12. Surah Yusuf
يوسفJoseph · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی
لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader
یقینا ان لوگوں کے قصہ میں دانشمندوں کے لیے بڑی ہی عبرت [ ہے یہ کوئی جی سے گھڑی ہوئی بات نہیں ہے بلکہ اس کتاب کی تصدیق ہے جو اس سے پہلے آ چکی ہے نیز ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ساری باتوں کی تفصیل ہے اور راہنمائی ہے اور رحمت ہے
قرآن کریم کسی انسان کی بناوٹ نہیں اللہ کا کلام اور گزشتہ کتب کی تصدیق ہے
۔ 129 زیر نظر آیت کے پہلے حصہ میں یہ بات واضح کردی کہ حضرت یوسف ان کے بھائیوں ان کے وا لدین ، عزیز ، مصر ، امراۃ العزیز اور فرعون وقت اور دوسرا اہل مصر جن کا ذکر اس سورت میں ہے ان سارے واقعات میں ارباب عقل و فکر کے لئے بڑی ہی عبرتیں اور نصیحتیں ہیں اور آیت کے آخری حصہ میں وضاحت فرما دی کہ قرآن کریم کسی انسان کی بناوٹ نہیں ہے بلکہ وحی الٰہی کی سچائی ہے اور پھر اس کے چار وصف بیان کئے ہیں جو کبھی کذب و افتراء کے اوصاف نہیں ہو سکتے ۔
۔ 1 یہ کہ وہ گزشتہ صداقتوں کی تصدیق ہے اگر بناوٹ ہوتی تو گزشتہ کڑیوں کے ساتھ نہ جڑ جاتی گویا ایک زنجیر کی مختلف قدرتی کڑیاں ہیں اور ہر کڑی دوسری کڑی کو سہارا دے رہی ہے۔
۔ 2 ارباب یقین کے لئے اس میں دین کی ساری باتوں کی پوری تفصیل ہے یعنی ہر بات اس طرح الگ الگ کر کے بیان کردی گئی ہے کہ شبہ اور التباس کی کوئی گنجائش نہیں رہی ہے۔
۔ 3 ارباب عقل و دانش کے لئے سرتا سر راہنمائی ہے یعنی انسان کو کامیاب وسعادت کی منزلوں تک پہنچاتی اور ہر طرح کی گمراہیوں سے بچاتی ہے۔
۔ 4 ارباب غور و فکر کے لئے رحمت ہے یعنی ساری شقاوتوں اور نامرادیوں سے نجات دلانے والی ہے اور ہر ایسی چیز کے لئے تفصیل ہے جس کا تعلق ہدایت سے ہے۔ اس لئے پوری انسانی زندگی پر یہ محیط ہے لہٰذا جو انسانیت سیکھنا چاہے وہ قرآن کریم کا بغور مطالعہ کرے۔ الحمد للہ کہ اس مضمون پر سورة یوسف ختم ہو رہی ہے۔
نوٹ : عزیز مصر کی بیوی کو زلیخا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور مفسرین کی ایک بہت بڑی اکثریت نے اس کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) کا نکاح ثابت کیا ہے اور بعض نے اس کے دوبارہ جوان ہو کر باکرہ ہونے کا ذکر بھی کیا ہے اور اسی سے یوسف (علیہ السلام) کی اولاد ہونا بیان کی ہے ہم نے اس سورت میں عمداً اس بحث کو نہیں چھیڑا بلکہ اس مضمون کو سورة مریم میں تفصیل سے بیان کیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں اور اس نکاح کا بیان ایک فرضی بات ہے جو مدت سے بیان ہوتی چلی آرہی ہے اور اس کی کوئی اصل موجود نہیں۔ اللھم ارنا الحق حقاً
سید نا یوسف (علیہ السلام) کی مختصر سرگزشت
قرآن کریم میں یوسف (علیہ السلام) کا نام 26 مرتبہ آیا ہے جن میں سے 24 مرتبہ صرف سورة یوسف میں اور ایک جگہ سورة الانعام میں اور ایک جگہ سورة مومن میں آیا ہے اور نبی کریم ﷺ کی زبان اقدس سے ان کو کریم بن کریم بن کریم بن کریم کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں آپ کے پردادہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ایک سورت ” یوسف ‘ ‘ کے نام سے معروف ہے جس میں آپ کی یہ سرگزشت بیان کی جا رہی ہے۔
آپ کا نسب نامہ اس طرح ہے کہ : یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیھما السلام گویا یوسف (علیہ السلام) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے پڑوتے ہیں اور آپ کی والدہ کا نام راحیل بنت لایان ہے۔ آپ کے والد ماجد سیدنا یعقوب (علیہ السلام) کو آپ کے ساتھ بےپناہ محبت تھی اور وہ آپ کو کبھی بھی اپنے سے جدا نہیں کرتے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) بھی اپنے والد ماجد سیدنا یعقوب (علیہ السلام) سے اسی طرح محبت کرتے تھے گویا باپ بیٹے میں محبت طرفین کی طرف سے محبت تھی اور آپ کی فطری استعداد بھی دوسرے بھائیوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ تھی۔ بھائی بھی اس محبت کو اچھی طرح سمجھتے تھے بلکہ آپ سے رقابت رکھتے تھے کہ باپ ہمارے مقابلہ میں اس سے زیادہ محبت کیوں کھتے ہیں ؟
قرآن کریم نے یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کو ” احسن القصص “ کہا ہے اس لئے کہ اس ایک واقعہ میں جس قدر عبرتیں ، حکمتیں اور موعظتیں اور نصیحتیں ہیں دوسرے کسی واقعہ میں وہ یکجا میسر نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے عجیب دلکش اور زمانہ کے عروج پر زوال کی زندہ یادگار ہے۔ یہ ایک فرد کے ذریعہ قوموں کے بننے اور بگڑنے ، گرنے اور بکھرنے کی ایسی بولتی ہوئی تصویر ہے جو کسی تشریح و توضیح کے محتاج نہیں رہتی۔ یہ بدوی اور خانہ بدوش قبیلہ کے ایک ایسے فردیگانہ اور انمول موتی کی حیرت زا تاریخ ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کے اعجاز نے اس زمانہ کی بڑی سے بڑی متمدن قوم کی راہنمائی اور ان پر حاکمانہ اقتدار کے لئے چن لیا تھا اور شرف نبوت سے نوازا تھا۔
قرآن کریم تورات کی طرح داستان گوئی یا محض اشخاص و اقوام کے تاریخی حالات کا مرقع نہیں ہے بلکہ وہ چن واقعات تاریخی کو بیان کرتا ہے اس کے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے عبرت و موغطت اور تذکیر و پند کا مقصد اور یہی کچھ قران کریم نے اس جگہ بھی بیان کیا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی بےنظیر عبرتیں پنہاں تھیں مثلاً رشد و ہدایت کی اہمیت ، ابتلاء اور آزمائشوں پر صبر و استقامت ، رضا و تسلیم کے مظاہرے ، افراد و اقوام کے عروج و اقبال کے واقعء ، اللہ تعالیٰ کے عدل و رحم کی کرشمہ سازیاں ، انسانی اور بشری لغزشیں اور ان کے انجام و مال عصمت اور ضبط نفس کی عجوبہ کاریاں۔ اس لئے بلاشبہ وہ ” احسن القصص “ ہے اور کتاب ماضی کا وہ حسین ورق جو اپنی شان زیبائی میں یکتا اور فرد کہلانے کا مستحق ہے۔
قرآن کریم میں اس واقعہ کو اس ترتیب کے ساتھ کیوں بیان کیا گیا ؟ اس معاملہ میں روایات اور مفسرین کے اقوال ہم کو بتاتے ہیں کہ کفار مکہ نے ایک متربہ نبی کریم ﷺ کے متعلق ” یہود “ سے گفتگو کی اور اپنی درماندگی اور پریشانی کا اظہار کیا اس پر یہود نے ان سے کہا کہ اس مدعی نبوت کو زچ کرنے اور جھوٹا بنانے کے لئے تم ان سے یہ سوال کرو کہ یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد شام سے مصر میں کیوں اور کیسے منتقل ہوئی اور یوسف کے متعلق جو سوالات ہیں ان کی تفصیل کیا ہے ؟ اگر وہ نبی نہیں تو ہرگز وہ یہ نہ بتا سکے گا۔ کفار مکہ نے یہود کی ہدایت کے مطابق نبی اعظم و آخر ﷺ سے یہ دونوں سوال کئے اور آپ نے وحی الٰہی کے ذریعہ سب کچھ ان کو یکبارگی سنا دیا جو کچھ سورة یوسف میں موجود ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ :
چونکہ سیدنا یعقوب (علیہ السلام) اپنی تمام اولاد میں یوسف (علیہ السلام) سے بیحد محبت رکھتے تھے تو یعقوب (علیہ السلام) کا یہ پیار آپ کے دوسرے بیٹوں یعنی برادران یوسف کے لئے بیحد شاق اور ناقابل برداشت ھتا۔ وہ اس فکر میں لگ لگے کہ کس طرح یعقوب (علیہ السلام) کے قلب سے اس کی محبت کو نکال دیں ان کو جو کچھ سوجھا وہ یہ تھا کہ کسی نہ کسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستہ سے ہٹا دیں تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ وہ اسی طرح کی سوچ و بچار میں تھے کہ یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ گیارہ ستارے اور شمس و قمران کے سامنے سجدہ ریزہ ہیں انہوں نے جو دیکھا وہ سارے کا سارا اپنے محبوب اور پیارے والد ماجد کے سامنے من و عن بیان کردیا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹے کی بات سن کر فرمایا بیٹے ! اپنا یہ خواب بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا کیونکہ تیرے اس خواب سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھ کو میرا اور میرے باپ دادا کا وارث بنانے والا ہے اور وہ وقت یقینا آنے والا ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے پیغام سے براہ راست نوازا جائے اور اپنے باپ دادا کی طرح نبی بنا دیا جائے اور یقینا ایسا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ خوشخبری کوئی معمولی خوشخبری نہ تھی اس لئے اس کا فطری اثر یہ ہوا کہ یعقوب (علیہ السلام) کی محبت میں مزید اضافہ ہوا ۔ ادھر بھائیوں نے پختہ ارادہ کرلیا کہ اس یوسف کے روزے کو راستہ سے ہٹاکر دم لیں گے ان کے اندر کے شیطان نے ان کو ایک تجویز سمجھا دی کہ یوسف کو اس طرح باپ سے جدا کر کے لے جایا جاسکتا ہے لہٰذا انہوں نے شیطانی سکیم کے تحت باپ سے التجا کی کہ آپ یوسف کو ہمارے ساتھ سیرو سیاحت کے لئے کیوں نہیں بھیجتے ؟ کیا ہم پر آپ کو کوئی بدگمانی ہے ؟ اگر نہیں تو آخر ہم ایک مضبوط جماعت ہیں اور یوسف ہمارا چھوٹا بھائی ہے پھر آپ اس کو ہمارے ساتھ ضرور بھیجیں تاکہ وہ بھی سیر و سیاحت سے لطف اندوز ہو۔ یعقوب (علیہ السلام) فراست نبوی کے باعث سمجھتے تھے کہ بھائی کوئی چال چلنا چاہتے ہیں اور وہ کیا ہو سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا دیا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم شکار کرتے کہیں دور نکل جائو اور یوسف پیچھے اکیلا رہ جائے اور اس کو کوئی جنگلی جانور بھیڑیا وغیرہ کوئی گزند نہ پہنچا دے۔ گویا یہی وہ بات تھی جس کا امکان تھا کہ وہ جو چال بھی چلیں گے وہ اس طرح کی ہو سکتی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جب مکمل تسلی دی کہ ایسا ممکن نہیں ہو سکتا تو یعقوب (علیہ السلام) ان کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے پر راضی ہوگئے۔
