Ayah 12:21مصر میں یوسف کو خریدنے والے نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو عزت سے رکھو
۔ 26 یوسف کے متعلق اللہ تعالیٰ کی کار سازی اور معجزنمائی دیکھو کہ ایک بدوی اور وہ بھی غلام ، ایک متمدن اور صاحب شوکت و حشمت رئیس کے یہاں جب پہنچا تو اپنی معصومیت اور صمت مآب زندگی ، علم و وقار اور امانت و سلیقہ مندی کے پاک اوصاف کی بدولت اس کی آنکھوں کا تارا اور اس کے دل کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ دیکھو کتنا پیارا بچہ مل گیا ہے اس کے آرام و آرائش کا ہر وقت خیال رکھنا اس کی کسی طرح بھی دل آزادی نہ ہو۔ بلاشبہ اس کی شکل و صورت کسی شاندار مستقبل کی غمازی کر رہی ہے ، ہو سکتا ہے کہ کسی دن ہمارے لئے یہ مفید ثابت ہو یا ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔ اس عورت کا نام بعض روایات میں راعیل ہے اور مشہور یہ ہے کہ تلمود میں اس کا نام زلیخا ہے شاید اس سے ہمارے ہاں بھی وہ زلیخا کے نام سے مشہور ہوئی ہوگی۔
اس طرح ہم نے یوسف کو مصر میں پہلا ٹھکانا دیا اور خوابوں کی تعبیر سمجھائی
۔ 27 یوسف میں یہ پسندیدہ اطوار و اخلاق کہاں سے پیدا ہوگئے ؟ ایک بدوی نے کسی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور ایک غلام نے کسی مربی سے اس پاک طینت کو پایا ؟ یہ سب کچھ اللہ رب العزت صاحب جلال و جبروت نے سکھایا۔ غور کرو کہ ایسے ملک میں جہاں کسی کو یوسف کے عظیم خانواے کا علم تک نہ تھا جسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر مصر لایا گیا تھا جسے بیچنے والے بھی کوئی خاص رغبت سے بیچنے نہ آئے تھے کیونکہ ان کو مفت میں ہاتھ آیا تھا پھر وہ عام غلاموں کی طرح منڈی میں لایا گیا اور فروخت ہوا اس کے لئے اتنی عزت و آسائش کے سامان مہان فرما دینا مصری مملکت کے ایک عظیم رئیس کے دل میں اس کے لئے پدرانہ شفقت اور فدویانہ جذبہ پیدا کردینا یہ کس کا کام تھا ؟ رب ذوالجلال والا کرام کا۔ پھر فرمایا گیا کہ اس پر ” تاویل ال احادیث “ کے علم کی راہ بھی کھول دی جس کی خبر ستاروں والے خواب میں دی جا چکی تھی اور اس کی مزید تشریح آگے آئے گی۔
۔ 28 فرمایا ” اللہ کو جو معاملہ کرنا ہوتا ہے کر کے رہتا ہے “ غور کرو کہ یہ حقیقت کتنی واضح اور کتنی سچی ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کس طرح کر کے رہتا ہے ؟ بھائیوں نے یوسف کو نامراد کرنا چاہتا تھا لیکن انہوں نے جو کچھ کیا وہی اس کی فتح و فیروزی کا ذریعہ بن گیا۔ پھر دیکھو کہ مشکلات کا ہجوم مخالفتوں کے طوفان اسباب وسائل کا فقدان اس کے حکم میں وقوع پذیر ہونے میں رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ بھائیوں کی ساری سازشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یوسف ، کو جہاں پہنچانے کا ارادہ فرمایا وہ ہو کر رہا۔ عام لوگ ظاہری حالات پر نظر رکھتے ہوئے یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کام ناممکن ہے ان کے نگاہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت سے ناواقف ہوتی ہے اس لئے وہ شک میں مبتلا ہوتے ہیں روزانہ قدرت خداوندی کے سامنے کوئی چیز مشکل نہیں۔
Ayah 12:22یوسف جب جوانی کو پہنچا تو اس کو علم کی فراوانی اور وافر نیک عملی عطا کی گئی
۔ 29 جیسا کہ اوپر آپ پڑھ چکے ہیں فوطی فار نے یوسف کے ساتھ پہلے ہی روز سے غلاموں کا سا معاملہ نہیں کیا بلکہ اپنی اولاد کی طرح عزت و احترام کے ساتھ رکھا اور اپنی ریاست ، دولت و ثروت اور گھریلو زندگی کی تمام ذمہ داریاں اس کے سپرد کردیں اور ان سب کا امین بنا دیا گویا یوں سمجھئے کہ کنعان کے ایک گلہ بان کو آداب جہانداری اور جہاں بانی مکمل طور پر سکھا دیئے اس لئے کہ وہ ان ساری چیزوں کا امین بننے والا تھا۔
اللہ نے بچپن کی پہلی مصیبت یا آزمائش کنعان کی بدوی زندگی سے نکال کر تہذیب و تمدن کے گہوارہ ” مصر “ کے ایک بہت بڑے گھرانے کا مالک بنا دیا۔ غلامی میں آقائی اسی کا نام ہے۔ اس طرح آپ کی عمر کے تقریباً سات آٹھ سال یہاں گزر چکے اور آپ 21 , 20 سال کی عمر کو جو صحیح معنوں میں جسمانی بلوغت کی عمر ہے پہنچ گئے۔
” ہم نیک عملوں کو ایسا ہی بدلہ عنایت فرماتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ ایک عام و حکیمانہ اسلوب بیان کیا ہے کہ کسی جزئی اور مخصوص واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے معاً اپنا عام قانون بھی بیان کردیتا ہے چناچہ اس جگہ بھی ایسا ہی ہوا اور فرما دیا کہ یہ دینی و دنیوی اکرام و اعزاز یوسف کے خواص ذاتی میں سے نہ تھا بلکہ جو کوئی بھی ایمان و حسن عمل کو اپنا شعار بنا لے وہ ایسے انعامات سے سرفراز کیا جاتا رہا اور کیا جائے گا۔
Ayah 12:23۔ 30 یہ عورت جو عمر میں یقینا یوسف (علیہ السلام) کی یوسف (علیہ السلام) سے بڑی تھی جیسا کہ آیت 21 میں عزیز مصر کا قول ” اونتخذہ ولدا “ سے اشارۃ ظاہر ہے۔ اس بات کے بیان کرنے سے ہماری مراد کوئی بحث اٹھانا نہیں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ بعض باتیں بغیر کسی خارجی دلیل کے اپنے اندر اس بات کی خود دلیل ہوتی ہیں کہ اصل حقیقت حال کیا ہے اور وہاں خارجی دلائل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی لیکن یوسف (علیہ السلام) کی سمجھ دے ہمارے علمائے کرام کو کہ انہوں نے کتنے ہی مقامات پر کبھی ان اندرونی شہادتوں پر دھیان نہیں دیا بلکہ وہ خارجی دلائل تلاش کرتے ہیں اور پھر ان خارجی دلائل کو اندرونی شہادت پر فوقیت دینے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں حالانکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے اور وہ یہ ہے کہ اندرونی شہادت پر خارجی شہادت کبھی فوقیت حاصل نہیں کرسکتی بلکہ ہر انسان فطری طور پر مجبور ہے کہ وہ اندرونی شہادت کو خارجی شہادت پر فوقیت دے۔
بلاشبہ امراۃ العزیز نے یوسف (علیہ السلام) کو نہیں جنا اور نہ ہی وہ اس کے بیٹے ہیں لیکن اس کے باوجود عزیز مصر کا یہ بیان ” اونتخذہ ولدا “ اس بات کی اندرونی شہادت ہے کہ یوسف (علیہ السلام) فی الحقیقت اس عورت سے اتنے چھوٹے ہیں کہ ان کو وہ بیٹا کہہ سکے یا یوسف (علیہ السلام) اس کو والدہ سمجھ سکیں اب خواہ یوسف (علیہ السلام) سے 10 , 9 سال بڑی ہو یا 20 , 15 سال یا اس سے کم و بیش۔
