Ayah 12:80برادران یوسف جب عزیز مصر کے جواب سے مایوس ہوئے تو مشورہ کیلئے الگ ہوئے۔
۔ 96 عزیز مصر نے جب ان کی درخواست مسترد کردی اور وہ اس طرف سے بالکل مایوس ہوگئے تو اب الگ خلوت میں بیٹھ کر مشورہ کرنے لگے ان میں بڑے نے کہا بھائی تم کو معلوم ہے کہ والد نے بنیامین کے متعلق کس قدر سخت اور پختہ عہد و پیمان ہم سے لیا ہے اور اس سے پہلے تم یوسف کے ساتھ جو ظلم و زیادتی کرچکے ہو وہ بھی سامنے ہے اس لئے میں تو اب اس جگہ سے اس وقت تک ٹلنے والا نہیں کہ یا تو والد ماجد مجھ کو کنعان آنے کی اجازت دیں یا اللہ میرے لئے کوئی دوسرا فیصلہ کر دے۔
آیت 69 تا 80 ، 12 آیتوں کا مفہوم ایک بار پھر سمجھ لینا چاہئے۔ پیچھے ذکر آ رہا تھا بھائیوں کے یوسف (علیہ السلام) کے پاس غلہ حاصل کرنے کے لئے پہلی دفعہ آنے کا جب تورات کے بیان کے مطابق برادران یوسف پر جاسوسی کا الزام لگایا گیا اور اس طرح ان کو براہ راست یوسف عل یہ السلام کے پاس حاضر ہونے کا اور بالمشافہ گفتگو کرنے کا موقع ملا معلوم ہوتا ہے عزیز مصر کو جو یوسف (علیہ السلام) ہی تھے ان لوگوں نے نرم مزاج سمجھ کر ایک بوجھ بھائی کے لئے غلہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور اس طرح یوسف (علیہ السلام) کو اپنے والد اور حقیقی بھائی اور گھر کے سارے حالات کو معلوم کرنے کا موقع مل گیا۔ یوسف عل یہ السلام نے بھائیوں کی یہ درخواست تو منظور نہ کی کہ جو شخص موجود نہیں اس کے حصہ میں بھی کچھ دیا جائے البتہ ان کو تنبیہ ضرور کی کہ آئندہ اگر آنا پڑے تو اس کو ساتھ لانا اس کا حصہ تم کو یعنی اس کو ضرور ملے گا اور ساتھ ہی حسن سلوک کے طور پر ان کے کرایہ کی رقم جو سامان بردار لوگوں نے وہاں جا کر وصول کرنا تھی اس کے متعلق ان کو کہہ دیا کہ وہ وہاں جا کر وصول نہ کریں بلکہ احساناً چھوڑ آئیں اور حکومت ان کو کرایہ ادا کرے گی۔ انہوں نے ایسا ہی کیا کہ جب غلہ لے کر کنعان پہنچے تو انہوں نے ایک تو جاتے ہی والد سے یہ قصہ سنایا کہ ہم کو آئندہ غلہ لانے کی ممانعت کردی گئی کہ جب تک ہم اپنے بھائی بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں غلہ حاصل نہیں کرسکیں گے اور پھر جب سامان وغیرہ کھولا گیا اور وہ کارندے واپس آنے لگے اور انہوں نے ان کو کرایہ وغیرہ کی رقم پیش کی تو انہوں نے لینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہمیں عزیز مصر نے منع کیا ہے لہٰذا ہم یہ وصول نہیں کرسکتے یہ گویا ان کے لئے ایک مزید خوخشبری کی بات ہوئی جس سے ان کو دوبارہ غلہ لینے کی توجہ بھی ہوئی اور باپ کو آمادہ کرلینے کا موقع بھی فراہم ہوا ہے۔ مختصر یہ کہ جب وہ دوسری بار غلہ لینے کے لئے بنیامین کے ساتھ آئے اور اپنے والد کے حکم کے مطابق مصر میں داخل ہوئے اور یوسف (علیہ السلام) یعنی عزیز مصر سے آمنا سامنا ہوا تو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ ان سب بھائیوں کو ایک ایک کمرہ دو دو آدمیوں کو یدتے جائو تاکہ آرام سے رہیں اور بنیامین کو اپنے قریب جگہ دی۔ ازیاں بعد اپنا سارا ماجرا بنیامین کے سامنے پیش کردیا اور اس کو سمجھا دیا کہ اس دفعہ تم جائو اور والد بزرگوار کو بھی سارے واقعات سنا دینا اس طرح دو یا چار روز یا کم و بیش ان کی خوب مہمانی کی اور جاتی دفعہ سب بھائیوں کی دعوت کا ایک پر تکلف سامان بھی کیا اور وہ اس مقام پر کیا جہاں بنیامین کو ٹھہرایا گیا تھا یہ ہے جعل السقابۃ فی رحل اخیہ اس طرح یوسف عل یہ السلام نے الوداعی پارٹی دے کر ان کو ان کا سامان لداوا کر رخصت کیا اور کچھ دیر گزری ہوگی کہ غلہ ماپنے والے عملہ کے لوگوں کو وہ یمانہ دستیاب نہ ہوسکا جس کے ساتھ غلہ ماپای جاتا تھا چونکہ غلہ لینے والا یہ آخری قافلہ تھا اس لئے ان کو شک ہوا کہ یہ کام اس قافلہ کے لوگوں کا ہے۔ ان کے پیچھے دوڑے اور ان کو کہا اے قافلہ ولاو تم تو چور ہو۔ اس طرح وہ قافلہ روک لیا گیا اور ایک دوسرے کے ساتھ وہ مکالمہ ہوا جو ان کا رندوں اور یوسف عل یہ السلام کے بھائیوں کے درمیان ہوا اور یہ سارا معامل کارندوں اور قافلہ والوں کا تھا یوسف (علیہ السلام) کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ قافلہ والوں نے جو اس کو تسلیم نہ کیا اور اپنے سامان کی تلاشی دینے پر رضا مند ہوگئے۔ سارے قافلہ کے لوگوں کی تلاشی لی گئی اور آخر کار بنیامین ہی کے سامان سے وہ ” آلہ “ نکل آیا اور اس طرح یہ سارا معاملہ قافلہ والوں کو واپس لا کر یوسف (علیہ السلام) کے ہاں لایا گیا کہ اب جو فصلہ ’ ہوگا اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔ اس طرح بنیامین کو روک لینا پڑا کہ اس پر براہ راست مقدمہ کھڑا ہوگیا اور چونکہ وہ یوسف (علیہ السلام) کا بھائی تھا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے یہ سارا معاملہ یوسف کو سمجھا دیا کہ ان ان دلائل کی بنا پر بنیامین پر اسط رح جو الزام لگ گیا اس کی صفائی ہوجائے گی یہ ہے کذلک کدنا یوسف ورنہ عالم حالات میں تو مال برآمد ہونے کے باعث بنیامین مجرم قرار پاہی جاتے اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرما یا کہ ” ما کان لیا خذاخاہ فی دین الملک اس ضمی بیان کے بعد معاملہ پھر پانی اصل کی طرف لوٹ گیا کہ اس طرح جبب نیامین کو روک لیا گیا تو بھائیوں نے التجا کی کہ ہمارے باپ بڑھا ہے اس لئے ہم پر سے کسی کو روک لو اور بنیامین کی وجانے کی اجازت دے دو جس کے جواب میں یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ معاذ اللہ ان ناخذ الا من وجدنا مناعنا عندہ انا اذا لظلمون ” کتنی صاف بات تھی لیکن مفسرین کرام نے اس کو کتنا الجھا کر رکھ دیا اور بات کیا سے کیا کر رہ گئی۔
ہم نے شاہی پیالہ کو شاہی ضیافت قرار دیا ہے جو عزیز مصر یعنی یوسف عل یہ السلام نے بھائیوں کو الوداعی دعوت کے طور پر دی اور اپنے بھائی بنیامین کے ٹھہر نے کی جگہ پر کی گئی۔ مفسریننے سقایہ کو شاہی پیالہ قرار دے کر یہ کہا کہ اس پیالہ کو یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی بنیامین کے سامان میں رکھ دیا تھا خواہ بطور نشانی یا محض اس لئے کہ بنیامین پر چوری کا الزام لگا کا روک لیا جائے۔ پھر جب ان سے کہا گیا کہ یہ سامان رکھنے کی چیز تو ” سقایہ “ تھی لیکن سامان سے نکلنے والا تو ” صاع “ تھا ” سقایہ “ تو نہیں تھا ؟ تو انہوں نے کہا کہ دراصل بادشاہ وقت یا عزیز مصر کے پانی پینے کا برتن بھی وہی تھا جس کے ساتھ غلہ ماپا جاتا تھا۔ اس معاملہ میں کوئی دلیل قرآن و سنت سے ہرگز نہیں۔ پھر کسی پر چوری کا الزام لگوانا نہایت ہی برافعل ہے جس کو قرآن کریم نے خود دوسری جگہ بہتان کے نام سے تعبرے کیا ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں وہ ایسا کام اور اس طرح کا بہتان آخر کیوں اور کیسے ؟ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ :
(آیت النساء 4 : 41)
” اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ “ کیا بنیامین کے سامان میں ایک پیالہ کا رکھنا اور پھر خود یہ اعلان کرا دینا اینھا العیر انکم لسارقون اے قافلہ والو ! تم تو بلاشبہ چور ہو کیا کوئی باضمیر انسان ایسیح کت کرسکتا ہے ؟ پھر اس کے لئے جو داستان گھڑی گئی وہ کیا تھی ؟ یہ کہ بادشاہ کے قانون کے مطابق یوسف بنیامین کو روک نہیں سکتا تھا اس طرح گویا ایک نہ شد دو شد والا معاملہ کردیا کہ یہ تدبیر یوسف کہ اللہ نے بتائی تھی۔ کیا ؟ یہ کہ بنیامین کی بوری میں پیالہ رکھ دو اور قافلہ والوں پر چوری کا الزام لگ جائے گا پھر قافلہ ہی سے یہ فیصلہ لے لو کہ اگر تم جھوٹ بول رہے ہو تو تمہارا علاج کیا ؟ پھر جب وہپ یالہ بنیامین کے بوجھ سے نکل آیا تو گویا وہ چور قرار پا گیا اس لئے اس کو چور بنا کر روک لینے کی تدبیر اللہ نے بتائی تھی گویا یہ جھوٹ صرف رسول نے نہیں گھڑا بلکہ اصل جھوٹ خدا نے خود گھڑا اور اس نے نبی سے وہ کام کرا لار جو دوسرے سارے انسانوں کے حق میں بہتان اور گناہ عظیم ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعن۔
کسی نے یہ خیال نہ کیا کہ یوسف جو ملک مصر کا خودمختار حاکم بنا دیا گیا تھا اس کی خود مختاری کہاں گئی اگر وہ کسی ایک آدمی کو بھی روک نہیں سکتا تھا جو کسی باہر کے ملک سے آنے والا تھا۔ پھر ان کو یہ خیال بھی نہ آیا کہ جب اللہ اور اس کے رسول دونوں نے مل کر ایک جھوٹ بہتان اور گناہ عظیم کا کام کیا اور اس لئے کیا کہ وہ بنیامین کو روک نہیں سکتے تھے تو خود قرآن کریم کے حکم کے مطابق بنیامین کا ایک بڑا بھائی جو بھائیوں کے کہنے پر بھی جانے کے لئے تیار نہ ہوا بلکہ اس نے جانے سے اور اس جگہ سے ادھر ادھر ہونا بھی پسند نہ کیا وہ کس قانون کے تحت یہاں رک گیا ؟ اس ملک کا مختار اور حاکم یوسف ، تھا یا وہ خود بخود رک جانے والا اس کا بھائی ؟
کچھ دنوں کے بعد کنعان سے یعقوب (علیہ السلام) کا سارا خاندان جو وہاں سے اٹھا کر مصر میں آباد کرلیا تو و کس قانون کے تحت تھا ؟ کیا اس کے لئے کوئی قانون بنوا یا لیا تھا ؟ اس کی کوئی دلیل کتاب و سنت میں ہے اگر ہے تو کہاں ہے ؟ پھر بادشاہ وقت یا عزیز مصر کے پانی پینے کا ” پیالہ “ اور ” صاع ‘ ‘ یعنی غلہ ماپنے کا آلہ ایک ہی تھا ؟ اس کی کوئی دلیل کتاب و سنت میں ہے تو وہ کہاں ہے ؟ جس چیز کا ذکر نہ قرآن کریم میں ہو نہ کسی صحیح حدیث میں اور نہ ہی اس کو کسی انسان کی عقل تسلیم کرے اس کو کہے جانا محض اس لئے کہ سارے لوگ اسی طرح کہتے ہیں کہاں تک صحیح اور درست ہو سکتا ہے۔ کیا تواتر اسی کو کہتے ہیں ؟
قرآن کریم نے دوسری جگہ خود ” سقایہ “ کا لفظ حجاج کرام کے کھانے پلانے کے سامان پر بولا ہے جہاں فرمایا کہ (آیت التوبہ 9 : 91) سارے مفسرین یہ تحریر کرتے چلے آ رہے ہیں کہ یہاں حاجیوں کو پانی پلانے اور شربت تیار کر کے اس کے اندر ستوملا کے پلانے پر بولا گیا ہے اور لغات میں بھی یہ لفظ عام طور پر اس مفہوم کے لئے بولا جاتا ہے۔ چناچہ تحریر ہے کہ قال الحسن رحمتہ اللہ تعالیٰ کانت السقایۃ بنبید النبیب و عن عمر انہ وجد نبیذ السقایۃ من النبیب شدیدا فکسر منہ بالماء ثلاثاً (کبیر امام رازی)
واعلم ان السقایۃ فعل (الکشاف) السقایۃ بالکسر الموضع یتخذ سقی الناس (مصباح المنیر) اسقایۃ بالکسر والضم موضعہ کا لمسافاۃ بالفتح ولاکسر (القاموس منتھی العرب) وسیقی الحاج بوجب نوعا من انواع الفضیلۃ (کبیر امام رازی۔ التوبہ) وقیل ان المشرکین قالوا اللیھود نحن سقاۃ الحاج و عمارۃ المسجد الحرام فتحن افضل ام محمد و اصحابہ ؟ فقالت الیھود انتم افضل (کبیر امام رازی التوبہ 9 : 91)
باقی لفظ ” الرحال “ تو اس کے متعقل بھی سن لیجیے کہ کہا گیا ہے کہ الرجل : مرکب للیعیر والناقۃ … قال الاھری فقد صح ان الرحل والرحلۃ من مراکب الرجال دون النساء و الرجل فی غیر ھذا : منزل الرجل و مسکنہ و بینعویقال دخلت علی الرجل رحلہ منزلہ (لسان الغرب ج 5 ص 962) وقال ابن الاثیر فالصلوۃ فی الرجال یعنی الدور والمساکن والمنازل وھی جمع رحل۔ (لسان العرب ج 5 ص 371)
ورحل الرجل منزلہ و مسکنہ (لسان العرب ج 5 ص 271)
بلاشبہ رحل کا لفظ بوری ، خورجی ، ثلیتہ ، سامان ، بوجھ وغیرہ کے معنوں میں آتا ہے لیکن ” رجل “ کے معنی ” ڈیرا “ ” گھر “ رہنے کی جگہ ، ٹھہرنے کی جگہ ، رہائش گاہ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے لہٰذا اس مقام یعنی سورة یوسف کی آیت 07 میں جعل السقابۃ فی رحل اخیہ کے معنی ہوں گے یوسف (علیہ السلام) نے سارے بھائیوں کی ضیافت کا انتظام اپنے بھائی کی رہائش گاہ پر کیا کیونکہ قرآن و حدیث اور تورات تینوں کے مطابق یوسف (علیہ السلام) نے پہلی اور دوسری بار بھائیوں کے آنے پر ان کے ٹھہرانے اور ان کے خوردو نوش کے انتظام کرنے کا ذکر موجود ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ” انا خیر المنزلین “ کا ترجمہ سب نے ” میں بہترین مہمان نواز ہوں گے “ کیا ہے اور اس طرح اس سورت کی آیت 96 میں ” اوی الیہ اخاہ قال انی انا اخوک “ کی تعبیر تیرہ میں یہ لکھا ہے کہ دو دو بھائیوں کو ایک مکان پر ٹھہرایا گیا اور یوسف نے بنیامین کو اپنے پاس جگہ دی یعنی اپنے قریب الگ ٹھہرایا اور پھر جہاں الگ ٹھہرایا تھا اس جگہ آخری ضیافت کا انتظام کیا تاکہ شاہی لنگر سے سب کو اس جگہ کھلا پلا کر رخصت کردیا جائے۔ “
اس طر بات بالکل صاف اور سیدھی ہوگئی کہ گم ہونے والی ” سقایہ “ نہیں بلکہ ” صاع “ ہے جو چیز دستیاب ہوئی وہ بھی صاع ہی تھا۔ ” سقایہ “ کے معنی پانی پینے کے برتن کے نہیں بلکہ ضانت کرنے اور کھانے پینے کا انتظام کرنے کے ہیں۔ اس طرح بادشاہ کے پانی پینے کے برتن اور پھر اس سے غلہ ناپنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ یہ کام تو سارا دن بلکہ رات گئے تک ہوتا رہے گا کیونکہ دور دراز سے آنے والوں اور اندرون ملک غلہ پہنچانے کا کام زوروں پر تھا۔ اتنی بڑی شاندار حکومت کو اس کی کیا ضرورت تھی ؟ شاہی پینے کے پیالہ اور ناپنے کے آلہ کو ایک قرار دیا جائے جب کہ کتاب و سنت میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔
صاع کو مونث اور مذکر دونوں طرح ذکر کیا جاسکتا ہے اس میں مونث اور مذکر کی کوئی بحث نہیں۔
قرآن کریم نے ” جعل السقابۃ “ اور ” فقدان صاع “ کا الگ الگ بیان فرمایا ہے جعل الصواع اور فقدان سقایہ کا کہیں ذکر نہیں ہے ہمارے نئے اور پرانے مفسرین نے ان دونوں کو ہم معنی قرار دے کر ایک بتایا ہے جو کسی طرح بھی ٹھیک نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اس سے یوسف (علیہ السلام) کی ذات گرامی پر ایک بہت بڑا خطرناک الزامع ائد ہوتا ہے جو نبی کے شایان شان نہیں۔
سوال جو باقی رہ گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ صاع بوری میں کیسے بھر گیا اور کس نے بھرا ؟ قرآن کریم میں اس کا کہیں ذکر نہیں اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے۔ دو احتمال نظر آتے ہیں ان میں کونسا صحیح ہے اس فیصلہ سے پہلے ان دو احتمالات پر نظر کرلیں۔ ایک احتمال یہ ہے کہ یہ اتفاق ہے جیسا کہ مشیت ایزدی میں اتفاقات ہوتے رہتے ہیں جس کی ایک ممکن صورت یہ ہو سکتی ہے کہ غلہ بھرنے والے نے غلہ بھرتے بھرتے اس میں ماپنے کا آلہ رکھا اور ماپ کر رکھ کر کسی دوسرے کام میں مصروف ہوا جب دوبارہ ماپنے لگا تو اس طرح کے کسی دوسرے آلہ سے ماپنا شروع کردیا اور پہلا آلہ اس بوری کے اندر ہی رہ گیا۔ ایسا اس طرح ہوتا رہتا ہے ان جگہوں پر جہاں اس طرح کے کام ہوتے ہیں منڈیوں وغیرہ میں ایک ہی طرح کے کئی آلات رکھے ہوتے ہیں کام بند کرتے وقت دیکھ لیا جاتا ہے کہ سارے اوزار مکمل ہیں یا کوئی کمی بیشی ہے یعنی ماپنے کے آلے ایک نہیں نہ معلوم کتنے ہیں ؟ مثلاً دس ہیں بارہ ہیں یا ضرورت کے مطابق رکھے گئے ہیں لیکن شام کو جب حساب کے ختم ہونے کا وقت آیا تو انہوں نے سب کو دیکھ بھال کر جمع کرلیا اور کل کے لئے تیاری کر کے چھٹی کرلی۔ یہی صورت پیش آئی تو ایک ماپنے کا آلہ یعنی صاع کم نکلا جس پر تلاش کی گئی اور نہ پا کر ان کا ذہن اس طرف گیا کہ آخر میں جو غلہ ماپا گیا وہ اس قافلہ والوں کا تھا لہٰذا ہو نہ ہو یہ انہی لوگوں کا کام ہے اور اس طرح اتفاق ہوگیا اور امر الٰہی میں ممکن ہے کہ بنیامین کا جانا نہ جانے سے زیادہ بہتر ہے اس لئے یہ معاملہ اتفاق سے اس طرح طے پا گیا ، کسی نے سوچ سمجھ کر ایسا نہیں کیا کہ باقاعدہ اسکیم کے تحت ہو ۔ دوسرا احتمال یہ بھی ممکن ہے کہا نہی بھائیوں میں سے کسی کی یہ کارستانی ہو کیونکہ وہ جس طرح یوسف کے خلاف تھے بنیامین کے خلاف بھی تھے اور یہ بات ان ہی کی ایک حرکت ہو اور ممکن ہے کہ مشورہ میں اتفاق رائے سے ایسا نہ کرسکے ہوں بلکہ بعض کی رائے ہو یا صرف ایک ہی کی رائے پختہ ہوگئی ہو اور اس نے تہیہ کر کے یہ کام سر انجام دے دیا ہو۔ بعض مفسرین نے یہ رائے بھی قائم کی ہے لیکن ہماری رائے ان کے ساتھ ہے جو یہ بات کہتے ہیں کہ صاع کا بوری میں رہ جانا مشیت الٰہی کے اتفاقات میں سے کوئی اتفاق ہے جس کی سمجھ کسی کو نہیں آئی اور اغلب بات یہی ہے کہ وہ انہی کار گزارن یوسف میں سے کسی کے ہاتھ سے ایسا ہوا ہے رہی یہ بات کہ اس صاع کے پیچھے اس قدر کیوں پڑگئے کہ کار گزارنے ایک اونٹ کا بوجھ انعام میں لگا دیا تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ سرکاری چیزوں میں سے کسی کا گم ہوجانا بہت بڑا جرم ہے جو اس چیز کے قیمتی ہونے پر دلالت نہیں کرتا بلکہ سرکاری مہر کا معاملہ سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے اور جن لوگوں کے تساہل سے کوئی ایسا کام معروض وجود میں آئے ان کے لئے بہت پریشانی کا باعث ہو سکتا ہے اس لئے اس کی تلاش کرنا بھی نہایت ضروری تھا کہ سرکاری مہر شدہ چیز تھی جس کے گم ہونے سے بہت زیادہ نقصان کا احتمال تھا۔
بہرحال جب وہ پیمانہ بنیامین کے بوجھ یا سامان میں سے نکل آیا تو وقتی طور پر اس کو روک لیا گیا اور ظاہر ہے یہ کام بنیامین کا ہے کیونکہ عدالت کے نوٹس میں یہ لانا تو ضروری تھا کہ جس آدمی کے سامان سے وہ پیمانہ نکلا کیا وہ غلہ ڈالے جانے کے وقت وہاں موجود تھا ؟ غلہ بھرنے کے دوران ادھر کہیں بنیامین گئے ؟ کیا سامان تیار ہونے تک بنیامین کا وہاں جانا کسی شہادت سے ثابت ہوتا ہے ؟ پھر یہ کیا بات ہوئی کہ غلہ کارگزاروں نے خود ماپا ، خود بھرا ، خود ہی ان بوریوں کو سیا اور تیار کیا اور سارے سامان پر ان لوگوں کے نام غلہ کا ماپ تول یعنی وزن سب کچھ تو کارندوں نے کیا لیکن جب سامان لادا گیا اور وہ قافلہ ابھی وہاں سے رخصت ہوا ہی تھا کہ اس کا راستہ روک لیا یا ان سوالات کے باعث عدالت نے بنیامین کو مجرم ثابت نہ ہونے دیا اور اس طرح بنیامین کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دیا گیا۔ اگرچہ صورتحال واضح نہ ہوسکی کہ یہ فعل کیونکر صادر ہوگیا اور یہ ساری باتیں جو اوپر بیان کی گئیں جن کی وجہ سے بنیامین بری قرارپایا ان کی نسبت یوسف سے کی گئی کہ یوسف کو یہ ساری باتیں اللہ نے ہی سکھا دیں ورنہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ جس آدمی سے چوری کا مال برآمد ہو وہ چور قرار نہ دیا جاسکے۔ اس طرح کی مثالیں اسلام سے خود پیغمبر اسلام کی موجودگی میں معرض وجود میں آئیں اور چوری کا مال جہاں سے برآمد ہوا خود رسول اللہ ﷺ کی عدالت عالیہ نے اس آدمی کو چوری کے الزام سے بری قرار دیا جس سے چوری کا مال برآمد ہوا تھا۔ سورة النساء میں اس طرح کے واقعات ہم درج کرچکے ہیں مثلاً آپ کے دور میں ایک چوری کا واقعہ ہوا۔ چوری ایک نام کے مسلمان نے کی اور آٹے کی بوری اس نے چورائی اور وہاں سے اٹھا کر وہ مال ایک یہودی کے ہا رکھ دیا صبح کے وقت جب لوگوں نے کھوج لگایا تو وہ چیز یعنی آٹے کی بوری ایک یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی اور عدالت میں مقدمہ چلا گیا۔ یہودی نے جو حقیقت میں چور بھی نہیں تھا اپنا بیان قلمبند کرایا اور اس نام کے مسلمان نے شہادت بھی پیش کی لیکن فراست نبوی نے حق کھول کر رکھ دیا اور اس نام کے مسلمان پر ایسی جرح ہوئی کہ وہ جواب نہ دے سکا اور آپ نے فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا اور فی الحققتر وہی حق پر تھا وہ نام کا مسلمان چور ثابت ہوگیا جس سے حق کھل کر سامنے آگیا اور جو حقیقت تھی وہ سب پر واضح ہوگئی۔ یہی معاملہ بنیامین کے مقدمہ کا ہوا کہ وہ اللہ کے فضل و کرم سے عزت و احترام میں پہلے سے بھی زیادہ اس کا مستحق قرار پایا۔ ادھر سے بھائی تیسری بار غلہ لینے کے لئے آئے تو انہوں نے اس طرح کی باتیں کیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اس واقعہ سے پردہ اٹھا دیا اور بات کھل کر سامنے آگئی اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے سارے خاندان کو مصر میں لا کر آباد کرنے کی اپیل کی جو یعقوب (علیہ السلام) نے منظور فرمائی اور اس طرح بنی اسرائیل کا ورود مسعود مصر میں ہوگیا اور وہ مدت تک اپنا رعب دنیا میں قائم رکھ سکے جس کا بیان مضمون کے اندر موجود ہے۔