قصہ مختصر کہ یوسف (علیہ السلام) کو باپ سے علیحدہ کرنے پر جب کامیاب ہوگئے تو باہر پہنچتے ہی انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف کو کس طرح ٹھکانے لگایا جائے مشورہ میں طے پایا کہ یوسف کو ایک اندھے کنوئیں میں ڈال دیا جائے چناچہ انہوں نے یہی کیا کہ یوسف کو ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کی قمیص کو کسی جنگلی جانور کے خون میں لت پت کیا اور شام کے قریب روتے اور چیختے ہوئے اپنے والد کے پاس پہنچ گئے اور جا کر وہی بات کہہ دی جس کا خدشہ پہلے یعقوب (علیہ السلام) بیان کرچکے تھے اور قسمیں کھا کھا کر کہنے لگے کہ آپ کو مشکل ہی یقین آئے گا لیکن حقیقت یہی ہے جو کچھ ہم بیان کر رہے ہیں اور اس طرح یوسف (علیہ السلام) کی قمیض بھی والد کو دکھائی چونکہ یعقوب (علیہ السلام) اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ یوسف مر نہیں سکتا کیونکہ اس کو نبی بنایا جاتا ہے اور آپ کی اس بات کی تصدیق یوسف (علیہ السلام) کے اس پیراہن یعنی قمیص نے بزبان حال کردی کہ یہ سارا ڈرامہ ہے جو یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے رچایا ہے وہ اتنا سمجھدار بھیڑیا جس نے قمیص کو تو کوئی گزند نہ پہنچائی اور یوسف کو مکمل طور پر کھا گیا ، وہ کیسا بھیڑیا ہو سکتا ہے ؟ لیکن مشیت ایزدی کی کرشمہ سازی دیکھ کر کہا تو صرف یہ کہا کہ ” ہرگز تمہازی بات صحیح نہیں ہے لیکن تمہارے نفسوں نے ایک بات گھڑی لی ہے حقیقت حال سے اللہ ہی واقف ہے اور اللہ کی مدد کے سوا نہ کوئی چارہ ہے اور نہ ہی کوئی اس حقیقت کو جان سکتا ہے۔
یوسف کے بھائیوں نے اس کو جس مقصد کے لئے کنوئیں میں ڈالا تھا وہ تو ظاہر ہی ہے لیکن مشیت ایزدی نے ایک قافلہ پہلے ہی اس راستہ پر ڈال دیا تھا وہ قافلہ حجازی اسماعیلیوں کا تھا جو شام سے چیزیں خرید کر مصر کو بیچنے کے لئے رہا تھا اور اس قافلہ کے آگے آگے چلنے والا آدمی جس کے ذمہ قافلہ کا انتظام و انصرام ہوگا جب وہ اس کنوئیں پر پہنچا تو پانی نکالنے کے لئے اپنا ڈول ڈال دیا یوسف سمجھے کہ شاہد بھائیوں کو رحم آگیا انہوں نے اس ڈول کو دیکھا تو فوراً اس میں بیٹھ گئے اس آدمی نے جب ڈول کھینچا تو اس کی حیرت گم ہوگئی کہ اس میں چاند جیسا چمکتا ہو ، ایک لڑکا تھا اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ اس کی قسمت گویا جاگ ۔ اس قافلہ نے یوسف کو اپنے رکھل یا اور اپنے مال تجارت کے ساتھ ہی یوسف کو بیچنے کا اعلان کردیا۔ یوسف (علیہ السلام) یہ ساراماجرا اپنے اوپر گزرتا دیکھ کر تصویر خاموش بن کر لالہ کی رضا پر راضی ہوگئے کہ باپ کی آغوش محبت گئی ، وطن چھوٹا ، بھائیوں نے بےوفائی کی ، آزادی کی جگہ غلامی نصیب ہوئی لیکن سب کچھ برداشت کر کے اس وقت کے انتظار میں رہے جس وقت کے آنے کا باپ نے ارشاد فرمایا تھا۔
مصر کا پایہ تخت اس وقت رعمسیس تھا اور اس شہر میں یوسف (علیہ السلام) کے بکنے کا اعلان ہوا اور شاہی خاندان کے ایک فرد فوطیفار کی نظر جب یوسف پر پڑی تو اس کی نظروں میں جگہ پا گیا اور اس نے اس قافلہ سے اس کو خرید لیا اور اپنے گھر لے لیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی مشیت کا یہ فیصلہ پورا ہوا کہ ایک بدوی اور صحرائی بچہ کو کہاں سے اٹھا کر کہاں لا رکھا یا اس طرح و خس و خاشاک کی جھونپڑی میں رہنے اولا بچہ مصر کے محلات میں رہنے لگا اور اس طرح دن گزرتے رہے اور یوسف اپنی فطری صلاحیتوں کے باعث اس رئیس شہر کی آنکھوں میں جچتا گیا اور یوسف اپنی عصمت مآب زندگی ، حلم و وقار اور امانت و سلیقہ مندی کے پاک اوصاف کی بدلوت اس کی آنکھوں کا تارا بن گیا اور وہ وقت آیا کہ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ دیکھو اس کو عزت و شرف سے رکھو عجب نہیں کہ یہ ہم کو فائدہ دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنا لیں۔ اس طرح یوسف جب سن رشد کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے خاص علم سے نوازا جیسا کہ وہ اپنے نبی بنائے جانے والے انسانوں کو نوازا کرتا ہے۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو ایک خاص صھکانا عطا فرما دیا جس میں عزت و وقار سے وہ رہنے لگا۔
اس رح بچپن کی پہلی مصیبت یا آزمائش نے کنعان کی بدوی زندگی سے ناکل کر تہذیب و تمدن کے گہوارہ ” مصر “ کے ایک بہت بڑے گھرانے کا مالک بنا دیا اور اس طرح یوسف غلامی میں آقائی کرنے لگے اور اب وقت کی دوسری اور کٹھن آزمائش شروع ہوئی وہ یہ کہ یوسف پر جوانی کا عالم تھا اور حسن و خوب روئی کا کوئی پہلو ایسا نہ تھا جو ان کے اندر موجود نہ ہو۔ جمال و رعنائی کا پیکر ، مجسم رخ روشن ، شمس و قمر سے زیادہ منور ، عصمت و حیاء کی فراوانی سونے پر سہاگہ اور پھر وقت کا ساتھ عزیز مصر کی بیوی دل پر قابو نہ پا سکی اور یوسف پر روانہ وار نثار ہونے لگی مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا پڑوتا ، اسحاق (علیہ السلام) کا پوتا ، یعقوب (علیہ السلام) کا نور دیدہ ، خانوادہ نبوت کا چشم و چراغ ، علم الٰہی کبھی اس طرح کی میل بھی آئے۔ اس نے زعیز مصر کی بیوی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور اس کے ناپاک عزائم کو پورا کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ لیکن مصر کی اس آزاد منش عورت نے جب اس طرح جادو چلتا نہ دیکھا تو ایک روز بےقابو ہو کر عین اس وقت جب یوسف مکان کے اندر تھا اس مکان کا دروازاہ بند کردیا اور شاد کام ہونے کے لئے یوسف سے اسرار کرنے لگی۔ یہ وقت کتنا مشکل تھا اس کا اندازہ وہی لگا سکتا ہے جو اس طرح کے حالات سے دوچار ہوا ہے۔
شاہی خاندان کی نوجوان عورت ، شعلہ حسن سے لالہ رو یوسف کی محبت میں ڈوبی ہوئی ، آرائش حسن وزینت کی بےپناہ آرائش و نمائش اور عشوہ طرازیوں کی بارش پھر ادھر یوسف خود نوجوان و حسین اور حسن کی خوبی سے آشنا دروازے بند ، رقیب کا خوف نہ ڈر ، گھر کی مالک خود ذمہ دار مگر ان تمام سازگار حالات نے یوسف کے دل میں ایک لمحہ کے لئے بھی عزیز مصر کی بیوی کی حوصلہ افزائی کی ؟ کیا اس کے دل نے قرار چھوڑ کر بےقراری اختیار کی ؟ کیا نفس نے جہان قلب کو ایک لمحہ کے لئے بھی متزلزل کیا ؟ نہیں ، نہیں ہرگز نہیں ! حاشاء اللہ بالکل نہیں بلکہ اس کے برعکس اس پیکر عصمت ، پاکیزگی و طہارت کے پہاڑ ، امین نبوت ، صبط وحی الٰہی نے دو ایسے دل کش اور محکم دلائل سے اس ” مصری عورت “ کو سمجھایا کہ جو ایک ایسی ہستی ہی سے ممکن تھا جس کی تربیت براہ راست رب العزت نے کی تھی۔ فرمایا ” معاذ اللہ “ یہ ممکن نہیں ” پناہ بخدا “ میں اور اس کی نافرمانی کروں جس کا اسم جلالت ” اللہ “ ہے اور وہ تمام کائنات کا مالک ہے اور پھر کیا میں اپنے مربی ” عزیز مصر “ کی امانت میں خیانت کروں جس نے اپنے غلام کو یہ حرمت و عزت عطا کی ؟ اگر میں ایسا کروں تو ” ظالم “ ٹھہرائوں گا اور ظالموں کا انجام و مآل کبھی خیر و فلاح سے نہیں ہوتا لیکن عزیز مصر کیب یوی پر اس نصیحت کا ذرا اثر نہ ہوا ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ دراصل خواہش کے ہاتھوں حواس باختہ ہوچکی تھی اس نے اپنے ارادہ کو عملی شکل دینے پر اصرار کیا اور انجار کار یوسف نے ” برہان رب “ کے پیش نظر صاف صاف انکار کردیا اور وہاں سے بھاگ کر اس برئای سے جان چھڑائی۔ اس جگہ جو کچھ مفسرین نے بیان کیا اس کا ذکر آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں اس لئے اس کی دوبارہ تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کہا وہ اسرائیلیات سے ہے اسلام میں اس طرح کی کوئی بات موجود نہیں بلکہ قرآن کریم یوسف (علیہ السلام) کی معصومیت اور آپ کی ” برہان رب “ کی واضح طور پر وضاحت کر رہا ہے۔
مختصر یہ کہ یوسف (علیہ السلام) جب دروازہ کی جانب بھاگے تو عزیز مصر کی بیوی نے پیچھا کیا۔ یوسف کا پیچھے سے پیراہن پکڑا تو وہ پھٹ گیا اور یوسف نے دروازہ کھولا تو سامنے عزیز مصر موجود تھا ” عزیز مصر “ کی بیوی نے جب دروازہ کھلتے ہی سامنے اپنے شوہر کو دیکھا تو اپنے اضطرار کو چھپانے کے لئے بڑی چالاکی سے بولی کہ ” ایسے شخص کی سزا قید خانہ یا درد ناک عذاب کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے جو تیرے اہل کے ساتھ ارادئہ بد رکھتا ہوڈ یوسف نے اس کے مکر و فریب کو سنا تو فرمایا کہ یہ اس عورت کا بہتان ہے اور حقیقت یہ ہے کہ خود اس نے مرے ساتھ ارادئہ بد کیا تھا مگر میں کسی طرح نہ مانا اور بھاگ کر اس دروازہ کی طرف آیا اس نے میرا پیچھا کیا اور جب میں نے دروازہ کھولا تو آپ سامنے نظر آئے تو اس نے یہ جھوٹ گھڑ کر میرے ذمہ بہتان لگایا۔
اس طرح یہ بات اس پورے خاندان میں پھیل گئی اور چہ میگوئیاں شروع ہوئیں ، حالات خود ایسی باتوں کا فیصلہ کردیتے ہیں اور صاحب نظر لوگوں پر ساری حقیقت کھل جاتی ہے۔ اس طرح دونوں یعنی ” عزیز مصر “ کی بیوی اور ” یوسف “ سے باتیں سن کر اور حالات کا سارا جائزہ لگاتے ہوئے اس عورت کے اپنی ہی عزیزوں اور رشتہ داروں میں سے ایک نے یہ فیصلہ دیا کہ ” یوسف کا پیراہن دیکھو اگر وہ سامنے سے چاک ہے تو عورت راستباز ہے ، اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف صادق القول ہے اور عورت جھوٹی ہے۔ دیکھا تو یوسف کا پیراہن پیچھے سے چاک تھا۔ بات بالکل واضح ہوئی اور عزیز مصر پر بھی سارے حالات کھل گئے لیکن اپنی عزت و ناموس کی خاطر معاملہ کو ختم کرتے ہوئے کہا ” یوسف سچے تم ہی ہو اس عورت کے معاملہ میں درگزر کرو اور اس بات کو اس جگہ ختم کر دو اور پھر بیوی سے کہا کہ یہ سب تیرا مکر و فریب ہے اور تم عورتوں کا مکر و فریب اسی طرح کا ہوتا ہے تمہارے اتار چڑھائو اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ بلاشبہ تو ہی اس معاملہ میں خطا کار ہے لہٰذا اپنی اس حرکت بد کے لئے استغفار کر اور معافی مانگ۔
