہ کرتے آئے ہیں اس پر غمگین نہ ہو

قافلہ مصر پہنچا اور یوسف سے ملاقات ہوئی تو یوسف نے بنیامین کو اپنے قریب جگہ دی ۔ 81 برادران یوسف اور فرزندان یعقوب اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے جب مصر کے پایہ تخت میں پہنچے تو حسب ہدایت مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوئے۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ہوئی تو بڑی عزت و تکریم سے خوش آمدید کہا اور شاہی مہمان خانہ کے نگران کو حکم دیا کہ دو دو بھائیوں کو ایک ایک کمرہ میں ٹھہرانے کا بندوبست کیا جائے۔ عزیز کے حکم کے مطابق یہی کچھ کیا گیا سب بھائی دو دو ہو کر پانچ کمروں میں تقسیم ہوگئے لیکن بنیامین کو اکیلے ہی ٹھہرایا گیا۔ ان کو خیال آیا ہوگا اور خصوصاً ایسے موقعہ پر یوسف کی یاد نہ ستایا بھی ہوگا ہم وہ کوئی نابالغ یا چھوٹے تو نہیں تھے ، تیس تیس سال کے نوجوان اکیلے تو و کسی خاص مقصد کے تحت کئے گئے تھے اس لئے تو میزبان نے حکم دیا تھا کہ ایک ایک کمرہ میں دو دو کو رکھو جب سب کا بندوبست ہوگیا اور سارے لوگ اپنے اپنے مقام پر ٹھہر گئے تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس بلایا اور علیحدگی میں ان کو اپنی پوری کہانی سنا ڈلای ، اپنا حال سنایا ، اس اک سنا اور اچھی طرح مل بیٹھنے کے بعد اپنے بھائیک و مخطاب ہو کر فرمایا اے بنیامین گھبرائو نہیں اور اب بھائیوں کی زیادتیوں کا تذکرہ بھی نہ کرنا اور گزشتہ آنچہ گزشت فلا تبتئس بما کانوا یعملون۔
Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے ان لوگوں کا سامان ان کی روانگی کے لیے مہیا کیا تو اپنے بھائی کے ٹھہرنے کے مقام پر ان سب کے کھانے پینے کا بندوبست کردیا پھر ایک پکارنے والے نے پکارا کہ اے قافلہ والو ! تم تو چور ہو

آخری الوداعی کھانے پینے کا بندوبست بنیامین کے ٹھہرنے کی جگہ پر کیا گیا ۔ 82 یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے اپنے بھائیوں کی خاطر داریوں اور مہمان نوازیوں کی تفصیلات توریت میں بھی درج ہیں لیکن دوسرے بھائیوں کے شمول میں … مہارے مفسرین نے مخصوص بنیامین کی خاطر داریوں کا ذکر کیا ہے اور یہی سیاق قرآنی کے زیادہ مطابق ہے اور عق بھی اس کو قبول کرتی ہے۔ بلاشبہ یوسف نے بھائیوں کی بڑی مدارات کیں اگرچہ ابھی ان سب کو بتایا نہیں گیا تھا تاہم وہ خود تو جانتے تھے آپ نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ ان کو شاہی مہمان خانہ میں اتاریں اور ایک ایک کمرہ میں دو دو کو ٹھہرائیں اور ان کے لئے پر تکلف دعوت کا سامان کریں چند روز کے قیام کے بعد جب یہ رخصت ہونے لگے تو یوسف (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ ان کے اونٹوں کو اس قدر لاد دو جتنا کہ لے جاسکیں جب سامان تیار ہونے لگا تو یوسف نے الوداعی کھانے کا اہتمام اپنے بھائی کے ٹھہرانے کی جگہ پر کیا جعل السقایۃ فی رحل اخیہ۔ یہاں سے رخصت ہوئے ابھی ان کو زیادہ دیر نہ گزری تھی بلکہ وہ اپنا سامان لدوا کر شہر سے نکلنے بھی نہ ہوں گے کہ یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں نے شاہی پیمانوں کی دیکھ بھال کی تو ایک ماپنے کا آلہ ” صاع) نہ پایا سمجھے کہ یہاں سے آخری ماپا جانے والا غلہ تو کنعانیوں ہی کا تھا باقی تو سب پہلے ہی رخصت ہوئے تھے اس لئے انہی میں سے کسی کا کام ہو سکتا ہے فوراً دوڑے اور چلائے کہ قافلہ والو ! ٹھہرو ! تم تو چور ہو۔
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ پکارنے والے کی طرف پھرے اور پوچھا تمہاری کون سی چیز کھو گئی ہے

