12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 12:1

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الف لام را۔ یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس (عظیم الشان) کتاب کی3

1 ۔ آیات قرآنی کی عظمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی کتاب عظیم کی۔ یعنی یہ کھول کر بیان کرنے والی ہے عقائد و احکام، اخلاق و معاملات اور دنیا و آخرت کی ہر اس چیز کو جس کی ضرورت انسان کی راہ حق پر چلنے کے ضمن میں پیش آسکتی ہے۔ سو ایسی تمام چیزوں کو یہ کتاب حکیم پوری صراحت و وضاحت سے اور کھول کر بیان کرنے والی ہے۔ اور " مبین " کا لفظ حسب تصریح ائمہ لغت و تفسیر لازمی معنی میں بھی آتا ہے اور متعدی میں بھی۔ یعنی اس کے معنی ظاہر و واضح ہونے کے بھی آتے ہیں اور ظاہر و واضح کردینے کے بھی۔ اور قرآن حکیم میں یہ دونوں صفتیں بدرجہ اتم موجود ہیں کہ اس کے مطالب و مضامین بھی اس کے نظم و نسق سے ظاہر و واضح ہیں کہ ان کو نہایت عمدہ عبارات و اسالیب میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اور دین حق سے متعلق تمام اہم اور بنیادی ضرورتوں اور احکام و مسائل کو بھی اس میں اس قدر کمال جامعیت اور ایسی بےمثال و پر حکمت بلاغت کے ساتھ بیان فرمایا گیا ہے کہ یہ کتاب قیامت تک کی تمام ضرورتوں کی ضامن و کفیل ہے۔ سو یہ کتاب حکیم ظاہر لنفسہ اور مظہر لغیرہ کی دونوں شانوں پر حاوی و مشتمل ہے۔ اور پھر اپنی ان دونوں ہی شانوں میں یہ کتاب حکیم ایسے کمال جامعیت کی حامل ہے کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے اور نہ قیامت تک ممکن ہے فالحمد للہ رب العالمین۔ سو اس سے اس امر کی وضاحت فرما دی گئی کہ یہ آیات کریمات بڑی ہی عظمت و شان والی ہیں۔ 2 ۔ قرآن حکیم اپنی صداقت و حقانیت کی دلیل خود : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان کتاب ہے۔ یعنی اسم اشارہ یہاں پر بعد مرتبہ و منزلت کے لیے ہے (محاسن التاویل وغیرہ) اور امر واقعہ بھی یہی ہے کہ ایسی عظیم الشان کوئی کتاب نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی ہے نہ آئندہ قیامت تک کبھی ایسا ہونا ممکن ہے۔ اور اس کی عظمت شان کا ایک اہم اور خاص پہلو یہ ہے کہ یہ " مبین " ہے۔ اور " مبین " کے اس لفظ میں بھی دو خاص اور اہم پہلو پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ انسانی زندگی اور ضروریات دین سے متعلق ہر چیز کھول کر بیان کرتی ہے اور دوسرا پہلو یہ کہ اس کتاب حکیم کا ہر بیان و استدلال بالکل واضح اور اس کی ہر بات ناقابل انکار دلائل سے مبرہن ہے۔ سو اس کی صداقت و حقانیت کے ثبوت کے لیے کسی خارجی معجزے یا نشانی کی ضرورت نہیں جیسا کہ منکرین مطالبہ کرتے ہیں بلکہ اس کی صداقت و حقانیت کے دلائل اور سورج کی طرح روشن اور واضح دلائل خود اس کے اندر موجود ہیں بشرطیکہ لوگ تعصب اور عناد و ہٹ دھرمی کی پٹی اتار کر صدق دل سے اور کان کھول کر اس کو سنیں اور اس کے دلائل میں غور کریں۔ وباللہ التوفیق۔ اور حق و ہدایت سے متعلق یہ ایسی کامل اور اس قدر جامع کتاب ہے جو آغاز سے لیکر انجام تک، پیدائش سے لے کر موت تک، بلکہ پیدائش سے بھی پہلے اور موت کے بھی بعد تک کے سب احوال و کوائف اور جملہ شؤون و احوال اور ظروف و مواقف سے متعلق یہ کتاب عظیم واضح ہدایت و راہنمائی فراہم کرتی ہے۔ پھر یہ کلام ہے اس ذات اقدس و اعلیٰ کا جو بلاشرکت غیرے اس سارے کارخانہ ہست و بود کی خالق ومالک اور حاکم و متصرف اور کارفرما و فرمانروا ہے۔ پھر اس کو اتارا گیا اشرف الملائک کے ذریعے، اشرف الرسل پر۔ اشرف البقاع اور اشرف الاوقات میں اور اشرف الالسنہ واللغات میں۔ پھر کیا کہنے اس کتاب عظیم کے شرف و مرتبہ اور اس کی عظمتوں اور برکتوں کے۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بہ بمحض منہ وکرمہ وھو ارحم الراحمین۔ اللہ تعالیٰ اس کی خیرات و برکات سے زیادہ سے زیادہ مستفید فرمائے۔ آمین۔ اس کے ساتھ ہمارے تعلق کو دوام بخشے اور قبول فرمائے اور زیغ و ضلال کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 12:2–3

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم ہی نے اتارا ہے اس کو عربی زبان کے عظیم الشان قرآن کی صورت میں، تاکہ تم لوگ اس کو اچھی طرح سمجھ سکو

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے اہل عرب) ہم آپ کے سامنے (اے پیغمبر ! ) ایک بڑا ہی عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اس قرآن (عظیم کے ذریعے جو کہ ہم نے بذریعہ وحی آپ کی طرف بھیجا ہے، ورنہ آپ تو اس سے پہلے یقینی طور پر اس سے بالکل (ناواقف) بیخبر تھے،

3 ۔ اہل عرب پر ایک خاص انعام و احسان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم لوگ سمجھو اے اہل عرب کہ اس کے اولین مخاطب تو بہرحال تم ہی ہو۔ اور یہ کلام حکمت التیام و صدق نظام ہے تو بیشک عالمی، زمان و مکان کی حدود وقیود سے اعلی وبالا، اور قیامت تک کے سب انسانوں اور تمام زمانوں کی راہنمائی کے لیے۔ لیکن اس کی تعلیم و تبلیغ کی خدمت وسعادت تو بہرکیف ایسے خوش نصیب انسانوں ہی کے ذریعے تکمیل پذیر ہوسکے گی جن کو اس کے حامل اور پاسدار و امین ہونے کے شرف سے مشرف فرمایا گیا ہوگا۔ اور ان میں سب سے پہلے اور سرفہرست وہی حضرات ہیں جن کی لغت و زبان میں اس کو نازل فرمایا گیا ہے۔ تاکہ وہ اس نور مبین سے اپنے سینوں اور بواطن کو منور کرنے کے بعد اس نور حق کو چار دانگ عالم میں پھیلا سکیں۔ نیز اس کے عربی زبان کے قرآن ہونے سے تم لوگ یہ بھی سمجھ اور جان سکو کہ یہ کسی انسان اور بشر کا کلام نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ انسانوں کے خالق ومالک ہی کا کلام ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ انہی معروف حروف و کلمات اور اسالیب و تراکیب سے مرکب ہے جن سے تم لوگ اپنی روز مرہ کی گفتگو میں کام لیتے ہو۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم لوگوں سمیت ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی اس کی ایک سورت کی نظیر لانے سے بھی عاجز و قاصر ہیں اور قیامت تک عاجز و قاصر رہیں گے۔ اور جب تم سب مل کر بھی اس جیسی ایک چھوٹی سے سورت بنا لانے سے بھی عاجز ہو اور اس کے چیلنج، اور مکرر و زوردار چیلنج کے باوجود عاجز ہو۔ تو یہ کس قدر صاف وصریح اور کھلی دلیل و نشانی ہے اس بات کی کہ یہ کلام کسی انسان و بشر کا کلام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے اور اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ حق اور حقیقت تک رسائی حاصل کرسکو ؟ سو یہ اس کتاب حکیم کا ایک عظیم الشان اور منفرد معجزہ ہے۔ بہرکیف قرآن حکیم کو عربی زبان کے قرآن کی صورت میں نازل کرنا اپنے اندر بڑے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت رکھتا ہے کہ ایک طرف اس میں عربوں پر احسان عظیم ہے جو اس کے اولین اور براہ راست مخاطب تھے۔ دوسری طرف اس کی اعجاز بیانی پیغمبر کی صداقت و حقانیت کی ایک اہم اور واضح دلیل بھی۔ اور تیسری اس میں ان کے لیے بڑی تنبیہ و تہدید بھی ہے کہ اگر ان لوگوں نے اس نعمت عظمی کی قدر نہ کی تو اس کا خمیازہ ان کو ہر حال میں بھگتنا پڑے گا۔
Ayahs 12:4–5