صحیح حدیث میں ہے کہ سیدہ ائشہ ؓ نے بیان کیا کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اسامہ کا چہرہ دھو دوں کہ وہ بچہ ہے چونکہ میرے اں کوئی بچہ نہیں تھا ” وما ولدت “ اس لئے مجھے بچوں کو نہلانے دھلانے کا پورا سلیقہ نہیں تھا۔ تاہم میں نے اس کا چہرہ صاف کیا اور دھویا لیکن آپ نے میری صفائی کو ناکافی سمجھتے ہوئے خود اس کو دوبارہ صاف کیا اور فرمایا اچھا ہے کہ لڑکا ہے اگر لڑکی ہوتی تو ہمیں اور بھی بہت کچھ کرنا پڑتا۔ اس واقعہ کے اندر ایک اندروین شہادت موجود ہے کہ سیدہ عائشہ ؓ اسامہ سے بڑی ہیں اور کم از کم اتنی ضرور ہیں جتنی کہ کم از کم ایک بچے سے اس کی ماں بڑی ہو سکتی ہے اور پھر صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مرض الموت سے کچھ روز پہلے ایک لشکر تیار کیا اور اس لشکر کا امیر اسامہ کو مقرر فرمایا اس وقت اس کی عمر صحیح حدیث میں 20 سال ، 19 سال اور 18 سال منقول ہے اب اس اندرونی شہادت کو پیش نظر کھتے ہوئے غور کرو اور بتائو کہ آپ کی مرض وفات میں عائشہ ؓ کی عمر کم از کم کتنی ہونی چاہئے ؟ 28 سال۔
صحیح حدیث میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ نبی کریم ﷺ کی ہجرت کے وقت 27 سال کی تھیں اور اس طرح صحیح حدیث میں ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ عائشہ بنت ابی بکر ؓ سے دس سال بڑی تھیں تو ہجرت کے وقت عائشہ ؓ کی عمر کتنی ٹھہری ؟ 17 سال۔ تو آپ کی وفات کے وقت ؟ 28 سال۔
یہ ایک ضمنی اشارہ ہے محض اس لئے کہ ہمارے ہاں تقریراً اور تحریراً یہی بیان کیا جاتا ہے کہ عائشہ ؓ 18 سال کی عمر میں بیوہ ہوئیں تو گویا اسامہ اور عائشہ ؓ ایک سن میں پیدا ہوئے اور دونوں ہم عمر ٹھہرے۔ یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے خارجی دلیلوں سے ہے لیکن اندرونی شہادت کیا کہتی ہے ؟ فیصلہ کس دلیل کے تحت ہونا چاہئے ؟ یہ موضوع زیر بحث نہیں جب کبھی زیر بحث آئے گا تو انشاء اللہ اس پر سیر حاصل بحث ہوگی۔
اس وقت بات امراۃ العزیز اور یوسف (علیہ السلام) کی ہے اور بتایا یہ جا رہا ہے کہ غور کرو کہ پچھلی آزمائش یوسف (علیہ السلام) کے ذہن و دماغ کی آزمائش تھی اور اب آزمائش جذبات کی شروع ہوگئی اور انسان کے لئے سب سے بڑی آزمائش جذبات ہی کی آزمائش ہے بلاشبہ وہ سمندر کی موجوں سے ہراساں نہیں ہوتا ، پہاڑ کی چٹانوں سے نہیں گھبراتا ، آسمان کی بجلیوں سے نہیں لرزتا ، درندوں کے مقابلہ سے منہ نہیں موڑتا ، تلواروں کے سائے میں کھیلنے لگتا ہے لیکن نفس کی ایک چھوٹی سر ترغیب اور جذبات کی ایک ادنیٰ سے کشش کا مقابلہ نہیں کرسکتا لیکن یوسف (علیہ السلام) کی سیرت کی چٹان یہاں بھی متزلزل نہ ہوسکی۔ ان کی بےداغ فضیلت پر نفس انسانی کا سب سے بڑا فتنہ بھی دھبہ نہ لگا سکا۔
قرآن کریم نے جو لفظ اختیار کئے ہیں ان سے یوسف (علیہ السلام) کے ارادہ و عصمت کی مضبوطی پر کافی شہادت ملتی ہے کیونکہ ” راودتہ “ نے یہ بتایا کہ اس عورت کا ارادہ یوسف کے ارادہ کے خلاف تھا اور ” عن نفسہ “ میں اور بھی اس کو موکد کیا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اس عورت کی تمام کارروائیوں اور ارادوں کا ایک ہی جواب دیا ” معاذ اللہ “ اللہ کی پناہ۔
یہ مسئلہ نفس انسانی کا اندرونی مسئلہ ہے اس لئے کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ایسا معاملہ ایک دو دن میں رونما نہیں ہوتا اس لئے یہب ات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عزیز کی بیوی آپ کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوچکی تھی ۔ لیکن اس کے لئے جو یوسف جیسے پاکباز جو ان سے یکبارگی اظہار مدعا کرنا آسان نہ تھا اس نے نسوانی فطرت کے مطابق انہیں اپنا صید زبوں بنانے کے لئے سینکڑوں جتن کئے ہوں گے اور آپ سے بےتکلف ہونے کی ہر ممکن کوشش کی ہوگی لیکن جب اس نوجوان صالح کی بےنیازیوں نے اس کے تمام حیلوں کو ناکام بنا دیا تو اس نے یہ آخر قدم اٹھایا کہ شاید بےقابو ہو کر بات مان جائے۔
امراۃ العزیز نے دروازے بند کردیئے ، یوسف کو بلایا ” کہ ادھر آئو “
۔ 31 مصری تمدن میں عورت بڑی حد تک آزاد و خودمختار تھی اور یوسف اس گھر کا ایک خادم و غلام اس لئے اس نے بےدھڑک یوسف کو اپنے پاس بلایا اور اپنے خلوت خانہ کے تمام دروازے بند کردیئے اور جب بالکل تنہا ہوگئی تو شرم و حیاء کے تمام آداب کو پس پشت پھینکتے ہوئے کہنے لگی ” ھیت لک ای اقبل “ یعنی آگے آئو۔ “ ھبت “ کے لفظ کے اعراب کے متعلق اور اس کے عربی اور عجمی ہونے کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے لیکن ہم نے ان باتوں کو نہیں چھیڑا کہ یہ خواہ مخواہ کی طوالت اور بےمقصد ذہنی عیاشی ہے بلاشبہ یہ لفظ عربی میں مستعمل ہے اور ابن مسعود ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ اس کو خود رسول اللہ ﷺ نے ” ھیت لک “ ہا اور تا دونوں پر زبر سے پڑھایا ہے اس لئے اس پر مزید قیل و قال کی ضرورت ہی کیا رہ گئی۔ مختصر یہ کہ یہ لفظ کسی چیز پر برانگیختہ کرنے اور اس کی طرف توجہ دلانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔
قرآن کریم کی معجزانہ بلاغت نے چند لفظوں کے اندر صورتحال کی پوری تصویر کھینچ دی ہے اور اگر ان اشاروں کو تشریح وبیان کا پورا جامہ پہنایا جائے تو کئی صفحوں کی داستان بن جائے۔ تم چشم تصور سے کام لو اور دیکھو ترغیبات کی قہر و سلطانی کا کیا حال تھا اور عیش نفس کی یہ دعوت کیسے شکیب آزما سامانوں اور صبر ربا حالتوں کے ساتھ طلب بھی ہوئی تو کیسی طلب ؟ دیواگنی کی طلب اور دل بافتگی کا تعاقب۔ پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ مواقع بہ کلی مرتفع ہوگئے۔ کوئی انسانی آنکھ بظاہر دیکھنے اولی نہیں ، کوئی پردہ حجاب ہونے والا نہیں۔ کون ہے جو ایسی حالت میں بھی اپنے آپ کو قابو میں رکھ سکتا ہے ؟ عفت و پاکی کا کونسا پہاڑ ہے جو ان بجلیوں کی تاب لاسکے ؟ ہاں ! ایک پہاڑ تھا جسے یہ بجلیاں بھی جنبش میں نہ لاسکیں۔ یہ یوسف (علیہ السلام) کی سیرت تھی جو کسی حالت میں بھی متزلزل نہ ہوسکی خود عزیز مصر کی بیوی کو بالاخر کہناپڑا کہ ” ہاں ! میں نے اس کا دل اپنے قابو میں لینا چاہا مگر وہ بےقابو نہ ہوا۔ “ (یوسف 12 : 32) اور اس سے بڑھ کر اس معاملہ کا کون شاہد ہو سکتا ہے۔ وہ اس حال میں بھی اپنی جگہ سے بےجگہ نہ ہوا گویا اس کوہ عصمت کے لئے ذرا سی بھی جنبش نہ تھی۔
امراۃ العزیز کی دعوت کا یوسف نے کیا جواب دیا ؟ معاذ اللہ !