عزیز مصر نے اگرچہ فضیحت و رسوائی سے بچنے کے لئے اس معاملہ کو یہیں پر ختم کردیا مگر بات پوشیدہ نہ رہ سکی اور اندر ہی اندر شاہی خاندانوں کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا کہ دیکھو عزیز مصر کی بیوی کس قدر بےحیاء ہے کہ اپنے غلام پر ریجھ گئی اور اس کی محبت میں ڈوب کر رہ گئی اس نے اپنا جوڑ کس جگہ جوڑنے کی کوشش کی ؟ کتنی گھٹیا عورت ہے کہ اس کو اپنے خاندان میں ایسا جوڑ کہیں نظر نہ آیا جو اتنے بڑے مرتبے کی عورت اور غلام سے اختلاط کا ارادہ ؟ اور پھر اس طرح بات چلتے چلتے عزیز مصر کی بیوی تک بھی پہنچ گئی اس کو یہ طعن بیحد شاق گزرا اور اس نے چاہا کہ وہ ان سب عورتوں سے جنہوں نے اس طرح کی باتیں کہیں انتقام لے اور ایسا انتقام لے کہ جس بات پر وہ مجھ پر طعن کرتی ہیں اس میں ہی ان کو مبتلا کیا جائے۔ اس طرح کی سوچ سوچ کر اس نے شاہی خاندانوں اور عمائدین شہر کی عورتوں کو دعوت دی اور اس کے لئے ایک دن اور وقت متعین کردیا۔ مقررہ تاریخ و وقت پر جب سب عورتیں دستر خوان پر بیٹھ گئیں اور سب کے سامنے کھانے چن دیئے گئے اور کھانے کی میز پر سب کچھ رکھ دیا گیا اور کھانے کی اشیاء کے ساتھ کھانے کے آلات و اوزار بھی رکھ دیئے گئے اور کھانا شروع ہوا ہی تھا کہ عزیز مصر کی بیوی نے یوسف کو حکم دیا کہ وہ اس کمرہ میں داخل ہو کر کھانے والیوں کو جس چیز کی ضرورت ہو اس پر نظر رکھیں۔ یوسف مالکہ کے حکم کی تعمیل کے لئے اس کمرہ میں داخل ہوئے ہی تھے کہ سب عورتوں کی نظریں آپ کی طرف ملتفت ہوگئیں اور وہ جمال یوسف کو دیکھ کر حیران و ششدرہ رہ گئیں اور رخ انور کو دیکھ کر دیکھتی ہی رہ گئیں۔ پہلے تو ایک عزیز مصر کی بیوی تھی لیکن اب تو ساری کی ساری ہی اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بےخود ہو کر بول اٹھیں ” کہ کون کہتا ہے یہ انسان ہے ؟ واللہ یہ تو کوئی نور کا پتلا اور بزرگ فرشتہ ہے۔ “ اس طرح انہوں نے یوسف کی جوانی پر ایک طرح کی
ضرب لگانے کی کوشش کی اور اپنے ہاتھوں دل ہار جانے کا اظہار بھی کردیا۔ یہ دیکھ کر عزیز مصر کی بیوی بہت محظوظ ہوئی اور فخریہ انداز میں ان کی شکست پر خوش ہوتے ہوئے کہنے لگی کہ ” یہی وہ غلام ہے جس کے عشق و محبت کے بارے میں تم نے مجھ کو مطعون کر رکھا ہے اور تیر ملامت کا نشانہ بنایا ہوا ہے۔ اب بتائو کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ تم نے اس کو ایک نظر دیکھا اور میرے پاس تو وہ مستقل طور پر رہ رہا ہے۔ بتائو میرا یہ مطالبہ اور میری یہ محبت بیجا ہے یا بالکل بجا ہے ؟ اور یہ بھی بتائو کہ تمہاری ملامت بےمحل ہے یا برمحل ہے ؟
اس طرح عزیز مصر کی بیوی جب اس مجلس میں کامیاب ہوئی تو برملا کہنے لگی کہ بلاشبہ میں نے اس کا دل اپنے قابو میں لینا چاہا تھا مگر وہ بےقابو نہ ہوا لیکن میرا اب بھی یہ اعلان ہے اور صاف صاف اس کو سنا رہی ہوں کہ اس نے میرا کہا نہ مانا تو یہ ہو کر رہے گا کہ وہ قید کیا جائے اور وہاں بےعزتی میں پڑا رہے۔ یوسف نے بھی اس بات کو اپنے کانوں سن لیا اور پھر عزیز مصر کی بیوی کے علاوہ اور سب عورتوں کے چلتر بھی اپنے متعلق دیکھے سنے تو اللہ کے حصور دست بدعا ہوئے اور کہنے لگے ” اے اللہ ! جس بات کی طرف یہ عورتیں بلا رہی ہیں اس کے مقابلہ میں مجھے قید میں رہنا کہیں زیادہ پسند ہے اور اے اللہ ! اگر تو نے میری مدد نہ کی اور مجھ کو ان کی مکاریوں سے نہ بچایا تو عجب نہیں کہ میں پھسل جائوں اور انجام کار نادانوں میں سے ہو کر رہ جائوں۔ یوسف (علیہ السلام) کی یہ دعا بارگاہ الٰہی میں مستجاب ہوگئی اور اللہ نے ان عورتوں کے سب مکر و فریب دفع فرما دیئے اور کامیابی کا سہرا یوسف (علیہ السلام) کے سر ہی بندھا رہا۔
بہرحال عزیز مصر پر باوجو اس کے کہ یوسف کی صداقت واضح ہوچکی تھی اور وہ چاہتا بھی یہی تھا کہ یوسف کو کوئی گزند نہ پہنچے لیکن اس کے باوجود وہ وقت آگیا کہ اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ یوسف کو قید خانہ میں بند کردی اجائے اس لئے کہ اس کی بیوی اور اس کے ایک زر خرید غلام کی اس صداقت کا حل اس کے پاس اس کے سوا کوئی دوسرا نہ تھا کہ یوسف کو ایک مدت کیلئے زندان میں بند کردیا جائے تاکہ یہ معاملہ لوگوں کے دلوں میں سے محو ہوجائے اور اس طرح کے چرچے بند ہوجائیں اور اس کی ذہن میں یہ بات بھی ہوگی کہ شاید اس کی بیوی کی اصلاح بھی اسی میں ممکن ہوگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ابھی یوسف (علیہ السلام) کی آزمائش کا وقت پورا نہیں ہوا تھا اور ان کی زندگی کی علو مرتبت جو زندان میں رہ کر حاصل ہونا تھا وہ باہر رہ کر نہیں ہو سکتا تھا اس لئے مشیت ایزدی میں لازم تھا کہ یوسف علہ السلام کو قید خانہ میں پہنچایا جائے اور مشیت ایزدی کے فیصلے اٹل ہیں جو ہو کر رہی رہتے ہیں اس لئے یہی کچھ ہوا۔
ہمارے مفسرین نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے ساتھ چونکہ یہ بھی کہہ دیا تھا کہ مجھے ان کی بےحیائی کی دعوت کے مقابلہ میں زندان زیادہ پسند ہے تو اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے مکر سے تو ان کو بچالیا مگر قید ان کی قسمت میں مقدر کردی ‘ ان کو چاہئے تھا کہ وہ یہ جملہ نہ کہتے اور بلاد امتحان کو دعوت نہ دیتے اور ان مفسرین کے اس لطیفہ کو قوی بنانے کیلئے بعد میں آنے والے مفسرین نے ایک حدیث کا حوالہ بھی دے دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خص اللہ سے دعا مانگا کرتا تھا کہ ” اللھم انی اسئلک الصبر “ اے اللہ ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں تو نبی کریم ﷺ نے سنا تو فرمایا کہ بلاد مصیبت کیوں مانگتا ہے اس سے عافیت کا طالب کیوں نہیں ہوتا۔
ہمیں ان سارے مفسرین کی جلالت قدر کا اعتراف ہے اور ہم ان کی تہ دل سے عزت کرتے اور ان کو اپنا پیشوا اور رہنما تسلیم کرتے ہیں لیکن یوسف (علیہ السلام) ایک عظیم المرتبت پیغمبر ہیں اس لئے ان کی نسبت مفسرین کی ان باتوں پر بالکل دھیان نہیں دیتے اور نہ ہی حدیث کا یہ مطلب سمجھتے ہیں جس سے یہ راہنمائی ملتی ہو کہ یوسف (علیہ السلام) نے جو دعا مانگی وہ درست نہیں تھی اور نہ ہی حدیث کا یہ مطلب سمجھتے ہیں جس سے یہ راہنمائی ملتی ہو کہ یوسف (علیہ السلام) نے جو دعا مانگی وہ درست نہیں تھی یا یہ کہ اس دعا کے نتیجہ میں یوسف (علیہ السلام) کو زندان میں بھیجا گیا تھا بلکہ ہم تو اس کو ایک عدیم النظیر کارنامہ سمجھتے ہیں اس لئے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کا یہ جملہ باوجود اس کے کہ وہ نبوت عطا ہونے سے پہلے کا ہے کہ ” رب السجن احب الی مما یدعوننی الیہ “
اے میرے رب ! جس بات کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں اس کے مقابلہ میں قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے۔ ان کے علو شان ‘ تقرب الی اللہ ‘ استقامت فی الدین ‘ عزیمت فی الحق اور رضا و تسلیم کا وہ بےنظیر مظاہرہ جو ان جیسے اولوالعزم ہی کا حصہ ہے اور نبوت سے پہلے بھی ان سے اسی طرح کے جملے اس لئے نکلتے تھے کہ وہ نبی بنائے جانے والے تھے۔
ذرا غور کرو کہ عزیز مصر کی بیوی اور گھر کی مالکہ نے خوشامد اور چاپلوسی کی کون سی راہ اختیار نہیں کہ جس سے یوسف کو رام کیا جاسکے ‘ پھر اس میں ناکامی کے بعد دوسری عورتوں کی اس نے مدد حاصل کی اور انہوں نے اپنے ممکن دائو گھات یوسف (علیہ السلام) پر استعمال کئے مگر پھر بھی ناکامی رہی اب آخری درجہ یہ تھا کہ اس نے دھمکی دی کہ یا یوسف اس کو شاد کام کرے ورنہ قید خانہ میں ڈالا جائے گا ایسی حالت میں ایک خدا کا بندہ ‘ صاحب عزیمت و استقامت ہستی اور خوف الٰہی کو تمام کائنات کے غیظ و غضب پر غالب رکھنے والا انسان اس سے بہتر اور کیا جواب دے سکتا تھا کہ اے اللہ ! میں اس عمل بد کے مقابلہ میں زندان کو ترجیح دیتا ہوں مجھے قید و بند سب کچھ منظور ہے مگر تیری نافرمانی منظور نہیں۔
کیسے کہا جاسکتا ہے کہ یہ قید کی طلب ہے ‘ زندان کے شوق کا اظہار ہے ‘ بلا ومصیبت کو دعوت ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہاں تو لطیف پیرا یہ میں وہ کہا جا رہا ہے جو اعلان حق اور خدا رسی کا صحیح درجہ ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ بھی گوار نہیں کیا کہ عزیز کی بیوی کو مخاطب کریں یا مہمان عورتوں کو اپنی گفتگو میں مخاطب کریں بلکہ انہوں نے اپنے اللہ کو پکارا لیکن ان گمراہ اور بدقماش عورتوں پر یہ ظاہر کردینا ضروری سمجھا کہ جس طرح ان کے تمام مکر و فریب ‘ خوشامد اور چاپلوسیاں ناکام رہیں اسی طرح ان کی دھمکی اور ان کا عذاب بھی میرے ارادہ حق اور خدا رسی کو باطل نہیں کرسکتا۔ یہ کہتی ہے کہ ” یوسف یا مجھے شاد کرے ورنہ جیل خانہ میں جائے “ تو میں جیل خانہ کو اس کے ارادہ بد کے مقابلہ میں لاکھ بار ترجیح دیتا ہوں کہ رب السجن احب الی مما ید عوننی الیہ۔
اب بتایئے کہ اس اعلان حق اور اظہار استقامت کا اس دعا سے کیا تعلق جو ایک شخص خواہ مخواہ اپنے لئے ” صبر “ مانگ رہا تھا اور اس طرح آزمائش میں پڑنے کی دعوت دے رہا تھا ‘ وہاں نہ آزمائش تھی نہ امتحان بلکہ مفت میں بلا ومصیبت کا داعی بن رہا تھا اور یہاں امتحان سر پر ہے ‘ آزمائش موجود ہے ‘ مصیبت کی دھمکی دی جا رہی ہے ‘ بلا نازل کرنے کا خوف دلایا جا رہا ہے کیا ایسے نازک موقع پر صرف یہ جواب کافی ہوتا کہ یوسف (علیہ السلام) گڑ گڑا کر جناب الٰہی میں امراۃ العزیز سے چھٹکارا پا لینے کی دعا کرتے اور بس ‘ اگر ایسا ہوتا تو امتحان آزمائش اور بلا مصیبت کے وقت استقامت ‘ اعلان حق ‘ بےخوفی اور تمام دنیوی رعونتوں کے مقابلہ میں اعلاء کلمۃ اللہ کا سبق کون سکھاتا ؟ عزیمت کی زندگی کون بتاتا ؟ باطل سے بےخوفی کی تعلیم کس سے ملتی ؟ اور حق و باطل میں امتیاز کی شان کون پیدا کرتا ؟
مختصر یہ کہ اس طرح یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ بھیج دیا گیا اور ایک بےخطا کو بےخطا سمجھتے ہوئے معاشرہ کے ستم ظریفوں نے محض اس لئے زندان میں ڈال دیا تاکہ ان کی عزت بحال رہے اور وہ خطا کار ہونے کے باوجود خطا کے نتیجہ میں محفوظ رہیں اور مجرم کو کوئی مجرم نہ کہہ سکے۔ لیکن یوسف (علیہ السلام) کے علمی اور عملی جوہر قید خانہ میں چھپ نہ سکے اور قید خانہ کا داروغہ ان کے حلقہ ادارت میں داخل ہوگیا اور جیل کا تمام انتظام و انصرام ان کے سپرد کردیا وہ قید خانہ کے بالکل مختار ہوگئے اور اللہ نے قید خانہ میں بھی ان کے تمام کاموں میں ان کو اقبال مند کیا جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ جیل خانہ میں قیدی ان کے پاس بےجھجھک آتے اور ان کی نیکی کا اعتراف کرتے تھے اور اس طرح ان کی نیکی اور اوصاف کی پاکیزگی کی کافی شہرت تھی۔
یوسف (علیہ السلام) کے پاس دو نوجوان اور بھی زندان میں داخل ہوئے ان میں سے ایک اہی ساقی تھا اور دوسرا شاہی باورچی خانہ کا داروغہ ‘ پھر ایک دن دو دونوں یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ساقی کہنے لگا کہ اے یوسف (علیہ السلام) میں نے خواب دکھا ہے کہ میں شراب بنانے کیلئے انگور نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں نے بھی خواب دیکھا ہے کہ میرے سر پر روٹیوں کا ایک ٹوکرا ہے اور پرندے اس سے کھا رہے ہیں۔
