Ayah 12:1اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ قرآن کی آیات کتاب مبین کی آیات ہیں، یعنی جس کے الفاظ اور معانی واضح ہیں۔ اس کے واضح اور بین ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا جو سب سے زیادہ فضیلت کی حامل اور سب سے زیادہ واضح زبان ہے (المبین سے) سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب مقدس ان تمام حقائق نافعہ کو بیان کرتی ہے جن کے لوگ حاجت مند ہیں اور یہ سب ایضاح وتبیین ہے۔
Ayah 12:2لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : تاکہ تم سمجھو۔ یعنی تاکہ اس کی حدود، اس کے اصول و فروع اور اس کے اوامرو نواہی کو سمجھ سکو جب تم اس کو ایقان کے ساتھ سمجھ لوگے اور تمہارے دل اسی معرفت سے لبریز ہوجائیں گے تو اس کے ثمرات، جوارح کے عمل اور اطاعت کی صورت میں ظاہر ہوں گے اور لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ یعنی تمہارے اذہان میں عالی شان معانی کی تکرار سے تمہاری عقل میں اضافہ ہوگا اور تم ادنی حا سے اعلی و اکمل احوال میں منتقل ہوجاؤ گے۔
Ayah 12:3نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ : ہم آپ پر بہت اچھا قصہ بیان کرتے ہیں۔ یعنی یہ قصہ اپنی صداقت، اپنی عبارت کی سلاست اور اپنے معانی کی خوبصورتی کی وجہ سے سب سے اچھا قصہ ہے۔ بِمَآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ : اس واسطے کہ بھیجا ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن، یعنی وہ امور جن پر یہ قرآن مشتمل ہے جس کی ہم نے آپ ﷺ کی طرف وحی کی اور اس کے ذریعے سے ہم نے آپ کو تمام انبیاء ومرسلین پر فضیلت بخشی۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و احسان ہے۔ وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : اور یقیناً اس سے پہلے آپ بیخبروں میں سے تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر نزول وحی سے قبل آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا چیز ہے ؟ مگر ہم نے اسے روشنی بنایا ہے اور اس کے ذریعے سے اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ ہدایت دکھاتے ہیں۔ چونکہ یہ قرآن کریم جن قصوں پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی نیز ذکر فرمایا کہ یہ قصہ علی الاطلاق بہترین قصہ ہے اور تمام کتابوں میں کوئی قصہ ایسا نہیں ملتا جیسا اس قرآن میں پایا جاتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) ، ان کے والد یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کا نہایت خوبصورت اور تعجب انگیز قصہ ذکر فرمایا
Ayah 12:4معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ اس نے اس کتاب کریم میں اپنے رسول ﷺ پر بہترین قصہ بیان فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ یہ قصہ نہات بسط و تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا اور اس قصے کے متعلق تمام واقعات ذکر کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ یہ قصہ نہایت کامل اور بہت خوبصورت ہے۔ جو کوئی اس قصہ کی ان اسرائیلیات کے ذریعے سے تکمیل اور اس کو مزین کرنا چاہتا ہے، جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے اور ان کو روایت کرنے والے کا نام تک معلوم نہیں جن میں سے اکثر جھوٹ پر مبنی ہیں، وہ درحقیقت اللہ تعالیٰ پر استدراک کرنا چاہتا ہے۔ وہ بزعم خود ناقص اور نامکمل چیز کی تکمیل کرتا ہے اور آپ کے لیے یہی کافر ہے اس لیے کہ بہت سی کتب تفسیر اس سورة مبارکہ سے کئی گنا زیادہ جھوٹے قصے کہانیوں اور انتہائی قبیح امور سے، جو اللہ کے بیان کردہ واقعات کے متناقض ہیں، لبریز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں سے اکثر باتوں کو بیان نہیں فرمایا۔ اس لیے بندے پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ واقعات کو خوب اچھی طرح سمجھ لے اور ان تمام قصے کہانیوں کو چھوڑ دے جو رسول اللہ ﷺ سے منقول نہیں ہیں۔
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ : جب یوسف (علیہ السلام) نے کہا۔ یعنی جب یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا۔ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ : ابا جان ! میں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ خواب یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا مقدمہ ہے جن کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں بلند مقام پر فائز ہوئے۔ اسی طرح جب اللہ بڑے بڑے اصولی امور کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے پہلے تقدیم پیش کرتا ہے جو اس امر کے لیے تمہید اور تسہیل کا کام دیتی ہے اور بندے کو ان مشقوں کے لیے تیار کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کے احسان کے طور پر بندے پر وارد ہوتی ہیں۔ یعقوب (علیہ السلام) نے اس خواب کی یہ تاویل کی، کہ سورج سے مراد یوسف (علیہ السلام) کی والدہ، چاند سے مراد والد اور ستاروں سے مراد ان کے بھائی ہیں۔ نیز یہ کہ یہ حالات ایسے حالات میں بدل جائیں گے کہ مذکورہ تمام لوگ یوسف (علیہ السلام) کے مطیع ہوں گے اور ان کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے۔ یہ سب کچھ صرف ان اسباب کی بنا پر ہوگا جو یوسف (علیہ السلام) کو پیش آئیں گے، اللہ تعالیٰ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے فضل و کرم کے لیے چن لے گا اور علم و عمل کی نعمت سے ان کو مالا مال فرمائے گا اور زمین میں اقتدار عطا کر کے آپ پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرے گا اور اقتدار کی یہ نعمت تبعاً تمام آل یعقوب کو شامل ہوگی جو یوسف علیہ السلا کے سامنے سرافگندہ ہوں گے۔
Ayah 12:5جب یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب کی تعبیر مکمل کرلی تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف سے فرمایا يٰبُنَيَّ لَا تَقْصُصْ رُءْيَاكَ عَلٰٓي اِخْوَتِكَ فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا : اے بیٹے ! اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا پھر وہ بنائیں گے تیرے واسطے کچھ فریب۔ یعنی تمہارے ساتھ اپنے حسد کی وجہ سے تمہارے خلاف کوئی چال چلیں گے کہ کہیں تم ان کے سردار اور سربراہ نہ بن جاؤ۔ اِنَّ الشَّيْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ : بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ وہ دن رات اور کھلے چھپے اس پر وار کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کرتا۔ اس لیے ان اسباب سے دور رہنا بہتر ہے جن کے ذریعے سے وہ بندے پر تسلط حاصل کرتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے حکم کی تعمیل کی اور انہوں نے اپنے بھائیوں کو اس خوب کے بارے میں کچھ نہ بتایا، بلکہ اس کو چھپائے رکھا۔
