12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 12:35

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر اگرچہ وہ لوگ نشانیاں دیکھ چکے تھے پھر بھی انہیں یہی بات ٹھیک دکھائی دی کہ ایک خاص وقت تک کے لیے یوسف (علیہ السلام) کو قید میں ڈال دیں

حکمائے وقت نے یہی اچھا سمجھا کہ یوسف کو کچھ وقت کے لئے قید میں بھیج دیا جائے ۔ 46 ایک عبرانی غلام کے ہاتھوں ایک مصری امیر زادی کی کتنی بدنامی ہوچکی تھی اور اب وہ اس دام محبت میں اکیلی نہ تھی بلکہ اس ضیافت کے بعد حسن یوسف کے چرچے گھر گھر ہونے لگے نہ صرف عزیز مصر کی بیوی بلکہ سارے متمول گھرانوں کی رئیس زادیاں آپ کے دام محبت کا دم بھرنے لگیں تو حکومت کے ارباب بسط و کشاد نے پاکدامن اور بےگناہ یوسف کو قید کرنے ہی میں مصلحت سمجھی ” اگرچہ وہ لوگ نشانیاں دیکھ چکے تھے “ یعنی حقیقت حال ان پر اچھی طرح واضح تھی کہ یوسف بالکل بےگناہ ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ ان گناہگار نگاہوں کی سرزنش کرتے اور انہیں معتوب گردانتے انہوں نے حضرت یوسف ہی کو قید کرنا آسان سمجھا۔ وہ دور تو جیسا دور تھا سب کو معلوم ہے لیکن کیا آج ایسا نہیں ہو رہا کہ قاتل دندناتے پھرتے ہیں اور بےگناہ یدیں کاٹ رہے ہیں۔ ڈاکو سب کو معلوم ہے لیکن کیا آج ایسا نہ ہو رہا کہ قاتل دندناتے پھرتے ہیں اور بےگناہ قیدیں کاٹ رہے ہیں۔ ڈاکو اور چوروں کو کھلی چھٹی ہے لیکن غرباء کی تلاشیاں لی جا رہی ہیں اور راستہ چلنا ان کے لئے دشوار ہوچکا ہے۔ بدبخت سگار سلگانے والا اپنی جان کو تباہ کر بیٹھا اور رہی سہی کسر حکومت نے جوتے مار مار کر نکال دی لیکن بیچنے والوں کے ساتھ حصہ داریاں مقرر کرلی گئیں۔ ایک عرصہ پہلے دربار اور خانقاہیں نشہ کے اڈے تھے لیکن آج کل ضلع کے ایس پی سے لے کر تھا نہ دار کے چوکیدار تک سارے کے سارے گھر نشہ میں لت پت ہیں اور نشہ کرنے والوں کی آماجگا ہیں ہیں۔ پہلے تھا نہ میں کم۔ اب ماشاء اللہ اسلامی تعزیرات کے مطابق ایف آئی آر کاٹی جانے لگی ہے جس کے دام سو گنا بڑھ گئے۔ آپ کے پاس روپے ہیں تو چاہو جس کے خلاف تعزیرات اسلامی کے تحت پرچہ درج کروا لو۔ تھانوں میں ایک اردلی سے لے کر ایس ایچ او تک مونچھوں کو تائو دے کر بیٹھے ہیں اور ہمارے بی ڈی ممبر سے لے کر صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ممبروں تک واں پہنچتے ہیں کہ آج فلاں کے خلاف یہ کارروائی ہوگی اور فلاں کے خلاف یہ پرچہ اور خبردار کہ تم نے فلاں کے خلاف کوئی قدم اٹھایا وہ ہمارا اپنا آدمی ہے اگر غلطی سے پکڑ کر لایا جا چکا ہے تو فوراً اٹھا دو ورنہ تمہاری خیریت نیں ہوگی یہ جتنے وڈیے ہیں کیا یہ فوطی فار نہیں ؟ یا یہ عزیز مصر کا کردار ادا نہیں کر رہے ؟ یوسف کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا تو اس پر فرد جرم عائد کردی گئی ؟ نہ جرم تھا نہ ہی بنایا گیا ” اور یوسف کو آقا نے پکڑا اور ایک جگہ جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے قید میں ڈالا۔ “ (پیدائش 39 : 20) دھکا شاہی ہی ایک قانون تھا اور اب بھی ہے اگرچہ اس کی صورت بدل چکی ہے کہ بادشاہ یعنی حکومت وقت نقص امن میں مجرم کو سزا کسی کتاب ہے۔ یوسف کی سزا بھی کچھ اس قسم کی تھی۔ ہمارے مفسرین نے اس میعاد کے متعلق مختلف اقوال نقل کئے ہیں لیکن کوئی بات ایسی وزنی نہیں کہ وہ قابل تحریم ہو ” حتی حین “ کے الفاظ قرآنی بھی اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ اس قید کے لئے کوئی معیاد مقرر نہ تھی بلکہ محض ایک طویل مدت مراد ہے۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو جوان آدمی اور بھی قید خانے میں داخل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا مجھے ایسا دکھائی دیا ہے کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں ، دوسرے نے کہا مجھے ایسا دکھائی دیا ہے کہ سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرند ان کو کھا رہے ہیں ہمیں بتلاؤ اس بات کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ؟ ہم دیکھتے ہیں کہ تم بڑے نیک آدمی ہو

یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو مزید آدمی بھی داخل ہوئے ان کا بیان ۔ 47 اتفاق یہ ہوا کہ جب عزیز مصر نے یوسف کو زندان میں بھجوایا تو اس روز یا اس وقت دو آدمی اور بھی کسی جرم میں جیل خانہ میں بھجوائے گئے ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا اور دوسرا نان پڑ۔ الزام دونوں پر یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا تھا۔ تحقیقات اس جرم کی ہو رہی تھیں اور یہ لوگ جیل کے اندر حوالات میں بند کردیئے گئے چناچہ تورات میں ہے کہ ” بعد ان باتوں کے یوں ہوا کہ شاہ مصر کا ساقی اور نان پر۔ اپنے خداوند شاہ مصر کے مجرم ہوئے اور فرعون اپنے دو سرداروں پر جن میں ایک ساقیوں کا اور دوسرا نان پزوں کا داروغہ تھا غصے ہوا اور اس نے ان کی نگہبانی کے لئے جلوداروں کے سردار کے گھر میں اس جگہ جہاں یوسف بند تھا قید خانہ میں ڈالا ۔ “ (پیدائش 40 : 1 تا 4) تورات میں ہے کہ یوسف کے علمی اور عملی جوہر قید خانہ میں بھی نہ چھپ سکے اور قید خانہ کا داروغہ اس کے حلقہ ادارت میں داخل ہوگیا اور جیل کا تمام انتظام و انصرام ان کے سپرد کردیا۔ وہ قید خانہ کا بالکل مختار ہوگیا اور خداوند نے وہاں بھی اسے اس کے تمام کاموں میں اقبال مند کیا۔ (پیدائش 39 : 23) قرآن کریم سے بھی اس کی تائید نکلتی ہے اس لئے کہ اس زمانے کے قید خانوں کے حالات کے پیش نظر یوسف (علیہ السلام) کے پاس قیدیوں کا اس طرح آنا جانا اور پھر ان کی عظمت و نیک نفسی کا اعتراف اس کو واضح کرتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے پاک اوصاف کو قید خانہ میں کاف شہرت تھی۔ ایک بار پھر غور کرو کہ حضرت یوسف کی سیرت کا کیا ہی کمال ہے ؟ قید خانہ کی تنگ و تاریک کو ٹھڑی کو بھی (آیت 37) اس طرح روشن کردیتی ہے جس طرح عزیز مصر کے ایوان عزت و اقبال کو اس نے روشن کردیا تھا۔ سچ ہے کہ چراغ جہاں کہیں بھی رکھ دیا جائے روشنی ہی دے گا اور ہیرے کی چمک اس سے کم نہیں ہوجائے گی کہ وہ خانہ شاہی میں رہنے کی جگہ کوڑے کرکٹ میں ڈال دیا گیا ۔ تو رات کی تصریح اوپر بیان کی گئی کہ قید خانہ کا افسران کا معتقد و گیا تھا اور قید خانہ میں انہی کی افسری قائم ہوگئی تھی۔ عین اس وقت کہ آپ کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا دعوت حق اور داعبہ ان کے قلب مبارک میں موجزن ہوجاتا ہے اس وقت تک انہوں نے مصر میں دین حق کی تبلیغ نہیں و کی تھی اگرچہ خود اس پر سختی کے ساتھ قائم تھے لیکن اب وقت آگیا تھا کہ خاندانی نبوت کا ان میں ظہور ہو۔ چناچہ اس کا نتیجہ ہے کہ اب یکایک اپنے قلب کو ولولہ تبلیغ سے مامور پایا۔ لیکن یہاں کون تھا جو اس تبلیغ کا مخاطب ہوتا ؟ صرف قید خانہ کے چند ساتھی تھے جو طرح طرح کے جرموں کی پاداش میں یہاں پہنچا دیئے گئے تھے مگر غور کرو کہ انہوں نے رہائی کا انتظام نہیں کیا انہی قیدیوں میں تبلیغ حق شروع کردی اور اب مصر کا قیصد خانہ دعوت حق کی تعلیم و تربیت کی ایک درس گاہ بن گیا۔
Ayah 12:37

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا قبل اس کے کہ تمہارا مقررہ کھانا تم تک پہنچے میں تمہارے خوابوں کا حال تمہیں بتلا دوں گا ، اس بات کا علم بھی منجملہ ان باتوں کے ہے جو میرے پروردگار نی مجھے تعلیم فرمائی ہیں ، میں نے ان لوگوں کی ملت ترک کی جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں

قید خانہ کے ساتھیوں کا خواب اور اس کی تعبیر ۔ 48 دو نئے قیدی آتے ہیں جو بادشاہ کے خاص خدمت گار تھے اور دونوں اپنا اپنا اپنا خواب بیان کرتے ہیں۔ وہ خواب کیا تھا ؟ ایک نے کہا ” مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ میں شراب کے لئے نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا مجھے ایسا دکھائی دیا ہے کہ سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرند ان کو کھا رہے ہیں۔ ہمیں بتلائو اس بات کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ؟ “ ہم دیکھتے ہیں کہ تم بڑے نیک آدمی ہو۔ خواب سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) معلوم کرلیتے ہیں کہ ایک کی رہائی قریب ہے لیکن دوسرے کی موت قریب ہے۔ پس چاہتے ہیں کہ فرصت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کریں اور تعلیم حق سے انہیں آشنا کردیں ممکن ہے جو رہا ہونے والا ہے وہ حق کا بیج اپنے ساتھ لے جائے اور دربار شاہی میں تخم ریزی کرسکے جس کی موت قریب ہے ممکن ہے کہ سچائی قبول کرلے اور دنیا سے رخصت ہو تو راہ حق پر رخصت ہو۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے خواب سنتے ہی اس کی تعبیر نہیں بتلا دی بلکہ ان کی توجہ اور رجوع سے فائدہ اٹھا کر ایک دوسرا ہی بیان شروع کردیا فرمایا جو بات آپ نے پوچھی ہے وہ تو آپ کو بتا دی جائے گی اور وہ انشاء اللہ درس ہوگی۔ وہ بات یہ ہے کہ ” میں نے ان لوگوں کی ملت ترک کی جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں۔ “ اور اپنا بیان شروع کرنے سے پہلے ان کو تسلی دی کہ دیکھو تمہارے پاس جیل سے جو کھانا آتا ہے اس کھانے سے پہلے میں تم کو اس کی تعبیر بتا دوں گا اور یہ تسلی دے کر اپنا پیغام سنانا شروع کردیا۔
Ayah 12:38

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

میں نے اپنے باپ دادوں یعنی ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کی پیروی کی ہم ایسا نہیں کرسکتے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک ٹھہرائیں یہ اللہ کا ایک فضل ہے جو اس نے ہم پر اور بعض دوسرے لوگوں پر کیا ہے لیکن اکثر آدمی ہیں جو اس کا شکر نہیں بجا لاتے

میں اس دین کی پیروی کرتا ہوں جو انبیاء کرام کو دیا گیا اور وہ میرے آبائو اجداد ہی تھے ۔ 49 ساتھیو ! اس وقت جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں یہ کوئی رمل ، جعفر یا کہانت کا فن نہیں بلکہ یہ تو میرے پروردگار کی تعلیم ہے جو اس نے براہ راست مجھے سکھائی ہے اور انہیں یہ بھی بتا دیا کہ میرا عقیدہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں ہے جسے پہلی دفعہ میں ہی اختیار کئے ہوئے ہوں بلکہ میرے جلیل القادر آبائو اجداد جن کے نام سے دنیا واقف ہے ان کا بھی یہی عقیدہ تھا۔ آپ حیران ہوں گے کہ آج تک یوسف (علیہ السلام) کو مختلف مشکلات سے واسطہ پڑا لیکن انہوں نے کسی کو یہ نہیں بتایا کہ میں کس خاندان کا چشم و چراغ ہوں۔ سب سے پہلے ہم یہاں دیکھ رہے ہیں کہ آپ نے اپنے بزرگوں کا نام ذکر کیا ہے۔ فرمایا میں بھی توحید کا قائل ہوں اور میرے آبائو اجداد ابراہیم ، یعقوب ، اسحاق بھی اس عقیدئہ توحید کے ماننے اور چاہنے والے تھے۔ ساتھیو ! ہمارے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کی خدائی صفات میں شریک سمجھیں پھر فرمایا کہ یہ دین حق کی توفیق ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو اس کی خدائی صفات میں شریک سمجھیں پھر فرمایا کہ یہ دین حق کی توفیق ہم پر اور سب لوگوں پر اللہ تعالیٰ ہی کا فضل ہے کہ اس نے سلامت فہم عطا فرما کر قبول حق ہمارے لئے آسان کردیا مگر بہت سے لوگ اس نعمت کی قدر اور شکر ادا نہیں کرتے۔ یوسف (علیہ السلام) کی سیرت کے اس مقام سے ہم معلوم کرسکتے ہیں کہ دعوت حق کا فریضہ کیونکر ادا کرنا چاہئے اور داعی حق کے جوش و طلب دعوت کا کیا حال ہوتا ہے ؟ قید خانے کی زندگی بھی ادائے فرض دعوت سے مانع نہ ہوئی اس حالت میں بھی فکر اس بات کی نہ تھی کہ میں کیونکر قید سے رہائی پائوں بلکہ تمام تر فکر اس بات کی تھی کہ اللہ کے بندے (جہل و گمراہی سے کیونکر نجات پائیں) مہلت جب کبھی ملی اور جس حال میں ملی معاً اس مقصد کے لئے کام میں لائی گئی اور جس طرح اس آدمی کی ہدایت میں جلدی کی جو ابھی مدتوں زندہ رہنے والا تھا اسی طرح اس کی ہدایت کے لئے بھی صبر نہ کرسکے جس کے سر پر اجل کی تلوار لٹک رہی ہے تھی۔ کیونکہ ہدایت پانا ہر انسان کا قدرتی حق ہے اور زندہ رہنے والا ہو یا مر رہا ہو اسے اس کا حق فوراً ملنا چاہئے۔
Ayah 12:39

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے یاران مجلس ! کیا جدا جدا معبودوں کا ہونا بہتر ہے یا اللہ کا جو یگانہ اور سب پر غالب ہے

اے یاران مجلس ! ذرا غور کرو کہ جدا جدا بہتر ہیں یا اللہ اکیلا ہی بہتر ہے ؟ ۔ 50 پھر انہی قیدیوں سے دریافت فرمایا کہ اچھا تم ہی بتائو کہ انسان سے پروردگاروں کا پرستار ہو یہ بہتر ہے یا یہ کہ صرف ایک اللہ کا بندہ بنے جس کا قہر و قوت سب پر غالب ہے۔ آپ کی تقریر کا مقصد تو ان دو ساتھیوں کے دلوں کو نور ایمان سے منور کرنا ہے۔ ذرا اس حکیمانہ انداز دعوت کو ملاحظہ فرمائیے کہ کس طرح قدم بہ قدم ان کو منزل ہدایت کی طرف لے جا رہے ہیں۔ فرمایا میرا مسلک تو وہ ہے جو میں نے تم سے بیان کردیا اور وہ صرف میرا ہی مسلک نہیں بلکہ سب جلیل القدر ہستیاں جنج کے نام سے تم خوب واقف ہو ان کا بھی یہی مسلک تھا۔ اس کے بعد یہ نہیں فرماتے کہ تم بھی میرا دین اختیار کرلو بلکہ ان سے ایک سوال پوچھتے ہیں کہ تم ہی بتائو کہ بہت سے خدائوں کی بندگی بہتر ہے یا ایک اللہ کی جو ہرچیز پر غالب اور ہرچیز پر قادر ہے جو بارش بھی برساتا ہے ، رزق بھی دیتا ہے ، اولاد بھی عطا کرتا ہے ، شفا بھی بخشتا ہے۔ کیا یہ بہتر ہے کہ ایسے خدا کی بندگی کا اعتراف کرلیا جائے جو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے یا ایسے متعدد خدائوں کی جو تمہارے عقیدہ کے مطابق بھی صرف محدود اختیارات کے مالک ہیں۔ کوئی صرف بارش ہر ساتا ہے لیکن اولد کا دینا اس کے بس کی بات نہیں ، کوئی دولت تو بخش سکتا ہے لیکن کسی بیمار کو صحت دینا اس کے قبضہ قدرت میں نہیں۔ تم ہی بتائو کہ در در کی ٹھوکریں کھانے سے تو ایک قادر وقیوم کا ہو رہنا ہی ہزار سعادت ہے۔ دوسرا اتنے خدائوں کو راضی رکھنا بھی کوئی آسان بات نہیں۔ ممکن ہے کہ دولت کی دیوی کی پوجا کرتے کرتے تم کوئی ایسی حرکت کر بیٹھو کہ زندگی کا دیوتا ہی برہم ہوجائے۔ دھن ، راج یا دولت تو ملی لکن اس لمحہ دوسرے نے غضب ناک ہو کر زندگی کا دیا بجھا دیا۔ کیا عقل سلیم اس قسم کے خرافات قبول کرسکتی ہے۔
Ayah 12:40

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم اس کے سوا جن ہستیوں کی بندگی کرتے ہو ان کی حقیقت اس سے زیادہ کیا ہے کہ محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نہیں اتاری ، حکومت تو اللہ ہی کی ہے اس کا فرمان یہ ہے کہ صرف اسی کی بندگی کرو اور کسی کی نہ کرو ، یہی سیدھا دین ہے مگر اکثر آدمی ایسے ہیں جو نہیں جانتے

