13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 13:1

الٓمّٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ١ؕ وَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 13:1 in the Quran reader

الف۔ لام۔ میم۔ را۔ یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تیرے پروردگار کی جانب سے تجھ پر نازل ہوا ہے وہ امر حق ہے ، مگر اکثر آدمی ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے

٭٭٭ الف۔ لا … م … می … م … را… اے پیغمبر اسلام ! یہ کتاب کی آیتیں ہیں اور جو کچھ تیرے پروردگار کی جانب سے تجھ پر نازل ہوا ہے وہ امر حق ہے۔ مگر اکثر آدمی ایسے ہیں کہ ایمان نہیں لاتے۔ 1 ؎ یہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کردیا اور تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی ستون حروف مقطعات کے بعد بتایا گیا ہے کہ قرآن جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا وہ حق ہے۔ 1 ؎ الف … لا … م می… م را حروف مقطعات ہیں جو قرآن کریم کی انتیس سورتوں کے شروع میں آتے ہیں ان کا مفصل ذکر سورة البقرہ کی آیت اول میں کیا گیا اس لئے وہیں سے ملاحظہ فرمائیں۔ آیات کی نسبت جب اللہ تعالیٰ سے کردی گئی تو پھر اس کلام الٰہی کے محاسن اور خوبیوں کا کوئی اندازہ بیان کرسکے گا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ حق ہے اسی طرح اس کا کلام بھی یقینا حق ہے اس کیلئے کسی خارجی دلیل کی ضرورت کیا ہے ؟ غور کرو کہ اتنی واضح اور کھلی بات بھی اکثریت کی سمجھ میں نہیں آتی 2 ؎ قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت اور اس کے اعجاز بیان کے سامنے تو انہیں دم مارنے کی ہمت نہ تھی لیکن قرآن کریم کی دعوت کے تین بنیادی اصولوں سے انہیں اتنا شدید اختلاف تھا کہ وہ کسی قیمت پر ان کو ماننے کیلئے تیار نہ تھے۔ وہ تین بنیادی اصول کیا ہیں ؟ توحید الٰہی۔ 2۔ یوم قیامت ۔ 3۔ اور وحی الٰہی۔ یہ بات تو ان کی سمج میں نہ آتی تھی کہ ایک اللہ اتنی بڑی وسیع و عریض کائنات کے ان گنت مسائل سے کیسے عہدہ برآ ہو سکتا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ان کا یہ بیان اس طرح درج کیا ہے کہ : اجعل الا لھۃ الھا واحدا ان ھذا لشئی عجاب وانطلق الملاء منھم ان امشوا واصبرو علی الھتکم ان ھذا لشئی یرادہ (ص 38 : 5 ‘ 6)…“ کیا اس نے سارے خدائوں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا ؟ یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے اور سرداران قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبودوں کی عبادت پر۔ “ جب مشرکین مکہ کی یہ حالت تھی تو مزید پچھلی قوموں کا کیا حال ہوگا نیز غور کرو کہ جب کوئی قوم عقل و فکر سے کام لینا ترک کر دے تو اسکے عقائد و اعمال کا کیا حال ہوتا ہے ؟ اور یہی حالت آج بھی ہے اور انہیں تھامے ہوئے نہیں ہے۔ 3 ؎ پھر وہ اپنے تخت پر نمودار ہوا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا کہ ہر ایک اپنی ٹھہرائی ہوئی میعاد تک چلا جا رہا ہے۔ 4 ؎ وہی انتظام کر رہا ہے اور نشانیاں الگ الگ کر کے بیان کردیتا ہے تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ اپنے پروردگار سے ملنا ہے۔ 5 ؎ 2 قرآن کریم کا یہ کہنا کہ مرنے کے بعد تمہیں پھر زندہ کیا جائے گا اور قیامت کے روز تمہیں اپنے اعمال کی جواب دہی کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہوگا تو اسکو بھی اپنی عقل و دانش کے خلاف یقین کرتے ہوئے اس کا انکار کرتے تھے۔ خیال رہے کہ اس عقل و دانش سے مراد وہی عقل و دانش ہے جو ان کو ان کے قومی نظریہ نے دی تھی جو آج کل بھی لوگوں کے پاس عام ہے بلکہ اس سے سارا کام چلایا جاتا ہے یہ فطری عقل و دانش کا بیان نہیں ہے۔ وہ یہ ماننے کیلئے بھی تیار نہ تھے کہ کوئی انسان ایسا بھی ہوسکتا ہے جس پر وحی نازل ہو۔ یہ تین شبہات ان کے دل میں اس طرح جڑ پکڑ چکے تھے کہ ان کی موجودگی میں آفتاب سے روشن دلائل کے سامنے بھی وہ سر جھکانے کو تیار نہ تھے اور جہالت کی سب سے بڑی اور عام نشانی یہی ہے اس وقت بھی تھی اور آج بھی ہے۔ بہرحال اس سورت میں انہی تین شبہات کو پرزور طریقہ سے دور کیا گیا ہے لیکن یہی وہ باتیں ہیں جن کو اکثریت سمجھنے سے قاصر ہے اور اکثریت نے انکو نہیں مانا تو محض اپنی اکثریت کے بل پر نہیں مانا اور آج بھی بیسیوں ایسے مسائل ہیں جو محض اکثریت کے بل پر مانے اور منوائے جاتے ہیں لیکن قرآن کریم بار بار اور پکار پکار کر کہتا ہے کہ اکثریت کسی زمنہ میں درست نہیں ہوئی اور اس نے ہمیشہ اپنا آپ منوانے کیلئے اپنی اکثریت ہی کو بطور دلیل پیش کیا ہے اور اس میں وہ ہمیشہ حق بجانب رہی اور آج بھی ہے اور سارے و ڈیرے لوگ اس اکثریت کے بل پر ساری بد اعتدالیاں کر رہے ہیں وہ مذہبی ہوں یا سیاسی۔
Ayah 13:2

اَللّٰهُ الَّذِیْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ بِلِقَآءِ رَبِّكُمْ تُوْقِنُوْنَ Open ayah 13:2 in the Quran reader

یہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کردیا اور تم دیکھ رہے ہو کہ کوئی ستون انہیں تھامے ہوئے نہیں ہے ، پھر وہ اپنے تخت پر نمودار ہوا اور سورج اور چاند کو کام پر لگا دیا کہ ہر ایک اپنی ٹھہرائی ہوئی میعاد تک چلا جا رہا ہے ، وہی انتظام کر رہا ہے اور نشانیاں الگ الگ کر کے بیان کردیتا ہے تاکہ تمہیں یقین ہوجائے کہ اپنے پروردگار سے ملنا ہے

