Ayah 12:100یوسف نے اپنے والدین کو تخت شاہی پر جگہ دی اور سب لوگوں نے رسم آداب ادا کی
۔ 116 اس وقت مصر کا دارالسلطنت رعمسیس تھا اور وہ ” جشن کا شہر “ کہلاتا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) اپنے والد اور تمام خاندان کو بڑے کرو فر کے ساتھ شاہی سواریوں میں بٹھا کر جاہلی رسومات سے بچتے ہوئے شہر میں لائے اور شاہی محل میں اتارا۔ جب ان تمام باتوں سے فراغت پائی تو اب ارادہ کیا کہ دربار منعقد کریں تاکہ مصریوں کا بھی بزرگ باپ اور دوسرے خاندان سے تعارف ہوجائے اور تمام درباری ان کی عزت و احترام سے آگاہ ہوجائیں۔ دربار منعقد ہوا تمام درباری اپنی مقررہ نشستوں پر بیٹھ گئے یوسف کے حکم سے ان کے والدین کو تخت شاہی پر جگہ دی گئی اور باقی تمام خاندان نے حسب مراتب جگہ پائی۔ جب یہ سب انتظامات مکمل ہوگئے تب یوسف (علیہ السلام) بھی شاہی محل سے نکل کر تخت کی طرف بڑھے اور سارے لوگ آداب شاہی بجا لائے اور ان سب کے ساتھ برادران یوسف بھی ان آداب لانے والوں میں موجود تھے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر تمام خاندان یوسف نے بھی آداب ادا کئے۔ یوسف کو اپنے بچپنے کا خواب یاد آگیا۔
یوسف نے اپنے والد سے مخاطب ہو کر کہا ابو یہی میرے اس خواب کی تعبیر ہے
۔ 117 سجدہ سے ہر جگہ اصطلاحی سجدہ ہی مراد نہیں ہوتا اس بات کی مکمل تشریح پیچھے گزر چکی ہے بلکہ یہاں محض شاہی آداب بجا لانا ہے خواہ زمانے کے لحاظ سے بدلتے رہے ہوں جیسے سلوٹ مارنا ، جھک کر سامنے زمین کے قریب جانا ، صاحب اقتدار کے منہ پر ہاتھ لگا کر چومنا ، پیشانی چومنا وغیرہ اس وقت جو شاہی اداب کا طریقہ تھا اور ظاہر ہے کہ وہ کوئی ناجائز صورت سے نہیں ہوگا۔ اس صورتحال کے پیش نظر یوسف (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ ” اے ابو جان ! یہ ہے وہ خواب کی تعبیر جو ایک بہت عرصہ کے بعد اللہ نے اس کو پورا کردیا۔ “ اور اس کے بعد اپنی گزشتہ زندگی کے حالات کی طرف اشارہ کرنے لگے چناچہ فرمایا کہ اللہ نے میرے ساتھ کتنا احسان کیا جب مجھے قدس خانہ سے نکالا تھا جہاں سے نکلنے کی کوئی توقع نہیں کی جاسکتی تھی اور اس طرح آپ سب کو کنعان کے دیہات سے اٹھا کر مصر جیسے شہر میں آباد کیا اس کے بعد جب کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں اختلاف ڈال دیا تھا غور کرو کہ اول تو آپ نے اس معاملہ کو جو شیطان کی طرف منسوب کردیا کہ بھائیوں کے طبائع پر اس کا بوجھ نہ پڑے گویا یہ شیطان کا ایک فتنہ تھا ورنہ میرے بھائی ایسا کیوں کرتے ؟ پھر سارے معاملہ کو محض ایک طرح کے اختلاف سے تعبیر کیا تاکہ اصل واقعہ کی شناعت کم ہوجائے پھر جتنا کچھ بھی ہونا ظاہر کیا وہ اس طرح پر کیا کہ مجھ میں اور میرے بھائی میں اختلاف پڑگیا تھا۔ “ گویا یہ بھائیوں کا بلاوجہ جورو و ستم نہ تھا کوئی ایسی بات تھی جیسے بھائیوں میں باہم دگر پشو آ جایا کرتی ہے اور دونوں جانبوں کو اختلاف کے وجود میں دخل ہوتا ہے لوگ دخل انداز ہونے کے باوجود اپنا دخل نہ ہو۔ حقیقت حال سے اللہ واقف ہے۔
ذرا غور کرو کہ عفو و بخشش کا وہ کیسا مقام ہے ، ہمت کا وہ کیسا علو ہے ، ظرف کی وہ کیسی پہنائی ہے ، خلق کی وہ کیسی عظمت ہے جو دشمنی کرنے والوں کے ساتھ ایسا سلوک کرسکتی ہے ؟ اور جس سیرت کا یہ حال ہو اس کے لئے فضیلت کی اور کونسی بات باقی رہ گئی ؟
شنیدم کہ مردان راہ خدا دل دشمناں ہم نہ کروند تنگ !