Ayah 12:81۔ 97 تم سب والد ماجد کے پاس جائو اور عرض کرو کہ تمہارے بیٹے بنیامین نے چوری کی اور جو بات ہمارے جاننے میں آئی وہی سچ سچ آپ کے سامنے کہہ دی ہم کو کچھ غیب کا علم تو تھا نہیں کہ پیل سے جان لیتے کہ اس سے ایسی حرکت سر زد ہونے والی ہے اور یہ بھی کہنا کہ آپ مصر کے لوگوں سے اس کی تصدیق کرلیں نیز اس قافلہ سے بھی کہ جس کے ساتھ ہم مصر سے یہاں آئے ہںٓ اس معاملہ میں بالکل سچے ہیں۔
Ayah 12:82وہ کونسا قافلہ تھا جس سے یہ لوگ کنعان گئے تھے جس سے تصدیق کیلئے انہوں نے والد سے کہا
۔ 98 اس بستی سے مراد مصر ہے اور قافلہ سے مراد وہ قافلہ ہے جو کنعان کے قرب و جوار سے دوسرے لوگوں کا گیا ہوا تھا اور جن کی موجودگی میں یہ سارا معاملہ ہوا تھا جو مصر میں یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں اور کارندوں کے درمیان ہوا۔ یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے جو مصر سے واپس آئے تھے انہوں نے والد بزرگوار سے عرض کی کہ اگر آپ ہماری اس بات اک یقین نہیں کرتے تو اپنے کسی معتبر آدمی کو بھیج کر مصر سے تصدیق کرا لیجیے یا ہمارے ساتھ جو اور اہل قافلہ تھے انہی سے دریافت کر لیجیے سب ہمارے بیان کی تصدیق کریں گے۔ اس وقت سفر کا عام طریقہ یہی تھا کہ بہت سے لوگ مل کر ایک بڑا قافلہ بنا کر سفر کرتے تھے اور پھر قحط اور گرانی کی مصیبت تو آس پاس ملکوں میں بھی پھیلی ہوئی تھی اس لئے آل یعقوب کے علاوہ اور بھی خدا معلوم کتنے لوگ اس طرح قافلہ بنا کر مصر پہنچ رہے۔
Ayah 12:83یعقوب نے کہا یہ ایک بات ہے جو تم نے گھڑ لی ہے لیکن اب صبر کے سوا چارہ کیا ہے ؟
۔ 99 شدت غم و حزن میں انسان ایسے ہی کلمات پر طبعاً مضطر ہے اور پیغمبر بھی انسان ہی ہوتا ہے۔ سارے انسانی جذبات کے ساتھ یہ گفتگو اب اس موقع کی ہے کہ بڑے بھئای اور بنیامین کو مصر میں چھوڑ کر اور سب بھائی کنعان میں اپنے والد ماجد کی خدمت میں پہنچے ہیں اور اپنی روئیداد مصائب سنائی ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) ےک معاملہ میں ان کی صداقت کا تجربہ کرچکے تھے اس لئے فرمایا نہیں تمہارے جی نے ایک بات بنا لی ہے ، واقعہ یوں نہیں ہے ، بنیامین اور چوری ؟ یہ نہیں ہو سکتا لیکن اب صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور پھر صبر بھی ایسا کہ وہ بہتر سے بہتر ہے۔ ” کیا تعجب کہ اللہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے۔ “ اور میرے اور یوسف کے خاب کی تعبیر سچی نکل آئے۔ اس سے مراد یعقوب کی اپنے تینوں یٹوں یعنی بڑا بیٹا ، یوسف اور بنیامین تھے۔ بلاشبہ زیادہ غم تو یوسف کا تھا لیکن اب اس کے غم کے ساتھ بنیامین کا ایک نیا غم بھی لگ گیا جس نے اس پہلے غم کو دوبارہ زندہ کردیا اور تیسرا بھی آخر آپ ہی کی اولاد ہے۔ اس لئے آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے کیا بعید ہے کہ وہ ایک دن تینوں گم شدہ گان کو پھر جمع کر دے اور ایک ساتھ ان دونوں کو مجھ سے ملا دے بلاشبہ وہ دانا ، حکمت والا ہے۔ مختصر یہ کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بنیامین کے مصر رہ جانے پر بھی بالکل فقرہ دہرایا جو یوسف کو بھیڑیا کے کھا جانے کی خبر سن کر فرمایا تھا گویا فراست نبوی نے یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ پر یقین نہیں کیا تھا کہ وہ سچا ہے اور آج بنیامین کا قضیہ سن کر بھی یقین نہیں فرمایا کہ جو کچھ میں نے سنا ہے وہ سچ ہے بلکہ اس کو بھی ایک جھوٹ ہی سمجھا ہے اور حقیقت بھی اسی طر ہے۔
Ayah 12:84یعقوب نے منہ پھیرا اور یوسف کے غم کے تازہ ہونے کے باعث غم زدہ ہو کر فرمایا
۔ 100 ” واللہ المستعان علی ماتصفون “ کا فقرہ زبان سے ادا کرتے ہی ان سب کی طرف سے رخ پھیرلیا یعنی بات کو ذرا بھی آگے نہیں بڑھایا ان کو کچھ برا بھلا نہیں کہا ، کوئی واویلا نہیں کیا لیکن فطرت انسانی کو تو ہر انسان سمجھتا ہے کہ ہر نئی چوٹ سے پرانی تازہ ہوجاتی ہے اور تازہ غم سے پرانا غم ہرا ہوجاتا ہے اور یہ امر انسان سے طبعی ہے چناچہ اس کے اقتضاء سے آپ بھی حضرت یوسف کو از سر نو شدت کے ساتھ یاد کرنے لگے۔ پیغمبر اپنے جذبات اور احساسات کے لحاظ سے بالکل بشر ہوتا ہے۔ مافوق البشر نہیں ہوتا بس یہ سبق قصہ یوسفی کے ایک ایک جزء سے بار بار دہرایا جا رہا ہے چناچہ یہ جو فرمایا کہ ” ان سے منہ پھیرلیا۔ “ تو یہ منہ پھیر لیتا ظاہر ہے کہ انتباض طبعی کے اثر سے تھا۔
” غم واندوہ کے پی جانے کے باعث آپ کی آنکھیں بھر آئیں۔ “ یہ اشک افشاین کمالات نبوت کے ذرا بھی منافی نہیں جیسا کہ بعض نافہموں اور نادانوں کا خیال ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ گزارش بھی کہ رو رو کر ہلکان ہونا اور آہ وز اری کرتے کرتے اندھے ہوجانے کا تصور بھی یہاں نہیں کیا جاسکتا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ افراط ہے یا تفریط اعتدال شاید ہماری طبائع کو راس ہی نہیں آتا۔ آنکھوں کا بھر آنا ، غم میں ڈوب کر اشکبار ہوجانا ، شفقت اور رقت قلب کی علامت ہے اور نیب اعظم و آخر ﷺ کا مختف مواقع وفات پر اشکبار ہونا بھی احادیث صحیحہ سے ثابت ہے اور اپنے فرزند ابراہیم کی وفات پر آنسوئوں کے ساتھ آپ کا رونا بھی ثابت ہے جو ابھی شیر خوار بچہ تھا۔ لیکن قرآن کریم نے خود یعقوب (علیہ السلام) کے اشکبار ہونے کی کیفیت کے بعد ” فھو کظیم “ کے الفاظ بول کر واضح کردیا کہ اس خاص حالت میں جس کا ذکر اوپر کیا گیا یعنی بنیامین کے متعلق خبر سن کر جو آپ کو غم واندوہ ہوا وہ بھی اس قسم کا تھا کہ آپ کا دل اور آنکھوں پر تو اختیار نہ تھا باقی زبان پر کوئی کلمہ بےصبری یا جزع فزع کا نہیں آنے پایا تھا اس سے گویا یعقوب (علیہ السلام) کی کیفیت شدت غم کے ساتھ ساتھ شدت ضبط بھی واضح ہوگئی۔
Ayah 12:85غم کی کیفیت میں یعقوب ڈوب گئے تو بیٹوں نے کہا یوسف کی یاد میں کب تک کھلتے رہو گے