یوسف (علیہ السلام) نبی زادہ تھے اور علم الٰہی میں وہ نبی بنائے جانے والے بھی تھے اسلام کی تبلیغ کا ذوق ان کے ریشہ ریشہ میں پوست تھا اور دین حق کی اشاعت ان کی زندگی کا نصب العین تھا گو قید میں تھے مگر مقصد حیات گو نہیں بھولے تھے اگرچہ وہ خود مصیبت میں تھے لنکر اعلاء کلمۃ اللہ کو فراموش کردیتے یہ کیسے ممکن تھا ؟ انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان سے محبت اور نرمی سے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ نے جو باتیں مجھے تعلیم فرمائی ہیں اس کے مطابق تم دونوں کو اس کی تعبیر بتائوں گا اور وہ بھی اس سے پہلے کہ تمہارا مقرر کھانا تمہارے پاس آئے لیکن اس سے پہلے میں تم سے ایک بات کہتا ہوں ذرا اس پر بھی غور کرو اور سمجھ سوچ کر بولو۔ تم جانتے ہو کہ میں نے ان لوگوں کی ملت کو اختیار نہیں کیا جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ‘ میں نے اپنے باپ دادوں یعنی ابراہیم ‘ اسحٰق اور یعقوب کی ملت کی پیروی کی ہے۔ ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں یہ اللہ کا فضل ہے جو اس نے ہم پر اور لوگوں پر کیا ہے لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔
اے میرے قید کے ساتھیو ! تم نے کبھی اس بات پر بھی غور کیا کہ جدا جدا معبودوں کا ہونا بہتر ہے یا اللہ کا جو یکتا اور سب پر غالب ہے ؟ تم اس کے علاوہ جن جن کی عبادت بھی کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ چند نام ہیں جو تمہارے باپ دادوں نے گھڑ لئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کیلئے ہرگز کوئی سند نہیں اتاری ‘ حکومت تو صرف اللہ ہی کی ہی اور اس نے یہ حکم دیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر آدمی اسکو نہیں سمجھتے اور نہ ہی سمجھنے کیلئے تیار ہوتے ہیں۔ پھر رشد و ہدایت کے اس پیغام کے بعد یوسف (علیہ السلام) ان کی خوابوں کی تعبیر کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے۔
دوستو ! جس نے یہ دیکھا ہے کہ وہ انگور نچوڑ رہا ہے وہ پھر قید سے رہا ہو کر بادشاہ کے ساقی کی خدمت انجام دے گا اور جس نے روٹیوں والا خواب دیکھا ہے اس کو سولی پر لٹکایا جائے گا اور پرند اس کے سر کو نوچ نوچ کر کھائیں گے جن باتوں کے متعلق تم نے سوال کیا تھا وہ فیصل ہوچکی اور اس کا یہی فیصلہ ہوگا۔ یوسف (علیہ السلام) خواب کی تعبیر بتانے کے بعد اس ساقی سے مخاطب ہوئے اور اس کو کہا جب تو نجات پائے اور بادشاہ کی خدمت کرنے لگے تو اس کے پاس میرا بھی ذکر کردینا۔ ساقی رہا ہوگیا اور بادشاہ کی خدمت میں لگ گیا لیکن اس نے بادشاہ کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا ذکر نہ کیا وہ ایسا مشغول ہوا کہ زندان میں جو وعدہ یوسف عیہ السلام سے کیا تھا اس کو یاد ہی نہ آیا گویا شیطان نے اس کے دماغ سے وہ سب باتیں بھلوا دیں اور اس طرح کئی سال تک یوسف قید خانہ میں رہا۔
” اذ کرنیعند ربک “ کے قرآنی الفاظ کی تفسیر میں مفسرین نے جو کچھ تحریر کیا وہ آپ اس آیت کے مقام پر پڑھ چکے اس سے جو کچھ واضح ہوتا ہے وہ فقط یہ ہے کہ عزیز مصر نے جو ان کو جیل بھجوایا تھا اس کی صحیح صورت حال کچھ اور تھی اور جو ظاہر کی گئی وہ بات اور تھی مطلب آپ کا فقط یہ تھا کہ کسی طرح احقاق ہق ہوجائے اور بادشاہ ہی وہ شخصیت ہے جس کی حرکت سے اس ” حق “ کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ بہرحال کچھ مدت گزرنے کے بعدبادشاہ وقت نے جس کو فرعون کہا جاتا تھا ایک خواب دکھا کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں اور سات دبلی پتلی اور پھر وہ دبلی پتلی موٹی تازی گائیوں کو نگل گئی ہیں اور سات سرسبز و شاداب بالیاں ہیں اور پھر سات خشک بالیاں اور ان خشک بالیوں نے سات سبز بالیوں کو کھالیا ہے بادشاہ صبح اٹھا تو بہت پریشان حال تھا اور اس پریشان کن خواب سے وہ فی الواقع پریشان ہی تھا اس نے فوراً دربار کے وزیروں ‘ امیروں سے اپنا خواب بیان کیا اور خواب کی تعبیر چاہی اور درباری بھی ایسا خواب سن کر فکر و تردد میں پڑگئے اور جب اس کا کوئی حل تلاش نہ کرسکے تو اپنی درماندگی و بیچارگی کو چھپانے کیلئے کہنے لگے بادشاہ ! یہ خواب نہیں ہے بلکہ پر شان خیالات ہیں جن کا کوئی خاص مطلب نہیں ہے ہم سچے خواب کی تعبیر تو دے سکتے ہیں لیکن پریشان خیالات کو حل نہیں کرسکتے۔ ظاہر ہے کہ بادشاہ کو درباریوں کے اس جواب سے اطمینان نہ ہو سکتا تھا اور نہ ہی ہوا۔
اس اثناء میں ساقی کو اپنا خواب اور یوسف کی تعبیر کا واقعہ یاد آگیا اس نے بادشاہ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر آپ کچھ مہلت دیں تو میں اس کی تعبیر لاسکتا ہوں ‘ مجھے یہاں سے جانے کی اجازت دیجئے۔ بادشاہ کی اجازت سے وہ اس قید خانہ میں پہنچا اور یوسف (علیہ السلام) کو بادشاہ کا خواب سنایا اور کہا کہ آپ اس کا حل کیجئے کیونکہ آپ سچائی اور تقدس کے پیکر ہیں۔ آپ ہی اسکو حل کرسکتے ہیں اور کیا عجب ہے کہ جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے جب میں صحیح تعبیر لے کر ان کے پاس جائوں تو وہ آپ کی حقیقی قدر و منزلت معلوم کرلیں۔ یوسف (علیہ السلام) کا کمال صبر و استقلال اور جلالت قدر کا اندازہ کیجئے کہ ساقی کو نہ ملامت کی اور نہ برسوں تک بھولے رہنے پر جھڑکا اور نہ ہی عطاء علم پر بخل سے کام لیا اور نہ یہ سوچا کہ جن ظالموں نے مجھ کو بےقصور زنداں میں ڈالا ہے وہ اگر تباہ ہوجائیں اور اس خواب کا حل نہ پا کر برباد ہوجائیں تو اچھا ہے۔ اس تعبیر پوچھنے والے کو اس وقت خواب کی تعبیر بتائی اور ساقی کو پوری طرح مطمئن کردیا اور اس واقعہ کی کوئی مزید ذکر کرنے کی بات بھی اس سے نہ کی کیونکہ مشیت ایزدی نے ایک راستہ نکال دیا تھا اور یوسف (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ اب قدرت الٰہی نے خود سلسلہ جنہبانی شروع کردی ہے اور ساقی کو اس خواب کی تعبیر اس طرح وضاحت سے سمجھا دی کہ : اس خواب کی تعبیر میں جو کچھ آپ کو کرنا چاہئے وہ یہ ہے کہ ” تم سات برس تک لگاتار کھیتی کرتے رہو گے اور یہ تمہاری خوش حالی کے سال ہوں گے جب کھیتی کے کٹنے کا وقت آئے تو جس قدر مقدار تمہارے سال بھر کھانے کیلئے ضروری ہو اس کو الگ کرلو اور باقی غلہ کو ان کی بالوں میں رہنے دو تاکہ محفوظ رہے اور گلے سڑے نہیں اس کے بعد سات برس آئیں گے جو سخت مصیبت کے ہوں گے وہ تمہارا جمع کیا ہوا تمام ذخیرہ ختم کردیں گے اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا کہ خوب پانی برسے گا اور کھیتیاں ہری بھری ہوں گی اور لوگ پھلوں اور دانوں سے عرق اور تیل نکالیں گے گویا موٹی گائیاں اور بالیں خوشحالی کے سال ہیں اور دبلی پتلی گائیاں اور بالیں خشک سال ہیں جو خوشحالی کے سالوں کی پیداوار کو کھا جائیں گی “۔
ساقی نے یہ سارا معاملہ بادشاہ کے سامنے جاکر سنا دیا۔ بادشاہنی ساقی کی زبان سے تعبیر خواب سن کر یوسف (علیہ السلام) کے علم و دانش اور جلالت قدر کو معلوم کرلیا بلکہ نادیدہ مشتاق ہوگیا اور ساقی کو کہنے لگا کہ اس شخص کو میرے پاس لائو جس نے یہ تعبیر کی۔ بادشاہ کا ایلچی جب پیغام لے کر یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور باردساہ کی طلب و اشتیاق کا حال سنایا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے قید خانہ سے باہر آنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ اس طرح تو میں جانے کیلئے تیار نہیں تم اپنے آقا کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ وہ پہلے یہ تحقیق کرے کہ ان عورتوں کا معاملہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے اور وارفتہ ہوگئی تھیں ؟ تاکہ حق واضح ہوجائے اور جب تک اس کی وضاحت نہ ہو کہ حق کیا ہے میں بادشاہ سلامت کی خدمت میں حاضر نہیں ہوسکتا۔
غور کرو کہ یوسف (علیہ السلام) بےقصور اور بےخطا برسوں سے قید خانہ میں بند تھے اور بلاوجہ ان کو قید کیا ہوا تھا اب جب بادشاہ نے آپ کی قدر پہچان کر رہائی کا مژدہ سنایا تو چاہئے تھا کہ وہ مسرت و خوشی کے ساتھ زندان سے باہر آتے مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا اور گزشتہ معاملہ کی تحقیق کا مطالبہ فرمایا اور ایسا کہنا کوئی معمولی بات نہیں یہی وہ اصل کردار ہے اور سارے قصہ کا نچوڑ ہے جس میں انسانی زندگی کیلئے بیسیوں اسباق موجود ہیں۔ کتنا پختہ عزم ہے کہ آپ (علیہ السلام) کو خیال ہوا کہ اگر بادشاہ کی اس مہربانی پر میں رہا ہو گای تو بادشاہ کا رحم و کرم سمجھا جائے گا اور میرا بےقصور اور صاحب عصمت ہونا پردہ خفا میں رہ جائے گا اس طرح صرف عزت نفس ہی کو ٹھیس نہیں لگے گی بلکہ دعوت و تبلیغ کے اس اہم مقصد کو بھی نقصان پہنچے گا جو میری زندگی کا نصب العین ہے پس اب بہترین وقت ہے کہ معاملہ کی اصل صورت سامنے آجائے اور حق بات ظاہر و واضح ہوجائے۔
بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کے ضبط و صبر کو بہت سراہا اور تواضح و کسر نفسی کی حد تک اس کو بڑھا کر اس طرح ارشاد فرمایا کہ ” لو لبشت فی السجن ما لیث یوسف لا جبت الداعی (بخاری کتاب الانبیاء) “ اگر میں اس قدر دراز مدت تک قید میں رہتا جس قدر کہ یوسف (علیہ السلام) تو بلانے والے کی دعوت فوراً قبول کرلیتا “۔ یہ ایک انداز بیان ہے جو سامعین کو سمجھانے کیلئے بیان کرنے والا کسی بات کی نسبت جو کسر نفسی کی ہو اپنی طرف نسبت دے کر کرتا ہے اور سامعین کی طرف اس کی نسبت نہیں کرتا حالانکہ مقصود کلام یہی ہوتا ہے۔
اس جگہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا اصل قضیہ براہ راست عزیز مصر کی بیوی سے شروع ہوا تھا مگر یوسف (علیہ السلام) نے اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان مصری عورتوں کا حوالہ دیا جو عزیز مصر کی بیوی نے دعوت میں بلائی تھیں اور جنہوں نے مختلف طریقوں سے یوسف (علیہ السلام) پر جال ڈالنے کی کوشش کی تھی اور پھر ناکامی کی صورت میں عزیز مصر کی بیوی کی اس چال کی تصدیق کی تھی کہ ایسے شخص کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے اور انہی عورتوں کی شہ پر یوسف (علیہ السلام) کو قید میں ڈال دینے کا فیصلہ ہوا تھا اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) اچھی طرح سمجھتے تھے کہ عزیز مصر نے میرے ساتھ ہر ممکن حسن سلوک برتا ہی ‘ میری عزت اور میرا احترام کیا ہے اس لئے موزوں نہیں کہ میں اس وقت صرف اس کی بیوی کا نام لے کر اس کی رسوائی کا باعث بنوں اور اس اظہار و اخفا میں انسانی زندگی کیلئے بلاشبہ کتنی ہی راہنمایاں موجود ہیں جو غور و فکر کرنے والوں کو میسر آسکتی ہیں۔