ترا کے میسر شود ایں مقام کہ باد و ستانت خلاف است و جنگ
مظلومی و بےچارگی کی حالت میں صبر کرلینا بلاشبہ ایک بڑائی ہے لیکن طاقت و اختیار کی حالت میں بدلہ نہ لینا اور بخشش دینا سب سے بڑی بڑائی ہے ولمن صبرو غفران ذلک لمن عزم الامور (الشوری 42 : 43) ” البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے تو یہ بڑی اوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔ “ اور اس سیرت یوسفی کی عظمت میں دونوں مقام جمع ہوگئے جب بیچاری تھی۔ تو اف تک نہ تھی اور جب طاقت ملی تو انتقام کا وہم و گمان بھی نہ گزرا اور بلاشبہ یہ اس زندگی کا سب سے بڑا اسوئہ حسنہ ہے۔
بلاشبہ میرا پروردگار ہر ہونے والے کام کی تدبیر کرنے والا ہے اور وہ حکیم کل ہے
۔ 118 یوسف (علیہ السلام) نے احسانات الٰہی کا اعتراف کرنے کے بعد فرمایا میرا اللہ ! اپنے بندوں کے ساتھ لطیف اور لطیف وہ ہے جو اپنے احسانات کو بڑی نرمی سے دوسروں تک پہنچائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات علم و حکمت کی جو خصوصی جلوہ نمائی اس قصہ سے ہو رہی ہے وہ کسی غور و فکر کرنے والے پر مخفی نہیں اس کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ جو چاہے آن واحد میں ظہور پذیر ہوجائے اگر وہ چاہتا تو حضرت یوسف کو ان آزمائشوں میں مبتلا کئے بغیر مدارج عالیہ پر فائز کردیتا اس کی قدرت کے سامنے یہ کھچ بعید نہ تھا لیکن اس کی حکمت ؟ حکمت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔ ان بلند مراتب تک پہنچنے کے لئے ان تمام مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جن سے حضرت یوسف گزرے۔ انسان کی صلاحیتیں بیدار ہی تب ہوتی ہیں جب انہیں بےرحم طوفانوں سے دوچار کیا جاتا ہے۔ صحیح تربیت کے لئے زندگی کے سارے نشیب و فراز سے گزرنا ضروری ہے۔ حضرت یوسف کی ذات کو ایک مثالی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور رضائے الٰہی کی منزل کے مسافر کو جس قسم کے لوگوں ، جس قسم کے حالات اور جس قسم کی رکاوٹوں سے واسطہ پڑتا ہے ان کو بڑے دلنشین انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ قدم قدم پر یہ تنبیہہ سنائی دیتی ہے کہ اے مالک راہ حق ! تیری منزل بڑی دور ہے ، اس کی راہ بڑی کٹھن ہے۔ اس میں حائل ہونے والی رکاوٹیں بڑی حوصلہ شکن ہیں گہرے اور خوفناک غار منہ کھولے تیرا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ تجھے منزل سے غافل کرنے کے لئے فردوس بداماں وادیاں ہیں جن کے درختوں کے سائے بڑے گھنے اور ٹھنڈے ہیں جن میں کھلنے والے پھول بڑے خوبصورت اور خوشبودار ہیں د۔ اس کا ہر منظر بڑا دلکش اور دل ربا ہے بھلا دیکھیں تیری ہمت کو کہ تو کس طرح کانٹوں سے الجھتا ہوا ، چٹانوں کو روندتا ہوا ، پہاڑوں کو پھلانگتا ہوا اور ان جنت نظیر وادیوں ، دل کش مناظر سے دامن بچاتا ہوا اپنی منزل کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے اگر کسی راحت نے تجھے اپنی منزل سے غافل کردیا یا کسی ہوش ربا حادثہ کی وجہ سے تو دل برداشتہ ہوگیا تو تیرا نام اس منزل کے مسافروں کی فہرست سے خارج کردیا جائے گا۔ یہاں تو ایک لمحہ کی غفلت بھی قیامت برپا کردیتی ہے۔
رختم کہ خاک از پا کشم محل نہاں شد از نظر ٭ یک لحظہ غافل بودم و صد سالہ منزل دور شد
اپنے مقبول بندوں کو سرفراز کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے جس میں ان گنت حکمتیں ہیں۔ اس منزل کا عزم کرنے سے پہلے طلب صادق کے ساتھ صبر و شکیب کی زاد اور امید کا نہ بجھنے والا چراغ ہاتھ میں لینا شرط اول والی آنکھ ہی دراصل آنکھ بینا کہلاتی ہے۔
Ayah 12:101یوسف دست بددعا ہیں اور رب ذوالجلال والا کرام سے پوری طرح ملتجی
