12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 12:1–3

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ۫ Open ayah 12:1 in the Quran reader

الرٰ یہ آیتیں روشن کتاب (یعنی قرٓن) کی ہیں

اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:2 in the Quran reader

بیشک ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں اتارا ہے تاکہ تم سمجھو

نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ هٰذَا الْقُرْاٰنَ١ۖۗ وَ اِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 12:3 in the Quran reader

(اے محبوب کریم ! ﷺ) ہم تمہیں سب سے اچھا بیان سناتے ہیں اس لئے کہ ہم نے تمہاری طرف اس قرآن کی وحی بھیجی اور بیشک تم اس سے پہلے بیخبر وں میں سے تھے

قصہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے خواب کا ذکر سورۃ یوسف مکی ہے الر حروف مقطعات میں سے ہیں۔ جن کا ذکر اول سورة بقرہ میں گزرچکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی تعریف بیان فرمائی کہ یہ روشن کتاب کی آیتیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے زبان عربی میں نازل فرمایا ہے۔ تاکہ تم لوگ عرب کے باشندے اس کو اچھی طرح سمجھو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس قصہ یوسف (علیہ السلام) کو احسن القصص فرمایا کیونکہ اس قصہ میں عبرت اور حکمت اور عجیب و غریب فائدے ہیں، جو دین و دنیا میں انسان کے کار آمد ہیں مثلا عورتوں کا مکرو فریب اور دشمن کی ایذا رسانی پر صبر اور خوش اسلوبی سے درگزر کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ ہم نے بذریعہ وحی اس قصہ کو تم پر نازل کیا ہے۔ اگرچہ تم پہلئ اس قصے سے بالکل ناواقف تھے۔ شان نزول : یہود نے مشرکین مکہ کی معرفت آنحضرت ﷺ سے اس بات کی خواہش ظاہر کی تھی کہ آپ یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ قصہ بیان کریں کہ یعقوب (علیہ السلام) تو ملک شام میں رہتے تھے، پھر ان کی اولاد مصر میں کیونکر آگئی۔ اس خواہش سے یہود کو آنحضرت ﷺ کی نبوت کو آزمانا منظور تھا، یہود کی اس آزمائش پر بطور معجزہ کے یہ سورة نازل فرمائی۔
Ayah 12:4

اِذْ قَالَ یُوْسُفُ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ رَاَیْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ رَاَیْتُهُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ Open ayah 12:4 in the Quran reader

(وہ وقت یاد کرو) جب کہ یوسف (علیہ السلام) نے (یہ) کہا اپنے باپ (یعقوب علیہ السلام) سے کہ اے میرے باپ ! میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے، انہیں اپنے لئے سجدہ کرتے دیکھا۔

اللہ پاک نے سورة یوسف کو احسن القصص فرما کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنا شروع کیا۔ کہ یوسف (علیہ السلام) بارہ برس کی عمر میں جمعہ کی شب اور یہ رات شب قدر بھی اپنے باپ کی گود میں سوئے تھے کہ دفعۃ گھبرائے ہوئے نیند سے چونکے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے پوچھا کہ بیٹا تجھے کیا ہوا یوسف (علیہ السلام) نے کہا :” اے ابا ! میں نے کو اب دیکھا ہے کہ آسمان سے گیارہ ستارے اترے اور ان کے ساتھ سورج اور چاند بھی ہیں۔ ان سب نے مجھ کو سجدہ کیا “۔ اس خواب میں گیارہ ستارے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے گیارہ بھائی تھے اور چاند وسورج یوسف (علیہ السلام) کی ماں یعنی خالہ اور باپ تھے۔
Ayah 12:5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقْصُصْ رُءْیَاكَ عَلٰۤى اِخْوَتِكَ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدًا١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 12:5 in the Quran reader

باپ نے کہا :” اے میرے بیٹے ! خواب اپنے بھائیوں سے نہ بیان کرنا ورنہ وہ تیرے خلاف کوئی نہ کوئی حیلہ سوچیں گے، بیشک شیطان تو انسان کا دشمن ہے

حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس خواب کی تعبیر کو سمجھ گئے کہ یوسف (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ ایسا مرتبہ عطا فرماوے گا کہ ان کے بھائی ان کے آگے سجدے میں گر جانے پر مجبور ہوں گے اس لئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو منع فرمایا کہ بیٹا اس خواب کا اپنے بھائیوں سے ہرگز ہرگز ذکر نہ کرنا۔ کیونکہ شیطان انسان کا دشمن ہے اور اس میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ اندیشہ کیا کہ ایسا نہ ہو کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی اس خواب کی تعبیر کو سمجھ لیں اور یوسف (علیہ السلام) کے جاہ و مرتبہ پر حسد کرنے لگیں اور کسی مکر و فریب سے یوسف (علیہ السلام) کی ہلاکت کی تدبیر سوچیں۔
Ayah 12:6

وَ كَذٰلِكَ یَجْتَبِیْكَ رَبُّكَ وَ یُعَلِّمُكَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ وَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اٰلِ یَعْقُوْبَ كَمَاۤ اَتَمَّهَا عَلٰۤى اَبَوَیْكَ مِنْ قَبْلُ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 12:6 in the Quran reader

اور اسی طرح (یعنی خواب کے موافق) تیرا خدا تجھ کو چن لے گا اور تجھ کو خواب کی تعبیر دینی سکھا دے گا اور تجھ پر اپنی نعمتیں پوری کردے گا اور یعقوب کے گھر والوں پر جس طرح پہلئ تیرے دونوں باپوں دادا ابراہیم اور اسحاق (علیہم السلام) پر پوری کرچکا ہے، بیشک تیرا پروردگار جاننے والا درست تدبیر والا ہے “

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح تتم کو تمہارے پروردگار نے کو اب دکھاکر برگزیدہ کیا جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ تمہارا مرتبہ تمہارے بھائیوں سے بلند ہے اور یہ خواب تمہاری بزرگی کی دلیل ہے۔ اسی طرح تمہارا پروردگار تم کو حکومت اور سلطنت کے ساتھ برگزیدہ کرے گا اور تم کو خواب کی تعبیریں اور کتب منزلہ کے مشکل مقامات تعلیم فرمائے گا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کرے گا۔ یعنی نبوت عطاکرے گا۔ اور یعقوب (علیہ السلام) کی نسل میں بھی نبوت کو قائم کرے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمہارے دادا اور پر دادا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو برگزیدہ کیا اور اپنی نعمت کاملہ ان کو مرحمت فرمائی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے یوسف (علیہ السلام) کو خواب کی تعبیر دے کر فرمایا کہ تیرا رب اس بات سے خوب واقف ہے اور صاحب حکمت ہے جو مناسب سمجھتا ہے وہ کرتا ہے۔
Ayahs 12:7–8