Ayah 12:6وَكَذٰلِكَ يَجْتَبِيْكَ رَبُّكَ : اور اسی طرح چن لے گا تجھ کو تیرا رب۔ یعنی اللہ جل شانہ تجھ کو اوصاف جلیلہ اور مناقب جمیلہ کی نعمتوں سے نواز کر چن لے گا۔ وَيُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : اور سکھلائے گا تجھ کو ٹھکانے پر لگانا باتوں کا۔ یعنی خوابوں کی تعبیر اور کتب سماویہ میں وارد ہونے والے سچے واقعات کی تاویل وغیرہ۔ وَيُـــتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَيْكَ : اور تجھ پر اپنی نعمت پوری کرے گا۔ اور دنیا و آخرت میں تجھ پر اپنی نعتم کی تکمیل کرے گا۔ یعنی وہ دنیا میں بھی تجھ کو بھلائی عطا کرے گا اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے گا۔ كَمَآ اَتَمَّــهَا عَلٰٓي اَبَوَيْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ : جیسے اس نے پورا کیا اس نعمت کو اس سے پہلے تیرے باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر۔ اللہ تعالیٰ نے جناب ابراہیم اور جناب اس حق کو عظیم اور بےپایاں دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازا۔ اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ : بیشک تیرا رب جاننے والا، حکمت والا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا علم تمام اشیاء اور بندوں کے سینوں میں چھپے ہوئے اچھے برے خیالات کا محیط ہے۔ پس وہ سب کو اپنی حمد و حکمت کے مطابق عطا کرتا ہے۔ وہ حکمت والا ہے اور تمام اشیا کو ان کے اپنے اپنے مقام پر رکھتا ہے۔
Ayah 12:7اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ: یقیناً یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصہ میں نشانیاں ہیں۔ یعنی قصہ یوسف میں عبرتیں اور بہت سے مطالب حسنہ پر دلائل ہیں۔ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ : پوچھنے والوں کے لیے۔ یعنی ہر اس شخص کے لیے جو زبان حال یا زبان قال کے ذیعے سے اس قصے کے بارے میں سوال کرتا ہے، کیونکہ سوال کرنے والے لوگ ہی آیات الٰہی اور عبرتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور رہے روگردانی کرنے والے، تو وہ آیات الٰہی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ قصوں اور واضح دلائل سے۔
Ayah 12:8اِذْ قَالُوْا : جب انہوں نے کہا۔ یعنی جب انہوں نے آپس میں کہا۔ لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ : یوسف اور اس کا بھائی۔ یعنی یوسف اور ان کے حقیقی بھائی بنیامین، ورنہ تو وہ سب ان کے بھائی تھے۔ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ: ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت ہیں۔ یعنی حالانکہ ہم بھائی ایک جماعت ہیں پھر وہ اپنی محبت اور شفقت میں ان دونوں کو کیوں فضیلت دیتے ہیں۔ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِ : یقیناً ہمارا باپ واضح غلطی پر ہے۔ کیونکہ اس نے بغیر کسی موجب کے جس کو ہم دیکھ سکیں اور بغیر کسی ایسے سبب کے جس کا ہم مشاہدہ کرسکیں، ان دونوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔
Ayah 12:9اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : یوسف کو مار ڈالو یا اس کو پھینک دو کسی زمین میں، یعنی کہیں دور علاقے میں لے جا کر اس کو باپ کی نظروں سے دور کردو جہاں وہ اپنے باپ کو نظر نہ آسکے۔ اگر نے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر عمل کرلیا۔ يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ : تو خالص ہوجائے گی تمہارے باپ کی توجہ تمہارے لیے۔ یعنی وہ تمہارے لیے فارغ ہوگا اور تمہارا باپ تمہارے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آے گا، کیونکہ وہ اس وقت یوسف کی محبت میں مشغول ہے تمہاری محبت کے لیے اس کے پاس فراغت نہیں۔ وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ : اور ہوجانا تم اس کے، یعنی یہ کام کرنے کے بعد۔ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : نیک لوگ۔ یعنی تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرلینا اور اپنے اس گناہ کی معافی مانگ لینا۔ انہوں نے گناہ کے صدور سے پہلے ہی توبہ کا عزم کیا، تاکہ گناہ کا ارتکاب آسان ہو، اس کی برائی زائل ہو اور اس گناہ پر آمادہ کرنے کے لیے ایک دوسرے میں حوصلہ پیدا کریں۔
Ayah 12:10قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ : ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں میں سے کسی نے کہا جنہوں نے یوسف کو قتل کرنے یا جلا وطن کرنے کا ارادہ کیا۔ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ : یوسف کو قتل نہ کرو، کیونکہ اس کو قتل کرنا بہت بڑی برائی اور بہت بڑا گناہ ہے اور یہ مقصد کہ یوسف (علیہ السلام) کو اس کے باپ سے دور کردیا جائے، یوسف کو قتل کیے بغیر حاصل ہوجائے گا، اس لیے تم یہ کرو کہ باپ سے دور کرنے کے لیے اسے اندھے کنویں میں ڈال دو اور یوسف کو دھمکی دو کہ وہ بھائیوں کی اس کارستانی کے بارے میں کسی کو آگاہ نہ کرے اور اپنے بارے میں یہی بتائے کہ وہ بھاگا ہوا ایک غلام ہے۔ اس وجہ سے کہ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ : کوئی قافلے والا نکال کر اسے لے جائے گا۔ جو کہیں دور جا رہے ہوں گے اور وہ یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے جائیں گے اور اس کی حفاظت کریں گے۔ اس قول کا قائل جناب یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سب سے اچھی رائے رکھنے والا اور اس پورے قضیے میں سب سے زیادہ نیک اور تقوی پر مبنی رویے کا حامل تھا، کیونکہ کچھ برائیاں دوسری برائیوں سے کم تر ہوتی ہیں اور کم تر نقصان کے ذریعے سے بڑے نقصان کو دور کرلیا جاسکتا ہے۔ پس جب وہ اس رائے پر متفق ہوگئے۔