وہ رک گئے اور چور چور کہنے والوں سے پوچھا کہ تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ ۔ 83 برادران یوسف بھی کارندوں کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم پر خوامخواہ کیوں الزام لگاتے ہیں آخر معلم تو ہو کر تمہاری کیا چیز گم ہوگئی ہے ؟ کارندے کہنے لگے کہ سرکاری پیمانہ یعنی ماپنے کا آلہ جس کو ” صاع “ کہا اجتا ہے وہ گم ہوچکا ہے۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

کارندوں نے کہا ہمارا شاہی پیمانہ نہیں ملتا ، جو شخص اسے ڈھونڈ دے اس کے لیے ایک بار شتر انعام ہے اور میں اس کا ضامن ہوں

کارندوں نے کہا کہ شاہی پیمانہ یعنی ماپنے کا آلہ نہیں ملتا فوراً واپس کرو ۔ 84 اتنے میں ان کارندوں میں سے ایک نے مزید آگے بڑھ کر یہ کہہ دیا کہ دیکھو جو شخص اس چوری کا پتہ لگا دے گا اس کو ایک اونٹ غلہ انعام ملے گا اور میں اس بات کا ضامن ہوں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کو معلوم ہے تو اس چرکہ میں وہ اس کو واپس کردیں گے اور اس طرح کی کھینچا تاین میں وقت ضائع نہیں ہوگا اور اس طرح کے انعامات شاہی ساز و سامان کی حفاظت کے لئے لگائے جاتے ہیں کیونکہ اگر سرکاری خیز بالکل معمولی بھی گم ہوجائے تو مدتوں کام کرنے والوں کو انکو ائریاں کرنا پڑتی ہیں اور یہ کام بہت لمبا ہوجاتا ہے۔ اس لئے جلدی معاملہ رفع دفع ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا اللہ جانتا ہے ہم اس لیے یہاں نہیں آئے کہ ملک میں شرارت کریں اور یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو اور ہمارا کبھی یہ شیوہ نہیں رہا کہ چوری کریں

برادران یوسف نے کہا کہ ہم یہاں فساد کرنے کے لئے تو نہیں آئے تم یہ کیسی بات کرتے ہو ؟ ۔ 85 برادران یوسف نے کہا کہ خدا گواہ ہے کہ ہم مصر میں فساد اور شرارت کی غرض سے نہیں آئے اور تم جانتے ہو کہ ہم اس سے پہلے بھی غلہ لینے آ چکے ہیں ہم میں چوری کی قطعاً عادت نہیں ہے اور اس طرح وہ قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی پیش کرنے لگے۔
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا اچھا اگر تم جھوٹے نکلے تو بتلاؤ چور کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟

کارندوں نے کہا اگر تم چور نکلے تو پھر کیا سزا ہوگی ؟ ۔ 86 ان کارندوں نے کہا اگر تلاش کے بعد سامان تمہارے پاس سے نکل آیا اور تمہاری صفائی جھوٹی ثابت ہوئی تو تم ہی اپنے ملک و قوم کے آئین کے لحاظ سے بتائو کہ تمہاری کیا سزا ہوئی ؟
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا چور کی سزا یہ ہے کہ جس کی بوری سے چوری کا مال نکلے وہ آپ اپنی سزا میں پکڑا جائے ہم زیادتی کرنے والوں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں

برادران یوسف نے کارندوں کو جواب دیا کہ چور تمہارا غلام ہو گا ۔ 87 برادران یوسف نے جواب دیا کہ وہ آپ اپنی سزا ہے یعنی وہ تمہارے حوالے کردیا جائے گا تاکہ وہ اپنے جرم کی پاداش میں پکڑا جائے اور ہم اپنے ہاں ایسی زیادتی کرنے والوں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں۔
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پس ان کی بوریوں کی تلاشی شروع کی گئی قبل اس کے کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کی بوری کی تلاشی لیتے پھر یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کی بوری سے وہ ماپنے کا آلہ نکل آیا ایسا ہوا کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک تدبیر کردی حالانکہ وہ بادشاہ کے قانون کی رو سے ایسا نہیں کرسکتا تھا کہ اپنے بھائی سے وہ مقدمہ خارج کرا لے مگر ہاں ! اس صورت میں کہ اللہ کو ایک راہ نکال دینا منظور تھا ، ہم جسے چاہتے ہیں مرتبوں میں بلند کردیتے ہیں اور ہر علم والے کے اوپر ایک علم والی ہستی ہے