لَقَدْ كَانَ فِیْ یُوْسُفَ وَ اِخْوَتِهٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیْنَ Open ayah 12:7 in the Quran reader

البتہ یوسف اور اس کے بھائیوں (کے قصے) میں پوچھنے والوں کے لئے (اے محبوب مکرم ﷺ تمہاری یہ نبوت کی) نشانیاں ہیں

اِذْ قَالُوْا لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ١ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنِۚۖ Open ayah 12:8 in the Quran reader

جب (یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے بطور مشورے کے) کہا کہ (یہ کیا بات ہے کہ) یوسف اور اس کا (حقیقی) بھائی (بنیامین) ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں اور ہم ایک جماعت (کی جماعت) ہیں، بیشک ہمارا باپ صراحۃ ان کی محبت میں ڈوبے ہوئے ہیں

حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی بارہ اولاد کا ذکر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے تھے پہلی بی بی لیا بنت لیان آپ کے ماموں کی بیٹی ہیں، ان سے چھ فرزند ہوئے : (1) رد سبیل۔ (2) شمعون۔ (3) لادی۔ (4) یہودا۔ (5) زبولون۔ (6) یشجر اور چار بیٹے حرم سے ہوئے : (1) ردان۔ (2) نفتالی۔ (3) حاوا۔ (4) آستر ان کی مائیں زلفہ اور بلسہ ہیں کے انتقال کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کی بہن یعنی سالی راحیل سے نکاح فرمایا۔ ان سے دو فرزند ہوئے : (1) یوف علیہ السلام۔ (2) بنیامین، یہ بارہ فرزند ہوئے ان کو اسباط کہتے ہیں۔ جب یوسف (علیہ السلام) کو خوان کے چھپانے کی تاکید کی اس وقت اتفاق سے یوسف (علیہ السلام) کی بھاوجوں نے یہ سن لیا اور مغرب کے وقت جب ان کے شوہر گھر آئے تو ان کی جو ؤنے یہ حال ان سے بیان کیا تو ان کو حسد پیدا ہوا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کام تمام کرنے کی تدبیر میں مشغول ہوئے۔ آپس میں کہا کہ البتہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کا بھائی بنیامین ابا کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں، حالانکہ ہم سب طاقتور اور کارگزار ہیں اور یہ دونوں کم سن اور بیکار ہیں۔ چاہئے تھا کہ ہم کو زیادہ چاہتے۔ پس ہم جانتے ہیں کہ وہ راہ صواب سے بہت دور ہیں۔
Ayahs 12:9–12

اِ۟قْتُلُوْا یُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا یَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ Open ayah 12:9 in the Quran reader

یوسف کو قتل کر ڈالو یا اس کو کہیں زمین میں ڈال دو تاکہ ہمارے باپ کی توجہ خالی تمہاری طرف ہی ہوجائے اور اس (گناہ) کے بعد توبہ کرکے نیک لوگ ہوجانا

قَالَ قَآئِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوْا یُوْسُفَ وَ اَلْقُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 12:10 in the Quran reader

ان میں سے ایک کہنے والے نے یہ کہا :” یوسف کو قتل مت کرو اور اس کو گمنام کنوئیں میں ڈال دو تاکہ اس کو کوئی مسافر نکال لے جائے، اگر تم (یہ کام) کرنا ہے “

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا لَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰى یُوْسُفَ وَ اِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ Open ayah 12:11 in the Quran reader

(یہ مشورہ کرکے اپنے باپ کے پاس گئے) بولے :” اے ہمارے باپ ! آپ کو کیا ہوا کہ یوسف کے بارے میں ہمارا اعتبار نہیں کرتے اور ہم تو اس کے خیر خواہ ہیں

اَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَّرْتَعْ وَ یَلْعَبْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ Open ayah 12:12 in the Quran reader

کل اس کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ (وہاں) میوے کھائے اور کھیلے اور ہم تو اس کی نگہبانی کریں گے “

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کا ذکر شیطان نے جو بوڑھے آدمی کی شکل میں آیا تھا ان کو بہکایا کہ یوسف (علیہ السلام) تو تمہیں غلام بنانا چاہتا ہے۔ اس کی تدبیر یہ ہے کہ اس کو مار ڈالو یا کسی دور جگہ چھوڑ آؤ، پھر تم ہی تم نظر آؤگے ان میں سے جس کا نام یہودا تھا، کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو قتل تو نہ کرو کیونکہ بےگناہ کا قتل کرنا گناہ عظیم ہے۔ ہاں اس کو کسی گہرے کنوئیں میں ڈال دو ، کوئی راہ چلتا اسے اٹھا لے جاوے گا تمہارا مقصد اس تدبیر سے حاصل ہوسکتا ہے۔ یہ بات سب کی سمجھ میں آگئی سب مل کر باپ کے پاس آئے اور کہا کہ یوسف کو تفریح کے لئے ہمارے ساتھ بھیج دیں تو کچھ مضائقہ کی بات نہیں ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اس بات کو منظور نہیں کیا کہ اس کی جدائی مجھ کو گوارا نہیں ہے۔ پھر یوسف (علیہ السلام) کو بہکا کر اپنے ساتھ باپ کی خدمت میں لائے اور اجازت چاہی تو یعقوب (علیہ السلام) بہت متفکر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ٓپ ہماری طرف سے بدگمان کیوں ہیں، ہم اس کے خیر خواہ ہیں۔
Ayahs 12:13–14

قَالَ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْۤ اَنْ تَذْهَبُوْا بِهٖ وَ اَخَافُ اَنْ یَّاْكُلَهُ الذِّئْبُ وَ اَنْتُمْ عَنْهُ غٰفِلُوْنَ Open ayah 12:13 in the Quran reader