مختصر یہ کہ جب بادشاہ نے سنا تو ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے کہا صاف صاف اور صحیح صحیح بتاو کہ معاملہ کی اصل حقیقت کیا ہے جب تم نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے تاکہ اس کو اپنی طرف مائل کرلو ؟ وہ سب کی سب بول اٹھیں کہ : حاشا للہ ما علمنا لیہ من سوء ” اللہ کی قسم ہم نے اس میں برائی کی کوئی بات نہیں دیکھی “۔
ظاہر ہے کہ اس مجمع میں عزیز مصر کی بیوی بھی موجود تھی اس وقت وہ بھی ذلت و رسوائی کے خوف سے نکل چکی تھی اس نے اپنا بیان خصوصی نقل کرایا کہ جب یوسف کی خواہش ہے کہ اصل حقیقت واضح ہوجائے تو یہ بات بالکل سچی ہے کہ ” انا روادتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین “ ” ہاں ! وہ میں ہی تھی جس نے یوسف پر ڈورے ڈالے تاکہ وہ اپنا دل ہار بیٹھے بلاشبہ وہ بالکل سچا ہے =“
بہرحال وقت آپہنچا کہ یوسف (علیہ السلام) کی عصمت و پاکبازی اور صداقت و طہارت کا معاملہ تہمت لگانے والوں کی زبان ہی سے واضح ہوجائے اس لئے وہ بالکل واضح ہوگیا اور شاہی دربار میں خود بادشاہ کے سامنے سارے مجرموں نے اپنے اپنے جرم کا اعتراف کر کے صاف بتا دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا دامن ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک و صاف ہے۔ اس موقع پر امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) اللہ کے رسول نبی و معصوم تھے اگرچہ یہ بات اس وقت خود ان کو بھی معلوم نہ تھی اس لئے ان کا دامن ہر قسم کی آلائش سے پاک و صاف رہا اور آپ کی مقدس زندگی کا ایک لمحہ بھی کسی آلودگی سے آلودہ نہیں ہوا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازی دیکھئے کہ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ سے متعلق جس قدر شخصیتیں مصر میں تھیں ان سب کی زبانی کی طہارت نفس اور عصمت کا اعتراف کرا دیا ۔ ع
الفضل ما شھدت بہ الا عداء
ایک بار پھر غور کرو کہ یوسف کے علاوہ اس واقعہ کی شخصیتیں کون ہیں ؟ عزیز مصر کی بیوی ‘ شہری عورتیں ‘ عزیز مصر کی بیوی کا رشتہ دار اور خود عزیز مصر۔ یہی افراد ہیں جو کسی نہ کسی طرح اس تحقیق طلب معاملہ سے تعلق رکھتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا بیان آپ بڑی تفصیل سے پڑھ چکے ہیں کہ اب اگر کوئی یہ کہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے فلاں جگہ پر یہ غلطی کی تھی اور فلاں جگہ اس سے یہ کچھ ہوگیا تھا تو اس طرح بیان کرنے والے کو خود سوچنا چاہئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے یوسف (علیہ السلام) کا دامن ہر لحاظ سے ہر معاملہ میں بالکل پاک و صاف ہے اور اس طرح آگے چل کر بھی جو معاملات آپ کے سامنے آئیں گے ان کے معلق یوسف (علیہ السلام) کا دامن بالکل پاک و صاف دکھائی دے گا۔ انشاء اللہ
فرعون مصر پر جب حقیقت حال منکشف ہوگئی تو ظاہر ہے کہ اس کے دل میں یوسف (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت قدر کا سکہ بیٹھ گیا۔ ساقی کا حسن عقیدت کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) کی قل و دانش کا ذکر ‘ اپنی خواب کی بہترین اور دل لگتی تعبیر اور عصمت نفس کا یہ انکشاف ‘ یہ سب امور تھے جنہوں نے مل کر بادشاہ کو اس بزرگ اور پر عظمت ہستی کی دید اور اس سے استفادہ کا عاشق بنا دیا اور وہ پکار پکار کر کہنے لگے کہ ایتونی بہ استخلصہ لنفسی ” اس کو میرے پاس لائو کہ میں اس کو خاص اپنے کاموں کیلئے مقرر کروں۔ “ اس طرح یوسف (علیہ السلام) عصمت و پاکبازی اور عقل و دانش کی سچی تصویر بن کر بادشاہ کے بلاوے پر اس کی دربار میں تشریف لائے۔ بادشاہ سے جب آپ (علیہ السلام) کی آمنے سامنے بات چیت ہوئی تو بادشاہ حیران رہ گیا کہ اب تک جس کی راستبازی ‘ امانت داری اور وفائے عہد کا یہ کچھ تجربہ کیا تھا وہ عقل و دانش اور حکمت و فطانت میں بھی آپ اپنی نظیر ہے اور اور بڑی مسرت سے وہ کہنے لگا ” بلاشبہ آج کے دن تو ہماری نگاہوں میں بڑا صاحب اقتدار اور امانت دار ہے “۔ پھر ان سے دریافت کیا کہ میرے خواب میں جس قحط سالی کا ذکر ہے اس کی متعلق مجھ کو کیا کرنا چاہئے تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا ” اپنی مملکت کے خزانے پر آپ مجھے مختار بنا دیں تو میں حفاظت کرسکتا ہوں اور میں اس کام کو جاننے والا ہوں “۔ چناچہ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنی تمام مملکت کا امین و کفیل بنا دیا اور شاہی خزانوں کی کنجیاں ان کے حوالے کردیں اور ان کو مختار عام کردیا۔ تورات میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
” فرعون کی نگاہ میں اور اس کے سب نوکروں کی نظر میں یہ بات اچھی معلوم ہوئی فرعون نے اپنے نوکروں کو کہا کیا ایسا مرد جیسا کہ یہ ہے جس میں خدا کی روح ہے پا سکتے ہو ؟ اور فرعون نے یوسف سے کہا از بس کہ خدا نے تجھے اس سب میں بینائی ہے سو کوئی تجھ سا عاقل و دانشور نہیں ہے تو میرے گھر کا مختار ہو اور اپنا حکم میری سب رعیت پر جاری کر ‘ فقط تخت نشینی میں میں تجھ سے بزرگ و برتر ہوں گا۔ پھر فرعون نے یوسف سے کہا دیکھ میں نے تجھے ساری زمین مصر پر حکومت بخشی اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف کے ہاتھ میں پہنا دی اور اس کو کتان کا لباس پہنچایا اور سونے کا طوق اس کے گلے میں ڈالا اور اس نے اسے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور فرعون نے یوسف کو کہا میں فرعون ہوں اور بغیر تیرے مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ یا پائوں نہ اٹھائے گا “۔ (پیدائش باب 41 : تا 44)
” اور اس طژرح ہم نے سرزمین مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے قدم جما دیئے کہ وہ جس جگہ سے چاہے حسب مرضی رہنے سہنے کا کام لے ہم جسے چاہتے ہیں (اسی طرح) اپنی رحمت سے فیض یاب کردیتے ہیں اور نیک عملوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور بد عملیوں سے بچتے رہے ان کیلئے تو آخرت کا اجر اس سے کہیں بہتر ہے “۔ (یوسف 12 : 56 ‘ 57)
جیسا کہ شروع واقعہ میں بیان کیا گیا ہے کہ سورة یوسف کا نزول یہودیوں کے اس سوال پر ہوا جو انہوں نے مشرکین مکہ کے ذریعے نبی کریم ﷺ سے کیا تھا وہ یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل مصر میں کیسے آئی ؟ اس لئے اس آیت 56 ‘ 57 میں اس کی وضاحت فرما دی کہ ” اولاد ابراہیم (علیہ السلام) اس طرح شام سے آئی اور مصر میں آباد ہوگئی “۔ اور آگے مزید بیان آئے گا جب یعقوبعلیہ السلام کے سارے بیٹے یہاں آ کر آباد ہونے کا ذکر آئے گا۔
غرض یوسف (علیہ السلام) نے سلطنت مصر کے مختار کل ہونے کے بعد خواب سے متعلق وہ تمام تدابیر شروع کردیں جو چوہ سال کے اندر مفید کار ہو سکتی تھیں اور رعایا قحط سالی کے ایام میں بھی بھوک اور پریشان حالی سے محفوظ رہ سکیں چونکہ یہ تفصیل خواب اور اس کی تعبیر کے ضمن میں خود بخود ہر ذہن میں آسکتی ہیں اس لئے قران کریم نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی اور اس جگہ واقعہ کو مختصر بیان کرنے کے بعد قحط سالی کے زمانہ کا ذکر کیا اور خصوصاً اس وقت کا ذکر کیا جب مصر اور اس کے قرب و جوار کے علاقہ میں بھی سخت کال پڑگیا اور کنعان میں خاندان یعقوب بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا لیکن تورات میں اس کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ (پیدائش باب 41 : 46 ‘ 49 ‘ 53 ‘ 57 اور باب 42 میں آیات 1 تا 2 میں ذکر کیا گیا ہے۔ )
قحط سالی کی وجہ سے جب حالت نزاکت اختیار کرگئی تو یعقوب (علیہ السلام) نے صاحبزادوں سے کہا کہ دیکھو مصر میں عزیز مصر نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پاس غلہ محفوظ ہے تم سب جائو اور غلہ خرید کر لائو۔ چناچہ باپ کے حکم کے مطابق یہ کنعانی قافلہ عزیز مصر سے غلہ لینے کے لیئے مصر روانہ ہوا۔ اللہ کی قدرت دیکھئے کہ برادران یوسف کا یہ قافلہ اس بھائی سے غلہ لینے چلا ہے جس کو اپنے خیال میں وہ ایک اندھے کنوئیں میں ڈال چکے تھے اور اس کا عزیز مصر ہوجانا ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ اس طرح اس یوسف سے گلو خلاصی کرانے والے قافلہ کو کیا معلوم کہ وہ کل کنوئیں میں گرایا جانے والا آج مصر کا مختار کل ہے اور ان کو اس کے سامنے عرض حال کرنا ہے۔ وہ لوگ کنعان سے چلے اور مصر آپہنچے اور جب دربار یوسفی میں پیش ہوئے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا البتہ وہ یوسف کو نہ پہچان سکے اور وہ کس طرح پہچانتے ؟ کل جو چھوٹا سا بچہ تھا اور جس کو وہ اپنے ہاتھوں ایک کنوئیں میں گرا چکے تھے اور آج وہ چالیس سال کا ایک تجربہ کار انسان تھا۔ نقشہ و رنگ اور بول چال سے وہ کچھ شبہ بھی کرتے تو آخر کیسے ؟ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ یوسف اور یہ تخت شاہی ! مگر یہ واقعہ تھا ‘ ایک حقیقت تھی اور اپنے برگزیدہ بندہ کے ساتھ رب العالمین کا ایک خاص معاملہ تھا۔
غرض اس قافلہ سے یوسف (علیہ السلام) نے والد ‘ حقیقی بھائی بنیامین اور گھر کے حالات کو ان سے خوب کرید کرید کر پوچھا اور آہستہ آہستہ سب کچھ معلوم کرلیا اور پھر ان کی خواہش کے مطابق ان کو غلہ بھر دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ قحط اس قدر سخت ہے کہ تم کو دوبارہ یہاں آنا پڑے گا اس لئے اچھی طرح یاد رکھو کہ اب جب تم آئو تو اپنے چھوٹے بھائی بنیامین کو بھی ساتھ لے آنا اور اگر تم ” بنیامین “ کو ساتھ نہ لائے جس کے متعلق تم نے خود کہا ہے کہ ایک ہمارا بھائی اور بھی ہے تو تم کو غلہ بالکل نہین دیا جائے گا۔ برادران یوسف نے کہا کہ ہم اپنے والد سے کہیں گے اور ہر طرح ترغیب دیں گے اور وہ بن یمین کو ہمارے ساتھ بھیجنے پر راضی ہوجائے گا۔ اس طرح جب وہ وہاں سے چلنے لگے اور یوسف (علیہ السلام) سے رخصت ہونے کے لئے آئے تو انہوں نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ وہ ان کی پونجی جو انہوں نے غلہ حاصل کرنے کیلئے دی ہے ان کو واپس کردیں اور دیکھو کہ یہ پونجی ان کو اس وقت واپس کرنا جب وہ اپنے گھر پہنچ جائیں تاکہ کسی قسم کی کوئی تکرار نہ ہو اور اس احسان کی بدولت وہ دوبارہ یقینا حاضر ہوں گے۔