آسمانوں کو کھڑا کرنے والا اللہ ہے پھر جب آسمان کھا ہے تو کھڑا کرنے والا کیوں موجود نہیں ؟ 3 ؎ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان کئے جا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی حقیقت کا فہم و ادراک تو انسنا کے بس میں نہیں لیکن اس کی صفات کے آئینوں میں اس کی عظمت وکبریائی کے جلوے دیکھے جاسکتے ہیں ذرا آسمان کی طرف نظر اٹھا کر تو دیکھو کیا تم اس کی بلندی کا اندازہ لگا سکتے ہو ؟ کیا اس کی وسعت و فراخی کا تمہاری نظریں احاطہ کرسکتی ہیں ؟ کیا اس کو اتنی بلندی پر تھامنے کیلئے کوئی ستون دکھائی دے رہا ہے ؟ تم تو ایک چھوٹے سے کمرے کی چھت ڈالنا چاہو تو پہلے دیواریں بناتے ہو ‘ پھر شہتیر رکھے ہو ‘ ان پر درجنوں کڑیاں بچھاتے ہو تب جا کر ایک چھت بنتی ہے اور وہ بھی ایسی کہ کچھ مدت کے بعد اس میں شگاف پڑنے شروع ہوجاتے ہیں اس پر بھی تم کو اپنے فن اور ذہانت پر ناز ہے۔ ذرا اس کی قدرت کو بھی تو دیکھو جس نے آسمانوں کو ستونوں اور سہاروں کے بغیر کھڑا کردیا ہے پھر بھی اس کی پختگی کا یہ عالم ہے کہ اس کو بنے ہوئے کروڑوں سال سے زائد گزر گئے اور اس میں لچک تک پیدا نہیں ہوئی۔ سورة الملک میں اس کی مزید تشریح ہوگی۔ وہ اپنے تخت پر نمودار ہوا اور سورج ‘ چاند کو خاص طریقہ سے چلا رہا ہے 4 ؎ سب سے پہلے یہ کہ اس نے اجرام سماویہ کو پیدا کیا اور فضا میں پھیلا دیا وہ بلند ہیں لیکن کوئی سہارا نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو محض جذب و انجذاب کا قانون ہے جس کے توازن نے انہیں اپنی اپنی جگہ معلق اور قائم کر رکھا ہے۔ ہاں ! یہ ان کی پیدائش تھی لیکن اب ان کے قیام و اجراء کیلئے ضروری تھا کہ احکام و قوانین ہوں اور نافذ ہوجائیں پس اس تمام کائنات ہستی پر اللہ کی فرمانروائی نافذ ہوگئی یعنی اس کا تخت حکومت بچھ گیا اور اس کے احکام کے سامنے سب جھک گئے۔ یہ احکام و قوانین کس طرح نافذ ہوئے ؟ اس طرح کہ سورج اور چاند کو دیکھو ‘ احکام الٰہی نے کس طرح انہیں مسخر کر رکھا ہے ؟ ہال برابر ان کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے ‘ ان کی سیر و گردش کیلئے جو میعادیں ٹھہرا دی گئی ہیں ٹھیک ٹھیک ان کے مطابق چل رہے ہیں۔ ان سب کا منتظم اعلیٰ بھی وہی ہے اور اس کے حکم کے وہ سب پابند ہیں 5 ؎ اس کی وضاحت اس طرح کردی کہ فرمایا ” یدبر الامر “ اور اس جگہ یہی بات بناء استدلال ہے یعنی یہ سب کچھ جو ہوا اور ہو رہا ہے اس حقیقت کی شہادت ہے کہ یہاں تدبیر امور کرنے والا ایک ہاتھ موجود ہے ورنہ ممکننہ تھا کہ یہ سب کچھ ظہور میں آجاتا اور قائم و جاری بھی رہتا اگر تدبیر امور کی قوت کا مرکز رہی ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ اعمال انسانی کیلئے کوئی انتظام نہ کیا ہو اور انسانی زندگی ایک فعل عبث کی طرح رائیگاں جائے ؟ غور کرو کہ ایک کارخانہ ہستی باقاعدہ چل رہا ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا کوئی چلانے والا نہ ہو ؟ پھر یہی قانون جس کی تحت یہ سارا نظام چل رہا ہے حق و باطل کے امتیاز کا بھی یہی عالم گیر اور فیصلہ کن قانون ہے جو دعوت قرآنی کی حقانیت اور عدم حقانیت کا فیصلہ کر دے گا۔ اگر پیغمبر اسلام کا اعلان رسالت ” حق “ ہے تو ” حق “ کا خاصہ یہی ہے کہ وہ باقی رہے اور فتح مند ہو اگر ” باطل “ ہے تو بلاشبہ ” باطل “ کیلئے مٹ جانا اور نامراد ہونا ہے یہی اللہ کی شہادت ہے جس سے بڑھ کر کوئی فیصلہ کن شہادت نہیں ہوسکتی اور اب اس شہادت کے ظہور کا انتظار کرنا چاہئے۔ ایک بار پیچھے مراجعت کرو کہ سورت کی ابتداء اس اعلان سے ہوئی ہے کہ قرآن کریم فکر انسانی کی بناوٹ نہیں ہے اللہ کی جانب سے نازل ہوا ہے اور ” امر حق “ ہے لیکن مخاطبین دعوت میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اسے نہیں مانتے پس ضروری ہے کہ ان کے مقابلہ میں اس کی حقانیت آشکارا ہوجائے۔ پھر اللہ کی ہستی اور آخرت کی زندگی پر برہان حکمت و الوہبیت کا استدلال کیا ہے اور یہ حقیقت واضح ہے کہ آسمان و زمین کی ہرچیز کسی ایسی ہستی کی موجودگی کی شہادت دے رہی ہے جس نے جو کچھ بنایا ہے مصلحتوں اور حکمتوں کے ساتھ بنایا ہے اور یہاں کا ذرہ ذرہ اس کی تدبیر وانتظام سے چل رہا ہے۔ پھر فرمایا کہ ان نشانیوں کا تفکر دلوں میں یقین پیدا کردیتا ہے کہ انسانی زندگی صرف اتنے ہی کیلئے نہیں ہو سکتی جتنی حیات دنیوی میں نظر آرہی ہے۔ ضروری ہے کہ کوئی دوسرا مرحلہ بھی پیش آنے والا ہو اور وہ ایسا ہو کہ مخلوق کو خالق کے حضور پیش کر دے۔ جوں جوں غور کرتے جائو گے تو نتیجتاً جس جگہ رکو گے بس وہی روز قامت اور وہی روز حساب ہوگا۔
Ayah 13:3

وَ هُوَ الَّذِیْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِیْهَا زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 13:3 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے زمین کی سطح پھیلا دی اس میں پہاڑ بنا دیئے نہریں جاری کردیں اور ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے دو دو قسموں کے اگا دیئے ، اس نے رات اور دن کا ایسا قاعدہ بنا دیا کہ دن کی روشنی کو رات کی تاریکی ڈھانپ لیا کرتی ہے یقینا اس بات میں ان لوگوں کے لیے کتنی ہی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرنے والے ہیں

زمین کی سطح پھیلانے والا ‘ پہاڑ اور نہریں اور پھل اگانے والا بھی وہی ہے 6 ؎ گزشتہ آیت میں عالم سماویہ کا ذکر کیا تھا زیر نظر آیت میں فرمایا کہ زمین وک دیکھو وہ ایک گیند کی طرح مدور اور گول ہے لیکن اس کی سطح کا ہر حصہ ایسا واقع ہوا ہے کہ گولائی محسوس ہی نہیں ہوتی ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ایک مسطح فرش بچھا ہوا ہو ‘ پھر اس میں پہاڑ پیدا کردیئے گئے جن کی چوٹیوں پر برف جمتی اور پگھلتی رہتی ہے اور اس طرح ان نہروں کی روانی کا سامان ہوتا رہتا ہے جو میدانی زمینوں سے گزرتی ہیں اور انہیں سیراب کرتی رہتی ہیں۔ پھر زمین کی روئیدگی کی کیسی عجیب و غریب قو پیدا کردی کہ اس کی تمام سطح طرح طرح کے خوش ذائقہ غذائوں کا خوان نعمت بن گئی ہے۔ ہر طرح کے پھلوں کے درخت ہیں ‘ ہر طرح کے دانوں کی فصلیں ہیں ‘ سب میں دو دو قسموں اور جوڑوں کا قانون کام کر رہا ہے ‘ اس اعتبار سے بھی کہ نباتات کی کوئی قسم جس میں حیوانات کی طرح نر اور مادہ کی طرح جنسی تقسیم نہ ہو اور اس اعتبار سے بھی کہ ہر درخت کے پھل دو قسموں کے ضرور ہوتے ہیں مثلاً کھٹے اور میٹھے ‘ خوش ذائقہ اور بد ذائقہ ‘ اچھی قسم کا اور کمزور قسم کا۔ اس نے رات اور دن کا کیا قاعدہ بنا دیا کہ ایک گرم کرتا ہے تو دوسری اس کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے 7 ؎ پھر اس کی حکمت فرمائی کہ یہ کرشمہ دیکھو کہ رات دن کا دائمہ انقلاب طاری ہوتا ہے جو نباتات کی روئیدگی اور پختگی کیلئے ضروری تھا۔ جب دن کی ” تپش “ انہیں خوب اچھی طرح گرم کردیتی ہے تو رات آتی ہے اور زمین کو ڈھانپ لیتی ہے اور اس کی چادر کے تلے وہ خنکی و برودت کی مطلوبہ مقدار حاصل کرلیتے ہیں۔ ذرا پچھلے سبق کو دھر کر دیکھو وہ ذات جس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ آسمان اور شمس و قمر اور تمام اجرام فلکی اس کے فرمان کے غلام ہیں اس کیلئے کیا مشکل ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کر کے اپنے حضور میں کھڑا کر دے ذرا اس بیان پر اور اس کے حسن اور اسلوب کی دل کیہ پر غور کرو۔ اس نے عالم علوی میں اپنی قدرت کے نشانات کا مشاہدہ کرانے کے بعد تم کو عام سفلی میں اپنی قدرت کے شاہکاروں کی طرف توجہ مبذول کرائی اور اس آیت میں پانچ دلیلیں ذکر ہوئیں۔ 1۔ دیکھو ! سوچو ‘ انصاف کرو اور بتائو کہ زمین کا یہ وسیع و عریض فرش کس نے بچھایا ہے ؟ کیا تمہارے پیسوں ‘ بزرگوں ‘ ولیوں ‘ مذہبی راہنمائوں اور سیاسی ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں نے ؟ پھر ان میں کتنے ہیں جو تمہاری آنکھوں کے سامنے موت جیسی حقیقت سے دوچار ہوئے اور تم نے خود ان کو نہلایا دھلایا ‘ کفن پہنایا ‘ چارپائی پر اٹھایا اور جنازہ کی نماز ادا کر کے اپنے ہاتھوں قبر میں اتارا ‘ تم نے خود ہی تو اس پر لکڑی اور سیمنٹ کی بنائی ہوئی پختہ سلیں جوڑیں اور پھر ان پر ٹنوں مٹی ڈالی۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد جو تم گھر پہنچے تو وہ تم سے پہلے یہاں موجود تھے ؟ کیا ان کو پہلی طرح تم نے کبھی دیکھا ؟ وہ کھاتے ہوں ‘ پیتے ہوں ‘ تمہاری باتیں سنتے ہوں ‘ تمہارے مشورے قبول کرتے ہوں۔ ان میں سے کچھ بھی نہین تو پھر تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ اب کائنات کا نظام اللہ نے ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ یہ بڑے بڑے روضے جو تم کو نظر آ رہے ہیں کس نے بنائے ہیں ؟ ان پر روشنیاں کون کرتا ہے ؟ ان قبروں کی اندر کون استراحت کر رہا ہے ؟ پھر وہ تمہارے حاجت روا اور مشکل کشا کیسے ہوگئے ؟ پھر تم نے ان کو اللہ اور اللہ کے ساجھی اور شریک کیوں بنا دیا ؟ 2۔ فرمایا تم نے کبھی یہ سلسلہ کوہ پر نظر جمائی اور اس کو دیکھا جگہ جگہ ان پہاڑوں کو کس نے قائم کردیا ؟ وہ اللہ ہی تو ہے جس کی قدرت کاملہ کی یہ روشن دلیل ہے اس نے کس طرح اپنے قانون کے مطابق ان کو بلند کردیا اور پھر جگہ جگہ ان کو مستحکم کردیا جن میں ان گنت معدنایت کے خزانے پیدا کردیئے کہیں سے کوئلہ نکل رہا ہے ‘ کہیں سے لوہا اور کہیں سے سونا برآمد ہورہا ہی ‘ کہیں سے تانبا اور پھر یہ تمام نام تم ہی نے اپنی ضروریات کے مطابق رکھ لئے ہیں کیا کچھ ان سے نکل چکا ہے اور کیا کیا نکل رہا ہے اور ابھی کیا کیا نکلے گا ؟ 3۔ ذرا غور کرو کہ پہاڑوں کے سخت پتھروں اور سنگین چتانوں سے ہزار ہا فٹ کی بلندی پر پانی کے ایسے چشمے جاری کردینا جن سے بڑے بڑے دریا نکلیں اور میدانی علاقوں میں جا کر لاکھوں مربع میل زمین کو سیراب کرتے ہوئے پھر سمندر میں جا گریں یقینا اس کی کبریائی کی بہت بڑی دلیل ہیں۔ 4۔ غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ پھلوں کی اقسام کا شمار آسان نہیں ‘ ان میں رنگ و بو ‘ ذائقہ اور تاثیر کا جو بےپناہ فرق ہے وہ بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں۔ اگر آپ بیک وقت قدرت کی ان تمام نیرنگیوں کے احاطہ کرنے سے قاصر ہیں تو ایک قسم کے پھل ہی کو لے لو ایک ہی زمین ہے ایک ہی موم ہے اور ایک ہی چشمہ کے پانی سے سیراب ہوتے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ان میں یکسانیت نہیں ‘ کوئی انتہائی شیرینی ہے کوئی بیحد ترش ‘ کسی کا رنگ سبز ہے اور کسی کا زرد ‘ کوئی عمدہ ہے اور کوئی ردی سوچو ! ان میں رنگ و بو ‘ ذائقہ اور تاثیر کا یہ تغاوت کہاں سے آیا۔ طبعی اسباب تو یکساں تھے۔ معلوم ہوا کہ تمام طبعی عوامل کے پیچھے کوئی اور قوت کارفرما ہے جس کا حکم سب پر غالب ہے اسباب میں اثر بھی اس نے رکھا ہے۔ اثر کا ظہور بھی اس کے اذن سے ہے اور اس کا اندازہ بھی وہ خود ہی فرماتا ہے۔ 5۔ دن کے اجالے کے بعد رات کی تاریکی کا پھیل جانا یہ بھی اس کی قدرت کی دلیل ہے۔ اپ خود ہی غور کریں اگر لیل و نہار کا یہ تسلسل نہ ہوتا تو یہ دنیا یا تو سائبریا سے بھی زیادہ سنسنان برستان ہوتی یا ایک چینل لق و دق صحرا اور پھر دونوں زندگی کی رنگینیوں سے یکسر خالی اور محروم ہوتے۔ دل مانے نہ مانے اقرار کرنا ہی ہوگا کہ اس نظام عالم میں انسانی زندگی کیلئے بیشمار نشانیاں موجود ہیں لیکن ان سے سبق وہی حاصل کرسکتے ہیں جن کے ہاں غور و فکر کرنے کی عادت موجود ہے اور وہ اس سے انسانوں کی طرح کام لیتے ہیں اور اس کے استعمال سے روکتے نہیں اور نہ ہی خود رکتے ہیں۔
Ayah 13:4