۔ 119 یوسف (علیہ السلام) اپنی داستان اور اپنے تذکرہ کا اختتام اس طرح کرتے ہیں کہ اے میرے پروردگار ! اے میرے رزق دینے والے ، اے میرے خلاق ومالک رب ! جن نعمتوں سے تو نے مجھے اس دنیوی زندگی میں نوازا اور سرفراز فرمایا ان میں سے کوئی ایک نعمت بھی میں نے تجھ سے طلب نہیں کی تھی۔ مجھ پر جو جو احسانات و انعامات تو نے کئے وہ سب کے سب مجھ پر بن مانگے اور طلب کئے عنایت کئے اور بلاشبہ بات یہی حق ہے کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو جو کچھ دیا وہ بن مانگے دیا کیونکہ یہ سب کچھ یوسف مانگ ہی کب سکتا تھا ؟ غور کرو کہ قرآن کریم میں باپ اور بھائی آ کر ان کے سامنے آداب شاہی بجلا لائیں لیکن اب وہ پیکر تسلیم و رضا اپنا دامن پھیلا رہا ہے دیکھنا چاہئے کہ جو آج تک بےطلب مناجات سے شاد کام ہوتا رہا ہے وہ آج کس نعمت کے لئے زبان سوال کھول رہا ہے۔ پھر اس سے پہلے ایک اور امر توجہ طلب ہے کہ وہ مانگ کس شان سے رہا ہے ؟ اس کے سوال کرنے کا انداز کیا ہے ؟ آئیے آپ بھی یہ سیکھیے کہ انسان اپنے خداوند کریم سے مانگے تو کیا مانگے اور مانگے تو کیسے مانگے ” رب قد اتیتنی “ سے دعا کا آغاز ہے آپ ان احسانات اور انعامات کا اعتراف کر رہے ہیں جن سے آپ کو اب تک بہرہ ور کیا گیا ” فاطر السموات “ سے اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا بیان ہے ” انت ربی “ سے اپنی بےبسی کا اظہار کیا کہ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو ہی میرا کار ساز ہے ، تیرے سوا میرا کوئی نہیں۔ ایسی حمد وثناء ، ایسی تمجید وتحمید اور ایسے اظہار بےبسی کے بعد مانگا تو کیا مانگا۔ ” توقنی مسلما و الحقنی بالصالحین “ میرے ملویٰ اس دنیا سے جب میری روانگی کا وقت آئے تو میں اس حال میں یہاں سے روانہ ہوں کہ زبان تیری توحید کا اعتراف کر رہی ہو ، دل تیری عظمت وکبریائی کے گیت گا رہا ہو اور سر تیرے حضور میں جھکا ہوا ہو ، تیری نافرمانی کا کوئی داغ میرے دامن حیاۃ کو بدنما نہ کر رہا ہو۔ اس طرح یہاں سے میری روانگی ہو اور اس کے بعد اپنے صالح بندوں کے ساتھ مجھے ملا دے مجھے ان کی سنگت اور رفاقت نصیب فرما۔ یہ ہے مرد حق اندیش کی وہ منزل جس کے لئے وہ ساری عمر مصروف عمل رہا اس کا سوز و ساز ، اس کا پیچ و تاب اس کے لئے تھا اس نے رہتی دنیا تک کے لوگوں کو اپنی لازوال ہدایات کی طرف راہنمائی کی اور آج بھی جو اس نقش قدم پر چلے گا اس کے دھن میں وہ دن کو بےقرار اور رات کو بےچین رہے گا۔ پھر اس منزل اور اس راہ کا قیدی بنانے کے لئے قرآن کریم آیا۔ اس منزل کی لگن پیدا کرنا اسلام کا مقصد وحید ہے اور اس منزل کی طرف لے جانے کے لئے رحمت للعالمین ﷺ کی تشریف آوری ہوئی۔ اللھم صل وسلم دائماً دائماً ۔
Ayah 12:102یہ غیب کی خبریں ہیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہیں ، آپ کو ان کا علم نہیں تھا
۔ 120 فرمایا اے میرے رسول ! یہ ساری خبریں جو اس قصہ کی صورت میں آپ کو سنائی گئیں یہ سب کی سب غیب ہی کی خبریں تو ہیں جن کو نہ تو آپ ہی جانتے تھے اور نہ ہی آپ کی قوم جانتی تھی۔ یہ تو یہود کے اکسانے پر مشرکین مکہ نے آپ سے دریافت فرما لی تھا۔ اب جب کہ ان کی یہ خواہش پوری کردی گئی اور آپ کی زبان مبارک سے ان کو یہ قصہ بتمامہ سنا دیا گیا تو انصاف کا تقاضا تو یہی تھا کہ وہ بےخود ہو کر اس میدان میں کود آتے اور نعرئہ توحید بلند کرتے اور آپ پر اے نبی اعظم و آخر ﷺ ایمان لے آتے لیکن وہ تو اپنے کفر پر بضد رہے آپ کو اے میرے رسول ! ان کے اس عمل سے تکلیف پہنچی تو اس کا مداوا بھی رب ذوالجلال والا کرام ضرور کرے گا۔ بلاشبہ آپ اس وقت ان کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ یوسف کے ساتھ مخفی چالیں چل رہے تھے لیکن غور و فکر کرو کہ ان کی چالوں کا نتیجہ کیا نکلا ؟ اچھا آج یہ لوگ یعنی قریش بھی آپ کے لئے انیف چالوں اور انہی زیادتیوں کا ارتکاب کر رہے ہیں تو کیا یوسف کے مقابلہ پر آنے والوں کو سزا دینے والا اب مر چکا ہے ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو وہ ان کو بھی قرار واقعی سزا دے گا۔