Ayahs 12:11–14آیت 11 تا 14: یعنی جناب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنے باپ سے کہا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ : اباجان کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہٰیں کرتے۔ یعنی کون سی چیز بغیر کسی سبب اور موجب کے یوسف کے بارے میں آپ کو ہم سے خائف کر رہی ہے اور حال یہ ہے کہ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ : ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔ یعنی ہم اس پر شفقت رکھتے ہیں اور ہم اس کے لیے وہی کچھ چاہتے ہیں جو اپنے لیے چاہتے ہیں۔ برادران یوسف کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف علی السلام کو ان کے بھائیوں کے ساتھ جنگل وغیرہ کی طرف نہیں جانے دیا کرتے تھے۔ جب انہوں نے اپنے آپ سے اس تہمت کو رفع کردیا جو یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ بھیجنے سے مانع تھی تو انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اس مصلحت کا ذکر کیا جسے یعقوب (علیہ السلام) پسند کرتے تھے جو اس امر کا تقاضا کرتی تھی کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ بھیج دیں۔ تو کہنے لگے اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا يَّرْتَعْ وَيَلْعَبْ : بھیج دو اس کو ہمارے ساتھ کل کو خوب کھائے اور کھیلے، یعنی وہ جنگل میں تفریح کر کے وحشت دور کرلے۔ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ : اور ہم اس کے نگہبان ہیں۔ یعنی ہم اس کا دھیان رکھیں گے اور ہر تکلیف دہ چیز سے اس کی حفاظت کریں گے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے جواب میں ان سے فرمایا قَالَ اِنِّىْ لَيَحْزُنُنِيْٓ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ : تمہارا اس یوسف کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہے، اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسف (علیہ السلام) کو تمہارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے وَاَخَافُ اَنْ يَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ : مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھاجائے۔ تمہارے، اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے، کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کرسکتا۔ قَالُوْا لَىِٕنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ : انہوں نے کہا، اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا اور ہم ایک قوی جماعت ہیں، یعنی ہم ایک جماعت ہیں اور اس کی حفاظت کے حریص ہیں۔ اِنَّآ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ : تب تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والے ہیں، یعنی اگر بھیڑیا یوسف (علیہ السلام) کو ہم سے چھین کر کھاجائے تب تو ہم میں کوئی بھلائی اور کوئی نفع نہیں جس کی امید کی جاسکے، جب انہوں نے اپنے باپ کے سامنے ان تمام اسباب کو تمہید کے ساتھ بیان کیا جو ویسف (علیہ السلام) کو ساتھ بھیجنے کے داعی تھے اور عدم موانع کا ذکر کیا تو یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو تفریح کے لیے ان کے ساتھ بھیج دیا۔
Ayahs 12:15–18آیت 15 تا 18:
یعنی جب وہ باپ کی اجازت کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو ساتھ لے گئے اور انہوں نے اپنے میں سے ایک کی رائے کے مطابق، جس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے، یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینکنے کا عزم کرلیا اور اب وہ اپنے فیصلے پر عمل کرنے کی قدرت رکھتے تھے چناچہ انہوں نے اپنے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) کو اندھے کنوئیں میں پھینک دیا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جناب یوسف (علیہ السلام) کو جو کہ اس وقت سخت خوف کی حالت میں تھے اپنے لطف و کرم سے نوازتے ہوئے ان کی طرف وحی کی لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ ھٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ : کہ تو جتائے گا ان کو ان کا یہ کام اور وہ تجھ کو نہ جانیں گے۔ یعنی آپ عنقریب اس معاملے میں ان پر عتاب کریں گے اور ان کو اس بارے میں آگاہ کریں گے اور انہیں اس معاملے کا شعور تک نہ ہوگا۔ اس میں جناب یوسف (علیہ السلام) کے لیے بشارت تھی کہ وہ اس مصیبت سے ضرور نجات پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس حالت میں ان کو اپنے گھر والوں کے ساتھ اکٹھا کرے گا کہ عزت اور ملک کا اقتدار ان کے پاس ہوگا۔
وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ : اور وہ اندھیرا پڑتے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے۔ تاکہ ان کے معمول کے مطابق آنے کے وقت سے تاخیر کر کے اور ان کا روتے دھوتے آنا ان کے حق میں دلیل اور ان کی صداقت کا قرینہ ہو۔ وہ جھوٹا عذر پیش کرتے ہوئے بولے يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ : اباجان ! ہم تو دوڑنے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوگئے۔ ابا جان ! ہم مقابلہ کرنے لگ گئے تھے یہ مقابلہ یا تو دوڑ کا مقابلہ تھا یا تیر اندازی اور نیزہ بازی کا۔ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا : اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے۔ ہم نے سامان کی حفاظت اور یوسف (علیہ السلام) کے آرام کی خاط اسے سامان کے پاس چھوڑ دیا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ تو اسے بھیڑیا کھا گیا۔ جب ہم مقابلہ کر رہے تھے تو ہماری عدم موجودگی میں اسے بھیڑیا کھا گیا۔ وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ : اور آپ ہمارے بات کو گو ہم سچے بھی ہوں، باور نہیں کریں گے۔ یعنی ہم یہ عذر پیش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ آپ ہماری بات نہیں مانیں گے، کیونکہ آپ کا دل یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سخت غم زدہ ہے۔ مگر آپ کا ہماری بات کو نہ ماننا اس بات سے مانع نہیں کہ ہم آپ کے سامنے حقیقی عذر پیش کریں اور یہ سب کچھ ان کے اپنے عذر پر تاکید کے لیے تھا۔