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

(اس قصے کا اصل آغاز اس وقت سے ہوتا ہے کہ) جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا، ابا جان میں نے خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند بھی، میں دیکھتا ہوں کہ یہ سب میرے لئے سجدہ ریز ہیں،

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

انہوں نے فرمایا بیٹے، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ اس پر وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلنے لگیں، کہ شیطان تو قطعی طور پر انسان کا کھلا دشمن ہے،1

7 ۔ قصے کا آغاز حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خواب سے : سو یہ اسی احسنیت کا ایک نمونہ اور مظہر ہے جس کا ذکر اوپر فرمایا گیا ہے کہ قصے کا آغاز ہی وہاں سے فرمایا جارہا ہے جہاں سے دروس و عبر مستفاد ہوتے ہیں۔ نہ کہ میلاد اور اس کے متعلقہ غیر ضروری حالات و واقعات سے۔ جیسا کہ دنیا کی عام کتابوں میں ہوتا ہے۔ سو اس میں بھی ہمارے دور کے ان میلادی بدعتیوں کے لیے بھی بڑا درس عبرت ہے جو میلاد سے متعلق جھوٹے سچے قصے بیان کرنا عشق کا تقاضا اور بڑا کمال سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اصل توجہ کی چیز پیدائش اور وفات کے دن منانا نہیں بلکہ ان مقدس ہستیوں کی وہ تعلیمات ہوتی ہیں جن کا تعلق انسان کے عمل اور اس کی اصلاح سے ہوتا ہے۔ اور جن پر افراد و اقوام کے بناؤ و بگاڑ کا مدارو انحصار ہوتا ہے۔ تاکہ ان کو صدق دل سے اپنا کر دنیا سے فساد و بگاڑ کو ختم کیا جاسکے اور ان کی روشنی میں صلاح و اصلاح کی راہ پر چل کر دارین کی سعادتوں اور فوز و فلاح کا سامان کیا جاسکے۔ سو اصل چیز ہے پیغمبر کی اتباع اور پیروی۔ نہ کہ محض خالی عشق و محبت کے دعوے۔ بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنا یہ عظیم الشان خواب اپنے والد ماجد کو سنایا تو والد نے اس پر آپ کو یہ ہدایت فرمائی کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ اس کی بناء پر وہ کہیں حسد کا شکار ہو کر تمہارے خلاف کسی سازش میں نہ لگ جائیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یوسف نے اپنے باپ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند بھی۔ دیکھتا ہوں کہ یہ سب میرے آگے سجدہ ریز ہیں۔ اور خواب چونکہ عظیم الشان خواب تھا اور تعبیر اس کی ظاہر تھی اس لیے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ نصیحت فرمائی کہ اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہیں سنانا کہ وہ تمہارے خلاف کوئی چال چلنے لگیں۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح (جس طرح کہ تم نے یہ خواب دیکھا ہے) تمہارا رب تمہیں برگزیدہ بنائے گا (دوسرے کئی خصائص و مزایا کے ذریعے) اور وہ تمہیں سکھلائے گا باتوں کی تہ تک پہنچنا، اور وہ پورا فرمائے گا اپنی نعمت کو تم پر، اور آل یعقوب پر، جیسا کہ وہ اس کو پورا فرما چکا ہے اس سے پہلے تمہارے دونوں باپ دادا ابراہیم اور اسحاق پر، بیشک تمہارا رب سب کچھ جانتا بڑا ہی حکمت والا ہے2

10 ۔ تاویل احادیث سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا کہ اسی طرح تمہارا رب تم کو برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی تہ تک پہنچنے کے علم سے سرفراز فرمائے گا۔ جس میں خوابوں کی تعبیر بھی آجاتی ہے اور دوسری سب باتیں بھی نہ کہ صرف خوابوں کی تعبیر۔ جس طرح کہ عام طور پر سمجھا اور کہا جاتا ہے۔ اور یہ علم آپ کو آپ کا رب براہ راست بغیر کسی واسطہ کے از خود اپنے لطف و کرم سے عطا فرمائے گا۔ پس نبی کا معلم و استاد براہ راست اللہ پاک خود ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں کسی کے آگے زانوئے تلمذ طے نہیں کرتا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا خواب سن کر ارشاد فرمایا کہ اسی طرح تمہارا رب تم کو برگزیدہ بنائے گا اور تمہیں باتوں کی تہ تک پہنچنے کے علم سے نوازے گا۔ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے جب یہ خواب سنا تو آپ اس سے یہ بات سمجھ گئے کہ یہ ایک سچا خواب ہے اور اس میں خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شاندار مستقبل کی پیشینگوئی ہے۔ کیونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نبوت کا آغاز رویائے صالحہ ہی سے ہوتا ہے۔ اس لیے آپ نے حضرت یوسف سے فرمایا کہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے ٹھیک ہے۔ اور جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ اور اس خواب کی حقیقت تم پر واضح فرمائے گا۔ چناچہ ایسے ہی ہوا اور وہ وقت آگیا جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس بارے میں ارشاد فرمایا (يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا) یعنی " اے میرے باپ یہ ہے میرا وہ خواب جو میں نے اس سے پہلے یعنی بچپن میں دیکھا تھا جس کو میرے رب نے سچا کر دکھایا جیسا کہ اس کا تفصیلی ذکر اسی سورة کریمہ کے آخر میں آرہا ہے۔ 11 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پر اتمام نعمت کا مژدہ : سو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا کہ وہ تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمائے گا جیسا کہ وہ اس سے پہلے بھی اس کا اتمام فرما چکا ہے۔ یعنی تمہارے دادا حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور پردادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر۔ کہ ان دونوں کو بھی نبوت و اصطفاء کی نعمتوں سے نوازا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تواضع کی بناء پر اپنا ذکر نہیں فرمایا۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے باپ دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) پر اس سے پہلے اپنی نعمت کو پورا فرما چکا ہے اسی طرح وہ تم پر بھی اس کو پورا فرمائے گا۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور نعمت سے یہاں پر مراد دین و شریعت کی نعمت ہے۔ کیونکہ اصل اور حقیقی نعمت یہی ہے۔ دنیا کی دوسری چیزوں کا نعمت ہونا ایک امر اضافی ہے۔ بندے کو جب دین و شریعت کی نعمت ملتی ہے تب ہی اس پر نعمت کامل ہوتی ہے۔ بہرکیف حضرت یعقوب (علیہ السلام) چونکہ اس حقیقت سے واقف و آگاہ تھے کہ نبوت کا آغاز رؤیائے صادقہ ہی سے ہوتا ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب کا ظاہر ہی بتارہا تھا کہ یہ ایک سچا خواب ہے جو خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شاندار مستقبل کی پیشینگوئی کر رہا ہے۔ اس لیے آنجناب نے اس کے جواب میں اپنے اس ہونہار فرزند سے فرمایا کہ جو کچھ تم نے دیکھا بالکل ٹھیک ہے۔ وہ وقت جلد آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا۔ اور تمہیں تاویل احادیث یعنی تعبیر رویا کا خاص علم بھی عطا فرمائے گا۔ تاکہ اس طرح تم ان حقائق کو ٹھیک طور پر سمجھ کر منشائے خداوندی کی تعمیل کرسکو جو تمہیں خواب کے اندر مجاز کی شکل میں دکھائے جائیں۔ چناچہ ایسے ہی ہوا اور آنجناب کو اس میں اتنا بلند مرتبہ عطا فرمایا گیا کہ یہی علم ان کے لیے مصر کی حکومت و بادشاہی کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔ والحمد للہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال۔ 12 ۔ اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت کا ذکر : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب بڑا ہی علیم و حکیم ہے پس وہ خوب جانتا ہے کہ کون شرف رسالت کے لائق ہے اور کس کو کس طرح اس شرف سے مشرف فرمایا جائے کہ اس کا کوئی فعل بھی حکمت سے خالی نہیں۔ پس اس کے علم کامل اور حکمت بالغہ پر مطمئن رہنا چاہئے کہ وہ جو بھی کچھ کرتا ہے اپنے علم کامل اور حکمت بالغہ کی بناء پر ہی کرتا ہے۔ پس جس طرح تمہارے رب نے تمہارے اجداد ابراہیم و اسحاق کو نعمت دین و شریعت سے نوازا اسی طرح وہ تم کو بھی اور آل یعقوب کو بھی اس نعمت سے نوازے گا۔ اور جو خواب تم نے دیکھا ہے وہ اسی اتمام نعمت کی بشارت ہے اور تمہارا رب بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ ہر چیز کے بارے میں کامل علم بھی رکھتا ہے اور اس کا ہر کام کمال حکمت ہی پر مبنی ہوتا ہے۔
Ayah 12:7