جن کو تم پکارتے ہو وہ کیا ہیں ؟ چند نام جو تم نے اور تمہارے آباء نے رکھ لئے ہیں ۔ 51 ” تم ایک اللہ کے سوا جن ہستیوں کی بندگی کرتے ہو ان کی حقیقت اس کے سوا کیا ہے کہ محض چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبائو اجداد نے رکھ لئے ہیں۔ “ اگر یہ اللہ کے نیک بندے تھے تو وہ اپنا وقت گزار کر دنیا سے رخصت ہوگئے اللہ نے تو یہ اختیارات کسی کو تفویض ہی نہیں کئے اور اگر یہ صرف نام ہی نام ہیں تو ظاہر ہے کہ تم نے گھڑے ہیں یا تمہارے آبائو اجداد نے گھڑ لئے ہیں۔ ” اللہ نے تو ان کے لئے کوئی سند نہیں اتاری۔ “ کہ فلاں میرا ولی تم کو اولاد دے گا اور فلاں بارش برسائے گا اور فلاں کا کام دولت تقسیم کرنا ہے اور فلاں تمہارے مویشیوں کے لئے نگہبان ہے اور فلاں نے اولے روکے ہوئے ہیں کہ اگر تم اس کی نیاز ادا کرتے رہے تو اولے نہیں برسیں گے۔ ” حکومت تو اللہ کی ہے۔ “ اور سارے کام اس کے قبضہ قدرت میں ہیں وہ جس کو چاہے اپنے قانون کے مطابق دولت عطا کرتا ہے اور جہاں چاہتا ہے بارش برساتا ہے ، جہاں چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے اور اس کے سارے کام صرف عطا کرتا ہے اور جہاں چاہتا ہے بارش برساتا ہے ، جہاں چاہتا ہے اولاد عطا کرتا ہے اور اسکے سارے کام صرف اس کے اپنے قبضہ میں ہیں ” اس کا حکم یہ ہے کہ صرف اس کی بندگی کرو۔ “ اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اس نے کبھی نہیں کہا کہ میرے احکام میں فلاں فلاں بھی شریک ہیں۔ تم عبدالقادر جیلانی کی گیارہویں دو گے تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے ورنہ مر جائیں گے۔ اس نے کہیں نہیں کہا کہ تم فلاں کی بیعت کرو گے تو تمہیں اولاد ملے گی ورنہ نہیں ملے گی یہ سب کی سب تمہاری خود ساختہ باتیں ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ ” اس کا فرمان تو یہ ہے کہ تم صرف اس کی بندگی کرو اور کسی کی نہ کرو۔ “ کائنات کی ہرچیز اللہ وحدئہ لاشریک لہ کے زیر نگیں ہے بلندیوں اور پستیوں میں اس کا حکم نافذ ہے۔ اس واحد وقہار کا یہ حکم ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کو معبود حق اور مالک حقیقی تسلیم کیا جائے۔ ” یہی سیدھا دین ہے۔ “ یعنی وہ دین جس کی صداقت اور حقانیت روشن دلائل سے ثابت ہے۔ ” مگر لوگوں کی اکثریت یہ بات نہیں سمجھتی۔ “ یون کہ اکثر لوگ اپنے رب کی دی ہوئی غور و فکر کی صلاحیتوں سے کام ہی نہیں لیتے۔ دین حق سے ان کی محرومی ان کی ناشکری کا نتیجہ ہے۔ یہ ہے حضرت یوسف صدیق کا وہ پہلا خطبہ جو آپ نے زندان مصر میں اپنے قیدی بھائیوں کے سامنے ارشاد فرمایا۔
Ayah 12:41

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ اَمَّاۤ اَحَدُكُمَا فَیَسْقِیْ رَبَّهٗ خَمْرًا١ۚ وَ اَمَّا الْاٰخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّاْسِهٖ١ؕ قُضِیَ الْاَمْرُ الَّذِیْ فِیْهِ تَسْتَفْتِیٰنِؕ Open ayah 12:41 in the Quran reader

اے یاران قید ! (اب اپنے خوابوں کا مطلب سن لو) تم میں ایک آدمی تو وہ ہے جو اپنے آقا کو شراب پلائے گا اور دوسرا آدمی وہ ہے جو سولی پر چڑھایا جائے گا اور پرند اس کا سر کھائیں گے جس بات کے بارے میں تم سوال کرتے ہو وہ فیصلہ ہوچکی اور فیصلہ ان شاء اللہ یہی ہے

قید کے ساتھیوں کے خواب کی تعبیران کو بتائی جا رہی ہے ۔ 52 یوسف (علیہ السلام) نے توحید الٰہی کا سبق یاد کرانے کے بعد ان کے خواب کی طرف رغبت فرمائی ہے اور ان کو بتایا کہ وہ شخص جس نے اپنے آقا کو شراب پلانے کی ذمہ داری قبول کی تھی وہ اب بھی اپنی ذمہ داری پر بحال کردیا جائے گا اور وہ جس کے سر پر روٹیاں رکھی تھیں وہ یقینا سزا پائے گا اور سولی پر لٹکایا جائے گا ” اور پرند اس کا سرکھائیں گے۔ “ اور یہ تعبیر نان پز کے خواب کی تھی چناچہ تورات میں بھی ہے کہ ” یوسف نے جواب دیا اور کہا کہ اس کی تعبیر یہ ہے کہ تین ٹوکریاں تین دن ہیں فرعون اب سے تین دن میں تیرا سر تیرے تن سے جدا کر دے گا اور ایک درخت پر تجھ لٹکائے گائے اور پرندے تیرا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ (پیدائش 04 : 81 ، 91) ” جس بات کے بارے میں تم نے سوال کیا وہ فیصلہ ہوچکی اور فیصلہ انشاء اللہ اسی طرح ہوگا۔ “ اس طرح آپ نے فریضہ نبوت کے ادا کرنے کے بعد ان کو خوابوں کی تعبیروں سے آگاہ کیا اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا۔
Ayah 12:42

وَ قَالَ لِلَّذِیْ ظَنَّ اَنَّهٗ نَاجٍ مِّنْهُمَا اذْكُرْنِیْ عِنْدَ رَبِّكَ١٘ فَاَنْسٰىهُ الشَّیْطٰنُ ذِكْرَ رَبِّهٖ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِیْنَؕ۠ Open ayah 12:42 in the Quran reader

اور یوسف (علیہ السلام) نے جس آدمی کی نسبت سمجھا تھا کہ نجات پائے گا اس سے کہا اپنے آقا کے پاس جب جاؤ تو مجھے یاد رکھنا لیکن شیطان نے اس کو یہ بات بھلا دی کہ اپنے آقا کے حضور پہنچ کر اسے یاد کرتا پس یوسف (علیہ السلام) کئی برس تک قید خانہ میں پڑا رہا

نجات پانے والے کے متعلق یوسف نے کہا کہ تو جب بادشاہ کے ہاں جائے تو مجھے یاد رکھنا ۔ 53 غور کرو کہ معاملہ صرف وہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتا بلکہ حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ دین کی بات جہاں تک پہنچا سکتے ہیں پہنچا دیں۔ جونہی یہ بات معلوم ہوئی کہ ان میں ایک آدمی بادشاہ کے ساقیوں کا سردار ہے اور پھر اسی منصب پر مامور ہوگا معاً ان کے ذہن اس طرف چلا گیا کہ ایسے آدمی کو جو خلوت و جلوت میں بادشاہ کے حضور میں رہنے والا ہے کتنا اچھا موقعہ حاصل ہوگا کہ پیام حق بادشاہ کے کانوں تک پہنچا دے ؟ چناچہ تعبیر خواب بیان کرنے کے بعد اس سے فرمایا کہ ” اد کرنیعند ربک “ اپنے آقا کے پاس جائیو تو مجھے یاد رکھیو یینش میری یہ تعلیم دعوت یاد رکھیو اور اپنے آقا سے بعنوان مناسب اس کا تذکرہ کردیجیو ممکن ہے کہ پیام حق کا مکر جائے۔ عام طور پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس قول کا مطلب یہ سمجھا گیا ہے کہ انہوں نے اپنی رہائی کے لئے کہا تھا کہ اپنے آقا سے میری سفارش کیجیو لیکن جس محل میں یہ بات کہی گئی ہے اس سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔ قیدیوں سے جو کچھ بھی ان کی گفتگو ہوئی ہے یا تو تعبیر کے متعق ہے یا دین کے بارے میں ہے اس کا کوئی اشارہ نہیں پایا جاتا کہ انہوں نے اپنے قید و محن کے مسائل و مصائب کا کوئی ذکر کیا ہو۔ پس اس بات کا مطلب وہی موزوں معلوم ہوتا ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 12:43

وَ قَالَ الْمَلِكُ اِنِّیْۤ اَرٰى سَبْعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعَ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ اَفْتُوْنِیْ فِیْ رُءْیَایَ اِنْ كُنْتُمْ لِلرُّءْیَا تَعْبُرُوْنَ Open ayah 12:43 in the Quran reader

اور پھر ایسا ہوا کہ بادشاہ نے کہا میں کیا دیکھتا ہوں کہ سات گائیں ہیں موٹی تازی انہیں سات دبلی پتلی گائیں نگل رہی ہیں اور سات بالیاں ہری ہیں اور سات دوسری سوکھی ، اے اہل دربار اگر تم خواب کا مطلب حل کرلیا کرتے ہو تو بتلاؤ میرے خواب کا حل کیا ہے ؟