وَ : اور انہوں نے اپنی بات کو اس طرح مؤکد کیا۔ جَاۗءُوْ عَلٰي قَمِيْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ : وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹا خون لگا کر لائے۔ اور دعوی کیا کہ یہ یوسف کا خون ہے اور یہ خون اس وقت لگا تھا جب بھیڑئیے نے یوسف کو کھایا تھا۔ مگر ان کے باپ نے ان کی بات کو تسلیم نہ کیا۔ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا : انہوں (یعقوب) نے کہا، بلکہ تم اپنے دل سے یہ بات بنا لائے ہو۔ یعنی تمہارے نفس نے میرے اور یوسف (علیہ السلام) کے درمیان جدائی ڈالنے لیے ایک برے کام کو تمہارے سامنے مزین کردیا، کیونکہ قرائن و احوال اور یوسف (علیہ السلام) کا خواب، یعقوب (علیہ السلام) کے اس قول پر دلالت کرتے تھے۔ فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ : اچھا صبر (کہ وہی) خوب (ہے) اور جو تم بیان کرتے ہو اس کے بارے میں اللہ ہی سے مدد مطلوب ہے۔ یعنی رہا میں، تو میرا وظیفہ، جس کو قائم رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ ہے کہ میں اس آزمائش پر صبر جمیل سے کام لوں گا۔ مخلوق کے پاس اللہ تعالیٰ کا شکوہ نہیں کروں گا۔ میں اپنے اس وظیفے پر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہوں۔ میں اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جناب یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے دل میں اس امر کا وعدہ کیا اور اپنے خالق کے پاس اپنے اس صدمے کی شکایت ان الفاظ میں کی، انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ۔ میں تو اپنی پریشانی اور غم کی شکایت صرف اللہ کے پاس کرتا ہوں۔ کیونکہ خالق کے پاس شکوہ کرنا صبر کے منافی نہیں اور نبی جب وعدہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے۔
Ayahs 12:19–20آیت 19-20: جناب یوسف (علیہ السلام) کچھ عرصہ اس اندھے کنویں میں پڑے رہے۔ وَجَاۗءَتْ سَيَّارَةٌ : ایک قافلہ آ وارد ہوا۔ یہاں تک کہ ایک قافلہ آیا جو مصر جا رہا تھا۔ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ : انہوں نے اپنے ہر اول سقے کو بھیجا، اس سے مراد وہ شخص ہے جو قافلے کے لیے پانی تلاش کرتا ہے اور ان کے لیے حوض وغیرہ تیار کرتا ہے۔ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ : پس اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔ یعنی پانی تلاش کرنے والے اس سقے نے کنوئیں میں اپنا ڈول ڈالا تو یوسف (علیہ السلام) اس ڈول سے چمٹ کر باہر آگئے۔ قَالَ يٰبُشْرٰي ھٰذَا غُلٰمٌ : یعنی وہ بہت خوش ہوا اور بولا یہ تو قیمتی غلام ہے۔ وَاَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً : اور اس کو تجارت کا مال سمجھ کر چھپالیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی کہیں قریب ہی تھے۔ قافلے والوں نے یوسف کو ان کے بھائیوں سے خرید لیا۔ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ : بہت ہی معمولی قیمت میں۔ پھر اس کی تفسیر یوں بیان فرمائی۔ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ : چند درہموں میں اور وہ اس سے بیزار ہو رہے تھے۔ کیونکہ ان کا مقصد تو صرف یوسف (علیہ السلام) کو غائب کر کے اپنے باپ سے جدا کرنا تھا۔ ان کا مقصد یوسف (علیہ السلام) کی قیمت حاصل کرنا نہ تھا۔
اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ جب یوسف اس قافلے کے ہاتھ لگ گئے تو قافلے والوں نے ان کے معاملے کو چھپانے کا عزم کرلیا، تاکہ وہ انہیں بھی اپنے سامان تجارت میں شامل کرلیں، حتی کہ ان کے بھائی آگئے اور انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں ظاہر کیا کہ وہ ان کا بھاگا ہوا غلام ہے۔ پس قافلے والوں نے انہیں اس معمولی قیمت پر خرید لیا اور انہوں نے قافلے والوں سے یقین حاصل کیا کہ وہ بھاگ نہ جائے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 12:21یعنی قافلہ یوسف (علیہ السلام) کو لے کر مصر چلا گیا اور وہاں جا کر ان کو فروخت کردیا اور عزیز مصر نے انہیں خرید لیا۔ جب عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تو وہ ان کو اچھے لگے، چناچہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں اپنی بیوی کو وصیت کرتے ہوئے کہا اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : اس کو عزت سے رکھ، شاید یہ ہمارے کام آئے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں۔ یعنی یہ ہمیں یا تو اس طرح فائدہ دے گا جس طرح خدمت کے ذریعہ سے غلام فائدہ دیتے ہیں یا ہم اس سے اس انداز سے فائدہ اٹھائیں گے جیسے اولاد سے فائدہ اتھایا جاتا ہے۔ یہ بات اس نے اس لیے کہی کہ شاید ان کے ہاں اولاد نہ تھی۔ وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ : اسی طرح ہم نے جگہ دی یوسف کو اس ملک میں۔ یعنی جس طرح ۃ م نے نہایت آسان کردیا کہ عزیز مصر یوسف (علیہ السلام) کو خرید لے اور آپ کو عزت و تکریم دے، تو اسی طریقے سے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے اقتدار عطا کرنے کے لیے راہ ہموار کی۔ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ : اور اس واسطے کہ اس کو سکھائیں کچھ ٹھکانے پر بٹھانا باتوں کا۔ یعنی انہیں کوئی شغل اور کو ہم و غم لاحق نہ رہا سوائے حصول علم کے اور یہ چیز ان کے لیے علم الاحکام اور علم التعبیر وغیرہ کے حصول کا باعث بن گئی۔ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِه، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا حکم نافذ ہے کوئی ہستی اسے باطل کرسکتی ہے نہ اللہ تعالیٰ پر غالب آسکتی ہے۔ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اسی وجہ سے ان سے اللہ تعالیٰ کے احکام قدریہ کے مقابلے میں افعال سرزد ہوتے ہیں حالانکہ وہ انتہائی عاجز اور انتہائی کمزور ہیں، کوئی مقابلہ کرنے والا اللہ تعالیٰ پر غالب نہیں آسکتا۔
Ayah 12:22وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗٓ : اور جب وہ اپنی جوانی کو پہنچے۔ یعنی جب جناب یوسف (علیہ السلام) کے قوائے حسیہ اور قوائے معنویہ اپنے درجہ کمال کو پہنچ گئے اور ان میں یہ صلاحیت پیدا ہوگئی کہ وہ نبوت اور رسالت کا بھاری بوجھ اٹھا سکیں۔ اٰتَيْنٰهُ حُكْمًا وَّعِلْمًا : تو ہم نے ان کو دانائی اور علم بخشا۔ یعنی ہم نے ان کو نبی، رسول اور عالم ربانی بنادیا۔ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِيْنَ : اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں نیکو کاروں کو۔ یعنی جو پوری کوشش اور خیر خواہی سے خالق کی عبادت میں ” احسان “ سے کام لیتے ہیں اور اللہ کے بندوں کو نفع پہنچا کر ان کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں ہم ان کو ان کے اس احسان کے بدلے علم نافع عطا کرتے ہیں۔ یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) مقام احسان پر فائز تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی قوت، علم کثیر اور نبوت عطا کی۔