۔ 101 عام حالات میں سمجھا جاتا ہے کہ چھوٹے بہن بھائی اور اولاد میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا لیکن یہ سب باتیں کہنے کی حد تک ہیں اولاد اور بہن ، بھائیوں میں فطرت نے ایک بہت بڑا فرق خود روا رکھا ہے جس کا اناکر نہیں کیا جاسکتا۔ غور کرو کہ اولاد ماں باپ کی وارث ہے ، کتنی ؟ والدین کی ہرچیز کی اور ایک خاص حد کے اندر والدین بھی اولاد کے وارث ہیں لیکن حقیقی بہن بھائی بھی ایک دوسرے کے وارث قرار نہیں دیئے گئے فطرت نے زبان سے کچھ نہ بول کر کچھ نہ کہہ کر سب کچھ کہہ دیا بشرطیکہ کوئی سمجھنے والا ہو۔ بیٹوں نے یعقوب (علیہ السلام) کا غم میں ڈوب جانا کیا محسوس کیا ؟ ان کے بول سے واضح ہے وہ سب بیٹے بیک زبان کہنے لگے ” بخدا تم تو ہمیشہ ایسے ہی رہو گے کہ یوسف کی یاد میں لگے رہو یہاں تک کہ گھل جائو یا اپنے کو ہلاک کر دو ۔ “ بیٹوں نے یہ جواب اس لئے دیا کہ یوسف کے واقعہ کی یاد میں لگے رہو یہاں تک کہ گھل جائو یا اپنے کو ہالک کر دو ۔ “ بیٹوں نے یہ جواب اس لئے دیا کہ یوسف کے واقعہ کو تو ایک بہت بڑی مدت جو تقریباً تیس سال سے کم نہ ہوگی گزر چکی لیکن آپ کا غم ابھی بدستور اسی طرح قائم ہے لیکن ان کو یہ اس لئے محسوس ہوا کہ یوسف ان میں سے کسی کی اولاد نہ تھا وہ اولاد تھا تو صرف یعقوب (علیہ السلام) کی جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قانون الٰہی نے ہر کام فطرت کے مطابق کرنے کی کوشش کی ، فطرت کے خلاف نہیں۔
Ayah 12:86یعقوب نے فرمایا بیٹو ! میں نے تم کو تو کچھ نہیں کہا اپنا غم اللہ کے سامنے پیش کیا ہے ؟
۔ 102 یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا بیٹو ! مجھے تم کچھ نہ کہو میں تو اپنی حکایت درد و غم صرف اپنے خداوند ذو الجلال والا کرام کی بارگاہ بےکس پناہ میں بیان کر رہا ہوں۔ مجھے اس سے مت دروکو۔ اس واقعہ میں اور ان حالات میں جو حکمتیں مستور ہیں اور جو راز پوشیدہ ہیں انہیں میں ہی جانتا ہوں کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں تم ایک خاموش تماشائی کی طرح دیکھتے رہو کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے ؟ ہاں ! مجھے یہ معلوم نہیں کہ ان سارے واقعات سے پردہ جب اٹھے گا تو وہ وقت میں دیکھوں گا یا نہیں ؟ اور یہی بات سب سے زیادہ میرے لئے باعث پریشانی ہے اور پھر میں اپنی پریشانی کو اپنے مالک حقیقی کے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ تم سے تو کچھ نہیں کر رہا۔ صبر جمیل کے منافی ہے تو شکایت الٰہی الحلق منافی ہے شکایت الی اللہ تو صبر جمیل کے منافی نہیں وہ تو عین دعا اور التجا ہے پھر اپنے خلاق سے التجا نہ کروں تو کس سے کروں ؟
Ayah 12:87یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے ان یٹوں کو سہ بارہ مصر جانے کی ہدایت
۔ 103 یعقوب (علیہ السلام) نے اتنے عرصہ کے بعد صاحبزادوں کو یہ حکم دیا کہ جائو یوسف اور اس کے بھائی بنیامین کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو کیونکہ اس کی رحمت سے سوائے کافروں اور ناشکروں کے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اس وقت جو حکم یعقوب نے دیا اس سے پہلے کبھی اس طرح کا حکم نہیں دیا تھا۔ یہ سب چیزیں تقدیر الٰہی کے تابع تھیں اور یعقوب (علیہ السلام) کی نبوی فراست بھی یقینا اس بات کو معلوم کرچکی تھی کہ ضرور کوئی حکمت اس میں موجود ہے۔ اب چونکہ ملاقات کا وقت قریب آچکا تھا اس لئے اس کے سامان ہونا بھی شروع ہوگئے۔ اس دفعہ یعقوب (علیہ السلام) کو بیٹوں نے یہ کیوں نہ کہا کہ یوسف کو جبکہ بھیڑیا کھا گیا تو تو اب اس کی تلاش کا کیا مطلب ؟ اندازہ کیا کہ اس دفعہ بیٹوں نے کوئی بات بھی نہیں کی۔ مزید غور کرو کہ یعقوب (علیہ السلام) نے جب یوس (علیہ السلام) کی تلاش کا رخ بھی مصر ہی کی طر قرار دیا جب کہ بنیامین کے حق میں تو معلوم ہی تھا لیکن یوسف عل یہ السلام کو مصر میں تلاش کرنے کی ظاہر حال کے اعتبار سے کوئی وجہ نہ تھی لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے مناسب اسباب بھی جمع کرنے شروع فرما دیتا ہے گویا اس طرح یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کے ذہن میں اتنی بات ضرور ڈالدی کہ وہ اس دفعہ وہیں سے کہیں یوسف کی جستجو بھی جاری رکھیں ممکن ہے کہ کوئی سراغ مل جائے۔ یہ وہ فراست نبوی تھی۔ جو یعقوب (علیہ السلام) نے فرمائی کیونکہ آپ کے علم میں یہ بات تو یقینی تھی کہ یوسف مرا نہیں بلکہ زندہ ہے اور وہ یہ بات بھی جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ یوسف پر یقینا کوئی احسان کرنے والا ہے۔ جو خصوصاً نبوت کے انتخاب الٰہی کا ہے اور پھر وہ سب کچھ بھی عطا کرنے والا ہے جو لوازمات نبوت میں ہے اور آپ کے پورے خاندان پر اللہ تعالیٰ کرتا چلا آ رہا ہے۔ ( سورة یوسف 28)
Ayah 12:88برادران یوسف کا تیسری بار عزیز مصر کے پاس جانا اور غلہ کی اپیل کرنا
۔ 104 برادران یوسف نے کچھ تو باپ کے اصرار پر اور کچھ اس لئے کہ واقعی قحط کی شدت انتہائی درجہ پر پہنچی ہوئی تھی اور غلہ کا سوائے مصری حکومت کے کہیں دور دور تک نام و نشان بھی نہ تھا۔ تیسری بار پھر مصر کا ارادہ کیا ظاہر ہے کہ اس بار وہ 9 بھائی تھے جب دربار شاہی میں پہنچے تو کہنے لگے ” اے عزیز مصر ! ہم کو اور ہمارے گھر والوں کو قحط نے سخت پریشانی میں ڈال دیا ہے اور اس مرتبہ ہم پونجی بھی بہت تھوڑی لائے ہیں اور جو لائے ہیں وہ حاضر ہے اب معاملہ خریدو فروخت اور لین دین کا نہیں ہم سے قیمت ادا نہیں ہو سکتی اس لئے تیری خدمت میں ہماری یہ درخواست ہے کہ از راہ کرم ہم کو غلہ کی پوری تول دے اور ہمیں ضرورت مند سمجھ کر اپنی جانب سے احسان فرما اللہ تعالیٰ صدقہ و خیرات کرنے والوں کو نیک بدلہ دیتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین اور بھائیوں کس اس پریشانی کا حال سنا اور خصوصاً ان کی عاجزانہ درخواست اور نیاز مندانہ طلب کے مجبور کن حالت پر غور کیا تو دل بھر آیا بھر صبر نہ ہوسکا اور حالات کا تقاضا یہی تھا کہ خود کو اب مزید نہ چھپائیں بلکہ ظاہر کردیں تو ان کی اس درخواست اور اس لہجہ درخواست کے پیش نظر پر دہ اٹھا دیں۔ عزیز مصر نے ان کی درخوات سن کر استفسار کیا کہ معلوم ہے یوسف سے تم نے کیا گیا تھا ؟