قید سے نجات حاصل کرنے والے شخص کو وہ بات یاد نہ آئی اور شیطان نے اس کو بھلا دیا ۔ 54 یوسف (علیہ السلام) کی مراد تو صرف یہ تھی کہ میرا یہ پیغام اگر بادشاہ تک پہنچ گیا تو عین ممکن ہے کہ توحید کا یہ پیغام اس پر اثر انداز ہوجائے لیکن نجات نے والا قیدی جب وہاں سے واپس آیا تو وہ اپنے کاموں میں ایسا مصروف ہوا کہ اس کو کبھی وہ قید کی باتیں یاد ہی نہ آئیں کہ وہ کیا تھیں اور یہی حال ہمارے اکثر سامعین کا آج بھی ہے کہ سنیں گے سر دھنیں گے لیکن جب مجلس سے اٹھیں گے تو ان کے ذہن میں کچھ بھی نہیں ہوگا کہ ہم نے کیا سنا اور ہم کو اب کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ اگر اس بات کا چرچا ہوجاتا تو ممکن تھا کہ توحید الٰہی کا کام اس سے قبل ہی چل نکلتا لیکن اللہ کو جو منظور تھا وہی ہونا تھا بات اس طرح کئی ایک سال تک دبی رہی اور اس میں 3 تا 9 سال کی قید میں پڑے رہنے کا ذکر بطور عتاب نہیں ہے بلکہ اسے محض نسیان پر مرتب کرنے سے مقصود صرف اس امر کا اظہار ہے کہ وہ شخص جو درمیانی واسطہ تھا چونکہ بھول گیا اس لئے ایک مدت تک وہ بھولا ہی رہا تا آنکہ بادشاہ نے وہ خواب دیکھا جس کی تعبیر کرنا لوگوں کے لئے مشکل ہوگیا۔ جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ بعض مفسرین نے ” فانساہ “ کی ضمیر کا مرجع یوسف (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے یاد رہے کہ یہ بالکل درست نہیں ۔ حضرت یوسف جن کے شب و روز ذکر الٰہی میں بسر ہو رہے تھے اور ان کو اللہ کے ذکر کے سوا کچھ یاد ہی نہ تھا اور جو دوسروں کو بھی یاد الٰہی کی تلقین کرنے میں مصروف رہتے تھے وہ اپنے رب کو کیسے فراموش کرسکتے تھے صحیح یہی ہے کہ اس کا مرجع وہ ساقی ہے جس کو آپ نے رہا ہونے اور اپنے منصب پر دوبارہ فائز ہونے کی خوشخبری دی تھی اور اس کے بھول جانے کا زیر نظر آیت میں ذکر ہے۔ یہاں یہ بات بھی صاف ہوجانی چاہئے کہ قیدیوں کو خواب سن کر آپ نے تعبیر فوراً بیان کیوں نہ کردی تھی ؟ مفسرین کہتے ہیں کہ تاخیر اس لئے کی کہ وحی الٰہی کا انتظار تھا لیکن اگر آپ انتظار کی حالت میں ہوتے تو اس وثوق کے ساتھ کیونکر وعدہ کرلیتے کہ ” قبل اس کے کہ تمہارا مقررہ کھانا تم تک پہنچے میں تمہارے خوابوں کا حال تمہیں بتلا دوں گا۔ “ (21 : 73) اور فیضا نوحی سے تو آپ کا قلب معمور ہو رہا تھا۔ پھر تعبیر کے لئے انتظار کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ صاف بات یہی ہے کہ تاخیر قصداً کی تھی اور اس خیال سے کی تھی کہ تعبیر کی احتیاج نے ان دونوں کو میری طرف متوجہ کردیا ہے چاہئے کہ اس توجہ سے فوراً فائدہ اٹھایا جائے اور دین حق کی دعوت چھیڑ دی جائے چناچہ اس کا ذکر اس مناسبت سے شروع کردیا کہ ذلکما مما علمنی ربی انی ترکت ملۃ قوم لا یومنون باللہ وھم بالاخرۃ ھم کافرون (21 : 73) یعنی خواب کی تعبیر میں بہت جلد بتلا دوں گا کیونکہ میرے پروردگار نے مجھے اس کا علم دیا ہے لیکن میرے علم کو اس طرح کا علم نہ سمجھنا جس طرح اپنے کاہنوں اور جادوگروں کا سمجھا کرتے ہو۔ میری راہ دوسری ہے میں تمہارے طریقہ پر کاربند نہیں پھر اس طرح بات سے بات نکالتے ہوئے دین حق کی دعوت شروع کردی کہ ” اے میرے قید کے ساتھیو ! کیا الگ الگ معبودوں کا ہونا بہتر ہے یا اللہ کا جو یگانہ اور سب پر غالب ہے۔ “ (21 : 93)
Ayah 12:44

قَالُوْۤا اَضْغَاثُ اَحْلَامٍ١ۚ وَ مَا نَحْنُ بِتَاْوِیْلِ الْاَحْلَامِ بِعٰلِمِیْنَ Open ayah 12:44 in the Quran reader

درباریوں نے کہا یہ پریشان خواب و خیالات ہیں اور ہم پریشان خوابوں کے حل نہیں جانتے

بادشاہ مصر کا خواب دیکھنا اور اس کی تعبیر کا معاملہ اور پریشانی ۔ 55 حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ واقعہ ” فراعنہ مصر “ کے زمانہ سے تعلق رکھتا ہے یہ خاندان شاہی نسل کے اعتبار سے ” عمالقہ “ میں سے تھا۔ مصر کی تاریخ میں ان کو ” ہکسوس “ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے اور ان کی اصلیت کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ چرواہوں کی ایک قوم تھی ، جدید تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم عرب سے آئی تھی اور دراصل یہ ” عرب عاربہ “ ہی کی ایک شاخ تھی نیز قدیم قبطی اور عربی زبانوں کی باہمی مشابہت ان کے عرب ہونے کی مزید دلیل ہے۔ اور مصر کے مذہبی تخیل کی بنا پر ان کا لقب ” فاراع “ فرعون تھا۔ اس لئے کہ مصری دیوتائوں میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ” آمن راع “ سورج دیوتا تھا اور بادشاہ وقت اس کا اوتار اور ” فاراع “ جو عبرانی میں ” فارعن “ اور عرب میں ” فرعون “ کہلایا اور اس زمانہ کے فرعون کا نام عرب مورخین نے ” ریاں “ بتایا ہے اور مصری آثار میں ” آیونی “ کے نام سے موسوم ہے۔ بہرحال حضرت یوسف (علیہ السلام) ابھی زندان ہی میں تھے کہ وقت کے فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں اور سات دبلی پتلی اور دبلی گائیں موٹی تازی گائیوں کو نگل گئیں اور اس طرح سات سبز بالیاں ہیں اور سات خشک اور خشک بالیوں نے سبز کو کھالیا۔ بادشاہ اٹھا تو پریشان خاطر تھا اور عجیب و غریب خواب سے حیران و پریشان فوراً دربار کے مشیروں سے اپنا خواب بیان کیا اور خواب کی تعبیر چاہی۔ دباری بھی اس کو سن کر فکر و تردد میں پڑگئے اور جب حل نہ کرسکے تو اپنی درماندگی و بیچارگی کو چھپانے کے لئے کہنے لگے بادشاہ ! یہ خواب نہیں ہے بلکہ پریشان خیالات ہیں جن کا کوئی خاص مطلب نہیں ہے ، ہم سچے خواب کی تعبیر تو دے سکتے ہیں لیکن پریشان خیالات حل نہیں کرسکتے۔ اس خواب کا حل کوئی نہ پیش کرسکا اور انہوں نے بادشاہ سے کہا کہ یہ صرف ایک خیال ہے ۔ 56 درباریوں نے کہا کہ یہ کوئی باقاعدہ مربوط تعبیر طلب خواب نہیں ہے یہ تو پریشان خیالوں کی طرح پریشان خوابیاں ہیں ان کی تعبیر کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور نہ ہی ان کی کوئی حقیقت ہے۔ ہاں ! صرف یہ ایک خیال ہے آپ اس خیال کو اپنے دل سے نکال دیجیے۔ ” اضغاث “ ضغث کی جمع ہے اور ضغث ایک چیز کے ایک حصہ کو دوسرے حصہ سے ملا دینے کو کہتے ہیں ضغث الحدیث کے معنی ہیں بات کو خلط ملط کردیا اس لئے ایسی خوابیں جو بوجہ پریشانی کے ایک دوسرے سے مل گئی ہوں ان کو اضغات کہا جاتا ہے جن کے اختلاط کی وجہ سے تعبیر نہیں ہو سکتی۔ (ل) اگر آپ نے ضغث کے معنی یاد رکھے تو انشاء اللہ دوسری جگہ کام دیں گے یعنی حضرت ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ میں۔ احلام ، حلم سے ہے جس کے معنی ہیں غضب کے ہیجان سے نفس اور طبیعت کو ضبط میں رکھنا اور اس کی جمع ” احلام “ ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہ ا م تا مرھم احلامھم بھذا (الطور 25 : 23) ” کیا ان کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لئے کہتی ہیں ؟ “ اس جگہ مراد عقل ہے اگرچہ حلم کے اصل معنی عقل کے نہیں اور حلم اور حلم کی جمع بھی احلام ہے جس کے معنی خواب ہیں اور حلم بلوغت کو بھی کہتے ہیں کیونکہ بلوغت کے خواب جن میں احتلام وغیرہ کی شکایت ہوتی ہے اور جو چیز بلوغت پر دال کرتی ہے۔ رئویا بھی خواب ہے اور ” حلم “ بھی زبان کے لحاظ سے دونوں ہی خواب پر بولے جاتے ہیں لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ نے رئویا کو اچھے خواب سے اور ” حلم “ کو برے خواب سے مخصوص قرار دیا جیسا کہ آپ نے فرمایا ہے : الرئویا من اللہ و الحلم من الشیطن کہ رویا اللہ کی طرف سے ہے اور حلم شیطان کی طرف سے اور یہی فرق قرآن کریم کی اس آیت سے واضح کیا گیا ہے اگرچہ یہ بیان ہے شاہی معبرین کا۔
Ayah 12:45

وَ قَالَ الَّذِیْ نَجَا مِنْهُمَا وَ ادَّكَرَ بَعْدَ اُمَّةٍ اَنَا اُنَبِّئُكُمْ بِتَاْوِیْلِهٖ فَاَرْسِلُوْنِ Open ayah 12:45 in the Quran reader

اور جس آدمی نے ان قیدیوں میں سے نجات پائی تھی اسے ایک عرصہ کے بعد بات یاد آئی وہ بول اٹھا میں اس کا نتیجہ تمہیں بتا دوں گا تم مجھے جانے دو

نجات پانے والے نے بادشاہ سے کہا کہ میں اس کی تعبیر کرا دیتا ہوں ۔ 57 بادشاہ کو درباریوں کے اس جواب سے اطمینان نہ ہوا کہ اسی اثنئا میں ساقی کو اپنا خواب اور یوسف کی تعبیر کا واقعہ یاد آگیا۔ اس نے بادشاہ کی خدمت میں عرض کی کہ اگر کچھ مہلت دی جائے تو میں اس کی تعبیر لاسکتا ہوں۔ (آیت 74) مجھے یہاں سے جانے کی اجازت دیجیے۔ بادشاہ کی اجازت سے وہ اسی وقت قید خانہ پہنچا اور یوسف کو بادشاہ کا خواب سنایا۔
Ayah 12:46

یُوْسُفُ اَیُّهَا الصِّدِّیْقُ اَفْتِنَا فِیْ سَبْعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاْكُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَّ سَبْعِ سُنْۢبُلٰتٍ خُضْرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ١ۙ لَّعَلِّیْۤ اَرْجِعُ اِلَى النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:46 in the Quran reader