کارندوں نے سامان کی تلاشی شروع کردی تو ” صاع الملک “ بنیامین کے سامان سے نکل آیا ۔ 88 کارندوں نے جب یہ جواب سنا تو پہلے اس کے کہ وہ یوسف کے بھائی بنیامین کے سامان کی تلاشی کرتے دوسرے سارے بھائیوں کے سامان کی ایک ایک کر کے تلاشی لی لیکن ” صاع “ نہ نکلا اور پھر بالاخر جب بنیامین کے سامان کی تلاشی لی تو اس سے وہ (صاع “ نکل آیا۔ انہوں نے قافلہ کو واپس لوٹا لیا اور عزیز مصر یعنی یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں معاملہ پیش کردیا اور ساری صورت حال بھی ان کے سامنے رکھ دی اور پچھلی ساری باتیں جو کارندوں اور برادران یوسف کے درمیان ہوئی تھیں بیان کردیں۔ حضرت یوسف نے معاملہ کی نوعیت کو اچھی طرح سنا اور ہر ممکن اس کو سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ معاملہ کیسے ہوگیا ؟ بنیامین اور چوری یہ کیا ماجرا ہوا ؟ اسی سوچ بچار میں تھے کہ اللہ نے کوئی بات دل میں بٹھا دی کہ بنیا مین چوری کے الزام سے کیونکہ بری ہو سکتا ہے۔ ہم نے یوسف کے دل میں بات ڈل دی کہ آپ فکر نہ کریں ۔ 89 یہ اس کیفیت کا بیان ہے جو کسی شخص کے ایک ناگہانی واقعہ کے سننے کے وقت دل میں خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ اب اس کے متعلق کیا ہوگا اور سوچتے سوچتے کہیں کا کہیں نکل جاتا ہے بعینیہ یہی بات یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ہوئی۔ ابیھ کتنا وقت گزرا تھا کہ بنیامین کو یہ معلوم کرایا گیا کہ میں تیرا بھائی ہوں اور یہ بھی تیرے بھائی ہیں اگر انہوں نے تیرے ساتھ بہت زیادتیاں کیں تو کیا میرے ساتھ وہ زیادتیاں نہیں کرچکے ؟ بہرحال اب وقت بالکل قریب آچکا ہے تم واپس آ جائو اور سارا ماجرا اپنے والد ماجد سے کہہ دینا پھر جس طرح وہ پسند کریں گے وہ مجھ تک خبر پہنچانا یہ سب کچھ کہہ کہلا کر رخصت کیا تھا کہ قدرت ربی نے کچھ اور ہی کر دکھایا بہرحال جو ہوا سو ہوا وہ تو ساری باتیں بعد کی ہیں فی الحال بنیامین تو اس قضیہ کے لئے رک گیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ایک بات یوسف کے دل میں ڈال دی کہ جب وقت آئے گا تو یہ دلائل پیش کرنے ہو گے۔ بنیامین اس الزام سے بری ٹھہرے گا۔ یہ تھی وہ تدبیر جو ہم نے یوسف کے دل میں جما دی۔ ” کذلک کدنا لیوسف۔ “ بادشاہ کے قانون میں تو کوئی شکل نظر نہ آتی تھی لیکن اللہ نے چاہا کہ بات نکل آئے ۔ 90 یہ ایک ہونے والا کام ہے جس کے متعلق یوسف (علیہ السلام) کے دل کو مضبوط کرایا جا رہا ہے کہ آپ فکر نہ کریں سوسنار کی پر ایک ہی لوہار کی ایسی لگائیں گے کہ تیرا بھائی اس چوری کے الزام سے بری ہوجائے گا گویا ابھی وہ ملزم ہے مجرم نہیں۔ جب بحث ہوگی تو وہ یقینا اس الزام سے بری قرار پائے گا مجرم نہیں قرار دیا جاسکے گا اور یہ وہی بات ہے جو اے یوسف ! تیرے ساتھ اس سے پہلے گزری چکی۔ الزام تو تجھ پر بھی لگایا گیا تھا لیکن پھر کیا ہوا ؟ تو مجرم بنا یا الزام سے بری الذمہ قرار پایا۔ بس جس طرح تو خود الزام سے بری قرار دیا گیا بالکل اسی طرح یہ تیرا بھائی بھی اس الزام سے بری الزمہ قرار دیا جائے گا۔ بادشاہ کا قانون کچھ بھی ہو تو اس بات کا فکر نہ کر ابھی جو معاملہ تیرے قافلے والے بھائیوں کا ہے اس کا معاملہ طے کر یہ بعد کو ہوتی رہیں گی۔ اللہ کو ایک راہ نکال دینا منظور تھا چناچہ وہ نکل آئی ۔ 91 جب اللہ تعالیٰ کو ایک کام منظور ہو تو کون ہے جو اس کو روک سکے۔ ساری باتیں تو اے یوسف تیرے ساتھ گزر چکی ہیں لیکن تو اپنے معاملہ میں کتنا مطمئن تھا اور بنیامین کے معاملہ میں کیوں غمگین ہوا اور خصوصاً اس وقت جب کہ اللہ کو ایک سورت نکال دینا منظور ہے۔ یہ بات بار بار دہرائی گئی تاکہ یوسف کا وہ غم جو اس کو بنیامین کے معاملہ میں لاحق ہوا ختم ہوجائے۔ ہم جس کو چاہتے ہیں اس کو مرتبے میں بلند کردیتے ہیں اور دنیا انگشت بدنداں رہ جاتی ہے ۔ 92 فرمایا کہ کوئی شخص بھی اپنے علم پر نازاں نہ ہو جہاں سب کا علم ختم ہوجاتا ہے اس کے بھی اوپر ایک ہستی ہے جس کا علم ذاتی اور علم محیط ہے اور جس کا نام عالم الغیب والشہادۃ ہے انسان کچھ سوچتا ہے لیکن رب ذوالجلال والا اکرام کو کچھ منظور ہوتا ہے۔ کچھ اس طرح کا معاملہ یہاں بھی ہوا جب دونوں بھائی اتنی بڑی مدت کے بعد ملے اور ایک دوسرے سے واقف حال ہوئے اور پھر مل کر ایک سکیم بنائی۔ چھوٹے بھائی نے باپ کو کیا کچھ جا کر بتانا تھا اور کیا کیا مشورے کرنے کے منصوبے تیار کئے گئے تھے لیکن اس رب ذو الجلال والا کرام کو کیا منظور تھا کہ تیری سکیم لے جانے والا ابھی خود بھی نہیں جائے گا کہ فوق کل ذی علم علیم
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