Ayah 12:89۔ 105 گویا بھائیوں کی بات سن کر جوش محبت سے بےقرار ہوگئے اس وقت ان کے سامنے اور کوئی بات نہ تھی صرف یہ تھی کہ میرے بھائی فقر و فاقہ میں مبتلا ہیں اور میں مسند عزت پر بیٹھا ہوا ہوں اور وہ دریوزہ گروں کی طرح دس سوال دراز کئے ہوئے ہیں لہٰذا ان کو اپنے کئے کی ٹھیک ٹھیک سزا مل چکی ہے اس لئے زیادہ خاموش میری طرف سے زیادتی نہ ہوجائے ۔ اس طرح بےاتخیار ان اک جی چاہا کہ اپنے آپ کو ظاہر کردی۔ ھل علمتم ما فعلتم یوسف واخیہ ؟ تمہیں وہ بات بھی یاد ہے جو یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کی تھی ؟ کہنے کو تو وہ سب کچھ کہہ گئے اور یہ سب کچھ کہے بغیر چارہ بھی نہ تھا کیونکہ ان کو یاد تو دلانا ہی تھا کہ میں مصر میں کیسے پہنچا لیکن معاً خیال ہوا کہ اس معاملہ کی یاد میں ان کے لئے سرتاسر سر زنش و خجالت ہے اس لئے فوراً ایک ایسی بات بھی فرما دی کہ ان کے لئے ایک معذرت کا پہلو خود بخود نکل آئے اور شرمندگی کا بوجھ محسوس نہ کریں فرمایا ادانتم جاھلون (21 : 98) یہ اس وقت کی بات ہے جب تمہاری نادانیوں کا زمانہ تھا یعنی اس معاملہ پر گویا زیادہ شرمندگی کی ضرورت نہیں کیونکہ نا دانیوں کے زمانہ کی ایک بات ہے اور دنیا میں کون ہے جس پر کوئی نہ کوئی زمانہ نادانیوں کا نہ گزرا ہو۔
Ayah 12:90برادران یوسف کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی اور وہ یہ سن کر خوشی سے ہکا بکا رہ گئے
۔ 106 برادران یوسف نے اس موقع پر غیر متوقع گفتگو سنی تو چونکے اور لب و لہجہ پر غور کر کے ایک دم پکار اٹھے کہ ” کیا آپ واقعی یوسف ہیں ؟ “ وہ حیرانی کے عالم میں تھے کہ ہم تو ” عزیز مصر “ کے دربار میں کھڑے ہیں ، اس سے باتیں کر رہے ہیں ، اپنی عرضداشت پیش کر رہے ہیں یہ بےمحل یوسف کا ذکر کیسا ؟ صورت و شکل اور گفتگو کے طرز و اندازہ کو اب دوسری نیت سے دیکھا تو یوسف کی شکل نگاہ کے سامنے پھر گئی اور سمجھ گئے کہ بلاشبہ یہ یوسف ہے مگر حالت موجودہ کے پیش نظر قدرتی طور پر یہ جرأت نہیں ہوئی کہ یہ کہ اٹھیں کہ ” تو یوسف ہے۔ “ بلکہ ایسے موقع کے مناسب لب و لہجہ سے کہنے لگے کیا آپ واقعی یوسف ہیں ؟ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہاں ! میں یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ عزیز کی زبان سے یہ بات ادا ہوتے ہی ان بھائیوں کے سامنے پچھلے واقعات کی یاد بجلی کی تیزی کی طرح آگئی اور وہ اپنے رشک کے جذبات اور یوسف کے خواب اور کنوئیں میں گرانا اور اپنی ساری بد سلوکیاں ایک ایک کر کے ان کے سامنے آنے لگیں اور ساتھ ہی یہ خیال آیا کہ یوسف کا خواب تو جھوٹا نہیں ہے ادھر اس طرح کے خیالات نے سکوت طاری کیا ہوا تھا اور ادھر یوسف فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا احسان کیا اور پھر جو شخص بھی برائیوں سے بچے اور مصیبتوں میں ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ ایسے نیک لوگو کا اجر کبھی ضائع نہیں فرماتا بلکہ پورا پورا ادا کرتا ہے۔
Ayah 12:91برادران یوسف نے اعتراف کرلیا کہ لالہ نے آپ کو ہم پر فضیلت دے دی ہم گناہگار تھے
۔ 107 یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے یہ سنتے ہی جب انہوں نے پہچان لیا اور عجز و ندامت کا سرجھکا کر بولے کہ ْیوسف (علیہ السلام) نے اپنے برادران کی اس خستہ حلای اور پریشانی کو دیکھا تو ان کی اخلاقی برتری اور پیغمبرانہ رحمت ورافت اس کو برداشت نہ کرسکی اور عفو و درگزر اور حلم و کرم کے ساتھ فوراً یہ ارشاد فرمایا جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا اب ہم سب کو یہ تمام داستان فراموش کر دینی چاہئے۔ میں بارگاہ الہی میں دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہاری اس غلطی کو معاف کر دے کیونکہ وہی سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا اور پیار کرنے والا ہے ۔
Ayah 12:92یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ آج کا دن بچھڑے ہوئوں کے ملنے اور ٹوٹے ہوئے رشتوں کے جڑنے کا دن ہے۔ ملامت و الزام کی باتوں کا یہاں گزر نہیں میرا دل تو ہر طرح کی رنجشوں سے صاف ہے۔ رہا اللہ کا معاملہ تو اس کے لئے بھی میری دعائیں تمہارے ساتھ وہ تمہارے قصور بخش دے گا اور وہ ضرور بخش دے گا اس لئے ہی تو اس نے سب کو اپنی حفاظت وامان میں رکھ اور نئے بڑے عرصہ میں ہم میں سے کسی ایک کا نقصان نہیں ہوا اور معاملات میں ایک دوسرے نے جو زیادتی کی وہ ایک دوسرے سے معاف کرا لی گئی تو یہ سب کچھ کیوں ہوا اس لئے کہ وہ سب کے گناہوں و معاف کرنا چاہتا تھا۔
Ayah 12:93یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ تم میرا کرتہ کنعان لے جائو وہ ساری بات سمجھ جائیں گے
۔ 109 یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بھائیو دیکھو ! یہ میرا کرتہ ہے تم اس کو ساتھ لے جائو اور والد بزرگوار کے چہرہ کی تہہ تک وہ پہنچ جائیں گے اور یقیناً تم سے یہ تقاضا بھی نہیں کریں گے کہ جب تک بنیامین اور اس بڑے بھائی کو ساتھ نہ لائو جو مصر میں خود ہی رک گیا تھا میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گا اس لئے کہ وہ کرتہ دیکھتے ہی ساری حقیقت کو پا جائیں گے اور یہ اس لئے کہ ایک بار میرا کرتہ تم نے پہلے بھی لے جا کر والد کے سامنے رکھا تھا اور وہ ساری حقیقت پا گئے تھے کہ یہ داستان جو یوسف کے بھائیوں نے گھڑی ہے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا سارضی فرضی ہے اور یہ قمیص پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ میرا یوسف زندہ ہے لیکن اب وہ کہاں ہے ؟ یہ اللہ کے راز ہیں وہی جانے کہ کہاں ہے ؟ بہرحال یوسف کو نبی بننا ہے اسلئے وہ نبوت سے پہلے ہی مرج ائے ممکن نہیں جس طرح اس وقت میرے کرتے نے ان کو سب حال کہہ سنایا اب بھی یہ کرتہ میرا ہے انشاء اللہ العزیز یہ سارا قصہ خود بتا دے گا۔ تم صرف اتنا کرو کہ اس کو کنعان ساتھ لے جائو اور میرے اولد کے چہرہ کے سامنے رکھ دو ۔ ہاں ! خیال رہے کہ اب والد تو انشاء اللہ العزیز آئیں ہی گے کے ان کے تین بیٹے یہاں مصر میں موجود ہیں تم بھی واپس جا کر اپنے سارے خاندان کو یہاں میرے پال لے آئو تاکہ وہ آرام و آسائش سے زندگی بسر کریں۔