اے یوسف (علیہ السلام) ! اے وہ کہ مجسم سچائی ہے ! اس کا ہمیں حل بتا دے کہ سات موٹی تازی گایوں کو سات دبلی پتلی گائیں نگل رہی ہیں اور سات بالیاں ہری ہیں ساتھ سوکھی تاکہ میں لوگوں کے پاس واپس جا سکوں کیا عجب ہے کہ وہ معلوم کر لیں

بادشاہ کا خواب من و عن یوسف کو سنایا اور اس کی تعبیر چاہی ۔ 58 بادشاہ کا خواب یوسف (علیہ السلام) کو سنایا اور کہا کہ آپ اس کا حل کیجیے کیونکہ آپ سچائی اور تقدس کے پیکر ہیں اور آپ ہی اس کا حل کرسکتے ہیں۔ بادشاہ نے دیکھا ہے کہ ” سات موٹی تازی گائیوں کو سات دبلی پتلی گائیں نگل رہی ہیں اور سات بالیاں ہری بھری ہیں اور سات سوکھی۔ “ اس خواب کی تعبیر بتائو اور یکا عجب ہے کہ جن لوگوں نے مجھے بھیجا ہے جب میں صحیح تعبیر لے کر ان کے پاس جائوں تو وہ آپ کی حقیقی قدر و منزلت معلوم کرلیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کمال صبر و استقلال اور جلالت قدر کا اندازہ کیجیے۔ ساقی کو نہ تو ملامت کی اور نہ برسوں تک بھولے رہنے پر جھڑکا اور نہ ہی عطاء علم میں بخل سے کام لیا اور نہ یہ سوچا کہ جن ظالموں نے مجھ کو بےقصور زندان میں ڈالا ہے وہ اگر تباہ ہوجائیں اور اس خواب اک حل نہ پا کر برباد ہوجائیں تو اچھا ہے ، ان کی یہی سزا ہے ، نہیں ایسا کچھ بھی نہیں کیا اور کچھ بھی نہیں کہا بلکہ اسی وقت خواب کی تعبیر دی اور اپنی اجنب سے اس سلسلہ میں صحیح تدبیر بھی بتلا دی اور ساقی کو پوری طرح مطمئن کردیا۔
Ayah 12:47

قَالَ تَزْرَعُوْنَ سَبْعَ سِنِیْنَ دَاَبًا١ۚ فَمَا حَصَدْتُّمْ فَذَرُوْهُ فِیْ سُنْۢبُلِهٖۤ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تَاْكُلُوْنَ Open ayah 12:47 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا سات برس تک تم لگاتار کھیتی کرتے رہو پس جو کچھ کاٹو اسے ان بالوں ہی میں رہنے دو اور صرف اتنی تعداد الگ کرلیا کرو جو تمہارے کھانے کے لیے ضروری ہو

یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر اور اس کی صحیح تدبیر بتلا دی کہ سات سال خوب کھیتی کرو ۔ 59 خواب کی تعبیر یہ ہوئی کہ سات موٹی تازی گائیوں اور سات ہری بھری بالیوں سے مراد سات سال تک خوب کھیتی باڑی اور فصلیں ہوں گی اور بہت خوش حالی کے ساتھ سال ہوں گے اور سات دبلی پتلی گائیوں اور سات سوکھی بالیوں کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سات سالوں کے بعد مزید سال سال آئیں گے جن می بہت قحط سالی ہوگی اور بد حالی پھیلے گی اور پہلے سات سالوں کا رکھا ہوا ہی اس دور میں کام آئے گا جو آئے گا اور تدبیر اس کی یہ بتائی کہ ” سات سال تم لگاتار کھیتی باڑی کرتے رہو اور جو کچھ کاٹو اسے اس کی بالیوں میں ہی رہنے دو اور صرف اتنی مقدار الگ کرلیا کرو جو تمہاری وقتی ضرورت کے لئے ضروری ہو۔ “
Ayah 12:48

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَّاْكُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّا تُحْصِنُوْنَ Open ayah 12:48 in the Quran reader

پھر اس کے بعد سات سال بڑی سخت مصیبت کے آئیں گے جو وہ سب ذخیرہ کھا جائیں گے جو تم نے پہلے سے جمع کر رکھا ہوگا مگر ہاں تھوڑا سا جو تم روک رکھو گے وہی بچے گا

سات سال گزرنے کے بعد قحط کے سال ائٓیں گے ان کی تیاری کرو ۔ 60 اس کے بعد سات برس بہت سخت مصیبت کے آئیں گے وہ تمہارا جمع کیا ہوا تمام ذخیہ ختم کردیں گے جو تم نے پہلے سات سالوں میں جمع کیا ہوگا مگر ہاں تھوڑا سا جو تم روک رکھو گے بچ رہے گا تاکہ وہ ان سخت سالوں کے گزر جانے کے بعد خوش حالی کے سال میں بیج وغیرہ کے کام دے۔
Ayah 12:49

ثُمَّ یَاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَامٌ فِیْهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیْهِ یَعْصِرُوْنَ۠ Open ayah 12:49 in the Quran reader

پھر اس کے بعد ایک برس ایسا آئے گا کہ لوگوں پر خوب بارش بھیجی جائے گی لوگ اس میں عرق اور تیل خوب نکالیں گے

قحط سالی کے سات سال گزر جانے کے بعد آٹھواں سال پھر کھیتی باڑی کا ہو گا ۔ 61 یوسف (علیہ السلام) نے بتلایا کہ قحط سالی کے ساتھ سال گزر جانے کے بعد پھر ایک برس ایسا آئے گا کہ خوب پانی برسے گا ، کھیتیاں ہری ہوں گی اور لوگ پھلوں اور دانوں سے عراق اور تیل بہتات کے ساتھ نکالیں گے گویا موٹی گائیں اور بالیں خوش حالی کے سال ہیں اور دبلی گائیں اور بالیں خشک سالی کے برس۔ جو خوشحالی کی پیداوار کو کھا جائیں گے۔ یہ قرآن کریم کی بلاغت ہے کہ اس نے حضرت یوسف کی تعبیر خواب اور اس کے متعلق تدبیر کو ایک جملہ میں ساتھ ساتھ بیان کردیا تاکہ کلام میں تکرار اور دہرانے کی ضرورت باقی نہ رہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ذرا غور کرو کہ یوسف کی سیرت کی فضیلت کا کیسا عجیب منظر سامنے آ جاتاے جب بادشاہ مصر خواب دیکھتا ہے اور سردار ساقی آ کر یہ معاملہ انہیں سناتا ہے۔ دنیا کا ہر انسان ایسے موقعہ پر کیا کرتا ؟ دنیا کا ہر وہ قیدی کیا کرتا جسے بغیر کسی جرم کے قید خانے میں ڈال دیا گیا ہو اور سال ہا سال سے اسی حالت میں بےیارو مددگار پڑا ہے ؟ یقینا اسے تائید غیبی سمجھ کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا اور کہتا کہ میں یہ مشکل حل کرسکتا ہوں مجھے یہاں سے نکلنے اور بادشاہ کے حضور حاضر ہونے کا موقعہ دیا جائے مگر ہم دیکھیت ہیں و کہ حضرت یوسف کی جانب سے کوئی اس طرح کی خواہش ظاہر نہیں ہوئی۔ انہوں نے خواب سنتے ہی اس کی تعبیر بیان کردی اس کا خیال بھی انہیں نہیں گزرا کہ اپنی مطلب براری کی یہ نہایت قیمتی بات تھوڑی دیر کے لئے بھی روک لوں۔ پھر صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ جتنی بات پوچھی گئی تھی بتلا دی بلکہ اس سے بھی زیادہ علم و فضل کی بخشش سائل کے دامن میں ڈال دی یعنی خواب میں آنے والی ایک ہولناکی کی خبر دی گئی تھی انہوں نے تعبیر کے ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ اس ہولناک مصیبت سے بچنے کی سبیل کیا ہو سکتی ہے۔ سوال بادشاہ کی طرف سے تھا لیکن دیکھو جس نے جواب دیا وہ قید خانہ کی کو ٹھڑی میں بیٹھا ہوا اپنے علم و فضل کی بخشش میں بادشاہوں سے بھی زیادہ فیاض تھا۔ طویل ہمت ساقی ست فطرت عرفی ٭ کہ حاتم دگراں و گدائے خویشتن است سیدنا یوسف (علیہ السلام) نے ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ دنیا نے ان کے ساتھ کچھ ہی کیا ہو وہ دنیا کی خدمت میں ہدایت کے سوا اور کوئی شے اپنے سامنے نہیں رکھ سکتے تھے۔ جب انہوں نے خواب سنا اور خواب کا حل ان کے علم بصیرت نے معلوم کرلیا تو وہ ایک لمحہ کے لئے بھی علم و ہدایت کا فیضان انسانوں پر نہیں روک سکتے تھے۔ ان کا فرض تھا کہ جب کبھی طلب اعانت کا ہاتھ ان کے آگے بڑھ وہ اس کی اعانت کریں اور انہوں نے اعانت کی اگر نہ کرتے تو داعی حق نہ ہوتے ان کا بےلوث جذبہ خدمت اس خود غرضانہ مطلب براری کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا کہ ایک انسان کی مشکل اور احتیاج کو اپنی رائی کا ذریعہ بنائیں۔
Ayah 12:50

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّا جَآءَهُ الرَّسُوْلُ قَالَ ارْجِعْ اِلٰى رَبِّكَ فَسْئَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ الّٰتِیْ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِكَیْدِهِنَّ عَلِیْمٌ Open ayah 12:50 in the Quran reader

بادشاہ نے کہا یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس بلاؤ لیکن جب بادشاہ کا پیغامبر یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا تو اس نے کہا تم اپنے آقا کے پاس واپس جاؤ اور دریافت کرو کہ ان عورتوں کا معاملہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے ، جیسی کچھ مکاریاں انہوں نے کی تھیں میرا پروردگار انہیں خوب جانتا ہے