وَ فِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ زَرْعٌ وَّ نَخِیْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَیْرُ صِنْوَانٍ یُّسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِی الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 13:4 in the Quran reader

اور دیکھو زمین میں ٹکڑے ہیں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ان میں انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں ، کھجور کے درخت ہیں باہم دگر ملتے جلتے ہوئے اور بعض ایسے کہ ملتے جلتے ہوئے نہیں ہیں سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں مگر ہم بعض پھلوں کو بعض پر مزہ میں برتری دے دیتے ہیں یقینا اس بات میں ان لوگوں کیلئے بڑی ہی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں

زمین کے ٹکڑے بالکل ملے ہوئے لیکن فصلوں ‘ میووں اور پھلوں کا واضح فرق 8 ؎ ربوہیت الٰہی کی یہ کا فرمائی کہ زمین کی سطح ایک ہے مگر اس کے مختلف قطعات یکساں نہیں۔ سب ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں لیکن اپنی روئیدگی اور پیداوار کی مختلف خدمتیں انجام دے رہے ہیں۔ ایک قطع میں باغ ہیں ‘ ایک میں کھیت ہیں ‘ ایک میں نخلستان ہیں پھر اگر زمین ایک ہے اور ایک ہی پانی سے ہر قطع سیراب ہوتا ہے لیکن ہر درخت کا پھل یکساں نہیں کسی جگہ ایک ہی پھل اعلیٰ درجہ کا ہوتا ہے ‘ کسی جگہ ادنیٰ درجہ کا ‘ کسی کا مزہ کچھ ہوتا ہے کسی کا مزہ کچھ کائنات ہستی کے ان تمام کارخانوں کا اس نگرانی اور دقیقہ سیخی کے ساتھ نافع و کارآمد ہونا اور مخلوقات کی ضروریات زندگی کا اس عجیب و غریب کے ساتھ انتظام پانا اس حقیقت کا اعلان نہیں ہے کہ ایک پرورش کنندہ اور مدبرہستی موجود ہے اور یہاں جو کچھ ہو رہا ہے کس مقصد اور منتہی کیلئے ہے ؟ اشیاء اور ذائقوں اور مزوں کے اختلاف میں نشانیاں ہیں لیکن عقلمندوں کیلئے 9 ؎ بلاشبہ ان دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے اور وہ ہے بھی ایک۔ اگر یہ کائنات کسی حادثہ سے رونما ہوئی ہوتی تو اس کے جمال میں یہ رعنائیاں اور نیرنگیاں نہ ہوتیں اور نہ ہی اس کے کمال میں نکھار ہوتا۔ اگر اس کائنات کے کئی خالق ہوتے تو کائنات کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز میں جو حیرت انگیز ہم اہنگی موجود ہے وہ مفقود ہوتی۔ آسمان سے لے کر زمین تک سورج سے لے کر ذرہ تک۔ دریائوں سے لے کر ایک معمولی جڑی ہوٹی تک ایسا نظم و نسق قائم ہے گویا کسی ماہر کاریگر نے کائنات کی بظاہر ان مختلف متضاد اور بکھری ہوئی چیزوں کو ایسی لری میں پرو دیا ہے کہ ایک کو چھو رکر دوسری کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا۔ اگر پہاڑوں کو بنانے والا کوئی دوسرا خدا ہوتا اور میدانوں کو بنانے والا اور تو وہ کبھی پہاڑوں سے ایسے دریا جاری نہ کرتا جن کا پانی وہاں سے بہہ کر میدانوں کو جا کر سیراب کرے۔ اگر اجرام فلکی اور زمین کے خالق الگ الگ ہوتے تو انہیں کیا پڑی تھی کہ سورج ‘ چاند اور دوسرے کو اکب کو اتنی مسافت پر رکھتے کہ ان سے پیدا ہونے والی حرارت اور روشنی کی صرف اتنی مقدار زمین پر پہنچنے جس سے زندگی نشو ونما پا سکے۔ کائنات کے تنوع میں جو وحدت ‘ اختلاف میں یکسانیت اور ہر ایک چیز کا دوسری چیز سے گہرا ربط ہے وہ اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ ایک قادر مطلق حکیم اور ہمہ داں خدا ہی اس کا خالق ہے جس کا کوئی شریک نہیں لیکن یہ روسن دلائل اس قوم کے دلوں ہی کو نور یقین سے منور کرسکتے ہیں جو ان آیات بینات میں غور و فکر کیا کرتے ہیں۔ کاش ہمارے نوجوان قرآن کریم کی ان آیات کا صدق دل سے مطالعہ کریں اور کاش کہ ہمارے علماء ان آیات سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے اس پر غور و فکر کریں تو ان رسم و رواج کے اسلام سے نکل کر فطری اسلام کی طرف دعوت دینے لگیں اور ان کے تقاضوں کو دیانتداری اور دل سوزی سے پورا کریں تو واللہ ثم تا اللہ نہ صرف یہ کہ ان کا آفتاب اقبال نصب النہار پر چمکنے لگے بلکہ انسانوں کا منزل گم کر وہ قافلہ جو وہم و گمان کے گھپ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے اس کی آوارگی کے دن بھی ختم ہوجائیں۔
Ayah 13:5

وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 13:5 in the Quran reader

اور اگر تو عجیب بات دیکھنی چاہتا ہے تو عجیب بات ان کا یہ قول ہے کہ جب ہم مٹی ہوگئے تو پھر کیا ہم پر ایک نئی پیدائش طاری ہوگی ؟ تو یقین کرو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا اور جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی ہیں کہ دوزخی ہیں ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے

عجیب بات ان منکروں کی ہے جو مرنے کے بعد کی زندگی میں شک کر رہے ہیں 10 ؎ فرمایا کہ کائنات کی ہرچیز اور ہر بات یقین دلا رہی ہے کہ یہ کارخانہ تدبیر و ہکمت بغیر کسی مصلحت و مقصد کے نہیں ہو سکتا اور ضروری ہے کہ انسان کی زندگی صرف اتنی ہی نہ ہو کہ پیدا ہوا ‘ کھایا پیا اور مر گیا بلکہ اس کے بعد بھی کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے ورنہ یک انسان اور کتے بلے کی زندگی میں آخر فرق ہی کیا رہا ؟ یقینا کچھ ہونے والا ہے اگر کچھ بھی ہونے والا نہ ہوتا تو تدبیر و مصلحت کا سہارا کارخانہ باطل ہوجاتا لیکن اگر اس پر بھی لوگوں کی غفلت کا یہ حال ہے کہ حیات آخرت کی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تو اس سے زیادہ کونسی بات عجیب ہو سکتی ہے ؟ عجیب بات یہ نہیں ہے کہ مرنے کے بعد پھر انسان پر ایک دوسری زندگی طاری ہوگی کیونکہ اس کی شہادت تو دنیا کی ہرچیز دے رہی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان صرف حیات دنیوی پر قانع و مطمئن ہوجائے اور سمجھ لے اس کی پیدائش سے جو کچھ مقصود تھا وہ صرف اتنا ہی تھا کہ ایک مرتبہ پیداہو اور کچھ دنوں کھا پی کر مر جائے۔ عقل و بینش کا مقتضی تو یہ تھا کہ اگر کہا جاتا کہ یہ زندگی صرف دنیا ہی کی زندگی ہے تو طبیعتیں کس طرح مطمئن نہ ہوتیں اور شک و شبہ میں پڑجاتیں ‘ کیا ایسا ہو سکتا ؟ لیکن منکرین حشر کی عقل و بینش کا یہ حال ہے کہ انہیں کہا جا رہا ہے کہ زندگی صرف اتنی ہی نہیں ہے اور وہ ہیں کہ حیران ہو کر کہتے ہیں کہ جب ہم مر گئے اور گل سڑ کر مٹی ہوگئے تو کیا پھر ہمیں زندگی کا ایک نیا جامہ مل جائے گا ؟ اپنے پروردگار سے انکار کرنے والے ہی وہ ہیں جن کے گلے میں طوق ہوں گے 11 ؎ یہ کون ہیں جن کے گلے میں طوق ہوں گے ؟ وہی ہیں جو دلائل سے ‘ عقل و فکر سے کام لینے کی بجائے اندھی تقلید اور آبائو اجداد کی رسم و رواج کے پابند بنے ہوئے تھے۔ ان کی گردنوں کے طوق علامت ہیں اس بات کی کہ یہ لوگ مجرم ہیں اور انہوں نے اپنی جہالت ‘ ہٹ دھرمی اور خواہشات نفس کی پیروی کی اور آزادانہ غور و فکر نہیں کرسکتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ ہم فلاں کے مقلد ہیں اور وہی کرتے ہیں جو اس نے کیا۔ اگر آخرت کوئی چیز ہوتی جیسا کہ آپ ﷺ بار بار کہتے ہیں تو آج تک آگئی ہوتی یہ باتیں تو سر پھرے مدت سے الاپتے آ رہے ہیں فرمایا ان لوگوں کی یہ کھلی بغاوت کیوں ہے ؟ محض اس لئے کہ یہاں ایک قانون امہال کام کر رہا ہے اور جب تک ایک کام کا وقت آ نہیں جاتا جو عنداللہ متعین ہوچکا ہے تو اس وقت تک ان کو پکڑا نہیں جاسکتا اور ان کو چھٹی دی گئی ہے کہ وہ کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں اور جتنا چاہیں بھاگ لیں جب ہماری گرفت کا وقت آئے گا تو فوراً دھر لئے جائیں گے اور ان کو باندھ کر دوزخ کی طرف لایا جائے گا اور پھر جو وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہنے کے قابل ہوں گے ‘ رہیں گے اور باقی کو قانون الٰہی کے مطابق سزا دینے کے بعد نکال لیا جائے گا۔
Ayah 13:6

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 13:6 in the Quran reader

یہ تم سے برائی کے لیے جلدی مچاتے ہیں قبل اس کے کہ بھلائی کے لیے خواستگار ہوں حالانکہ ان سے پہلے ایسی سرگزشتیں گزر چکی ہیں جن کی کہاوتیں بن گئیں ، تو اس میں شک نہیں کہ تیرا پروردگار لوگوں کے ظلم سے بڑا ہی درگزر کرنے والا ہے اور اس میں بھی شک نہیں کہ تیرا پروردگار سزا دینے میں بڑا ہی سخت ہے

چاہئے تو تھا کہ بھلائی کی طلب کرتے لیکن ان کو عذاب الٰہی کا بڑا شوق ہے 12 ؎ اے پیغمبر اسلام آپ ﷺ کے مخالفین و معاندین اس طرح کے لوگ ہیں جس طرح کے پہلے انبیاء کرام ﷺ کی امتوں اور قوموں میں گزر چکے۔ آج سے نہیں یہ تو ان لوگوں کی مدت سے حالت چلی آرہی ہے کہ یہ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول ﷺ سے بھلائی اور نیکی طلب کرتے لیکن انہوں نے بھلائی طلب کرنے کی قسم کھائی کہ اس کو طلب نہیں کریں گے ان کو عذاب الٰہی کا بڑا شوق ہے یہ جب مانگتے ہیں اور جب اپنے رسولوں سے مطالبہ کرتے ہیں تو اس بات کا کہ وہ عذاب آ کر کیوں نہیں جاتا اور تو اے رسول ! اس پر عذاب کو لے کیوں نہیں آتا ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اسلام کی حقانیت کے روشن دلائل ان کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں ان میں تو غور و فکر کی زحمت گوارا نہیں کرتے البتہ منکروں کیلئے اللہ نے جو عذاب مقدر کیا ہے اس کے جلد آنے کیلئے بڑا شور مچاتے ہیں انہوں نے اسلام کی حقانیت کی صرف ایک دلیل اپنے ذہن میں جمائی ہوئی ہے کہ اگر وہ عذاب اتر آیا تو یہ نبی بھی سچا اور اس کا دین بھی اور اگر ان کی فرمائش کے مطابق نہ اترا اور انہیں سوچنے کی مزید مہلت دے دی گئی تو بس یہ فیصلہ دے دیتے ہیں کہ یہ سب کچھ من گھڑت اور کھوکھلی دھمکیاں ہیں۔ وہ نادان یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر وہ عذاب ان پر نازل کردیا جائے اور اسوقت اسلام اور داعی اسلام کی صداقت کا یقین انہیں آ بھی جائے تو اس سے انہیں کیا فائدہ ہوگا ؟ وہ تو تباہ و برباد کردیئے گئے۔ انہیں بتایا جا رہا ہے کہ نادان بچوں کی طرح یہ ضد چھوڑ دو ۔ صرف یہ دیکھنے کے لئے کہ میرے جنازہ میں کون کون شرکت کرتا ہے اگر کوئی موت اختیار کرلیتا ہے تو وہ مر تو جائے گا لیکن اس کو کوئی علم نہ ہوگا کہ کون جنازہ میں ملا اور کون وضو کرتا رہ گیا ؟ بہتر ہوتا کہ یہ لوگ ان مہلت کی گھڑیوں سے فائدہ حاصل کرتے اور دلائل و شواہد میں غور کرتے اور نور ایمان سے اپنے سینوں کو روشن کرلیتے۔ یہ ضد جو اس وقت یہ کر رہے ہیں ان سے پہلے کتنی ہی قومیں تھیں جو کر گزریں 13 ؎ آج جو انکار و حجود یہ اختیار کر رہے ہیں ان سے پہلے کتنی ہی قومیں تھیں جو اختیار کر چکیں۔ انسان کی یہ بھول آج کی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے کہ وہ جب بولتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ اگر انکار و بدعملی کا برا نتیجہ نکلنے والا ہے تو وہ نتیجہ کہاں ہے ؟ کیوں پیش آ نہیں جاتا ؟ فرمایا اس لئے کہ اللہ بڑا بخشنے والا ہے پس فوراً نتیجہ بدپیش نہیں آجاتا بلکہ مہلتوں پر مہلتیں دی جاتی ہیں لیکن جب وقت آجائے تو وہ شدید العقاب بھی ہے کیونکہ پاداش عمل کبھی ٹلنے والی نہیں اور نہ ہی کسی طرح کی نرمی کرنے والی ہے۔ انسان کی یہ عالم گرے گمراہی ہے کہ وہ سچائی کو سچائی میں تلاش نہیں کرتا بلکہ دوسری چیزوں میں تلاش کرتا ہے ازاں جملہ یہ کہ اچنبھوں اور عجائب کاریوں کو سچائی کی دلیل سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ سب سے زیادہ سچا انسان وہ ہے جو سب سے زیادہ عجیب و غریب ہو۔ قرآن کریم نے انسان کی جن بنیادی گمراہیوں کا ازالہ کیا من جملہ ان کے ایک گمراہی یہ ہے اور اس نے جا بجا یہ حقیقت واضح کی ہے کہ دعوت حق کی شناخت خود دعوت ہے نہ کہ عجائب وغرائب کا ظہور جسے لوگوں نے دلیل صداقت سمجھ رکھا ہے۔ وہ غفور و رحیم بھی ہے تو شدید العقاب بھی وہی ہے ‘ ذرا عقل کے ناخن لو 14 ؎ ضرورت کی بات کو یاد رکھنا اور جس کی ضرورت نہ ہو وہ بھول جانا عقل مندی اور سمجھداری نہیں بلکہ بےعقلی اور کو رپن کی علامت ہے۔ گزشتہ قوموں ‘ لوگوں اور واقعات سے فائدہ نہ اٹھانا حماقت نہیں تو اور کیا ہے ؟ جن لوگوں نے عذاب الٰہی کے نزول کا مطالبہ کیا اور اس نزول عذاب کو نبی کی صداقت کا معیار قرار دیا ہم نے ان پر ان کی بےتاب خواہش اور بیحد اصرار کے باعث جب عذاب بھیجا تو کیا وہ تباہ و برباد ہو کر نہ رہ گئے۔ غور کریں کہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اس کو کاٹنا چاہتے ہیں ‘ نہیں بلکہ کاٹ رہے ہیں تو پھر جب یہ کٹ جائے گی نتج ہے کیا نکلے گا ؟ اے پیغمبر اسلام ! تیرا پروردگار غفور و رحیم ہے تو شدید العقاب بھی ہے۔ بلاشبہ وہ انسانوں پر عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کرتا اور بلاشبہ اس کی رحمت کا دامن بڑا وسیع ہے۔ بندے نافرمانی کرتے ہیں ‘ قصور کرتے ہیں ‘ کفر و شرک پر اڑے رہتے ہیں ‘ فسق و فجور کی اٹھا کردیتے ہیں لیکن وہ غفور و رحیم درگزر کرتا ہی رہتا ہے۔ بلاشبہ اس کا شیوہ ہی کرم کرنا اور کرتے ہی رہنا ہے لیکن جب وقت آجاتا ہے اور وہ اس بات کو برملا اعلان کہہ دیتا ہے کہ اب تک تو تم نے جو کیا سو کیا سب کچھ برداشت ہوتا رہا لیکن اب یاد رکھو کہ سو سنار کی پر ایک ہی لوہار کی لگے گی تو سارا کام چوڑ چوپٹ ہوجائے گا۔ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری۔ اس لئے جب انکار وعناد کی حد ہوجاتی ہے اور مہلت کا عرصہ ختم ہوجاتا ہے تو پھر ان پر اتنا شدید عذاب آتا ہے کہ وہ نتس و نابود کر کے رکھ دیئے جاتے ہیں۔ ذرا گزشتہ واقعات کو ذہن میں لائو اور دیکھو کہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر لوط (علیہ السلام) کے واقعات تک تم کو سنائے گئے ان قوموں اور جماعتوں کی ساتھ کیا کیا گیا اور ان کو یکے بعد دیگرے صفحہ ہستی سے کیونکر مٹایا گیا ؟
Ayah 13:7