بھائیوں نے کہا اگر اس نے چوری کی تو یہ کوئی عجیب بات نہیں اس سے پہلے اس کا ایک بھائی بھی چوری کرچکا ہے تب یوسف (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے دل میں رکھ لی ان پر ظاہر نہ کی اور اتنا کہا کہ سب سے بری جگہ تمہاری ہوئی اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ اسے بہتر جاننے والا ہے

جب بظاہر بنیامین پر چوری ثابت ہوگئی تو بھائیوں نے طعنہ زنی کی کہ اس کا بھائی بھی چور تھا ۔ 93 برادران یوسف نے جب یہ دیکھا تو ان کی حاسدانہ رگ پھڑک اٹھی اور انہوں نے فوراً یہ جھوٹ بولنے کی جرات کی کہ اگر بنیامین نے چوری کی ہے تو یہ کوئی تعجب کا مقام نہیں ہے اس سے پہلے اس کا بھائی یوسف بھی چوری کرچکا ہے۔ حضرت یوسف نے یہ دیکھ سن کر کہ میرے منہ پر جھوٹ بول رہے ہی ، ضبط سے کام لیا اور راز فاش نہ کیا اور دل میں کہنے لگے کہ تمہارے لئے سب سے بری جگہ ہے کہ تم ایسا جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کی حقیقت کو خوب جانتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خود ان ہی سے مخطاب ہو کر فرمایا ہو کہ ابھی تو یہ کہتے تھے کہ ہم کبھی چوری کے قریب تک نہیں پھٹکتے اور اب تم خود بزعم خویش اپنے ایک غیر حاضر بھائی پر بھی چوری کا الزام لگا رہے ہو جس کا مطلب یہ ہوا کہ تم چوریاں کرتے بھی ہو اور مانتے بھی نہیں ہو۔ ایک برامقام ہے جو تم نے اختیار کیا ہے اور جو تم کرتے اور گھڑتے ہو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا اے عزیز ! اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے پس اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ان لوگوں میں سے ہیں جو احسان کرنے والے ہیں