” وتونی باھلکم اجمعین “ اپنے گھرانے کے تمام آدمیوں کو لے کر میرے پاس آ جائو۔ اس ایک ہی فقرہ نے اس ساری داستان پر پاین پھیر دیا جو ہمارے مفسرین نے گھڑی تھی یا گھڑی گھڑائی یہودیوں سے لے لی تھی کہ یوسف کو بنیامین کی خورجی میں یہ پیالہ اس لئے رکھنا پڑا کہ یوسف بادشاہ کے قانون میں بنیامین کو اپنے پاس نہیں رکھ سکتا تھا۔ ایک بات اس کو جھوٹ ثابت کرنے کے لئے اس موقع پر اللہ نے بیان کردی کہ جب بنیامین پر الزام عائد ہوگیا اس لئے اس تصفیہ کے لئے ان کو روک لیا گیا اور بھائیوں نے الگ ہو کر مشورہ کیا تو سب سے بڑے نے کہہ دیا کہ بھائیو ! اب میں تو اس وقت تک یہاں سے جانے والا نہیں جب تک کہ میرا باپ مجھے واپس آنے کی اجازت نہ دے دے یا اس قضیہ کا کوئی صحیح فیصلہ نہ ہوجائے کیونکہ دلائل کی روشنی یہ کہہ رہی ہے کہ انشاء اللہ بنیامین اس الزام سے صاف صاف بچ جائے گا اور مجرم قرار نہیں پا سکے گا اور یہی کچھ ہوا اگرچہ اس پر وقت لگا۔
یہ بھائی جو اس وقت واں خود بخود رک گیا تھا اس پر بادشاہ کے قانون نے کوئی مواخذہ نہ کیا ؟ اگر خود رکنے سے مواخذہ نہ ہوتا تھا صرف روک لینے کی اجازت نہ تھی تو بنیامین کو کہہ دیا ہوتا کہ تم رک جائو حلا ان کہ روایات میں اس کی تصریح بھی موجود ہے کہ بنیامین خود جانا ہی نہیں چاہتے تھے بلکہ بھائی کے اصرار پر جانے کے لئے تیار ہوئے تھے اور یوسف نے فرمایا کہ بنیامین دیکھو ہمارا باپ بوڑھا ہے اس کو پہلے میرے غم نے مغموم کیا اور اب تمہارے نہ جانے کے باعث ملعوم نہیں اس پر کیا بیتے گی ایسا نہ ہو کہ وہ جان ہی ضائع کر دے لہٰذا تم فی الحال چلے جائو تب جا کر بنیامین جانے کو تیار ہوئے تھے اور دوسری بات خود یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے اس آیت نے ثابت کردی کہ مفسرین نے جو بات بیان کی وہ محض گھڑی گئی تھی اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی کیونکہ وہ سارے خاندان کو مصر میں آباد کرنے کے مجاز ہیں اور قانون ان پر کوئی گرفت نہیں کرتا۔ کیا اس کے متعلق نہیں کہا جاتا کہ ” ’ روغ گو را حافظہ نبا شد۔ “ اور ایسے ہی واقعات پر بولا جاتا ہے کہ ” گٹھڑی اندر اور میں باہر۔ “
افسوس کہ غور و فکر کرنے سے انسان کو بہت کچھ حاصل ہوتا ہے اور انسان سیکھتے سیکھتے سیکھتا ہے لیکن مذہبی پروہتوں نے سکیھنے پر پابندی عائد کردی کیوں ؟ اس لئے کہ وہ جانتے تھے کہ مذہب کے اندر ہم نے وہ کچھ بند کردیا ہے کہ اگر کسی نے ان باتوں پر غور کرنا شروع کردیا تو ہمارا کیا کرایا سب ظاہر ہوجائے گا اس لئے انہوں نے اس جھوٹ کو چھپانے کے لئے بڑے جتن کئے اور کر رہے ہیں۔ اس لئے ان کے سامنے سیدھی راہ آئے تو کبھی اس کو راہ بنانے کے لئے تیار نہیں ہوں گے لیکن جونہی ٹیڑھی راہ دیکھیں گے تو فوراً اس کی طرف لپک پڑیں گے۔
بات بالکل سیدھی اور صاف ہے کہ جھوٹ کہیں بھی ہو وہ جھوٹ ہے اور سچ کہیں بھی ہو وہ سچ ہے لیکن یہاں یہ اصول کام نہیں دیتا ان کا اصول یہ ہے کہ جو و کہیں گے سچ ہوگا اور جو دوسرے کہیں گے جھوٹ۔ یعنی سچ اور جھوٹ کا معیار کیا ہے شخصیت۔ گویا دو اور دو چار ہوتے ہیں بلاشبہ ہوتے ہیں لیکن اگر ہم کہہ دیں کہ نہیں دو اور دو پانچ ہوتے ہیں تو بہرحال پانچ ہی ہوتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ ہم نے علم حاصل کیا ہمارے ہاں مذہب کی کتنی ڈگریاں ہیں۔ ہم فلاں فلاں جگہ سے فارغ التحصیل ہیں اور پھر اتنی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد ہم جاہلوں ، ان پڑھوں اور ناخواندوں کی طرح دو اور دو کو چار ہی کہتے رہے تو ہمارے علم کا فائدہ ؟ ہمارے علم اور اس جاہل میں فرق ؟ کیا پھر ہم جاہل کے جاہل ہی رہے ؟
Ayah 12:94مصری قافلہ کنعان کو چلا تو کنعان والے نے کہا شروع کردیا کہ مجھے یوسف کی بو آرہی ہے
۔ 110 برادران یوسف کا قافلہ جو یوسف (علیہ السلام) کی قمیص لے کر چلا اور مصر سے کنعان روانہ ہوا تو وہی وقت تھا کہ یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو جو وہاں آپ کے پاس موجود تھے یعنی پوتے ، پوتوں کی اولاد ، بیٹیاں ، بیٹیوں کی بیویاں ، نو کر چاکر جو جو بھی اس وقت وہاں موجود تھے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا ” کہ اگر تم لوگ یہ نہ کہنے لگو کہ بڑھاپے سے اس کی عقل ماری گئی ہے تو میں کہوں گا کہ مجھے تو یوسف کی مہک آرہی ہے۔ “ گویا اس طرح فرما کر مخلط ” بین نے جو کچھ کہنا تھا وہ خود ہی کہہ دیا۔ انبیاء کرام کی لطافت احساس اور قوت ادراک کا کیا کہنا ! مصر سے کنعان صد ہا میل کے فاصلہ پر لیکن ادھر قافلہ کو حرکت ہوئی اور ادھر اتنی دور آپ کو پیراہن یوسفی کی خوشبو محسوس ہونے لگی لیکن غور کرو کہ کیا یہ حیرت انگیز ذکاوت حس ان کی اختیایر چیز تھی ؟ ہرگز نہیں ! کتنا عرصہ ہوا یوسف کو جدا ہوئے لیکن عزم نبوت اتنا پختہ ہے کہ ساری دنیا کہتی رہی کہ یوسف مر گیا آپ نے ہمیشہ فرمایا کہ نہیں میرا یوسف مرا نہیں لیکن اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس وقت تک وحی الٰہی کی اتنی ہی راہنمائی ہوئی تھی اب اللہ نے دوبارہ وحی نبوت سے مہک پہنچا دی اور عین اس موقع پر پہنچائی جب فی الواقع یہ خوشخبری ملنے ہی والی تھی کہ اے پیر کنعان مبارک ہو تیرا بیٹا مصر کے تخت پر بیٹھا انتظار کر رہا ہے کہ تجھے اپنے تخت پر سوار کرے اور دنیا تجھ کو مبارکباد پیش کرے۔
Ayah 12:95یعقوب (علیہ السلام) کی بات سن کر جواب دیا گیا کہ یہ خبط تو تمارا پرانا ہے
۔ 111 سننے والوں نے بھی بابا کو بےدھڑک جواب سنایا کہ بابا جی ! رہنے بھی دو آپ کو تو ہر وقت یوسف ہی کے خواب آتے رہتے ہیں جس خوشبو کا آپ ذکر کر رہے ہیں بھلا اب بھی اس کی کوئی حقیقت ہے ؟ یہ تو اس محبت اور وارفتگی کی فسوں کاری ہے۔
Ayah 12:96انجام کار وہ وقت آگیا ، قمیص لانے والا قافلہ کنعان پہنچ گیا اور قمیص آپ کے چہرہ پر ڈلا دی گئی۔
۔ 112 خوشبو اور خوشی کے اثر نے اپنا اثر دکھایا جس سے یعقوب (علیہ السلام) کی ضعف بصر ہی کیا دور ہوئی کہ بصیرت مکمل طور پر کھل گئی اور کنعان سے مصر تک کے سارے رساتے روشن نظر آنے لگے پر دئہ بصیرت ایسا ہٹا دیا گیا کہ کوئی بات آپ پر مبہم نہ رہ گئی اور قمیص نے سارا حال کہہ سنایا اور سارے دکھ اور درد کا خود مداوا ہوگئی اس میں نہ کوئی ” خلاف عقل “ بات ہے اور نہ ” خلاف فطرت “ ہے ہاں ! یہ پورا واقعہ اپنے اندر اتنی عبر و بصائر رکھتا ہے کہ اگر کہ اگر ان کو گنوانا شروع کردیا جائے تو عروۃ الوثقی کی یہ جلد سورة یوسف پر اختتام پذیر ہوجائے لیکن جہاں یعقوب جیسی شخصیتیں مجبور نظر آتی ہیں کیا میں مجبور نہیں ؟ اس کو طبع کون کرے گا اور پڑھے گا کون ؟ اشارات میں نے کردیئے ہیں اور وہ بحمد اللہ موقع محل کی مناسبت سے کئے ہیں۔ غور و فکر سامعین وقارئین کا کام ہے ہم نہیں رہیں گے لیکن یہ اشارات انشاء اللہ العزیز محفوظ رہیں گے لیکن وقت آئے گا تو اللہ ایسے بندے بھی ضرور بھیجے گا جو قرآن کریم کی تفہیم میں ان اشارات سے کام لیں گے ہم بھی ماں کے بطن سے کچھ ساتھ نہیں لائے تھے بلکہ یہ پھول ہیں یا کانٹے لوگوں ہی نے تیار کر کے رکھے اور ان کو اکٹھا کرنے کے لئے اس مالک حقیقی نے میرے جیسے ناکارہ ، ناسمجھ اور ناخواندہ کو بھیج دیا۔ میں نے ان کو مختلف جگہوں سے اٹھا کر ایک جگہ رکھنے کی کوشش کی اور انشاء اللہ العزیز میرا ایمان ہے کہ اللہ صاحب علم حضرات کو بھیجے گا جو اپنے علم و بصیرت کے بل پر ان اشارات کو کھول کھول کر بیان کریں گے اور اللہ کے فرشتے بھی ان کو شاباش دیں گے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی روح پاک بھی مسرت حاصل کرے گی کہ انبیاء کرام کی سیرتوں پر لگائے گئے داغوں کو دور کرنے والے بھی موجود ہیں۔ جو اپنوں نے غلطی سے اور بیگانوں نے سمجھ سوچ کر لگائے تھے۔