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

واقعی یوسف اور ان کے بھائیوں (کے قصہ) میں بڑی نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لئے،3

13 ۔ قصہ یوسف میں موجود نشانیوں کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ قصہ یوسف میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں جو دلالت کرتی ہیں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پر۔ اور جو دلالت کرتی ہیں حضرت خاتم الانبیاء۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ کی حقانیت و صداقت پر۔ اللہ کی قدرت و وحدانیت پر۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عظمت کردار، رفعت شان پر اور ابتلاء و آزمائش بھری اس داستان عبرت و بصیرت پر جو کہ انسانی زندگی اور انسان کی فکر و فہم میں انقلاب برپا کردیتی ہے۔ سو اس آیت کریمہ سے اصل قصہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سرگزشت کے شروع کرنے سے پہلے یہ تنبیہ فرما دی گئی کہ اس کو محض قصہ کہانی اور داستان سرائی کی نظر سے نہ دیکھا جائے۔ بلکہ اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اور غلبہ حق کے بارے میں ان بہت سے سوالات کے جوابات مضمر ہیں جو دعوت حق اور حق و باطل کی کشمکش کے اس دور اور ان مہیب اور صبر آزما حالات میں مخالفین اور موافقین دونوں کے ذہنوں میں پائے جاتے تھے۔ اور دعوت حق اس دور میں جبکہ کفر و شرک کے مہیب اور سیاہ اندھیرے ہر طرف چھائے ہوئے تھے اور یہ تصور کرنا بھی مشکل تھا کہ اس گھمبیر اندھیرے کو ہٹا کر کبھی نور حق اس پر چھا جائے گا۔ سو اس مہیب دور میں اس سرگزشت کے ذریعے یہ دکھایا گیا کہ خدا کی شانیں کس طرح ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ارادے اور منصوبے کس طرح بروئے کار آتے ہیں۔ اور وہ اپنے بندوں کی کس کس طرح دستگیری فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ 14 ۔ غلبہ حق کے بارے میں سوالوں کے جواب کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ یوسف اور برادران یوسف سے متعلق اس قصے میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لیے۔ خواہ وہ یہود بےبہبود ہوں، جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے امتحان کی خاطر اس بارے میں سوال کیا تھا یا دوسرے کوئی سائل ہوں۔ سب ہی پوچھنے والوں کے لیے بہت بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ روایات کے مطابق یہود کی تحریک پر کفار قریش نے حضور ﷺ سے امتحان کی غرض سے سوال کیا کہ بنی اسرائیل فلسطین سے مصر تک کس طرح پہنچ گئے تو اس کے جواب میں حضور ﷺ نے ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا پورا قصہ وحی خداوندی کے مطابق سنا دیا۔ جس میں ضمنا ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ جو کچھ برادران یوسف نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے کیا وہ آج تم لوگ مجھ سے کر رہے ہو اور انشاء اللہ تمہارا حشر بھی وہی ہوگا جو اس سے پہلے برادران یوسف کا ہوچکا ہے۔ سو اس آئینہ میں تم لوگ اپنا چہرہ خود دیکھ لو۔ اور بالآخر واقعۃ ایسا ہو کر رہا اور تھوڑے ہی عرصے میں ہو کر رہا۔ نیز اس دور میں دعوت حق کے بارے میں مخالفین اور موافقین دونوں ہی کے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہو رہے تھے ان سب کے لیے اس سرگزشت میں جواب موجود ہیں۔ اور عبرت و بصیرت کا پورا سامان بھی۔ والحمد للہ۔
Ayah 12:8

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب کہ برادران یوسف نے (آپس میں) کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی یقینی طور پر ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ ہم ایک جتھے کا جتھا ہیں، یقینا ہمارا باپ کھلی غلطی پر ہے،

15 ۔ برادران یوسف کا اپنے والد کے بارے میں شکوہ : کہ یوسف اور اس کا بھائی بنیامین ان کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں، حالانکہ وہ دونوں چھوٹے اور کمزور ہیں۔ ہمارے والد کے کچھ کام نہیں آسکتے۔ جبکہ ہم جیسے تنومند طاقتور بیٹے ان کے ہر موقعہ پر اور ہر طرح سے کام آسکتے ہیں۔ حالانکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے اس سلوک میں حق بجانب تھے۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ذات ستودہ صفات میں جو خصوصیات حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو نظر آرہی تھیں وہ اور کسی میں بھی نہیں پائی جاتی تھیں۔ جیسا کہ بعد کے حالات اور واقعات میں سب نے دیکھ لیا اور ان کی ذات میں پوشیدہ جوہر کھل کر سب کے سامنے آگئے۔ خاص کر اس عظیم الشان خواب کے بعد جو کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اس بچپنے میں دیکھا تھا جس کے آئینے میں ان کا شاندار مستقبل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو صاف نظر آگیا تھا۔ جبکہ بنیامین سب سے چھوٹے تھے۔ اور سب سے چھوٹے بچے کا ماں باپ کو زیادہ پیارا ہونا ایک طبعی امر اور معروف بات ہے۔ اور برادران یوسف نے جو بنیامین کو (اخوہ) کہہ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائی قرار دیا حالانکہ وہ ان کے بھی بھائی تھے تو یہ اس لیے کہ ان دونوں کی ماں ایک تھی۔ یعنی راحیل بنت لابان۔ جو کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے ماموں تھے۔ جبکہ دوسروں کی مائیں الگ تھیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) سو ماں کے اشتراک کی بنا پر ان لوگوں نے بنیامین کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کا بھائی قرار دیا۔ حالانکہ وہ آپس میں سب ہی بھائی تھے۔ لیکن ماں اور باپ کی طرف سے اشتراک اور اختلاف دونوں کے پائے جانے کے باعث وہ آپس میں الگ الگ تھے۔ سو اس سے ان کی قلبی اور باطنی کیفیت پر روشنی پڑتی ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، 16 ۔ برادران یوسف (علیہ السلام) کا اپنے باپ کو خطا کار قرار دینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے باپ کے بارے میں کہا اور تاکیدی الفاظ سے کہا کہ بلاشبہ ہمارا باپ قطعی طور پر کھلی غلطی میں پڑا ہے کہ مضبوط جتھے اور گروہ کی حیثیت ہم رکھتے ہیں۔ حمایت و مدافعت کا ذریعہ بننے والے ہم لوگ ہیں۔ دوسروں پر رعب ہمارا ہی پڑتا ہے اور ان پر دھاک ہماری ہی وجہ سے بیٹھتی ہے مگر ہمارا باپ ہے کہ اس کو محبت یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے ہے جو ان باتوں میں کچھ بھی کرنے کے اہل نہیں۔ سو اس سے بڑھ کر کھلی گمراہی اور غلطی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ کہ وہ ہم جیسے کام آنے والے طاقتور جتھے کے مقابلے میں ہم سے زیادہ پیار کرتے کہ ہم ان کے کام آنے والے ہیں۔ سو " ضلال " کا لفظ یہاں پر گمراہی کے معروف معنوں میں نہیں۔ کیونکہ اس معنی میں اگر وہ لوگ یہ لفظ حضرت یعقوب کے لیے استعمال کرتے تو کافر ہوجاتے۔ (قرطبی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) سے محبت کی بناء پر باپ کے بارے میں ایسے کہا۔
Ayah 12:9