جب یہ قافلہ کنعان پہنچا تو یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے بادشاہ کے حسن سلوک اور اپنے غلہ حاصل کرنے کا سارا قصہ اپنے باپ کو سنا دیا اور یہ بھی عرض کردی کہ عزیز مصر نے ہم کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ تم ائندہ اس وقت تک یہاں نہ آنا اور نہ ہی تم کو غلہ دیا جائے گا جب تک کہ تم اپنے بھائی کو ساتھ نہ لائے لہٰذا اب اگر ہم کو دوبارہ جانا ہو گا تو بن یمین کو بھی ساتھ لے جانا ہوگا اس لئے آپ کو اسے ہمارے ساتھ بھیجنا ہوگا اور ہم اس کی مکمل حفاظت کریں گے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بھی ان کو اس وقت صاف کہہ دیا کہ میں تم پر اعتماد کروں یہ کیسے ممکن ہے ؟ اس لئے کہ تم پر تو میں اس سے پہلے ایک بار یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اعتماد کرچکا ہوں ؟ حفاظت کرنے پر والا فقط وہ ذات اللہ ہے اور وہی سارے حفاظت کرنے والوں سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔
ازیں بعد جب انہوں نے اپنا سامان کھول کر یوسف (علیہ السلام) کے کارندوں کو واپس کرنا چاہا تو ان کو وہ پونجی جو وہ مصر میں دے کر آئے تھے انہوں نے واپس کردی تو یہ دیکھ کر وہ اپنے باپ سے دو بار مخاطب ہوئے کہ اے باپ اس سے زیاہ اور ہم کو کیا چاہئے کہ دیکھو یہ پونجی بھی ہم کو واپس کردی گئی ہے۔ اس نے تو ہم پر بہت مہربانی کی کہ غلہ کی قیمت بھی وصول نہ کی اور غلہ بھی ہم کو زیادہ دیا اور مفت دیا اور اب اگر ہم بن یمین کو ساتھ نہ لے کر گئے تو غلہ سے بھی یقینا محروم رہیں گے اور اگر اس کو ساتھ لے جائیں گے تو ہم خود بھی غلہ لائیں گے اور ین یمین کا حصہ کا بھی جو اک اونٹ کا بوجھ ہوگا مزید ساتھ لائیں گے۔ اب یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہرگز میں تمہارے ساتھ بن یمین کو نہیں بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام پر مجھ سے عہد نہ کرو اور وہ یہ کہ جب تک تم خود نہ گھیر لئے کجائو تو تم اس کو ضرور میرے پاس لائو گے پھر ان سب نے متفق ہو کر اور سوچ سمجھ کر باپ کے سامنے اس کا پختہ عہد کیا اور ہر طرح اطمینان دلایا تب حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ جو کچھ ہوا محض اسباب ظاہری کی بناء پر ہے ورنہ کیا تم اور کیا تمہاری حفاظت اور کیا ہم اور کیا ہمارا عہد۔ ہم سب کو اپنے اس معاملہ کو اللہ کے سپرد کرنا چاہئے کہ وہی اصل میں ہرچیز کا نگہبان ہے۔
اس عہد و پیمان کے بعد برادران یوسف کا قافلہ دوبارہ کنعان سے مصر کو روانہ ہوا اور اس مرتبہ بن یمین بھی ان کے ہمراہ ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے رخصت کرتے وقت پھر ایک نصیحت کی وہ یہ کہ دیکھو تم بھائی ایک دروازہ سے مصر میں داخل نہ ہونا بلکہ متفرق دروازوں سے شہر میں داخل ہونا اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس نصیحت سے میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم اس تدبیر پر مغرور ہونے لگو کیونکہ میں تم کو کسی ایسی بات سے نہیں بچا سکتا جو اللہ کے حکم سے ہونے والی ہو۔ اصل حقیقت حال سے تو اللہ ہی واقف ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی پر تم بھی بھروسہ رکھو۔ اس نصیحت کے جو احتمالات مفسرین نے ذکر کئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی ہو سکتا ہے اور اسی طرح یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس معمولی سی بات سے ہی معلوم ہوجائے کہ بیٹے باپ کی نصیحت کے مطابق کام کرتے ہیں یا باہر جانے کے بعد خود اپنی ہی مرضی کرنے کے عادی ہیں جب واپس آئیں گے تو اس بات کی وضاحت ہوجائے گی۔
قرآن کریم کے بیان کے مطابق اس دفعہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق ہی شہر میں داخل ہوئے اور جب سب کے سب یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے بھی سب بھائیوں کو الگ ٹھہرایا اور بن یمین کو ان سے الگ تھل ایک دوسرے مقام پر رکھا اور اس پر اپنا سارا قصہ بیان کردیا اور جو کچھ بنیامین کے ساتھ ان کے بعد ہوتا رہا وہ سب کچھ ان کی زبان سے سن لیا اور اپنے سارے بھائیوں کی خوب مہمان نوازی کی اور ان کے سامان کو تیار کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ جب ان کے قافلہ کی روانگی کا وقت قریب آیا تو ان سب کی آخری ضیافت کا انتظام اس مقام پر کیا جہاں بن یمین کو ٹھہرایا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم نے بیان فرمایا کہ ” جب ان کا سامان تیار ہوگیا تو ” جل السقایۃ فی رجل اخیہ “ ان کے کھانے پانی کا انتظام اپنے بھائی بن یمن کی رہائش گاہ پر کیا تاکہ یہیں سے سب رخصت ہوجائیں ا۔
قدرت الٰہی کی کرشمہ سازیاں دیکھئے کہ کارندوں نے جب ان کا سامان تیار کیا تو کسی کارندہ سے شاہی ماپ کا آلہ یعنی صواع ان کی ثلیتوں میں سے ایک شلتے میں رہ گیا۔ وہ اس طرح کہ ایسے مقام پر جہاں اس طرح کے کام ہوتے ہیں کئی ایک ترازو ‘ کئی ایک ماپنے کے اوزار موجود ہوتے ہیں جن کی گنتی بھی یقینا ہوتی ہے لیکن اس وقت جب کام ختم ہوجاتا ہے اور یہی کچھ یہا ہوا کہ کسی کارندہ سے ہی غلطی سے ماپنے کا آلہ ایک شلیتے میں رہ گیا اور وہ کسی کام میں مصروف ہوا اور جب دوبارہ ماپنے لگا تو کسی اور آلہ کو اٹھا کر ماپنے لگا اور اس طرح پہلا ماپنے کا آلہ ینی صا اس شلیتے میں رہ گیا اور اس طرح ان کا سامان تیار کرا دیا گیا اور اس تیاری کے وقت یہ بھی ممکن ہے کہ ان کو پاس بلایا گیا ہو اور انہی بھائیوں میں سے کسی نے نظر بچا کر وہ صاع اس شلیتے میں ڈال دیا ہو اس کا احتمال بھی یقینا موجود ہے کہ عادت میں یہ چیز یقینا راسخ تھی اور وہ اب چاہتے تھے کہ یوسف کے بجائے بن یمین کے ساتھ بھی کوئی چلتر کر جائیں جس سے اس کی سبکی ہو اور اس وقت بھی اپنے سے علیحدہ بنیامین کی رہائش کا بندوبست کیا جانا ان کو ایک آنکھ نہ بھاتا تھا لیکن یہاں وہ کہہ بھی کیا سکتے تھے۔
مختصر یہ کہ جب ان کا سامان تیار کردیا گیا اور جس جگہ ان کی ضافت کا سامان کیا گیا تھا وہاں سے وہ رخصت ہو کر سامان لاد کر نکل چکے تھے کہ کارندوں نے جب ساری چیزیں سنبھال لیں تو ایک صاع کو گم پایا چونکہ یہی وہ پہلا قافلہ تھا جس کو یہاں سے انہوں نے رخصت کیا تھا وہ اس یقین کے ساتھ کہ ان کا یہ پیمانہ انہی کے سامان میں ہوگا انہوں نے اس قافلہ کو پیچھے سے جا لیا اور ان کو کہا کہ تم نے ہماری چوری کرلی کیا تم ایسے لوگ ہو ؟ قافلہ والوں نے جب ان سے پوچھا اور محکمے کے دوسرے لوگ بھی وہاں پہنچے ‘ تحقیق ہوئی تو انکو بتایا گیا کہ ہمارا ماپنے کا ایک آلہ گم ہے اور وہ یقینا اس قافلہ والوں کے پاس ہے۔ قافلہ والوں نے ان کو یقین دہانی کی کوشش کی لیکن بات تلاس پر جا کر ٹھہری حالانکہ اس سے پہلے کارندوں میں سے ایک نے ان کو یہاں تک کہا کہ اگر تم ہمارا ماپنے کا آلہ واپس کر دو تو تم کو ایک اونٹ کا بوجھ اور دے دیا جائے گا لیکن جب وہ تسلیم ہی نہ کر پائے تو سارے سامان کی تلاشی شروع ہوگئی۔ ان سب بھائیوں کے شلیتے دیکھے گئے اور انجام کار وہ آلہ بن یمین کے شلیتے سے نکل آیا خواہ انہی بھائیوں میں سے کسی کا یہ کام تھا یا اتفاق تھا۔
بہرحال چونکہ وہ یہ بات بھی پہلے کہہ چکے تھے کہ جس کے سامان سے وہ وہ نکلے گا وہی اس کے عوض میں اس کی سزا پائے گا اب بن یمین کو روک لینا ضروری قرار دیا گیا اور وہ روک لئے گئے اور خود مصر کے قانون کے مطابق بھی یہی ضروری تھا کہ سزا کا مستحق وہی ہے جس کے ذمہ جرم ہے تاہم بن یمین ابھی ملزم ٹھہرے تھے مجرم نہیں اور ملزم بلاشہ نظر بند تو ہوتا ہے لیکن اس بات کی تحقیق بھی کی جاتی ہے کہ آیا یہ ملزم مجرم ہے یا نہیں۔ اس وقت جب بن یمین کو روک لیا گیا تو قافلہ والوں نے بلاشبہ منت و سماجت بھی کی اور یہ بھی کہا کہ ہم میں سے کسی ایک کو روک لیا جائے اور بن یمین کو چھوڑ دیا جائے لیکن قانون اس بات کی اجازت کب دیتا ہے اور کسی حال میں بھی جائز نہ تھا اور نہ اب ہے۔ ان سب بھائیوں نے بن یمین کے روک لئے جانے کے بعد آپس میں مشورہ کیا تو ان میں سے ایک نے تو واپس جانے سے انکار کردیا اور باقی کو اس نے کہا تم جائو اور والد سے کہہ دو کہ یہ صورتحال ہوئی ہے اور اس طرح تیرے بیٹے نے چوری کی ہے لہٰذا وہ روک لیا گیا ہے اور تافیصلہ وہ واپس نہیں آسکتا۔
قرآن کریم نے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ بن یمین کو بادشاہ کے قانون کے مطابق روک تو لیا گیا لیکن اللہ نے ویسف (علیہ السلام) کو وہ تدبیر بتا دی جس کے ضمن میں بن یمین کو مجرم قرار نہ دیا جاسکا اور وہ باعزت طور پر الزام سے بری الذمہ قرار پا گئے اور اصل بات وہی ہے کہ مشیت ایزدی میں ان کا بھائیوں کے ساتھ جانا خطرہ سے خالی نہیں تھا اس لئے ان کے رک جانے کی ایک صورت پیدا ہوئی خواہ کسی بھائی کے ایسا کرنے سے ہوئی یا اتفاق سے ایسا ہوا اس کیلئے جو بات بھی ہوی وہ خود بن یمین کے حق میں بھی مفید ہی ثابت ہوئی ورنہ جس طرح بن یمین کو بھائیوں سے علیحدہ رکھا گیا تھا اگر یہ بھائیوں کے ساتھ واپس جاتے تو راستہ ہی میں نہ معلوم کیا کچھ ہوجاتا قدرت الٰہی نے ان سارے احتمالات کا راستہ بن کردیا اور بھائیوں کو مل کر رہنے کیلئے ایک راستہ ہموار کردیا۔