۔ 32 پھر دیکھو کہ امراۃ العزیز کی دعوت عیش کے جواب میں جو کچھ یوسف کی زبان سے نکلا وہ کیا تھا ؟ فرمایا ” معاذ اللہ ! “ اللہ کی پناہ ” انہ ربی “ بلاشبہ میرے رب نے ” احسن مثوی “ مجھے بہت اچھا ٹھاکنا دیا۔ ” معاذ اللہ “ کا لفظ ہی وہ برہان اور دلیل ہے جو ایسے نازک ترین موقع پر اللہ نے آپ کو دکھائی جس کا ذکر آنے والی آیت میں آ رہا ہے اور اس سے زیادہ بڑی اور شاندار دلیل کوئی اور ہو ہی سکتی تھی۔ ” انہ ربی “ کیا لفاظ نے ایک نئی بحث چھیڑ دی کہ آیا یہ جملہ یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کے لئے استعمال کیا جس نے آپ کو بازار سے خریدا تھا اور ایک اچھا ٹھکانا مہیا کیا تھا اور عزت و احترام کے ساتھ رکھا تھا۔ اس لئے آپ نے گویا امراہ العزیز کو یہ جواب دیا کہ دیکھو تیرا شوہر میرا آقا ہے اور وہ مجھ سے نہایت حسن و سلوک سے پیش آیا ہے کیا میں اس کے حسن و سلوک کا بدلہ یہ دوں کہ اس کی امانت میں خیانت کرنے لگوں ؟ یا ” انہ ربی “ کہہ کر اللہ کی ذات مراد لی ہے اور اس کے متعلق یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ” اللہ کی پناہ ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی اور میں یہ کام کروں ! ایسے ظالم تو کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔ “ بلاشبہ ایک اللہ کے رسول ہونے والے شخص کے منہ سے ” ربی “ کے الفاظ سے مراد اللہ تعالیٰ ہی کی ذات لینا بہتر ہے اور اچھی جگہ دینا بھی یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی طرف منسوب نہںٰ کیا بلاشبہ وہ ایک واسطہ ہے لیکن آپ نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا ہے جو حقیقی رب ہے یعنی مسبب الاسباب ہے کیونکہ عزیز مصر کے دل کو اللہ تعالیٰ نے ہی یوسف کی عزت کی طرف پھیرا اور اس طرح جب ” ربی “ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو عزیز مصر کی ناشکری اور ناقدری کا کوئی پہلو نہیں نکلتا اس لئے دونوں باتوں کی وضاحت کردی ہے ہمارے دل کو پہلی صورت کی نسبت دوسری صورت زیادہ لگتی ہے لیکن جن مفسرین نے پہلی صورت کو اختیار کیا ہے ان کو بھی ہم غلط نہیں کہتے کہ یہ نظریہ کا ایک فرق ہے جس سے فی نفسہ حقیقت پر کچھ اثر نہیں پڑتا کہ ان کے خیال میں پہلی صورت موزوں ہے اور ہمارے خیال میں دوسری اور حقیقت حال اللہ کے سپرد ہے کہ وہی علام الغیوب ہے۔
غور کرو کہ یہ برائی ایسی برائی تھی کہ اسے برائی دکھلانے کے لئے کتنی ہی باتیں کی جاسکتی تھیں لیکن یوسف (علیہ السلام) کا ذہن اس بات کی طرف گیا اور اس کو قرآن کریم نے بھی نمایاں کر کے دکھایا اس لئے معلوم ہوا کہ ان کی سیرت کا اصل جوہر یہی ڈھونڈنا چاہئے کہ امانت داری اور راست بازی اور ادائے فرض کی روح اس طرح اس پر چھائی ہوئی تھی کہ ہر موقعہ پر سب سے پہلے وہی سامنے آتی تھی اور آیت کے آخری حصہ نے بھی کس خوبصورتی کے ساتھ اس حقیقت کا اعلان فرما دیا کہ ” حد سے گزرنے والے کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “
Ayah 12:24عورت تو یوسف کے پیچھے پڑچکی تھی وہ بھی اس طرف متوجہ ہوتے اگر برہان الٰہی نہ دیکھ لیتے
۔ 33 ” اور حقیقت یہ ہے کہ وہ عورت یوسف کے پیچھے پڑچکی تھی اور یوسف بھی اس کی طرف متوجہ ہوجاتا اگر اس کے پروردگار کی دلیل اس کے سامنے نہ آگئی ہوتی۔ “ یہ وہ ترجمہ ہے جو آیت کے اس پہلے حصہ کا ہم نے اختیار کیا ہے۔
” اور اس (عورت) کے دل میں تو ان کا خیال جم ہی رہا تھا اور انہیں بھی اس (عورت) کا خیال ہو چلا تھا اور اگر اپنے پروردگار کی دلیل کو انہوں نے نہ دیکھ لیا ہوتا۔ “ (ماجدی)
” وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا۔ “ (تفہیم القرآن)
” اور اس عورت نے تو قصد کرلیا تھا ان کا اور وہ بھی قصد کرتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی (روشن) دلیل ۔ (ضیاء القرآن) ۔
” عورت نے بلاشبہ یوسف کو مقصد بنا لیا تھا یوسف بھی اس کا ارادہ ہی کرچکے تھے اگر نہ دیکھ لیتے وہ اپنے رب کی دلیل کو۔ “ (مظہری اردو)
” اور البتہ عورت نے فکر کیا اس کا اور اس نے فکر کیا عورت کا اگر نہ ہوتا یہ کہ دیکھے قدرت اپنے رب کی۔ (معارف القرآن) ۔
قرآن کریم کا متن بھی ملاحظہ کرلیں جو اس ملک عزیز میں طبع ہو رہے ہیں :
(آیت)
زیر نظر آیت نہایت معرکۃ الاراء ہے۔ اس کے متعلق تفاسیر میں اتنا کچھ لکھا گیا ہے کہ اس کو ایک جگہ صرف دکھانے کے لئے لکھیں تو سینکڑوں صفحات درکار ہیں۔ بات سے بات اس طرح نکالی گئی ہے دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ اس کے متعلق ذرا تفصیل عرض کریں گے اگرچہ جس کو تفصیل کے لفظ سے ادا کر رہے ہیں وہ بھی مختصر ہی ہوگا تاہم کوشش کریں گے کہ بات سمجھ میں آجائے۔ اس آیت میں ھم کا لفظ دو دفعہ مذکور ہے لیکن دونوں کے فاعل الگ الگ ہیں ھمت کا فاعل عزیز مصر کی بیوی ہے اور دوسرے ھم کا فاعل یوسف (علیہ السلام) ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ دونوں فعل ایک ہی معنی میں مستعمل ہوئے ہیں یا ھمت فعل کا معنی اور ہے اور ھم کا اور۔ اس میں تین طرح کا بیان تفاسیر میں دیا گیا جسے ہم الگ الگ بیان کرتے ہیں۔
۔ 1 ایک بڑی جماعت کا خیال یہ ہے کہ دونوں کا معنی ایک ہی یعنی کسی کام کے کرنے کا عزم اور قصد کرنا۔ وہ کہتے ہیں کہ امراۃ العزیز نے بھی اس فعل کا قصد و عزم کیا اور آپ بھی بالکل تیار ہوگئے اور وہاں بیٹھے جہاں اس مقصد کے لئے بیٹھا جاتا ہے تو اچانک وہ برہان سامنے آگئی اور تکمیل فعل سے روک دیئے گئے جو الیعاذ باللہ ، خاکم بدھن کہ میں نے اس کو تحریر کردیا جس سے زیادہ مجھ سے لکھا جا ہی نہیں سکتا۔ دل بیٹھ گیا اور قلم لرزنے لگا اور جو تحریر کیا وہ نہایت احتیاط سے تحریر کیا۔ عربی کی مفصل تفاسیر میں اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اگرچہ اس کے رد میں بھی امام رازی رحمتہ اللہ لعیہ نے بہت کام کیا اور اس طرح تحریر کرنے والوں کی خوب خبر لی۔ (جزاک اللہ احسن الجزاء)