Ayah 12:97یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں نے کہا اے ابو جان ! ہمارے گناہوں کی بخشش اللہ سے طلب کریں
۔ 113 بیٹوں نے یعقوب (علیہ السلام) سے عرض کی کہ اے ابو جان ! ہم نے اپنی نالائقی سے آپ کو کیا کیا تکلیفیں پہنچائیں اور اس طرح ہم نے اللہ کی بھی نافرمانی کی۔ آپ ہمارے گناہوں کے لئے اللہ سے بخشش طلب کریں اور آپ خود بھی معاف فرما دیں۔ برادران یوسف آخر نبی زادے تھے اور اب راز بھی پوری طرح کھل گیا تھا اس لئے انہوں نے وہی راستہ اختیار کیا جو ایسے حالات میں عقل و فکر رکھنے والوں کو اختیار کرنا چاہئے اس کا یہ مطلب نہیں کہ انہوں نے خود گناہوں کی مغفرت طلب نہیں بلکہ باپ سے کہا ، تو مطلب یہ ہوا کہ باپ کی طلب شدہ مغفرت ہی ان کے کام آسکتی تھی ؟ ہرگز نہیں دراصل انہوں نے گناہ ایسا کیا تھا جو معصیت مخلوق کے ساتھ بھی تعلق رکھتا تھا اور معصیت خالق کے ساتھ بھی اور پھر معصیت خلق کے ساتھ جو متعلق تھا اس کا تعلق یوسف (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) سے تھا اس لئے انہوں نے بات کے کھل جانے کے ساتھ ہی سب سے پہلے یوسف (علیہ السلام) سے معافی کی طلب ظاہر کی جب انہوں نے معاف کردیا تو یعقوب (علیہ السلام) یعنی اپنے والد ماجد کی طرف توجہ کی جب انہوں نے بھی معاف فرما دیا تو اللہ سے معاف کرانا آسان ہوگیا کہ وہ تو پہلے ہی عفو و درگزر کرنے والا ہے۔
Ayah 12:98یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی طلب کروں گا
۔ 114 یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یقین دلایا کہ میں بھی آپ لوگوں کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کروں گا اس طرح برادران یوسف نے مصر میں اپنی خطا کا اعتراف کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) سے بھی مغفرت کی دعا کی استدعا کی تھی اور کنعان میں اپنے والد یعقوب (علیہ السلام) سے بھی یہی درخواست کی۔ یوسف (علیہ السلام) نے تو اسی وقت ان کی بات منظور فرماتے ہوئے کہہ دیا کہ ” اللہ تعالیٰ تم کو معاف کر دے “ لیکن یعقوب (علیہ السلام) نے اس کی بجائے فرمایا کہ ” سوف استغفرلکم “ یعنی صرف توقع دلائی اس کا فرق کیا ہے ؟ اس سوال کے دو جواب دیئے گئے ہیں۔
۔ 1 برادران یوسف کی ان تمام خطا کاریوں کا معاملہ براہ راست حضرت یوسف سے متعلق تھا اور حضرت یعقوب سے بالواسطہ اس لئے حضرت یوسف نے اخلاق کریمانہ کی راہ سے اسی وقت ان کا اطمینان کردیا مگر یعقوب (علیہ السلام) نے یہ سمجھ کر کہ چونکہ اس معاملہ کا تعلق یوسف سے بھی ہے اس لئے اس کی مرضی بھی معلوم کرلینا ضروری ہے اس طرح جواب دیا کہ توقع اور امید تک بات رہے اور ساتھ ہی اپنی طبیعت کا رجحان بھی ظاہر کردیا کہ ان کی خواہش یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری خطا کاریوں کو معاف کر دے۔
۔ 2 دوسرا جواب یہ دیا گیا کہ یوسف (علیہ السلام) جوان تھے اس لئے ان کے کریمانہ وصف میں جزم و احتیاط کا پہلو نہ تھا انہوں نے فوراً معاف کردیا مگر حضرت یعقوب ایک تجربہ کار ، محتاط اور پھر باپ تھے اس لئے جانتے تھے کہ بیٹوں کا امتحان کریں کہ ان کا یہ انفعال اور ندامت کا اظہار محض وقتی اور ہنگامی ہے اور صرف دفع الوقتی کے لئے ہے یا اب ان کی طبیعت میں حقیقی ندامت و شرمساری کا جذبہ پیدا ہوچکا ہے اور یہ واقعی اپنی خطا پر صداقت سے نادم ہیں ۔
اس لئے ان کو بالکل مایوس بھی نہیں کیا اور رجحان طبیعت کا اظہار کرتے ہوئے صرف توقع اور امید تک ہی معاملہ کو چھوڑ دیا۔
Ayah 12:99کنعانیوں کا مصر میں آباد ہونا اس واقعہ کا اختتام ہے کیونکہ اس کا تعلق قریش کے سوال سے ہے
۔ 115 اس طرح حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے سارے خاندان کو لے کر کنعان سے مصر کی طرف روانہ ہوگئے اور تاریخ نے یہ مہر ثبت کردی کہ آج بنی اسرائیل کنعان سے آ کر مصر میں آباد ہوگئے چناچہ تورات میں بھی اس کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے :
” اور یہی ذکر فرعون کے گھر بھی سنا گیا کہ یوسف کے بھائی آئے اور اس سے فرعون اور اس کے چاکر بہت خوش ہوگئے اور فرعون نے یوسف سے کہا کہ اپنے بھائیوں کو کہو تم یہ کام کرو اپنے جانور لاد کر ملک کنعان کی سر زمین میں جا پہنچو اور اپنے باپ اور اپنے گھرانے کو میرے پاس لائو میں تم کو مصرف کی سر زمین کی اچھی چیزیں دوں گا اور تم اس سر زمین کے تحائف کھائو گے ، اب تجھے حکم ملا تو ان کو کہہ کہ تم یہ کرو کہ اپنے لڑکوں اور اپنی جو روئوں کے لئے مصر کی زمین سے گاڑیاں لے جائو اور اپنے باپ کو لے آئو اور اپنے اسباب کا کچھ افسوس نہ کرو کیونکہ مصر کی ساری زمین کی خوشی تمہارے لئے ہے اور اسرائیل کے فرزندوں نے یہی کیا اور یعقوب اپنی سب نسل سمیت مصر میں آیا وہ اپنے بیٹوں اور اپنے یٹوں کے بیٹوں کو جو اس کے ساتھ تھے اور اپنی بیٹیوں اور اپنے بیٹوں کی بیٹیوں کو جو اس کے ساتھ تھے اور اپنی بیٹیوں اور اپنے بیٹوں کی بیٹیوں کو اور اپنی سب نسلک و اپنے ساتھ مصر میں لایا سو وہ سب جو یعقوب کے گھرانے کے تھے اور مصر میں آئے ستر جانیں تھیں۔ (پیدائش 45 آیات 16 ، 20 و باب 46 آیات 7 تا 27)
جب یوسف (علیہ السلام) کو اطلاع ہوئی کہ ان کے والدین اپنے خاندان سمیت شہر کے قریب پہنچ گئے تو وہ فوراً استقبال کے لئے باہر نکلے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جب مدت دراز کے بچھڑے ہوئے لخت جگر کو دیکھا تو سینہ سے چمٹا لیا اور جب یہ مسرت افزاء اور رقت آمیز ملاقات ہوچکی تو یوسف (علیہ السلام) نے والد سے عرض کیا کہ آپ عزت و احترام اور امن و حفاظت کے ساتھ شہر میں تشریف لے چلیں۔