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

لہٰذا قتل کردو تم یوسف کو، یا ڈال دو اس کو کسی (دور افتادہ) زمین میں تاکہ اس کے بعد باپ کی ساری توجہ تمہاری طرف ہوجائے، اور تمہارے سب کام بن جائیں،4

17 ۔ لفظ " صالحین " سے یہاں پر مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ برادران یوسف نے یوسف کے بارے میں آپس میں کہا کہ اس کو قتل کردو یا کسی دور افتادہ زمین میں ڈال دو تاکہ اس کے بعد تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری طرف ہوجائے اور تمہارا کام بن جائے۔ یعنی صلاح سے یہاں مراد دنیاوی صلاح ہے نہ کہ دینی اور اخروی صلاح۔ (روح، التحریر والتنویر لابن عاشور وغیرہ) عام طور پر مفسرین کرام نے یہاں پر صلاح سے دینی اور اخروی صلاح مراد لی ہے یعنی یہ کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے بعد تم لوگ توبہ کرکے نیک اور صالح بن جانا۔ لیکن یہ معنی یہاں پر مراد لینا درست نہیں معلوم ہوتا کیونکہ یہ معنی اس صورت میں بن سکتا ہے جب کہ اس کا عطف " اقتلوا " کے صیغہ امر پر مانا جائے جو کہ درست نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو یہاں پر " تکونوا " کے مضارع مجزوم کی بجائے " کونوا " امر کا صیغہ ہوتا۔ سو " تکونوا " کا عطف " یخل " کے مضارع مجزوم پر ہے جو کہ " اقتلوا " اور " اطرحوا " کے امروں کے جواب میں واقع ہوا ہے۔ اور اس صورت میں وہ معنی مراد لینا درست نہیں معلوم ہوتے جو کہ عام طور پر مراد لئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ کہ اس کے بعد تم لوگ توبہ کرکے نیک اور صالح بن جانا۔ اس لیے تعجب ہوتا ہے کہ ایسے حضرات نے عام طور پر اس معنی کو کیسے اپنایا ہے اور پہلے معنی کو جس کو ہم نے اختیار کیا ہے اس کو کئی حضرات نے " قیل " کے صیغہ تحریض کے ساتھ بیان کیا ہے۔ پتہ نہیں کیوں ؟ (محاسن التاویل، المنار المراغی، الجامع وغیرہ ) ۔ بہرکیف برادران یوسف نے آپس میں کہا کہ تم یوسف کو قتل کردو یا اس کو کسی دور افتادہ زمین میں ڈال دو تاکہ اس سے تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری طرف مبذول ہوجائے اور تمہارے سب کام درست ہوجائیں۔ اور تمہاری آنکھوں میں کھٹکنے والا یہ کانٹا ہمیشہ کے لیے نکل جائے۔
Ayah 12:10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

اس پر ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل تو نہ کرو، البتہ اگر تمہیں ضرور کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو کہ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو لے جائے،

18 ۔ یوسف کو اندھے کنویں میں ڈالنے کی تجویز : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر ایک نے کہا کہ تم اس کو قتل نہ کرو بلکہ کسی اندھے کنویں میں ڈال دو ۔ اور یہ بات اسی نے کہی جو ان سب بھائیوں میں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا کہ اس طرح تمہارا مقصد بھی پورا ہوجائے گا اور تم اپنے معصوم و بےگناہ بھائی کے خون ناحق میں ملوث ہونے سے بھی بچ جاؤ گے۔ سو اگر تم لوگوں نے کچھ کرنا ہی ہے تو تم اس کو قتل کرنے کی بجائے قافلوں کے راستے کے کسی دور افتادہ کنویں میں ڈال دو تاکہ کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو وہاں سے اٹھا کر اپنے ساتھ لے جائے اور کسی دوسرے شہر میں جاکر اس کو غلام بنالے۔ یا کہیں اس کو فروخت کردے۔ اس طرح اس کی جان بھی بچ جائے گی اور تمہارے دل کا کانٹا بھی نکل جائے گا۔ سو آخرکار اسی رائے پر سب کا اتفاق ہوگیا اور انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جرم بےگناہی پر یہ سزا دینا طے کرلیا۔ سو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ان دس بھائیوں میں سے ایک کے دل میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں نرم گوشہ موجود تھا۔ سو اس نے ان کو مشورہ دیا کہ اگر تم نے کچھ کرنا ہی ہے تو یوسف کو قتل مت کرو بلکہ اس کو قافلوں کے راستے کے کسی کنویں میں ڈال دو ۔ جہاں سے راہ چلتا کوئی قافلہ اس کو اٹھا کرلے جائے گا۔
Ayahs 12:11–13

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

سو (اس قرار داد کے بعد) انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے، حالانکہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں،

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ وہ بھی جنگل کے میوے کھائے پئے، اور (وہاں کھلی فضا میں) کچھ کھیل کود لے، اور ہم اس کی پوری پوری حفاظت کریں گے،1

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

یعقوب نے فرمایا تمہارا اس کو لے جانا ہی مجھے شاق گزارتا ہے، اور مجھے اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ اس کو وہاں پھاڑ کھائے کوئی بھیڑیا جب کہ تم اس سے لاپرواہ ہوؤ۔2

19 ۔ برادران یوسف کا اپنے باپ سے یوسف کے بارے میں اپنی خیر خواہی کا اظہار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے باپ سے کہا کہ کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے پکے خیر خواہ ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ جن کے دلوں میں چور ہوتا ہے وہ اپنا اعتبار قائم کرنے کے لیے اسی طرح کی پکی اور قسمیہ باتوں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اس طرح وہ اپنی بات دوسروں کو باور کرا سکیں۔ جبکہ سچوں اور صدق شعار لوگوں کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کے دل میں چونکہ اطمینان ہوتا ہے کہ ہم سچے اور درست راہ پر ہیں۔ اس لیے وہ قسم کھائے بغیر یونہی سیدھی اور سادہ بات کہنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور لوگ ان کی بات پر اعتبار بھی کرلیتے ہیں۔ سو سچ اطمینان کا باعث ہے اور جھوٹ کھٹکا پیدا کرنے والا اور سکون و اطمینان کو غارت کرنے والا ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا " ان الصدق طمانینۃ والکذب ریبۃ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف برادران یوسف نے اپنی مذکورہ قرارداد کے مطابق حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے والد سے حاصل کرنے کے لیے ان سے اس طرح کا یہ مطالبہ کیا۔ اور ان کو اس بارے بھروسہ دلانے کے لیے اس طرح یوسف کے لیے خیرخواہی کا اظہار کیا۔
Ayah 12:14

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ہوتے ہوئے اسے کوئی بھیڑیا پھاڑ کھائے جب کہ ہم ایک پورا جتھا ہیں تب تو یقینا ہم کسی کام کے نہ ہوئے،

24 ۔ برادران یوسف کی حضرت یعقوب کو یقین دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اس اندیشے کے ذکر و اظہار کے جواب میں برادران یوسف نے آنجناب کو حفاظت یوسف کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ایسے کیونکر ہوسکتا ہے جبکہ ہم پوری ایک جماعت ہیں۔ پس ایسے نہیں ہوسکتا۔ لہذا اس بارے میں آپ مطمئن رہیں اور کوئی فکر نہ کریں کیونکہ ہم جیسے طاقتور جتھے کے ہوتے ہوئے اگر ایسا ہوجائے تو پھر ہم کسی کام کے نہ ہوئے۔ اس لیے آپ مطمئن رہیں۔ یہ بات تو ہماری عزت و غیرت اور ہماری قوت کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بھلا یہ کس طرح ہوسکتا ہے ہماری ایسی طاقتور اور قوی و توانا جماعت کے ہوتے ہوئے کوئی بھیڑیا آکر پھاڑ کھائے اور ہم یونہی بیٹھے رہیں۔ لہذا آپ اس بارے میں مکمل طور پر مطمئن رہیں اور اس کو ہمارے ساتھ جانے دیں۔ سو اس سے یہ حقیقت بھی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختیار کل۔ اور نہ ہی ایسا عقیدہ پہلے کے لوگوں کے اندر کہیں موجود تھا۔ ورنہ نہ تو وہ لوگ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے اس طرح کی دھوکہ بازی اور جعل سازی کی کوشش کرتے اور نہ ہی حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان سے اس طرح دھوکہ کھاتے۔ اور اپنے پیارے یوسف (علیہ السلام) کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دیتے۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