(یعقوب نے) کہا :''' بیشک مجھ کو یہ بات غم میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور میں خوف کرتا ہوں کہ اسے بھیڑیا کھاجائے اور تم اس سے غافل رہو

قَالُوْا لَئِنْ اَكَلَهُ الذِّئْبُ وَ نَحْنُ عُصْبَةٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 12:14 in the Quran reader

وہ بولے :'' اگر اس کو بھیڑیا کھا جائے اور ہم ایک جماعت (کی جماعت موجود) ہیں جب تو ہم گئے گزرے ہوئے ''

حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو یہ بھی جواب دیا کہ اگر تم اس کو اپنے ساتھ لے جاؤ گے تو میرا جی گھبرائے گا اور واپسی تک مجھے کس طرح چین آئے گا اور مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ کہیں بھیڑیا کھا جاوے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔ تم سیر تماشے میں مشغول ہو۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اگر اسے بھیڑیا کھالے تو بڑے ہی تعجب کی بات ہے ہم قوی اور زبردست ہیں۔
Ayah 12:15

فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِاَمْرِهِمْ هٰذَا وَ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:15 in the Quran reader

پھر جب کہ اس کے لے گئے اور سب نے اتفاق کرلیا کہ اس کو گمنام کنوئیں میں ڈال دیں اور ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ میں تو ضرور ان کو (ایک روز) اس بد سلوکی سے آگاہ کرے گا (ایسے وقت) کہ وہ (تم کو) پہچانیں گے بھی نہیں، (غرض یوسف کو کنوئیں میں ڈال دیا)

اس آیت میں اللہ پاک نے اس بات کی خبر دی کہ آخر یوسف (علیہ السلام) کے دسوں بھائی ضد کر کے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو باپ کے پاس سے لے کر چلے، اور جب کچھ دور پہنچ گئے تو اپنی عداوت ظاہر کرنے لگے اور طرح طرح کی تکلیف و ایذا یوسف (علیہ السلام) کو پہنچانے لگے۔ جب ایک بھائی ان کو مارتا تھا تو یہ دوسرے بھائی سے فریاد کرتے تھے وہ بھی مارنے لگتا تھا۔ یہودا سے رہا نہ گیا اس نے کہا کیا تم نے عہد نہیں کیا ہے کہ اس کے قتل کا ہم قصد نہ کریں گے اس کو کنوئیں میں ڈالیں گے۔ آخر کار سب کا اتفاق ہوا اور کنوئیں کے پاس پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ ان لوگوں نے اتار لیا اور مشکیں باندھیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی سے کہا کہ میرے ہاتھ پاؤں کھول دو اور میرا کرتہ بھی دے دو تاکہ میرا ستر تو ڈھکا رہے۔ مگر انہوں نے ایک نہیں سنی اور ان کو کنوئیں میں لٹکا ہی دیا۔ جب آدھی دور تک کنوئیں میں پہنچے تو رسی کاٹ دی اور کہا کہ اسی شمس و قمر اور ستاروں کو پکارو جنہیں خواب میں دیکھا تھا وہی تمہیں اس آفت سے بچائیں گے۔ یوسف (علیہ السلام) جب کنوئیں میں گرے تو بالکل تہ میں نہیں پہنچے کہ کنوئیں کے بیچ میں ایک پتھر تھا اس کھڑے ہوگئے۔ اللہ پاک نے ان کی تسکین کے لئے ایک فرشتہ بھیج دیا۔ اس فرشتے نے وہ جنتی کرتہ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں گرتے وقت مرحمت ہوا تھا اور یعقوب (علیہ السلام) نے یہ اپنے دادا کا کرتہ چلتے وقت یوسف (علیہ السلام) کے گلے میں تعویذ بنا کر ڈل دیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کو پہنا دیا اور اللہ کا پیغام پہنچایا کہ تنگ دل نہ ہو ایک دن ایس آئے گا کہ تم ان کو ان کی بد سلوکی سے متنبہ کروگے اور تم ایسے بلند مرتبہ پر پہنچے ہوئے ہوگے کہ وہ تم کو پہچانیں گے بھی نہیں۔
Ayahs 12:16–18

وَ جَآءُوْۤ اَبَاهُمْ عِشَآءً یَّبْكُوْنَؕ Open ayah 12:16 in the Quran reader

اور رات ہوئے اپنے باپ کے پاس روتے ہوئے آئے

قَالُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَ تَرَكْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَ لَوْ كُنَّا صٰدِقِیْنَ Open ayah 12:17 in the Quran reader

بولے :'' اے ہمارے باپ ! ہم تو دوڑ کر ایک دوسرے سے آگے نکلنے میں مصروف ہوئے اور یوسف کو اپنے اسباب کے پاس چھوڑ گئے تھے تو اس کو بھیڑیا کھا گیا اور تم ہماری بات کا یقین کرنے والے نہیں ہو اور اگرچہ ہم سچے ہوں ''

وَ جَآءُوْ عَلٰى قَمِیْصِهٖ بِدَمٍ كَذِبٍ١ؕ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ وَ اللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:18 in the Quran reader

اور یوسف کے کرتے پو جھوٹا خون (لگاکر) لے آئے اور (کہا):'' یہ یوسف کا خون ہے '' یعقوب نے کہا :'' (اسے بھیڑیئے نے نہیں کھایا) بلکہ تمہارے دلوں نے تمہارے لئے ایک بات بنائی ہے پس مجھے صبر کرنا بہتر ہے اور اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں اس بات پر جو تم بیان کرتے ہو ''

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خبر دی کہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر رات کے وقت باپ کے پاس روتے ہوئے آئے تاکہ اندھیرے میں ہماری صورتوں سے جھوٹ ظاہر نہ ہو اور کہا کہ ہم تو تیر اندازی اور دوا دوش میں رہے اور یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس بٹھا دیا ہمارا دور ہونا تھا کہ بھیڑیا آکر یوسف (علیہ السلام) کو کھا گیا۔ اس کے بعد وہ کرتہ جو یوسف (علیہ السلام) کا لے لیا تھا اس کو بکری ذبح کر کے اس کے خون میں رنگ لائے تھے وہ پیش کیا۔ تاکہ ہماری بات کا یقین کامل ہوجائے، مگر اتنا نہ سمجھے کہ ہمارے باپ خدا کے رسول ہیں معمولی آدمی نہیں۔ بہر حال باپ نے کرتہ دیکھتے ہی معلوم کرلیا کہ بیٹوں کا فریب ہے، حسد کے مارے یوسف (علیہ السلام) کو مجھ سے علیحدہ کیا۔ اس لئے فرمایا یہ سب محض جھوٹ ہے، تمہارے دل نے یہ افترا پر دازی کی ہے اب سوائے صبر کے اور کیا کرنا ہے اور یہی مناسب ہے کہ کوئی شکوہ شکایت نہ ہو اور اس مصیبت پر خدا ہی سے مدد طلب کی جائے۔
Ayahs 12:19–20