۔ 2 ایک گروہ کا خیال ہے کہ ” ھمت “ کا معنی ہے کسی چیز کا عزم اور قصد کرنا اور ” ھم بھا “ میں عزم و قصد کا معنی نہیں بلکہ محض میلان طبع مراد ہے کیونکہ رال ٹپکنے سے کیا ہوتا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق آیت کے معنی یہ ہیں کہ عزیز مصر کی بیوی نے تو اس حرکت کے ارتکاب کا عزم مصمم کیا لیکن حضرت یوسف کے دل میں محض میلان طبع کا ظہور ہوا لیکن یہ معنی بیان کرنے میں لغت سے زیادہ عقیدت کو دخل ہے۔ اس کو آپ کیسے مطمئن کریں گے کہ اگر کوئی شخص اصرار کرے کہ پہلا فعل جس کا اسناد امراۃ العزیز کی طرف ہے اس کا معنی محض میلان طبع ہے اور دوسرے فعل کا معنی عزم و قصد ہے تو ہم اسے کیونکر قائل کرسکیں گے۔ اس کا جواب نہ ہو سکتا تھا اور نہ ہی اب کوئی موجود ہے اگرچہ اس نظریہ کی طرف بھی میلان زیادہ مفسرین کا ہے اور وہ بھی بڑی خوبصورتی سے یہاں تک لکھتے ہیں کہ ” خلوت “ کی جائی میں جوان عمر تندرست مرد کا محض خیال اگر جوان حسین عورت کی طرف جائے خصوصاً جب کہ پشد قدمی اور تشویق عورت کی طرف سے ہو تو یہ عیب نہیں بلکہ دلیل ہے مرد کے صحیح و تندرست اور مرد ہونے کی۔ “ (بیضاوی ، مدارک) یہ نظریہ درمیانہ لوگوں کا تھا جس میں بڑے بڑے معتبرلوگ تھے اس لئے انہوں نے سوال کرنے والوں کو تو برا بھلا کہا اور اس نظریہ کے صحیح ہونے میں بہت سی صحیح احادیث نقل کیں جن کا ماحصل یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو یہ ابتلا پیش آیا تو فرشتوں نے اللہ جل شانہ سے عرض کی کہ آپ کا یہ مخلص بندہ گناہ کے خیال میں ہے حالانکہ وہ اس کے وبال کو خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انتظار کرو اگر وہ یہ گناہ کرے تو جیسا کیا ہے وہ اس کے نامہ اعمال میں لکھ دو اور اگر وہ اس کو چھوڑ دے تو گناہ کی بجائے اس کے نامہ اعمال میں نیکی درج کرو کیونکہ اس نے صرف میرے خوف سے اپنی خواہش کو چھوڑا ہے جو بہت بڑی نیکی ہے۔ (قرطبی)
خلاصہ یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں جو خیال یا میلان پیدا ہوا ہے وہ محض غیر اختیاری وسوسہ کے درج میں تھا جو گناہ میں داخل نہیں۔ پھر اس وسوسہ کے خلاف عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کا درجہ اور زیادہ بلند ہوگیا۔ اگر علمائے کرام اور مفسرین میں سے کسی صاحب کی یہ بات ہوتی تو ہم بھی ” صاد “ کردیتے لیکن اس مضمون پر ” ’ رست “ اس لئے نہیں کہا جا رہا کہ یہ بات کریم بن کریم بن کریم بن کریم کی ہے جو اللہ کا ایک برگزیدہ نبی تھا۔
۔ 3 ” ھم بھا لولا ان را برھان ربہ “ کے متعلق بعض کا خیال ہے کہ یہ تقدیم و تاخیر ہے یعنی عبارت اس طرح ہے کہ لولا ان رابرھان ربہ لھم بھا اگر یوسف اپنے رب کی دلیل نہ دیکھ چکا ہوتا تو اس کا قصد کرتا۔ بعض مفسرین اس طرف گئے ہیں کہ اس تقدیم و تاخیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں جملہ ویسے ہی درست اور صحیح ہے کیونکہ اس مقام پر بھی ” لولا “ کا استعمال شروع کلام ہی میں ہوا ہے اور نحوی قاعدہ کے مطابق دال علی الجواب مقدم ہے اور ” لولا “ کا جواب جو بعد میں مذکور ہوتا اس دال علی الجواب کی وجہ سے مقدور محذوف ہے اور یہ اس لئے صحیح ہے کہ فصاحت و بلاغت کا تقاضا ہے کہ ایک جانب مناسبت کلام کو قائم رکھا جائے یعنی دونوں کے ارادہ اور عدم ارادہ کا ایک ہی جگہ ذکر ہو اور دوسری جانب نحوی قاعدہ کے مطابق ” لولآ “ کا جواب اس کے بعد میں آئے اور یہ دونوں باتیں جب ہی ہو سکتی ہیں کہ ” ھم بھا “ دال علی الجواب بنا کر ” ھمت بہ “ کے ساتھ ذکر کیا جائے اور ” لولا “ کا جواب ” فھم بھا “ کو مقدر تسلیم کیا جائے۔
لہٰذا یہی تفسیر ہے جو شک و شبہ سے بالاتر حقیقت حال کو واضح اور ظاہر کرتی ہے۔ کلام مجید میں اس کی نظیر موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے تذکرہ کے متعلق یہ آیت ہے کہ ان کا دتلتبدی بہ لولا ان ربطنا علی قلبھا (القصص 10:28) ” قریب تھا کہ وہ یعنی والدہ موسیٰ اس کو ظاہر کر دے اگر ہم اس کے دل کو مضبوط نہ بنا دیتے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کی والدہ کے دل کو مضبوط کردیا تو وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے راز کو ظاہر نہ کرسکیں اور اگر ہم ایسا نہ کرتے تو وہ ظاہر کر دیتیں۔
غور کیجیے کہ اس جگہ بھی ” لولا “ سے دال علی الجواب مقدم ہے اور ” لولا “ کا جواب لتبدی بہ مقدر محذوف ہے اس طرح اس مقام پر یہ معنی ہیں کہ اگر یوسف کو برہان رب حاصل نہ ہوتا تو وہ بھی ارادئہ بد کرلیتے لیکن انہوں نے ارادئہ بد نہیں کیا کیونکہ وہ برہان رب دیکھ چکے تھے۔ یہ تیسری قسم کے لوگ اگرچہ بنسبت کم سہی تحقیق ان کی صحیح ہے اس لئے اپنا خیال بھی انہیں کے ساتھ ہے۔ اب اس پہلی بڑی جماعت کے لوگوں کے متعلق جو کچھ امام رازی (رح) نے بیان کیا ہے اس کا خلاصہ بھی سن لیجیے تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔
امام فخر الدین رازی (رح) اور دیگر محققین نے ان لوگوں پر سخت تنقید کی ہے جنہوں نے لکھا کہ امراۃ العزیز نے بھی اس فعل کا قصد کیا اور آپ بھی بالکل تیار ہوگئے لیکن اس میں ملوث نہیں ہوئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی دلیل نمودار ہوگئی تھی۔ اس قول پر امام نے نہایت ناگواری اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے اور اسے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دامان عصمت پر ایک ناروا بہتان قرار دیا ہے چونکہ امام (رح) نے اس مسئلہ کو بڑی شرح و بسط سے لکھا ہے اس لئے انہیں سے استفادہ کرتے ہوئے اس کو مختصر سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امام (رح) فرماتے ہیں لولا ان رابرھان ربہ شرط موخر ہے اور ” ھم بھا “ جزا مقدم ہے اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ امراۃ العزیز نے اس فعل کا عزم مصمم کیا اور یوسف برہان الٰہی کو نہ دیکھتے تو وہ بھی ان انتہائی اشتعال انگیز حالات میں اس فعل کا عزم اور قصد کرتے نتیجہ یہ نکلا یہ نکلا کہ آپ نے چونکہ برہان الٰہی کا مشاہدہ فرمایا اس لئے ان سے اس فعل کا عزم و قصد وقوع پذیر نہیں ہوا۔ علامہ موصوف نے اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے متعدد زور دار دلائل پیش کئے ہیں ان میں سے صرف ایک کے ذکر کرنے پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ آئو ان سے پوچھیں جن کو اس واقعہ کے تو کسی کو تذبذب نہیں ہونا چاہئے۔ فرماتے ہیں کہ جن کا اس واقعہ سے براہ راست تعلق تھا وہ کون ہیں ؟ وہ حضرت یوسف ہیں ، امراۃ العزیز ہے۔ اس کا فائدہ ہے ایک شاہد زنان مصر ہیں اور گواہ خوب رب العلمین ہے۔
۔ 1 یوسف (علیہ السلام) کا اپنا بیان یہ ہے کہ ” ھی راودتنی عن نفسی “ کہ اس عورت نے مجھے طرح طرح سے پھسلانا چاہا پھر آپ کا یہ دعا فرمانا کہ ” رب السجن احب الی مما بدعوننی الیہ “ اے میرے رب ! جس بری حرکت کی طرف مجھے وہ بلاتی ہیں اس سے تو قید خانہ مجھے زیادہ پسند ہے۔
۔ 2 امراۃ العزیز نے دو بار آپ کے دامن کی پاکیزگی کا اعتراف کیا۔ پہلی مرتبہ اس نے زنان مصر کے سامنے کہا ” ولقد راوتہ عن نفسہ فاستعصم “ اور دوسری بار جب بادشاہ مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو قید خانہ سے رہا کر کے اپنے دربار میں لے آنے کا حکم دیا تو حضرت یوسف نے اس کی اس دعوت کو قبول نہ کیا بلکہ واضح طور پر فرمایا کہ جب تک مجھ پر لگائے ہوئے بہتان کی تحقیق نہ ہوجائے میں جیل سے نکلنے کے لئے تیار نہیں اس وقت امراۃ العزیز نے پھر برملا کہا ” الان حصحص الحق انارا ودنہ عن نفسہ وانہ لمن الصادقین “ اب تو حق کھل چکا ہے وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی بلاشبہ وہ بالکل سچا تھا۔