Ayah 12:103آپ کتنا بھی چاہیں لیکن سنت اللہ یہی ہے کہ اکثر ماننے کی نہیں ، یہی ہوا اور یہی ہو گا
۔ 121 اے میرے رسول ! یاد رکھو کہ ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں چاہے آپ کتنی بھی ان کیا یمان لانے کی حرص رکھتے ہوں اس لئے بہتر یہی ہے کہ آپ توقع ہی نہ رکھئے کہ ان تمامتر صحیح اخبار بالغیب کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لے آئیں گے مطلب یہ ہے کہ یہود وغیرہ تو آپ کے امتحان کے لئے آپ سے اس قصہ کی فرمائش کر رہے تھے اب آپ نے بغیر کسی ظاہری و مادی ماخذ کے جو صحیح و مستند قصہ اول سے آخر تک انہیں سنا دیا ! تو چاہئے تو یہ تھا کہ یہ فوراً آپ کے صاحب وحی ہونے پر ایمان لے آتے اور اس بات کا اعلان کردیتے کہ ہم ان باتوں کو سن لینے کے بعد مان چکے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ لیکن انہوں نے ایسا کیا ؟ نہیں تو بس اب ان سے کوئی توقع نہ رکھئے آپ کتنی ہی حرص رکھتے ہوں یہ لوگ ایسا قدم اٹھانے کے لئے کبھی تیار نہیں ہیں کیونکہ ان کے اندر خلوص نام کی کوئی چیز نہیں۔
Ayah 12:104قرآن کیا ہے ؟ نصیحت ہی تو ہے پھر آپ اس نصیحت پر ان سے کچھ طلب ہی نہیں کر رہے ؟
۔ 122 اس میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے سراسر غیب کی باتیں ہی تو ہیں۔ اگر وحی الٰہی کا فیضان نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ اس واقعہ کی ایک ایک جزئیات پر تم اے پیغمبر اسلام ! مطلع ہوتے اور پھر اس کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش کرتے ۔ یہ ظاہر ہے کہ واقعہ آپ سے دو ہزار سال پہلے کا ہے اور دنیا میں گزشتہ واقعات کے علم و سماعت کے جتنے وسائل ہو سکتے ہیں ان میں سے کوئی وسیلہ بھی آپ کے لئے موجود نہیں اور اگر موجود بھی ہو تو یہ قطعی ہے کہ اس باب میں کچھ مفید نہیں ہو سکتا۔ لیکن کیا منکرین حق آپ کی سچائ کی یہ دلیل دیکھ کر ایمان لے آئیں ؟ نہیں ، تم کتنا ہی چاہو جو ماننے والے نہیں وہ کبھی بھی ماننے والے نہیں۔ گویا اس کے اندر دنیا بھر کی نفع کی چیزیں جمع ہیں کوئی ذرا طلب کر کے تو دیکھے۔
Ayah 12:105اے پیغمبر اسلام ! آسمان و زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جو دیکھ کر لوگ گزر جاتے ہیں
۔ 123 کائنات کیا ہے ؟ سراسر حقیقت کی نشانی ہی تو ہے غور کرو کہ آسمان و زمین کا کونسا گوشہ ہے جو اس کی نشانیوں سے خالی ہے لیکن ان پر یہ لوگ کبھی توجہ نہیں کرتے اور نہ ہی ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ان نشانیوں سے مراد کیا ہے ؟ مراد توحید الٰہی پر اور قدرت الٰہی پر دلالت کرنے والے واقعات و حوادث کائنات ہیں کہ وہ واقعات ، حوادث ان منکرین آخرت کے علم و مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں اور شب و روز انسان کو دعوت فکر و عبرت دے رہے ہیں لیکن بایں ہمہ بندگان غفلت کا کیا حال ہے ؟ یہ ہے کہ بس ان پر سے گزر جاتے ہیں اور نگاہ اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔
قرآن کریم نے اس جگہ اور دوسرے کتنے ہی مقامات میں آسمان و زمین کی نشانیوں پر توجہ دلائی ہے اور ان کے مطالعہ و تشکر کو معرفت حق کا سرچشمہ ٹھہرایا ہے اور یہی بات اس کے تمام استدلال کا مبداء و اساس ہے چناچہ گزشتہ سورتوں کے اندر بھی اس طرح کے اشارات گزر چکے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے۔