برادران یوسف نے اب پھر منت سماجت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کر دی ۔ 94 برادران یوسف نے جب یہ رگن دیکھا تو بہت گھبرائے اور باپ کا عہد و پیمان یاد آگیا آپس میں مشورہ کرنے لگے کہ کسی صورت سے بنیامین کو حاصل کریں ؟ ہم تو پہلے ہی قول ہار چکے صرف ایک ہی پہلو باقی تھا کہ التجائیں اور خوشامدانہ عرض معروض کر کے زعیز مصر کو بنیامین کی واپسی کی ترغیب دلائیں ، کہنے لگے اے عزیز مصر ! ہمارا باپ بہت بوڑھا ہے اس کو اس کے پہلے بھائی کا بیحد غم ہے اور اس لئے اس کا عاشق و موتالا ہے ، اس پر رحم کیجیے اور اس جگہ ہم میں سے کسی ایک کو سزا کے لئے روک لیجیے۔ آپ ہم پر مہربان رہے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جو احسان کرنے والے ہیں۔ بعض لوگوں کے طبائع بھی اللہ تعالیٰ نے بڑے عجیب بنائے ہیں ان کی حالت بھی فوراً بدل جاتی ہے جس کو کہتے ہیں کہ ” گھڑی تولہ گھڑی ماشہ “ کچھ اس طرح کی طبیعت ان لوگوں نے پائی تھی کہ کسی وقت تو فوراً بھڑک جاتے ہیں اور اس طرح ابھرتے ہیں جیسے آگ شعلے نکالتی ہیں اور کسی وقت رونے اور لجاجت کرنے لگتے ہیں اور اس طرح نظر آتے ہیں کہ بیچارے بہت ہی رفقیق القلب ہیں اور بڑے ہی حساس قسم کے لوگ۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، اس بات سے اللہ کی پناہ کہ ہم اس آدمی کو چھوڑ کر جس سے ہمارا سامان نکلا کسی دوسرے کو پکڑیں اگر ایسا کریں تو ہم ظالم ٹھہریں

عزیز مصر نے جواب دیا کہ ہم یہ کس طر کرسکتے ہیں کہ الزام ” الف “ پر اور مقدمہ ” ب “ پر ۔ 95 مفسرین اگر قرآن کریم کی اس آیت کے صرف ایک لفظ ” معاذ اللہ “ پر غور کرلیتے تو ان کے کانوں کی کھڑکیاں کھل جاتیں۔ یہ وہی جملہ ہے جو ایک بار پہلے بھی یوسف (علیہ السلام) نے استعمال کیا اور وہ کتنا مشکل اور کتنا کٹھن وقت تھا اور اس لفظ میں اس وقت کتنا زور اور کتنی کشمکش تھی جب وہ امراۃ العزیز کے ورغلانے کے وقت کہہ رہے تھے اور آج یہ جملہ وہ کس طرح بول سکتے تھے۔ اگر انہوں نے خود پیالہ بنیامین کی بوری ، بوجھ یا تثلیث میں رکھا ہوتا۔ حاشا اللہ ! دل پھٹ جاتا ہے جب مفسرین کا یہ بیان دیکھتا ہوں اور یوسف (علیہ السلام) کا یہ جملہ سنتا ہوں ” معاذ اللہ “ والی اللہ المشتکی۔ کتنی صاف اور واضح بات تھی جس کو کتنا مبہم اور غیر واضح بنا کر رکھ دیا گیا۔ کس صفائی سے یوسف (علیہ السلام) بھائیوں کو جواب دے رہے ہیں کہ اللہ کی پناہ کہ ہم ایسا کام کریں کہ مال تو کسی سے برآمد ہو اور چور کسی کو بنا کر رکھ لیں ، کیسی سفارش کر رہے ہو ؟ اگر ہم ایسا کریں تو ہم تو ظالم ہوگئے ؟ کسی قانون میں بیھ سزائے بدنی میں مبادلہ جائز نہیں۔ زید اگر اپنی خوشی سے اپنے کو عمرو کے عوض رجم یا قتل یا قطع عضو کے لئے پیش کر دے تو قاضی یا مدعی کو اس کے قبول کرلینے کا کوئی حق نہیں اور شریعت اسلامی تو پہلے ہی الٰہی قانون کا نام ہے لوگوں کی ذہنی اختراع کا نہیں لہٰذا یہ کتنی بڑی بات ہے جو تم نے بڑے آرام سے کہہ دی کہ الزام تو ” ا “ پر ہے لیکن تم مقدمہ چلانے کے لئے ” ب “ کو رکھ لو اور ” ا “ کو چھوڑ دو ۔ قانون نہ ہوا موم کی ناک ہوئی۔