۔ 3 اور عزیز مصر نے تو اس وقت کہہ دیا تھا کہ ” انہ من کیدکن ان کیدکن عظیم “ یہ سب تمہارا مکر ہے۔ یوسف بےگناہ ہے۔
۔ 4 اور اس گواہ نے بھی گواہی دی کہ اگر اس کی قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچا ہے۔
۔ 5 اور سب سے سچا گواہ خود اللہ رب العزت ہے اس نے بھی آپ کی پاک دامنی کی شہادت دی۔ چناچہ فرمایا لنصرف عنہ السوء والفحشآء انہ من عبادنا المخلصین یعنی یوسف تو ہمارے منتخب کئے ہوئے بندوں میں سے ہے اس سے تو ہم نے ہر قسم کی برائی اور فحشاء کو دور کردیا ہے اس کے بعد امام رازی (رح) فرمایت ہیں کہ اور تو اور خود ابلیس نے کہہ دیا کہ یوسف کا دامن اس داغ سے بالکل پاک ہے۔ فبعزتک لا غوینھم اجمعین الا عبادک منھم المخلصین یعنی مجھے ترہی عزت کی قسم میں ان سب کو راہ راست سے بھٹکا دوں گا لیکن تیرے مخلص بندوں پر مرصا دائود نہیں چل سکتا اور یوسف بارشاہ الٰہی ” مخلصین “ ہی میں سے ہے۔ اس لئے شیطان کے فریب میں نہیں آسکتا تھا۔
علاوہ ازیں بھی صرفی و نحوی سوال اٹھائے گئے ہیں اور اہل لغت کی طرف سے بھی بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن امام صاحب نے سب کا ناطقہ اس طرح بند کیا ہے کہ ان کو ترکی بہ ترکی جواب سناتے چلے گئے ہیں۔ سوال بعد میں آیا۔ جواب گویا پہلے موجود تھا۔ زجاج نے بھی اعتراض کئے اور اس کے جواب بھی امام رازی (رح) نے نقد بہ نقد سنائے سب کے آخر میں بعض اسلاف سے استدلال کیا جاتا ہے کہ فلاں فلاں نے یہ کہا کہ حضرت یوسف نے عزم و ارادہ کیا تھا۔ امام رازی (رح) اور ابوحبان اور دوسرے محققین نے اس کا یہ جواب دیا کہ یہ اقوال آپس میں اتنے متضاد ہیں اور ایک دوسرے کی تکذیب کر رہے ہیں کہ انہیں صحیح تسلیم نہیں کیا جاسکتا اور یہ بھی کہ کسی مستند روایت میں ان اسلاف سے ثابت نہیں کیا جن کی طرف انہیں منسوب کیا جاتا ہے۔ تو پھر ان سے سند پکڑنے کی آخر ضرورت کیا ہے ؟ اس حاشیہ کا ایک حصہ بیان ہوا لیکن ابھی ایک حصہ بدستور باقی ہے وہ یہ ہے کہ وہ برہان کیا تھی جو یوسف (علیہ السلام) نے دیکھی تھی ؟
ہمارے مفسرین کرام کی اکثریت نے یہ لکھ کر قرآن کریم نے یہ واضح نہیں فرمایا کہ وہ برہان ربی جو یوسف (علیہ السلام) کے سامنے آئی وہ کیا چیز تھی ؟ اس لئے اس میں مفسرین کے اقوال مختلف ہیں۔
۔ 1 بعض نے فرمایا کہ اس خلوت گاہ میں جہاں یوسف (علیہ السلام) امراۃ العزیز کے ساتھ عزم و ارادہ کرچکے تھے تو اچانک اللہ تعالیٰ نے بطور معجزہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت اس طرح ان کے سامنے کردی کہ وہ اپنی انگلی دانتوں میں دبائے ہوئے ان کو متنبہ کر رہے ہیں کہ خبردار !
۔ 2 بعض نے کہا کہ اس وقت عزیز مصر کی صورت ان کے سامنے کردی گئی کہ یوسف !
۔ 3 یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس وقت یوسف (علیہ السلام) کی نظر چھت کی طرف اٹھی تو وہاں یہ آیت لکھی ہوئی دیکھی لا تقربوا الزنا انہ کان فاحشۃ وسآء سبیلاً ” یعنی زنا کے پاس نہ جائو کیونکہ وہ بڑی بےحیائی اور قہر خداوندی کا سبب اور معاشرہ کے لئے بہت برا راستہ ہے۔ “
۔ 4 یہ بھی کہا گیا جس خلوت خانہ کا یہ ماجرا ہے اس میں امراۃ العزیز نے ایک بزرگ کا بت رکھا تھا اس وقت اس نے اس بت پر کپڑا ڈالا تو یوسف نے وجہ پوچھی اس نے کہا کہ یہ میرا معبود ہے اس کے سامنے گناہ کرنے کی جرات نہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میرا معبود تو اس سے زیادہ حیاء کا مستحق ہے لیکن اس کی نظر کو تو کوئی پردہ نہیں روک سکتا۔
۔ 5 یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی نبوت اور معرفت الٰہی خود بھی برہان رب تھی۔
ہم نے یہ باتیں سینہ پر ہاتھ رکھ کر تحریر کردیں تاکہ قارئین کرام سمجھ لیں کہ ان دور از کار بحثوں نے ہمیں کہاں سے کہاں لے جا کر کھڑا کردیا۔ ایمان اگر کوئی شے ہے تو ایمان داری سے کہئے کہ اوپر جو دلیلیں لکھی گئیں اگر ان میں سے کوئی ایک کسی برے سے برے انسان کے سامنے عین اس حالت میں لا کر کھڑی کردی جائے تو کیا خیال ہے کہ وہ اپنے بد ارادہ پر کامیاب ہوگا ؟ پھر یوسف (علیہ السلام) کا کمال کیا رہا ؟ کیا ان باتوں کی کوئی اصل کتاب و سنت میں موجود تھی ؟ ابھی کتنی ہی باتیں ہیں جن کو قلم کی نوک پر لانے سے دل گھبراتا ہے کہ کس کی داستان ہے اور کس کا تذکرہ ؟ یہ ظلم کیوں روا رکھا گیا ؟ قرآن کریم میں وہ برہان اور دلیل کیوں موجود نہ ہو اور قرآن کریم ہم سے ایسی مبہم بات کو کہہ کر لوگوں کو کیسے اس طرح چھوڑ سکتا تھا کہ وہ خود ہی اس برہان کا فیصلہ کرتے رہیں ؟ حالانکہ وہ دلیل وہ کیا ہو سکتی ہے کہ امراۃ العزیز کی زبان سے ” ھبت لک “ کا کلمہ سنتے ہی بول اٹھے کہ معاذ اللہ انہ ربی احسن مثوی انہ لا یفلح الظلمون “ ” معاذ اللہ ! وہ میرا رب ہے اس نے مجھے عزت کے ساتھ جگہ دی ہے اور حد سے گزرنے والے کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “ حاشا للہ یہی وہ برہان حق تھی جس نے سیدنا یوسف (علیہ السلام) کو اس نوخیز جوانی کے عالم میں ایسے نازک موقع پر معصیت سے باز رکھا۔ کتنی واضح اور کتنی کھلی دلیل تھی لیکن ہمارے بزرگوں کو یہ کیوں نظر نہ آئی ؟ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے اور حق کو حق سمجھنے کی توفیق بخشے اور اس اندھی تقلید اور لکیر کے فقیر بننے سے اپنی پناہ میں رکھے۔
ہم نے یوسف کو برائی کے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا کہ وہ ہمارے برگزیدہ بندوں سے تھا
۔ 34 غور کرو کہ قرآن کریم نے شد و مد سے اس کے بعد یہ بیان کیا کہ ” اس طرح ہم نے برائی اور بےحیائی کی باتیں اس سے دور رکھیں بلاشبہ وہ ہمارے ان بندوں میں سے تھا جو برگزیدگی کے لئے چن لئے گئے۔ “ کتنی صاف بات ہے کہ حضرت یوسف کا دامن اس قسم کے ” ھم “ سے اس لئے پاک رہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی عصمت و پاکیزگی کا فیصلہ شروع سے کردیا ہوا تھا ، پھر کیسے ممکن تھا کہ اس کی عصمت و حفاظت کے بعد اس کے خلاف کوئی شائبہ بھی اس میں پایا جاتا ؟