وَ جَآءَتْ سَیَّارَةٌ فَاَرْسَلُوْا وَارِدَهُمْ فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ١ؕ قَالَ یٰبُشْرٰى هٰذَا غُلٰمٌ١ؕ وَ اَسَرُّوْهُ بِضَاعَةً١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 12:19 in the Quran reader

اور (جس کنوئیں میں یوسف تھے وہاں) ایک قافلہ آیا تو انہوں نے (پانی لانے والا) اپنا آدمی بھیجا تو اس نے اپنا ڈول ڈالا وہ آدمی کہنے لگا :'' آہا ! کیسی خوشی کی بات ہے کہ یہ ایک لڑکا (نکل آیا) ہے '' اور اسے ایک مال (تجارت) قرار دے کر چھپالیا اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں

وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ١ۚ وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠ Open ayah 12:20 in the Quran reader

اور یوسف کے بھائیوں (کو خبر ہوگئی تو انہوں) نے یوسف کو بہت ہی کم قیمت گنتی کے چند درہم میں بیچ ڈالا اور انہیں یوسف سے کچھ رغبت نہ تھی

حضرت یوسف (علیہ السلام) کو غیبی مدد، کنوئیں سے نجات کا ملنا اور ان کے فروخت ہونے کا ذکر حضرت یوسف (علیہ السلام) تین روز کنوئیں میں رہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں اس لئے نجات عطا فرمائی کہ ایک قافلہ جو مدین سے مصر کی طف جارہا تھا وہ راستہ بھٹک کر اس جنگل میں جہاں یوسف (علیہ السلام) کنوئیں میں تھے آپڑا اور اس کنوئیں کے قریب ڈیرہ خیمہ نصب کیا۔ ایک شخص جس کا نام مالک تھا پانی بھرنے کنوئیں پر گیا اور ڈول ڈالا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ڈول پکڑ لیا اور اس میں لٹک گئے۔ مالک نے ڈول کھینچا آپ باہر تشریف لائے۔ اس نے آپ کا حسن عالم افروز دیکھا تو نہایت خوشی میں آکر اپنے ساتھوں سے یہ حال کہا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی جو اس جنگل میں اپنی بکریاں چراتے تھے، وہ دیکھ بھال رکھتے تھے۔ آج جو انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں نہ دیکھا تو انہیں تلاش ہوئی اور قافلہ میں پہنچے۔ وہیں انہوں نے مالک بن ذعر کے پاس حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ اس سے کہنے لگے کہ یہ غلام ہے، ہمارے پاس سے بھاگ آیا ہے کسی کام کا نہیں ہے۔ نافرمان ہے اگر خریدو تو ہم اسے سستا بیچ دیں گے۔ پھر اسے کہیں اتنی دور لے جانا کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے خوف سے خاموش رہے، اور آپ نے کچھ نہ فرمایا۔ اور بیس کھوٹے درہم میں فروخت کردیا۔
Ayahs 12:21–22

وَ قَالَ الَّذِی اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لِامْرَاَتِهٖۤ اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ١٘ وَ لِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ؕ وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:21 in the Quran reader

(اور وہ قافلہ یوسف کو مصر لے گیا اور وہاں جاکر انہیں بیچا) اور مصر (والوں میں) کے جس نے اسے مول لیا اس نے اپنی بیوی سے کہا :'' اس کو عزت سے رکھنا شاید یہ ہم کو نفع دے یا ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں '' اور اس طرح (رفتہ رفتہ) ہم نے یوسف کو زمین (مصر) میں جماؤ دیا اور تاکہ ہم اس کو خوابوں کی تعبیر سکھائیں اور اللہ اپنے کام پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

وَ لَمَّا بَلَغَ اَشُدَّهٗۤ اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:22 in the Quran reader

اور جب یوسف اپنی (جوانی کی) قوت کو پہنچا تو ہم نے اسے حکم اور علم عنایت کیا اور نیکی کرنے والوں کو ہم اسی طرح جزا دیتے ہیں

پھر مالک بن ذعر اور اس کے ساتھی یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں لائے اور عزیز مصر کے ہاتھ فروخت کیا۔ عزیز مصر لقب تھا وہاں کے وزیر کا جس کے ہاتھ میں سلطنت کے کل امور ملکی اور مالی اور فوج کے اختیارات تھے۔ مصر کے بادشاہ کا نام ولید ریان یا (ریان بن ولید) تھا اور عزیز مصر کا نام قطفیر تھا۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کے ہم وزن سونا اور چاندی اور مشک اور ریشمی کپڑے دے یوسف (علیہ السلام) کو خرید کیا تھا۔ جس کا وزن چار سو رطل تھا یعنی چار من آٹھ سیر چھ ماشہ ہوتا ہے۔ عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو گھر میں لاکر اپنی بیوی کے سپرد کیا جس کا مشہور نام زلیخا تھا، کہا کہ دیکھو اس لڑکے کو نہایت آرام و راحت سے رکھو، اس سے بہت فائدہ ہوگا ہم اس کو بیٹا بنائیں گے۔ کیونکہ عزیز مصر لاولد تھا اس لئے بیٹا بنانا ظاہر کیا اور اللہ تعالیٰ نے تمام زمین مصر پر بعد میں پورا پورا اختیار ان کو دے دیا اور خواب کی تعبیر کا علم مرحمت کردیا۔ پھر فرمایا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے یہ چاہا تھا کہ کہ یوسف (علیہ السلام) اعلی مرتبہ اور بلند درجے کو نہ پہنچے مگر اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ پر غالب ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اس وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عمر اٹھارہ اور بیس کے درمیان تھی۔
Ayah 12:23

وَ رَاوَدَتْهُ الَّتِیْ هُوَ فِیْ بَیْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَ غَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَ قَالَتْ هَیْتَ لَكَ١ؕ قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّیْۤ اَحْسَنَ مَثْوَایَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 12:23 in the Quran reader

اور جس عورت کے گھر میں یوسف تھا (یعنی عزیز کی بیوی زلیخا) وہ ان کو لبھانے لگی تاکہ وہ اپنے نفس کی حفاظت چھوڑ دے، اس نے سب دروازے بند کردیئے اور بولی :'' آگے آؤ '' یوسف نے کہا :'' اللہ کی پناہ (دوسرے) وہ عزیز (یعنی تیرا شوہر) میرا مالک ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے بیشک ظالم لوگ نجات نہیں پاتے ''

زلیخا کے ساتوں دروازے بند کرنے، اور فریب کرنے، زنا کرنے پر مجبور کرنا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عزیز مصر کی بیوی زلیخا کے حال سے خبر دی۔ کہ وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال پر فریفتہ ہوگئی۔ اس کا جی چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) سے ناجائز کام کرے اور ہم صحبت ہونا چاہا۔ اپنے مکان کے ساتوں دروازے بند کردیئے، اس پر بھی یوسف (علیہ السلام) نے توجہ نہیں کی تو خود اپنی زبان سے اپنے مطلب کا اظہار کیا اور اپنے پاس بلایا۔ اس کی اس بات پر بہت پریشان ہوئے کہ میں اپنے محسن ومربی کی امانت میں خیانت کیونکر کروں۔ یہ بات ظلم صریح ہے۔
Ayah 12:24

وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ١ۚ وَ هَمَّ بِهَا لَوْ لَاۤ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ١ؕ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْٓءَ وَ الْفَحْشَآءَ١ؕ اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 12:24 in the Quran reader

اور بیشک عورت نے یوسف کی طرف ارادہ کیا اور یوسف بھی عورت کی طرف کا ارادہ کرتا اگر اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھ لیتا، یونہی ہم نے کیا تاکہ برائی اور بےحیائی کی باتیں اس سے دور رکھیں۔ بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے ہے

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب زلیخا آپ کے درپے ہوئی تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھاگے اور زلیخا ان کے پیچھے انہیں پکڑنے بھاگی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جس جس دروازے پر پہنچتے جاتے تھے اس کا قفل کھل کر گر جاتا تھا۔ آخر کار زلیخا حضرت یوسف (علیہ السلام) تک پہنچی اس نے آپ کا کرتہ پیچھے سے پکڑ کر آپ کو کھینچا کہ آپ نکلنے نہ پائیں۔ مگر آپ غالب آئے۔ یوسف (علیہ السلام) اللہ کے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی قدرت کی نشانی دکھا کر اس برائی اور بےحیائی کے کام سے روک دیا۔ برائی سے مقصود عزیز مصر کی خیانت ہے اور بےحیائی سے مقصود بد کاری ہے۔
Ayah 12:25

وَ اسْتَبَقَا الْبَابَ وَ قَدَّتْ قَمِیْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ وَّ اَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَا الْبَابِ١ؕ قَالَتْ مَا جَزَآءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْٓءًا اِلَّاۤ اَنْ یُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 12:25 in the Quran reader

اور (یوسف وہاں سے بھاگے اور عورت پکڑنے کو بھاگی غرضیکہ) دونوں دروازہ کی طرف دوڑے اور اس عورت نے یوسف کا کرتہ پیچھے سے پھاڑ ڈالا اور ان دونوں کو (اتفاقا) اس عورت کا شوہر دروازے کے پاس (کھڑا ہو) ملا، عورت (نے فورا بات بنائی اور) کہنے لگی :'' جو شخص تیری بی بی کے ساتھ بری بات کا ارادہ کرے اس کی سزا سوائے اس کے اور کیا ہے کہ وہ قید کردیا جائے یا اس کو سخ سزا دی جائے ''

حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھاگنے اور کرتہ کا دامن پھٹنے وغیرہ کا ذکر مطلب یہ ہے کہ جس وقت کرتہ پکڑ کر آپ کو کھینچا تو ان کا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا۔ یوسف (علیہ السلام) کو اس کی پروا تو تھی نہیں کہ میرا کرتہ پھٹے گا وہ تو یہ چاہ رہے تھے کہ کسی طرح اس عورت سے رہائی ہو۔ پیچھے کا دامن جو زلیخا کے ہاتھ میں آگیا گردن کے پاس سے بالکل نیچے تک کا حصہ تھا۔ تو اتنے میں اس کا شوہر بھی وہاں پہنچ گیا اس نے بہت ہی جلد ایک فریب بنالیا اور شوہر سے کہنے لگی کہ ایسے آدمی کی یہی سزا ہے جو تیری بیوی کے ساتھ بد کاری کا ارادہ کرے اس کو قید میں رکھنا چاہیئے۔ چونکہ یوسف (علیہ السلام) پر زلیخا دل وجان سے عاشق ہوگئی تھی اس لئے سزا بھی تجویز کی تو ایس جس میں ان کو زیادہ تکلیف نہ ہو۔ اتنا کہ کر اس کو اندیشہ ہوا کہ ج ہیں میرا شوہر طیش میں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو قتل کے درپے نہ ہوجائے۔ اس لئے اس نے یہ کہا کہ اس کو کوڑے لگائے جائیں۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دیکھا کہ زلیخا الٹا آپ پر الزام لگاتی ہے اور آپ کے لئے قید وسزا کی صورت پیدا کرتی ہے تو آپ نے اپنی برات کا اظہار اور حقیقت حال کیا بیان ضروری سمجھا اور کہا کہ میرا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ اس نے خود خواہش ظاہر کی اور اس بات کی طالب ہوئی اور میرے بھاگنے پر یہ بھی میرے پیچھے لگی ہوئی چلی آئی۔ میرا کرتہ اس کے ہاتھ میں آگیا اس نے پھاڑ لیا۔ عزیز نے کہا :'' یہ بات کس طرح باور کی جائے ''۔
Ayahs 12:26–27

قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِیْ عَنْ نَّفْسِیْ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا١ۚ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَ هُوَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 12:26 in the Quran reader

یوسف نے کہا :'' اسے نے مجھ کو لبھایا کہ میں اپنے نفس کی حفاظت نہ کروں '' اور عورت کے گھر والوں میں سے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر یوسف کا کرتہ آگے سے پھٹا ہے تو عورت سچی ہے اور وہ جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے

وَ اِنْ كَانَ قَمِیْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَ هُوَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 12:27 in the Quran reader

اور اگر اس کا (یعنی یوسف کا) کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو یہ عورت جھوٹی ہے اور وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے

دودھ پیتے بچے کی گواہی : حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ گھر میں زلیخا کے ماموں کا لڑکا چار مہینے کا بچہ ہے اس سے دریافت کرنا چاہیے۔ عزیز نے کہا چار ماہ کا بچہ کیا جانے اور کیسے بولے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو گویائی دینے اور اس سے میری بےگناہی کی شہادت ادا کردینے پر قادر ہے۔ عزیز نے اس سے بچہ دریافت کیا قدرت الہی سے اس نے کہا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بھاگتے تھے اور زلیخا پیچھے سے پکڑتی تھی اس لئے کرتا پیچھے سے پھٹا اور جان لیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں۔
Ayahs 12:28–29

فَلَمَّا رَاٰ قَمِیْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَیْدِكُنَّ١ؕ اِنَّ كَیْدَكُنَّ عَظِیْمٌ Open ayah 12:28 in the Quran reader

پھر جب اس کے شوہر نے اس کا کرتہ پیچھے سے چرا دیکھا تو کہا '' بیشک یہ تم عورتوں کا مکر ہے بیشک تم عورتوں کا مکر بڑا ہے ''

یُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ٚ وَ اسْتَغْفِرِیْ لِذَنْۢبِكِ١ۖۚ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِئِیْنَ۠ Open ayah 12:29 in the Quran reader

(اس کے شوہر نے کہا):؛ ؛ اے یوسف ! تم اس بات سے درگزر کرو اور (اپنی عورت سے کہا کہ) اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بیشک تو خطاواروں میں سے ہے ''

جب یوسف (علیہ السلام) کے سچے ہونے پر گواہی گزری اور دیکھنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ یوسف (علیہ السلام) کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو عزیز مصر کو یقین ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے۔ یہ سارا فریب اسی عورت کا ہے۔ اس پر اس نے کہا کہ عورتیں اس باب میں نہایت مکار ہوتی ہیں۔ پھر عزیز مصر نے یوسف (علیہ السلام) کو مخاطب ٹھراکر کہا کہ تم ان باتوں سے درگزر کرو اور اس قصہ کا چرچا نہ کرو۔ اور زلیخا سے کہا کہ خطا تیری ہے تو توبہ اور استغفار کر۔
Ayah 12:30

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

ور شہر میں کچھ عورتوں نے چرچا کیا کہ عزیز کی عورت اپنے غلام (نوجوان) کا دل لبھاتی ہے (تاکہ غافل کرلے اس کو اس کے نفس کی حفاظت سے) بیشک اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی، بیشک ہم اس کو صریح خود رفتہ دیکھتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس بات کی خبر دی کہ باوجود اس کے کہ عزیز مصر نے کوشش کی کہ یوسف وزلیخا کا قصہ شہر میں مشہور نہ ہو مگر بحکم قضا و قدر تمام گھروں میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ اور ہر رئیس و امیر کی عورتیں آپس میں اس بات کا چرچا کرنے لگیں کہ عزیز مصر کی عورت زلیخا ایک جوان پر دل وجان سے فریفتہ ہے اور وہ جوان وہی ہے جس کو اس کے شوہر نے خرید کیا ہے۔ اس کی محبت میں دیوانی ہوگئی ہے۔ غلام کی محبت زلیخا کے تمام رگ و ریشوں میں سرایت کرگئی ہے۔ اسے اچھا برا کچھ نہیں سوجھتا وہ بالکل بہک گئی ہے۔
Ayah 12:31

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

پھر جب عزیز کی بیوی (زلیخا) نے ان کا چرچا سنا اور ان کے واسطے مسندیں تیار کیں اور (پھل تراشنے کے لئے) ہر ایک کو ان میں سے ایک ایک چھری دے دی اور بولی :'' اے یوسف تو ان عورتوں کے سامنے آجا '' پھر جب کہ عورتوں نے اسے دیکھا تو بڑا حسین پایا (اور ایسی بیخود ہوئیں کہ) انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور کہنے لگیں :'' حاشا للہ ! یہ تو آدمی نہیں ہے ہو نہ ہو یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے ''

عورتوں کا مکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عورتوں کی مجلس میں مدعو ہونا اور ان کے حسن و جمال کو دیکھ کر عورتوں کا بد حواسی سے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالنا مصر کے امیر امراء کی جن عورتوں نے زلیخا کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے عشق اور محبت کا طعنہ دیا تھا اس طعنہ کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں طعنہ نہیں فرمایا مکر فرمایا ہے۔ کیونکہ ان عورتوں کے طعنہ میں یہ مکر تھا کہ وہ عورتیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا شہرہ سن کر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ اس غرض سے انہوں نے یہ حیل نکالا کہ زلیخا پر طعن وتشنیع شروع کی تاکہ زلیخا اس طعن وتشنیع سے گھبرا کر ان عورتوں کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی صورت دکھا دے۔ کہ دیکھو یہ صورت عشق و محبت پیدا کرنے کے قابل ہے یا نہیں ہے۔ اسی واسطے زلیخا نے بھی ان عورتوں کے مکر کا جواب مکر کی شکل میں دیا کہ ان عورتوں کی دعوت کی اور دعوت میں گوشت اور اس طرح کے میوے دسترخوان پر رکھے جن کو چھری سے کاٹنے کی ضرورت پڑے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں چھری دے دی تاکہ پھل کاٹ کاٹ کر کھائیں۔ جب وہ کھانے میں مشغول ہوئیں تو یوسف (علیہ السلام) کو عمدہ لباس پہناکر کہا کہ تم ان عورتوں کے سامنے آؤ۔ انہوں نے بہت انکار کیا مگر زلیخا نہایت اصرار کے ساتھ لے ہی آئیں۔ جب عورتوں نے انہیں دیکھا تو حسن و جمال میں بےمثال پایا سب کی سب ان کے دیدار کی شیفتہ ہوکر بےخود ہوگئیں اور ای بےخودی میں پھل کی جگہ اپنے اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے اور ذرا بھی محسوس نہیں ہوا۔ اس وقت زلیخا نے ان عورتوں کو قائل کیا اور کہا جس شخص کو ایک نظر دیکھنے سے تم اس قدر بد حواس ہوگئیں۔ بتاؤ ہر وقت جس کی آنکھوں کے سامنے وہ شخص رہے اس کے دل کا کیا حال ہوگا۔ زلیخا کی اس بات میں ان عورتوں نے کہا کہ بلا شک یہ شخص آدمی نہیں بلکہ بزرگ فرشتہ ہے۔
Ayah 12:32