Ayahs 12:23–29آیات 23 تا 29:۔ یہ عظیم آزمائش اس سے بہت بڑی تھی جو جناب یوسف (علیہ السلام) کو اپنے بھائیوں کی طرف سے پیش آئی اور اس پر ان کا صبر کرنا بہت بڑے اجر کا موجب بنا، کیونکہ اس قبیح فعل کے وقوع کے لیے کثیر اسباب کے باوجود انہوں نے صبر کو اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کی محبت کو ان اسباب پر مقدم رکھا۔ اس لیے ان کا یہ صبر اختیار تھا اور ان کو اپنے بھائیوں کے ہاتھوں جو آزمائش پیش آئی وہاں ان کا صبر اضطراری تھا۔ جیسے مرض اور دیگر تکالیف بندے کے اختیار کے بغیر اسے لاحق ہوتی ہیں جن میں طوعاً یا کرہاً صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں اور آزمائش کا یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کے گھر میں نہایت عزت و اکرام کے ساتھ رہ رہے تھے۔ وہ کام حسن و جمال اور مردانہ وجاہت کے حامل تھے اور یہی چیز ان کی آزمائش کا موجب بنی۔ وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ : تو جس عورت کے گھر میں وہ رہتے تھے اس نے ان کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) جس عورت کے غلام اور اس کے زیر دست تھے اس نے ان پر ڈورے ڈالنے شروع کردئیے۔ وہ ایک ہی گھر میں رہتے تھے جہاں کسی شعور اور احساس کے بغیر اس مکروہ فعل کے مواقع میسر تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مصیبت یہ نازل ہوئی کہ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ : اس نے دروازے بند کردئیے۔ اور مکان خالی ہوگیا اور دروازوں کو بند کردینے کی بنا پر کسی کے وہاں آنے کا ڈڑ نہ رہا۔ اس عورت نے جناب یوسف کو اپنے ساتھ بدکاری کی دعوت دی۔ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ : کہنے لگی، جلدی آؤ۔ یعنی میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ یہ فعل بد سر انجام دو ۔ اس کے باوجود کہ یوسف (علیہ السلام) ایک غریب الوطن شخص تھے اور ایسا شخص اس طرح اپنے غصے اور ناپسندیدگی کا اظہار نہیں کرسکتا جس طرح وہ اپنے وطن میں جان پہچان کے درمیان ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے اور وہ اس عورت کے اسیر تھے اور وہ عورت ان کی آقا تھی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس عورت میں حسن و جمال تھا۔ یوسف (علیہ السلام) خود جوان اور غیر شادی شدہ تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ عورت دھمکی دے رہی تھی کہ اگر یوسف (علیہ السلام) نے اس کی خواہش پوری نہ کی تو وہ انہیں قید خانے میں بھجوادے گی یا انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے گی۔ مگر بایں ہمہ، جناب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اندر اس فعل کا قوی داعیہ ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے رکے رہے، کیونکہ جس فعل کا ارادہ انہوں نے کرلیا تھا اسے اللہ تعالیٰ کی خاطر ترک کردیا اور اللہ تعالیٰ کی مراد کو اپنے نفس کی مراد پر مقدم رکھا جو ہمیشہ برائی کا حکم دیتا ہے۔ انہیں اپنے رب کی برہان نظر آئی، یعنی ان کے پاس جو علم و ایمان تھا وہ اس بات کا موجب تھا کہ وہ ہر اس چیز کو ترک کردیں جس کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے یہ برہان حق ان کو اس بڑے گناہ سے دور رکھنے کی باعث تھی۔ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ : انہوں نے کہا، اللہ کی پناہ۔ یعنی میں اس انتہائی قبیح فعل کے ارتکاب سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ کیونکہ یہ ایسا فعل ہے جس پر اللہ تعالیٰ سخت ناراض ہوتا ہے۔ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ اپنے سے دور کردیتا ہے، نیز یہ فعل اپنے آقا کے حق میں خیانت ہے جس نے مجھے عزت و تکریم سے نوازا۔ پس مجھے یہ ہرگز زیب نہیں دیتا کہہ میں اس کی بیوی کے ساتھ اس بدترین فعل کے ذریعے سے اس کے احسانات کا بدلہ دوں۔ یہ تو سب سے بڑا ظلم ہے اور ظلم کبھی فلاح نہیں پاتا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس قبیح فعل سے جن امور کو موانع قرار دی اوہ تھے تقوائے الٰہی، اپنے آقا کے حق کی رعایت جس نے ان کو عزت و اکرام سے نوازا تھا اور اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچانا جس کا مرتکب کبھی فلاح نہیں پاتا۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف (علیہ السلام) کو ایمان کی برہان حق سے نوازا جو ان کے قلب میں جازیں تھا جو ان سے اوامر الٰہی کی اطاعت اور نواہی سے اجتناب کا تقاضا کرتا تھا۔ اس پورے معاملے میں جامع بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیا تھا، کیونکہ وہ ان بندوں میں سے تھے جو اپنی عبادات میں اخلاص سے کام لیتے ہیں، جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا اور اپنے لیے خاص کرلی اور ان پر اپنی نعمتوں کی بارش کردی اور تمام ناپسندیدہ امور کو ان سے دور کدیا۔ بنا بریں وہ اللہ تعالیٰ کی بہترین مخلوق میں سے تھے۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) اس عورت کی طرف سے بدی کی سخت ترغیب کے باوجود اس کی خواہش پوری کرنے سے ممتنع رہے اور وہ اس عورت سے اپنے آپ کو چھڑا کر دروازے کی طرف تیزی سے بھاگے، تاکہ وہ بھاگ کر اس فتنہ سے بچ کر نکل جائیں تو وہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی اور پیچھے سے ان کی قمیص کا دامن پکڑ لیا اور ان کی قمیص پھاڑ ڈالی۔ جب وہ دنوں اس حالت میں دروازے پر پہنچے تو انہوں نے دروازے پر عورت کے خاوند کو موجود پایا اس نے یہ معاملہ دیکھا تو اسے سخت شاق گزرا۔ اس عورت نے فوراً جھوٹ گھڑ لیا اور دعوی کیا کہ یوسف اس کے ساتھ زیادتی کرنا چاہتا تھا اور کہنے لگی قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا : اس شخص کی کیا سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے، اور یہ نہیں کہا، من فعل باھلک سوءا۔ جس نے تیری بیوی کے ساتھ برائی کی۔ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اور یوسف (علیہ السلام) کو اس فعل سے بری ظاہر کرنا چاہتی تھی۔ تمام نزاع تو صرف برائی کے ارادے اور ڈورے ڈالنے کے بارے میں تھا۔ اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ : مگر یہی کہ اسے جیل میں ڈال دیا جائے یا اسے دردناک سزا دی جائے۔