Ayah 12:25حضرت یوسف جب دروازے کی طرف بھاگے تو عزیز مصر کی بیوی نے پیچھا کیا ، دروازہ کسی طرح کھل گیا یا کھول لیا گیا لیکن عین اس وقت کہ سامنے عزیز مصر اور اس عورت کا چچا زاد بھائی یا کوئی دوسرا عزیز کھڑے نظر آئے۔ امراۃ العزیز ابھی عشق میں خام تھی اس لئے اس نے صحیح بات کہنے کی بجائے چرتر سے کام لیا اور مصنوعی غیظ و غضب کی حالت بنا کر کہنے لگی ایسے شخص کی سزا قید خانہ یا درد ناک عذاب کے علاوہ اور کیا ہو سکتی ہے جو تیرے اہل کے ساتھ ارادئہ بد رکھتا ہو ؟ صاحب نظر اور عقل و فکر لوگ جانتے ہیں کہ ایسے نازک مواقع پر انسان اپنے آپ کو کتنا بھی چھپائے لیکن اس کا چہرہ سب کچھ بتا رہا ہوتا ہے کہ کسی نے کیا کیا کیا ہے اور کیا کہا ہے ؟ بھاگتے ہی اچانک جو دروازہ کھلا تو کیا دیکھنے والوں کی نظر نہ پڑی کہ آگے کون ہے اور پیچھے کون ؟ سانس کس کی پھولی ہوئی ہے اور مطمئن کون ہے ؟ چہرہ کس کا پریشان ہے اور کون پر سکون ہے ؟ ایسی باتیں اور واقعات بیان کرتے دیر لگتی ہے لیکن آنکھ دیکھتے ہی سب کچھ سمجھ جاتی ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے ؟
وہ بات کہہ چکی تو یوسف (علیہ السلام) بھی بولے کہ اس نے مجھے مجبور کیا لیکن میں بھاگ کھڑا ہوا
۔ 36 امراۃ العزیز جب اپنی بات کہہ چکی تو بڑے سکون اور وقار کے ساتھ یوسف (علیہ السلام) بھی گویا ہوئے اور فرمایا کہ اے عزیز ! اے آقا ! یہ اس کا مجھ پر سراسر بہتان ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ خود اس نے میرے ساتھ ارادہ بد کیا تھا اور دروازے بھی بند کئے تھے لیکن میں کیل طرح نہ مانا اور بھاگ کر نکل جانا چاہتا تھا کہ اس نے پیچھا کیا تو میں نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ سامنے آپ نظر آگئے تو اس کے نفس نے یہ جھوٹ گھڑ لیا۔
Ayahs 12:26–27ایک گواہ نے بھی گواہی دی کہ اس کا کرتہ دیکھو آگے سے پھٹا ہے یا پیچھے سے ؟
۔ 37 امراۃ العزیز کا چچا زاد بھائی ذکی ، فطین اور بہتر ہوشیار تھا۔ اس نے جب دونوں کو نظر بھر کر دیکھا تو سارا حال ان چہروں نے اس کے سامنے رکھ دیا اور کرتہ کی حالت بھی وہ دیکھ رہا تھا۔ اس نے کہا یوسف کا کرتہ دیکھو اگر وہ سامنے سے چاک ہے تو عورت راست باز ہے اور اگر پیچھے سے چاک ہے تو یوسف صادق القول ہے اور عورت جھوٹی ہے۔ یوسف کا کرتہ دیکھا گیا تو وہ پیچھے سے چاک تھا۔ بات بالکل واضح ہوگئی اور وہ عورت بھی ساکت الجواب ہوگئی۔ یہ شاہد کون تھا ؟ مفسرین نے اس کی تحقیق میں بہت کچھ لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ وہ جیسا کچھ بھی تھا قرآن کریم کی تصریح کے مطابق ” من اھلھا “ اس عورت ہی کے عزیزوں میں سے کوئی شخص تھا۔ قرآن کریم نے اس کی وضاحت نہیں کی ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس کی وضاحت کی ضرورت نہ تھی لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہم زیادہ تر اس چیز کے پیچھے پڑتے ہیں جس کے پیچھے پڑنے اور تحقیق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہرحال مفسرین نے جو تحقیق کی اس کے مطابق ایک تو یہ بیان ہے کہ وہ عزیز مصر کی بیوی کا چچا زاد بھائی تھا جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا اور دوسرا یہ ہے کہ وہ ایک شیر خواربچہ تھا جو اس کمرہ ہی میں اپنے عہد میں پڑا کھیل رہا تھا جب یہ سارا ماجرا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر اس بچہ کو یوسف (علیہ السلام) کی بریت کی گواہی دی اور اس گواہی کا یہ بیان ہے جو یہاں دیا گیا۔ پھر زیادہ مفسرین نے اس گواہی کو زیادہ مضبوط اور وزنی سمجھا اور خواص و عوام میں یہی مشہور ہے کہ ایک شیر خوار بچہ نے گواہی دی۔
علامہ قرطبی کے بیان کے مطابق شہ شاھد حکم حاکم کے معنی میں ہے کہ ایک فیصلہ کرنے والے نے فیصلہ کردیا کیونکہ شہادت کے لئے شاہد کا موقع پر حاضر ہونا ضروری ہے اور جس نے یہ بات کی وہ موقع پر موجود نہ تھا۔ یہ شخص کون تھا ؟ اس کے متعلق جاسہ کہ اوپر بیان کیا گیا۔ امراۃ العزیز کے رشتہ داروں میں سے ایک رشتہ دار تھا جو ایک نہایت عقلمند آدمی تھا جس سے عزیز اکثر مشورہ لیا کرتا تھا اور یہ قول حسن ، عکرمہ ، قتادہ ، ضحاک ، مجاہد کا ہے۔
Ayah 12:28یوسف کا کرتہ دیکھا گیا تو پیچھے سے چاک تھا عزیز مصر نے بات کو ٹالتے ہوئے عورت کو ڈانٹ دیا
۔ 38 عزیز مصر نے یوسف کا کرتہ دیکھا تو فی الواقعہ پیچھے سے چاک تھا۔ اس لئے اس نے اصلی حالت کو اچھی طرح بھانپ لیا مگر اپنی عزت و ناموس کی خاطر معاملہ کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ یوسف سچے تم ہی ہو ، اس عوت کے معاملہ سے درگزر کرو اور اس بات کو یہیں ختم کر دو اور پھر بیوی سے کہا تو صرف یہ کہا کہ یہ سب تیرا مکر و فریب ہے اور تم عورتوں کا مکر و فریب بہت ہی بڑا ہوتا ہے۔ بلاشبہ تو ہی خطا کار ہے لہٰذا اپنی اس حرکت بد کے لئے استغفار کرو اور معافی مانگو۔ تعجب ہے کہ اپنی بیوی کی اتنی بڑی خیانت پر مطلع ہو کر اس کا خون کیوں نہیں کھلا ، اس کو غصہ کیوں نہیں آیا۔ اس نے اس کو سزا دینا تو کجا سخت لہجہ میں جھکڑنا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ بڑے پیار سے اور نرم انداز میں جس میں بےغیرتی ، بےحمیتی اور بےچارگی کی بو آرہی ہے تو اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ یہ تمہارا مکر ہے اور تمہارا مکر برا ہوتا ہے۔ ان الفاظ میں بھی غور کرو اس بیچارے نے تو ” ان کیدک “ کہ اے عورت تیرا فریب ہے کہنے کی بھی جرات نہیں کی بلکہ ” کیکن “ ساری عورتوں کی طرف کید کو منسوب کردیا۔
اس جگہ ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے شیطان کے مکر کو تو ضعیف کہا ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ان کید ال شیطان کان ضعیفاً (النساء 4 : 76) ” شیطان کا مکر (دیکھنے میں کتنا ہی مضبوط دکھائی دے لیکن حق کے مقابلہ میں) کبھی جمنے والا نہیں۔ “ اور یہاں عورتوں کے کید کو ” عظیم “ ٹھہرایا ہے تو کیا عورتوں کا کید شیطان سے بھی بڑھا ہوا ہے ؟ پھر اس کا جواب دیا ہے کہ شیطان کا کید جو ضعیف قرار دیا گیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے مقابلہ میں ہے اور نسائی کید جو عظیم بتایا گیا ہے وہ بمقابلہ مردوں کے ۔ (روح) لیکن حقیقت اس کی یہ ہے کہ ” کیدکن عظیم “ جو قرآن کریم میں ہے یہ عزیز مصر کا بیان ہے جو قرآن کریم نے نقل کیا ہے اس کو قرآن کریم کا بیان یا قرآن کریم کی تعلیم کہنا ہی سراسر زیادتی ہے۔ یہ ایک ہی جگہ نہیں بلکہ قرآن کریم میں اس طرح کے سینکڑوں بیانات ہیں جو دراصل قرآن کریم کی تعلیم نہیں بلکہ دوسروں کی حکایت کا بیان ہے لیکن ہمارے علمائے کرام اس کو اس طرح پیش کرتے ہیں گویا کہ یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے یعنی ان میں کرنے کا کوئی حکم ہے یا کسی بات سے روکا گیا ہے حالانکہ وہاں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی۔ غور کرو کہ قرآن کریم میں ابلیس کی بیسیویں کہانیاں ہیں ان کے بیانات ہیں کیا وہ اس لئے ہیں کہ جو چرتر اس نے کئے ہیں وہ ہم بھی سیکھ لیں ؟