ہمارے مفسرین نے جو یہ بات تحریر کی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے خود اپنے بھائی کے ثیلتہ میں وہ ماپنے کا آلہ رکھا تھا اور پھر یہ بھی لکھا کہ ماپنے کا آلہ اور بادشاہ کے پانی پینے کا برتن چونکہ ایک ہی تھا اس لئے اس کو مقایہ کہا گیا ہے یہ محض تورات کے بیان کی نقل ہے قرآن کریم نے اس کا مطلق اس طرح بیان نہیں دیا اور نہ ہی یہ بات قرین عقل و قیاس ہے کہ بادشاہ وقت کے پینے کا پیالہ اور گلہ ماپنے کا صاع اک ہی چیز کے دو نام ہوں۔ پھر اس پر طرہ یہ کہ مفسرین نے یہ کام جو سراسر غلط اور کسی قانون کے مطابق بھی صحیح اور درست نہیں قرار دیا جاسکتا خواہ مخواہ اللہ کے ذمہ لگا دیا کہ یہ تدبیر اللہ نے یوسف (علیہ السلام) کو سکھائی تھی اور اس طرح یہ بھی کہ مفسرین نے یہ سارا کام اس لئے جائز رکھا کہ بن یمین کو روکنے کی کوئی صورت سوائے اس کے نہ تھی ایک فرضی بات ہے ان لوگوں کو یہ بھی سمجھ میں نہ آیا کہ بن یمین کو تو اس طرح روک لیا لیکن اس کا بھائی جس نے خود جانے سے انکار کردیا وہ اس جگہ کیسے رہ گیا ؟ اگر خود اپنے سے کوئی رہ سکتا تھا تو بہتر تھا کہ بن یمن کو کہا جاتا کہ آپ جانے سے انکار کر دں اور ہم آپ کے انکار کے باعث نہیں جانے دیں گے اور بھائی باپ کو کہہ دیں گے کہ تیرے بیٹے نے وہاں سے آنے سے انکار کردیا ہے تو ہم کیا کرسکتے ہیں ؟
اچھا جو بیٹے واپس گئے انہوں نے باپ کو جا کر صاف صاف کہہ بھی یا کہ تیرے بیٹے نے چوری کی ہے اس لئے وہ اس چوری کے باعث روک لیا گیا تو باپ نے جو نبی و رسول بھی ہے فوراً وہی جواب دیا جو یوسف (علیہ السلام) کے وقت دیا گیا تھا اس لئے کہ اس کو اتنا پختہ یقین تھا کہ بیٹے کو جو کہہ رہے ہیں وہ بالکل جھوٹ ہے اور اسی طرح وہی بات یعقوب (علیہ السلام) نے اس وقت ارشاد فرمائی اور فرمایا کہ ” تمہاری جانوں نے ایک بات گھڑ لی ہے ایسا کبھی ممکن نہیں کہ بن یمین نے چوری کی ہو لیکن اب صبر کے سوا کیا چارہ ہے اور اللہ کے سوا کون ہے جو اس عقدہ کو حل کرے لیکن عین ممکن ہے کہ یہ کوئی سبب سب کے واپس آنے کا ہو حقیقت حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ یعقوب (علیہ السلام) ابھی تک یوسف (علیہ السلام) کی ملاقات سے مایوس نہیں تھے اگرچہ دل بہت دکھی تھا اور جی چاہتا تھا کہ کسی طرف سے کوئی خبر اس طرح کی آئے۔ چناچہ بن یمین کی اس جدائی نے یوسف کی جدائی کا غم پھر تازہ کردیا اور زبان سے نکلا تو یہ نکلا کہ ” ہائے یوسف ! اور اس آہ کے ساتھ ہی دل ہی دل میں گھٹا جا رہا تھا اور اس کی آنکھیں پھر بھر آئیں اور ڈبڈبا گئیں۔ بیٹوں نے اس کی یہ حالت دیکھی تو نہ رہ سکے اور کہنے لگے کہ خدا را ! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کئے جاتے ہیں اور نوبت یہ آگئی ہے کہ غم میں اپنے آپ کو گھلا رہے ہیں اور اس طرح اپنی جان کو ہلاک کردیں گے “۔
پھر یعقوب (علیہ السلام) بیٹوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے کہنے لگے کہ بیٹو ! جائو وہیں سے جا کر کہیں یوسف کی ٹوہ لگائو اور اس کے بھائی بن یمین کی خبر بھی لو اور وہاں رہ جانے والے بھائی کا حال بھی معلوم کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اس لئے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے مگر وہی جو ناشکرے اور نقدرے ہوں اور اس طرح کہہ کہلا کر ان کو پھر مصر جانے پر آمادہ کردیا اور وہ سب کے سب مل کر پھر مصر کے سفر کیلئے تیار ہوگئے۔ بلاشبہ قرآن کریم نے پھر ان درمیانی واقعات کو چھوڑ کر اصل واقعہ کا ذکرفرما دیا کہ انجام کار وہ وقت پھر آگیا اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی تیسری بار مصر میں پہنچ گئے لیکن بجائے اس کے کہ وہ بن یمین کی کوئی بات پوچھتے یا یوسف کی کوئی ٹوہ لگاتے یا اس پیچھے رہ جانے والے بھائی کا حالمعلوم کرتے تو انہوں نے کہا تو صرف یہ کہ اے عزیز مصر ! ہم کو اور ہمارے اہل و عیال کو بہت دکھ پہنچا ہے اور ہماری حالت بہت خراب ہے اور ہمارے پاس غلہ کیلئے مکمل رقم بھی نہیں پس ہم پر کوئی صدقہ و خیرات کرو اور ہم کو پورا پورا ماپ عطا کر دو تاکہ ہمارے یہ دن کٹ جائیں کہ اللہ صدقہ و خیرات کرنے والوں کو اپنے پاس سے جزا عطا فرماتا ہے۔
ان کے اس لہجے پر یوسف (علیہ السلام) کو یقینا ترس آگیا اور ان سے دبی زبان سے پوچھ لیا کہ تم کو معلوم ہے کہ تم نے یوسف کے متعلق کیا کیا تھا ؟ اور اس کے بھائی بن یمین کے ساتھ کیا کچھ کرچکے ؟ اس اک ہی سوال نے ان پر ساری حقیقت حال کھول دی اور وہ پہچان گئے اور موہکت ہو کر کہنے لگے کہ کیا تم یوسف ہو ؟ یوسف (علیہ السلام) نے بھی ذرا مسکرا کر فرمایا کہ ہاں ! میں ہی یوسف ہوں اور یہ بن یمین میرا بھائی ہے اور ذرا سنبھل جائو اللہ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے کہ مجھ کو ملک مصر کا مختار عام بنا دیا ہے اور میرے بھائی کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دلا دیا ہے جو اس پر خواہ مخواہ رکھا گیا تھا اور آپ کی اور میرے سارے خاندان کی مصیبت کے دن کٹ چکے ہیں اور اللہ نے حالات کو خود سنبھالا دے دیا ہے۔ بھائیوں نے ہاتھ جوڑنے کی کوشش کی اور معذرت کرنی چاہی لیکن یوسف (علیہ السلام) نے ان کو ایسا کرنے سے بالکل روک دیا اور آگے بڑھ کر سب کو گلے ملے اور پورے انشراح کے ساتھ ان سے ارشاد فرمایا کہ اب گھبرانے کی کوئی بات نہیں تم پر کسی طرح کی کوئی تنگی نہیں کی جائے گی اگر تم حسد نہ کرتے ‘ مجھے کنوئیں میں نہ گراتے تو میں یہاں تک کیسے پہنچتا ؟ اس لئے جو کچھ ہوا وہ ہم سب کی اپنے اپنے مقام پر آزمائش تھی اور اللہ نے آزمائش کی گھڑیاں ختم کردیں اب تم واپس جائو اور یہ میری قمیض لے جائو اور والد کے سامنے رکھوگے تو وہ یقینا اس بات کی تہ تک پہنچ جائیں گے اور اس وقت تمہاری اس بات کا یقین ان کو آجائے گا اور ان کو اور اپنے سارے اہل و عیال کو وہاں سے اٹھا کر یہاں مصر میں لے آئو اور اب بدوی زندگی ترک کر کے شہری زندگی کو اختیار کرو اس ملک کے انتظام و انصرام میں میرے ہاتھ مضبوط کرو اور اللہ سے اپنے کئے کی معافی دل کھول کر مانگ لو یہی سارے کئے کا بہترین علاج ہے اور کتنا خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو زندگی ہی میں یہ موقع ہاتھ لگ جائے یقینا آپ سب کامیاب و کامران ہوگئے ہیں اور دکھ کی گھڑیاں اب گزر چکی ہیں اور اللہ نے اپنا خاص کرم فرما دیا ہے۔
ادھر یہاں سے قافلہ کنعان کو چلا اور ادھر یعقوب (علیہ السلام) کو نبوی فراست یا پیغام خداوندی سے یہ اطلاع مل گئی اور وکہنے لگے کہ اب ہوا کا رخ بدل چکا ہے اور مجھے یوسف کی خوشبو محسوس ہونے لگی ہے۔ گھر کے باقی لوگ جو اس وقت وہاں ان کے پاس موجود تھے وہ کہتے رہے کہ اب ایسی باتوں سے کیا ہوتا ہے یہ تو تمہاری بڑی پرانی بھول ہوچکی ہے کہ تم نے آج تک یوسف کا نام نہیں بھلایا ادھر دن رات انہی باتوں میں کٹ رہے تھے کہ ادھر قمیض لے کر حاضر ہونے والا خدمت گرامی میں پہنچ گیا بس اس کا قمیض رکھنا تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) پر بھی سارا حال منکشف ہوگیا اور ان کی بصیرت نے سارا معاملہ سمجھ لیا اور کہنے لگے اب بتائو جو میں تم کو کہتا تھا وہ اللہ نے سچ کر دکھایا یا نہیں ؟ اور فرمایا کہ میں بار بار جو ایسا کہا تھا تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ میں اللہ کے علم سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اب وہ سارے اپنے باپ کے سامنے ہاتھ جو رنے لگے اور معافی طلب کرنے لگے اور یہ بھی کہا کہ خود معاف فرمائیں اور اللہ سے بھی ہمارے لئے معافی کی درخواست کریں اور ہم اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ ہم خطاکار تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) اللہ کے رسول اور نبی بھی تھے ان کے باپ بھی۔ انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت اپنے بیٹوں کو معاف کردیا اور اللہ سے معافی طلب کرنے کا بھی وعدہ فرمایا اور سب مل کر اب اس وطن کو ترک کر کے مصر کو اپنا وطن بنانے کیلئے کنعان سے مصر کی طرف چل دیئے۔ یوسف (علیہ السلام) کو جب معلوم ہوا کہ میرا خاندان اور میرے خاندان کا سردار یعقوب (علیہ السلام) مصر پہنچنے والے ہیں تو بڑا پرتپاک استقبال کیا اور ان کو تخت پر بٹھایا اور ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں پھیل گئیں اور یوسف (علیہ السلام) نے اس ساری بات کو اسی خواب کی تعبیر پر محمول فرمایا اور اس طرح یوسف (علیہ السلام) کا پورا خاندان مصر میں آباد ہوگیا اور حکومت میں یوسف (علیہ السلام) کی معاونت اور مدد کرنا شروع کردی اور یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کا خاص شکر ادا فرمایا اور دعا کی اے اللہ ! جس طرح تو نے مجھے دنیا میں اچھا اور ایک اعلیٰ مقام عطا فرمایا میری آخرت کو بھی سنوار دے کہ دنیا و آخرت کو سنوارنے والا تو ہی ہے اور تو ہے جو سب کی بگڑی بنانے والا ہے اور تیرے سوا دوسرا کوئی نہیں۔
یوسف (علیہ السلام) کا یہ عجیب و غریب قصہ ارباب بصیرت کیلئے اپنی آغوش میں نہایت اہم اخلاقی مسائل رکھتا ہے۔ دراصل یہ قصہ ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ فضائل اخلاق کی ایسی زریں داستان ہے جس کا ہر پہلو موخطت و بصیرت کے جواہر سے لبریز ہے۔ قوت امانی ‘ استقامت ‘ ضبط نفس ‘ صبر و شکر ‘ عفت ‘ دیانت و امانت ‘ عضو و درگزر ‘ جذبہ ایثار ‘ جذبہ قدر و منزلت ‘ جذبہ تبلیغ و اعلاء کلمۃ اللہ کا عشق اور اصلاح وتقویٰ جیسے اخلاق فاضلہ اور صفات کلمہ کا ایک نادر سلسلۃ الذہب ہے جو اس قصہ کے ہر نقش میں منقش نظر آتا ہے مگر ان میں سے چند باتیں خصوصاً قابل ذکر ہیں اس لئے اختصار کے طور پر پیش خدمت ہیں۔
1۔ قرآن کریم میں جتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) کے قصص بیان کئے گئے ہیں سب میں سے ” احسن القصص “ یوسف (علیہ السلام) ہی کے قصہ کو کہا گیا ہے اور یہی وہ نبی ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کی زبان اقدس سے کریم بن کریم بن کریم بن کریم کے لقب سے ملقب فرمایا ہے اور یہ وہ قصہ ہے جو اخلاق کریمانہ اور صفات عالیہ اور ہر لحاظ سے شرف و مجد کا حامل ہے۔ اور سب سے زیادہ انسانی زندگی کی نصیحتیں موجود ہیں اور عقل انسانی فی الواقعہ اس قصہ کو پڑھ کر محو حیرت ہوجاتی ہے۔