یوسف (علیہ السلام) نے اس الزام سے، جو اس عورت نے لگایا تھا، اپنے آپ کو بری کرتے ہوئے کہا هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ : اسی نے مجھ کو مائل کرنا چاہا تھا۔ اس صورت حال میں دونوں کی صداقت کا احتمال تھا مگر یہ معلوم نہیں کیا جاسکتا تھا کہ دونوں میں سے کون سچا ہے ؟ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق اور صداقت کی کچھ علامات اور نشانیاں مقرر فرمائی ہیں۔ جو حق کی طرف راہ نمائی کرتی ہیں جنہیں بسا اوقات بندے جانتے ہیں اور بسا اوقات نہیں جانتے، چناچہ اس قضیہ میں اللہ تعالیٰ نے سچے کی پہچان سے نوازا، تاکہ اس کے نبی اور چنیدہ بندے، جناب یوسف (علیہ السلام) کی براءت کا اظہار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے گھر والوں میں سے ایک شاہد کو کھڑا کردیا اور اس نے قرینے کی گواہی دی کہ جس کے پاس یہ قرینہ موجود ہوگا وہی سچا ہے۔ اس گواہ نے کہا اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ : اگر اس کا کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے تو وہ عورت سچی ہے اور وہ جھوٹا ہے، کیونکہ یہ صورت حال دلالت کرتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) ہی بڑھ کر اس عورت پر ہاتھ ڈالنے والے، اس کو پھسلانے والے اور زور آزمائی کرنے والے تھے اور وہ عورت تو بس اپنی مدافعت کر رہی تھی اور اس نے اپنی مدافعت کی حالت میں اس جانب سے یوسف کا کرتہ پھاڑ ڈالا۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : اور اگر اس کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے، تو وہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے، کیونکہ یہ صورت حال جناب یوسف (علیہ السلام) کے اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے پر دلالت کرتی ہے اور یہ کہ یہ عورت ہی ہے جس نے یوسف (علیہ السلام) پر ڈورے ڈالنے چاہے اور اس طرح کرتہ اس جانب سے پھٹ گیا۔ فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ : پس جب عزیزی مصر نے ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا۔ تو اسے جناب یوسف (علیہ السلام) کی صداقت اور ان کی براءت کا یقین ہوگیا۔ نیز یہ کہ عورت جھوٹی ہے، تو عورت کے شوہر نے اس سے کہا، اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ : یہ ایک فریب ہے تم عورتوں کا، یقینا تمہارا فریب بڑا ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی اور فریب ہوسکتا ہے کہ اس عورت نے بدی کا ارادہ کیا، اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش کی پھر اپنے آپ کو بری قرار دے کر اپنا کرتوت اللہ تعالیٰ کے نبی جناب یوسف کے سر تھوپ دیا۔ جب اس عورت کے شوہر کے سامنے سارا معاملہ متحقق ہوگیا تو اس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کہا يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : یوسف ! جانے دو اس ذکر کو۔ یعنی اس واقعہ کے بارے میں کوئی بات نہ کرو، اسے بھول جاؤ اور کسی سے اس کا ذکر نہ کرو۔ وہ اپنی بیوی کے فعل پر پردہ ڈالنا چاہتا تھا۔ وَاسْتَغْفِرِيْ : اے عورت ! بخشش مانگ۔ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ : اپنے گناہ پر، بیشک تو ہی گناہ گار تھی : اس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو اس تمام معاملے کو نظر انداز کرنے کی درخواست کی اور اس عورت کو توبہ و استغفار کا حکم دیا۔
Ayah 12:30یعنی اس واقعے کی خبر مشہور ہوگئی اور تمام شہر میں پھیل گئی اور اس بارے میں عورتوں نے چہ میگوئیاں کیں اور عزیز مصر کی بیوی کو ملامت کرنے لگیں اور کہنے لگیں : (امرات العزیز تراود فتھا عن نفسہ قد شغفھا حباً ) ” عزیز کی بیوی، پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے، اس کا دل اس کی محبت میں فریفتہ ہوگیا ہے “ یہ کام بہت برا ہے یہ عورت ایک انتہائی معزز شخص کی معزز بیوی ہے، بایں ہمہ وہ اپنے غالم پر ڈورے ڈالتی رہی ہے جو زیردست اور اس کی خدمت پر مامور تھا، اس کے باوجود اس عورت کے دل میں اس غلام کی محبت جاگزیں ہوگئی (قد شغفھا حباً ) ” اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی۔ “ یعنی یوسف کی محبت عورت کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محبت کا انتہائی درجہ ہے۔ (انا لنرھا فی ضلل مبین) ’ دیقیناً ہم اس کو کھلی گمراہی میں دیکھتی ہیں۔ “ یہ عورت اس حالت کو پہنچ گئی ہے جو اس کی شان کے لائق نہیں، یہ حالت لوگوں کے ہاں اس کی قدر و قیمت گھٹا دے گی۔ ان عورتوں کا اس قول سے مجرد ملامت اور محض لعن طعن مقصود نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی ایک چال تھی۔ وہ درحقیقت یہ کہہ کر جناب یوسف تک رسائی حاصل کرنا چاہتی تھیں جن کی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی فتنے میں پڑگئی۔۔۔ تاکہ یہ بات سن کر عزیز مصر کی بیوی غصے میں آئے اور ان کے سامنے آپ کو معذور ظاہر کرنے کے لئے یوسف کا دیدار کروا دے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو مکر قرار دیا۔
Ayah 12:31چناچہ فرمایا : (فلما سمعت بمکرھن ارسلت الیھن) ” جب اس نے ان کا فریب سنا تو ان کو بولا بھیجا “ ان کو اپنے گھر ایک ضیافت پر بلایا (واعتدت لھن متکا) ” اور ان کے لئے ایک مجلس تیار کی “ ان کے لئے ایک ایسی جگہ تیار کی جہاں مختلف اقسام کے فرش بچھے ہوئے تھے جن پر تکئے لگے ہوئے تھے اور کھانے سجے ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں اس ضیافت میں عزیز مصر کی بیوی نے کچھ ایسے کھانے بھی پیش کئے جن میں چھری کے استعمال کی ضرورت پڑتی ہے، مثلاً لیموں وغیرہ (واتت کل واحدۃ منھن سکینا) ” اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دی “ تاکہ اس چھری سے وہ مخصوص کھانا کاٹ سکیں۔ (وقالت) ور یوسف سے بولی : (اخرج علیھن) ” ان کے سامنے نکل آؤ “ اپنے پورے جمال اور رعنائیوں کے ساتھ ان عورتوں کے سامنے آؤ۔ (فلما راینہ اکبرنہ) ” پس جب انہوں نے اسے دیکھا تو اسے بہت بڑا سمجھا “ یعنی اپنے دل میں اسے بہت بڑا سمجھا اور انہیں ایک نہایت عمدہ اور سحر انگیز منظر نظر آیا کہ اس سے پہلے انہوں نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔
(وقطعن) ” اور کاٹ لئے انہوں نے “ یعنی تحیر اور مدہوشی میں (ایدیھن) ” اپنے ہاتھ “ ان چھریوں سے جو ان کے پاس تھیں اپنے ہاتھ کاٹ لئے۔ (وقلن حاش للہ) ” اور کہنے لگیں اللہ تعالیٰ پاک ہے۔ “ (ماھذا بشراً ان ھذا الا ملک کریم) ” یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے “ اس کی وجہیہ تھی کہ جناب یوسف کو بےپناہ حسن و جمال، نورانیت اور مردانہ وجاہت عطا کی گئی تھی جو دیکھنے والوں کے لئے ایک نشانی اور غور کرنے والوں کے لئے عبرت تھی۔
Ayah 12:32جب ان عورتوں کے سامنے یوسف کا ظاہری جمال متحقق ہوگیا اور یوسف ان کو بہت ہی اچھے لگے، تو عزیز مصر کی بیوی پر ان کا بہت کچھ عذر ظاہر ہوگیا۔ پھر اس نے چاہا کہ وہ ان عورتوں کو یوسف کے باطنی جمال۔۔۔ یعنی عفت کامل۔۔۔ کا نظارہ کروائے چناچہ اس عورت نے کسی چیز کے پروا کئے بغیر، کیونکہ آج عورتوں کی طرف سے ملامت منقطع ہوگئی تھی یوسف سے اپنی شدید محبت کا اعلان کرتے ہوئے کہا : (قذ لکن الذی لمتننی فیہ ولقد راودتہ عن نفسہ فاستعصم) ” یہ وہی ہے کہ طعنہ دیا تھا تم نے مجھ کو اس کے بارے میں اور میں نے پھسلایا تھا اس کو اس کے جی سے، پس اس نے اپنے کو بچا لیا “ یعنی اس نے اپنے آپ کو بچا لیا گویا وہ اب بھی یوسف کو پھسلانے کے موقف پر قائم تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بےقراری، محبت اور شوق وصال میں اضافہ ہوتا چلاگ یا تھا۔ لہٰذا اس نے ان عورتوں کی موجودگی میں یوسف سے کہا : (ولئن لم یفعل ما امرہ لیسجنن ولیکونا من الصغرین) ” اگر اس نے وہ کام نہ کیا، جس کا حکم میں اس کو دے رہی ہوں، تو یہ یقیناً قید کردیا جائے گا اور بےعزت ہوگا “ تاکہ وہ اس دھمکی کے ذریعے سے جناب یوسف سے اپنا مقصد حاصل کر کے سکے۔
Ayah 12:33تب یوس فنے اپنے رب سے پناہ مانگی اور ان عورتوں کے مکر و فریب کے مقابلے میں اپنے رب سے مدد کے طلب گار ہئے (قال رب السجن احب الی مما یدعننی الیہ) ” انہوں نے کہا، اب رب ! مجھے قید اس سے زیادہ پسند ہے جس طرح یہ مجھے بلا رہی ہیں “ یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ ان عورتوں نے یوسف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنی مالکہ کا حکم مانیں اور ان عورتوں نے یوسف کو فریب سے پھسلانا شروع کردیا تھا۔ اس لئے یوسف نے اس لذت کے مقابل ی میں، جو اخروی عذاب کی موجب ہے، قید خانے اور دنیاوی عذاب کو پسند کیا۔
(ولا تصرف عنی کیدھن اصب الیھن) ” اور اگر تو نے ان عورتوں کی چالوں اور مکر و فریب کو مجھ سے دور نہ کیا تو میں ان کی طرف مائل ہو کر ان کے دام میں پھنس جاؤں گا “ کیونکہ میں تو ایک عاجز اور کمزور بندہ ہوں (واکن من الجھلین) ” اور میں جاہلوں سے ہوجاؤں گا “ کیونکہ یہ سب جہالت کا کام ہے، کیونکہ جاہل ختم ہوجانے والی قلیل لذت کو جنت میں حاصل ہونے والی دائمی لذات اور انواع و اقسام کی شہوات پر ترجیح دیتا ہے اور جو دنیا کی اس لذت کو جنت کی لذتوں پر ترجیح دیتا ہے اس سے بڑھ کر جاہل کون ہے ؟ علم و عقل ہمیشہ بڑی مصلحت اور دائمی لذت کو مقدم رکھنے اور ان امور کو تجیں دینے کی دعوت دیتے ہیں جن کا انجام قابل ستائش ہوتا ہے۔
Ayah 12:34فاستجاب لہ ربہ) ” تو اس کے رب نے اس کی دعا قبول کرلی۔ “ جب یوسف نے دعا مانگی، اللہ تعالیٰ نے اسے قبول فرما لیا (فصرف عنہ کیدھن) ” پس ان سے ان عورتوں کا فریب پھیر دیا “ وہ عورت جناب یوسف پر ڈورے ڈال کر ان کو اپنے دام فریب میں پھانسنے کی کوشش کرتی رہی اور اس سلسلے میں وہ تمام وسائل استعمال کرتی رہی جو اس کی قدرت و اختیار میں تھے۔ یہاں تک کہ یوسف نے اس کو مایوس کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اس مکرو فریب کو یوسف سے رفع کردیا۔ (انہ ھو السمیع) اللہ تعالیٰ دعا مانگنے والے کی دعا کو سنتا ہے (العلیم) اور اس کی نیک نیت اور کمزور فطرت کو خوب جانتا ہے جو اس کی مدد، معاونت اور اس کے لطف و کرم کا تقاضا کرتی ہے۔ پس یہ دعا تھی جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے جناب یوسف کو اس فتنہ اور بہت بڑی آزمائش سے نجات دی۔
رہے ان کے آقا تو جب یہ خبر مشہور ہوئی اور بات کھل گئی تو لوگوں میں سے کسی نے ان کو معذور سمجھا، کسی نے ملامت کی اور کسی نے جرح و قدح کی۔
Ayah 12:35(بدالھم) ” ان پر ظاہر ہوا۔ “ (من بعد ما راوا الایت) ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد جو یوسف کی برأت پر دلالت کرتی تھیں (لیسجنتہ حتی حین) ” کہ ایک وقت تک ان کو قید میں رکھیں “ تاکہ اس طرح خبر منقطع ہوجائے اور لوگ اس واقعہ کو بھول جائیں، کیونکہ جب کوئی خبر شائع ہوجاتی ہے تو اس کا ذکر عام ہونے لگتا ہے اور وجود اسباب کے باعث یہ خبر پھیلتی چلی جاتی ہے۔ جب اسباب معدوم ہوجاتے ہیں اس واقعہ کو بھلا دیا جاتا ہے۔۔۔ چناچہ انہوں نے اس میں یہی مصلحت دیکھی تو یوسف کو قید خانے میں ڈال دیا۔
Ayah 12:36ودخل معہ السجن فتین) ” اور ان کے ساتھ دو اور جون بھی قید خانے میں داخل ہوئے۔ “ جب یوسف قید خانے میں ڈالے گئے تو ان کے ساتھ دو اور نوجوان بھی قید کئے گئے۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے خواب دیکھا، انہوں نے تعبیر پوچھنے کی غرض سے اپنا اپنا خواب یوسف کو سنایا (قال احمدھما انی ارینی اعصر خمرا وقال الاخر انی ارئنی احمل فوق راسی خبزا) ” ان میں سے ایک نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا، میں دیکھتا ہوں کہ میں اپنے سر پر روٹی اٹھا رہا ہوں “ اور یہ روٹی (تاکل الطیرمنہ) ” پرندے کھا رہے ہیں۔ “ (نبئنا بتاویلہ) ” ہمیں اس کی تعبیر بتا دیجئے۔ ‘ یعنی اس کی تفسیر سے ہمیں آگاہ کیجیے کہ اس خواب کا انجام کیا ہوگا۔ ان دونوں نوجوان قیدیوں نے کا : (انا نرئک من المحسنین) ” بیشک ہم آپ کو بھالئی کرنے والا دیکھتے ہیں “ یعنی آپ مخلوق کے ساتھ بھلائی کرنے والے ہیں۔ آپ ہمیں ہمارے خوابوں کی تعبیر بتا کر ہم پر احسان کیجیے جیسا کہ آپ نے دوسرے لوگوں پر احسان کیا ہے۔ انہوں نے یوسف کے احسان کو وسیلہ بنایا۔
Ayah 12:37(قال) یوسف نے ان کی درواست کا جواب دیتے ہوئے فرمایا، (لا یاتیکما طعام ترزقنہ الا نباتکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما) ” جو کھانا تم کو ملنے والا ہے وہ آنے نہیں پائے گا کہ میں اس سے پہلے تم کو ان کی تعبیر بتادوں گا۔ “ یعنی تمہیں دلی اطمینان ہونا چاہیے کہ میں تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر ضرور بتاؤں گا میں تمہارا کھانا آنے سے بھی پہلے تمہیں تمہارے خواب کی تعبیر بتادوں گا۔