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرٌ وَّ لِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ۠ Open ayah 13:7 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے کفر کا شیوہ اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں اس آدمی پر اس کے پروردگار کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتری ؟ حالانکہ توُ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ خبردار کرنے والا ہے اور ہر قوم کے لیے ایک راہنما ہوا ہے

کفر کا شیوہ اختیار کرنے والوں کو اعتراض ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی ؟ 15 ؎ کفر کیا ہے ؟ انکار کا دوسرا نام۔ پھر جب ایک آدمی نہ ماننے کی قسم کھالے تو اس کا علاج ؟ وہی جو نافرمان قوموں اور انسانوں کا ہوتا آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بار بار یہ کہا ہے کہ ہم نے اس قرآن میں عبرت و موعظت کی تمام باتیں دہرا دہرا کر بیان کردیں مگر یہ باتیں انہی کے دلوں کو پکڑ سکتی ہیں جن میں سچائی کی طلب ہے ورنہ اکثروں کا حال یہ ہے کہ انکار و سرکشی میں بڑھے ہی جاتے ہیں۔ پھر قرآن کریم نے ان کے انکار و سرکشی کی باتیں نقل بھی کی ہیں۔ فرمایا وہ کہتے ہیں ہم تو جبھی مانیں گے جب تم ہم کو اس طرح کی باتیں کر دکھائو مثلاً مکہ کی ریگستانی زمین میں اچانک ایک نہر پھوٹ نکلے ‘ آسمان کے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں ‘ اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے آجائیں ‘ سونے کا ایک بنا بنایا محل نمودار ہوجائے ‘ تم ہمارے سامنے آسمان پر چڑھ دوڑو اور وہاں سے ایک لکھی لکھائی کتاب لا کر ہمارے ہاتھوں میں پکڑا دو اور ان باتوں میں سے کسی کو بھی کر کے نہ دکھائو تو تم نبی اور رسول کیسے ؟ جب کہ تمہارے پاس کوئی نشانی ہی نبوت کی موجود نہ ہے ؟ اس طرح کے سوال مشرک قوموں نے اپنے انبیاء کرام ﷺ سے کئے اور یہی سوال ہمارے پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا ہر بار ان کو جواب دیا گیا لیکن انہوں نے سنی ان سنی کر کے بار بار اس کو داغا اور موقع بہ موقع اس کو دہراتے رہے اور یہی سوال اس جگہ بھی کیا۔ یہ سن کر آپ کو تعجب ہوگا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے نشانات و معجزات اس قدر بیان کئے گئے ہیں کہ شاید ہی کسی کے ایسے نشانات کا ذکر کیا گیا ہو اور پھر یہ بھی کہ ایک دوسرے سے بڑھ کر لیکن فرمائش کرنے والوں کا بیان انجیل میں اس طرح نقل کیا ہے کہ ” اے استاد ہم تجھ سے ایک نشانی دیکھنا چاہتے ہیں اس نے جواب دے کر ان سے کہا کہ اس زمانہ کے برے اور زناکار لوگ نشان طلب کرتے ہیں۔ “ (متی 12 : 39) ” جب بڑی بھیڑ جم عہو جاتی تھی تو وہ کہنے لگتا کہ اس زمانہ کے لوگ برے ہیں وہ نشان طلب کرتے ہیں۔ “ (لوقا 11 : 29) ” پھر فریسی نک کر اس سے بحث کرنے لگے اور اسے آزمانے کیلئے اس سے کوئی آسمانی نشان طلب کیا اس نے اپنی روح میں آہ کھینچ کر کہا ‘ اس زمانہ کے کچھ لوگ کیوں نشان طلب کرتے ہیں ؟ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہ دیا جائے گا “۔ (مرقس 8 : 11 ‘ 13) لیکن قرآن کریم نے نشان طلب کرنے والوں سے ایسی کوئی بات نہ کہی بلکہ صاف صاف اعلان کیا کہ نبی و رسول کا کام فرمائش خوارق و معجزات دکھانا ہی ہے ؟ اور یہ کہ تمہاری عجوبہ پرستیوں کا کیا جواب ہو سکتا ہے۔ رسول کا کام اعجویگی دکھانا نہیں بلکہ علم و ہدایت کی بات بتاتا ہے۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ان کو جواب دیجئے کہ میرا کام تو تم کو خبردار کرنا ہے 16 ؎ فرمایا آپ ﷺ ان سرکشوں سے کہہ دیں کہ میرا کام تو سرکشوں کو ڈرانا ہے اور انہیں سیدھی راہ بتانا ہے نہ کہ ہر فرمائش نشان کی تعمیل کرتے رہنا۔ قرآن کریم نے پورا پورا جواب ذرا سے فقرہ میں اعجوبہ پرستوں کو دے دیا کہ یہ نادان رسول ﷺ کی صداقت کا معیار فرمائشی نشانات اور خوارق و معجزات کو سمجھ رہے ہیں ‘ یہ کس قدر جہل ہے ۔ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام آپ ﷺ ان کو اس طرح جواب دین کہ سبحان ربی ! ھل کنت الا بشرا رسولا (بنی اسرائیل 17 : 93) میرے پروردگار کیلئے پاکیزگی ہے ! میری حیثیت اس کے سوا کیا ہے کہ ایک آدمی ہوں خدا کا بھیجا ہوا ! سبحان اللہ ! قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت کیا ہے ؟ کہ اس جملہ کے اندر وہ سارے دفتر آگئے جو انکار و سرکشی کی ان صدائوں کے جواب میں کہے جاسکتے تھے ھل کنت الابشرا رسولا میں نے کچھ خدائی کا دعویٰ تو نہیں کا ہے۔ میں نے یہ نہیں کہا کہ آسمان کو زمین اور زمین کو آسمان بنا دینے والا میں ہوں اور دنیا کی ساری قوتیں اور طاقتیں میرے تصرف و اختیار میں ہیں۔ میرا دعویٰ جو کچھ ہے وہ تو یہ ہے کہ ایک آدمی ہوں پیام حق پہنچانے والا پھر تم مجھ سے یہ فرمائشیں کیوں کرتے ہو ؟ کیوں میرے لئے ضروری ہو کہ میں سونے کا محل تیار کر کے دکھائوں اور آسمان پر سیڑھی لگا کر چڑھ جائوں اور تمہاری مطلوبہ کتاب لے کر آئوں۔ اگر ایک شخص نے کسی بات کا دعویٰ کیا ہے تو ہم دیکھیں گے کہ اس کا دعویٰ کیا ہے ؟ اس کے مطابق اس سے دلیل مانگیں گے اگر اس شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ لوہار ہے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ لوہے کا سامان بنا سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر ایک شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ طبیب ہے تو ہم دیکھیں گے کہ وہ علاج میں ماہر ہے یا نہیں اور بیماروں کو اس سے شفا ملتی ہے یا نہیں ؟ ایسا نہیں کریں گے کہ اس نے دعویٰ تو کیا ہو طبابت کا اور ہم اس سے دلیل مانگنے لگیں جو ایک لوہار سے مانگنی چاہئے یعنی اس طبیب سے یہ مطالبہ کریں کہ ہمیں لوہے کے شہتیر بنا کر دکھا دو اگر ایسا کہیں گے تو یہ صریح بےعقلی کی بات ہوگی۔ یہ بات ‘ یعنی دعویٰ اور دلیل کی مطابقت ایک ایسی عام اور قدرتی بات ہے کہ ہر آدمی خواہ وہ کتنی ہی موٹی عقل کا ہو خود بخود اسے پا لیتا ہے۔ جو نہی ایک آدمی کہے گا کہ میں لوہار ہوں اور سنتے ہی فرمائش کر دے گا کہ قفل بنا دو تو کبھی اس کی زبان سے یہ نہیں نکلے گا کہ سیشے کا برتن بنا دو ۔ اچھا ایک انسان آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں رسول ہوں ‘ پیغام حق پہنچانے والا ہوں ‘ اب اس کا دعویٰ کیا ہوا ؟ یہ کہ اللہ نے اس پر سچائی کی راہ کھول دی ہے اور وہ دوسروں کو بھی اسی راہ پر چلانا چاہتا ہے ۔ جب دعویٰ یہ ہوا تو اس کے مطابق دلیل بھی ہونی چاہئے۔ قدرتی طور پر اس کی دلیل یہی ہو سکتی ہے کہ دیکھا جائے وہ سچائی کی راہ پر ہے یا نہیں ؟ اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چل کر سچائی ملتی ہے یا نہیں ؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دعویٰ تو اس نے سچائی کی راہ دکھانے کا کیا ہو اور ہم دلیل یہ مانگنے لگیں کہ پہاڑ کو سونا بنا دے یا آسمان پر اڑ کر چلا جا۔ لیکن اب جبکہ نبوت و رسالت کا دروازہ ہی بند ہوگیا اور کوئی نیا یا پرانا رسول نہیں آئے گا تو رسول کہنے والا کیا ہوا ؟ جھوٹا اور جھوٹ بھی براہ راست اللہ پر باندھنے لگا اس لئے اس کا جواب اب فقط تلوار ہے لیکن اس کو بتا کر۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ تو ڈرانے والے ہیں اور سیدھی راہ دکھانے والے جس طرح ہر قوم کیلئے ایک ہدایت دینے والا آتا رہا اور اس قوم کیلئے ہادی اعظم آپ ﷺ ہیں۔ ھاد لفظ ہادی عام اور وسیع ہے پیغمبر کا مرادف نہیں ہے اور اس کے تحت نبی اور نائبان نبی سب آجاتے ہیں بلاشبہ جو باب بند ہے وہ نبوت و رسالت کا ہے ہدایت و راہنمائی کا نہیں۔ یہ بات اس لئے عرض کردی ہے کہ کوئی شاطر آپ کو غلط گائیڈ نہ کرسکے۔
Ayah 13:8

اَللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَحْمِلُ كُلُّ اُنْثٰى وَ مَا تَغِیْضُ الْاَرْحَامُ وَ مَا تَزْدَادُ١ؕ وَ كُلُّ شَیْءٍ عِنْدَهٗ بِمِقْدَارٍ Open ayah 13:8 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے ہر مادہ کے پیٹ میں کیا ہے (نیک یا بد) اور پیٹ میں کیا کچھ گھٹتا ہے کیا کچھ بڑھتا ہے (اور شکم مادر میں کیا کیا تبدیلیاں ہوتی ہیں) اس کے ہاں ہرچیز کا ایک اندازہ ٹھہرایا ہوا ہے

اللہ ہی جانتا ہے کہ ہر مادہ کے پیٹ میں کیا ہے اور رحم میں کیا کمی یا بیشی ہو سکتی ہے 17 ؎ اللہ ! بس اللہ ہی ہے کہ وہ واجب الوجود ہے لیکن جسم کی کیفیت سے پاک ہے۔ نہ اسکا اول نہ آخر ‘ نہ ظاہر نہ باطن ‘ وہ دیکھتا ہے پر آنکھ نہیں رکھتا ‘ وہ سنتا ہے پر کان نہیں رکھتا ‘ وہ جانتا ہے پر دماغ کا محتاج نہیں۔ وہ نہ ولد ہے اور نہ والد۔ اس کی کوئی احتیاج نہیں پر اس کی سب کو احتیاج ہے اور کوئی نہیں جس کو اس کی احتیاج نہ ہو۔ اس کو ہرچیز کا علم ہے لیکن کسی کے بتانے اور سکھانے سے نہیں اس لئے وہ ” عالم الغیب “ کا لقب پاتا اور اس کے سوا کوئی نہیں جس کو یہ لقب دیا جاسکے۔ اس کے علم سے کوئی بات اور کوئی حالت پوشیدہ نہیں اور اس نے ہر بات کیلئے ایک اندازہ مقرر کردیا ہے اس سے باہر کوئی بات نہیں کی جاسکتی پس وہ سب کی نیتوں اور خیالوں سے بھی باخبر ہے اس نے ہدایت و شقاوت کے معاملہ کیلئے اندازے ٹھہرا دیئے ہیں جو ہدایت پائے گا اس کے مطابق پائے گا جو نہیں پائے گا اس کے مطابق نہیں پائے گا۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کسی مادہ کے پیٹ میں کیا ہے ؟ کیسا ہے ؟ نر ہے یا مادہ ؟ ایک ہے یا ایک سے زیادہ ؟ اس میں کیا کیا کمی کی گئی ہے اور کیا کیا بیشی ؟ اس کی شکل و صورت ماں کی طرف مائل ہوگی یا باپ کیطرف یا ان سے بالکل مختصف ؟ رنگت میں ‘ ڈیل و ڈول میں ‘ قامت میں ‘ خوب صورتی میں ‘ اخلاق و اعمال میں ‘ عزت و جاہ میں ‘ مال و دولت میں ‘ اخلاق و کردار میں ‘ دیانت و امانت میں اور یہ کہ اس کی زندگی اس کے والدین سے کم ہے یا زیادہ ؟ یہ اور اس طرح کی ساری باتیں جو اس جنین کے متعلق کہی جاسکتی ہیں سب کو وہ جانتا ہے لیکن اس کا قانون فطرت یہ ہے کہ انسنا کے ہاں انسان اور گدھے کے ہاں گدھے کا بچہ ہی پیدا ہوگا شکل و صورت کے لحاظ سے گدھے کے ہاں انسان اور انسان کے ہاں گدھا نہیں پیدا ہوسکتا اور اس طرح قریبالاجناس میں پیوند ہوگا اور بعیدالجنس میں نہیں۔ زیرنظر آیت میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخصوص صفت کا بیان ہے کہ وہ ” عالم الغیب “ ہے۔ تمام کائنات و مخلوقات کے ذرہ ذرہ سے واقف اور ہر ذرہ کے بدلتے ہوئے حالات سے باخبر ہے اس کی ذات ہی تخلیق انسانی کے ہر دور اور ہر تغیر اور ہر صفت سے پوری طرح واقف ہونے کا ذکر ہے۔ ” تغیض “ کے معنی کم ہونے اور خشک ہونے کے ہیں اور اس کے مقابلہ میں لفظ ” تزداد “ آیا ہے جس کے معنی زیادتی کے ہیں اس لئے ” تغیض “ کے معنی کمی کے ہوگئے اور مطلب یہ ہوا کہ زخم مادر میں جو کمی بیشی ہوتی ہے وہ سب اس کے علم میں ہے اور اس کے قانون کے مطابق ہے اور پھر جو بات قانون الٰہی میں طے ہوگئی کہ اس حمل کی کم سے کم مدت کیا ہے ؟ اور زیادہ سے زیادہ کیا ؟ وہ تو پہلے ہی طے ہے لیکن ان کے درمیان کونسا حمل کتنا وقت لے گا اس کو بھی وہ جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس کے علم کی نفی کی جائے کہ یہ علم الٰہی میں نہیں ہے بلکہ ایسا کہنا ‘ سمجھنا ‘ بیان کرنا سب کلمات کفر ہیں۔ ” اس کے ہاں ہرچیز کا ایک اندازہ ٹھہرایا ہوا ہے ؟ “ اور سارے کام میں اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں اور نہ ہی اس کو کسی شریک و سہم کی ضرورت ہے۔ ہر کام کے لئے اس کا ایک قانون ہر کت میں ہے اور اس کے مطابق سارے کام چل رہے ہیں اور اس کو ہر ہر حالت کیلئے اہتمام دیکھ بھال نہیں کرنا ہوتا کہ کہیں بھول یا چوک ہوجائے۔ ہاں ! اس کا قانون اتنا مضبوط اور اتنا واضح ہے کہ اس کی خلاف ورزی ممکن نہیں یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ اس قطرہ و بوند کے بغیر ہی وہ شکم مادر میں بچہ کی پرورش شروع کردے کیونکہ وہ اس کے قانون کے یہ خلاف ہے اور قانون کے خلاف وہ کبھی نہیں کرتا اور نہ ہی کسی کو کرنے دیتا ہے کیونکہ وہ سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور ہے اور قانون کی خلاف ورزی کمزوری کی دلیل ہے اس لئے اس کی نسبت اس کی طرف ممتنع ہے۔ ذرا غور کرو کہ جو ذات تم کو اس وقت سے جانتی ہے جب تم ابھی ایک قطرہ آب میں بھی نہ آئے تو اب تمہارا کوئی قول اور تمہارا کوئی ارادہ اس سے پوشیدہ رہ سکتا ہے ؟ یا اگر تم قبروں میں پڑے پڑے خاک ہو جائو اور تمہارے ذروں کو ہوا اڑا لے جائے اور یہ گڑھا تم کو نصیب ہی نہ ہو بلکہ تم کو جلا کر راکھ کردیا جائے اور پھر راکھ کو ہوا میں اڑا دیا جائے تو وہ پھر بھی ہم کو حاضر کردینے پر قادر نہیں ہوگا ؟ کیا عدم سے وجود میں لانا مشکل تھا یا اس کا واپس لانا ؟
Ayah 13:9

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْكَبِیْرُ الْمُتَعَالِ Open ayah 13:9 in the Quran reader