آخرکار جب وہ اسے لے گئے اور انہوں نے یہ طے کرلیا کہ اس کو ڈال دیں کسی اندھے کنویں میں، (اور بالآخر انہوں نے اس کو اس میں ڈال بھی دیا) تو ہم نے وحی کی یوسف کی طرف (ان کی تسلی کے لئے کہ گھبراؤ نہیں) کہ ایک وقت آئے گا کہ جب تم ان کو جتلاؤ گے ان کی یہ حرکت، اور ان کو خیال (و گمان) بھی نہ ہوگا، (کہ یہ یوسف ہے)

25 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی طرف وحی والہام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار جب وہ یوسف کو اپنے ساتھ لے گئے اور انہوں نے طے کرلیا کہ اس کو کسی اندھے کنویں میں ڈال دیں اور بالفعل انہوں نے اس کو اس میں ڈال بھی دیا تو ہم نے یوسف کی طرف وحی کی ان کی تسلی کے لیے کہ تم گھبراؤ نہیں تمہارے لیے ایک بڑا عمدہ وقت آنے والا ہے۔ یہ وحی جیسا کہ علمائے کرام نے فرمایا ہے نبوت و رسالت کی وحی نہ تھی کہ وہ تو بلوغت کے بعد اور رجولیت کاملہ ہی پر عطا فرمائی جاتی ہے۔ بلکہ یہ وحی القاء والہام کے قبیل سے تھی۔ اور یہ ہر کسی کو ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کے بارے میں فرمایا گیا۔ (وَاَوْحَيْنَآ اِلٰٓى اُمِّ مُوْسٰٓى) نیز شہد کی مکھی کے بارے میں فرمایا گیا (وَاَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ ) سو اسی طرح یہاں پر قدرت کی طرف سے یہ بات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دل میں القاء والہام کے طور پر ڈال دی گئی جس میں آپ کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان تھا۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام۔ 26 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو وحی والہام کے ذریعے بتایا گیا کہ ایک وہ وقت بھی آنے والا ہے جب تم ان کو ان کی یہ حرکت جتلاؤ گے مگر ان کو اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ سو اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان فرمایا گیا کہ ایک وقت آئے گا کہ جب تم ان کو ان کی یہ حرکت جتلاؤ گے جب کہ ان کو اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ کہ یہ وہی یوسف ہے جس کو وہ اندھے کنوئیں میں ڈال کر اپنے طور پر ختم کر آئے تھے۔ یا اس وقت ان کو یہ پتہ نہیں کہ جس جرم کا ارتکاب یہ لوگ اس وقت کر رہے ہیں اس کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس وقت یہ لوگ اس سے بیخبر ہیں کہ ہم کس طرح اس وحی کے ذریعے آپ کی تسکین اور تطبیب قلب کا یہ سامان کر رہے ہیں۔ آیت کریمہ کے الفاظ ان تینوں معانی و مفاہیم کو عام شامل ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ تینوں ہی مراد ہوں۔ پس کیا کہنے قرآن حکیم کی اس بلاغت اور اس کی جامعیت اور کمال کے۔ فسبحانہ ما اعظم شانہ وما اجل برھانہ۔ والحمد للہ جل وعلا۔ بہرکیف اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے۔
Ayahs 12:16–17

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور (یہ کرتوت کرنے کے بعد) شام کو وہ آئے اپنے باپ کے پاس روتے (اور چیختے چلاتے) ہوئے،

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

کہنے لگے ابا جان ہم آپس میں دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے، اور یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا کہ اتنے میں ایک بھیڑئیے نے آکر ان کو کھالیا، مگر آپ تو ہماری بات کا یقین نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہی ہوں

27 ۔ جھوٹا رونا صداقت کی دلیل نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور شام کو وہ روتے اور چیختے چلاتے اپنے باپ کے پاس واپس پہنچے۔ معلوم ہوا کہ محض رونا پیٹنا صداقت و حقانیت کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس کے برعکس بعض اوقات یہ کام حقائق کو چھپانے اور ان پر پردہ ڈالنے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ جس طرح کہ برادران یوسف کا یہ نمونہ قرآن حکیم میں پیش فرمایا گیا ہے اور جس طرح کہ سبائی پارٹی نے حضرت حسین ؓ کو خود عراق بلایا اور وہاں یہ لوگ ان کی حمایت سے کنارہ کش ہوگئے اور اس طرح حضرت حسین ؓ کو قتل کرا کر اب یہ پارٹی پیٹتی پھرتی ہے۔ اور اس طرح یہ پارٹی اپنے کئے کی سزا خود پا رہی ہے اپنا جوتا اپنے منہ پر ازخود مارنا، اپنے خنجروں سے اپنے جسموں کو خود لہو لہان کرنا اور دنیا کے سامنے آگ کھانا اور آگ کے انگاروں پر لوٹ پوٹ ہونا وغیرہ وغیرہ سزاؤں کی صورت میں یہ نقد سزا ہے جو قدرت کے خفیہ ہاتھوں اور اس کی بےآواز لاٹھی کے ذریعے ان لوگوں کو اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں لگاتار مل رہی ہے۔ والعیاذ باللہ۔ فسبحان اللہ جلت قدرتہ وعزت حکمتہ) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ شام کو رات کا کچھ حصہ گزرے وہ لوگ روتے پیٹتے اور چیختے چلاتے اپنے باپ کے پاس پہنچے کہ اس طرح ان کو یقین دلا سکیں کہ واقعی یوسف کو بھیڑیے نے کھالیا۔
Ayah 12:18

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور وہ اسکی قمیض پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کرلے آئے یہ سن کر یعقوب نے فرمایا (قصہ یہ نہیں) بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لئے ایک بات بنا لی ہے پس میں صبر جمیل ہی سے کام لوں گا، اور ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں، جو تم بنا رہے ہو