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

عزیز کی بی بی بولی :'' یہی تو وہ ہیں کہ جن پر تم مجھے طعنہ دیتی تھیں اور بیشک میں نے ان کا دل لبھانا چاہا تو انہوں نے اپنے آپ کو بچایا، اور اگر آئندہ میرا کہنا نہ کریں گے جو میں ان سے کہتی ہوں تو بیشک ان کو قید کردیا جائے گا اور ضرور ذلت اٹھائیں گے ''

اس پر یہ بات زلیخا نے کہی کہ جسے تم فرشتہ سمجھ رہی ہو اور جس کے حسن کو دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئیں، ہوش ٹھکانے نہ رہے، یہ وہی شخص ہے جس کا چرچا تمام مصر میں پھیلا ہوا ہے اور تم نے مجھے ملامت کی کہ زلیخا ایک ادنی غلام پہ عاشق ہے۔ اب تمہیں انصاف سے کہو یہ یہ شخص لائق اس کے ہے یا نہیں کہ اس کو پیار کیا جائے اور اس کی محبت کا بیج دل میں بویا جائے۔ پھر یہ ظاہر کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی جیسی صورت ہے ویسی ہی سیرت بھی ہے۔ میں نے ان سے محبت کی ابتدا کی اور میں نے خود ان کو اپنی طرف بلایا تھا مگر یہ شخص راضی نہ ہوا معصوم رہا گناہ کا مرتکب نہ ہوا۔ پھر زلیخا نے شرم کو بالائے طاق رکھ کر صاف صاف کہ دیا کہ یوسف اگر میرے حکم کی تعمیل نہ کرے گا اور جو کچھ میں کہتی ہوں اسے بجا نہ لائے گا تو اس کے حق میں بہت ہی برا ہوگا۔ یا تو ہمیشہ ہمیشہ قید میں رہے گا یا اور کسی دوسری قسم کی ذلت اس کے لئے تجویز کی جائے گی جس سے یہ نہایت ذلیل ہوگا۔ یوسف (علیہ السلام) یہ سن مجلس سے اٹھ گئے اور مصری عورتیں ملامت کرنے کے بہانے سے باہر آئیں اور ایک ایک نے آپ سے اپنی تمناؤں اور مرادوں کا اظہار کیا۔
Ayahs 12:33–35

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

یوسف نے عرض کی :'' اے پروردگار میرے ! مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اس کام سے کہ جس کی طرف وہ مجھے بلاتی ہیں اور اگر تو مجھ سے ان کے مکر کو نہ پھیرے گا تو میں ان کی طرف مائل ہوجاؤں گا اور میں ہوجاؤں فا نادان

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

پس اس کے پروردگار نے اس کی دعا قبول کرلی اور اس سے عورتوں کا مکر پھیر دیا، بیشک وہی سننے والا دانا ہے

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر سب کچھ وہ لوگ دیکھ نشانیاں دیکھ چکے تھے (یعنی یوسف کی پاک دامنی کی نشانیاں) پھر بھی ان کی رائے یہی ٹھری کہ ایک خاص وقت تک کے لئے یوسف کو قید کردیں

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عصمت بچانے کی غرض سے قید کی دعا مانگی اور قبول ہوئی اور قید خانے گئے یوسف (علیہ السلام) نے ان باتوں سے تنگ دل ہوکر یوں کیا '' یا الہی ! ان کی باتوں سے اور ان کے مکروں سے مجھے تو یہ بات اچھی معلوم ہوتی ہے کہ قید میں جاؤں۔ ان کی درخواستوں کے منظور کرنے سے مجھے روحانی تکلیف ہے اور قید خانے میں اگر تکلیف ہوگی تو جسمانی۔ ان کی مجلس میں تیری نافرمانی کا اندیشہ ہے وہاں یہ کھٹکا تو نہ ہوگا۔ یا الہی ! اگر تو مجھے ان کے مکر سے نہ بچائے گا اور تیری حفاظت میرے شامل حال نہ ہوگی مجھے اتنی طاقت نہیں کہ میں ان کی طرف میلان نہ کروں۔ بلکہ مجھے یہ پختہ اندیشہ ہے کہ میں ان کی بات مان لوں گا۔ اگر میں نے یہ کام کیا تو پھر مجھ میں اور جاہلوں میں کیا فرق رہے گا۔ میں بھی جاہل ہی بن جاؤں گا پس اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی یوسف (علیہ السلام) کو ان کے مکر سے بچا لیا۔ بیشک وہ پروردگار سننے والا ہے اور جاننے والا۔ پھر عزیز مصر نے اپنے صلاح کاروں کی صلاح اور مشورے سے کہ باوجود یوسف (علیہ السلام) کی عصمت کی دلیلیں اور برات کے گواہ جیسے بےزبان بچے کی گواہی اور عورتوں کا ہاتھ کٹ جانا اس کے بعد بھی دیدہ و دانستہ مصلحتا قرار پایا کہ ایک عرصہ تک ان کو قید کردیں اور جب تک یہ چرچا موقوف نہ ہوجائی اس وقت تک کی یہ قید رکھی۔
Ayah 12:36

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور یوسف کے ساتھ دو جوان آدمی اور بھی قید خانے میں میں داخل ہوئے، ان میں سے ایک نے (یوسف سے) کہا کہ میں نے خواب دیکھا کہ شراب نچوڑ رہا ہوں، اور دوسرے نے کہا میں نے خواب دیکھا کہ اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں۔ جس میں سے پرندے کھا رہے ہیں ان خوابوں کی تعبیر ہم کو بتا دیں کیونکہ ہم تم کو نیک لوگوں میں سے دیکھتے ہیں

ساقی اور نانبائی کا خواب جب یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں داخل ہوئے تو دو شخص اور بھی بادشاہ مصر کے دربار کے ان کے ہمراہ قید ہوئے۔ ایک تو بادشاہ کا ساقی تھا بادشاہ کو شراب پلانے پر مقرر تھا اور دوسرا باورچی خانہ کا داروغہ تھا شاہی کھانے کا انتظام اس کے سپرد تھا۔ بادشاہ کے دل میں ان دونوں کی طرف سے شک آگیا تھا اور یہ خیال تھا کہ یہ زہر دیں گے۔ اسی لئے ان کو قید کا حکم کیا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) کا قاعدہ یہ تھا کہ قید خانہ میں قیدیوں کی خبر گیری کیا کرتے تھے اور ان کے خوابوں کی تعبیر بتایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک دن ان دونوں قیدیوں نے بھی خواب دیکھا۔ ساقی نے تو یہ خواب دیکھا کہ میں انگور نچوڑ نچوڑ شراب بنا رہا ہوں اور باورچی نے یہ خواب دیکھا کہ میں اپنے سر پر روٹیاں لے کر جارہا ہوں اور جانور اسے نوچ نوچ کر کھاتے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) قید خانہ میں بھی ہر وقت یاد الہی میں مصروف اور ہر وقت خدا کی عبادت کرتے رہتے تھے۔ اسی واسطے ان دونوں یوسف (علیہ السلام) سے اپنا خواب بیان کیا اور کہا کہ ہم آپ کو نیکو کار جانتے ہیں آپ ہمارے اس خواب کی تعبیر بیان کیجئے۔
Ayahs 12:37–38

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

(یوسف نے) کہا :'' جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے وہ تمہارے پاس نہ آنے پائے گا کہ اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اس کی تعبیر بتا دوں گا یہ (یہ تعبیر دینا بھی) ان علموں میں سے ہو جو مجھے میرے پروردگار نے سکھایا ہے، بیشک میں نے ان لوگوں کا دین ترک کیا جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور وہ آخرت کے بھی منکر ہیں

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحٰق اور یعقوب کا دین اختیار کیا، ہمیں لائق نہیں کہ کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھرائیں یہ ہم پر اللہ کا فضل ہے اور لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے

یوسف (علیہ السلام) نے ساقی اور باورچی سے جنہوں نے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی تھی۔ پہلے تو یہ فرمایا کہ تمہارا کھانا کس وقت آئے گا، اس سے پہلے میں اس کھانے کے انجام کی تم کو خبر دوں گا یعنی اس کا رنگ اور مزا اور تاثیر تم کو بتلادوں گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کی تعبیر دینے دینے سے پہلے اپنے معجزے کا اظہار اور توحید کی دعوت شروع کردی اور یہ ظاہر فرمادیا کہ علم میں آپ کا درجہ اس سے زیادہ ہے۔ جتنا وہ لوگ آپ کی نسبت اعتقاد رکھتے ہیں۔ آپ غیب کی خبریں دینے پر قدرت رکھتے تھے۔ اس وقت معجزے کا اظہار اس لئے فرمایا کہ آپ جانتے تھے کہ ان دونوں میں عنقریب ایک سولی دیا جائے گا تو آپ نے چاہا اس کو کفر سے نکال کر ایمان میں داخل کریں اور جہنم سے بچاویں۔ اس کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں نے اپنے بزرگوں کی ملت کو اختیار کر رکھا ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسحٰق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب علیہ السلام۔ تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ شخص خاندان نبوت سے ہے۔ پھر فرمایا کہ ہماری یہ شان نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک گردانیں، ہم توحید کے معتقد ہیں اور یہ توحید کا حاصل ہونا اللہ کے فضل سے ہے۔ اس نے ہم پر فضل کیا اور بنی آدم پر بھی اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ان کی ہدایت کے واسطے انبیاء (علیہ السلام) کو بھیجا۔ لیکن اکثر لوگ اس فضل کی قدر نہیں جانتے اور اللہ کا شکر نہیں کرتے۔
Ayahs 12:39–40

یٰصَاحِبَیِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَیْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُؕ Open ayah 12:39 in the Quran reader

اے میرے قید خانہ کے دونوں ساتھیو ! کیا جدا جدا معبود اچھے ہیں یا ایک اللہ۔ جو سب پر غالب ہے

مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اَسْمَآءً سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:40 in the Quran reader

تم اس کے سوا کچھ نہیں پوجتے مگر نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے مقرر کر لئے ہیں جن پر خدا نے کوئی بھی سند نہیں اتاری ہے حکم نہیں مگر اللہ کا اس نے فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میرے قید کے مصاحبو ! ذرا اتنا غور کرو کہ بت پرستی بہتر ہے یا حق پرستی اور یہ تمہارے کئی جدا جدا معبود اچھے ہیں یا ایک زبردست۔ جو در حقیقت خدائی کے قابل ہے اور اس کے سوا کسی میں معبودیت کی صلاحیت نہیں۔ پھر فرمایا کہ تم ان بتوں کی پرستش کرتے ہو اس کی پوری سند نہیں ہے۔ یہ بت تو تمہارے جعلی معبود ہیں۔ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے پتھر کی مورتیں تراش کر ان کے جدا جدا نام رکھ چھوڑے ہیں اور اسی کو پوجنے لگے ہیں، ورنہ ان میں کوئی طاقت اور قدرت نہیں ہے جو معبود بننے کے لائق ہوسکیں۔ اگر سارے جہان کو پیدا کیا تو اسی اللہ نے اور اگر حکومت اور قبضہ سارے جہان پر ہے تو وہ فقط اس اللہ تعالیٰ کا ہے اس میں کسی غیر کی شرکت نہیں ہے۔ اس بنا پر اگر عبادت کے لائق ہے تو وہی ہے اور تم بھی اب سے خبردار ہوجاؤ کہ اسی کو اکیلا جانو اور اسی کی خالص عبادت کرو کیونکہ یہی دین مستقیم ہے اور اسی کا نام صراط مستقیم ہے۔ جو شخص اس راہ سے ذرا بھی ہٹا تو شیطان کا تسلط اس پر ہوجاوے گا۔ اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے اور اسی سبب سے گمراہی اور شرک و کفر میں متلا رہتے ہیں۔