وہ غیب اور شہادت کا جاننے والا ہے ، سب سے بڑا بلند مرتبہ ہے

وہی ہے جو غیب و شہادت کا جاننے والا ہے اور مرتبہ میں بھی سب سے بلند 18 ؎ ” غیب “ کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص صفت ہے جو غیر اللہ میں ممکن نہیں اور مراد اس سے وہ چیز ہے جو انسانی حواس سے غائب ہو یعنی نہ آنکھ سے اس کو دیکھا جاسکے ‘ نہ کانوں سے سنا جاسکے ‘ نہ ناک سے سونگھا جاسکے ‘ نہ زبان سے چکھا جاسکے ‘ نہ ہاتھ سے چھو کر معلوم کیا جاسکے۔ گویا انسانی حواس خمسہ سے بالاتر اور شہادت اس کے بالمقابل وہ چیزیں جو انسانی حواس خمسہ کے ذریعہ معلوم کی جاسکیں مطلب یہ ہے کہ وہ ہر غیب کو اس طرح جانتا ہے جس طرح حاضر کو یعنی اس کے ہاں غیب و حاضر میں کوئی فرق نہیں پڑتا غیر اللہ کیلئے ہے خواہ وہ کوئی ہو ؟ ” الکبیر “ وہ ہے جو سب سے بڑا ہو اور ہرچیز اس سے نیچے ہو اور ” منعال “ وہ ہے جو اپنی قدرت اور طاقت کے باعث ہرچیز پر غالب ہو۔ مراد دونوں لفظوں سے یہ ہے کہ وہ مخلوقات کی صفات سے بالاو بلند اور اکبر ہے۔ کفارہ مشرکین اللہ تعالیٰ کیلئے اجمالی طور پر برائی اور کبریائی کا تو اقرار کرتے تھے مگر اپنے تصور فہم سے اللہ تعالیٰ کو بھی عام انسانوں پر قیاس کر کے اللہ کیلئے ایسی صفات ثابت کرتے تھے جو اس کی شان سے بہت بعید ہیں جیسے یہود و نصاریٰ نے اللہ کیلئے بیٹا ثابت کیا۔ کسی نے اللہ کیلئے انسان کی طرح جسم اور اعضاء ثابت کئے۔ کسی نے جہت اور سمت کو ثابت کیا حالانکہ وہ ان تمام حالات وصفات سے بالا و بلند اور منزہ ہے اور اس طرح اس کی طاقت اور قوت بھی انسانی تصور سے بالاتر ہے اس کی ذات ہو یا اس کی صفات کسی کو بھی انسانی ادراک و احاطہ میں نہیں دیا جاسکتا وہ اییت ان سمجھی اور ان پہچانی ذات ہے کہ اس کی پہچان کئے اس کے کاموں پر دھیان دینا چاہئے وہ اس طرح کہ جب کائنات موجود ہے اور اس کائنات کا یقینا کوئی ناظم و منتظم بھی ہوگا پھر وہ کون ہے ‘ کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اللہ ہے جو ہر جگہ موجود ہے اس کائنات کو پیدا کرنے کے بعد کا انتظام کرنے والا لیکن اس کو دیکھا نہیں جاسکتا اور جو دیکھا جائے وہ اللہ نہیں ہو سکتا۔ اس کی قدرت سب پر بالا اور سب پر حاکم ہے۔ وہی ہمہ داں ‘ ہمہ بیں اور وہی ہمہ تواں ہے۔ چونکہ دنیا کو صفات الٰہی میں سب سے زیادہ ٹھوکر لگی اور دنیا کی ساری قومیں اس کے علم وقدرت ہی کو سمجھتی رہیں لیکن وہ کسی کی سمجھ میں بہت کم ہی آیا اس لئے قرآن کریم ان عقائد کو بار بار صاف کرتا چلا جاتا ہے اور ان کی غلطیوں کی بار بار اصلاح کرتا ہے۔
Ayah 13:10

سَوَآءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَهَرَ بِهٖ وَ مَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۭ بِالَّیْلِ وَ سَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ Open ayah 13:10 in the Quran reader

تم میں سے کوئی چپکے سے کوئی بات کہے یا پکار کر کہے ، رات کی تاریکی میں چھپا ہو یا دن کی روشنی میں راہ چل رہا ہو ساری حالتیں اس کے لیے یکساں ہیں (اس کے علم سے کوئی بات مخفی نہیں)

اس کو چپکے سے بلائو یا پکار کر ‘ تاریکی میں یا روشنی میں سب برابر ہے 19 ؎ فرمایا کہ یہ سرد جہر ‘ پوشیدہ اور ظاہر ‘ تاریکی اور روشنی سب تمہاری یعنی انسانوں کی نسبت سے ہے اس کے علم کے اعتبار سے سب یکساں ہے۔ مشرک قوموں نے اپنے دیوی دیوتائوں ‘ محنت و پروہت ‘ پیرو مرشد کو بھی اپنے ہی محدود اور ناقص حواس اور قوتوں پر قیاس کیا ہے اس لئے اس کی اصلاح ضروری تھی۔ ” اسرالقول “ اسرار سے بنا ہے جس کے معیق خفیہ کلام اور جبر کے معنی اعلانیہ کلام کے ہیں جو کلام انسان کسی دوسرے کو سنانے کیلئے کرتا ہے اسے جہر کہتے ہیں اور جو خود اپنے آپ کو سنانیکیلئے کرتا ہے اس کو سر کہا جاتا ہے۔ اس سے سورة فاتحہ کا جہر اور سر ‘ نمازوں کا جہر اور سر ‘ باتوں کا جہر اور سر سمجھ لینا چاہئے کہ وہ کیا ہے ؟ بہرحال اللہ کیلئے جہر اور سر کوئی چیز نہیں وہ دونوں کلاموں کو اور دونوں کے کلام کو یکساں طور پر سنتا اور جانتا ہے۔ اس طرح جو شخص رات کی اندھیری میں چھپا ہوا ہے اور جو دن کے اجالے میں کھلے راستے پر چل رہا ہے یہ دونوں اس کے علم اور قدرت کے اعتبار سے برابر ہیں کہ اس کے دست قدرت سے باہر نہیں اور مزید بیان آگے جاری ہے۔
Ayah 13:11

لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ یَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اِذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِقَوْمٍ سُوْٓءًا فَلَا مَرَدَّ لَهٗ١ۚ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّالٍ Open ayah 13:11 in the Quran reader

انسان کے آگے اور پیچھے ایک کے بعد ایک آنے والی قوّتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتی ہیں اللہ کبھی اس حالت کو نہیں بدلتا جو کسی گروہ کو حاصل ہوتی ہے جب تک کہ وہ خود ہی اپنی حالت نہ بدل ڈالے اور جب اللہ چاہتا ہے کسی گروہ کو مصیبت پہنچے تو کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جو اس کا کارساز ہو