29 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ یوسف کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کر لائے اور روایات کے عین مطابق یہ لوگ اس کرتے کو پھاڑنا بھول گئے جس پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ وہ کیسا بھیڑیا تھا جس نے یوسف کو تو کھالیا اور اس کی قمیص کو پھاڑا تک نہیں۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، کبیر، صفوہ وغیرہ) اور یہی حال ہوتا ہے جھوٹ کا کہ اس کا پول کہیں نہ کہیں کھل ہی جاتا ہے کہ جھوٹ کے پاؤں بہرحال نہیں ہوتے۔ بہرکیف انہوں نے اپنے طور پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو مطمئن کرنے اور اپنی بات باور کرانے کی یہ تدبیر نکالی کہ ان کے کرتے پر کسی چیز کا خون لگا کرلے آئے لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے لمحہ بھر کے لیے بھی ان کی بات کا کوئی اعتبار نہیں کیا۔ بلکہ سنتے ہی ارشاد فرمایا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا من گھڑت ہے۔ 30 ۔ پیغمبر کا اسوہ حسنہ صبر جمیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ یہ تمہارے نفسوں کی بنائی ہوئی بات ہے۔ پس میں صبر جمیل ہی سے کام لیتا ہوں۔ سو پیغمبر کا اسوہ اور مومن کا کام صبر جمیل ہے۔ جس میں نہ جزع فزع اور رونا پیٹنا اور نہ ہی مخلوق کے آگے شکوہ و شکایت کہ یہ تو ایک عام مومن کی شان بھی نہیں ہوسکتی تو ایک نبی سے اس کا صدور کس طرح ہوسکتا ہے۔ پس پیٹنا کوٹنا اور سینہ کو بی کرنا وغیرہ جس طرح کہ روافض وغیرہ کا وطیرہ و طریقہ ہے اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے۔ اور ایسے لوگوں کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص ہماری جماعت اور ملت سے نہیں چناچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا " لیس منا من ضرب الخدود وشق الجیوب ودعا بدعوی الجاھیلۃ " یعنی وہ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں جو اپنے چہروں کو پیٹیں۔ گریبان پھاڑیں اور جاہلیت کی باتیں کریں۔ بلکہ اسلام کی مقدس تعلیمات کی رو سے مومن کے لیے دو ہی حالتیں اور دو ہی صورتیں ہیں۔ ایک صبر کی اور دوسری شکر کی۔ سو نعمت ملنے پر مومن شکر سے کام لیتا ہے جس سے وہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے اور تکلیف و مصیبت پر۔ والعیاذ باللہ۔ وہ صبر و برداشت سے کام لیتا ہے جس سے وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔ رونے پیٹنے اور سینہ کو بی وغیرہ کے لیے اسلام میں نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ کوئی صورت۔ اسی لیے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ مومن کی ہر حالت اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ نعمت پر وہ حضرت واہب مطلق کا شکر ادا کرتا ہے جس سے وہ اس کے لیے خیر بن جاتی ہے اور تکلیف و مصیبت پر وہ صبر سے کام لیتا ہے جس سے وہ بھی اس کے لیے خیر بن جاتی ہے۔ یہاں پر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ قرآن حکیم تو اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صبر جمیل کا ذکر کرتا اور اس پر ان کی تعریف کرتا ہے لیکن تورات ان کو اس موقع پر ایک بےصبرے اور تنگ ظرف انسان کے روپ میں پیش کرتی اور اس کا ذکر اس طرح کرتی ہے " تب یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے کپڑے پھاڑ ڈالے، ٹاٹ اپنے کولہے پر ڈالا اور بہت دن تک بیٹے کا غم کیا " (پیدائش :37-34) 31 ۔ پیغمبر بھی اللہ ہی کی مدد کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقع پر حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ ہی سے اس کی مدد مانگتا ہوں ان باتوں پر جو تم بنا رہے ہو۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اللہ ہی کی مدد کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ سو مدد اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے کہ مدد دینے کے لائق وہی وحدہ لاشریک ہے کہ خالق ومالک اور قادر مطلق وہی اور صرف وہی ہے۔ اس کے سوا باقی سب اور بہرحال اسی کے محتاج ہیں خواہ کوئی نبی ہو یا ولی یا اور کوئی ہستی۔ سو اس سے دوچار باتیں معلوم ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ مدد دینا اسی وحدہ لاشریک کا کام ہے اور حاجت روائی و مشکل کشائی صرف اسی کی صفت و شان ہے۔ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی میں مافوق الاسباب ایسی صفات ماننا شرک ہے۔ والعیاذباللہ۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ جب حضرت یعقوب (علیہ السلام) جیسے پیغمبر جو کہ خود پیغمبر ہونے کے علاوہ حضرت یوسف (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کے باپ۔ حضرت اسحاق (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کے بیٹے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کے پوتے ہیں۔ وہ بھی جب حاجت روا و مشکل کشا نہیں بلکہ وہ بھی اپنی حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے اسی خدائے واحد کو پکارتے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جسے حاجت روائی و مشکل کشائی کے لیے پکارا جائے ؟ جس طرح کے آج کا کلمہ گو مشرک کہتا اور کرتا ہے اور گمراہ ملاؤں اور جاہل پیروں نے اس کو " علی مشکل کشا " " غوث الاعظم دستگیر "۔ " خواجہ اجمیری پار لگا دے کشتی میری " وغیرہ جیسے طرح طرح کے شرکیہ نعرے سکھا رکھے ہیں۔ حالانکہ یہ سب پاکیزہ ہستیاں اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتی رہیں تھیں، اور اسی کو پکارنے کا درس دیتی رہی تھیں مگر جاہلوں اور ایسے ظالموں نے انہی کے نام سے شرک شروع کردیا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 12:19

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

ادھر ایک قافلہ (مصر کو جاتے ہوئے وہاں) آنکلا، انہوں نے اپنا آدمی پانی لانے کے لئے بھیجا، اس نے کنویں میں ڈول جو ڈالا تو (اس کے ساتھ یوسف جیسے ماہ جبین کے باہر نکل آنے پر وہ خوشی سے) بےساختہ پکار اٹھا کہ اے خوشخبری یہاں تو ایک عظیم الشان لڑکا نکل آیا، اور ان لوگوں نے اس کو چھپالیا ایک (نہایت عمدہ) مال تجارت کے طور پر، اور اللہ خوب جانتا تھا وہ سب کچھ جو کہ وہ کر رہے تھے،1

32 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) تجارتی قافلے کے ہاتھ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ادھر ایک قافلہ وہاں آپہنچا۔ انہوں نے اپنا آدمی پانی لینے کے لیے بھیجا۔ اس نے اپنا ڈول جو کہ کنویں میں ڈالا تو بےساختہ پکار اٹھا کہ اے خوشخبری یہاں تو ایک عظیم الشان لڑکا نکل آیا اور انہوں نے اس کو چھپالیا ایک عمدہ مال تجارت کے طور پر۔ تاکہ وہ خالص انہی کا رہے اور دوسرا کوئی اس کا دعویدار نہ نکل آئے اور اس کی ساری قیمت انہی کو ملے۔ اور چھپانے والوں سے مراد قافلے والے ہیں جنہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنویں میں پایا تھا۔ اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ بھی ہے کہ اس سے مراد برادران یوسف ہیں جنہوں نے آپ کو ایک " عبدابق " یعنی " بھاگا ہوا غلام " قرار دے کر پیچ ڈالا تھا۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اپنے معاملے کو چھپالیا تاکہ آپ کے بھائی آپ کے درپے آزار نہ ہوجائیں۔ (ابن کثیر، صفوۃ اور معارف وغیرہ) بہرکیف اس خیال سے کہ کہیں دائیں بائیں سے اس کا کوئی مدعی نہ کھڑا ہوجائے انہوں نے یوسف کو چھپالیا اور ان سے متعلق اس واقعے کو صیغہ راز میں رکھنے کی کوشش کی کہ اس کی کہیں تشہیر نہ ہوجائے اور اس طرح یہ راز کھل نہ جائے کہ اس کے نتیجے میں ان کے لیے کوئی مشکل کھڑی ہوجائے۔ 33 ۔ اللہ تعالیٰ کے علم و آگہی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ خوب جانتا تھا وہ سب کچھ جو کہ وہ لوگ کر رہے تھے۔ قافلے والے بھی جبکہ وہ ان کو اپنا سامان تجارت بنا کر چھپا رہے تھے، اور آپ کے بھائی بھی جو کہ باپ کے سامنے الگ جھوٹ بول رہے تھے۔ اور قافلے والوں سے الگ عہد و پیمان کر رہے تھے۔ کہ یہ ہمارا ایک غلام ہے جس کو بھاگنے کی عادت ہے۔ اس لیے اسے ہم بیچنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (جامع البیان، المراغی، اور ابن کثیر وغیرہ) سو یہ لوگ اپنے کیے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے اور ان میں سے جس جس نے جتنا کچھ کیا ہوگا وہ اس کا بھگتان بھگتے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ بہرکیف وہ لوگ اپنی سکیم پوری کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی سکیم کو پورا کر رہا تھا۔ وہ لوگ تو اس خوشی میں تھے کہ ان کو مفت میں ایک ایسا مہ جبین غلام مل گیا جس کو بیچ کر وہ خوب پیسے کمائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی چاہت اور مرضی یہ تھی کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے یہ غلامی مصر کی بادشاہی کی تمہید ثابت ہو۔ اور اللہ بڑا ہی غالب اور زبردست ہے۔ وہ اپنا کام بہرحال کرکے ہی رہتا ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ لیکن لوگوں کی اکثریت اس حقیقت سے غافل و بیخبر ہے۔ ( وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ )
Ayah 12:20

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور آخرکار انہوں نے بیچ دیا اس (ماہ جبین) کو ایک تھوڑی سی قیمت، یعنی گنتی کے کچھ روپوں کے بدلے، اور اس کے بارے میں وہ تھے ہی بےرغبت2