Ayah 12:106ان میں کتنے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں لیکن پھر بھی شرک کرتے ہیں
۔ 124 دعوائے ایمان اور شرک باللہ ! چہ معنی دارد ؟ مطلب یہ ہے کہ آخرت کے منکر تو کثرت سے ہیں ہی لیکن باقی جو لوگ انکار خدا نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموماً حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں اور دوسری طرف سے اس کے شریک اس کے بندوں میں سے بھی قرار دیتے چلے جاتے ہیں حالانکہ یہی بات ہے جو صاف صاف الوہیت کے منافی ہے مشرکوں اور جاہل مشرکوں کا جو انجام ہوتا ہے اسے چھوڑیئے خود ہماری قوم کے ” اہل قبور “ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ مزارات و مقابر سے بالکل اسی عقیدت کا معاملہ رکھنا ، ان پر چادریں چڑھانا ، ان پر نذیر ماننا ، نفع و نقصان انہیں سے وابستہ جاننا یہ سب کا سب کہیں ان کو اس آیت کی زد میں تو نہیں لے آتا۔ زیر نظر آیت کے پانچ چھ لفظوں میں وہ سب کچھ بیان کردیا جو باب توحید میں قرآن کریم کا ماحصل ہے فرمایا اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا کی ہستی پر یقین بھی رکھتے ہیں اور ساتھ ہی دوسروں کو اس کا شریک بھی ٹھہراتے ہیں یعنی ان کا اللہ کو ماننا ایسا ماننا نہیں ہے جو شرک سے انہیں باز رکھے۔ دنیا کی تمام قوموں کی دینی ذہنیت کی یہ کیسی ممکن تعبیر ہے جو چند لفظوں کے اندر بیان کردی گئی ہے ؟ نزول قرآن کے وقت دنیا کی تمام توحید پرست جماعتوں کی توحید کا یہی حال تھا اور اب بھی دیکھو تو یہی حال ہے۔ وہ خدا پر ایمان رکھتے تھے لیکن ان کا ایمان طرح طرح کے مشرکانہ عقائد و اعمال سے آلودہ ہوگیا تھا۔ وہ نہیں سمجھتے تھے کہ ایمان صحیح کے ساتھ شرک جمع نہیں ہو سکتا۔ عرب کے بت پرستوں اور شخصیت پرستوں کو بھی اس سے انکار نہ تھا کہ آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ولن سالتھم من خلق السموات والارض و سخر الشمس والقمر ؟ یقولون للہ فانی یوفکون (العنکبوت 29 : 61)
اے پیغمبر اسلام ! اگر آپ ان سے پوچھیں کہ زمین و آسمان کو سک نے پیدا کیا ہے اور چند اور سورج کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے پھر یہ خود کدھر دھکے کھا رہے ہیں۔ ) لیکن یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کیوں صرف اس کی ایک ہستی ہر طرح کی بندگیوں کی مستحق سمجھ لی جائے ؟ کیوں دوسری ہستیوں کی بھی بندگی نہ کی جائے ؟ کیوں خدا اور بندے کے درمیان کوئی درمیانی قوت وسیلہ تقرب و تزلف نہ ہو ؟
لیکن قرآن کریم کی دعوت توحید یہ تھی اور ہے کہ اس طرح کی خدا پرستی سچی خدا پرستی نہیں ہے۔ سچی خدا پرسی یہ ہے کہ نہ صرف اسے مانا جائے بلکہ جو کچھ اس کے لئے مانا جائے اس میں کسی دوسری ہستی کو شریک نہ کیا جائے۔ اس نے کہا ہر طرح کی بندگی و نیاز کی مستحق صرف اس کی ذات ہے پس اگر تم نے عابدانہ عجز و نیاز کے ساتھ کسی دوسری ہستی کے سامنے سر جھکایا تو سچی خدا پرستی باقی نہ رہی۔ اس نے کہا دعا ، استعانت ، رکوع ، سجود ، عجز و نیاز ، اعتماد و توکل اور اس طرح کے تمام عبادت گزارانہ اور نیاز مندانہ اعمال وہ اعمال ہیں جو خدا اور اس کے بندوں کا باہمی رشتہ قائم کرتے ہیں۔ پس اگر ان اعمال میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا تو خدا کے رشتہ عبدیت کی یگانگت باقی نہ رہی اور پھر جب یگانگت باقی نہ رہی تو سچی خدا پرستی بھی باقی نہ رہی۔ اسی طرح عظمتوں ، کبریائیوں ، کار سازیوں اور بےنیازیوں کا جو تصور تمہارے اندر خدا کا اعتقاد پیدا کرتا ہے وہ صرف خدا ہی کے لئے مخصوص ہونا چاہئے اگر تم نے ایسا ہی اعتقاد کسی دوسری ہستی کے لئے پیدا کرلیا تو تم نے اسے خدا کا شریک مانل یا اور جب شریک مان لیا تو پھر صرف اس کو نہیں مانا دوسروں کو بھی مان لیا حالانکہ اس کے ماننے کے معنی تو یہ تھے کہ صرف اسی کو مانا جائے۔
Ayah 12:107کیا یہ لوگ اللہ کا عذاب چاہتے ہیں کہ وہ اچانک ان کو گھیرے میں لے لے
۔ 125 مطلب بالکل واضح ہے کہ جب ہر کفر فی نفسہ سزا و عقوبت کا مستحق و مستوجب ہے خواہ فوراً خواہ بتا خیر لیکن یہ شامت زدہ آخرت فراموش نفس سزا ہی کی طرف سے غافل اور بےفکر پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی ان کا عذاب الٰہی سے اس طرح بےخوف ہو کر کفر و شرک اور فسق و فجور میں مشغول رہنا بڑے تعجب اور افسوس کی بات ہے اگر اس بیخبر ی کے عالم میں ان پر عذاب الٰہی آگیا یا قیامت قائم ہوگئی تو پھر ان کا کیا بنے گا۔ یہ کہاں سر چھپائیں گے ؟
Ayah 12:108اے پیغمبر اسلام ! اپنی راہ کی وضاحت فرما دو کہ میری دعوت خالصتاً توحید کی دعوت ہے
۔ 126 زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ اے پیغمبر اسلام ! تم اعلان کر دو میری راہ یہ ہے کہ میں علم و یقین کی بنا پر خدا پرستی کی دعوت دیتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ میری راہ شرک کرنے والوں کی راہ نہیں ہے۔ برخلاف اس کے تمہارا حال یہ ہے کہ شرک کے داعی ہو اور بنیاد دعوت علم و یقین پر نہیں ہے۔ جہل و ظن پر ہے اب فیصلہ اللہ کے ہاتھ ہے اور ایسے ہی فیصلے پچھلی قوموں کے لئے بھی ہوچکے ہیں۔
یہاں ” بصیرۃ “ کا لفظ فرمایا بصیرۃ کے معنی علم ، معرفت اور یقین کے ہیں اور اسی لئے دلیل و حجت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے پس قرآن کریم کہتا ہے میں جس راہ کی طرف بلاتا ہوں اس کے لئے میرے سامنے علم و یقین ہے پھر کیا تمہارے پاس بھی علم و یقین میں سے کچھ ہے ؟ اگر نہیں ہے تو اتباع یقین و عرفان کا کرنا چاہئے یا جہل و کو ری اور شک و گمان کا ؟
Ayah 12:109جب کوئی رسول آیا تو وہ انسان ہی تھا اور اسی قوم ہی میں سے تھا
۔ 127 نبی و رسول بنا کر سج کو بھی بھیجا گیا وہ بشر اور انسان ہی تھا۔ بشریت پیغمبری کے منافی ہو کیسے ممکن ہے ؟ بلکہ پیغمبر و رسول جو انسانوں کی راہنمائی کے لئے بھیجے گئے سارے کے سارے انسان ہی تو تھے اگر وہ انسان نہ ہوتے تو انسانوں کی طرف سے بالکل سیدھا اعتراض ہوتا کہ جو پابندیاں ہم پر لگائی جا رہی ہیں وہ محض اس لئے ہیں کہ ہمارا رسول اور پیغام دینے والا ان پابندیوں میں جکڑا ہوا نہیں ہے اور اگر وہ بھی کھاتا پیتا اور اس کے بھی بال بچے ہوتے اس کو بھی کما کر کھانا پڑتا اس کے ساتھ بھی دکھ سکھ اور مصائب و محن ہوتے تو وہ ہم کو ان پابندیوں کا کیوں پابند کرتا ؟ اس لئے اللہ نے آج تک جتنے رسول بھیجے وہ اسی قوم سے بھیجے جس قوم میں وہ بھیجے گئے تاکہ وہ قوم کے لوگوں کو اچھی طرح جانے پہچانے اور قوم ان کو اچھی طرح جانتی پہچانتی ہو کیا اتنی موٹی سی حقیقت بھی ان مشرکوں کے ذہن میں نہیں آتی ؟ مشرک کیوں مشرک ہوتا ہے ؟ اس لئے کہ وہ تقلید اور شخصیت پرستی کا عادی ہوتا ہے عقل و بصیرت سے کام لینا وہ حرام سمجھتا ہے ؟ زیر نظر آیت سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں :
ایک یہ کہ نبی و رسول ہمیشہ آبادی والی بستیوں میں سے ہوئے ہیں نہ کہ بےتعلق خانہ بدوش جرگوں ، قبیلوں میں سے من اھل القریٰ لم یبعث رسولا من اھل البادیۃ (کبیر) من اھل القریٰ یعنی من اھل الا مصاردون اھل البداوی (ابن جریر)
دوسری یہ کہ رسول ہمیشہ مردوں ہی میں سے رہے ہیں کوئی عورت کبھی مرتبہ رسالت پر فائز نہیں ہوئی جیسا کہ یہاں ارشاد فرمایا وما ارسلنا من قبلک الا رجالاً نوحی الیھم من اھل القریٰ ۔
” کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھا۔ “ یعنی ان معاندین و منکرین میں سے وہ لوگ موجود نہیں جو پچھلی سرکش اور نافرمان قوموں کے کھنڈروں پر گزرنے سے عبرت کا سبق حاصل کرسکتے اور یہی مقصد کسی حد تک اب تاریخوں کے مطالعہ سے بھی حاصل ہو سکتا ہے اور مقصد اگرچہ عبرت و تذکیر ہو تو سیاحت عالم اور علم آثار قدیمہ سے اشتعال بھی ایک عبادت ہوئی۔
” اور جو لوگ بچتے ہیں یقینا آخرت کا گھران کے لئے کہیں بہتر ہے کیا تم سمجھتے بوجھتے نہیں۔ “ قرآن کریم کا قاری اگر قرآن کریم کو غور و فکر سے پڑھنے کا عادی ہے تو یقینا وہ یہ بات جانتا اور اچھی طرح سمجھتا ہے کہ قرآن کریم مخاطب ہی ان لوگوں کو کرتا ہے جو عقل و بصیرت اور فہم و فراست سے کام لینے کے عا ادی ہوتے ہیں اور جو لوگ عقل و بصیرت سے عاری ہوں قرآن کریم کبھی ان سے بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہوا لیکن افسوس کہ ملائیت نے خواہ وہ کسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہو عقل و بصیرت سے کامل لینا حرام سمجھا ہے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ قرآن کریم کا اور سنت رسول کا نام تو استعمال کیا ہے کہ وہ ان کی مجبوری تھی کہ وہ کبھی ایک دوسرے سے جدا ہو ہی نہیں سکتے۔ عقل و بصیرت کو الگ کردیا جائے تو کتاب و سنت ایک ڈھانچہ ہوگا جس میں روح نہیں ہوگی اور کتاب و سنت کو الگ کردیا جائے تو عقل و بصیرت اہل نظر سے غائب ہوجائے گی اور وہ سوائے اس کے کہ نام استعمال کرتے رہیں ان کے ہاتھ وہ کبھی بھی نہیں لگے گی جس طرح بغیر جسم کے روح کسی کے کام نہیں آسکتی الایہ کہ اس کا نام لے لے کر دکانیں سجانے اولے دھوکا و فریب دے کر قوم سے دام بٹورتے رہیں۔
Ayah 12:110انبیاء کرام کی دعوتوں کو قوموں نے اکثر جھٹلایا کہ وہ قوموں سے مایوس ہو گئے
۔ 128 زیر نظر آیت کا ترجمہ اور تفسیر میں مفسرین نے بہت حد تک اختلاف کیا لیکن اختلاف کے باوجود بہت کم لوگ حقیقت کو سمجھ سکے اور اکثر اس کا مطلب سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ چناچہ اس آیت کے ایک دو ترجمے مزید درج کئے دیتا ہوں تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔
” یہاں تک کہ جب ناامید ہوئے پیغمبر اور گمان کیا انہوں نے یہ کہ ان سے لوگوں نے تحقیق جھوٹ بولا ، آئی ان کے پاس مدد ہماری۔ پس نجات دیا گیا جو شخص کہ چاہتے تھے ہم اور نہیں پھیرا جاتا عذاب ہمارا قوم گنہگار سے۔ “ (شاہ رفیع الدین (رح))
” یہاں تک پیغمبر (اس بات سے) مایوس ہوگئے اور ان پیغمبروں کو گمان غالب ہوگیا کہ ہمارے فہم نے غلطی کی ان کو ہماری مدد پہنچی پھر (اس عذاب سے) ہم نے جس کو چاہا وہ بچالیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا۔ ) (اشرف علی تھانوی)
” یہاں تک جب ناامید ہونے لگے رسول اور خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا ، پہنیچ ان کو ہماری مدد پھر بچا دیا جن کو ہم نے چاہا اور پھرتا نہیں عذاب ہمارا قوم گنہگار سے۔ “ (شاہ عبدالقادر (رح))
اس کی جو تفسیر کی گئی وہ یہ ہے کہ ” یہاں تک کہ “ مدت دراز تک ان پر عذاب نہ آنے سے ” پیغمبر “ یہ خیال کر کے ” مایوس ہوگئے “ کہ اللہ تعالیٰ کے اجمالی وعدئہ عذاب کا جو وقت ہم نے اپنے انداز سے اپنے ذہنوں پر مقرر کر رکھا تھا اس وقت میں کفار پر عذاب نہ آئے گا اور حق کا غلبہ ظاہر نہ ہوگا اور ان پیغمبروں کو ” گمان غالب ہوگیا “ کہ وعدئہ الہیہ کا اپنے انداز سے وقت مقرر کرنے میں ” ہماری فہم نے غلطی کی ہے “ کہ اللہ تعالیٰ نے تو کوئی معین وقت بنایا نہیں تھا ہم نے مخصوص قرائن سے ایک مدت معین کرلی تھی اس مایوسی کی حالت میں ” ان کو ہماری مددپہنچی “ وہ یہ کہ وعدے کے مطابق کفار پر عذاب آیا ” پھر اس عذاب سے ہم نے جس کو چاہا اس کو بچالیا گیا۔ “ مراد اس سے یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ماننے والے مومنین کو بچالیا گیا اور کفار ہالک ہوئے کیونکہ ” ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے نہیں ہٹتا۔ “ بلکہ ضرور آ کر رہتا ہے۔