Ayah 12:29عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) سے درگزر کرنے کی اپیل کی
۔ 39 قرآن کریم کی تصریح پر غور کرو کہ اس نے شاہد کے متعلق کیا کہا ؟ صرف یہ کہ وہ اس عورت کے اپنے ہی عزیزوں میں سے ایک تھا اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا کیوں ؟ اس لئے کہ جو بات قرآن کریم واضح کرنی چاہتا تھا وہ اتنی تھی کہ یوسف کی پاکیزگی اور راست بازی نے گھر کے تمام آدمیوں کو اس کا معتقد بنا دیا تھا حتیٰ کہ خود عورت کے ایک رشتہ دار نے اپنی رشتہ داری کا لحاظ نہ کیا یوسف کی حمایت میں سچائی ظاہر کردی اور یہی وہ سبق تھا جس کو قرآن کریم ہماری زندگی کے لئے اجاگر کرنا چاہتا تھا کہ وہاں کا معاملہ تو جو ہونا تھا ہوگیا تم غور کرو کہ ایک کافر معاشرہ کے اندر تو سچائی کا یہ الم اور تمہارے اسلامی معاشرہ کی حالت کیا ؟ اور عزیز مصر کی بیوی کو نرم لہجہ میں صرف یہ کہہ دینا کہ ” جا اپنے گناہ کی معافی مانگ “ یہ مصری معاشرہ کی عکاسی ہے اور عورتوں کا مردوں پر کافی حدتک حاوی ہونے کا ثبوت ہے اور اس بات کی نشاندہی ہے کہ عزیز مصر اپنی حالت مردانگی میں اتنا کمزور تھا کہ وہ عورت کی نہ برداشت ہونے والی حرکت کو بھی برداشت کر گیا۔
Ayah 12:30عزیز مصر نے کوشش کی کہ بات دب جائے لیکن شہر میں عورتوں نے چہ مگوئیاں شروع کر دیں
۔ 40 عزیز مصر نے اگرچہ فضیحت و رسوائی سے بچنے کے لئے اس معاملہ کو یہیں پر ختم کردیا مگر بات پوشیدہ نہ رہ سکی اور شدہ شدہ شاہی خاندان کی عورتوں میں یہ چرچا ہونے ہی لگا کہ عزیز مصر کی بیوی کس قدر بےحیاء ہے کہ اپنے غلام پر ریجھ گئی ہے۔ اتنے بڑے مرتبہ کی عورت اور غلام سے اختلاط کا ارادہ ہے ؟ اس طرح جب امرا العزیز کی وارفتگی کا چرچا عام ہونے لگا اور بڑے بڑے رئوسا کی بیگمات جہاں اکٹھی ہوتیں تو ان کا موضوع سخن امراۃ العزیز کی داستان محبت ہوتی اور طعن وتشنیع ان کی یہ نہ تھی کہ اس نے کسی غیر مرد کی طرف توجہ کی بلکہ یہ تھی کہ کتنی گھٹیا ہے کہ اپنے غلام پر ڈورے ڈالنے لگی ہے اس کی محبت نے تو اس کو بالکل دیوانہ بنا دیا ہے اور اسے اپنے مقام کا بھی پاس نہیں ہے مصر کے ایک رئیس اعظم کی بیوی ہو کر اپنے غلام پر اس طرح فریفتہ ہوجانا کتنی بڑی نادانی کی بات ہے ” ہم تو اسے کھلی حماقت میں مبتلا پاتی ہیں۔ “ یعنی وہ عقل و فہم سے بیگانہ ہے اتنی سمجھ میں نہیں رکھتی کہ میں کہاں جوڑ جوڑنے لگی ہوں۔
Ayah 12:31عورتوں کا یہ چرچا امراۃ العزیز تک بھی پہنچ گیا تو اس نے ان کی دعوت کا انتظام کر دیا
۔ 41 یہ خبر آہستہ آہستہ امراۃ العزیز تک بھی پہنچ گئی ، اس کو یہ طن بیحد شاق گزرا۔ اس نے چا ہا کہ وہ ان سے انتقام لے اور ایسا انتقام لے کہ جس بات سے وہ مجھ پر طعن کرتی ہیں اس میں ان کو بھی مبتلا کیا جائے۔ یہ سوچ کر اس سکیم کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ایک روز اس نے شاہی خاندان او عمائدین شہر کی عورتوں کو دعوت دی اور جب سب کی سب دسترخوان پر بیٹھ گئیں اور سب کے سامنے اشیائے خوردو نوش اور آلات خوردو نوش رکھ دیئے یعنی دستر خوان لگا دیا گیا اور شرکاء دعوت نے کھانا شروع کردیا تو عزیز مصر نے یوسف کو سامنے آنے کا حم دیا۔ یوسف بہرحال اس گھر کا خادم تھا۔ اسے گھر کی ملا کہ نے آواز دی تھی کہ ادھر آئو۔ یوسف حاضر و گیا نظریں نیچی کئے چہرہ نور عصمت سے جگمگایا ہوا اور شہر کی ایک سے بڑھ کر ایک حسین و جمیل وزیر زادیوں اور امیر زادیوں کا مجمع ۔ ان عورتوں نے جب اس حسن معصوم کو دیکھا تو وہ سب کی سب دل ہارتے ہوئے کٹ کر رہ گئیں اور اس وارفتگی میں انہوں نے کیا کچھ کیا اور کیا کچھ ہوگیا انہیں خبر تک نہ ہوئی کہ کس کس کے ہاتھ پر چھری پھری اور کس کس کا دل کٹ کر رہ گیا اور کون کون قتیلہ ہوگئی ۔ لیکن جو ان کو سامنے نظر آ رہا ہے اس پر تقدس نبوت کی ہیبت ، یہ پیکر رعنا اور اس پہ عصمت و طہارت کی خلعت فاخرہ ، جال و جلال کے ایسے حسین امتزاج کا تو انہوں نے کبھی تصور تک نہ کیا تھا۔ انہوں نے جب یوسف کو دیکھا تو حیران و ششدرہ رہ گئیں اور بےساختہ ان کی زبانوں سے نکلا سبحان اللہ ، سبحان اللہ ، پاک ہے وہ اللہ جس نے اے یوسف ! تجھ کو پیدا فرمایا۔ اس طرح کہتی ہوئی وہ امراۃ العزیز کو دیکھنے لگیں اور کہنے لگیں اے امراۃ العزیز یہ انسان تو نہیں خدا کی قسم یہ تو کوئی فرشتہ ہے۔ اس وقت گویا ایک امراۃ العزیز ہی کا فتنہ نہ تھا دارالحکومت مصر کے تمام فتنہ گران حسن جمع ہوگئے تھے کہ یوسف کی متاع ضبط و تحمل کی غارت گریوں میں حصہ لیں۔ ع وائے برصید کہ یک باشد و صیادے چند !
انہوں نے ایک خوبصورت اور نیک سیرت نوجوان کو انگیخت کرنے کے لئے اپنا جو آخری تیر چلایا وہ بھی یہ تھا کہ حاشاً للہ اما ھذا بشراط ان ھذا الا ملک کریم (12 : 32)
ہزار دام سے نکلا ہوا ایک جنبش میں ٭ جسے غرور ہو ، آئے کرلے شکار مجھے
ہمارے مفسرین نے ان ہاتھ کاٹنے والیوں کے ہاتھوں کا خوب جائزہ لیا ہے کہ کس کا کتنا ہاتھ کٹا ؟ کس کو کیا خراش آئی ؟ اور کس کا ہاتھ کٹ کر بالکل ہی الگ ہوگیا ؟ لیکن ان کا تصور اپنے ہاں کے ” قتیلوں “ کی طرف نہ گیا کہ ان کو اس پیمائش کی ضرورت پیش نہ آتی اور وہ ہاتھ کاٹنے کی حقیقت کو سمجھ جاتے۔ لیکن افسوس ! کہ ہمارے ہاں لفظی بحث سے پیچھا نہیں چھڑایا جاسکتا۔
Ayah 12:32۔ 42 امراۃ العزیز نے یہ معرکہ سر کرلیا۔ اس نے جب دیکھا کہ یہ سب کی سب بےخود ہوچکی ہیں تو فاتحانہ انداز میں کہا یہی وہ یوسف ہے جس کے عشق کے طعنے تم مجھے دیا کرتی ہو تم تو اس کے حسن کی ایک جھلک کی بھی تاب نہ لاسکیں کیا اب بھی مجھ پر زبان طعن دراز کرو گی ؟ کیا اب بھی مجھے نادان اور بیوقوف کہو گی ؟ اس نے دھڑلے سے کہا کہ ” بلاشبہ میں نے اس کے دل کو اپنے قابو میں لینا چاہا تھا مگر وہ بےقابو نہ ہوا۔ “ غور کرو کہ اب وہ کس بیباکی کے ساتھ یوسف کو ورغلانے اور اس کو اپنے دام فریب میں لانے کی ناپاک کوشش کا ذکر کر رہی ہے۔ اسے یہ خیال بھی نہ آیا کہ کیا کہہ رہی ہے ؟ نہیں اس کو معلوم تھا کہ وہ جو کچھ کہہ رہی ہے اس کو اس سوسائٹی میں داد ملے گی اور ایک نہیں اب تو ساری کی ساری اس کو حق بجانب جانیں گی یہی وجہ ہے کہ اس کو تو کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ تم نے یہ کیسے اعتراف کرلیا اور وہ کہہ بھی کیا سکتی تھیں جو خود اپنے ہاتھوں کو کاٹ چکی تھیں۔ ہاں ! اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصری معاشرہ میں اس وقت یہ چیزیں معیوب نہیں خیال کی جاتی تھیں۔ جس طرح آج کل یورپ کے معاشرہ اور یورپ زدہ معاشروں میں اپنے عشق و معاشقہ کی داستانیں بڑے فخر سے بیان کی جاتی ہیں۔ یہی اس وقت ان کی حالت تھی۔ امراۃ العزیز کی داستان کی شہرت کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ ایک وزیر کی بیگم ہو کر ایسا فعل چاہتی ہے۔ اس کی شہرت کا باعث یہ ہوا کہ وہ اپنے ایک غلام کے دام محبت میں اس یر ہے بلکہ یوسف کا اس کی خواہش کو ٹھکرا دینا اور اس کی منت و سماجت کے باوجود اس کی طرف نگاہ التفات نہ کرنا اس داستان کی ہشرت کا باعث بنا۔ جب کسی قوم کے غیرت و حمیت کے جذبات فنا ہوجاتے ہیں اور شرم و حیاء کے تقاضے پس پشت ڈال دیئے جاتے ہیں تو وہاں یہ چیزیں تہذیب و شائستگی کی علامت سمجھی جاتی ہیں اور اس طرح کے واقعات کے ذکر پر شرمانے کی بجائے فخر کیا جاتا ہے۔