34 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی فروخت ایک حقیر مول کے عوض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور بیچ دیا انہوں نے یوسف کو گنتی کے کچھ سکوں کے عوض۔ یعنی مصر پہنچنے پر انہوں نے بیچ ڈالا اس (ماہ جبین) کو گنتی کے کچھ درہموں کے عوض۔ یعنی بیس یا بائیس یعنی چالیس سے بہرحال کم۔ کہ دراہم کی گنتی وہ لوگ اسی صورت میں کرتے تھے جب کہ وہ چالیس سے کم ہوں کہ چالیس سے اوپر گنتے نہیں تولتے تھے۔ (محاسن التاویل، المراغی وغیرہ) اور یہاں پر ان دراہم کی صفت معدودۃ وارد ہوئی ہے جو کہ عدد سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی گنتی کے آتے ہیں۔ یعنی گنتی کے کچھ درہموں کے عوض، اور " بخس " کے معنی ناقص اور حقیر کے ہیں۔ سو مصر پہنچنے پر انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اونے پونے میں بیچ دیا۔ کیونکہ انہوں نے ان کے حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرش کیے نہیں تھے کہ ان کو اپنی دی ہوئی اصل رقم پر مزید کچھ نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی، ان کو تو ایک چیز مفت ملی تھی۔ وہ جس قیمت پر بھی بک جائے نفع ہی نفع ہے۔ اس لیے ان کو جونہی کوئی گاہک ملا انہوں نے گنتی کے کچھ درہموں کی صورت میں اس معمولی اور گھٹیا مول پر ہی ان کو بیچ ڈالا۔ 35 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بےقدری، اور قدر شناسی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تھے ہی بےرغبت یعنی وہ لوگ جنہوں نے ان کو مصر میں بیچا تھا یا اس سے مراد ہیں برادران یوسف جنہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ختم کرنے یا کم از کم باپ سے دور کرنے ہی کے لیے یہ سب پاپڑ بیلے تھے۔ نیز قافلے والے بھی۔ اس لیے کہ ان کو یہ بتایا گیا تھا کہ اس غلام کو بھاگ نکلنے کی عادت ہے۔ لہذا اس کو اچھی طرح باندھ کرلے جانا۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ جیسے کیسے ہو اس کو آگے چلتا کردیا جائے تاکہ کہیں بھاگ کر ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے یا اس کو ہم سے لینے کے لیے اس کا کوئی مالک وغیرہ نہ پہنچ جائے۔ (المراغی، المنار، ابن کثیر وغیرہ) بہرکیف یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء و آزمائش کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے کہ آپ کو حریت و آزادی کی نعمت سے محروم کرکے غلامی میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔ اور ان لوگوں نے بڑی بےرغبتی اور لاپرواہی سے ان کو مال تجارت کے ایک حصے کے طور پر اونے پونے میں بیچ ڈالا۔ ان کو کیا پتہ کہ یہ خانوادہ یعقوبی کا چشم و چراغ ہے۔ پیغمبر کا بیٹا اور خود پیغمبر بننے والا ہے۔ اس کا دادا پیغمبر، پردادا پیغمبر ہے اور جلد ہی پوری مملکت مصر اس کے زیر نگین آنے والی ہے۔ مگر وہ لوگ ان سب چیزوں سے بیخبر تھے۔
Ayahs 12:21–22

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

اور مصر کے جس شخص نے ان کو خریدا، اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس کو اچھی طرح سے رکھنا، ہوسکتا ہے کہ یہ ہمیں کام آئے، یا ہم اس کو اپنا بیٹا ہی بنالیں، اور اس طرح ہم نے یوسف کے لئے اس سرزمین (مصر) میں قدم جمانے کی صورت بھی نکال دی (تاکہ وہاں رہ کر وہ آداب حکمرانی بھی سیکھے) اور تاکہ ہم اس کو باتوں کی تہ تک جانے کا علم بھی عطا کریں، اور اللہ بہرحال کر کے رہتا ہے اپنا کام، لیکن اکثر لوگ جانتے ہیں،

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور3 جب پہنچ گیا وہ اپنی (جوانی کی) بھرپور قوتوں کو، تو ہم نے اس کو حکم بخشا، اور ایک خاص علم سے بھی نوازا، اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو،۔ 4

36 ۔ خریدار یوسف کی اپنی بیوی کو ہدایت : یعنی عزیز مصر جس کی گوہر شناس نگاہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھتے ہی آپ کے مرتبہ و مقام اور مواہب فطریہ کو پوری طرح پہچان لیا اور آپ کی ذات میں موجود صلاحیتوں اور قابلیتوں کا اس نے فورا اندازہ لگا لیا۔ اس لیے اس نے اپنی بیوی کو آپ کے بارے میں یہ ہدایت کی۔ واقعی۔ قدر زر زرگر بداند، قدر جوہر جوہری۔ قرآن حکیم میں اس شخص کا نام ذکر نہیں فرمایا گیا صرف اس کے عہدے اور منصب کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ یعنی عزیز۔ البتہ بائبل کے مطابق اس کا نام قطفیر یا اطفیر یا فوطیفار تھا۔ اور اس کا یہ منصب وزیراعظم یا الحرس الامیری کے سربراہ یعنی شاہی فوج کے کمانڈر انچیف کا یا وزیر خزانہ کا تھا۔ (القرطبی، المراغی، الماجدی، المنار، ابن کثیر وغیرہ) اور اس شخص کی بیوی کا نام راعیل یا زلیخا تھا۔ بہرکیف اس گوہر شناس شخص نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو بھاری قیمت سے خریدا اور ان کے بارے میں اپنی بیوی کو یہ ہدایت کی۔ اور اس طرح حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اس اونچی سوسائٹی میں پہنچنے، حکمران طبقے میں رہنے سہنے اور ان کے طور طریقے جاننے کا موقع مل گیا، تاکہ اس طرح آپ آداب جہانبانی سیکھ سکیں۔ (علیہ السلام) ۔ 37 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے آداب حکمرانی سیکھنے کے مواقع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے اس سرزمین پر قدم جمانے کی صورت نکال دی تاکہ وہاں رہ کر وہ آداب حکمرانی سیکھ لیں۔ اور اس کے نتیجے میں آگے چل کر آپ کو اپنے دور کے اس سب سے بڑے متمدن ملک کے نظام حکومت کو چلانا تھا۔ سبحان اللہ۔ کیا کہنے قدرت کی ان چھپی تدبیروں کے کہ برادران یوسف نے جس مکر و سازش کے ذریعے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ختم کرنا چاہا اور اس کے لیے انہوں نے کس قدر پاپڑ بیلے اور کتنے جھوٹ بولے، اللہ پاک نے اسی کو آنجناب کے لیے رفعت شان اور عظمت مقام کا ذریعہ بنادیا اور اندھے کنویں کی قید و بند سے نکل کر آپ مصر کے حکمران خاندان کے اندر آداب حکمرانی سیکھنے کے لیے پہنچ گئے۔ اور بالآخر اپنے دور کے اس بڑے متمدن ملک کے حکمران بن گئے (اِنَّ رَبِّيْ لَطِيْفٌ لِّمَا يَشَاۗءُ ) بہرکیف یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے اور آپ کے لیے مصر کی حکمرانی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید۔ 38 ۔ لوگوں کی اکثریت نور علم سے بےبہرہ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بہرحال اپنا کام کرکے رہتا ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں کہ وہ قادر مطلق اور حکیم مطلق اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لیے کیسی کیسی تدبیروں سے کام لیتا ہے اور اسے جو کرنا ہوتا ہے اسے وہ بہرحال کرکے رہتا ہے۔ معلوم ہوا کہ لوگوں کی اکثریت ہمیشہ جاہلوں اور بےعلموں ہی کی ہوتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ پس غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو نام نہاد مغربی جمہوریت کی پیروی میں عوام کالانعام کی اکثریت کو حق کی سند اور حجت قرار دیتے ہیں اور راہ حق و ہدایت سے ہٹے اور بھٹکے ہوئے ہیں۔ وہ اہل بدعت جو جاہل عوام کی اس اکثریت کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دیتے ہیں اور اس کی بنیاد پر وہ طرح طرح کی بدعات و خرافات کو دین کے نام پر رواج دیتے اور گلے لگاتے ہیں کہ یہ جاہل عوام کی اکثریت کی پسندیدہ اور ان کی اختیار کردہ ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو لوگوں کی اکثریت کی نظر چونکہ صرف ظاہر پر ہوتی ہے اس لیے وہ اس کے پس پردہ کار فرما اصل حقائق سے غافل اور بےبہرہ ہوتی ہے۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

(وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں بھی ہوں،4) اور (اسی دوران آزمائش کا ایک اور مرحلہ پیش آگیا کہ) یوسف جس عورت کے گھر میں رہتے تھے وہی آپ کو پھسلانے پر اتر آئی، اور (ایک مرتبہ تو) اس نے سب دروازے بند کر کے (آپ سے صاف) کہہ دیا کہ جلدی آجاؤ (میری مراد پوری کرنے کے لئے) یوسف نے کہا خدا کی پناہ، وہ میرا رب ہے اس نے مجھے کیسی منزلت بخشی، (تو پھر میں یہ ظلم کیسے کرسکتا ہوں ؟ ) بیشک فلاح نہیں پاسکتے ایسے ظالم،

43 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عظمت کردار کا ایک نادر و نایاب نمونہ : سو یہاں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار کی عظمت و بلندی ملاحظہ ہو کہ پہل عورت کی طرف سے ہو رہی ہے۔ حالانکہ عموما معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے۔ پھر عورت بھی وہ جو آپ کی مالکہ اور آپ کے آقا کی بیوی اور وقت کے وزیراعظم یا شاہی فوج کے سربراہ کی زوجہ ہے۔ اور مکان بھی مقفل اور بند ہے۔ دور بھی جوانی اور بھرپور جوانی کا ہے۔ اور ان تمام تر غیبات کے ساتھ رکاوٹ بننے والی اور حائل ہونے والی کوئی چیز بھی نہیں ہے مگر اس سب کے باوجود آپ کے کوہ استقامت میں ذرہ برابر کوئی جنبش تک نہیں آتی سبحان اللہ کیا کہنے اس شان عفت و استقامت اور عظمت خلق و کردار کے۔ کیا پیش کی جاسکتی ہے اس کی دوسری کوئی بھی نظیر و مثال ؟۔ فصلوات اللہ وسلامہ وعلیہ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین خصوصا علی افضلہم و خاتمہم نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔ سو حضرات انبیائے کرام کی ہستیاں وہ پاکیزہ اور مقدس ہستیاں ہوتی ہیں جن کی ہر شان نرالی اور زندگی کا ہر پہلو بےمثال ہوتا ہے۔ علیہم الصلوۃ والسلام۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کی اتباع و پیروی نصیب فرمائے۔ اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور یقینا پوری طرح ٹھان لی تھی اس عورت نے یوسف کو پھانسنے کی، اور آپ بھی اس کا ارادہ کرلیتے (اور اس کے جال میں پھنس جاتے) اگر آپ نے نہ دیکھی ہوتی برہان اپنے رب کی،5 اسی طرح (کیا ہم نے) تاکہ ہم اس سے پھیر دیں برائی اور بےحیائی (کی آلائشوں) کو، بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا،1

44 ۔ برھان رب سے مقصود و مراد ؟ : یعنی ایمان و یقین کی وہ قوت جو عین الیقین سے پیدا ہوتی ہے اور جس کی بناء پر زنا وغیرہ تمام برائیاں اپنی اصلی شکل میں نظر آنے لگتی ہیں اور صاحب ایمان و یقین کو ان کے ظواہر سے دھوکہ نہیں لگ سکتا۔ پس حضرت یوسف (علیہ السلام) سے اس موقع پر کسی " ھَمّ " اور قصد کا سرے سے کوئی صدور ہوا ہی نہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ آپ لوازم بشریت سے مبرا تھے بلکہ اس بناء پر کہ آپ نے اپنے رب کی برہان دیکھی ہوئی تھی۔ اسی لیے یہاں پر ان دونوں کے " ہم " کو " ولقد ھما " یا " ھم کل واحد منہما " جیسے مشترک الفاظ سے بیان نہیں فرمایا گیا دونوں کا ذکر الگ الگ فرمایا گیا۔ اور مزید یہ کہ اس عورت " ھم " کو حروف تاکید اور " قد " تاکیدیہ کہ ساتھ مؤکد کرکے بیان فرمایا گیا ہے۔ جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے " ھم " کو بغیر کسی قسم کی تاکید کے ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور جواب میں شرط کا اپنی شرط پر مقدم ہونا کو فیوں اور اعلام بصریوں سب کے نزدیک جائز ہے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن اگر اس کو مقدم نہ بھی مانا جائے تو بھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کی جزا محذوف ہے جس پر فعل مقدم دلالت کرتا ہے۔ وھو معروف فلا غبار علیہ۔ بہرکیف مطلب اس ارشاد ربانی کا یہ ہے کہ اگر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے رب کی برہان نہ دیکھی ہوتی اور آپ ایمان و یقین کے اس بلند مقام پر فائز نہ ہوچکے ہوتے جو عین الیقین کے درجے کو پہنچا ہوتا ہے تو یقینا اس سخت آزمائش کے موقع پر آپ کے قدم بھی پھسل جاتے۔ لیکن چونکہ آپ نے اپنے رب کی برہان دیکھی ہوئی تھی اور آپ ایمان و یقین کے بڑے بلند مقام پر فائز تھے، اس لیے آپ کے پائے استقامت میں کوئی لغزش نہیں آئی اور آپ نے ایسا کوئی ارادہ نہیں کیا، اس مقام پر کچھ مفسرین نے جو بعض بےسرو پا قصے اس ضمن میں درج کئے ہیں وہ سب اسرائیلی روایات کا چربہ ہے جس کی محققین نے تردید کی ہے۔ جیسے علامہ شام شیخ جمال الدین القاسمی صاحب تفسیر القاسمی، علامہ ابو السعود اور علامہ زمخشری وغیرہم۔ (البحر المحیط، ابوالسعود، محاسن التاویل، جامع البیان، القرطبی، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ والحمدللہ جل وعلا، اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین۔ 45 ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی حفاظت کا انتظام قدرت کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بےحیائی کو کہ وہ یقینا ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔ سو یہاں پر اس طرح نہیں فرمایا کہ آپ کو برائی سے پھیر دیں۔ بلکہ یوں فرمایا کہ برائی و بےحیائی کو جو کہ آپ کے اردگرد منڈلا رہی تھی اس کو آپ سے پھیر دیں۔ سو آپ نے کسی برائی کا کوئی ارادہ بھی نہیں فرمایا تھا کہ آپ کو اس سے پھیرنے کا کوئی سوال پیدا ہوتا بلکہ اس برائی کو آپ سے پھیر دیا گیا جو آپ کے گرد پھر رہی تھی۔ فصلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی جمیع الانبیآء والمرسلین خصوصا علی افضلہم و خاتمہم نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ اجمعین۔ اور یہ اس لیے کہ وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔ اور اپنے چنے ہوؤں کی حمایت اور نصرت ہر حکومت کرتی ہے۔ مگر دنیا کی حکومتیں اپنے چنے ہوؤں اور اپنے راہنماؤں کی حفاظت کا انتظام تو پولیس وغیرہ کے ظاہری ذرائع و وسائل سے کرتی ہیں، لیکن اللہ پاک اپنے چنے ہوئے بندوں کی حمایت و حفاظت کا انتظام ایسے مخفی اور غیر مرئی طریقوں سے کرتے ہیں جو کسی کو نظر تو نہیں آتے لیکن وہ قوی اور مظبوط ایسے ہوتے ہیں کہ ان کا کوئی توڑ نہیں ہوسکتا۔ (وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا هُوَ ) بہرکیف حضرت یوسف (علیہ السلام) چونکہ اللہ تعالیٰ کے مخلص اور چنے ہوئے بندوں میں سے تھے، اس لیے ان کی اس طرح خاص طور پر حفاظت فرمائی گئی اور ایسے مخلص بندوں کے بارے میں ابلیس نے بھی اقرار کیا تھا کہ ان پر میرا بس نہیں چل سکے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ ) (ص : 83) اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے انہی خاص بندوں میں سے بنائے۔ آمین۔