شاید یوسف یہ ارادہ رکھتے تھے کہ اس حال میں، جب کہ ان قیدیوں نے حضرت یوسف کی حاجت محسوس کی وہ ان قدیوں کو ایمان کی دعوت دیں، تاکہ یہ حال ان کی دعوت کے لئے زیادہ مفید اور ان قیدیوں کے لئے زیادہ قابل قبول ہو۔ پھر یوسف سے فرمایا : (ذلکما) یعنی یہ تعبیر جو میں تم دونوں کو بتاؤں گا (مما علمنی ربی) ” یہ اس علم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیا ہے۔ “ نیز اللہ تبارک و تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا اور وہ احسان یہ ہے (انی ترکت ملۃ قوم لایومنون باللہ وھم بالاخرۃ ھم کفرون) ” میں نے اس قوم کا دین چھوڑا جو اللہ پر یقین نہیں رکھتی اور وہ آخرت کے منکر ہیں “ (ترک) کا اطلاق جس طرح اس داخل ہونے والے پر ہوتا ہے جو داخل ہونے کے بعد وہاں سے منتقل ہوجاتا ہے اسی طرح اس شخص پر بھی ہوتا ہے جو الاً اس میں داخل ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے یہ کہنا صحیح نہ ہوگا کہ اس سے پہلے یوسف ملت ابراہیم کے علاوہ کسی اور ملت پر تھے۔
Ayah 12:38(واتبعت ملۃ ابآءی ابراہیم و اسحاق ویعقوب) ” اور میں نے پیروی کی اپنے باپ دادا کی ملت کی، ابراہیم اسحاق اور یعقوب کی “ اس کے بعد یوسف نے ملت ابراہیم کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (ماکان لنا ان نشرک باللہ من شیء) ” ہمارے لائق نہیں کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں “ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کو ایک مانتے ہیں اور اسی کے لئے دین اور عبودیت کو خالص کرتے ہیں۔ (ذلک من فضل اللہ علینا و علی الناس) ” یہ ہم پر اللہ کی بہترین نوازش اور اس کا فضل و احسان ہے۔ “ یہ احسان ان لوگوں پر بھی ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہماری طرح راہ ہدایت پر گامزن کیا ہے، کیونکہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کی اس نوازش اور عنایت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں کہ وہ ان کو اسلام اور دین قویم سے نواز دے۔
پس جو کوئی اسے قبول کرلیتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے، تو یہ اس کی خوش نصیبی ہے وہ سب سے بڑی نعمت اور جلیل ترین فضیلت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے (ولکن اکثر الناس لایشکرون) ” لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے “ اسی لئے ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی نوازشیں اور احسانات آتے ہیں مگر وہ انہیں قبول نہیں کرتے اور نہ اللہ تعالیٰ کے کسی حق کو قائم کرتے ہیں۔
یہ بات مخفی نہیں کہ اس میں اس راستے کی اتباع کی ترغیب ہے جس پر خود جناب یوسف گامزن تھے۔ یوسف نے چونکہ ان نوجوانوں کے بارے میں یہ چیز محسوس کرلی تھی کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یوسف ایک اچھے اور تعلیم دینے والے شخص ہیں۔۔۔ اس لئے جناب یوسف نے ان دونوں کو بتایا کہ میری یہ حلات، جس پر میں اس وقت ہوں، یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا کہ میں شرک سے بچ گیا اور میں نے اپنے آباء و اجداد کی ملت کی اتباع کی اور میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تم مجھے دیکھ رہے ہو تمہارے لئے مناسب یہی ہے کہ تم بھی اس راستے پر چلو جس پر میں چل رہا ہوں۔
Ayah 12:39پھر یوسف نے نہایت صراحت کے ساتھ ان دونوں کو توحید کی دعوت دی۔ فرمایا : (یصاحبی السجن ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القھار) ” اے قید کے ساتھیو ! کیا متفرق معبود بہتر ہیں یا ایک غالب اللہ “ یعنی عاجز اور کمزور معبود جو کسی کو نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی کو عطا کرسکتے ہیں نہ محروم کرسکتے ہیں یہ معبود شجرو و حجر، فرشتوں، مردہ ہستیوں اور دیگر مختلف قسم کے معبودوں میں بکھرے ہوئے اور منقسم ہیں جن کو ان مشرکین نے معبود بنا رکھا ہے کیوا یہ معبود ان اچھے ہیں (ام اللہ) ” یا اللہ “ جو صفات کمال کا مالک ہے (الواحد) وہ اپنی ذات وصفات اور افعال میں یکتا ہے۔ ان تمام امور میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ (القھار) اس کے قہر اور تسلط کے سامنے تمام کائنات سر افگندہ ہے وہ جو چیز چاہتا ہے ہوجاتی ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتی۔ (مامن دآبۃ الا ھو اخذ بنا صیتھا) (ھود :56/11) ” جو بھی چلنے پھرنے والا جاندار ہے اس کی پیشانی اس کے قبضہ اختیار میں ہے۔ “ یہ بات معلوم ہے کہ جس ہستی کی یہ شان اور یہ وصف ہو وہ ان متفرق معبودوں سے بہتر ہے جو محض گھڑے ہوئے نام ہیں جو کسی کمال اور فعل سے عاری ہیں۔
Ayah 12:40بنا بریں یوسف نے فرمایا : (ماتعبدون من دونہ الا اسما سمیتموھا انتم وباء کم ) ” تم اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کترے ہو، وہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں “ یعنی تم نے ان کو معبود کا نام دے دیا ہے حالانکہ یہ کچھ بھی نہیں اور نہ ان میں الوہیت کی صفات میں سے کوئی صفت ہے۔ (ما انزل اللہ بھا من سلطن) ” اللہ نے ان پر کوئی دلیل نازل نہیں کی “ بلکہ اس کے برعکس اللہ تعالیٰ نے ان کی عبادت کی ممانعت نازل کر کے ان کا باطل ہونا واضح کیا ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ان معبود ان باطل کے حق میں کوئی دلیل نازل نہیں کی اس لئے کوئی طریقہ، کوئی وسیلہ اور کوئی دلیل ایسی نہیں جس سے ان کا استحقاق عبودیت ثابت ہوتا ہو۔
(ان الحکم الا للہ) ’ اللہ اکیلے کے سوا کسی کا حکم نہیں، وہی ہے جو حکم دیتا ہے اور منع کرتا ہے، وہی ہے جو تمام شرائع اور احکام کو مشروع کرتا ہے اور وہی ہے (امر الا تعبدوآ الا ایاہ ذلک الدین القیم) ” جس نے حکم دیا کہ عبادت صرف اسی کی کرو، یہی سیدھا مضبوط دین ہے “ یہی صراط مستقیم ہے جو ہر بھلائی کی منزل تک پہنچاتا ہے، دیگر تمام ادیات سیدھی راہ سے محروم ہیں، بلکہ یہ ٹیڑھے راستے ہیں اور ہر برائی تک پہنچاتے ہیں۔ (ولکن اکثر الناس لایعلمون) مگر اکثر لوگ اشیاء کے حقائق کو نہیں جانتے۔ ورنہ اللہ وحدہ لاشریک کی عبادت اور اس کے ساتھ شرک میں فرق سب سے زیادہ واضح اور نمایاں چیز ہے۔ مگر اکثر لوگ علم سے محروم ہونے کی وجہ سے شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