2۔ کوئی انسان ایک واقعہ کو بیان کرے تو سامعین کا فرض ہے کہ وہ خود اس بات کا فیصلہ کریں کہ جو بیان کیا گیا ہے وہ ایقاظ کا معاملہ ہے یا نیام کا اور جو بات ایقاظ میں ممکن نہ ہو اس کو نیام پر محمول کرسکتا ہے جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنا جو واقعہ یعقوب علہل السلام کے سامنے بیان فرمایا وہ کود اس بات کی دلیل تھا کہ یہ واقعہ خواب کا ہی ‘ عالم بیداری کا نہیں اور کسی ہونے والے نبی کا خواب بھی وہی اہمیت رکھتا تھا جو نبی ہو چکنے والے کا اہمیت رکھتا تھا اور یہ کہ خواب اس کو کہا جاتا ہے جو تائید الٰہی سے ہو خواہ وہ کسی کا بھی ہو جو تائید الٰہی سے نہ ہو وہ اصنغاث واحلام میں داخل ہے اور ہر نبی کا خواب تائید الٰہی سے ہوتا تھا شیطان کی طرف سے ممکن ہی نہ تھا۔
3۔ ہر غیر نبی میں کمزوریاں اور غلطیاں ہو سکتی ہیں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے سوا کوئی شخص بھی معصوم نہیں ہوتا خواہ وہ کون ہو یہاں تک کہ وہ انبیائے کرام کی اولادیں ہی کیوں نہ ہوں اور یہ بھی کہ غلطی کا سرزد ہوجانا اتنا برا نہیں جتنا غلطی کرنے کے بعد اس کو تسلیم نہ کرنا غلط ہے کیونکہ یہی وہ غلطی ہے جو انسان کو انسانیت سے نکال کر شیطان الائونس میں داخل کردیتی ہے۔
4۔ اولاد ہونے کے ناطہ سے ساری اولاد کہلاتی ہے اور وراثت بھی سب میں بحصہ مقرر تقسیم ہوتی ہے لیکن دلی لگائو کسی ایک اولاد سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے جو فطرتی چیز ہے اور ایسا ہونا اسلام میں کوئی جرم نہیں بشرطیکہ وہ اچھی عادات و خصائل کے پیش نظر ہو ضد یا ایچ اس میں شامل نہ ہو۔
5۔ اگر کوئی گروہ یا جماعت کسی برائی پر تل جائے اور ممکن ہو تو اس کو اس سے باز رکھنے کی کوشش کرنی ہی چاہئے اور اگر بالکل باز نہ رکھا جائے تو کسی کم برائی کی طرف اگر وہ پھرجائے تو بھی کوشش کرنی چاہئے تاکہ بڑی برائی سے ان کو بچایا جاسکے یا جس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے اس کے ساتھ کم سے کم زیادتی ہو بڑی زیادتی سے اس کو بچایا جاسکے۔
6۔ اعزہ و اقارب میں مجبوری کے تحت بھی اس کام کو کیا جاسکتا ہے جو شرعاً برا نہ ہو لیکن صرف دل اس کو قبول نہ کرے اور اس طرح عزیز و اقارب کی یہ رعایت بھی کی جاسکتی ہے کہ ان کی غلطی کو غلطی کہتے ہوئے ان کے ساتھ میل جول یا آمدورفت رکھی جائے۔
7۔ دکھ ‘ تکلیف اور مصیبت سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے لیکن اس کے باوجود اگر کوئی دکھ ‘ تکلیف یا مصیبت پہنچ جائے تو اس پر جزع و فزع کرنے کی بجائے صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ آہ و بکا اور واویلا کرنے سے سوائے نقصان کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
8۔ بعض دفعہ کوئی دکھ ‘ تکلیف اور مصیبت بطور آزمائش بھی آجاتی ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ آزمائش میں ثابت قدم رہنے سے انسان ہمیشہ عزت و شرف اور بزرگی حاصل کرتا ہے اور حق پر ثابت قدم رہنے سے دین و دنیا دونوں میں فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
9۔ برائی پر اگر کوئی آمادہ کرنے والا پوری کوشش سے بھی آمادہ کرے تو آمادہ نہیں ہونا چاہئے ‘ ہم برائی کرنے والے کے ساتھ بھی برائی کرنا اسلام کی تعلیم نہیں۔ برائی نہ کرنے کے باعث اگر کوئی ندامت اور شرمندگی میسر آجائے تو اس کو باعث ندامت اور شرمندگی نہیں سمجھنا چاہئے اور اپنی بریت اگر ممکن نہ ہو تو خاموشی اختیار کرنے سے بھی ایک نہ ایک روز اس کی حقیقت کھل جاتی ہے ‘ گھبرانے سے انسان کو سوائے کمزوری کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
10۔ اپنے بزرگوں کے سامنے حق بات کو بیان کرتے وقت اس کو اس انداز میں بیان کیا جاسکتا ہے کہ سانچ پر آنچ بھی نہ ائے اور ان کے دل پر اس کا برا اثر بھی نہ پڑے اس کو حکمت عملی کہا جاتا ہے اور حکمت عملی سے کام لینا دانش مندی ہے کوئی برائی نہیں جیسا کہ عزیز مصر کے سامنے عزیز مصر کی بیوی کے ایک رشتہ دار نے اپنا بیان دیا تھا جو سراسر حکمت پر دال تھا اور اس ایک سچ کو اس طرح بیان کیا کہ سننے والے نے برا محسوس نہیں کیا اور حقیقت بھی اس کے کانوں نے بڑی وضاحت سے سن لی۔
11۔ غلام اور خادم یعنی نوکر و ملازم کو اگر آقا ایسے کام کا حکم دے جس کو عرف عام میں لوگ برا اور معیوب نہ کہتے ہوں اگرچہ فی الحقیقت وہ معیوب ہو اس کو بادل نخواستہ سرانجامدینا کوئی برائی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نیتوں اور رازداریوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
12۔ کسی برائی کو اگر اکثریت برائی تسلیم نہ کرے تو وہ نیکی نہیں متصور ہو سکتی بلکہ برائی برائی ہی رہتی ہے اس لئے اکثریت کا کسی کام کو کرنا چھائی یا نیکی کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا۔
13۔ اللہ کے بندوں کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ جس حال میں بھی ہوں اللہ کی بات کرنے سے باز نہیں رہتے ماننا یا نہ ماننے سننے والوں کی اپنی ذمہ داری ہے کسی بھی حق بیان کرنے والے کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ لوگوں سے حق منوائے ورنہ خاموش رہے۔
14۔ حق پر قائم رہنے کے باعث جو تکلیف بھی برداشت کرنا پڑے اس کو برداشت کرلینا جواں مردی ہے اور اسلامی شیوہ ہے حتیٰ کہ حق پر جان کی بازی لگا دینا بھی بہت ضروری ہے ۔ جان بچانا فرض ہے محاورہ غلط العام ہے اور پھر غلط العام کو صحیح کہہ دینے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہ۔
15۔ دیانت و امانت ایک ایسی نعمت ہے کہ اس کو انسان کی دینی و دنیوی سعادتوں کی کلید کہنا چاہئے۔ بادشاہ مصر کے یہاں یوسف (علیہ السلام) جس طرح داخل ہوئے تھے واقعہ کی تفصیلات سے معلوم ہوچکا ہے یہ حضرت یوسف کی امانت و دیانت کا نتیجہ تھا کہ پہلے وہ بادشاہ مصر کی نظروں میں بلندو باوقار اور محبوب بنے پھر مصر کی حکومت کے مالک ہوگئے۔
16۔ غیر اسلامی حکومت کے ساتھ تعاون کرنا جب کہ تعاون اسلام کی اقدار کے خلاف نہ ہو جائز اور مستحسن ہے تاکہ حکومت وقت کو اسلام کے اصولوں سے روشناس کرایا جاسکے۔
17۔ عزت نفس اگر احقاق حق کے خلاف نہ ہو تو اس کی حفاظت نہایت ضروری اور لابدی چیز ہے جو شخص خودداری اور عزت نفس سے محروم ہے وہ انسان نہیں بلکہ فقط ایک مضعہ گوشت ہے۔
18۔ کسی بات کو مخفی رکھنا اور ظاہر نہ کرنا کوئی گناہ کی بات نہیں جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو پہچاننے کے باوجود ان پر اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا۔
19۔ یہ بات قطعاً غلط ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے خود بنیامین کے ثلیتہ میں ماپنے کا آلہ رکھا تھا اور یہ کہنا کہ اس کو بتا دیا تھا لہٰذا خلاف واقعہ نہ ہوا یہ بات بھی بالکل غلط ہے بلکہ صاع کسی کارندہ کی غلطی سے رکھا گیا یا دوسرے بھائیوں میں سے کسی کی شرارت تھی کیونکہ وہ بنیامین کو بھی اسی طرح ناپسند کرتے تھے جیسے یوسف (علیہ السلام) کو ناپسند رکھتے تھے۔
20۔ یہ بات بھی بالکل صحیح نہیں ہے کہ بادشاہ کے پینے کا پیالہ اور غلہ ماپنے کا صاع ایک ہی چیز تھا ہاں ! جو گم ہوا تھا وہ صاع تھا جو ماپنے کا آلہ تھا اور پیالہ کا تصور ہی سرے سے غلط ہے۔ مقایہ سے مراد ان کے کھانے پینے کا انتظام ہے جیسا کہ اس کے مقام پر اس کی وضاحت کردی گئی ہے۔
21۔ کدنا سے مراد وہ تدبیر الٰہی ہے جو یوسف (علیہ السلام) کو بنیامین سے اس الزام سے بری کرانے کیلئے اللہ نے سمجھائی اور بتائی تھی جو الزام اس کی بوی سے صاع نکلنے کی وجہ سے اس پر عائد کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو بہتان سے بچنے کی تلقین کرتا ہے۔ بہتان لگانے کی ہدایت کبھی نہیں دیتا۔
22۔ یہ بات بھی بالکل بناوٹی ہے کہ بنیامین کو ٹھہرایا نہیں جاسکتا تھا چناچہ اس کو ٹھہرانے کیلئے ایسا بتایا گیا۔ قرآن کریم کا سیاق خودبتا دیا ہے کہ یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ جب بھائیوں نے مشورہ کیا تو ایک نے خود یہاں سے نہ جانے کے عزم کا اظہار کیا بلکہ یہیں رہ گیا اگر یہاں ٹھہرنے یا رہ جانے کی اتنی سخت ممانعت ہوتی تو وہ کیسے رہ گیا ؟
23۔ جب کوئی شخص اپنے کئے پر پشیمان ہوجائے تو اس کو بار بار جتانا اور اس کی سبکی کرنا جائز نہیں بلکہ اس کو جب اپنی غلطی کا احساس ہوجائے تو دیر لگائے بغیر خود آگے بڑھ کر معذرت کر لینی چاہئے جیسا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کے ساتھ کیا لیکن یہ کسی کی ذاتی غلطیوں کے متعلق ہے ‘ قومی غلطی کو ایک فرد کی غلطی قرار نہیں دیا جاسکتا۔
24۔ بصیرت کی باتوں کو بصرت ہی سے سمجھا جاسکتا ہے ان پر بصارت کا اصرار جائز نہیں بلکہ بصیرت کا مقام بصارت سے بھی اوپر ہے۔
25۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بصرت بصارت سے بہت تیز ہوتی تھی اور ان کی بصیرت کے فیصلے عام لوگوں کی بصارت کے فیصلوں سے بھی اونچا مقام رکھتے تھے اور زیادہ صحیح ہوتے تھے بلکہ کبھی غلط نہیں ہوتے تھے۔
26۔ جن لوگوں نے صرف بنیامین کے مصر میں روکے جانے کو خلاف قانون سمجھا ہے انہوں نے اس سارے خاندان کو یہاں آ کر آباد ہوجانے کا قانون کیسے بنایا تھا اگر نہیں بنایا تو پھر بی اسرائیل یہاں آ کر کیسے آباد ہوگئے ؟
27۔ کسی خواب کی تعبیر ضروری نہیں کہ اس وقت ظاہر ہوجائے بلکہ اس کے اظہار کیلئے ایک مدت بھی تسلیم کی جاسکتی ہے۔
28۔ بھائیوں ‘ دوستوں ‘ یاروں اور اٹھنے بیٹھنے والوں کے درمیان کوئی مناقشہ کھڑا ہوجائے تو اپنی طرف سے جتنا جلدی ہو سکے اس کو ختم کردینا چاہئے۔
29۔ دنیا میں جو کوئی کامیابی بصیب ہو تو اللہ کا شکر ادا کرنا ضروری ہے اس لئے کہ دراصل کامیابی عطا کرنے والا فقط وہی ہے اور اس کامیابی کے ساتھ آخرت کی کامیابی کی دعا کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ اصل کامیابی وہی ہے جو آخرت کی کامیابی ہے۔
30۔ تبلیغ دین کا فریضہ اگر نصیب ہوجائے تو بغیر کسی لالچ اور دنیوی غرض وغایت کے اس کو صرف اللہ کی رضا کیلئے ادا کرنا نہایت ضروری ہے اس کو ذریعہ معاش بنانا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے اس قصہ میں اتنی ہدایات ہیں کہ ان کا گننا اور شمار کرنا ہمارے بس کی بات نہیں۔ ہاں ! اس سورت کی بار بار تلاوت اور غور و فکر کرنے سے کتنی باتوں کی وضاحت خود قرآن کریم کردیتا ہے اس وضاحت کو قبول کرلینا چاہئے۔ ضد اور ہٹ دھرمی کسی حال میں بھی جائز و درست نہیں۔ اللہ ان ساری باتوں سے مستفد ہونے کی توثیق عطا فرمائے۔ آمین