” میں نے اس کے دل کو اپنے قابو میں لینا چاہا تھا مگر وہ بےقابو نہ ہوا۔ “ امراۃ العزیز نے یہ جملہ یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کا ذکر آپ کی سیرت کو بلند کرنے کیلئے نہیں کہا تھا بلکہ یوسف پر یہ الزام لگانے کے لئے اپنی ان سہیلیوں کو بتلا رہی ہے کہ اس شخص نے اب تک میرے حسن و شباب کی توہین کی ہے اور میرے جذبات کو مجروح کیا ہے میں نے اب تک اس کی مجرمانہ بیباکی کو برداشت کیا ہے لیکن اب میں اس سے زیادہ اپنی توہین برداشت نہیں کرسکتی اگر اس نے حسب سابقہ میرا مطالبہ نہ مانا تو میں اسے ذلیل و رسوا کر کے جیل بھجوا دوں گی اور اس طرح وہ خود بےآبرو ہو کر رہ جائے گا اس لئے ابھی اس کے لئے موقعہ ہے کہ وہ اس بےعزتی سے بچنے کے لئے میری بات مان جائے۔
Ayah 12:33یوسف نے یہ سنا اور اپنے رب کے ہاں بدست دعا ہوگیا کہ اے اللہ ! مجھے قید خانہ منظور
۔ 43 جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ امراۃ العزیز نے گویا یوسف (علیہ السلام) کو ایک طرح کی دھمکی دے دی اور جب یوسف (علیہ السلام) نے اس کی یہ دھمکی سنی اور ان عورتوں میں بھی ضرور ایسی ہوں گی جنہوں نے یوسف کو سمجھایا کہ یوسف نادان نہ بنو ! اپنی جوانی اور حسن پر رحم کرو تم کتنے خوش قسمت ہو کہ مصر کی ایک امیر ترین اور حسین ترین عورت تجھ دل سے چاہتی ہے تم کیوں بضد ہو تم اس کی درخواست کو منظور کرلو اور تم تو ویسے بھی اس کے غلام ہو اور جو کچھ وہ تم کو کہے وہ کرنا ہی ہوگا۔ یہ صورتحال دیکھو کہ آپ دست بدعا ہوگئے اور کہنے لگے ” اے میرے مالک ! بلاشبہ مجھے یہاں ہزارہا آرام ہے اور ہر شخص میرا دل سے احترام کرتا ہے لیکن اگر اس آرام اور احترام کی مجھے یہ قیمت ادا کرنی پڑے کہ میں تیری نافرمانی کروں ، تو اے کریم ! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا ۔ قید و بند کی صعوبتیں اور سختیاں جو مجھے اس گناہ سے بچائیں وہ مجھے اس آرام و احترام سے ہزار بار عزیز ہیں۔
غور کرو کہ راست بازی و حق پرستی کی آزمائش نے اچانک کیسی صورت اختیار کرلی ؟ دنیا میں انسانوں کو سزائیں اس لئے بھگتنی پڑتی ہیں کہ جرم و معصیت سے اپنے کو نہیں روک سکتے لیکن اب حضرت یوسف کے سامنے قید کی سزا اس لئے لائی جا رہی ہے کہ جرم و معصیت سے کیوں اپنے آپ کو روک رہے ہیں ! لوگوں کو قید و بند کی مصیبت اس لئے برداشت کرنی پڑتی ہے کہ عیش حیات ڈھونڈھتے ہیں اور جب نہیں ملتا تو جبراً لینا چاہتے ہیں لیکن حضرت یوسف کو اس لئے قید خانے کی دھمکی دی جا رہی ہے کہ عیش حیات نے اپنی ساری دلفریبیوں اور رعنائیوں کے ساتھ انہیں دعوت دی اور انہوں نے اس سے منہ موڑ لیا۔
یہ حضرت یوسف کی سیرت کا سب سے زیادہ عظیم مظاہرہ ہے ، یہ عشق حق کا نمونہ ہے۔ یہ پرستاری صدق دستور العمل ہے۔ یہ ایمان کامل کا معیار ہے۔ جب ان کے سامنے دو باتیں پیش کی گئیں۔ ۔ 1 زندگی کا عیش مگر معصیت حق کی راہ میں ۔۔ 2 زندگی کے شدائد مگر رسات بازی کی راہ میں۔ تو ان کا فیصلہ قطعی اور بغیر کسی تامل کے یہ تھا کہ السجن احب الی مما بدعوننی الیف قید خانہ مجھے محبوب ہے مگر وہ بات نہیں جس کی مجھے دعوت دی جا رہی ہے۔
یوسف نے دعا جاری رکھتے ہوئے اپیل کی کہ اے اللہ ! اگر تو نے نہ بچایا تو میں پھسل جائوں گا
۔ 44 واہ یوسف ! کمال ہے تیری عبدیت کا ؟ تیری وارفتگی کا ؟ کمال ہے تیرے تقویٰ و پرہیز گاری کا ؟ کہ اعتماد اپنی ذات پر نہیں ہو رہا۔ دعا بس اللہ تعالیٰ ہی سے ہے کہ آپ ہی مجھے سنبھال رکھئے جیسا کہ اب تک سنبھالے رکھا ہے ورنہ مجھ بشر کی کیا بساط ہے کہ ان ترغیبات کے سامنے ثابت قدم رہ سکوں۔ اے میرے رب ذوالجلال والا کرام اگر تو مجھے ان کے مکر و فریب سے نہ بچائے اور میری دستگیری نہ کرے تو میں ایک لمحہ بھی ان کی عیاریوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ میرے قدم تو پھسل جائیں گے اور مجھ سے ایسا قوصر سرزد ہوجائے گا کہ میرا شمار پھر صادقین اور مخلفین میں نہ ہوگا بلکہ جاہلوں میں ہونے لگے گا۔
افسوس ! صد افسوس کہ ہمارے مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت یوسف کی بد شگونی تھی کہ قید خانہ کی بات بول اٹھے۔ اگر جلدی میں آ کر ایسا نہ کہہ دیتے تو یہ ابتلا پیش نہ آتی۔ افسوس ! کہ کس قدر حقیقت فراموشی ہے ! حضرت یوسف کی جو بات ان کی پاکیزگی و عظمت کا سب سے بڑا جوہر تھی وہی حقیقت حقیقت نا آشنائوں کی نظر میں ان کی لغزش ہوگئی۔ گویا حضرت یوسف کا قید خانہ کو معصیت پر ترجیح دینا اور اسے خوشی خوشی اختیار کرلینا کوئی ایسی بات تھی جو نہ ہونی چاہئے تھی اور صرف اس لئے ہوگئی کہ حضرت یوسف نے بدشگوی کی بات کہہ دی تھی ! غور کرو کہ قرآن کہاں ہے اور کیا کہتا ہے ؟ اور شارح کہاں پنچ گئے ہیں۔
نزلوا بمکۃ فی قبائل ھاشمی ٭ ونزلت بالبیداء ا بعد منزل !
Ayah 12:34یوسف کی دعا قبول ہوگئی اور عورتوں کی ساری مکاریاں رک گئیں
۔ 45 ” ’ یکھو ! اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرلی۔ “ اور آپ کو معصیت و عفاف کے بلند مقام سے ذرا بھی ہٹنے نہ دیا۔ آپ کی دعا وہ کو سنی دعا تھی جو قبول ہوئی ؟ وہ دعا یقینا ثبات عصمت کی تھی کہ ایسے تقویٰ شکن حالات میں بھی میرے قدم ثبات کو ذرا بھی لغزش نہ ہو اور حسن عریاں کی کوئی یورش آپ کو متزلزل نہ کرسکے اور بحمد للہ وہ حرف بہ حرف پوری ہوگئی کہ بلاشبہ وہی ذات کبریا دعائوں کا سننے والا اور ہر انسان کے ہر حال سے بخوبی واقف ہے۔
عزیز مصر پر یوسف (علیہ السلام) کی سچائی ظاہر ہوگئی اس لئے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی تھی لیکن اس کی بیوی کا عشق ایسا نہ تھا جو اس ناکامی سے سرد پڑجاتا وہ اور زیادہ بڑھ گیا اور جب دیکھا کہ طلب و الحاج سے کسی طرح کام نہیں بنتا تو وہ سختی پر اتر آئی اور یوسف سے کہا کہ یا تو میرا کہا مانو یا جیل کی ذلت و رسوائی کے لئے تیار ہو جائو۔