غور کرو کہ ” مایوس کون ہوا ؟ “ رسل۔ کس سے مایوس ہوئے ؟ اللہ سے۔ کیوں مایوس ہوئے ؟ عذاب میں تاخیر ہوگئی۔
رسل ، اللہ سے مایوس ہوئے اس لئے کہ عذاب الٰہی میں تاخیر ہوگئی۔ رسل اور اللہ سے مایوسی ؟ ذرا سوچ لو ، غور کرلو ، سمجھ لو۔
انہ لابیاس من روح اللہ الا القوم الکفرین (یوسف 12 : 87) ولا تبسوا من روح اللہ (یوسف 12 : 87) رسولوں کا اللہ سے مایوس ہونا کسی حال میں بھی کسی وقت بھی خواہ وہ ایک ساعت ہی کیوں نہ ہو ممکن نہیں۔ جیسا کہ نبی و رسول کا مشرک ہونا ممکن نہیں ، کافر ہونا ، جھوٹ بولنا ممکن نہیں۔ فریب دینا ممکن نہیں۔ نبی و رسول کا کسی پر بہتان باندھنا ممکن نہیں۔ پھر آیت کے معنی کیا ہوئے ؟ اور مفہوم کیا ؟
سمجھ لینا چاہئے کہ رسولوں کے مایوس ہونے کا مطلب کیا ہے ؟ ظنوا کا فاعل کون ہے ؟ انھم کا مرجع کون ہے اور اس طرح قدکذبوا کا نائب فاعل کون ہے ؟ یاد رکھیں کہ انبیاء و رسل اللہ تعالیٰ سے کبھی مایوس نہیں ہوئے تھے بلکہ اللہ کے بندوں کے لئے بھی یہ لازم ہے کہ حالات خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہوں کبھی اللہ سے مایوس نہ ہوں۔ ظاہر ہے کہ انبیاء و رسول نے اپنی اپنی امتوں اور قوموں کو توحید کی دعوت دی اور اس کی صداقت پر دلائل وبراہین پیش کئے اور کتنے نشانات بھی اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کو دکھائے اور دعوت و ارشاد کا یہ سلسلہ سال دو سال نہیں سالہا سال تک چلتا رہا تب بھی ان قوموں اور امتوں کے دلوں میں ایمان کی شمع فروزاں نہ ہوئی تو انبیاء و رسل ان کے ایمان لانے سے مایوس ہوگئے۔
” ظنوا “ کا فاعل لوگوں سے انبیاء کرام اور رسل عظام کو بتایا ہے اور اس کا ترجمہ و مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ انبیاء کرام نے یہ ظن کیا کہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کی نصرت اور کفار پر عذاب نازل کرنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ ایفا نہ کیا گیا (خاکم بدہن کہ ایسا کبھی ہم خیال بھی کریں) لیکن اس طرح کا ظن انبیائے کرام کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں اسلئے بات بالکل واضح اور صاف ہے کہ ظنوا کا فاعل وہی قوموں اور امتوں کے لوگ ہیں۔ اس طرح انھم کا مرجع اور کذبوا کا نائب بھی وہی قوم ہے۔
گویا ہر رسول اپنی قوم سے مایوس ہوا کہ اتنا عرصہ عرصہ درس و وعظ کیا لیکن یہ لوگ ہیں کہ ٹس سے مس بھی نہ ہوئے تو اب اتنی مدت جو گزر گئی کیا وہ خاک مسلمان ہوں گے اور دوسری طرف اس رسول کی امت و قوم کے لوگوں نے بھی اپنے اپنے رسول کے متعلق یہی گمان کیا کہ یہ رسول اثنائے تبلیغ بار بار وعدئہ الٰہی سناتا رہا کہ عذاب آئے گا لہٰذا ان کفار نے بھی یہی سمجھا کہ ان سے غلط بیانی کی گیء ہے اگر عذاب آنا ہوتا تو ہم نے تو مخالفت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اب تک کب کا عذاب آگیا ہوتا حالانکہ نہ ہم ایمان لائے اور نہ ہم عذاب آیا اس لئے کذبوا کا فاعل بھی کفار ہی ہوئے۔ پھر ایسا ہوا کہ اچانک ہمارے عذاب نے ان لوگوں کو آگھیرا اور ان کا یہ سارا بیان ، ظن اور گمان دھرے کا دھرا رہ گیا اور یہ بات تو پہلے طے ہے کہ جب ہمارا عذاب آجائے اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی وہ کسی کے ٹالے ٹلتا ہے۔