بادشاہ نے یوسف کو طلب کیا لیکن وہ نہ آئے اور ان عورتوں کے متعلق تحقیق حال چاہی ۔ 62 ساقی نے یہ سب معاملہ بادشاہ کے سامنے جا سنایا ، بادشاہ نے ساقی کی زبان سے پہلے کچھ جملے یوسف کی تعریف میں سنے تھے تعبیر خواب کا معاملہ دیکھ کر ان کے علم و دانش اور جلالت قدر کا قائل ہوگیا اور نادیدہ مشتاق بن کر کہنے لگا کہ ایسے شخص کو جلد میرے پاس لائو۔ جب بادشاہ کا پیغام بر یوسف کے پاس پہنچا اور بادشاہ کی طلب و اشتیاق کا حال سنایا تو حضرت یوسف نے قید خانے سے باہر آنے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ اس طرح تو میں جانے کو تیار نہیں ہوں تم اپنے آقا کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ وہ یہ تحقیق کرے کہ ان عورتوں کا معاملہ کیا تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے ؟ پہلے یہ بات صاف ہوجائے کہ انہوں نے کیسی کچھ مکاریاں کی تھیں اور میرا پروردگار تو ان کی مکاریوں سے خوب واقف ہے۔ پھر جب بادشاہ ملاقات کا مشتاق ہوا اور اپنا پیام بر بھیجا تو چاہئے تھا کہ جوش مسرت سے اس پیام کا استقبال کرتے کیونکہ اب خود بخود رائی سامنے آگئی تھی اور ایسی حالت میں آئی تھی کہ بادشاہ وقت مشتاق زیارت ہو رہا تھا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف کی نگاہوں میں معاملہ نے دوسری ہی شکل اختیار کی انہوں نے قید خانہ چھوڑنے اور بادشاہ کی ملاقات سے انکار کردیا اور کہلایا کہ پہلے میرے معاملہ کی تحقیقات کرلی جائیں ۔ اب یہاں پھر بےاختیار یہی سوال سامنے آجاتا ہے کہ دنیا کا ہر مظلوم قیدی ایسی حالت میں کیا کرتا ؟ اور اس پیکر صدق و وفا نے کیا کیا ؟ غور کرو کہ ان کی حرمت کیسے جوہروں سے گوندھی گئی تھی اور کس طرح صبر و ضبط کی عدیم النظیر قوتوں کے ساتھ خود داری اور عزت نفس کی روح اس کے ایک ایک ذرہ میں رچی ہوئی تھی ؟ حضرت یوسف کے اس انکار و انتظار میں ان کی اخلاقی ذہنیت کی ایک پوری دنیا پوشیدہ ہے گویا وہ زبان حال سے کہہ رہے تھے کہ قید سے رہائی بلاشبہ ایک خوشخبری ہے لیکن ایسی رہائی مجھے کیا خوش کرسکتی ہے جو میری بےجرمی کی وجہ سے ظہور میں نہ آرہی ہو بلکہ محض بادشاہ کا ایک عطیہ اور بخشش ہو ؟ میں تھا تو ” مجرم “ لیکن چونکہ بادشاہ نے خواب دیکھا کسی سے تعیرف نہ بن آئی میں نے بتلا دی اس لئے خوش ہو کر بادشاہ نے رہا کردیا۔ پس یہ بادشاہ کا احساس ہوا حق و انصاف کا فیصلہ نہ ہوا نہیں میں اپنی رہائی بطور ایک احسان کے قبول نہیں کرسکتا۔ اگر میں ” مجرم “ ہوں تو سزا کا سزا وار ہوں کیوں مجھے کوئی بخشے ؟ اگر ” مجرم “ نہیں ہوں تو میری بےجرمی کا اعتراف کرنا چاہئے اور اس لئے رہا کرنا چاہئے کہ سزا کا مستحق نہ تھا اس لئے نہیں کہ کسی نے بخش دیا۔ عزت نفس اور استقامت حق کا کیسا بلند مقام ہے ؟ اور اخلاقی سیرت کی کیسی عجیب مضبوطی ہے جس میں کہیں سے بھی کوئی لچک پڑتی دکھائی نہیں دیتی ؟ جس رخ سے دیکھو اور جہاں کہیں دیکھو اس کی بغ داغ خصوصیتیں یکساں طور پر نمایاں ہیں اور اس سورج کی روشنی کبھی مدھم نہیں پڑ سکتیچ کانہ علم فی راسہ نار …… فی الحقیقت جمال یوسف کی یہی رعنائیاں تھیں جنہوں نے ایک ہی نظارہ میں بادشاہ کا دل مسخر کرلیا تھا انک الیوم لدینا مکین امین (21 : 45) صحیحین کی روایت ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے اس واقعہ کا ذکر فرماتے ہوئے حضرت یوسف کے ضبط وصبر کو بہت سراہا اور تواضع اور کسر نفسی کی حد تک اس کو بڑھا کر یہ ارشاد فرمایا لو لبئت فی السجن مالیت یوسف لا جبت الداعی (بخاری کتاب الانبیاء) ” اگر میں اس قدر دراز مدت تک قید میں رہتا جس قدر کہ یوسف رہے تو بلانے اولے کی دعوت فوراً قبول کرلیتا۔ “ اس جگہ ایک یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ براہ راست عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ پیش آیا تھا مگر حضرت یوسف نے اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان مصری عورتوں کا حوالہ دیا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ حضرت یوسف نے ایسا کیوں کیا ؟ اس کی دو ج ہیں سمجھ میں آتی ہیں ایک یہ کہ حضرت یوسف کو اگرچہ عزیز مصر کی بیوی سے زیادہ تکلیف پہنچی تھی مگر قید کے اس معاملہ میں ان عورتوں کی بھی سازش تھی اس لئے کہ ان میں سے ہر ایک یوسف کی عاشق اور ان کو اپنی جانب مائل کرنے کی آرزو مند تھی اور ناکامی کی صورت میں سب نے مل کر عزیز کی بیوی کو اس کے قید والے فیصلہ میں شہ دی اور عملی جامہ پہنا کر چھوڑا یہی وجہ ہے کہ زندان کا معاملہ ان عورتوں کے قضیہ کے بعد پیش آیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت یوسف سمجھتے تھے کہ عزیز نے میرے ساتھ ہر ممکن حسن سلوک برتا ہے ، میری عزت اور میرا احترام کیا ہے اس لئے موزوں نہیں ہے کہ میں اس کی بیوی کا نام لے کر اس کی رسوائی کا باعث بنوں۔
Ayah 12:51

قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ یُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوْٓءٍ١ؕ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ الْئٰنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ١٘ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:51 in the Quran reader

بادشاہ نے ان عورتوں سے کہا کہ صاف صاف بتلا دو تمہیں کیا معاملہ پیش آیا تھا جب تم نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے کہ اسے اپنی طرف مائل کرلو ؟ وہ بولیں حاشا للہ ہم نے اس میں برائی کی کوئی بات نہیں پائی ، یہ سن کر عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی جو حقیقت تھی وہ اب ظاہر ہوگئی ہاں ! وہ میں ہی تھی جس نے یوسف پر ڈورے ڈالے کہ اپنا دل ہار بیٹھے بلاشبہ وہ بالکل سچا ہے

بادشاہ نے ان عورتوں سے تحقیق حال کیا انہوں نے یوسف کی بریت کی گواہی دی ۔ 63 بادشاہ نے جب یہ سنا تو اس نے ان عورتوں کو بلوایا اور ان سے کہا کہ صاف صاف اور صحیح بتائو کہ اس معاملہ کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ جب کہ تم نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے تاکہ تم اس کو اپنی طرف مائل کرلو ؟ وہ یک زبان ہو کر بولیں ” حاشاء اللہ ہم نے اس میں برائی کی کوئی بات نہیں پائی۔ “ مجمع میں عزیز مصر کی بیوی بھی موجود تھی اور اب وہ عشق و محبت کی بھٹی میں خام بھی نہ تھی بلکہ کندن ہوچکی تھی اور ذلت و خوف کی رسوائی کے خوف سے آگے نکل چکی تھی ” اس نے جب یہ دیکھا کہ یوسف کی خواہش ہے کہ اصل حقیقت حال سامنے آجائے تو وہ بھی بےاختیار بول اٹھی۔ ” جو حقیقت تھی وہ اب ظاہر ہوگئی ، ہاں ! وہ میں ہی تھی جس نے یوسف پر ڈورے ڈالے تھے اور اپنا دل ہار بیٹھی بلاشبہ وہ یعنی یوسف بالکل سچا ہے۔ “ سب سے زیادہ بڑھ کر امراۃ العزیز نے جو یوسفک و ملزم گراداننے میں پیش پیش تھی اور جس کی انگیخت سے انہیں قید کیا گیا تھا اس واشگاف انداز میں آپ کی برات اور پاکدامنی کا اعتراف کیا کہ شک و شبہ کا ادنیٰ سا احتمال بھی باقی نہ رہا۔
Ayah 12:52

ذٰلِكَ لِیَعْلَمَ اَنِّیْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآئِنِیْنَ Open ayah 12:52 in the Quran reader

یہ میں نے اس لیے کہا کہ اسے معلوم ہوجائے کہ میں نے پیٹھ پیچھے اس کی خیانت نہیں کی نیز اس لیے کہ اللہ خیانت کرنے والوں کی تدبیروں پر کبھی راہ نہیں کھولتا

اس کی وضاحت کہ میں نے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری کیوں سمجھا ۔ 64 زیر نظر آیت کا ترجمہ تین طرح سے کیا گیا ہے اور تینوں طرح سے کیا جاسکتا ہے اس لئے کسی ایک ترجمہ کو جو دوسرے پر ترجیح دینا ہے تو وہ فقط اپنے اپنے استدلال سے ہی ترجیح دی جاسکتی ہے اس لئے آزادی کے ساتھ جس کی طرف رغبت مضمون زیادہ سمجھیں خود نسبت دے لیں اس لئے ہم سب سے پہلے ان تینوں طرح کے ترجمہ کی وضاحت کرتے ہیں تاکہ بات کو سمجھا جاسکے کہ تینوں طرح کا ترجمہ کیسے صحیح ہو سکتا ہے۔ ۔ 1 یہ میں نے اس لئے کہا کہ اس (یوسف) کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس (یوف) کی خیانت نہیں کی نیز اس لئے کہ (واضح ہوجائے) اللہ خیانت کرنے والوں کی تدبیروں پر کبھی راہ نہیں ھولتا۔ (گویا یہ بیان امراۃ العزیز کا ہے جو یوسف (علیہ السلام) کے متعلق ہے۔ ) ۔ 2 یہ میں نے اس لئے کہا کہ اس (عزیز مصر) کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی پیٹھ پیچھے اس کی (اس سے زیادہ اور کوئی) خیانت نہیں کی (جس کا حال اسے معلوم ہے ) اور بلاشبہ اللہ خیانت کرنے والوں کی تدبیروں پر کبھی راہ نہیں کھولتا (سو اگر میں نے اس سے زیادہ خیانت کی ہوتی تو اس کا بھی پردہ فاش ہو کر رہتا) ۔ (گویا یہ بیان امراۃ العزیز کا ہے جو اس کے اپنے ہی خاوند عزیز مصر کے متعلق ہے۔ ) ۔ 3 (یوسف نے کہا ) یہ میں نے اس لئے کہا کہ اس (عزیز مصر) کو معلوم ہوجائے کہ میں (یوسف) نے اس (عزیز مصر) کی پیٹھ پیچھے اس (عزیز مصر) کی خیانت نہیں کی۔ نیز اس لئے کہ (واضح ہوجائے ) اللہ خیانت کرنے والوں کی تدبیروں پر کبھی راہ نہیں کھولتا (گویا یہ بیان یوسف کا ہے جو عزیز مصر کے متعلق ہے۔ ) بلاشبہ ضمائر تینوں طرح کے ترجمہ کا ساتھ دیتی ہیں اور تینوں طرح سے بات صحیح کیہ جاسکتی ہے لیکن ہم نے آخری معنوں کو زیادہ موزوں سمجھا ہے کہ یہ سارا قول ” ذلک لیعلم “ سے آخر آیت تک یوسف (علیہ السلام) کا ہے …… ذلک یعنی یہ اہتمام برات و رفع تہمت ای ذلک التثبیت والتشھیر لظھور البراءۃ (کشاف) ای ذلک التثبیت (بیضاوی) لیعلم ضمیر عزیز کی طرف ہے لیعلم العزیز (معالم) لیعلم العزیز (کشاف بیضاوی) عزیز کو یوسف کی پارسائی اور بےگناہی کا علم تو پہلے ہی ہوچکا تھا مقصود یہ ہے کہ اب یقین اور ہوجائے کہ میں نے جب بادشاہ سے درخواست کی ہے تو اس وقت بھی اس کی عزت و ناموس (امراۃ العزیز) کا نام لینا پسند نہیں کیا کہ میری طرف سے اس کی رسوائی کی تشہیر ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک میں اس جرم کی اہمیت کو دیکھ کر اس سے اپنی بیزاری اک خاص اہتمام فرماتے اور یہ بات تقویت دیتی ہے ان مفسرین کے بیان کو جنہوں نے ان ربی احسن مثوای میں ” رب “ سے مراد عزیز مصر ہی کو لیا ہے جیسا کہ سطور بالا میں بیان ہوچکا ہے کہ مصری تہذیب و تمدن میں زنا بجائے خود کوئی اتنا بڑا جرم نہ تھا کیونکہ بقول ان کے فریقین کی رضامندی اس کو جرم نہیں بننے دیتی ہاں ! جبر ہو خواہ کسی طرف سے ہو تو وہ گناہ اور جرم سمجھا جاتا تھا اور اس میں غیر فطری چیز بھی کوئی نہیں ہے نیز یہ کہ ایک شادی شدہ عورت کا اپنے شوہر کے حقوق خصوصی میں خیانت ضرور تھی لیکن اسلام کی نظر میں شرک کے بعد اس جرم ہی کا نمبر ہے لہٰذا اس کا وقوع تو بڑی بات ہے اس کی طرف کسی طرح کا خیال و دھیان بھی جرم قرار پاتا ہے۔ سا لئے یوسف (علیہ السلام) نے اس موقع پر اس کی مزید وضاحت فرمائی اور اس آیت پر قرآن کریم کا بارہواں پارہ ختم ہو رہا ہے اور آنے والی آیت 35 تیرہویں پارہ کی پہلی آیت ہے۔
Ayah 12:53

وَ مَاۤ اُبَرِّئُ نَفْسِیْ١ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 12:53 in the Quran reader

اور میں اپنے نفس کی پاکی کا دعویٰ نہیں کرتا آدمی کا نفس تو برائی کے لیے بڑا ہی ابھارنے والا ہے مگر ہاں ! اس حال میں کہ میرا پروردگار رحم کرے بلاشبہ میرا پروردگار بڑا ہی بخشنے والا ، بڑا ہی رحم کرنے والا ہے

۔ 65 اس آیت کو بھی دو طرح سیب یان کیا گیا ہے ایک طریقہ سے یہ بیان ہے امراۃ العزیز کا اور دوسرے طریقہ سے بیان ہے یوسف (علیہ السلام) کا بلحاظ ضمائر ترجمہ دونوں طرح صحیح ہے کیونکہ واحد متکلم کا صیغہ مذکر ، مونث کے لئے ایک ہی ہے ” وما ابری نفسی “ کا ترجمہ ” میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتی۔ “ اور ” میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعویٰ نہیں کرتا۔ “ دونوں طرح صحیح اور جائز ہے۔ پہلے ترجمہ سے مراد عزیز مصر کی بیوی کا بیان ہے اور دوسرے ترجمہ سے مراد یوسف (علیہ السلام) کا اپنا بیان ہے تاہم ہم نے اس سے مراد یوسف علہک السلام کا بیان ہی لیا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے چونکہ اپنی عصمت نفسی کا اس موقع پر زبردست مظاہرہ کیا تھا اس لئے ایک جلیل القدر نبی اور مقرب بارگاہ الٰہی ہونے کی وجہ سے یہ ظاہر کردینا بھی ضرویر تھا کہ میری پاکبازی اور عصمت کا یہ معاملہ میرے اپنے نفس کی بدولت نہیں ہے کیونکہ نفس انسانی تو اکثر برائی پر ابھارتا رہتا ہے بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت ہی کے واسطہ سے ہے اور یہی رحمت ، عصمت انبیاء کی کفیل ہے۔ الحمد للہ کہ وہ وقت بھی آپہنچا کہ حضرت یوسف کی پاکبازی اور صداقت و طہارت کا معاملہ تہمت لگانے والوں کی زبان سے ہی واضح ہو گال اور شاہی دربار میں زبردست شہادت کے ساتھ مجرموں نے اعتراف جرم کر کے یہ بتا دیا کہ یوسف کا دامن ہر قسم کی آلودگیوں سے پاک اور منزہ ہے۔
Ayah 12:54

وَ قَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِیْ بِهٖۤ اَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِیْ١ۚ فَلَمَّا كَلَّمَهٗ قَالَ اِنَّكَ الْیَوْمَ لَدَیْنَا مَكِیْنٌ اَمِیْنٌ Open ayah 12:54 in the Quran reader

پھر بادشاہ نے حکم دیا یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لاؤ کہ اسے خاص اپنے لیے مقرر کروں پھر جب بات چیت ہوئی تو کہا آج کے دن تو ہماری نگاہوں میں بڑا صاحب اقتدار اور امانتدار انسان ہے

یوسف کو قید کی کو ٹھڑی سے نکال کر شاہی ختت و تاج کے قریب لانے کا شاہی حکم ۔ 66 فرعون مصر پر جب حقیقت حال منکشف ہوئی تو اس کے قلب میں یوسف (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت قدر کا سکہ بیٹھ گیا ، ساقی کا حسن عقیدت کے ساتھ یوسف کی عقل و دانش کا ذکر اپنی خواب کی بہترین اور دل لگتی تعبیر اور عصمت نفس کا یہ انکشاف یہ سب امور تھے جنہوں نے مل کر بادشاہ کی اس بزرگ اور پر عظمت ہستی کی دید اور اس سے استفادہ کا عاشق بنا دیا وہ کہنے لگا کہ ” یوسف کو میرے پاس لائو کہ اسے خاص اپنے لئے مقرر کروں۔ “ یوسف (علیہ السلام) اس رعنائی و دلبری ، اس عصمت و پاکیزگی اور اس عقل و دانش کے ساتھ زندان سے نکل کر بادشاہ کے پاس تشریف لائے بات چیت ہوئی تو بادشاہ حیران رہ گیا کہ اب تک جس کی رسات بازی ، امانت داری اور وقائع عہد کا یہ کچھ تجربہ کیا تھا وہ عقل و دانش اور حکمت و فطانت میں بھی آپ اپنی نظری ہے اور نہایت مسرت کے ساتھ کہنے لگا کہ ” آج کے دن تو ہماری نگاہوں میں بڑا صاحب اقتدار اور امانت دار انسان ہے۔ “ ظاہر ہے کہ بادشاہ نے ان سے دریافت کیا کہ میرے خواب میں جس قحط سالی کا ذکر ہے اس کے متعلق مجھ کو کیا کیا تدابیر اختیار کرنی چاہئیں اور اس کے جواب میں یوسف (علیہ السلام) نے جو ارشاد فرمایا وہ آنے والی آیت میں بیان ہوا ۔
Ayah 12:55

قَالَ اجْعَلْنِیْ عَلٰى خَزَآئِنِ الْاَرْضِ١ۚ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ Open ayah 12:55 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے کہا مملکت کے خزانوں پر مجھے مختار کر دیجئے میں حفاظت کرسکتا ہوں اور میں اس کام کا جاننے والا ہوں

یوسف نے کہا کہ مجھے وزیر خزانہ بنا دیجیے تو میں اس کا سارا بندوبست کرسکتا ہوں ۔ 67 اتنے بڑے عہدہ کے لئے دو ہی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک دیانت و امانت اور دوسرے اس کام سے مکمل واقفیت۔ سو مجھ میں یہ دونوں وصف موجود ہیں اس لئے میں اس عہدہ کو طلب کر رہا ہوں اور وہ سارا پروگرام جو خواب میں دکھایا گیا اس وزاتر کے متعلق ہے یہ وہی عہدہ ہے جس کو آج کل کی اصطلاح میں وزیر مال ریونیو منسٹر اور وزیر خزانہ فنانس منسٹر کا جامع ہو سکتا ہے اور قحط سالی کے شروع ہونے تک اور قحط سالی شروع ہوجانے کے بعد بھی جتنے شعبے اس معاملے میں معاون و ممد ہو سکتے ہیں وہ سب کے سب اسی عہدہ کے تحت آتے ہیں۔ اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ وقت یعنی فرعون مصر کو اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس آیت کے تحت ہمارے ہاں جو بحث چل نکلی وہ یہ ہے کہ آیا مسلمان کے لئے جائز ہے کہ وہ کسی فاسق و فاجر حکمران یا ایک غیر مسلم حکومت میں کوئی عہدہ قبول کرے ؟ پھر اس بحث میں اتنا کچھ بیان کیا گیا کہ اس کو اگر جمع کیا جائے تو وہ سینکڑوں صفحات میں بھی نہیں سما سکتا۔ ہم اس سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) سے ہم روشنی حاصل کریں گے یا اپنی دی ہوئی روشنی میں اس کو دیکھنا پسند کریں گے ؟ کیا کوئی نبی ایسا کام کرسکتا ہے جس کے متعلق آنے والوں کو یہ سوال اٹھانا پڑے کہ آیا ہم بھی ایسا کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ کیا کوئی ایسی مثال موجود ہے کہ کسی نبی نے جب کہ وہ نبوت سے مخصوص امر نہ ہو کوئی ایسا کام کیا جس کی بعد میں آنے والوں کو ممانعت کردی گئی ہو ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس فتویٰ کا فائدہ ؟ سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ کیا دنیا طلبی کے لئے کسی حکومت سے کوئی عہدہ طلب کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ جب کہ اس کی صلاحیت بھی نہ ہو ؟ تو یقینا اس کا جواب آج بھی یہی ہے کہ ہرگز نہیں۔ لیکن اس وقت جو کچھ اس ملک عزیز میں ہو رہا ہے وہ سب اس حکم کے خلاف ہے۔ ایسے عہدوں پر وہ لوگ مقرر ہوجاتے ہیں جن کی ذرا بھر بھی ان کے اندر صلاحیت نہیں ہوتی اور ملک کی باگ ڈور اور انتظام ان ہاتھوں میں اس ڈرامائی صورت میں منتقل ہوجاتا ہے کہ جیسے کوئی جادو کا کھیل تھا جو کھیلا گیا اور جادو کا مطلب آپ سمجھتے ہی ہیں کہ وہ سراسر دھوکا اور فریب ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ ایمان اگر کوئی شے ہے تو ذرا غور کریں کہ آج کل جتنے وزیر و مشیر بنائے جاتے ہیں ان میں کتنے ہی جن میں اس عہدہ کی صلاحیت ہوتی ہے اور کتنے ہیں جو محض اس مجبوری کے تحت بنائے گئے ہیں کہ ان کو وزیر بنائے بغیر کوئی چارہ کار نہیں اور یہ مجبوری وزارت عظمیٰ سے لے کر سارے شعبوں کے وزراء تک بدستور ایک جیسی ہے۔ چنانچہ یوسف (علیہ السلام) کی صلاحیتوں کے باعث بادشاہ وقت نے خود اپنے کاموں کے لئے خالص کرنے کی پیشکش کی جو ایک خاص حدود کے اندر یعنی ایک مکمل شعبہ زندگی کے انتظام کے لئے طلب کی اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کو مملکت کا امن و کفیل بنا دیا اور شاہی خزانوں کی کنجیاں ان کے حوالے کر کے مختار عام کردیا۔ چناچہ تورات میں ہے کہ : ” یہ تعبیر فرعون کی نگاہ میں اور اس کے سب نوکروں کی نظر میں اچھی معلوم ہوئی۔ فرعون نے اپنے نوکروں کو کہا کیا ہوا ایسا جیسا یہ مرد کہ جس میں خدا کی روح ہے پا سکتے ہیں ؟ اور فرعون نے یوسف سے کہا از بس کہ خدا نے تجھے اس سب میں بینائی دی ہو سو کوئی تجھ سے عاقل و دانشور نہیں ہے تو میرے گھر کا مختار ہوا اور اپنا حکم میری سب رعیت پر جاری کر ، فقط تخت نشین میں میں تجھ سے بزرگ و برتر ہوں گا ، پھر فرعون نے یوسف سے کہا کہ دیکھ میں نے تھجے ساری زمین مصر پر حکومت بخشی اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف کے ہاتھ میں پہنا دی اور اس کو کتان کا لباس پہنایا اور سونے کا طوق اس کے گلے میں ڈالا اور اس نے اسے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور فرعن نے یوسف کو کہا میں فرعون ہوں اور بغیر تیرے مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ یا پائوں نہ اٹھائے گا۔ “ (پیدائش 14 : 73 تا 44) سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ! لالہ رب العزت کی قدرت کی کرشمہ سازیاں اور اس کی عطا و کرم کی یہ کیسی بوا لعجمی ہے کہ کل جس ہستی کو مصر کی متمدن قوم بدوی و صحرائی سمجھتی تھی ، جو بدوی تھا اور غلام بھی اس کو پہلے ایک سردار کے گھر کا مختار ، اس کی نگاہوں میں محترم و معزز اور امین و فطین بنایا اور پھر قید خانہ کی زندگی سے نکالا تو قوم مصر کا مالک و مختار بنا دیا اور اس مرتبہ پر پہنچا دیا کہ اسباب دنیوی کے ماتحت جس کا تصور بھی ممکن نہ تھا یہ قادر مطلق کی کارفرمائی کا ایک عظیم معجزہ تھا کہ کل جو کنعان میں گلہ بانی کر رہا تھا وہ آج وقت کی سب سے بڑی متمدن قوم کا مختار ومالک بن کر جہاں بانی کر رہا ہے۔ سچ ہے کہ جس کو وہاں قبولیت کا شرف حاصل ہوگیا اس کے لئے راہ کی تمام دشواریاں ہیچ ہیں اور حالات کی نامساعدت پرکاہ کی وقعت بھی نہیں رکھتی۔ غور کرو کہ اللہ تعالیٰ نے ” عزیز “ کے کاروبار کا مختار بنا کر یوسف کے لئے فرمایا تھا کہ ہم نے اس کو ” نمکین فی الارض “ عطا کردی اور اب جب کہ اس آغاز کی یہ انتہا نمود میں آگئی تو پھر ارشاد فرمایا ” وکذلک مکنا لیوسف فی الارض۔ “
Ayah 12:56

وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١ۚ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ١ؕ نُصِیْبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:56 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے سرزمین مصر میں یوسف کے قدم جما دیئے کہ جس جگہ سے چاہے حسب مرضی رہنے سہنے کا کام لے ہم جسے چاہتے ہیں اپنی رحمت سے فیضیاب کردیتے ہیں اور نیک عملوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

یوسف کے قدم مصر میں اس طرح جما دیئے کہ بنی اسرائیل کا مکمل ورود مصر ہو گیا ۔ 68 ” ’ یکھو اس طرح ہم نے سر زمین مصر میں یوسف کے قدم جما دیئے “ اور عملاً انہیں ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ اس واقعہ کے سننے والوں کی وتجہ اپنی شان کریمہ اور بندہ نوازی کی طرف مبذول کرا رہا ہے کہ دیکھو کس طرح ہم نے یوسف کو سرفراز فرمایا۔ ‘ کہاں سے اٹھایا اور کہاں پہنچایا ؟ کنعان کے جنگل کے ایک غیر آباد کنوئیں کی تاریکی سے نکالا اور مصر جیسے متمدن اور ترقی یافتہ ملک کے سارے خزانوں کا مالک بنا دیا ۔ دروں کو اٹھانا اور ان کو رشک خورشید بنا دینا میرا ہی کام ہے ، کوئی انسان یہ کام نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی کو اس کا اختیار دیا جاسکتا ہے۔ بس یہ صورت ہوئی کہ بنی اسرائیل کے مصر آنے کے لئے دروازہ کھول دیا گیا۔ ” ہم نیک عملوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کلمات طیبات سے ہر نیکو کار کی حوصلہ افزائی فرما دی کہ یہ جو کچھ ہوا صرف یوسف ہی کے لئے مخصوص نہیں تھا ہماری رحمت و عنایت کا دروازہ ہر اس شخص کے لئے اب بی کھلا ہے جو یوسف کی طرح بےداغ سیرت کا مالک ہو اور جو دیانت و امانت کی بہترین خوبیوں سے متصف ہو جسے کوئی بیرونی انگیخت اپنی منزل سے غافل نہ کرسکے ہم کسی نیکو کار کے اعمال کو ضائع نہیں کرتے۔
Ayah 12:57

وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 12:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور بدعملیوں سے بچتے رہے ان کے لیے تو آخرت کا اجر اس سے کہیں بہتر ہے

دنیا تو دنیا ہی ہے ہم تو آخرت کا اجر بھی دینے کو تیار ہیں کوئی لینے والا ہو ۔ 69 ہر اس شخص کے لئے صلائے عام ہے جس میں اولوالعزمی کا جوہر ہے ، نیکی کی صلاحیتیں ہیں ، مجھے راضی کرنے کے لئے ہر قسم کی تکلیفوں اور بد نامیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے کہ وہ بےجھجھک آگے چلا جائے۔ اس کے برہنہ سر کو عزت و کرامت کے تاج سے ضرور سرفراز فرما دیا جائے گا اور دنیا میں جاہ و جلال بخشنے کے علاوہ ہم قیامت کے روز بھی اسے اپنی ابدی رحمتوں سے مالا مال فرما دیں گے اور اہل ایمان وتقویٰ کے لئے آخرت میں جو انعام ہے وہ دنیا کی ہر دولت و نعمت سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا اقتدار بھی نیکو کاروں کا اصل صلہ نہیں ہو سکتا۔