انسان کے آگے پیچھے آنے والی قوتوں کا بیان اور ان کی حفاظت 20 ؎ ” انسان کے آگے اور پیچھے ایک کے بعد ایک آنے والی قوتیں ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتی ہیں “۔ ” معقبت معقبہ “ کی جمع ہے یہ اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی دوسری جماعت کے پیچھے آئے اور متصل آئے۔ “ ” من بین یدیہ “ کے لفظی معنی ہیں دونوں ہاتھوں کے درماین مراد انسان کی سامنے کی طرف ہے۔ ” ومن خلفہ “ پیچھے کی جانب ” من امر اللہ “ ای بامر اللہ یعنی اللہ کے حکم سے۔ مطلب یہ ہے کہ شکم مادر میں قطرہ آپ سے لے کر انسان کامل بننے تک جتنے تغیرات ہوئے وہ ہمارے مقرر کئے ہوئے اندازے کے مطابق ہوئے وہ سب ہمارے علم میں ہیں ت۔ ہر انسان کی استعداد سمجھ اپنی اپنی ہے کچھ ہیں کہ وہ اشاروں ہی اشاروں میں سب کچھ سمجھ جاتے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جن کی انگلی اوپر رکھ کر بتایا جاتا ہے تو ذرا اوپر گزرنے کے بعد نہ انگلی یاد رہتی ہے نہ وہ جگہ ان سب کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہے اور ایک بات کو سب تک برابر برابر سمجھانا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ کسی تمثیل ہی سے سمجھائی جائے گی ورنہ ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آئے گا۔ اسلام نے ہر بات اس انداز سے کرنا مناسب جانا ہے جس سے ہر طرح کے سارے انسان اس کو بآسانی سمجھ لیں۔ ایک اللہ کے بندے کو اس بات کا یقین دلانا کہ اللہ جو احکم الحاکمین ہے وہ سب کا محافظ و نگہبان ہے اور کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں پھر جب وہ محافظ و نگہبان ہوگا تو اس کو زیادہ فکر نہ کرنی چاہئے کہ میرا کیا حال ہوگا ؟ کچھ نہیں ہوگا اور جو کچھ ہوگا وہ وہی ہوگا جو اس نے چاہا یہ بات ایسی ہے کہ ہر انسان کی سمجھ میں نہیں آتی تو اس کیلئے ایک تمثیلی رنگ اختیار کیا گیا جس کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا انسان جب اس دنیا میں قدم رکھتا ہے تو ہمارے پہرہ دار اس کے نیک و بد اعمال کی نگرانی کرتے ہیں اور اس کا ہر قول و فعل ریکارڈ کرلیا جاتا ہے اور قیامت کے دن اگر وہ اپنے جرائم کو تسلیم کرنے سے انکار کرے گا تو یہ نوشتہ اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور پھر اس کو مجال انکار نہیں رہے گی۔ پھر جب اللہ کے بندے کوئی ایسا کام ہی نہیں کرتے جو قانون الٰہی کی گرفت میں آئے تو ان کو آخر کوئی گرفت کرے گا کیوں ؟ جو لوگ اپنی حفاظت کیلئے دس دس آدمیوں کو رکھتے اور ان کے اخراجات برداشت کرتے ہیں دراصل وہ اپنے کئے کے باعث اور اپنے اعمال کے نتائج کیلئے کر رہے ہیں جو انہوں نے خود سرانجام دیئے ورنہ اس بکھیڑے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اچھا جنہوں نے آدمیوں کو اپنی حفاظت کیلئے مقرر کیا وہ ہمیشہ محفوظ رہے اور کبھی وہ موت سے دوچار نہیں ہوئے ؟ پھر جب وہ بھی مر رہے ہیں تو ان کی حفاظت نے کتنا کام کیا ؟ اللہ نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا 21 ؎ ” اللہ کبھی اس حالت کو نہیں بدلتا جو کسی گروہ کو حاصل ہوتی ہے جب تک کہ وہ خود ہی اپنی صلاحیت نہ بدل ڈالے “۔ لازم اور ملزم کیا ہے ؟ یہی کہ ایک چیز دوسری کے ساتھ لازم قرار دی جائے جیسا کہ عمل کے ساتھ نتیجہ ۔ فرمایا عمل اور صلاحیت عمل کا قانون الٰہی ہے اور یہی ایک کے بعد ایک آنے والی قوتیں ہیں جو حکم الٰہی سے انسان کی حفاظت کرتی ہیں جن سے اس کا حال پیدا ہوتا ہے اور پھر حال کے اعمال ہیں جو اس کا مستقبل بناتے ہیں۔ اس کی مزید تشریح اس طرح فرمائی کہ اللہ نے آج تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلی جب تک کہ وہ خود اپنی حالت نہ بدل ڈالے۔ گویا اصل میں اس بارے میں خود انسان کا اپنا عمل ہے وہ جیسی حالت چاہے اپنے مل اور صلاحیت عمل سے حاصل کرلے۔ فرض کرو کہ ایک قوم بدحال ہے وہ اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرلیتی ہے جس سے خوش حالی پیدا ہو سکتی ہے تو قانون الٰہی یہ ہے کہ یہ تبدیلی فوراً اس کی حالت بدل دے گی اور بدحالی کی جگہ خوش حالی آجائے گی اور اس طرح خوشحالی سے بدحالی کا تغیر بھی سمجھ لینا چاہئے۔ یہی وہ ہے کہ جب کوئی قوم صفحہ ہستی میں ابھرتی ہے تو اس میں ابھرنے کی ساری صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں اور وہ ان صلاحیتوں سے کام لیتیے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ابھرتی چلی جاتی ہے۔ یہی حال صدر اول میں اسلام کا ہوا تھا کہ دراصل ” داعی الی الحق “ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اٹھے اور اس حالت کو بدلنے کیلئے مہم شروع کی جو اس وقت آپ ﷺ کے معاشرہ کی تھی پھر کوئی مزاحمت ہے جو نہیں ہوئی لیکن نتیجہ اس کا کیا رہا ؟ چند ہی سالوں میں ہر طرف اسلام ہی اسلام کا نام رہ گیا اور کفر کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی گئیں۔ لیکن جو نتیجہ اس وقت نکلا وہ اس وقت کے ساتھ خاص نہ تھا بلکہ اس حالت کے ساتھ خاص تھا بالکل اسی طرح آج بھی قانون الٰہی اسی طرح موجود ہے اور وہ رہتی دنیا تک موجود رہے گا اور جب بھی کسی اللہ کے بندے نے ہمت باندھی اور اس کے دل سے ” غیر اللہ “ کا ڈر جاتا رہا اور دل نے اس سچ کو قبول کرلیا کہ ہم بدلیں گے تو حالت بدلے گی خود اپنے آپ کو بدلنا شروع کردیا تو انشاء اللہ آج بھی نتیجہ وہی رہے گا کیونکہ قانون الٰہی اٹل اور امٹ ہے وہ کسی زمانہ ‘ کسی قوم کسی جماعت کے ساتھ مخصوص نہیں لیکن بدقسمتی سے یہی بات ہے جو کم ہی لوگوں کی سمجھ میں آتی ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہماری اکثریت اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ اللہ کے ہاں پیر ‘ فقیر ‘ مرشد و ہادی ‘ جن اور فرشتے ایسے زور آور ہیں کہ تم خواہ کچھ بی کرتے رہو وہ تمہاری نذریں اور نیازیں وصول کر کے اور تم سے رشوت لے کر تمہیں تمہارے برے اعمال کی پاداش سے بچا لیں گے۔ ان اللہ والوں کو اللہ نے بڑی بڑی قوتیں دے رکھی ہیں اور مرنے کے بعد ان کو سات سو جسم عطا کئے جاتے ہیں اور وہ بگڑی کو اس طرح بناتے ہیں کہ اللہ میاں دیکھتے کا دیکھتا ہی رہ جاتا ہے۔ انا للہ وانا الہ راجعون۔ اللہ جب کسی گروہ کو کسی مصیبت میں مبتلا کرنا چاہے تو اس کو کوئی نہیں روک سکتا 22 ؎ ارشاد فرمایا کہ جب ایک قوم نے اپنی عملی صلاحیت کھو دی اور اس طرح تبدیلی حالت کی مستحق ہوگئی تو ضروری ہے کہ اسے برائی پہنچے یہ برائی کبھی بھی ٹل نہیں سکتی کیونکہ یہ خود خدا کی جانب سے ہوتی ہے یعنی اس کے ٹھہرائے ہوئے قانون کا نفاذ ہوتا ہے اور پھر خدا کی قانون کا نفاذ کون ہے جو روک سکے اور کون ہے جو کسی کو اس کی زد سے بچا سکے ؟ اس حالت کو اس طرح بھی ادا کیا جاتا ہے کہ ” خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں “۔ دوسری جگہ ظالموں اور مفسدوں کی حرکات پر نگاہ رکھنے کلئے ” گھات لگائے ہوئے ہونے کے “ الفاظ تمثیلی استعارے کے طور پر استعمال کئے گئے ہیں۔ گھات لگائے ہوئے ہونے کا مطلب سمجھ میں آگیا تو یہ دیکھا جائے کہ گھات کیا ہے ؟ گھات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی شخص کسی کے انتظار میں اس غرض کیلئے چھپا بیٹھا ہوتا ہے کہ جب وہ زد پر آئے تو اس وقت اس پر حملہ کر دے۔ وہ جس کے انتظار میں بیٹھا ہوتا ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کی خبر لینے کیلئے کون کہاں چھپا ہوا ہے۔ انجام سے غافل ‘ بےفکری کے ساتھ وہ اس مقام سے گزرتا ہے اور اچانک شکار ہوجاتا ہے یہی صورت حال اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان ظالموں کی ہے جو دنیا میں فساد کا طوفان برپا کئے رکھتے ہیں انہیں اس کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ خدا بھی کوئی ہے جو ان کی حرکات کو دیکھ رہا ہے وہ پوری بےخوفی کے ساتھ روز بروز زیادہ سے زیادہ شرارتیں کرتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ حد آجاتی ہے جس سے آگے اللہ تعالیٰ انہیں بڑھنے نہیں دینا چاہتا اس وقت ان پر اچانک اس کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔ لیکن کیا یہ اس قانون الٰہی کے خلاف ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا ؟ نہیں بلکہ اس کے عین مطابق کیونکہ ظالم کو اپنے ظلم کی پاداش میں پکڑا جانا لازم ہے اور یہی قانون خداوندی ہے جس کو اس جگہ بیان کیا گیا۔ ” اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جو اس کا کارساز ہو “۔ جب کسی قوم پر پیہم نصیحتیں ‘ تشبیحیں اور سرزنشیں سود مند ثابت نہ ہوں جیسا کہ آج کل خود قوم مسلم کا ہال ہے اور اس کو اپنی اصلاح کیلئے جو مہلت بھی دی جائے وہ غفلت میں گزار دے اور پھر اللہ اس کو اس کے اعمال کے بدلے میں کوئی سزا دینے کا فیصلہ کرلے تو پھر کوئی طاقت اس کو اپنی اعمال کے نتائج سے بچا نہیں سکتی۔ یہ وہ قانون قدرت ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ‘ یہ وہ حقیقت ہے جو ناقابل تردید ہے۔ امت مسلمہ کو اپنے اعمال واطوار کی اصلاح کی طرف متوجہ کرنے کیلئے اس سے واضح اور روشن آیت کے بعد بھی کسی سمجھانے والے کی ضرورت باقی رہتی ہے ؟ اگر نہین تو کیا قوم مسلم ماننے کو تیار ہے ؟
Ayah 13:12

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّ طَمَعًا وَّ یُنْشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَۚ Open ayah 13:12 in the Quran reader

وہی ہے جو تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے وہ دلوں میں ہراس بھی پیدا کردیتی ہے اور امید بھی اور وہی ہے جو بادلوں کو بوجھل کردیتا ہے

وہ کون ہے جو بجلی کی چمک سے دلوں میں ہراس اور امید دونوں کو جنم دیتا ہے ؟ 23 ؎ انسانی زندگی کیلئے بیم و رجا دونوں کی ضرورت ہے اور دونوں بیک وقت طاری کردیتا ہے۔ غور کرو کہ بادلوں میں جو بجلی کوندتی ہے جس کی خیرہ کن چمک کو دیکھ کر تمہارے دلوں میں بیم و رجا کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس وقت تم دل ہی دل میں ڈر بھی رہے ہوتے ہو کہ کہیں تم پر گر کر تمہیں ہلاک نہ کر دے اور خوش بھی ہو رہے ہوتے ہو کہ بارش ہوگی اور کھیت اور باغات سیراب ہوجائیں گے وار تم نہال ہو جائو گے۔ ذرا دیکھو تو کہ ان بادلوں کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ یہ کروڑوں ٹن پانی ایک ہی ہوا کے جھونکے سے کہیں سے کہیں پہنچا دینے والا کون ہے ؟ وہ کون ہے جس نے اس پانی میں وہ آگ ‘ وہ چمک ‘ وہ کڑک سب کچھ اکٹھا کردیا ہے ؟ وہ کون ہے جو اس پانی کو اتار کر تمہاری اس زمین کو جس میں تم بس رہے ہو ہرا بھرا کردیتا ہے ؟ سن رکھو کہ وہ اللہ ہی تو ہے۔ بادل بذاتہ نہ کوئی دیوی دیوتا ہیں اور نہ ہی کسی اور دیوی دیوتا کے محکوم و ماتحت ہیں وہ تو محض اللہ کی ایک مخلوق اور دوسری بےجان مخلوق کی طرح تابع فرمان ہیں۔ تمہارا وہ اندر دیوتا یا کوئی اور دیوتا بجلی اور بارش کے خدا نہیں اور نہ ہی تمہارے یہ خضر خواج کا کوئی کنٹرول پانیوں پر ہے۔ یہ سب کچھ تو ایک ہی بندھن میں بندھا ہوا حے اور ایک ہی کے باندھنے سے باندھا گیا ہے جس نے اتنے بھاری بادلوں کو اتنا بلند مقام عطا کیا ہے اور اس کے حکم کے وہ تابع فرمان ہیں۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم